Qayamat Ki Woh Raat| Teen Auratien Teen Kahaniyan

2299

ابو بزنس مین تھے اور بہت خوشحال تھے۔ میں ان کی اکلوتی نورِ نظر تھی۔ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ بزنس کے سلسلے میں ایک بار پردیس گئے تو وہاں ایک البیلی حسینہ کو پسند کر لیا۔ اسی کے ساتھ زندگی بتِانے کی آرزو میں اپنا بزنس سمیٹ کر امریکہ شفٹ ہوگئے اور امریکی لڑکی ماریہ سے شادی کرلی اور اپنی خاندانی بیوی یعنی میری والدہ کو طلاق بھجوا دی۔
ان دنوں چھ برس کی تھی۔ امی سوچ بھی نہ سکتی تھیں کہ اس موڑ پر جبکہ انہیں جیون ساتھی کی اشد ضرورت تھی، عمر بھر کا ساتھی بے وفائی کرے گا۔ اس صدمے سے وہ بیمار پڑ گئیں۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ابو جدائی کا داغ دینے کی بجائے ساتھ نبھاتے۔ ایسا نہ ہوا اور طلاق کا صدمہ میری ماں کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوا۔ وہ بستر سے لگ گئیں۔ سب نے سمجھایا کہ خود کو سنبھالو۔ تمہارے سامنے ایک ننھی بچی کی زندگی کا سوال ہے مگر کسی کے سمجھانے کا اثر نہ ہوا اور اسی عالم میں چھ برس ذہنی اذیت سہنے کے بعد وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔

میں بارہ برس کی تھی جب والدہ نے داغ مفارقت دیا۔ میری خاطر تایا نے ابو کو اطلاع دی۔ وہ مجھے لینے نہیں آئے بلکہ تایا کو میرا سرپرست مقرر کردیا۔ شروع کے دو سال تائی کے پاس رہی لیکن بہت افسردہ رہتی تھی۔ تبھی ماموں اور ممانی آئے اور مجھے اپنے ہمراہ لے گئے۔ تائی سخت مزاج تھیں جبکہ ممانی نرم دل خاتون تھیں۔ وہ مجھ سے پیار کرتیں تو میرا دل بہل جاتا تھا۔ ماموں کے گھر میں سات برس رہی اور ایف اے تک پڑھا۔ تایا سے مشورہ کرنے کے بعد ماموں ممانی نے اپنے بیٹے بلند اقبال سے میری منگنی کردی۔
منگنی پر تایا آئے تو کہنے لگے کہ میں ماہم کو ساتھ لے جائوں گا اور اپنے گھر سے اس کی رخصتی کروں گا۔ جس گھر میں منگیتر ہو وہاں لڑکی کا رہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ ماموں نے اعتراض نہ کیا۔ میرا جی تو نہ چاہتا تھا کہ تایا کے گھر رہوں مگر ان کی محبت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور آگئی۔
ایک روز تایا نے کہا کہ بیٹی تم نے ایف اے کیا ہے۔ اگر بی اے بھی کرلیتیں تو اچھا ہوتا۔ میں بھی یہی چاہتی تھی۔ تایا ابو کا عندیہ پاتے ہی ایک گرلز کالج میں داخلہ لے لیا۔ ایڈمیشن تو مل گیا مگر کالج گھر سے کافی دور تھا۔ چند روز تایا نے لانے لے جانے کی ذمہ داری نبھائی لیکن انہیں میری وجہ سے اپنے آفس جانے میں دیر ہو جاتی تھی لہٰذا میں نے تجویز دی کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھے کالج کے گرلز ہوسٹل میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ ہر ’’ویک اینڈ‘‘ پر آجایا کروں گی۔ تائی نے اس تجویز کی بھرپور تائید کی۔ تبھی تایا نے ہوسٹل میں رہنے کی اجازت دے دی۔
ایک سال سکون سے گزر گیا۔ فائنل ایئر میں تھی کہ ایک روز ماموں اور ممانی کا خط آگیا۔ لکھا تھا… بلند اقبال کو تعلیم کے سلسلے میں دو سال کے لئے بیرون ملک جانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں اس کے جانے سے پہلے ماہم کو رخصت کر کے گھر لے آئیں۔
خط پڑھ کر پریشان ہوگئی۔ فائنل ایئر میں کون طالب علم کالج کو خیرباد کہنا چاہے گا جبکہ مشکل سے داخلہ ملا تھا اور میری تعلیمی پوزیشن بہترین تھی۔ تائی نے خط دکھایا اور مجھ سے بات کی تو میں نے کہا کہ مجھے تعلیم مکمل کرنے دیں، شادی بعد میں ہو جائے گی۔
ممانی کا پھر فون آگیا کہ شادی کی تیاری کرلیں۔ ہم تاریخ لینے آ رہے ہیں۔ تبھی میں سخت رنجیدہ ہوگئی۔
تائی نے بات مجھ پر ڈال دی اور کہا کہ لڑکی شادی سے انکار کر رہی ہے تو ہم کیا کریں، زبردستی تو نہیں کرسکتے۔ ممکن ہے پڑھائی کا بہانہ ہو اور وہ تمہارے لڑکے کو پسند نہ کرتی ہو۔ بہتر ہے کہ خود آ کر اس سے بات کرلو۔
تائی کے بھڑکانے پر ممانی بددل ہوگئیں۔ ماموں سے کہا کہ لڑکی ہوسٹل میں رہتی ہے۔ شاید آزاد خیال ہوگئی ہے۔ بلند اقبال سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ ممکن ہے کسی اور لڑکے کو پسند کرنے لگی ہو۔ بلند اقبال نے بھی سن لیا کہ ماہم نے شادی سے انکار کردیا ہے۔ میں بلند اقبال کی بچپن سے منگیتر تھی۔ قدرتی طور پر اسے مجھ سے لگائو تھا بلکہ اس کے تصورات میں بسی ہوئی تھی۔ اس نے خود مجھ سے ملنے کا ارادہ کرلیا تاکہ اصل حقیقت جان سکے۔
والدین سے بتائے بغیر مجھے ٹیلی فون کیا اور بیرون ملک عازم سفر ہونے سے قبل ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ یہ بھی کہا کہ میرے
والدین یا تمہارے تایا تائی کو اس ملاقات کی خبر نہیں ہونا چاہئے۔
کچھ سوچ کر میں انکار نہ کرسکی۔ اب مشکل یہ تھی کہ ہوسٹل میں کسی سے یوں ملنے کی اجازت نہ تھی۔ تاہم بتائے بغیر وہ مجھ سے ملنے ہوسٹل پہنچ گیا۔ میں نے اسے کہا کہ یہاں بات نہیں ہوسکتی، وارڈن اجازت نہیں دیں گے، بہتر ہے کہ کل صبح کہیں باہر چل کر بات کر لیں۔
دوسرے روز صبح اس نے فون کیا کہ تم فلاں جگہ آ جائو، میں تم کو ساتھ لے لوں گا۔ اس دن دو ہی پیریڈ تھے۔ میں مقررہ جگہ جو کالج سے نزدیک تھی وہاں چلی گئی۔
بلند اقبال میرا منتظر تھا۔ وہ دوست کی گاڑی میں مجھے لینے آیا تھا۔
اس کا دوست وحید کوٹھی میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے والدین علاج کی خاطر بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ وحید ہمیں اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر خود دوسرے کمرے میں چلا گیا تاکہ ہم سکون سے بات کرسکیں۔
بلند اقبال کچھ پریشان اور افسردہ خاطر تھا۔ اس نے کہا۔ ماہم میں تمہارا آخری فیصلہ معلوم کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ تم مجھے پسند نہیں کرتیں، اس لئے شادی سے انکاری ہو۔ اسے میں نے یقین دلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں لیکن تایا ابو چاہتے ہیں کہ میں فائنل ایئر مکمل کرلوں، اس کے بعد میری رخصتی کردیں گے جبکہ آپ کی امی نے تائی کی باتوں کا غلط تاثر لے لیا ہے۔
بلند اقبال نے کہا۔ اگر یہ بات ہے تو میں اس خواہش کا احترام کرتا ہوں، تم تعلیم مکمل کرلو۔ میں بھی اپنی تعلیم مکمل کرلوں گا۔ شادی پھر ہو جائے گی۔ میں دو سال تو کیا تمہارا عمر بھر انتظار کرسکتا ہوں لیکن شادی تم ہی سے ہوگی۔ تم میری بچپن کی چاہت ہو۔
یہ ملاقات میرے لئے کسی فتح سے کم نہ تھی۔ ایک بہت بڑی پریشانی ختم ہوگئی تھی۔ میرے جواب سے مطمئن ہو کر بلند اقبال چلا گیا اور میں اپنی پڑھائی میں مشغول ہوگئی۔
ہماری ملاقات کو ایک ماہ گزرا تھا کہ اس کے دوست وحید کا فون آگیا۔ ماہم صاحبہ، آپ کا کزن میرے گھر آیا ہے اور ایک آخری ملاقات کی التجا کر رہا ہے۔ کیا آپ تھوڑی دیر کے لئے آ سکتی ہیں۔ کل بلند اقبال کی فلائٹ ہے۔
اس وقت بلند اقبال کے بیرون ملک چلے جانے کا سوچ کر میں اس قدر جذباتی ہوگئی کہ وحید کے فون کا یقین کرتے ہوئے فوراً کالج سے باہر آگئی اور اس بات کی تصدیق کا خیال تک ذہن میں نہ آیا کہ یہ اطلاع جھوٹ بھی ہوسکتی ہے۔
وحید کی گاڑی کو پہچانتی تھی۔ فوراً جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ میں بلند اقبال کی جدائی کے سوا کچھ اور سوچ نہیں پا رہی تھی۔ اسی کے تصور میں کھوئی ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ گاڑی وحید کے بنگلے میں داخل ہوگئی۔
جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ وحید نے مجھے دھوکے سے بلا لیا تھا۔
نیم مردہ اور تباہ حال جب ہوسٹل پہنچی تو سب سے پہلے ممانی کو فون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بلند اقبال کل شب کی پرواز سے بیرون ملک چلا گیا ہے، تب میری ایسی حالت غیر ہوگئی جیسے کسی نے جسم سے روح نکال لی ہو۔ میں اب تن مردہ کا بوجھ اٹھائے سسک رہی تھی۔ افسوس تھا وحید پر اعتبار کر کے کیوں میں نے اتنی بڑی حماقت کی کہ اس کی چالبازی نے مجھے ڈس لیا۔
وقت ہر دکھ کا مرہم ہوتا ہے۔ لیکن انسان اپنی غلطی کی سزا پاتا ہے۔ مجھ بدنصیب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے لئے حالات کی سنگینی دوچند ہوتی گئی۔
ایک وقت آگیا کہ جیتی تھی، نہ مرتی تھی۔ فائنل ایئر کے سالانہ امتحان نزدیک تھے اور میں ہوسٹل میں رہنے کے لائق نہ رہی تھی۔ گھر جا کر رہنا تو اور بھی محال تھا۔
کوئی حل سمجھ میں نہ آیا تو میں نے خالہ جان کو فون کیا جو شیخوپورہ میں رہتی تھیں، کہا کہ کالج سے امتحان کی تیاری کی خاطر چھٹیاں ملی ہیں، چاہتی ہوں آپ کے پاس آ جائوں۔ بیٹی آ جائو مجھے خوشی ہوگی۔ انہوں نے جواب دیا۔
ایسے نہیں آ سکتی۔ آپ خود آ کر ہوسٹل کی وارڈن سے ملیں اور تایا ابو سے بھی فون کر کے اجازت لیں۔ اگلے روز وہ ہوسٹل آگئیں۔ تایا کو فون کر کے بتایا کہ خالہ لینے آئی ہیں۔ انہوں نے خالہ سے بات کی اور اجازت دے دی۔ میں خالہ کے ہمراہ شیخوپورہ آگئی۔
حقیقت حال بتائے بنا چارہ نہ تھا۔ تمام روداد کہی کہ کیسے میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے بلکہ میری بے وقوفی سے یہ مصیبت آئی ہے، گھر نہیں جا سکتی بے موت ماری جائوں گی۔ آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو اس مصیبت سے نجات دلائے۔
خالہ بچاری بیوہ


ایک جوان بچی کی ماں تھیں جو ابھی غیر شادی شدہ تھی۔ بیٹا کمانے دبئی گیا ہوا تھا۔ وہ بری طرح پھنس گئی تھیں۔ اب مصیبت میں میرا ساتھ دینے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ خالہ نے پرنسپل کو مزید چھٹیوں کے لئے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھجوا دیا اور میرا پردہ رکھ لیا۔ تین ماہ میں خالہ کے گھر رہی۔ وہ برابر تائی اور ممانی کو تسلی دیتی تھیں کہ فکر نہ کرنا… ماہم میرے پاس ہے اور پرچوں کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ میری سگی خالہ تھیں لہٰذا جو ان کے گھر آتا، کہتیں یہ میری بھانجی ہے، اس کی ماں نہیں ہے مگر خالہ بھی ماں ہوتی ہے۔ وہ مجھے شادی شدہ ظاہر کرتیں۔ پھر وہ بھیانک رات آگئی جب میں نے ایک معصوم جان کو جنم دیا اور جان کنی کی اذیت سے دوچار ہوئی۔ خالہ نے کہا۔ ماہم تمہارا میرا ساتھ یہاں تک تھا، تمہیں نہیں رکھ سکتی۔ اس بچے کو صبح سے پہلے کہیں غائب کرنا ہوگا۔
جس رات بچے نے جنم لیا، اس سے اگلی رات تک وہ معصوم خالہ کے گھر میں رہا۔ اب اس ناکردہ جرم کو حرفِ غلط کی طرح مٹانے کا وقت آگیا تھا۔ قبرستان خالہ کے گھر کے قریب ہی تھا۔ انہوں نے کہا۔ صبح کاذب کا وقت ہے۔ اس کو ایسی جگہ رکھ آتے ہیں کہ جہاں سے لازماً نمازیوں کا گزر ہو۔ ان کی نظر پڑے گی تو اس معصوم کی زندگی کو کوئی رکھوالا مل ہی جائے گا۔ یہ تو ایک قیاس تھا۔ پتا نہیں اس بچے کا کیا انجام ہونے والا تھا۔
تمام ہوتی شب کے ملگجے اندھیرے میں تھوڑی دور چلنے کے بعد مطلوبہ جگہ نظر آگئی۔ مگر اسی وقت اذان کی خاطر مؤذن کو مسجد کی جانب آتے دیکھ کر خالہ نے رستہ بدل لیا اور وہ تیزی سے قبرستان کے اندر گھس گئیں۔ بچے کو ایک ٹوکری میں انہوں نے اٹھایا ہوا تھا۔
میرے قدم نہیں اٹھتے تھے۔ لڑکھڑاتی ہوئی ساتھ چل رہی تھی۔ دل خوف سے بھرا ہوا تھا۔ ہم تیزی سے چلتے ہوئے ایک چھوٹی سی دیوار کی اوٹ میں چھپ گئے۔ اچانک ایک سایہ سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ اس نے ہمیں دیوار کی اوٹ میں بیٹھے دیکھ لیا۔ وہ ہماری طرف لپکا۔ کون ہو تم؟ اور اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟ خالہ نے جان لیا کہ قبرستان کا رکھوالا ہے اور فجر کی نماز کے لئے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ چادر سے منہ ہٹا کر بولیں۔ ہم چور نہیں ہیں اور نہ ہی پرانی قبر کھود کر کچھ گاڑھنے بیٹھے تھے۔ ہمارے پاس اللہ کی ایک امانت ہے، اس کو تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ یہ کہہ کر ٹوکری اس کی طرف بڑھا دی۔ اس کو مسجد کے سامنے رکھ دو۔ ہم پر احسان کرو، ایک بے قصور لڑکی کو رسوائی سے بچا لو۔
وہ عمررسیدہ شخص تھا۔ بات سمجھ گیا۔ اس نے ٹوکری تھام لی اور کہا۔ اب نکلو جلدی ادھر سے۔ یہ کہہ کر وہ مسجد کی سمت چلا گیا۔ اتنی بڑی مصیبت کے وقت خدا نے کسی کو فرشتہ بنا کر بھیج دیا تھا۔
اس نے ٹوکری کو امام مسجد کے حوالے کیا۔ یہ ٹوکری قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک پرانی قبر کے پاس سے ملی ہے۔ اس نے کہا اور چادر کو ذرا سا کھول دیا تاکہ معصوم جان تازہ ہوا میں سانس لے سکے۔ نماز کے بعد تمام نمازی جمع ہوگئے۔ بچے کی معصوم صورت دیکھ کر اللہ اللہ کرتے رہے۔
تب قبرستان کے گورکن آگے آئے اور بولے۔ بچہ ہم کو دے دیں، ہمارے ہاں اولاد نہیں ہے، اسے بہو پال لے گی۔ امام صاحب نے بچہ گورکن کے حوالے کردیا۔ اگلے روز شام کو خالہ اپنے خاوند کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بہانے قبرستان گئیں۔ چوکیدار سے دریافت کیا۔ کیا اللہ نے ٹوکری والے پر رحمت کی؟
ہاں… اس نے کہا۔ گورکنوں نے اسے گود لے لیا ہے۔ اللہ نے چاہا تو رحمت کے سائے میں رہے گا۔ شاید بڑا ہو کر گورکن بنے گا اور تمہاری قبر کھودے گا۔ اس تلخ نوائی پر وہ سمجھ گئیں کہ چوکیدار اب ان سے مزید کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتا۔ اس دن کے بعد وہ پھر نہیں گئیں۔
آج اس واقعے کو چالیس برس ہونے کو ہیں۔ اب تو خالہ بھی فوت ہوگئی ہیں۔ خالہ مددگار نہ ہوتیں تو فائنل کے پرچے ہرگز نہ دے پاتی۔ انہوں نے ساتھ دیا تو میں نے امتحان دیا۔ امتحان سے فراغت کے بعد خالہ نے مجھے تایا کے گھر پہنچایا اور پھر میری شادی بلند اقبال سے ہوگئی۔ آج میرے بچے جوان ہیں۔ ان کی خوشیاں دیکھتی ہوں مگر وہ رات اور وہ داغ بھولتا نہیں۔ لاکھ چاہا… شوہر سے اس کے دوست کی کمینگی کا حال کہہ دوں مگر ہمت نہیں ہوئی۔ کیونکہ جانتی ہوں اس کے بعد ان کی خوشیوں کو بھی گھن لگ جائے گا۔ (م … لاہور)