Qissa Sone Kay Sikkoun Ka

37
Qissa Sone Kay Sikkoun Ka – Kids Corner Story
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تین دوست ایک ساتھ سفر پر نکلے۔ ایک کا نام تھا زاہد، دوسرے کا نام کاشف اور تیسرے کا نام منیب تھا۔ وہ تینوں ریل گاڑی میں بیٹھے اور اپنا اپنا سامان رکھنے لگے۔ سامان رکھتے ہوئے انہیں ایک سونے کی پوٹلی ملی جس میں بے شمار سونے کے سکے موجود تھے۔
تینوں سونے کے ان سکوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، ان تینوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سونے کے سکوں کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرلیں گے، تاکہ کسی ایک کو کم سکے نہ ملیں اور ان کے درمیان لڑائی نہ ہو۔ دوپہر کے وقت ٹرین ایک اسٹاپ پر رکی۔ کاشف کھانا لینے کیلئے ریل گاڑی سے نکلا۔ اس کی غیرموجودگی میں منیب اور زاہد نے یہ منصوبہ بنایا کہ اگر وہ دونوںمل کر کاشف کو جان سے مار دیں تو ان دونوں کو زیادہ سونا مل جائے گا۔ دوسری طرف کاشف نے یہ سوچا کہ اگر وہ زاہد اور منیب کو مار دے تو اسے اکیلے ہی سارے سونے کے سکے مل جائیں گے۔ یہ سوچ کر منیب اور زاہد کو مارنے کیلئے کاشف نے کھانے میں زہر ملادیا۔ کاشف کھانا لے کر واپس آگیا، وہ جب ریل گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھاکہ اچانک منیب اور زاہد اس کے سامنے آگئے۔ انہوں نے اس سے کھانے کی پلیٹ چھین کر پاس میں پڑی ایک ٹیبل پر رکھ دی اور اسے دھکیل کر ایک سنسان جگہ پر لے گئے۔ وہاں جاتے ہی منیب اور زاہد اس پر حملہ آور ہوگئے۔ اسے اتنا مارا کہ وہ مرگیا۔انہوں نے اس کی لاش کو ٹھکانے لگایا اور واپس آگئے۔ دونوں نے واپس آکرکھانے کی پلیٹ پکڑی اور ریل گاڑی میں بیٹھ گئے۔ انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ جو کھانا وہ کھارہے ہیں، اس کھانے میں زہر ملا ہوا ہے۔ کھانا کھانے کے دوران ہی اچانک ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں بھی چل بسے، یوں ان تینوں کے مرنے کے بعد وہ سونے کے سکوں سے بھری ہوئی پوٹلی کسی کو بھی نہیں ملی۔
پیارے دوستو! اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ لالچ کرنا بری بلا ہے، اس لئے جتنا بھی آپ کے پاس موجود ہے، اسی سے گزارا کرنا سیکھیں۔ لالچ نہ کریں، لالچ کرنے سے دراصل آپ کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے، اس لئے کوشش کریں کہ جتنا آپ کے پاس موجود ہے، اسی میں ہنسی خوشی گزارا کریں۔