Raaz | Complete Urdu Story

1041
سرور احمد اور ثریا بیگم کی دو بیٹیاں تھیں۔ دونوں کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ روشنی ایم۔اے فائنل میں تھی اور نور انٹر پری میڈیکل میں پڑھ رہی تھی۔ سرور احمد کا اپنا بزنس تھا۔ اکثر و بیشتر وہ بزنس کے سلسلے میں بیرون ملک جاتے رہتے تھے۔ زندگی اپنے دامن میں بہت خوش رنگ اُمیدیں لئے آگے بڑھ رہی تھی۔
بدھ کا دن تھا، روشنی اپنی دوستوں کے ساتھ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں موجود تھی۔
’’روشنی! تمہارے چہرے پر کیوں پریشانی کے آثار ہیں۔ صبح سے نوٹ کررہی ہوں، لگتا ہے تم کسی ٹینشن میں مبتلا ہو۔‘‘ اس کی دوست جیا نے کہا۔
’’اگلے ہفتے سے ایگزام شروع ہورہے ہیں اور میں نے ابھی تک کوئی تیاری نہیں کی۔ اوپر سے پرسوں پاپا کے دوست کی فیملی آرہی ہے، میرے رشتے کے سلسلے میں، سوچ رہی ہوں پاپا کو ان لوگوں کو اتنی جلدی بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ کام ایگزام کے بعد بھی ہوسکتا تھا۔‘‘
’’ہو تو سکتا تھا مگر تمہارے ہونے والے سسرالیوں کے پریشر کی وجہ سے انکل نے ایسا کیا ہوگا۔ خیر ایک دن کے لئے ان لوگوں کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘ جیا بولی۔
روشنی نے سر ہلا کر اس کی تائید کی اور کولڈ ڈرنک پینے میں مصروف ہوگئی۔ ’’اچھا اب میں چلتی ہوں، ڈرائیور آنے والا ہوگا۔‘‘ وہ آخری گھونٹ بھرتے ہوئے اُٹھنے لگی۔
’’یہ کیا آج اتنی جلدی گھر جارہی ہو؟‘‘ روشنی کی دوست سمعیہ نے کہا۔
’’سر انور تو آج آئے نہیں ہیں۔ بلاوجہ رکنے سے بہتر ہے میں گھر جاکر اسٹڈی کرلوں، خدا حافظ!‘‘ روشنی فوراً چل دی۔ یونیورسٹی سے وہ گھر پہنچی۔ گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ثریا بیگم فون پر کسی سے گفتگو میں مصروف تھیں۔ روشنی ان کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ فون رکھتے ہی وہ روشنی سے مخاطب ہوئیں۔ ’’تمہارے انکل فراز کی فیملی اگلے ماہ آئے گی۔ ان کی وائف سمیرہ کا فون تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں ان کا بیٹا کراچی چلا گیا ہے، جب وہ آئے گا تب ہی وہ ہمارے گھر آئیں گی۔‘‘
’’تھینک گاڈ!‘‘ روشنی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’آج تم کافی جلدی آگئیں؟‘‘
’’جی مما! یونیورسٹی میں کوئی خاص پڑھائی نہیں ہورہی تھی۔ میں نے سوچا گھر چل کر اسٹڈی کرلوں، کل سے تو ویسے ہی کلاسز آف ہیں۔‘‘
’’جائو تم فریش ہوجائو، نور آتی ہی ہوگی پھر ساتھ لنچ کریں گے۔‘‘
’’اوکے مما!‘‘ وہ صوفے سے ٹیک لگا کر تھکن اتارنے لگی۔
٭…٭…٭
ٹرالی میں چائے کے ساتھ طرح طرح کے لوازمات موجود تھے۔ روشنی ڈرائنگ روم میں انکل فراز کی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ تین روز پہلے سمیرہ بانو اپنے بیٹے شہیر کے ساتھ آئی تھیں اور روشنی کو پسند کرگئی تھیں۔ آج وہ دوبارہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ منگنی کی تاریخ رکھنے آئی تھیں۔ ’’کیا خیال ہے اگلے اتوار کو منگنی کرلیتے ہیں، شادی کے معاملے میں زیادہ طول دینا مناسب نہیں۔ ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں۔‘‘
’’جی بالکل جیسے آپ کی مرضی!‘‘ ثریا بیگم خوشگوار لہجے میں بولیں۔ سمیرہ بانو انہیں اپنے خاندان کے رسومات کے بارے میں بتانے لگیں۔
’’کیا خیال ہے، اب ہمیں چلنا چاہئے۔‘‘ وہ اپنی بیٹیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’ایسی بھی کیا جلدی، چلی جائیے گا۔ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔‘‘ ثریا بیگم کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہورہی ہیں۔ ’’روشنی بیٹا! تم اندر جائو۔‘‘ روشنی نے ایک نظر ان پر ڈالی اور کمرے سے نکل گئی۔
’’سمیرہ بہن! بات دراصل یہ ہے کہ روشنی ہماری سگی بیٹی نہں ہے، مگر آپ یقین جانئے کہ اسے نور کی طرح اہمیت دی ہے۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں، فراز نے مجھے ایسی کوئی بات نہیں بتائی۔‘‘
’’یہ بات فراز بھائی کو بھی پتا نہیں کہ وہ آپ کو بتاتے۔ ہم نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ سب یہی جانتے ہیں کہ ہماری دو بیٹیاں ہیں۔ شادی کے پانچ سال بعد اولاد نہ ہونے کے باعث ہم نے روشنی کو گود لیا تھا اس کے بعد اللہ کا کرم ہوا اور نور پیدا ہوئی۔ یہ بات اب بھی ڈھکی چھپی رہتی، مگر سرور کا کہنا ہے اب روشنی کی شادی کا معاملہ ہے اس لئے آپ کو حقیقت بتا دی جائے۔‘‘
ثریا بیگم کی بات سن کر سمیرہ بانو اور ان کی بیٹیوں کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ ’’ایک بات میں آپ سے ضرور پوچھنا چاہوں گی۔ روشنی کس کی اولاد ہے، میرا مطلب ہے کہ اس کے والدین کون ہیں؟‘‘
سمیرہ بانو کی بات سن کر ثریا بیگم نے ایک سرد آہ بھری۔ ’’یہ حقیقت تو مجھے بھی نہیں معلوم، ہمیں یہ بچی ایک نرس کے ذریعے ملی تھی۔ اس کے والدین کون ہیں، یہ مجھے اور سرور کو بھی نہیں معلومٖ!‘‘
’’اف خدایا! میں کس لڑکی کو بہو بنانے جارہی تھی۔ جانے وہ کس کا خون ہے، کسی کی ناجائز اولاد بھی ہوسکتی ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ میری کوئی نیکی کام آگئی، جو آپ کے منہ سے حقیقت نکل گئی۔ ندا، فائزہ! اُٹھو ہمیں اس گھر میں شادی نہیں کرنی۔‘‘ سمیرہ بانو بگڑے ہوئے تیور لئے فوراً نکل گئیں۔
ان کے جاتے ہی روشنی فوراً ڈرائنگ روم میں آگئی۔ ’’مما! کہہ دیں یہ سب جھوٹ ہے، جو آپ نے سمیرہ آنٹی سے کہا ہے؟‘‘ روشنی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’یہی حقیقت ہے۔ ایک نہ ایک دن تو مجھے یہ بتانا تھا۔ میں نے اور تمہارے پاپا نے تمہاری تربیت میں کوئی کمی چھوڑی ہے، جو تم اس طرح رو رہی ہو؟ تم ہماری اولاد ہو اور رہو گی۔‘‘ ثریا بیگم نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے تسلی دی۔
مگر روشنی کا مضطرب ذہن کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ وہ سرور احمد کی اولاد نہیں ہے تو آخر کس کی اولاد ہے۔ وہ ایک دفعہ اپنے حقیقی والدین سے ملنا چاہتی تھی کہ آخر انہوں نے کن حالات کے تحت اسے دوسروں کی جھولی میں ڈالا تھا۔ ایک ہفتے وہ شدید ڈپریشن میں مبتلا رہی۔
’’روشنی بیٹا! یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے، جائو جاکر اپنا حلیہ درست کرو۔‘‘ سرور احمد نے بکھرے بالوں اور ملگجے کپڑوں میں ملبوس روشنی کو دیکھ کرکہا۔
’’پاپا! میرا دل اچاٹ ہوگیا ہے۔ میں اس گھر میں نہیں رہنا چاہتی، مجھے آپ کسی فلاحی ادارے میں چھوڑ آئیں۔‘‘
’’روشنی بیٹا! تمہیں اگر مجھ سے یا اپنی مما سے کوئی شکایت ہے تو بتائو، ان لوگوں کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر کرنا ضروری تھا۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ وہ لوگ رشتے سے انکار کردیں گے، مگر تم اس بات کو دل پر مت لو۔‘‘
’’پاپا! مجھے اس رشتے کے ختم ہونے کا دکھ نہیں۔ ویسے بھی جو رشتہ مجھ سے جڑا نہیں، اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں صرف ایک بات جاننا چاہتی ہوں کہ میرے ماں، باپ کون ہیں اور اس سلسلے میں آپ میری مدد کرسکتے ہیں؟‘‘
سرور احمد نے ایک نظر روشنی کی سوجھی ہوئی آنکھوں پر ڈالی، پھر کچھ سوچتے ہوئے بولے۔ ’’سالوں پہلے کی راکھ کو کریدنے سے حاصل کیا ہوگا، الٹا تمہارے دکھ میں اضافہ ہوگا۔‘‘
’’آپ میرے دکھ کی پروا مت کریں، میں ایک دفعہ اپنے والدین سے ملنا چاہتی ہوں۔ آپ اسے میری آخری خواہش سمجھ لیں۔‘‘ روشنی ملتجیانہ انداز میں بولی۔
’’میں تمہاری خواہش پوری کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔ جہاں تک میرے علم میں ہے تمہارے باپ کا تمہاری پیدائش کے وقت کچھ اتاپتا نہیں تھا۔ میں تمہاری ملاقات سسٹر فیروزہ سے کروا دوں گا، وہی بتا سکتی ہے کہ تمہاری والدہ اب کہاں ہوں گی۔‘‘
’’پلیز پاپا! آپ مجھے سسٹر فیروزہ سے ملوا دیں، میں سخت ٹینشن میں ہوں۔‘‘
’’اوکے! میں بہت جلد تمہاری ان سے ملاقات کروا دوں گا۔ اب تم جائو، مجھے اپنی پہلے والی روشنی چاہئے۔‘‘ پاپا نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا تو وہ یکدم رونے لگی۔
٭…٭…٭
استعجاب کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر روشنی نے سسٹر فیروزہ کو دیکھا۔ ’’شادی تو ایک جوا ہوتی ہے۔ ہار یا جیت… یہ لڑکی کا مقدر! جیت گئے تو کیا کہنا اور اگر ہار گئے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔‘‘
سسٹر فیروزہ نے بات مکمل کی تو روشنی فوراً بول پڑی۔ ’’تو آپ کے خیال میں میری ماما نے جو کچھ کیا، صحیح کیا، مجھے غیروں کی جھولی میں ڈال کر نئی زندگی شروع کردی۔ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس میں میرا کیا قصور تھا؟‘‘
’’روشنی! میں جانتی ہوں کہ تمہارے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ بہتر ہے کہ تم اپنی ماں سے ملنے کا خیال ذہن سے نکال دو، اس سے پہلے بھی سرور صاحب اور ان کی وائف کو تم اپنے ماں، باپ کا درجہ دیتی رہی ہو۔ تمہاری ماں نے جو کچھ کیا، اپنے والدین کے دبائو میں آکر کیا، اسے معاف کردو۔ میں ساری صورتحال بتا چکی ہوں کہ کن حالات میں اس نے یہ قدم اُٹھایا۔‘‘ سسٹر فیروزہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’آنٹی! میں آپ کی بات پر یقین کرلیتی ہوں۔ آپ ایک دفعہ مجھے میری ماما سے ملوا دیں۔‘‘
سسٹر فیروزہ نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔ روشنی کی آنکھوں میں چھپے کرب کو دیکھ کر انہوں نے نظریں چرا لیں۔ ’’تمہاری ماما اب کہاں ہیں، میں نہیں جانتی۔ لاہور جانے کے بعد چند مہینوں تک ان کے خطوط آئے اس کے بعد انہوں نے یہ سلسلہ ختم کردیا۔ میرے پاس ان کا ایڈریس نہیں۔ اتنے بڑے شہر میں تم انہیں کیسے تلاش کرو گی۔ جس علاقے میں وہ رہتی تھیں، پتا نہیں اب وہ وہاں ہیں یا کہیں اور شفٹ ہوگئیں؟‘‘
سسٹر فیروزہ کی بات سن کر روشنی کے چہرے پر افسردگی پھیل گئی۔ ’’کیا میں کبھی اپنی حقیقی ماں کو نہیں دیکھ سکوں گی؟ آپ نہیں جانتیں کہ میں اس وقت کس کیفیت سے گزر رہی ہوں۔‘‘
’’روشنی! سرور صاحب نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے۔ میرے پاس تمہاری ماں کی تصویر ہے، تم چاہو تو وہ میں تمہیں دے سکتی ہوں۔‘‘ سسٹر فیروزہ نے کہا اور اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوٹی تو اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ وہ لفافہ اس نے روشنی کی طرف بڑھا دیا۔ روشنی نے فوراً لفافے سے تصویر نکالی اور ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگی۔
٭…٭…٭
’’آپ کی حرکتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔ ہر بات کا اچانک فیصلہ کرلیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان پر غور نہیں کرتے۔ روشنی ہماری اولاد نہیں، یہ بات اب تک چھپی تھی تو اسے چھپا ہی رہنے دیتے۔ فراز صاحب کی فیملی کے سامنے حقیقت بتانے کی کیا ضرورت تھی۔ دوسری غلطی آپ نے یہ کی مجھ سے پوچھے بغیر روشنی کو نرس سے ملوانے چلے گئے۔ روشنی اب اس گھر میں رہنے کو تیار نہیں۔‘‘ ثریا
بیگم نے اپنے دل کا غبار نکالا۔
سرور احمد خاموشی سے ان کی بات سن رہے تھے۔ گفتگو مکمل ہوتے ہی کہنے لگے۔ ’’میں نے جو کچھ کیا، بالکل ٹھیک کیا، اگر ہم فراز صاحب کی فیملی کو حقیقت بتائے بغیر روشنی کی شادی کردیتے تو کل کو بڑے مسئلے کھڑے ہوجاتے۔ سچائی چھپی نہیں رہتی۔ روشنی اگر لاہور جانا چاہتی ہے تو میں اسے منع نہیں کروں گا، اسے اپنی ماں سے ملنے کا اشتیاق ہے، ڈھونڈنے دو اسے اپنی ماں کو! اس کی ماں کو اگر اسے اپنے پاس رکھنا ہوتا تو یوں ہمارے حوالے نہ کرتی۔ خود ہی چند مہینوں بعد واپس آجائے گی۔ ہم نے اپنی طرف سے اس کی تربیت میں کوئی کوتاہی نہیں کی، جس پر ہم شرمندہ ہوں۔‘‘
’’آپ یہ بات مان لیں اپنی اولاد اپنی ہوتی ہے۔ شکر ہے اللہ نے ہمیں ماہ نور کی شکل میں اولاد عطا کردی، ورنہ روشنی! اس نے تو اپنے اوپر اجنبیت کا خول چڑھا لیا ہے۔‘‘ ثریا بیگم غصے میں بولیں۔
’’کول ڈائون! بلاوجہ تم خود کو ٹینشن میں مبتلا کررہی ہو۔ روشنی بہت اچھی ہے۔ اس وقت وہ جس کیفیت سے گزر رہی ہے، اس کا رویہ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ تم تیار نہیں ہوئیں، آج ہمیں راحیل کے گھر ڈنر پر جانا ہے۔‘‘ سرور احمد وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے بولے۔
’’میں تیار ہونے جارہی ہوں۔ ویسے بھی میری تیاری میں بہت کم وقت لگتا ہے۔‘‘ ثریا بیگم نے اُٹھتے ہوئے کہا۔
٭…٭…٭
وہ جون کی ایک گرم شام تھی۔ گرمی کسی عفریت کی مانند پنجے گاڑے ہوئے تھی۔ احد کا آج کا دن خاصا مصروف گزرا تھا۔ آفس سے گھر آتے ہی حبس زدہ موسم کے باعث اس نے پارک کا رخ کیا تھا۔ ویسے بھی پارک میں جانا اس کے معمولات میں تھا۔ وہ پارک میں اپنی مخصوص بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی نظریں پارک کے داخلی گیٹ پر جمی ہوئی تھیں، تب ہی اسے ماہ وش آتی نظر آئی۔ اسے شدت سے ماہ وش کا انتظار تھا۔ وہ تقریباً روز ہی شام کو مغرب سے پہلے اس پارک میں آیا کرتی تھی۔ احد کی عادت تھی وہ آفس سے آنے کے بعد سیدھا پارک میں آبیٹھتا تھا۔ اسے ماہ وش پچھلے چند دنوں سے دکھائی دے رہی تھی۔ احد کا معمول تھا کہ وہ تالاب میں تیرتی بطخوں کو پاپ کارن کھلایا کرتا تھا۔ ایک روز وہ بطخوں کو پاپ کارن ڈال رہا تھا تب ماہ وش وہاں نزدیک بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ بطخوں کو پاپ کارن کی خاطر آپس میں لڑتا دیکھ کر اس نے خوب قہقہے لگائے۔ وہ پہلا دن تھا جب ماہ وش اور احد کا تعارف ہوا۔ اس دن کے بعد وہ روزانہ اسی مخصوص بینچ پر آبیٹھتی تھی۔ دونوں کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے، ماہ وش کی عمر بائیس، تئیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ ایک دلکش اور جاذب نظر لڑکی تھی۔ لیکن احد کی اس میں دلچسپی کا سبب جذبۂ عشق ہرگز نہیں تھا۔ احد کی عمر پچاس کے قریب تھی۔ وہ ماہ وش سے اپنی گفتگو کو جذبہ اخلاق کی تسکین سے تعبیر کرتا تھا اور روزانہ شام میں وہ جب بھی پارک آتا، ماہ وش سے ضرور باتیں کرتا۔ آج وہ کچھ زیادہ ہی بے قراری سے اس کی آمد کا منتظر تھا۔ احد کی اس بے چینی کا سبب وہ حالات تھے جنہوں نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا تھا۔ بات تھی ہی کچھ ایسی کہ احد سوچنے پر مجبور ہوگیا۔
ماہ وش آج صبح اسے اپنے آفس کی بلڈنگ میں دکھائی دی تھی۔ وہ عینا نامی لڑکی سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔ لنچ ٹائم میں احد نے عینا سے ماہ وش کے بارے میں پوچھا۔
’’سر! وہ میری دور کی کزن ہے۔ وہ دراصل اس شہر میں اجنبی ہے، اس کے پاس ایک کار کا نمبر ہے، وہ اس کار کے مالک کی تلاش میں ہے۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ کار رجسٹریشن آفس میں جاکر معلومات حاصل کرے، ہم لوگ موٹر کمپنی میں کام تو کرتے ہیں لیکن ہمارا رجسٹریشن سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔‘‘ عینا تیزی سے بولی۔
عینا سے تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد احد اپنے کمرے میں چلا گیا۔ لنچ ٹائم کا وقت ختم ہوچکا تھا۔ احد کا آج کام کرنے کا بالکل موڈ نہیں بن رہا تھا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ماہ وش میری پرانی زیراستعمال کار کو ڈھونڈ رہی ہے۔ وہ کار میں کب کی بیچ چکا ہوں۔ ماہ وش نے پرسوں مجھے بھی کار کا ماڈل اور نمبر بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس کار کے مالک کو ڈھونڈ رہی ہے۔ آخر اس تلاش کی وجہ کیا ہے؟
اچانک دروازے پر دستک ہوئی تو اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اسی وقت چپراسی اندر داخل ہوا اور چائے رکھ کر چلا گیا۔ ’’میں ماہ وش سے آج باتوں باتوں میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ کار کے مالک کو کیوں ڈھونڈ رہی ہے؟‘‘ چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے احد نے فیصلہ کن انداز میں سوچا اور کام میں مصروف ہوگیا۔
شام کو پارک میں اپنی مخصوص بینچ پر بیٹھے ہوئے وہ ماہ وش کا منتظر تھا۔ اچانک وہ پارک کے دروازے سے داخل ہوتی دکھائی دی۔ اس کا رخ احد کی جانب تھا۔ چہرے پر شناسائی کے تاثرات لئے وہ تیزی سے قدم اُٹھاتی احد کی جانب آرہی تھی۔
’’ہیلو انکل! کیسے ہیں آپ…؟‘‘ ماہ وش نے نزدیک پہنچ کر بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ احد نے مسکراتے ہوئے کہا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگا۔ ’’کچھ بارش کے آثار نظر آرہے ہیں، لیکن اگر یہ بارش پارک سے ہمارے نکلنے کے بعد ہو تو اچھا ہے۔‘‘
ماہ وش نے اس دوران اپنے ہینڈ بیگ سے ایک چپس کا پیکٹ نکالا اور کھولنے میں مصروف ہوگئی۔ ’’آپ لیں۔‘‘ اس نے پیکٹ احد کی طرف بڑھایا۔ ’’نو تھینکس!‘‘ احد نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ’’تم تقریباً روز ہی یہاں نظر آتی ہو، اس کی کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’میں نے آپ کو بتایا تو تھا کہ اس شہر میں، میں کسی شخص کی تلاش میں آئی ہوں۔ میں کراچی کی رہنے والی ہوں۔‘‘
’’اچھا! کبھی میں بھی وہاں رہا کرتا تھا لیکن یہ برسوں پرانی بات ہے۔کیا تم یہاں پہلی مرتبہ آئی ہو؟‘‘
’’جی…!‘‘ ماہ وش نے مختصر جواب دیا۔
’’یہ ایک اچھا شہر ہے۔ ویسے بھی تم نے سنا ہوگا جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔‘‘ احد نے ہنس کر کہا۔
’’ہاں! مجھے یہاں بڑی دلکشی اور رونق دکھائی دی ہے، انجوائے کررہی ہوں، لیکن ساتھ ہی مجھے ایک شخص کی تلاش ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں جلد اُسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائوں گی۔ مجھے بائیس سال قبل سے اپنی کھوج کا آغاز کرنا پڑ رہا ہے، اسی لئے مجھے اتنی مشکل پیش آرہی ہے۔‘‘ ماہ وش نے فکرمند ہوتے ہوئے کہا۔
’’میرا خیال ہے کہ اس وقت تو تم شاید پیدا بھی نہیں ہوئی ہوں گی۔‘‘ احد نے کہا۔
’’میں اس وقت دنیا میں موجود تھی۔ میں نے آپ کو جس کار کے بارے میں بتایا تھا، وہ اس شخص کے پاس موجود تھی۔ اس شخص کی شادی ان ہی دنوں ہوئی تھی۔ مجھے احساس ہے کہ یہ معلومات بڑی مبہم ہیں، اس شخص کا سراغ لگانے کے لئے ناکافی…! لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن میں ضرور اس شخص تک پہنچ جائوں گی۔‘‘ ماہ وش نے پریقین لہجے میں کہا۔ ’’لیکن شاید ان ہی سے میرا کام بن جائے۔‘‘
ماہ وش کے اس انکشاف پر احد کی بے تابی یکدم کپکپی میں بدل گئی۔ وہ پریشان ہوگیا، اسے سکتہ سا ہوگیا۔
’’لگتا ہے کہ آپ میری باتوں سے بور ہوگئے ہیں۔ کچھ آپ کی بھی سننی چاہئے۔ آپ نے اپنے بارے میں نہیں بتایا کہ آپ کہاں جاب کرتے ہیں؟‘‘
’’اپنے بارے میں، میں کیا بتائوں۔ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں، میرا کام بڑا تھکا دینے والا ہے۔‘‘ احد نے تھکی تھکی سی آواز میں بتایا۔
’’پرائیویٹ ملازمت تو بہت لوگ کررہے ہیں۔ یقینا آپ شادی شدہ ہوں گے؟‘‘ احد نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’اس عمر میں شاید ہی کوئی مرد غیر شادی شدہ ہوتا ہو۔‘‘ ماہ وش نے تبصرہ کیا۔ ’’کیا آپ یہاں کافی عرصے سے رہ رہے ہیں؟‘‘
احد نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تو ماہ وش کے بارے میں متجسس تھا اور گفتگو کا رخ بدل رہا تھا، اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ایک نگاہ ڈالی اور پھر چونکنے کا تاثر دیتے ہوئے بولا۔ ’’اوہ! اتنا وقت گزر گیا باتوں میں دھیان ہی نہیں رہا۔ میرا خیال ہے کہ اب مجھے چلنا چاہئے۔‘‘ احد نے اُٹھتے ہوئے کہا اور پھر تیز تیز قدموں سے پارک کے دروازے کی جانب چل پڑا۔
٭…٭…٭
اگلے دن صبح آفس جاتے ہوئے راستے بھر شک اور خوف کے ملے جلے جذبات احد کے ذہن میں گردش کرتے رہے۔ بات اب اتفاق سے کچھ آگے نکل چکی تھی۔ بائیس سال قبل اس کی شادی ہوئی تھی، کار کا نمبر بھی وہی تھا، جس کی ماہ وش کو تلاش تھی۔ احد آفس تو پہنچ گیا تھا، مگر اس کا ذہن کام کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ ماہ وش کی باتیں باربار اس کے ذہن میں کچوکے لگا رہی تھیں۔ آخر چھٹی سے ایک گھنٹے قبل وہ آفس سے نکلا اور گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔ وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی فرح گھر کے صحن میں لگے پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھی۔
وہ اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی۔ ’’ارے آپ آج جلدی گھر آگئے، خیریت تو ہے نا؟‘‘
’’ہاں! سب خیریت ہے۔‘‘ احد نے جواب دیا۔ ’’دراصل آج مجھے صبح سے تھکن محسوس ہورہی تھی، سوچا کہ جلدی گھر جاکر آرام کرلوں۔‘‘
’’میں آپ کے لئے چائے بناتی ہوں۔‘‘
’’نہیں! میں اپنے کمرے میں آرام کررہا ہوں، تم مجھے ڈسٹرب مت کرنا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ فرح نے سر ہلا دیا۔ کمرے میں جاتے ہی احد نے کپڑے تبدیل کئے اور بستر پر لیٹ گیا۔ اس کا ذہن بائیس سال قبل ایک حادثے کی طرف چلا گیا۔ یہ حادثہ اس کی یادداشت پر اس طرح نقش تھا جیسے کل کی بات ہو۔ احد جب بھی وہ منظر یاد کرتا، اس کے کانوں میں ٹکرانے کی آواز اور عورت کی دلخراش چیخ گونجنے لگتی تھی، پھر سڑک کے کنارے عورت کی کچلی ہوئی لاش نگاہوں کے سامنے آجاتی۔ احد اس شام اپنی کار میں فرح کو اس کے رشتے دار کے گھر سے لینے جارہا تھا۔ ان دنوں بڑی شاہراہ پر کچھ کام ہورہا تھا اس لئے ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔ ویسے بھی احد کچھ زیادہ تیز رفتاری سے کار چلا رہا تھا۔ اس نے جو متبادل راستہ اختیار کیا تھا، وہ بالکل نیا تھا۔
تب ہی اچانک ایک عورت اس کی کار کے سامنے آگئی۔ احد نے بریک لگانے کی کوشش کی تھی، لیکن کار کی رفتار تیز ہونے کے باعث کار اس عورت سے جاٹکرائی۔ یقینا اس حادثے کے بعد احد کو رک جانا چاہئے تھا، لیکن عورت کی لاش پر نگاہ پڑتے ہی احد کے اوسان خطا ہوگئے۔ اس حادثے کی رپورٹ درج کرانے کا مطلب مستقبل کی تباہی تھی اور وہ کسی صورت اپنی تباہی نہیں چاہتا تھا۔ غلطی اس عورت کی بھی تھی، وہ اچانک کار کے


آئی تھی۔ احد جائے واردات سے فوراً فرار ہوگیا۔
اس حادثے کا کوئی عینی شاہد نہیں تھا۔ پولیس نے تفتیش کے بعد اس کیس پر کام بند کردیا تھا، لیکن اب احد کو یوں لگ رہا تھا کہ اس عورت کے اہل خانہ اور دوستوں نے ابھی تک اس نامعلوم قاتل کی تلاش کے سلسلے میں ہمت نہیں ہاری تھی اور وہ اتنی مدت گزرنے کے باوجود تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔ احد بستر پر لیٹا کروٹیں بدلتا ہوا اپنے ماضی سے جڑے اس اہم واقعہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ یہ سب سوچتے ہوئے اسے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ آٹھ بجے فرح اسے کھانا کھانے کے لئے بلانے آئی تو وہ جاگ رہا تھا۔
’’آپ سوئے نہیں؟‘‘ وہ حیرانی سے بولی۔
’’سونے کی بہت کوشش کی، مگر نیند نہیں آئی۔‘‘ احد بستر سے اُٹھتے ہوئے بولا۔
’’آپ ہاتھ، منہ دھو لیں، میں کھانا لگا رہی ہوں۔‘‘ فرح یہ کہتے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔ آج فرح نے اس کی پسندیدہ ڈش فرائی فش اور سلاد تیار کی تھی، لیکن بائیس سال پرانے حادثے کی یاد نے احد کی بھوک ختم کردی تھی۔
کھانے کے دوران فرح اسے اپنی دن بھر کی کارگزاری سناتی رہی اور وہ غائب دماغی سے ہوں… ہاں کرنے کے ساتھ سر ہلاتا رہا۔ اس نے کھانے سے جلد ہی ہاتھ کھینچ لیا اور نیوز چینل دیکھنے لگا۔ بظاہر اس کی نظریں ٹی وی پر تھیں لیکن ایک خیال اس کے ذہن پر مسلسل ہتھوڑے برسا رہا تھا کہ بالآخر ماہ وش اس حقیقت کا سراغ لگا لے گی کہ وہ کار اس وقت اس کے استعمال میں تھی، لیکن اس ہلاک ہونے والی عورت کا ماہ وش سے کیا رشتہ ہوسکتا ہے۔
کچھ دیر ٹی وی دیکھنے کے بعد احد سونے کے لئے اپنے بستر پر لیٹا۔ وہ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ اسے بمشکل تھوڑی دیر کے لئے نیند آئی۔ دوسرے روز صبح آفس پہنچنے کے بعد احد کی نگاہ باربار گھڑی کی جانب اُٹھتی رہی۔ وہ شام کا منتظر تھا۔
شام کو وہ مقررہ وقت پر آفس سے نکلا، گھر پہنچ کر کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ پارک پہنچ گیا۔ جب وہ پارک میں داخل ہوا تو ماہ وش پہلے سے وہاں موجود تھی۔
’’کل آپ کہاں غائب تھے؟‘‘ اس نے احد کو دیکھتے ہی پوچھا۔
’’گھر پر آرام کررہا تھا۔ تم سنائو کل کیا کرتی رہیں، تمہارا کل کا دن کیسا گزرا؟‘‘
’’میں نے آپ سے کہا تھا نہ انکل کہ میں اس شہر میں جس مقصد کے تحت آئی ہوں، بہت جلد اس مقصد کو پا لوں گی۔ سمجھیں میں اپنی منزل کے قریب پہنچ گئی ہوں۔ میں نے جس کار کا ذکر کیا تھا، بائیس سال پہلے وہ جس کے پاس تھی، مجھے اس شخص کا نام اور پتا مل گیا ہے۔‘‘ ماہ وش پرجوش لہجے میں بتا رہی تھی۔ اس کی بات سنتے ہی احد کا سر چکرانے لگا، اسے پارک گھومتا دکھائی دینے لگا۔ اس نے فوراً ہی دونوں ہاتھوں سے بینچ تھام لی۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ ماہ وش اس کی کیفیت دیکھ کر قدرے گھبرا گئی۔
’’گزشتہ رات سے سر درد کی شکایت ہے، رہ رہ کر درد کی ٹیس سی اُٹھتی ہے۔‘‘
’’اوہ اچھا!‘‘ اس نے مطمئن انداز میں گردن ہلائی۔
’’یہ شہر تمہارے لئے اجنبی ہے، تمہیں کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو مجھ سے رابطہ کرسکتی ہو۔ ویسے تم کہاں رہائش پذیر ہو؟‘‘
’’میں اپنی رشتے کی آنٹی کے پاس رہ رہی ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ کو میرا اتنا خیال ہے۔ آپ اپنی وائف کے ساتھ آئیے گا، آنٹی کو بھی یقیناً آپ سے مل کر خوشی ہوگی۔‘‘ اتنا کہہ کر ماہ وش اپنی عارضی قیام گاہ کا پتا سمجھانے لگی۔ پارک سے نکل کر احد تھکے تھکے قدموں سے اپنے گھر کی جانب لوٹ گیا۔ گھر پہنچ کر فرح کے ساتھ ٹی وی دیکھتے ہوئے وہ سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے جو جرم بائیس سال قبل کیا تھا، اس کا بھانڈا پھوٹنے میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہی تھی۔ کسی بھی لمحے اس پر قاتل ہونے کا داغ لگ سکتا تھا۔ وہ خود کو بے قصور ثابت کرنے کی جتنی چاہے کوشش کرتا، انسانی جان لینے کے جرم میں اسے سزا ضرور ملنی تھی۔ احد نے پانچ برس پہلے اپنی پرانی کار فروخت کردی تھی، اس کے باوجود اسے اندر ہی اندر جیل جانے کا خوف کھائے جارہا تھا۔ اس عمر میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے کا تصور ہی خوفناک تھا۔
’’سنو فرح! میں ذرا ارسلان کے گھر تک جارہا ہوں، شاید مجھے دیر ہوجائے، تم کھانے پر میرا انتظار مت کرنا۔‘‘ اچانک ہی احد اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ فرح نے سر ہلایا۔
احد نے کار کی چابی اُٹھائی اور گھر سے باہر نکل گیا۔ اس کی فرح سے شادی کی وجہ ذہنی ہم آہنگی تھی۔ وہ ایک دوسرے کے احساسات اور جذبات کا بخوبی خیال رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی احد جب کسی دوست سے ملنے جاتا تو فرح کوئی سوال جواب نہیں کرتی تھی۔ شادی کے ایک سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا تھا اور پیدائش کے فوراً بعد چل بسا تھا، اس کے بعد فرح دوبارہ ماں نہ بن سکی۔ گزرتے وقت کے ساتھ دونوں میاں، بیوی نے قسمت کی اس ستم ظریفی پر صبر کرلیا تھا۔
احد گھر سے باہر نکل کر کار میں سوار ہوگیا، لیکن اس کا رخ اپنے دوست ارسلان کے گھر کے بجائے اس علاقے کی جانب تھا، جہاں ماہ وش کی رہائش تھی۔ وہ جگہ احد کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھی۔ احد نے اپنی کار بلڈنگ کے باہر پارک کی۔ ماہ وش کا فلیٹ فرسٹ فلور پر تھا۔ ڈور بیل کے جواب میں ماہ وش نے دروازہ کھولا۔ اس وقت وہ ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں ملبوس تھی، سر پر دوپٹہ لپٹا ہوا تھا۔ وہ حیرت زدہ سی کھڑی تھی۔
’’میں بغیر اطلاع آنے پر معافی چاہتا ہوں۔‘‘ احد نے کہا۔ ’’میں دراصل یہاں سے گزر رہا تھا، سوچا تم سے ملاقات کرتا چلوں۔‘‘
’’بہت اچھا کیا جو آپ آگئے۔‘‘ ماہ وش نے راستہ دیا اور لائونج میں رکھے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’تمہاری آنٹی کہاں ہیں؟‘‘ احد نے کمرے کی طرف نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔
’’آنٹی آتی ہی ہوں گی۔ ہمارے جاننے والوں میں کسی کی وفات ہوگئی ہے، وہ وہیں گئی ہیں۔ میں آپ کے لئے چائے یا ٹھنڈا لائوں؟‘‘
’’نہیں شکریہ! میں بے وقت اس طرح کی چیزیں پینا پسند نہیں کرتا۔‘‘
’’اوہ سوری! میں بھول گئی تھی کہ آپ اپنی ڈائٹ کے معاملے میں خاصے محتاط ہیں۔‘‘ احد نے ماہ وش کی بات سن کر مسکرانے کی کوشش کی، لیکن اس کے ہونٹوں نے حرکت کرنے سے انکار کردیا۔ اس کا حلق خشک ہورہا تھا۔ اس نے اپنا حلق تر کیا اور قدرے ہکلاتے ہوئے بولا۔ ’’جس شخص کی تلاش میں تم یہاں آئی ہو، اس کا نام تم نے نہیں بتایا۔‘‘
احد مرتضیٰ نام ہے ان کا، مجھے ان کا پتا بھی معلوم ہوگیا ہے، آپ کے ہم نام ہونے کے ساتھ ساتھ وہ آپ کے علاقے کے رہائشی بھی ہیں۔‘‘
’’ہوں! تو میرا اندیشہ درست ثابت ہوا۔‘‘ احد نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’یہ لڑکی میری تلاش میں تھی اور اب یہ مجھ تک پہنچ بھی گئی ہے۔‘‘ یہ سوچتے ہی احد کے حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔
’’مجھے پیاس لگ رہی ہے، ٹھنڈا پانی ملے گا؟‘‘ ماہ وش یہ سنتے ہی مسکرا دی اور فریج سے پانی کی بوتل نکالنے لگی۔
احد کا ذہن تیزی سے سوچنے لگا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔ وہ اس عمر میں جیل نہیں جانا چاہتا تھا۔ جیل سے بچنے کا واحد حل یہ تھا کہ وہ ماہ وش کو ٹھکانے لگا دے۔ ماہ وش پانی کا گلاس لے آئی تو اس نے ایک سانس میں خالی کردیا۔ ’’میرا خیال ہے کہ مجھے چائے پی لینی چاہئے۔‘‘ پانی کا گلاس میز پر رکھتے ہوئے وہ بولا۔
’’میں آپ کے لئے چائے بناتی ہوں۔‘‘ ماہ وش لائونج سے ملحق کچن میں چائے بنانے میں مصروف ہوگئی۔ احد ماہ وش کا گلا دبانے کے ارادے سے اُٹھا کہ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی نے کمرے میں چھائی پراسرار خاموشی توڑ دی۔
ماہ وش کچن سے نکل کر لائونج میں رکھے ٹیلی فون کی جانب متوجہ ہوگئی۔ احد اُٹھنا ہی چاہتا تھا کہ ماہ وش نے فون رکھ دیا۔ احد کا تنا ہوا جسم صوفے میں دھنس کر رہ گیا۔
’’رانگ نمبر تھا، میں ابھی چائے لاتی ہوں۔‘‘ ماہ وش دوبارہ کچن میں چلی گئی۔ احد کا ذہن کشمکش کا شکار تھا۔ اس کا ہاتھ بار بار اُٹھتا اور رک جاتا۔ وہ اپنے ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی خود میں ہمت نہیں پا رہا تھا۔
ماہ وش چائے لے کر آئی۔ اسی وقت اس کی آنٹی بھی آگئیں۔ احد کو دیکھ کر ان کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ ان کے چہرے سے یوں ظاہر ہورہا تھا کہ انہیں احد کا اپنے فلیٹ پر آنا سخت برا لگا ہے۔ احد نے چائے پی کر کپ خالی کیا اور ماہ وش کی آنٹی کو خدا حافظ کہہ کرفلیٹ سے باہر نکل آیا۔
باہر نکلتے ہی وہ ٹھنڈی ہوا اپنے اندر اتارنے لگا۔ اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کی طبیعت بحال ہوئی تو وہ اپنی کار کی جانب بڑھ گیا۔ کار چلاتے ہوئے وہ سخت مضطرب تھا۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنی قسمت کو کوسنا شروع کردیا۔ اس نے ماہ وش کو ٹھکانے لگانے کا مصمم ارادہ کرلیا تھا، لیکن عین وقت پر فون کی گھنٹی نے سارا کام بگاڑ دیا، پھر بھی اگر وہ ہمت کرلیتا تو چائے بنانے کے دوران ماہ وش پر قابو پا کر اس کا گلا گھونٹ دیتا، لیکن اگر اس دوران اس کی آنٹی آجاتیں تو لینے کے دینے پڑ جاتے۔ یہ سوچ کر وہ پریشان ہوتا رہا۔ اسے اپنے چاروں طرف پھانسی کے پھندے ناچتے دکھائی دیتے رہے۔ رات کے کسی پہر اس نے پختہ ارادہ کرلیا کہ وہ کل ایک بار پھر قسمت آزمانے کی کوشش کرے گا۔ وقت بے حد کم رہ گیا تھا۔ ماہ وش نے اس کا پتا ڈھونڈ نکالا تھا اور وہ کسی بھی لمحے پولیس کو حالات سے باخبر کرکے تباہی کا سامان پیدا کرسکتی تھی۔ برسوں پہلے کیا ہوا جرم ایک لمحے میں سامنے آجاتا۔
’’کیا بات ہے میں کل سے یہ بات محسوس کررہی ہوں کہ آپ کچھ پریشان سے ہیں؟‘‘ فرح نے اسے خلاف معمول کھویا کھویا سا پایا۔ آنکھوں میں بے خوابی تھی، چہرے پر تھکن کے آثار تھے۔ ’’کوئی خاص وجہ نہیں، وہی دفتر کے مسئلے مسائل ہیں، کام کا پریشر دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے احد نے سینڈوچ اُٹھایا اور کھانے لگا۔
’’کام یقینا اہم ہے لیکن آپ کی کیفیت سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ آپ کو آرام کی سخت ضرورت ہے۔ آج آپ چھٹی کرلیجئے اور گھر پر آرام کیجئے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے فرح کو بخوبی احساس تھا کہ احد اس کی بات پر کان نہیں دھرے گا۔ بیمار ہونے کے باوجود وہ باقاعدگی سے آفس جاتا تھا۔
’’میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ آج چھٹی کرلوں، طبیعت عجیب بوجھل سی ہورہی ہے۔‘‘ احد نے فوراً ہامی بھرلی تو فرح کی حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ کہاں تو احد شدید بیماری کی حالت میں دوا کھا کر آفس کے لئے نکل جاتا تھا اور آج وہ فوراً
چھٹی کرنے کے لئے تیار ہوگیا تھا۔
’’اچھی بات ہے، آرام کرنے سے آپ کی طبیعت بہتر ہوجائے گی۔ آپ آفس فون کرکے بتا دیں۔‘‘
فرح کی بات سن کر احد نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر وہ دونوں تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے، پھر فرح نے برتن اُٹھائے اور کچن میں جاکر صفائی میں مصروف ہوگئی۔ اس کے جانے کے بعد احد نے آفس کا نمبر ملایا اور فون پر بات کرنے لگا۔
اتنے میں ڈور بیل بجی۔ فرح باتھ روم میں تھی، احد اُٹھ کر گیٹ کی جانب بڑھ گیا۔ باہر کوریئر سروس والا موجود تھا۔ اس نے ایک لفافہ احد کی جانب بڑھایا اور سائن کروا کے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد احد لفافے کو پلٹ کر دیکھنے لگا۔ خط فرح کے نام تھا۔ بھیجنے والے کا نام پڑھتے ہی احد ٹھٹھک گیا۔ ’’ماہ وش‘‘ وہ بڑبڑایا۔
پھر اچانک اس کے ذہن میں طرح طرح کے خدشات ابھرنے لگے۔ وہ لفافہ لئے اپنے کمرے میں آگیا اور کمرے کا دروازہ لاک کرکے خوف زدہ نگاہوں سے لفافے کو گھورنے لگا۔ آخر ماہ وش نے یہ خط فرح کے نام کیوں تحریر کیا ہے۔ کیا وہ فرح کی ہمدردیاں حاصل کرکے اسے ہر ممکن طریقے سے زک پہنچانا چاہتی ہے؟ اسی لمحے فیصلہ کیا کہ اسے یہ خط پڑھنا چاہئے۔ وہ احتیاط سے لفافہ کھولنے میں مصروف ہوگیا کہ اسے دوبارہ بآسانی بند کیا جاسکے، بلکہ اس کے کھولے جانے کا احساس ہی نہ ہو۔ لفافے کے اندر خط اور ایک تصویر تھی۔ احد نے تصویر باہر نکالی تو ایک لمحے کے لئے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ تصویر ماہ وش کی تھی۔ وہ ٹکٹکی باندھے تصویر کو یوں دیکھنے لگا، جیسے پہلی بار اس نے ماہ وش کو دیکھا ہو، جبکہ اس کی ماہ وش سے روزانہ ہی ملاقات ہوتی تھی۔ تصویر ایک طرف رکھ کر وہ خط پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ اس دوران اس کے چہرے کی رنگت بار بار بدلتی رہی۔ خط پڑھنے کے بعد وہ چند لمحوں تک گہری سوچ میں ڈوبا رہا، پھر ایک نئے عزم سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے تصویر اور خط دوبارہ لفافے میں رکھ دیئے اور لفافہ احتیاط سے دوبارہ بند کردیا، کچھ اس طرح کہ کھولے جانے کا شبہ نہیں ہوسکتا تھا۔
احد نے نہا کر کپڑے تبدیل کئے اور اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔ فرح گھر کی صفائی میں مصروف تھی۔
’’کیا ہوا آپ سوئے نہیں؟‘‘ فرح نے احد کو دیکھتے ہی پوچھا۔ ’’نہیں! نیند نہیں آرہی تھی۔ طبیعت کچھ گری گری سی ہے، میں نے سوچا ڈاکٹر سے دوا لے آئوں۔‘‘
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کا خیال آگیا، ورنہ آپ کو زبردستی لے جانا پڑتا ہے۔ کیا طبیعت زیادہ خراب ہورہی ہے؟‘‘ فرح یکدم فکرمند ہوگئی۔
’’نہیں! گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ میں نے سوچا احتیاطاً چیک اپ کرا لوں، نیند بھی نہیں آرہی۔ یہ کوریئر والا تمہارے لئے دے گیا تھا۔‘‘ احد نے لفافہ فرح کی طرف بڑھایا۔ ’’اوکے میں چلتا ہوں۔‘‘ احد کمرے سے نکل کر گیٹ کی جانب چل پڑا۔ چند لمحوں بعد وہ کار میں بیٹھا اس علاقے کی جانب بڑھ رہا تھا، جہاں ماہ وش کا قیام تھا۔
٭…٭…٭
احد کے گھر سے نکلتے ہی فرح نے لفافہ چاک کیا۔ یہ خط اس کے نام تھا لیکن بھیجنے والے کے نام سے وہ قطعی نامانوس تھی۔ لفافہ کھولتے ہی اس میں سے خط اور تصویر نکلی۔ فرح نے خط پڑھنا شروع کیا۔ خط کے ابتدائی جملے پڑھتے ہی اسے اچانک شدید ذہنی جھٹکا لگا۔ جوں جوں وہ خط پڑھتی گئی، اس کا سر بری طرح چکرانے لگا۔ خط میں لکھا تھا۔
’’آپ کے بارے میں مجھے کوئی معلومات نہیں تھیں، بس آپ کا نام معلوم تھا۔‘‘ اسی وقت فرح کی نگاہ تصویر پر جم گئی۔ وہ ایک حسین لڑکی تھی بالکل بابر کی طرح!
اتنے سال گزرنے کے باوجود وہ یہ تلخ حقیقت بھول نہیں سکی تھی۔ کتنی کوشش کی تھی اس نے کہ اس تلخ حقیقت کو اپنی یادداشت کے قبرستان میں دفن کردے، لیکن چاہنے کے باوجود وہ دفن کرنے میں ناکام رہی تھی۔ یہ احساس اسے اندر ہی اندر کچوکے لگاتا رہتا تھا کہ وہ جیتے جی اپنے ماضی سے فرار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ اس کی نظریں ایک بار پھر خط کی تحریر پر مبذول ہوگئیں۔ ’’میرے کانوں میں پہلی بار جب میری ذات کی حقیقت کا زہر گھولا گیا تو مجھے اپنے آپ سے نفرت سی ہوگئی۔ مجھے شدید ذہنی صدمہ پہنچا۔ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر ایسی کون سی مجبوری تھی جس کی وجہ سے آپ نے مجھے دوسروں کے حوالے کیا۔ کیا میں آپ کی ناجائز اولاد تھی جس سے آپ جان چھڑانا چاہتی تھیں۔ سسٹر فیروزہ سے ملنے کے بعد مجھے تمام حقیقت کا پتا چل گیا اور یہ بات سمجھ میں آگئی کہ آپ نے اس وقت جو کچھ کیا، وہ کیوں اور کس لئے کیا تھا۔ اس وقت حالات ہی ایسے تھے کہ آپ یہ سب کرنے کے لئے مجبور تھیں۔ حقیقت جاننے کے بعد میرے دل میں آپ کے لئے نفرت کے بجائے ہمدردی نے جگہ لے لی۔‘‘
فرح کی ٹانگوں کی طاقت جواب دینے لگی۔ وہ فوراً ایک قریبی صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ تصویر کو تھامے ہوئے کپکپا رہے تھے۔ وہ دیر تک تصویر کو گھورتی رہی، پھر دوبارہ خط پڑھنے لگی۔ ’’میں نے سسٹر فیروزہ سے کہا کہ وہ مجھے آپ کا ایڈریس دے دے، مگر اسے آپ کے ایڈریس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ بقول اس کے آپ کا شادی کے شروع دنوں کے بعد ان سے رابطہ رہا تھا، بعد میں یہ سلسلہ ختم ہوگیا تھا۔ آپ شادی کے بعد لاہور چلی گئی تھیں۔ کلاس فیلو ہونے کے ناتے آپ نے سسٹر فیروزہ کو شادی پر انوائٹ کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر شرکت نہیں کی تھی۔ آپ نے لاہور جانے کے بعد شروع میں سسٹر فیروزہ سے خط و کتابت کی تھی اور اپنی ایک تصویر بھی بھیجی تھی، جس میں آپ کار کے پچھلے حصے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ اپنی اس تصویر کے بارے میں آپ نے خط میں بتایا تھا کہ آپ کے شوہر نے نئی کار خریدی ہے اور آپ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہیں۔ اس تصویر میں آپ جس کار پر بیٹھی ہوئی تھیں، اس کی نمبر پلیٹ کے ذریعے میں آپ کا پتا چلانے میں کامیاب ہوئی ہوں اور اب ہر قیمت پر میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ مجھے جس جوڑے نے گود لیا تھا، وہ یقیناً میرے مما، پاپا رہیں گے، اس کے باوجود میں آپ کو دیکھنا، آپ سے باتیں کرنا…!‘‘
فرح کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ اتنے میں اس کے کانوں میں احد کی آواز گونجی تو وہ اچھل پڑی۔ وہ خط پڑھنے میں اس حد تک منہمک تھی کہ اسے احد کی آمد کا احساس نہیں ہوسکا تھا۔
’’کیا خط میں کوئی بری خبر ہے جسے پڑھ کر تمہیں اتنا رونا آرہا ہے؟‘‘ فرح کو احساس ہوگیا کہ احد نے اس کی اندرونی کیفیت بھانپ لی ہے، پھر بھی وہ اپنے جذبات کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔
’’ایسی تو کوئی خبر نہیں… آپ اس طرح اچانک!‘‘ وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’میرا گھر ہے، لاک کی چابی میرے پاس ہوتی ہے۔ آج سے پہلے تو تم مجھے دیکھ کر اس طرح سے نہیں گھبرائیں؟‘‘
’’مجھے کچن میں کام ہے۔‘‘ فرح نظریں چراتی ہوئی جانے کے لئے مڑی تو احد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’بیٹھ جائو یہاں اور بتائو کیا بات ہے؟ تم کیا سمجھتی ہو اپنا ماضی مجھ سے چھپا لو گی۔ تم سے پہلے یہ خط میں پڑھ چکا ہوں۔‘‘
’’کیا…! آپ تمام حقیقت جان چکے ہیں؟‘‘ فرح نے ہونق زدہ لہجے میں کہا۔ وہ راز جو ایک مدت سے اس کے ضمیر پر بوجھ بنا ہوا تھا اور اس کے احساسات پر غالب آگیا اور وہ جذبات میں آکر رونے لگی۔ ’’احد! میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کس طرح آپ کو بتائوں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو مجھے بہت پہلے آپ کو بتا دینی چاہئے تھی۔‘‘ اتنا کہہ کر فرح کچھ دیر خاموش رہی پھر خود کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ بولنا شروع کیا۔ ’’احد…! بابر سے میری ملاقات اپنی سہیلی کے گھر پر ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہماری دوستی اتنی بڑھی کہ ہم دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے بابر سے کہا کہ وہ اپنے بڑوں کو رشتے کے لئے بھیجے مگر اس نے صاف منع کردیا کہ اس کے گھر والے مجھ سے اس کی شادی کے لئے کبھی راضی نہ ہوں گے۔ وجہ اس کی بچپن سے طے شدہ شادی تھی اور اسے اپنی تایازاد بہن سے شادی کرنا منظور نہیں تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میں یہ بات سن کر اس سے دور ہوجاتی، مگر میں اس کی محبت میں ایسی گرفتار تھی کہ میں نے بابر سے کورٹ میرج کا فیصلہ کرلیا۔‘‘ فرح سانس لینے کے لئے رکی۔ احد کی نظریں اسے مسلسل گھور رہی تھیں۔ وہ نظریں چراتے ہوئے دوبارہ کہنے لگی۔ ’’میں نے گھر سے بھاگ کر بابر سے شادی کرلی، مگر یہ شادی ایک ہفتے میں ختم ہوگئی۔ بابر کے تایا کو ہماری شادی کی خبر ہوگئی اور انہوں نے اس پر دبائو ڈالا کہ وہ مجھے فوراً طلاق دے۔ مجھے امید تھی کہ بابر کسی قسم کے دبائو میں نہیں آئے گا، لیکن اس وقت میرا مان ٹوٹ گیا، جب اس نے طلاق کے پیپر پر سائن کردیئے۔ اس وقت مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ میں نے جو جذباتی قدم اُٹھایا تھا، اس کا خمیازہ بہرحال بھگتنا تھا۔ میں کہاں جاتی، مجبوراً اپنے والدین کے گھر واپس لوٹ گئی۔ میرے ماں، باپ نے میرے گھر سے جانے کی خبر کو خفیہ رکھا تھا۔ محلے والوں کو یہ بتایا تھا کہ میں اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوں۔ گھر پہنچتے ہی میں نے امی، ابو سے معافی مانگی۔ اکلوتی اولاد ہونے کے ناتے انہوں نے مجھے قبول کرلیا، مگر میرے والدین اس وقت دوبارہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوگئے جب انہیں میرا پائوں بھاری ہونے کی خبر ملی۔
امی نے یہ خبر سنتے ہی فیصلہ سنا دیا کہ اس بچے کو دنیا میں نہیں آنا چاہئے۔ اس وقت امی کو یہ نہیں پتا تھا کہ قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہے۔ امی مجھے جس لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئیں، اس نے ابارشن کرنے سے صاف منع کردیا، ساتھ یہ بھی تنبیہ کردی کہ اگر اس طرح کی کوشش کی گئی تو دن زیادہ ہونے کی وجہ سے جان بھی جاسکتی ہے۔ مجبوراً میرے والدین اپنے ارادے سے باز آگئے مگر یہ بات طے تھی کہ بچے کو پیدا ہوتے ہی کہیں پھینک دیا جائے، مگر اس کی نوبت نہیں آئی۔ میری دوست فیروزہ جو ایک ہاسپٹل میں نرس تھی، اسی نے میرا کیس کیا اور بچی کو بے اولاد جوڑے کے حوالے کردیا۔ میں بھی مطمئن تھی کہ میری بچی صحیح لوگوں کے پاس ہے، جس کی انہیں قدر ہے۔ میں نے فیروزہ سے بعد میں ہر قسم کا رابطہ منقطع کرلیا، مگر مجھے کیا پتا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر میری بیٹی دوبارہ میری زندگی میں شامل ہوجائے گی۔‘‘
’’تم اتنی گہری عورت ہوگی، مجھے اندازہ نہیں تھا۔ اپنی زندگی کا اتنا اہم راز تم نے مجھ سے چھپایا۔ افسوس مجھے تمہارے والدین پر ہے، کس قدر دھوکے باز تھے وہ!‘‘ احد ایک


پھٹ پڑا۔
’’احد! پلیز میں نے کئی بار چاہا کہ آپ کو بتا دوں مگر…!‘‘
’’بکواس بند کرو۔ میرے سامنے کوئی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ احد نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’مجھے معاف کردیں۔‘‘ فرح نے التجا کی۔
’’معافی…! تم کیا سمجھتی ہو کہ جو کچھ تم نے کیا، وہ قابل معافی ہے۔ ہرگز نہیں۔‘‘ احد نے اسے پرے دھکیلا اور غصے سے باہر نکل گیا۔
٭…٭…٭
فرح صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ کل دن میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد اس نے احد سے کئی بار معافی مانگی تھی، مگر اس نے اسے بری طرح جھڑک دیا تھا۔
دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ وہ گہری سوچ میں گم تھی کہ اسے ماہ وش سے ملنا چاہئے یا نہیں! ذہن احد کے رویئے کی وجہ سے تذبذب کا شکار تھا کہ کہیں احد اسے طلاق نہ دے دے۔ ذہن میں طرح طرح کے خدشات اُبھر رہے تھے۔ سوچتے سوچتے اس کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ کل سے مستقل رونے کے باعث اس کی آنکھیں متورم ہورہی تھیں۔ وہ اُٹھی اور لائونج میں لگے واش بیسن میں منہ دھونے لگی۔ اتنے میں اسے اپنے شانے پر ہلکا سا دبائو محسوس ہوا۔
’’احد…! آپ نے مجھے معاف کردیا؟‘‘ اس نے مڑے بغیر کہا۔ وہ احد کی نگاہوں کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی۔ وہ نہ جانے ہاتھوں کا لمس تھا یا کوئی اور احساس کہ فرح نے گردن گھمائی۔ اس کی دھندلائی ہوئی آنکھوں نے ماہ وش کو دیکھا۔ ایک لمحے کے لئے وہ کچھ نہ سمجھ سکی۔ یکدم اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔
ماہ وش اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے بے اختیار اسے گلے سے لگا لیا۔ اس نے ایک نگاہ احد پر ڈالی۔ احد کے ہونٹوں پر پیار بھری مسکراہٹ رقصاں تھی۔
’’ماہ وش! مجھے معاف کردو بیٹا! بعض اوقات انسان حالات کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے۔ میں نے جذبات میں آکر جو قدم اُٹھایا، اس کی سزا تمہیں نہیں ملنی چاہئے تھی۔‘‘ فرح نے اسے چومتے ہوئے کہا۔ ’’اب تم ہمیشہ میرے پاس رہوگی۔ میں تمہیں خود سے دور نہیں کروں گی۔ ماہ وش! بولو تم رہو گی نہ میرے پاس؟‘‘
ماہ وش نے ایک نظر احد پر ڈالی۔ ’’آپ پاپا سے تو پوچھ لیں، انہیں میرے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض تو نہیں۔ ویسے ماما! آپ مجھے روشنی کہہ سکتی ہیں۔ میرے تمام جاننے والے مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں۔‘‘
’’مجھے اگر تمہارے رہنے پر کوئی اعتراض ہوتا تو میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر کیوں آتا۔ تم ماں، بیٹی آپس میں باتیں کرو، میں اپنے کمرے میں جاتا ہوں۔‘‘
دن کیسے گزرا، احد کو پتا ہی نہیں چلا۔ رات کو بستر پر لیٹا ہوا وہ دوبارہ اپنے ماضی سے جڑے واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ برسوں گزر جانے کے باوجود یہ واقعہ اس کے ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا۔ ایک خوف ہمیشہ اس کے ذہن پر مسلط رہتا تھا۔ ’’کیا اس خوف سے نجات کا کوئی ذریعہ ہے؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ ’’اعتراف جرم‘‘ دل کے کسی گوشے سے آواز ابھری۔ اسی وقت احد نے فیصلہ کرلیا کہ وہ صبح ہوتے ہی تھانے جاکر اپنا جرم قبول کرلے گا، اسی طرح اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوسکتا ہے۔ اس نے اپنی آنکھیں موند لیں اور خود کو آنے والے حالات کے لئے تیار کرلیا۔
(ختم شد)