Raaz | Last Episode 2

208
’’جی بالکل!‘‘ فیصل مسکرا کر بولا۔
زیبا، عنیزہ کے ساتھ ٹیبل کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ ’’سر! آپ نے گزشتہ ہفتے اشتہار دیا تھا کہ آپ کو ماڈل گرل کی ضرورت ہے، یہ میری دوست عنیزہ ہیں۔ یہ ماڈلنگ کے لئے آئی ہیں۔‘‘ زیبا نے آنے کا مقصد بیان کیا۔
’’سوری… زیبا! میں اس کمرشل کے لئے ماڈل فائنل کرچکا ہوں۔ فی الحال مجھے کسی ماڈل کی ضرورت نہیں پھر بھی میں ان کا اسکرین ٹیسٹ اور فوٹو شوٹ کروا لیتا ہوں۔ آئندہ کسی کمرشل کے لئے مجھے ان کی ضرورت ہوئی تو میں رابطہ کرلوں گا۔‘‘ فیصل نے کہا۔
عنیزہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد وہ فیصل کے کمرے سے نکل رہی تھیں کہ زیبا کی نظر مراحم پر پڑی۔ مراحم اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں اچھے عہدے پر فائز تھا، ساتھ ہی وہ رائٹر بھی تھا۔ زیبا نے اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوئے مراحم سے عنیزہ کا تعارف کرایا۔
’’آیئے میرے ساتھ!‘‘ مراحم یہ کہتے ہوئے اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا۔ زیبا، عنیزہ کو ساتھ لے کر مراحم کے روم میں داخل ہوئی۔
’’آپ اس فیلڈ میں کیوں آنا چاہتی ہیں؟‘‘ مراحم نے بیٹھنے کا اشارہ کرکے پوچھا۔
’’سر! اس فیلڈ میں آنا میری ضرورت اور شوق ہے۔ میرے بہت سے خواب ہیں جو میں اس فیلڈ کے ذریعے پورے کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کیسے خواب…؟‘‘ مراحم نے دلچسپی لیتے ہوئے سوال کیا۔
’’مالی آسودگی اور دنیا دیکھنے کا شوق! بچپن سے مجھے ٹریولنگ کا شوق ہے۔ غربت کی وجہ سے میں ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں جاسکی۔ میں محنت کرکے اپنی تقدیر بدلنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’سر! آپ کوشش کریں کہ اسے کوئی کمرشل یا ایکٹنگ کا چانس مل جائے۔‘‘
مراحم سوچ میں پڑگیا۔ پھر بولا۔ ’’زیبا! میرے ایک جاننے والے ٹیلی فلم بنا رہے ہیں۔ میں ان سے بات کرتا ہوں، ہوسکتا ہے ان کی فلم میں عنیزہ کے لئے کوئی رول نکل آئے۔‘‘
’’عنیزہ! تم اپنا موبائل نمبر انہیں دے دو۔‘‘ زیبا بولی۔
زیبا کے کہنے پر عنیزہ نے مراحم کو اپنا نمبر دے دیا ساتھ ہی مراحم کا نمبر اپنے موبائل میں سیو کرلیا۔
تھوڑی دیر بعد عنیزہ، زیبا کے گھر جارہی تھی۔ زیبا نے اس کے لٹکے چہرے کو دیکھا تو بولی۔ ’’عنیزہ ڈیئر! اس فیلڈ میں قدم جمانا اتنا آسان نہیں، جتنا تم سمجھ رہی ہو۔ اس معاملے میں، میں تمہاری جتنی مدد کرسکتی تھی، کررہی ہوں۔ آگے تمہاری قسمت!‘‘
’’زیبا! سب کچھ قسمت پر چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں۔ انسان اپنے عمل سے بھی قسمت بناتا ہے۔ تم بھی جب گھر سے نکلی تھیں تو اپنی واپسی کی تمام کشتیاں جلا کر آئی تھیں۔‘‘
’’ہاں! اسی لئے میں نے اپنی کامیابی کے لئے وہ سب کچھ کیا جو میں کرنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ تو میرا مقدر اچھا تھا کہ مجھے چانس مل گیا۔ علی شیر نے مجھے ایک کمرشل میں دیکھا اور میں اسے اتنی پسند آئی کہ اس نے مجھے پرپوز کردیا۔ میں اس کی تیسری بیوی ہوں، اس نے مجھے بڑی شان سے رکھا ہے۔‘‘ چند لمحے توقف کے بعد زیبا بولی۔ ’’تم بتائو تمہاری واپسی کا کب تک ارادہ ہے؟‘‘
زیبا کے اس سوال پر عنیزہ کو شدید جھٹکا لگا۔ ابھی اسے آئے ہوئے دو دن ہوئے تھے اور زیبا اس سے واپسی کا پوچھ رہی تھی۔ ’’زیبا! ابھی میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ سر مراحم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے کام دلانے میں مدد کریں گے۔ ہوسکتا ہے ایک دو روز میں وہ مجھ سے رابطہ کریں، ایسے میں میرا واپس آنا ممکن نہیں ہوگا۔ امی کا ارادہ بدل بھی سکتا ہے۔‘‘ عنیزہ نے ایک آس کے تحت کہا۔ ’’زیبا! بتائو میں کیا کروں کہ مجھے چانس مل جائے؟‘‘
’’میرا مشورہ مانو تو مراحم صاحب کی نظروں میں رہو۔ جب تک تم یہاں ہو، روز ان کے آفس کا چکر لگائو۔ ہوسکتا ہے کہ وہ تم پر مہربان ہوجائیں اور تمہیں کام دلوا دیں۔‘‘ زیبا نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’کیا خیال ہے کل ہم پھر ان سے ملاقات نہ کرلیں؟‘‘ عنیزہ نے کہا۔
’’ہاں! ضرور تم چلی جانا، مجھے کل ایک ضروری کام ہے، میں تمہیں ڈراپ کردوں گی۔‘‘
’’زیبا! میں اکیلے کیسے ان سے بات کروں گی۔ میری تو ہمت نہیں ہوگی۔‘‘ عنیزہ گڑبڑا گئی۔
’’اپنے اندر ہمت پیدا کرو۔ مجھے دیکھو اکیلے گھر سے نکلی تھی۔ خالہ کے گھر پناہ لیتے ہوئے سخت جدوجہد کی تھی۔ ماڈلنگ میں چودہ پندرہ سال کی لڑکیاں آتی ہیں اور بہت کانفیڈنٹ ہوتی
ہیں، تم تو بائیس سال کی ہو، اپنے اندر ہمت پیدا کرو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ہفتے دس دن یہاں رہ کر چانس حاصل کرنے کی کوشش کروں گی اور اس دوران مراحم صاحب سے رابطے میں رہوں گی۔ ہوسکتا ہے مجھے چانس مل جائے۔‘‘ عنیزہ بولی۔
’’ہاں… ضرور! لوگ تو سالوں چکر لگا کر کام حاصل نہیں کر پاتے۔ تم چاہو تو اس سے زیادہ دن بھی رک سکتی ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
’’تھینک یو! میں تمہاری احسان مند ہمیشہ رہوں گی۔‘‘ عنیزہ نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔ زیبا آہستہ سے مسکرا دی۔
٭…٭…٭
پانچ دن بعد عنیزہ، مراحم کے ساتھ ٹیلی فلم کے ڈائریکٹر اعظم کے پاس موجود تھی۔ ’’آپ نے پہلے ایکٹنگ کی ہے اور نہ ماڈلنگ! کیمرے کو فیس کرنا آپ کے لئے خاصا مشکل ہوگا۔‘‘ ڈائریکٹر اعظم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’سر! آپ مجھے چانس دیجئے۔ میں اداکاری کرسکتی ہوں، اسکول اور کالج کے دور میں، میں ایکٹنگ کرتی رہی ہوں۔‘‘ عنیزہ نے پرجوش لہجے میں کہا۔
اعظم گہرا سانس لیتے ہوئے بولا۔ ’’اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ یہ کام کرلیں گی تو میں آپ کو ایک موقع ضرور دوں گا۔ کیا تعلیم ہے آپ کی…؟‘‘
’’بی کام…! میری انگریزی بہت اچھی ہے۔ گھریلو مجبوریوں کے باوجود میں نے بڑی مشکل سے تعلیم جاری رکھی ہے۔ ابو کی وفات کے بعد سے ہمارے مالی حالات بہت خراب رہے ہیں۔‘‘
’’اچھا! ٹھیک ہے۔‘‘ اعظم ہاتھ بلند کرتے ہوئے بولا۔ ’’میں سمجھ گیا کہ آپ کے کیا حالات ہیں۔ آپ کا آڈیشن لے لیتے ہیں، اگر آپ کامیاب ہوگئیں تو پیر سے شوٹنگ پر آجایئے گا۔‘‘
عنیزہ کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ کچھ دیر بعد اس کا آڈیشن ہوا جس میں وہ کامیاب ہوگئی۔ ڈائریکٹر اعظم کے آفس سے رخصت ہوتے ہوئے خوشی اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ ساتھ ہی وہ مراحم کی ممنون تھی جس کی بدولت اسے یہ چانس ملا تھا۔ عنیزہ جلد ازجلد گھر پہنچ کر امی اور زیبا کو یہ خوشخبری سنانا چاہتی تھی۔
’’کیا خیال ہے کسی اچھے ریسٹورنٹ میں جاکر چائے پی جائے؟‘‘ مراحم نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا تو عنیزہ انکار نہ کرسکی۔ تھوڑی دیر بعد وہ مراحم کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ مراحم نے عنیزہ کو اپنے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
’’اچھا آپ شادی شدہ ہیں! آپ کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ آپ شادی شدہ ہوں گے۔ آپ اپنی وائف کے پاس ہالینڈ کیوں نہیں چلے جاتے؟‘‘ عنیزہ نے مراحم کی گفتگو سننے کے بعد کہا۔
’’میں یہاں اچھا خاصا سیٹ ہوں۔ باہر سیٹل ہونا میری خواہش کبھی نہیں رہی۔ میں نے اپنی بیوی کو ہر طریقے سے سمجھا کر دیکھ لیا، مگر وہ انتہائی ضدی اور خودسر ہے۔ وہ اپنے والدین کے پاس ہالینڈ چلی گئی ہے اور مجھ پر دبائو ڈال رہی ہے کہ میں بھی اس کے پاس آجائوں۔ اس کی حرکتوں کی وجہ سے میں تو ڈسٹرب ہوں ہی، میری والدہ بھی بہت پریشان ہیں۔‘‘ مراحم کی بات سن کر عنیزہ اسے تسلی دینے لگی۔ بظاہر وہ مراحم کی گفتگو بڑے دھیان سے سن رہی تھی، مگر اندر سے بیزار ہورہی تھی۔ ایک گھنٹے بعد مراحم نے عنیزہ کو زیبا کے گھر پر ڈراپ کردیا۔
صبا بانو کو عنیزہ نے گھر میں داخل ہوتے ہی چانس ملنے کی خوشخبری سنائی۔ صبا بانو خوش ہونے کے باوجود اداس ہوگئیں۔
’’آنٹی…! آپ کو خوشی نہیں ہوئی،آپ کی بیٹی کو اتنا بڑا چانس مل گیا؟‘‘ زیبا نے ان کے چہرے کو بغور پڑھنے کے بعد کہا۔
’’خوشی تو ہے کہ ہمارے حالات بہتر ہوجائیں گے، رمیعہ اور اس کے بچوں کی عنیزہ کی بدولت کفالت ہوجائے گی، مگر ساتھ ہی یہ بات سوچ کر دل اداس ہورہا ہے اس فیلڈ سے وابستہ لڑکیوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔‘‘
’’امی! آپ نے پھر وہی باتیں شروع کردیں۔ زمانہ بدل گیا ہے، میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گی جس پر آپ کو پشیمانی ہو۔ زیبا بتا چکی ہے کہ مجھے کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بس آپ فکر نہ کریں، میری خوشی کو سیلیبریٹ کریں۔‘‘
عنیزہ کی بات سن کر صبا بانو نے زبردستی اپنے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا لی۔
٭…٭…٭
پیر کے دن عنیزہ کو دوپہر کے تین بجے اعظم کے پاس پہنچنا تھا۔ وہ تین بجے سے پہلے ہی شوٹنگ پر پہنچ گئی۔ اعظم نے مسکرا کر ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’ویری گڈ! آپ وقت کی پابند ہیں۔ میں خود بھی وقت کا پابند ہوں اور ان لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو میری طرح وقت
پابندی کریں۔‘‘
’’آپ کو میری طرف سے اس بارے میں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘ عنیزہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’اس وقت بھی جب آپ ایک نامور اسٹار بن جائیں گی۔‘‘
’’بالکل! آپ دیکھ لیجئے گا۔‘‘ عنیزہ نے پراعتماد لہجے میں کہا۔
’’ٹھیک ہے، وقت آنے پر دیکھ لیں گے۔‘‘ اعظم نے مسکرا کر کہا اور اپنے ساتھیوں کو ہدایت دینے لگا۔
٭…٭…٭
بیس دن گزر گئے۔ عنیزہ اپنے کام میں مصروف تھی۔ اس دوران وہ مراحم سے مسلسل رابطے میں رہی تھی۔ مراحم نے اسے مزید کام دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ اس وقت مراحم کے آفس میں بیٹھی ہوئی تھی۔ مراحم سے ملنے کے بعد اسے شوٹنگ پر جانا تھا۔
’’کیا بات ہے عنیزہ، تم کچھ پریشان دکھائی دے رہی ہو؟‘‘ مراحم نے اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ عنیزہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
’’میں محسوس کررہا ہوں تم کچھ الجھی الجھی سی ہو۔‘‘ عنیزہ تذبذب کا شکار ہوگئی کہ مراحم کو بات بتائے یا نہ بتائے۔
’’ہاں…! بولو کیا بات ہے؟‘‘
’’سر مراحم! کچھ پیسوں کا مسئلہ ہے۔ میری بہن پیسوں کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ امی کو میں نے یہ بتایا نہیں ہے کہ سراعظم سے میرا جو معاہدہ ہوا ہے، اس کے تحت مجھے کام کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔ وہ یہ سمجھ رہی ہیں کہ میں ان کی ٹیلی فلم میں پیسوں کے عوض کام کررہی ہوں۔ اب انہیں کیا پتا مفت میں کام کرنے کے لئے ڈائریکٹروں کے پاس اداکاروں کی ایک طویل قطار ہوتی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ زیبا سے کچھ ادھار مانگ لوں گی، مگر میری ہمت نہیں پڑی۔ اس کے مجھ پر پہلے ہی بہت احسانات ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ یہ بتائو کتنی رقم چاہئے؟‘‘ مراحم نے دریافت کیا۔
’’تین ہزار روپے!‘‘
‘‘ٹھیک ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں، مل جائیں گے بلکہ آئندہ بھی ضرورت ہو تو لے لینا۔‘‘
’’سر! بہت شکریہ… جیسے ہی مجھے رقم ملی، میں آپ کے پیسے لوٹا دوں گی۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں۔ تم میری دوست ہو، دوست ہونے کے ناتے تمہاری مدد کرنا میرا فرض ہے۔‘‘ مراحم نے قدرے جذباتی انداز میں کہا۔
’’مگر سر…!‘‘
مراحم نے عنیزہ کی بات کاٹ دی۔ ’’آگے میں کچھ نہیں سنوں گا اور ہاں! مجھے سر کہنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے صرف مراحم کہہ کر مخاطب کرسکتی ہو۔‘‘ مراحم نے عنیزہ کا ہاتھ گرمجوشی سے دباتے ہوئے کہا۔
عنیزہ کو یوں لگا جیسے اس کے سر سے بھاری بوجھ ہٹ گیا ہے۔ اس دن کے بعد سے عنیزہ اور مراحم کے درمیان بے تکلفی بڑھتی گئی۔ عنیزہ نے اگلے مہینے مراحم سے پھر رقم مانگی جو اس نے بخوشی دے دی، ساتھ ہی اس نے عنیزہ کو ڈھیر ساری شاپنگ کروائی۔ مراحم نے چند مہینوں میں اندازہ لگا لیا تھا کہ عنیزہ اتنی معصوم نہیں، جتنی وہ سمجھ رہا تھا۔
عنیزہ کو کمرشل میں چانس مل گیا تھا۔ اس کا پہلا کمرشل ہٹ ہوگیا تھا جس کے بعد اسے مزید آفرز مل گئی تھیں۔ عنیزہ کی مصروفیت دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی۔ اس نے زیبا کا گھر چھوڑ کر فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھنے کی جستجو میں تھی۔
مراحم سے اس کی دوستی کو دو سال کا عرصہ بیت گیا تھا۔ یہ دوستی عنیزہ کی مصروفیت کے باوجود برقرار تھی۔ ہفتے کا دن تھا عنیزہ، مراحم کے ساتھ ہوٹل کے ایک گوشے میں ڈنر کرنے میں مصروف تھی۔ ڈنر کے دوران مراحم نے عنیزہ سے کہا۔ ’’عنیزہ! میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’آپ کو کچھ کہنے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں۔‘‘ عنیزہ نے مسکرا کر کہا۔
’’عنیزہ! میری امی چاہ رہی ہیں کہ میں دوسری شادی کرلوں۔‘‘
’’تو اس میں برائی کیا ہے۔ آپ کی بیوی اپنے والدین کے پاس جا چکی ہے اور واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتی، ان حالات میں دوسری شادی کرنا آپ کا حق ہے۔‘‘ عنیزہ نے مشورہ دیا۔
’’میری ممی جس لڑکی سے میری شادی کرنا چاہتی ہیں، وہ مجھے پسند نہیں۔ مجھے تم پسند ہو، میں تم سے شادی کا خواہشمند ہوں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری ممی اس رشتے پر راضی نہیں ہوں گی۔ میں انہیں کسی طریقے سے منا لوں گا، تم ہامی بھرو۔‘‘
’’آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔‘‘ عنیزہ غیر یقینی لہجے میں بولی۔
’’حقیقت یہی ہے کہ میرے پاس خدا کا دیا ہوا سب کچھ ہے، کسی چیز کی کمی نہیں۔ میں چاہوں تو کسی بھی لڑکی سے شادی کرسکتا ہوں مگر میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر تم سے محبت کا اعتراف کررہا ہوں۔‘‘
مراحم نے سنجیدہ لہجے میں اپنی بات مکمل کی۔
عنیزہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ مجھ سے شادی کے خواہشمند ہیں۔ آپ بہت اچھے انسان ہیں اس کے باوجود میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی۔‘‘
’’مگر کیوں…؟‘‘ مراحم نے بے چین ہوکر پوچھا۔
’’دراصل میں اس وقت اپنے گھریلو مسائل میں اتنی الجھی ہوئی ہوں کہ شادی کے بارے میں نہیں سوچ سکتی۔‘‘
’’کیا مسئلہ ہے؟ میں تمہارے گھر والوں کی مدد کیلئے ہر ماہ معقول رقم دے سکتا ہوں۔‘‘
’’مگر مجھے یہ منظور نہیں۔ میں اپنے بل بوتے پر اپنے گھر والوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ ابھی میرے خواب پورے ہونا شروع ہوئے ہیں، میں آپ سے شادی کرکے اپنا کیریئر دائو پر نہیں لگا سکتی۔ ماڈلنگ میں شادی شدہ لڑکیاں آگے نہیں بڑھ سکتیں، یہ بات آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ بہتر ہوگا آئندہ گفتگو کے دوران یہ موضوع زیربحث نہ آئے۔‘‘
عنیزہ کی بات سن کر مراحم کچھ سوچنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’میں نے تم سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن تم نے بغیر سوچے منع کردیا۔ میری آفر پر غور تو کرو، شادی تو ایک نہ ایک دن کرنی ہے پھر مجھ سے کیوں نہیں! میرے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ تمہیں میرے جذبات کی قدر کرنا چاہئے کہ میں دوسرے لوگوں سے مختلف ہوں۔ تمہارے ساتھ وقت گزاری کے بجائے تمہیں شادی کی پیشکش کررہا ہوں۔‘‘
’’آپ خواہ مخواہ جذباتی ہورہے ہیں۔ میں اپنی زندگی کا ہر فیصلہ کرنے میں خودمختار ہوں۔ مجھے ابھی شادی کرنی ہے اور نہ آپ سے کرنی ہے۔‘‘ عنیزہ نے سخت لہجے میں کہا۔
’’سوچ لو۔ میرے جذبات کی ناقدری تمہیں مہنگی بھی پڑسکتی ہے۔‘‘
’’اوہ! تو آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں۔ اپنی دھمکی پر عمل کرکے دیکھ لیجئے۔ میں چلتی ہوں۔‘‘ عنیزہ پرس اٹھاتے ہوئے بولی اور ایک لمحہ ضائع کئے بغیر نکل گئی۔
مراحم اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس کے جانے کے بعد مراحم بھی اٹھ گیا۔ اس کا دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ عنیزہ نے واقعی شادی سے انکار کردیا ہے۔ وہ عنیزہ سے دو تین ملاقاتوں کے بعد اس پر فدا ہوگیا تھا۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر مراحم نے عنیزہ کو شادی کی آفر کی تھی جو اس نے مسترد کردی تھی، حالانکہ مراحم ایک شادی کی ناکامی کے بعد یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اس کی عنیزہ سے شادی ہوبھی گئی تو کامیاب ہونے کا امکان کم ہے، اس کے باوجود وہ عنیزہ کو اپنانا چاہتا تھا۔
اگلے دن عنیزہ نے مراحم کو فون نہیں کیا۔ مراحم سارا دن اس کے فون کا انتظار کرتا رہا۔ تین روز بعد مراحم نے اسے فون کیا۔ عنیزہ نے مختصر بات کرکے مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ دیر بات نہیں کرسکتی، وہ کام میں مصروف ہے۔ وہ اسے بعد میں فون کرلے۔
مراحم کو عنیزہ کے رویئے پر سخت افسوس ہورہا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس سے اپنا تعلق قطع کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ وہ اسی روز عنیزہ سے ملنے اسٹوڈیو پہنچ گیا۔ عنیزہ نے مراحم کو آتے دیکھا تو اس کے پاس آکر بولی۔ ’’آپ کو کوئی کام تھا جو مجھ سے ملنے یہاں چلے آئے؟‘‘
’’کیوں کیا بغیر کام کے میں تم سے ملاقات نہیں کرسکتا؟‘‘ مراحم نے سخت لہجے میں کہا۔
’’ہاں! کیوں نہیں کرسکتے مگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں ڈائیلاگ یاد کررہی ہوں، فرصت بالکل نہیں ہے۔‘‘
’’تم چاہو تو میرے لئے کچھ وقت نکال سکتی ہو۔ مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میں کل صبح آپ کے آفس آجاتی ہوں۔‘‘ عنیزہ یہ کہتے ہوئے فوراً جانے کے لئے مڑگئی۔
مراحم کو امید نہیں تھی کہ عنیزہ اس سے رابطہ کرے گی، مگر مراحم کی توقع کے برعکس عنیزہ اگلے دن اس سے ملنے پہنچ گئی۔
’’چلو عنیزہ! کہیں باہر چل کر بات کرتے ہیں۔‘‘ مراحم اسے دیکھتے ہی اٹھتے ہوئے بولا۔
’’آپ کو جو بات کرنا ہے، یہیں کرلیں۔ مجھے ارمان صاحب سے ملنے جانا ہے، وہ اپنے اگلے ڈرامے میں مجھے کاسٹ کررہے ہیں۔‘‘ عنیزہ نے بتایا۔
’’ٹھیک ہے ارمان صاحب سے بھی مل لینا۔ میں تمہارے ساتھ تنہا کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔ اتنا تو میرا حق بنتا ہے آخر اس فیلڈ میں، میں نے تمہیں چانس دلوایا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، چلیں۔‘‘ عنیزہ نے بے دلی سے کہا۔ جیسے اب انکار کی گنجائش نہ ہو۔
مراحم، عنیزہ کو ساتھ لے کر سی ویو پہنچ گیا۔ کار سے اترتے ہی عنیزہ بولی۔ ’’آپ مجھے اتنی دور لے آئے ہیں۔ خیر کوئی


نہیں، مجھے سمندر بہت پسند ہے۔‘‘
’’تمہیں پسند ہے، تب ہی میں تمہیں یہاں لایا ہوں۔‘‘
عنیزہ نے مزید کوئی بات نہیں کی۔ وہ خاموشی سے سمندر کی لہروں کو کنارے سے ٹکراتے ہوئے دیکھتی رہی۔
کافی دیر بعد مراحم نے خاموشی کو توڑتے ہوئے پوچھا۔ ’’عنیزہ! کیا سوچ رہی ہو؟‘‘
’’یہی کہ میں نے شوبز میں آکر درست فیصلہ کیا یا نہیں!‘‘
’’تم اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں ہو؟‘‘
’’پتا نہیں مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے بظاہر روشنی میں ڈوبی یہ دنیا تاریک ہے۔ یہاں جھوٹ اور دکھاوے کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘
’’اس لئے تو کہہ رہا ہوں مجھ سے شادی کرلو۔ مجھے پتا ہے کہ تم آج کل اونچی اڑان اڑ رہی ہو۔ جن لوگوں کے ساتھ تم ہوٹلوں میں گھومتی نظر آتی ہو، وہ بھونرا صفت ہیں، ہر تازہ پھول کے گرد منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ تم جیسی کئی لڑکیاں ان کی زندگی میں آئیں اور چلی گئیں۔‘‘ مراحم کے لہجے میں تلخی در آئی تھی۔
’’مراحم! جب آپ نے مجھے متعارف کروایا تھا تب یہ حقیقت نہیں بتائی تھی۔ اب جبکہ میں ایسے مقام پر پہنچ گئی ہوں جہاں سے واپسی ممکن نہیں، آپ مجھے واپسی پر اکسا رہے ہیں۔ خیر یہ بات آپ بھی مانیں گے کہ شہرت کا جو نشہ ہے، اس کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔ میں شہرت اور دولت سمیٹ رہی ہوں۔ میں دلبرداشتہ ہوکر یہ فیلڈ چھوڑنے والی نہیں۔ ابھی کون سا میرے زوال کا وقت آیا ہے۔ آپ جیسے کئی شادی شدہ مرد مجھ سے شادی کے خواہشمند ہیں لیکن میں راضی نہیں۔ میں شادی کرلوں گی، آپ میری محبت دل سے نکال دیں۔ میرے جیسی کئی لڑکیاں ہوں گی جو آپ کی زندگی میں آئی اور چلی گئیں۔ آپ نے مجھے شوبز میں چانس دلایا، اس کا احسان میں چکا چکی ہوں، اپنا قیمتی وقت آپ کے ساتھ گزار کر!‘‘ عنیزہ نے بے رخی سے کہا۔
’’عنیزہ! مگر تم…!‘‘ عنیزہ نے مراحم کی بات کاٹ کر کہا۔
’’مجھے دیر ہورہی ہے، واپس چلتے ہیں۔‘‘ وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔
مجبوراً مراحم نے چپ سادھ لی۔ عنیزہ کو اس کی مطلوبہ جگہ پر ڈراپ کرتے ہوئے سارے راستے مراحم سوچتا رہا کہ اس نے عنیزہ کو شادی کی آفر کیوں کی۔ اسے عنیزہ کا انکار اپنی بے عزتی محسوس ہورہا تھا۔ وہ اس وقت جس کیفیت میں مبتلا تھا، اس کیفیت کو دیکھتے ہوئے اس نے عنیزہ کا سکون غارت کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
٭…٭…٭
مزید ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ عنیزہ ایک دن سو کر اٹھی تو صبا بانو نے اسے بتایا کہ اس کی خالہ زاد بہن ہادیہ کی شادی ہورہی ہے۔ فرسٹ کزن ہونے کے ناتے اسے ہادیہ کی شادی میں ضرور شرکت کرنی چاہئے۔
’’مما! آپ مجھے معاف رکھیں۔ مجھے اپنے خاندان کی تقریبات میں شرکت کا کوئی شوق نہیں۔ ہمارے خاندان کے لوگ بہت بیک ورڈ ہیں۔ مجھے دیکھ کر طرح طرح کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان کی فضول باتیں سننے کی مجھ میں سکت نہیں۔‘‘ عنیزہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے سیل فون کو آن کیا جو رات سے بند پڑا ہوا تھا۔ فون آن ہوتے ہی اس نے میسجز پر نظر ڈالی۔ ’’اوہ گاڈ…!‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ’’چلو اچھا ہی ہوا، مجھے عاجز کرکے رکھا تھا۔ قدرت نے خود اس سے میرا پیچھا چھڑا دیا۔‘‘ عنیزہ بڑبڑائی۔
’’کیا ہوا عنیزہ! خیریت تو ہے؟‘‘ صبا بانو نے پوچھا۔
’’مما…! آپ مراحم کو تو جانتی ہوں گی جنہوں نے مجھے شوبز میں متعارف کروایا تھا؟‘‘
’’ہاں! ایک بار تم نے مجھے ان سے ملوایا تھا۔‘‘
’’کل رات ان کا انتقال ہوگیا۔‘‘ عنیزہ نے اطمینان سے کہا۔
’’مجھے بڑا افسوس ہوا۔ جوان آدمی تھا۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔‘‘ صبا بانو نے افسردہ لہجے میں کہا۔
’’آپ بتول سے کہیں میرے لئے جوس لے کر آئے، دیر ہورہی ہے، مجھے پارلر جانا ہے۔‘‘ عنیزہ نے یہ کہہ کر موبائل کی اسکرین پر نظریں جما دیں۔
٭…٭…٭
مراحم کی حادثاتی موت کی خبر ملتے ہی قمر جہاں ہالینڈ سے پاکستان آگئی تھیں۔ ان کا ہالینڈ میں اپنے بھائی کے پاس جانے کا مقصد ناراض بہو کو منانا تھا۔ مراحم کی موت نے قمر جہاں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے پاکستان آنے کے کچھ دنوں بعد فیصلہ کرلیا کہ وہ اب یہاں نہیں رہیں گی۔ اپنا گھر مع سازوسامان بیچ کر اپنی بیٹی کے پاس چلی جائیں گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے اسٹیٹ ایجنٹ سے بات کرلی تھی کہ وہ جلد ازجلد ان کے مکان کا سودا کروا دے۔
قمر جہاں کو گھر واپس آئے ہوئے آٹھ دن ہوئے تھے کہ رات کو ان کے گھر چوری کی واردات
قمر جہاں نے اپنے علاقے کی پولیس کو طلب کرلیا، ساتھ ہی انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کے دوست ایس۔پی حماد حسین کو اپنے گھر ہونے والی واردات کی بھی اطلاع دی۔ حماد حسین فوراً قمر جہاں کے گھر پر پہنچ گئے۔ کمرے میں پولیس اہلکار کھڑکیوں کے معائنے میں مصروف تھے۔ حماد حسین سے پولیس کے اہلکار بہت گرمجوشی سے ملے، پولیس انسپکٹر، حماد حسین کو بتا رہا تھا۔ ’’سر! مجھے یہ ایک عام چوری کا کیس لگتا ہے۔ گھر میں صرف دو خواتین موجود تھیں، چوروں کے لئے ان خواتین کو قابو کرنا بے حد آسان تھا۔ انہوں نے میڈم قمر اور ان کی ملازمہ کلثوم کو کلوروفارم سنگھا کر واردات کی۔‘‘
انسپکٹر جواد کی بات مکمل ہوتے ہی قمر جہاں ملازمہ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں۔
حماد حسین ان سے مخاطب ہوئے۔ ’’بھابی! بتائیں آپ ٹھیک تو ہیں نا؟‘‘
قمر جہاں بیماروں کے سے انداز میں اپنی ملازمہ کا سہارا لئے کھڑی تھیں۔ حماد حسین کے سوال کے جواب میں وہ آہستگی سے بولیں۔ ’’حماد بھائی! میری طبیعت سخت خراب ہے۔ آپ کی مہربانی جو آپ میری کال پر فوراً چلے آئے۔‘‘
’’بھابی! آپ مہربانی والی بات کہہ کر مجھے شرمندہ کررہی ہیں۔ آپ یہاں بیٹھ جائیں۔ آپ مجھے سخت علیل نظر آرہی ہیں۔‘‘ پھر ایس۔پی حماد، انسپکٹر جواد سے مخاطب ہوئے۔ ’’آپ مجھے اس واردات کی تفصیلات بتائیں۔‘‘ انسپکٹر جواد نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی موٹی سی نوٹ بک حماد حسین کی طرف بڑھا دی۔ حماد حسین نے نوٹ بک پڑھنے کے بعد انسپکٹر جواد کو دے دی، پھر وہ ہمدردانہ نظروں سے قمر جہاں کو دیکھنے لگے۔
انہیں اپنی طرف متوجہ پا کر قمر جہاں بولیں۔ ’’حماد بھائی! کل رات میں دو بجے کے بعد سوئی تھی۔ جب سے مراحم کی وفات ہوئی ہے، مجھے نیند بہت کم آتی ہے، معمولی سے کھٹکے سے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میری ملازمہ کلثوم دن، رات میرے ساتھ رہتی ہے۔ وہ دو نقاب پوش تھے جو رات کے آخری پہر میرے گھر میں داخل ہوئے۔ ان کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے میں اٹھ بیٹھی۔ اس سے پہلے کہ میں شور مچاتی، انہوں نے میرے منہ پر کلوروفارم کا کپڑا رکھ دیا۔ جب میں ہوش میں آئی تو ایک آدمی میرے بستر کے قریب کھڑا تھا اور دوسرا سامنے کے کمرے میں میرے بیٹے کے سامان سے کاغذوں کا بنڈل نکال رہا تھا۔ میرے بیٹے کی ٹیبل اور اس کی درازوں میں رکھا سارا سامان فرش پر بکھیر دیا تھا۔ بنڈل اٹھاتے ہی سامنے کمرے میں موجود آدمی میرے پاس چلا آیا۔ اس سے قبل کہ وہ مجھے دوبارہ بے ہوش کرتے، میں اپنے سامنے موجود آدمی پر جھپٹ پڑی۔ میرے پاس کھڑے آدمی نے فوراً اپنے ساتھی کی مدد کرتے ہوئے میرے منہ پر رومال رکھ دیا۔ وہ دونوں جاتے ہوئے ہمیں باندھ گئے۔ یہ بات میں اب تک نہیں سمجھ سکی کہ چور وہ کاغذات کیوں لے گئے۔ جہاں تک میں جانتی ہوں، ان کاغذات کے علاوہ چور میرے بیٹے کے سامان سے کوئی اور چیز نہیں لے کر گئے۔ ویسے بھی میرے بیٹے کے سامان میں کوئی ایسی چیز تھی بھی نہیں جسے وہ چرا کر لے جاتے۔ میں اور کلثوم جانے کب تک بندھے رہتے، بھلا ہو کلثوم کی بیٹی کا وہ صبح سویرے اپنی ماں سے ملنے چلی آئی۔ گیٹ بجانے پر گیٹ نہ کھلا تو وہ پڑوس کے لوگوں کو بلا لائی۔ انہوں نے گیٹ کا لاک کھولا اور مجھے اور میری ملازمہ کو رسیوں سے آزاد کیا۔‘‘
’’بھابی! جہاں تک میں سمجھا ہوں، چور آپ کے گھر میں رقم اور زیورات چرانے نہیں آئے تھے۔ ان کی یہاں آمد کا مقصد کاغذات کا بنڈل چرانا تھا۔ آپ بتا سکیں گی کہ وہ کس قسم کے کاغذات تھے؟‘‘ حماد نے سوچتے ہوئے سوال کیا۔
قمر جہاں نقاہت زدہ آواز میں بولیں۔ ’’مجھے تو وہ کسی ناول کا مسودہ لگ رہا تھا۔ آپ جانتے ہی ہیں مراحم ایک اچھا رائٹر تھا۔ میرے ہالینڈ جانے سے پہلے اس نے بتایا تھا کہ وہ ایک ناول مکمل کرنے والا ہے جو بہت جلد کتابی شکل میں شائع ہوگا۔‘‘
’’بڑے اچنبھے کی بات ہے کہ چور ناول کا مسودہ چرانے آئے۔ انسپکٹر جواد! آپ نے سامان کو اچھی طرح دیکھا ہے، اس میں آپ کو کوئی تحریر تو نہیں ملی؟‘‘
’’مجھے کوئی ڈائری وغیرہ نہیں ملی بس یہ ایک پھٹا ہوا کاغذ ملا ہے جو میڈم قمر کی کشمکش سے پھٹ گیا ہے۔ انہوں نے چور پر حملہ کیا تو چور کے ہاتھ میں موجود کاغذات میں سے ایک کاغذ ان کے ہاتھ میں آگیا تھا۔‘‘
’’بھابی! آپ نے بڑا خطرہ مول لیا وہ تو شکر ہے
کی جان بچ گئی۔ آپ کو اس آدمی پر جھپٹنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ حماد حسین بولے۔
’’بس! میری سمجھ میں جو آیا، وہ میں نے کیا۔‘‘ قمر جہاں بولیں۔
’’جواد! مجھے پرچہ دکھائیں۔‘‘ حماد حسین انسپکٹر سے مخاطب ہوئے۔ اس نے اپنی نوٹ بک سے تہہ کیا ہوا فل اسکیپ کاغذ نکالا اور حماد حسین کے ہاتھ میں دے دیا۔
حماد حسین نے کاغذ لے کر اس پر نظر ڈالی۔ ’’آپ نے اس کاغذ سے کیا اندازہ لگایا ہے جواد…؟‘‘
’’جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، یہ کسی عجیب وغریب ناول کا اختتام معلوم ہوتا ہے۔‘‘
’’ہوسکتا ہے کہ یہ اس عجیب و غریب واردات کو انجام تک پہنچانے میں ہمارے لئے کارآمد ثابت ہو۔‘‘ حماد حسین بولے۔ ’’بڑے اچنبھے کی بات ہے کہ چور نقب لگا کر گھر میں فقط ایسے کاغذات کا پلندا چرانے آئے جس کی اہمیت سے گھر کی مالکن خود آگاہ نہیں۔‘‘
’’آخر انہیں میرے بیٹے کے سامان کی تلاش کیوں تھی؟‘‘
’’یہی سوچنے کی بات ہے بھابی کہ چور نقب لگا کر گھر میں محض کاغذات کا پلندہ لینے کیوں آئے۔ میں اس کاغذ پر لکھی تحریر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں شاید میں اس تحریر سے کوئی اندازہ لگائوں۔‘‘ حماد حسین یہ کہتے ہوئے کھڑکی کے نزدیک جاکر تحریر پڑھنے لگے جو ایک ادھورے فقرے سے شروع ہوئی تھی۔ ’’چہرے پر مکوں کی مار سے کافی خون نکل رہا تھا لیکن اس خون کا مقابلہ ہرگز میرے ارمانوں کے خون سے نہیں کیا جاسکتا جو اس حسین چہرے کو دیکھ کر ہوا۔ وہ چہرہ جس کے لئے میں نے اپنی زندگی تک قربان کرنے کا تہیہ کرلیا تھا، وہ چہرہ جو میری اذیت اور کرب دیکھ کر بجائے افسردہ ہونے کے مسکرا رہا تھا۔ کسی تنگ دل اور سفاک قاتلہ کی طرح…! اس لمحے مجھے اس سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ میری محبت مر گئی۔ میرے دل میں اس کی محبت کی جگہ نفرت نے جنم لیا۔ میں نے فیصلہ کرلیا میں مروں گا نہیں، اس سفاک عورت سے انتقام لینے کے لئے زندہ رہوں گا۔‘‘
’’عجیب تحریر ہے۔‘‘ حماد حسین نے انسپکٹر جواد کو وہ کاغذ دیتے ہوئے کہا۔
’’مجھے تو یہ آپ بیتی لگ رہی ہے۔‘‘ انسپکٹر جواد بولے اور کاغذ کو اپنی نوٹ بک میں رکھ لیا۔
حماد حسین، قمر جہاں کو تسلی دے کر پولیس اسٹیشن روانہ ہوگئے۔ شام میں وہ دوبارہ انسپکٹر جواد کے ساتھ قمر جہاں کے گھر پر موجود تھے۔ ’’بھابی! آپ مجھے مراحم کے روزوشب کے بارے میں بتانا پسند کریں گی؟‘‘ حماد حسین رسمی گفتگو کے بعد بولے۔
قمر جہاں کی آنکھوں میں مراحم کے ذکر پر نمی تیر گئی۔ ’’حماد بھائی! آپ مراحم سے ملتے رہے ہیں، آپ کو وہ کیسا لگتا تھا؟‘‘
’’مراحم بہت باکمال انسان تھا۔ وہ بہت آگے جاتا مگر موت نے اسے ہم سے چھین لیا۔ مجھے اس کی جواں موت کا سخت دکھ ہے۔ ایسے زندہ دل آدمی کے ساتھ موت کا خیال وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ زندگی گزارنے کے فن سے آگاہ تھا۔‘‘ حماد حسین نے کہا۔
’’حماد بھائی! مجھے اب بھی یقین نہیں آتا کہ مراحم دنیا میں نہیں رہا۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ کیسا انسان تھا۔ خوش طبع اور شان و شوکت کا دل دادہ مگر ایک سال سے اس کی فطرت بدل گئی تھی۔ وہ زودرنج اور جذباتی ہوگیا تھا۔ وہ ایک ماڈل کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا۔ جس جگہ وہ جاب کرتا تھا، وہاں زیادہ تر ایسی ہی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ مطلبی اور اپنا کام نکلوانے کی ماہر! یہ باتیں جانتے ہوئے بھی مراحم اس دھوکے باز لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوگیا، اس کی محبت میں دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘
’’محبت ہے ہی ایسی چیز دیوانہ کردینے والی، بھابی! آپ مجھے اس لڑکی کے بارے میں بتائیں؟‘‘ قمر جہاں کی بات مکمل ہوتے ہی حماد حسین بولے۔
’’عنیزہ! معروف ماڈل اور اداکارہ بہت تیزی سے یہ لڑکی شہرت کی بلندیوں پر پہنچی ہے۔ مراحم نے اسے شوبز میں متعارف کروایا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر اس نے صاف انکار کردیا۔ مراحم اس کے انکار سے خاصا دل برداشتہ ہوا تھا۔‘‘
’’انسپکٹر جواد! اب ہمیں چلنا چاہئے۔ ہم اس کیس کی آخری منزل پر آ پہنچے ہیں۔ بھابی! اجازت دیں، آپ سے پھر ملاقات ہوگی۔‘‘ حماد حسین خاموش بیٹھے ہوئے جواد سے بولے اور فوراً اسے ساتھ لے کر عنیزہ کے گھر روانہ ہوگئے۔
حماد حسین جو خاموش بیٹھے ہوئے تھے، اچانک انسپکٹر جواد سے مخاطب ہوئے۔ ’’جواد! تم نے ماڈل عنیزہ کو ٹی۔وی پر دیکھا ہے؟‘‘
’’ہاں! دیکھا ہے سر…! اس جیسی حسین عورت شوبز میں اور کوئی نہیں۔


; نے عنیزہ میڈم کا ایڈریس فون پر معلوم کرلیا ہے۔ پتا نہیں وہ گھر پر ملیں گی بھی یا نہیں۔‘‘ انسپکٹر جواد نے کہا۔
وہ جلد ہی جدید طرز کی بنی ہوئی بلڈنگ کے پاس پہنچ گئے جس میں عنیزہ کا فلیٹ تھا۔
ڈور بیل کی آواز سن کر عنیزہ کے فلیٹ کے اندر سے ایک ملازمہ نکلی۔ حماد حسین نے اپنا کارڈ اس کو دیا اور بتایا کہ وہ میڈم عنیزہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ملازمہ دوبارہ آئی اور انہیں ساتھ لے کر ڈرائنگ روم میں پہنچی۔ وہاں عنیزہ صوفے کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔ حماد حسین اور جواد کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ خود بھی صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’ہم آپ سے مراحم مرحوم کے گھر میں ہونے والی چوری کی واردات کے بارے میں تفتیش کرنے آئے ہیں۔‘‘ انسپکٹر جواد نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
’’آپ کو پتا ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں! مراحم کے گھر ہونے والی چوری سے میرا کیا تعلق…؟‘‘
’’تعلق تو ہے آپ کا! بہت جلد یہ خبر اخباروں کی زینت بنے گی پھر آپ کو پتا چلے گا کہ جن کرائے کے غنڈوں سے آپ نے یہ کام کرایا ہے، انہوں نے آپ کا راز کھول دیا ہے۔‘‘ حماد حسین بولے۔
’’مجھے نہیں معلوم کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میرا کرائے کے غنڈوں سے کیا تعلق…؟‘‘ عنیزہ نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا۔
حماد حسین نے کہا۔ ’’اس کا مطلب ہے مجھے تھانے لے جاکر تفتیش کرنا ہوگی۔ آپ عزت کے ساتھ سب کچھ کیوں نہیں بتا دیتیں؟‘‘
حماد حسین کے درشت لہجے کو دیکھتے ہوئے عنیزہ کچھ سوچنے لگی۔ پھر بولی۔ ’’میں نے سوچا ہے کہ آپ پر تمام حقیقت واضح کردوں، حالانکہ میں یہ بات اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں نے جن لوگوں کے ذریعے چوری کروائی ہے، آپ ان تک ابھی نہیں پہنچے ہیں۔ آپ لوگ مجھے شریف دکھائی دے رہے ہیں۔ امید رکھتی ہوں آپ میرے راز کو راز ہی رکھیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ ہم اس معاملے کو یہیں ختم کردیں گے، اگر آپ ناول کا مسودہ واپس کردیں۔‘‘ حماد حسین نے کہا۔
’’وہ تو واپس ہو نہیں سکتا، میں اسے جلا چکی ہوں۔‘‘
’’جلا چکی ہیں…؟ پھر بھی آپ کو حقیقت تو واضح کرنا ہوگی۔ آخر اس مسودے میں کیا تھا؟‘‘ حماد حسین بولے۔
’’ایس۔پی صاحب! میں نے جو کچھ کیا، مجبوراً کیا۔ آپ کو کل رات پیش آنے والے واقعے کو ایک عورت کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کوئی عورت اپنے تحفظ کی خاطر کچھ کرے تو آپ اس پر الزام نہیں دھر سکتے۔‘‘ عنیزہ بے خوف لہجے میں بولی۔
’’قصور تو آپ کا تھا۔ آپ نے مراحم کے جذبات سے کھیلا تب ہی تو…!‘‘
عنیزہ انسپکٹر جواد کی بات کاٹ کر بولی۔ ’’میں اس بات کو تسلیم کرتی ہوں مراحم ایک بہت اچھا انسان تھا لیکن اتفاق کی بات ہے کہ وہ میرے مزاج سے میل نہیں کھاتا تھا۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ میرا کیریئر ابھی شروع ہوا ہے، میں کیسے اس سے شادی کرلیتی، مگر وہ میرے انکار کے باوجود میرے پیچھے پڑاہوا تھا۔ پھر وہ ہٹیلا اور ضدی ہوگیا۔ میری دوستی کو وہ میری محبت سمجھ بیٹھا تھا۔ ایک دن وہ اسٹوڈیو پہنچ کر میری کردار کشی کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ تم میرے ساتھ نہ جانے کے لئے بہانے بنا رہی ہو، تمہارے پاس میرے لئے وقت نہیں۔ جن لوگوں سے تمہیں کام نکلوانا ہوتا ہے، ان کے ساتھ ہوٹلوں میں آدھی آدھی رات تک ہوتی ہو۔ اس نے مجھے گالیاں دیتے ہوئے فاحشہ تک کہہ ڈالا۔ یہ میرے لئے ناقابل برداشت تھا، چنانچہ مجبوراً مجھے احساس دلانا پڑا کہ میرے دل میں اس کے لئے قطعی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
’’پھر آپ نے اسے کرائے کے غنڈوں سے پٹوا ڈالا؟‘‘ حماد حسین بولے۔
’’معلوم ہوتا ہے کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں۔ میں نے مراحم کو سیدھا کرنے کے لئے اس پر تشدد کروایا لیکن پھر اس نے جو کیا، وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس نے میری زندگی کی کہانی لکھ ڈالی، جس میں مجھے ایک لالچی عورت کے روپ میں پیش کیا اور خود کو مظلوم گردانا۔ اس نے مجھ سے وابستہ لوگوں کے نام بھی تبدیل کرکے ناول میں لکھے تھے، لیکن کہانی پڑھنے والے آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ اشارہ کس کی جانب ہے۔ مراحم نے ناول کے مسودے کی ایک نقل مجھے بھیج دی تاکہ میں پریشانی میں مبتلا ہوجائوں۔ میں سوچ رہی تھی کہ اسے کیسے اس کے ارادوں سے باز رکھوں کہ اچانک اس کی موت واقع ہوگئی۔ میں اس پبلشر سے ملی جس نے اس سے پہلے مراحم کی دو کتابیں شائع کی تھیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ پبلشر کے
پاس مراحم کا کوئی نیا ناول اشاعت کے لئے نہیں آیا۔ پھر بھی مجھے ڈر تھا کہ مراحم کی والدہ اس کی موت کے بعد اس کے ناول کو شائع نہ کروا دیں، اس لئے میں نے وہ مسودہ چوری کروایا اور اسے فوراً ضائع کردیا۔ آپ ہی بتائیں سر! میں کیا کرتی…؟ مراحم نے میرا ذہنی سکون تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ میں نے جب اس پر تشدد کروایا تھا، خدا جانتا ہے کہ میں اپنے اس فعل پر کتنی نادم ہوئی تھی۔ اس کی ناگہانی موت نے بھی مجھے خاصا دکھی کیا تھا۔‘‘
عنیزہ کی بات ختم ہوتے ہی حماد حسین سوچنے لگے کہ انہیں اگلا قدم کیا اٹھانا چاہئے۔
’’پلیز سر! آپ اس چوری پر پردہ ڈال دیں، میں آپ کی احسان مند ہوں گی۔‘‘ عنیزہ التجا آمیز لہجے میں بولی۔
’’اس کیس پر پردہ ڈالنے کے لئے مجھے میڈم قمر سے بات کرنا ہوگی۔ ان کی مرضی کے بغیر یہ ممکن نہیں۔‘‘ حماد حسین نے کہا۔
’’آپ پلیز مراحم کی والدہ کو راضی کریں کہ وہ اس معاملے کو ختم کردیں۔‘‘
’’میڈم عنیزہ! فی الحال ہم آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہے۔ میڈم قمر آپ کو معاف کردیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔‘‘ حماد حسین نے بات مکمل ہوتے ہی انسپکٹر جواد کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
٭…٭…٭
تین ہفتے بعد حماد حسین عنیزہ سے ایک ہوٹل میں ملاقات کررہے تھے۔
’’سر…! میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے قمر جہاں کو کیس واپس لینے پر راضی کیا۔ اگر یہ بات پریس میں پہنچتی تو میری عزت خاک میں مل جاتی۔ آپ نے بڑی خوبصورتی سے اس معاملے کو نمٹا دیا۔‘‘ عنیزہ نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔
’’آپ کو میڈم قمر کا احسان مند ہونا چاہئے کہ انہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کو معاف کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ انہیں حقائق سے آگاہ کردیتیں تو وہ خود اس ناول کے مسودے کو ضائع کردیتیں۔ بقول ان کے ایسا ناول جس کی اشاعت سے کسی عورت کی کردارکشی ہوتی ہو، اس کو ضائع کردینا ہی بہتر ہے۔‘‘
’’بعض لوگ دیکھنے میں کچھ نظر آتے ہیں، اندر سے وہ کچھ اور ہوتے ہیں۔ میڈم قمر کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے۔‘‘ عنیزہ نے چائے کا مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا اور پرس سے ایک چیک نکال کر حماد حسین کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔ ’’یہ میری طرف سے آپ کے لئے حقیر سا نذرانہ ہے۔‘‘
حماد حسین نے عنیزہ کے ہاتھ سے چیک لے کر اس پر نظر ڈالی اور اسے واپس دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں اس طرح کے نذرانے قبول نہیں کرتا، اسے آپ اپنے پاس رکھیں۔‘‘
اس سے پہلے کہ عنیزہ کچھ کہتی، حماد حسین خداحافظ کہتے ہوئے تیزی سے اٹھ کر چل دیئے۔ عنیزہ نظریں جھکا کر چائے کے خالی مگ کو گھورنے لگی۔ (ختم شد)
SHARE