Raaz Ko Raaz Rehne Do | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1341
میرے شوہر ایسے محکمے میں ملازم تھے کہ ہر دو ڈھائی سال بعد ان کی پوسٹنگ ہوتی رہتی تھی۔ اکثر دور دراز علاقوں میں جہاں آبادی عنقا ہوتی۔ اس بار بھی انہیں جہاں تعینات کیا گیا وہ بہت دور کا علاقہ تھا ۔یہاں جھرنے تھے، پہاڑ اور جھیلیں تھیں غرض اس جگہ کی خوبصورتی کو قلم بند کرنے سے قاصر ہوں۔ قدرت کے حسین نظارے آنکھوں کو تراوٹ بخشتے تھے ۔ ہر لمحہ روح میں تازگی اترتی رہتی تھی۔ ان دنوں میری افتخار سے شادی کو پانچ برس ہوئے تھے۔ یہ میری خالہ کے بیٹے تھے میں ان کی بچپن کی پسند تھی… ہماری منگنی بھی کم سنی میں کردی گئی تھی۔
شادی کے بعد افتخار نے زندگی کی سب راحتیں دیں۔ پیار تو ان کا انمول تھا۔ کوئی عورت تصور نہیں کرسکتی کہ جتنا پیار مجھے اپنے جیون ساتھی سے ملا تھا ۔ لگتا تھا کہ یہ میرا گھر نہیں ہے بلکہ جنت زمین پر اتر آئی ہے۔ افتخار کو شکار کا بے حد شوق تھا۔ جب چھٹی کا دن ہوتا تو وہ شکار کا پروگرام بنالیتے اور اپنے کولیگز کے ہمراہ چلے جاتے تب وہ دن میرے لئے تنہائی کا عذاب لے کر آتا اور ان کے بنا یہ گھڑیاں کاٹے نہ کٹتی تھیں۔ میں ہمیشہ ان سے کہتی کہ مجھے بھی ساتھ لے چلیں۔ وہ کہتے میرے ساتھ دوست ہوتے ہیں اور ہم جنگل میں جاتے ہیں تمہیں وہاں لے جانا مناسب نہیں ہے۔
ایک بار میری خاطر انہوں نے پروگرام بنایا کہ میں بھی ساتھ چل سکوں۔ یہ مرغابیوں کے شکار کا پروگرام تھا۔ ہمیں علی الصباح ایک پُرفضا جھیل کی طرف جانا تھا جہاں مرغابیوں کے مسکن تھے اور یہ وہاں آسانی سے مل سکتی تھیں۔ افتخار نے جب یہ نوید مجھے دی کہ اس بار تمہاری خاطر میں اس انوکھے مشن پر جارہا ہوں تو میں خوشی سے نہال ہوگئی۔ صبح سویرے ناشتہ تیار کیا اور ساتھ لے جانے کو کچھ سینڈوچز بھی بنالئے ۔شامی کباب پہلے سے رکھے تھے۔ خانساماں نے چائے کا تھرماس بھردیا۔ ہمارے ساتھ ایک ڈرائیور اور ایک ملازم بھی جارہا تھا۔
یہ ہلکی سردیوں کا موسم تھا۔ جب ہم جھیل پر پہنچے صبح کے دس بج رہے تھے۔ گرچہ ناشتہ کیا تھا پھر بھی بھوک محسوس ہورہی تھی۔ میں نے ملازم سے کہا کہ تم چائے بناکر لے لائو… ذرا تازہ دم ہوجائیں گے۔وہ چائے بنانے چلا گیا۔
افتخار نے گاڑی سے بندوق نکالی اور ڈرائیور کے ہمراہ جھیل کے کنارے مرغابیوں کی تاک میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں ملازم چائے لے آیا۔ میں نے کہا کہ ٹرے صاحب کی طرف لے چلو کیونکہ ابھی کوئی مرغابی دکھائی نہ دی تھی لیکن جونہی ہم افتخار کے نزدیک پہنچے مرغابی نظر آگئی۔ انہوں نے ہمیں ہاتھ کے اشارے سے دور ہی رک جانے کا اشارہ کیا اور خود نشانہ لے کر اپنے شکار پر فائر کردیا۔ آبی پرندہ زخمی ہوکر جھیل میں گرا تو افتخار بھی وفورِجذبات سے مغلوب ہوکر پانی میں کود پڑے۔ وہ آن ِواحد میں اپنے شکار کو پکڑ لینا چاہتے تھے تاہم جھیل کا پانی ان کے اندازے سے زیادہ گہرا تھا جونہی پانی میں کودے ڈوبتے چلے گئے۔ افتخار بہت اچھے تیراک تھے پھر بھی میرا دل ہولنے لگا میں نے کبھی ایسا نظارہ نہ دیکھا تھا۔ جبکہ خطرات سے کھیلنا میرے جیون ساتھی کے معمولات میں تھا۔ غالباً اسی باعث بے خوف پانی میں اترے تھے کہ اپنی تیراکی کی مہارت پر انہیں بھروسہ تھا۔
کافی دیر تک جب وہ باہر نہ آئے تو ڈرائیور اور ملازم کو تشویش ہوئی کہ کہیں جھیل کے کنارے پانی کے نیچے دلدلی زمین تو نہیں تھی۔ ان کی جھیل میں اترنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اردگرد لوگ بھی اس وقت موجود نہیں تھے۔ آبادی کچھ فاصلے پر تھی۔ کس سے مدد کے طالب ہوتے۔ انہوں نے کنارے کے نزدیک جاکر افتخار کو کافی آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ ملا۔ لگتا تھا جیسے تہہ میں جاچکے ہوں۔
تب سبھی گھبرا گئے۔ مجھے گاڑی میں بٹھادیا۔ کہا کہ جلدازجلد مددگار لانے ہوں گے۔ مجھے آہ و زاری کی مہلت تک نہ دی آناً فاناً جیب دوڑاتے آفس آئے اور نزدیکی یونٹ میں اطلاع کرادی۔ فوراً ہی ایک دوسری جیب میں چند مددگار آگئے جن میں بہترین تیراک اور غوطہ خور بھی تھے اور ساتھ گائوں کی مسجد کے مولوی صاحب جو ایسے مواقع پر دعا کرتے تھے لہٰذا علاقائی لوگوں نے اپنے عقیدے کے مطابق انہیں بھی ساتھ لے جانا مناسب سمجھا۔
مددگار غوطہ خور رات تک افتخار کو ڈھونڈتے رہے لیکن ان کا سراغ نہ ملا۔ رو رو کر میرا بُرا حال تھا۔ مجھے گھر چھوڑ گئے تھے اور میں مصلے پر گری افتخار کی سلامتی کے لئے دعائیں کررہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔دوڑ کر گئی۔ ملازم جھیل سے آیا تھا ۔کہنے لگا کہ مولوی صاحب نے آپ کو بلوایا ہے ۔میں فوراً ملازم اور ڈرائیور کے ساتھ ہولی۔ مولوی صاحب میرے منتظر تھے۔ کہنے لگے۔ بی بی میں نے پڑھائی کی ہے یہ اشارہ ملا ہے کہ آپ کے شوہر نے جس مرغابی کو نشانہ بنایا تھا وہ مرغابی نہ تھی بلکہ مرغابی کے روپ میں کوئی ماورائی مخلوق تھی لہٰذا اس کی برادری کو سخت غصہ ہے۔ انہوں نے آپ کے شوہر کو اپنا قیدی بنالیا ہے۔میں نے پوچھا کہ کیا وہ جنات ہیں؟ آخر ماورائی مخلوق سے آپ کی کیا مراد ہے۔ وہ بولے۔ بس جو بھی سمجھ لو… لیکن تمہارے شوہر زندہ ہیں اور ان کی قید میں ہیں۔ پھر ان کی رہائی کی کیا صورت ہوسکتی ہے اگر وہ زندہ ہیں تو کس قیمت پر ان کو اس ماورائی مخلوق یا جنات سے رہائی نصیب ہوسکتی ہے ۔مرغابی کے لئے جو بھی تاوان وہ مانگتے ہیں میں دینے کو تیار ہوں۔ آپ خدارا معلوم کرکے مجھے آگاہ فرمائیں۔
کچھ دیر مراقبے جیسے عمل سے گزرنے کے بعد وہ گویا ہوئے۔ بی بی اگر آپ کو اپنے شوہر کو زندہ دیکھنا ہے تو تین برس انتظار کرنا ہوگا… اور اگر فوراً ان کو پانا چاہتی ہیں تو تین دن انتظار کرنا ہوگا لیکن زندگی کی امید نہ رکھنا۔ میں ویسے ہی حواس باختہ تھی سوچ رہی تھی یہ بزرگ جانے صحیح کہہ رہے ہیں یا غلط۔ میں ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ میں ایک منٹ بھی انتظار کرنے پر راضی نہ تھی تبھی کہا۔ مجھے جلدازجلد اپنے شوہر سے ملنا ہے چاہے وہ جس حالت میں بھی ملیں، تین دن انتظار نہیں کرسکتی اور آپ تین سال کے انتظار کی بات کررہے ہیں۔ تین دن تو لازمی انتظار کرنا پڑے گا ۔آپ تین دن بعد آجائیں۔ آپ کے شوہر آپ کو جھیل پر مل جائیں گے، لیکن میں پھر کہہ رہا ہوں زندگی کی امید نہ رکھنا کیونکہ جھیل دریا سے زیادہ گہری اور خطرناک ہوتی ہے۔ دریا میں گرا ہوا آدمی شاید موت کو شکست دے دے لیکن جھیل ایسی موت کی وادی ہوتی ہے کہ اگر ایک بار کوئی اس میں گرگیا پھر اس کا زندہ اوپر آنا محال ہوتا ہے۔ بہرحال میں تین دن پڑھائی کروں گا ان شاءاللہ پاتال سے بھی اوپر آجائیں گے۔ انہوں نے ٹھیک کہا تھا۔ تیسرے دن افتخار کا جسد خاکی جھیل کی سطح پرابھر آیا۔ گویا ان کا سراغ مل گیا مگر وہ زندگی کا سرمایہ کھوچکے تھے تاہم ہاتھ پائوں نرم تھے لگتا تھا کہ ابھی ابھی سوئے ہوں۔ قریبی آبادی میں سرگوشیاں ہونے لگیں کہ جنوں والی جھیل میں مرغابی کے شکار سے ان افسر صاحب کی جان چلی گئی حالانکہ وہاں شکار کے لئے کوئی نہیں جاتا۔ جب کبھی کوئی شکاری غلطی سے گیا اور کسی مرغابی کو نشانے پر لیا اس کی اسی طرح جان چلی گئی۔ وہاں مرغابیوں کا شکار بھی ممنوع تھا مگر صاحب کو شاید اس کا علم نہ تھا۔
ہم تو یہاں وقتی طور پر آئے تھے لیکن مقامی لوگوں میں کئی عجیب و غریب قصے مشہور تھے جن کی بازگشت اب سنائی دے رہی تھی۔ افتخار کے بڑے بھائی تو ان کی جھیل میں گم شدگی کی اطلاع ملتے ہی راولپنڈی سے فوراً یہاں آگئے تھے۔ جب انہوں نے مقامی لوگوں کی زبان سے جھیل سے متعلق پراسرار
کہانیاں سنیں تو بولے کہ یہ لوگ وہمی ،ضعیف الاعتقاد قسم کے ہیں۔ مجھے اب خیال آرہا ہے کہ کہیں میرے بھائی کو کسی دوست نما دشمن نے گھات لگاکر نہ مار دیا ہو۔ ہم نے غلطی کی جو ان کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا کیونکہ ان کی لاش ایسی حالت میں تھی جیسے تھوڑی دیر پہلے وفات ہوئی ہو۔ ڈوب جانے کے بعد تین روز جھیل میں رہنے والی لاش کی حالت اور طرح کی ہوتی ہے یقیناً وہ ڈوب کر نہیں مرے ۔پھر تو میرے جیٹھ کو ایسا وہم ہوگیا کہ ہر لمحہ ان کا اضطراب بڑھتا گیا۔ تب ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے مرحوم کی قبر کشائی کراکر پوسٹ مارٹم کرانے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ سب قریبی عزیزوں اور رشتے داروں نے منع کیا کہ اب افتخار کی وفات کو ایک سال سے اوپر ہوگیا ہے جو ہوگیا سو ہوگیا ان کو ابدی نیند سونے دیں۔ جھیل سے لاش مل گئی اور قبر نصیب ہوگئی اس کو معجزہ سمجھ لیں۔ جب سبھی نے روکا تو جیٹھ صاحب بظاہر رک گئے مگر کچھ دن بعد کسی قریبی عزیز کو اعتماد میں لئے بغیر انہوں نے اپنے طور پر یہ کام کرادیا یعنی قبر کشائی کرائی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ قبر خالی تھی اور وہ جسد خاکی جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا تھا موجود نہ تھا۔ مولوی صاحب کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اب اس بات کو یہیں بند کردیں اور اس بات کا کسی سے چرچا نہ کریں ورنہ مزید نقصان ہوگا۔ انہوں نے بزرگ کی بات مان لی مگر دل بے قرار کو قرار نہ آتا تھا۔
وہ اکثر جھیل پر جاتے اور وہاں بیٹھے رہتے جیسے انہیں یقین ہوگیا ہو کسی دن، کسی وقت ان کا بھائی زندہ سلامت جھیل سے باہر نکل آئے گا۔ وہ کہتے تھے۔ اگر افتخار قبر میں موجود نہیں ہے تو پھر وہ واپس جھیل میں چلا گیا ہے۔ ہر ایک کو یقین ہوگیا کہ فیاض کے ذہن پر اپنے بھائی کی وفات کا گہرا اثر ہوا ہے اور صدمے کی وجہ سے ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔ سبھی سمجھاتے کہ وہ ڈوب کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں اور اب نہیں لوٹ سکتے چونکہ اس واقعے کے عینی شاہدین ڈرائیور، ملازم اور میں خود تھی۔ ہمارے سامنے انہوں نے زخمی مرغابی کو پکڑنے کی خاطر جھیل میں چھلانگ لگائی تھی۔ پھر اس سانحے کو کس طرح کوئی دوسرا رنگ دیا جاسکتا تھا۔
ہمارے جیٹھ وہم کا شکار ضرور تھے مگر زندگی کے سبھی معاملات میں وہ درست تھے اور کوئی غیرمعمولی حرکت ان سے سرزد نہ ہوئی کہ کوئی ان پر پاگل پن کا شبہ بھی کرتا… تاہم ایک بات ایسی تھی کہ لگتا تھا ان پر کچھ اثر ہوگیا ہے۔ وہ باقاعدگی سے جھیل جاتے اور کہتے کہ ان کے بھائی زندہ ہیں۔ ایک بار افتخار کے دو کزن بھی ان کے ہمراہ جھیل پر گئے کہ دیکھیں فیاض بھائی وہاں جاکر کیا کرتے ہیں۔ فیاض بھائی اپنے چچا زاد اجمل اور اکمل کو لے گئے۔ وہ کنارے پر تقریباً دو گھنٹے بیٹھے رہے اور فیاض تلاوت کرتے رہے ،روتے رہے ،دعا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بھائی کو ان سے ملا دے۔
اجمل بھائی اور اکمل بھائی ان کی حالت پر بے حد دکھی تھے، انہیں کافی سمجھایا کہ بس اب لوٹ چلیں۔ یہاں بیٹھ کر رونے سے کچھ حاصل نہ ہوگا جو اس جہان سے چلا جاتا ہے وہ لوٹ کر نہیں آتا۔ البتہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس دن یہ دعا ضرور کی کہ ہمارے تایازاد فیاض کی روح کو قرار آجائے۔ دوپہر ڈھل چکی تھی اور شام ہونے والی تھی جب انہوں نے اپنا سامان سمیٹا اور چلنے کو ہوئے کہ ایک مرغابی پھڑ پھڑاتی ہوئی کہیں سے آکر ان کے سامنے کی گھنی جھاڑیوں میں آگری۔ ادھر ادھر دیکھا، کوئی شکاری دکھائی دیا اور نہ ہی فائر کی آواز آئی۔ پھر اس بیچاری کو کس نے نشانے پر لیا تھا مارے تجسس کے تینوں ہی جھاڑیوں کی طرف بھاگے۔
وہاں پہنچے تو جو نظارہ دیکھا حیرت کی انتہا نہ رہی مرغابی کو واقعی کسی نے گولی ماری تھی کیونکہ وہ زخمی ہوکر جہاں گری تھی پتوں پر تازہ خون لگا ہوا تھا۔ وہ جھاڑی میں ٹہنیوں پر مردہ حالت میں اٹک گئی تھی… خیریہ ایسی حیرت کی بات نہ تھی کیونکہ اغلب تھا کہ جھیل کے دوسرے کنارے پر اسے کسی نے گولی کا نشانہ بنایا ہو اور زخمی ہونے کے باوجود وہ اڑتی ہوئی ادھر آگری ہو لیکن اسی جھاڑی کے قریب ہی مردانہ کپڑوں کا ایک جوڑا بھی پڑا ہوا تھا جو صاف ستھرا اور بالکل صحیح حالت میں تھا اور وہ بٹوہ بھی جو افتخار کی جیب میں رہتا تھا۔
اجمل نے جوڑا اٹھالیا اور ساتھ لے آئے۔ مجھے دکھایا تو میں نے پہچان لیا۔ یہ افتخار کا ہی بٹوا اور جوڑا تھا لیکن اس روز جب وہ جھیل میں اترے تھے انہوں نے دوسرا جوڑا پہنا ہوا تھا۔ اسی جوڑے میں ان کی نعش بھی تین روز بعد جھیل کی سطح پر مل گئی تھی مگر نعش پھولی ہوئی نہ تھی اس امر کو سبھی اللہ کا کرشمہ کہہ رہے تھے۔
میں نے وہ جوڑا اجمل بھائی سے لے لیا ۔دھوکر ہینگر میں ان کے دوسرے کپڑوں کے ساتھ لٹکادیا۔ ہم میں سے کوئی بھی اس پراسرار بات کو نہ سمجھا، تاہم اس جوڑے کے مل جانے کے بعد فیاض بھائی کے دل کو صبر اور بے قرار روح کو قدرے قرار آگیا۔ انہوں نے جھیل پر جانا بھی چھوڑ دیا ۔کہتے تھے ۔اللہ کے کچھ رازوں میں سے ایک یہ بھی ایسا راز ہے جسے نہیں کریدنا چاہئے کیونکہ اس کے کریدنے میں اب کوئی بھلائی نہیں نظر آتی ۔ ان کی نعش مل گئی یہ شہادت کافی ہے۔ مزید اس میں کون سا راز چھپا ہے یہ رب جانے ہمیں جاننے کی ضرورت نہیں۔ (س۔ق…سوات)