Rab Ne Banai Jodi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2171
میں اپنے والدین سے اس وقت بچھڑی جب ان کے ساتھ میلہ دیکھنے گئی تھی۔ بھیڑ میں انہیں نہ ڈھونڈ سکی۔ بس ایک راستے پر چلتی گئی۔ جب تھک گئی تو ایک جگہ ٹھہر کر رونے لگی۔ ایک گاڑی قریب سے گزری۔ اس میں ایک عورت اور مرد بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کار سے اتر کر پوچھا۔ کیوں رو رہی ہو؟ کیا راستہ بھول گئی ہو؟ میں نے روتے ہوئے گردن ہلا دی۔
وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے آئے۔ انہوں نے میرے والدین کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ملے تو مجھے اپنے پاس رکھ لیا۔ دراصل اقبال صاحب کی بیوی کو ایک مجھ جیسی چھوٹی خدمت گار کی ضرورت تھی۔ میں مفت میں میسر آگئی تو انہوں نے میری عمر سے بڑھ کر کام لینا شروع کردیا۔ میں کام نہ کرپاتی تو وہ مجھے بے رحمی سے مارتیں۔
کافی عرصہ اس گھر میں دکھ اٹھاتی اور ظلم کی چکی میں پستی رہی۔ جب ذرا سیانی ہوئی تو ایک دن گھر سے بھاگ نکلی، مگر بدقسمتی سے انہوں نے مجھے تلاش کرلیا۔ نزدیکی باغ میں جاکر میں بینچ پر بیٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ اب کہاں جائوں؟ اتنے میں ڈرائیور نے مجھے دیکھ لیا۔ وہ پکڑ کر مجھے واپس اقبال صاحب کے گھر لے آیا۔
اس کے بعد مجھ پر بہت سختی شروع کردی گئی، اتنی کہ زندہ رہنے سے بھی خوف زدہ ہوگئی۔ ہر وقت مر جانے کے بارے میں سوچنے لگی۔ ان کے نوکر میری نگرانی کرتے۔ وہ کہتے۔ اب تم بھاگ کر نہیں جاسکتیں۔ جہاں جائو گی، ہم ڈھونڈ کر لے آئیں گے، پھر تمہاری بہت پٹائی ہوگی۔ ان دنوں میری عمر سات برس تھی۔ مجھ پر نہایت کسمپرسی کا وقت تھا۔ سبھی جانتے تھے کہ لاوارث ہوں۔ وہ کھلم کھلا مجھ پر ظلم کرتے۔ مجھ سے گھر کے سب کام لئے جاتے۔ سکون سے سونے بھی نہ دیا جاتا۔ میرے پاس ڈھنگ کا بستر تک نہ تھا۔ کبھی فرش اور کبھی قالین پر سو جاتی۔ پھر صبح فجر سے اٹھ جاتی۔ میں اقبال صاحب کی بیگم سے بہت ڈرتی تھی۔
ایک روز جب وقت سحر آنکھ کھلی تو سب گھر والے سو رہے تھے اور چوکیدار نماز پڑھنے گیا ہوا تھا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور گیٹ سے باہر نکل آئی۔ صبح کا اجالا اترنے میںدیر تھی۔ میں اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ سمت کا تعین کئے بغیر بھاگتی رہی، جیسے شکاری کتے میرے پیچھے لگے ہوں۔ سامنے ایک بس کھڑی تھی۔ میں اس پر چڑھ کر ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئی۔ بس خالی تھی، ابھی مسافر نہیں آئے تھے۔ کچھ دیر بعد صبح کا اجالا پھیلنے لگا۔ لوگ بس میں سوار ہونے لگے، یہاں تک کہ بس بھر گئی لیکن کسی نے مجھ ننھی بچی کی جانب توجہ نہیں کی۔
اگلے اسٹاپ پر جونہی بس رکی، میں اتر گئی۔ سامنے ایک بلڈنگ دیکھی۔ بنا سوچے سمجھے اس میں داخل ہوگئی۔ چوتھی منزل پر پہنچ کر دم پھول گیا۔ میں رک گئی۔ سامنے فلیٹ کا در کھلا تھا اور ایک ملازم کام کررہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا تو پوچھا۔ کیا روٹی چاہئے؟ میں نے سر ہلا دیا۔ وہ مجھے اندر لے گیا۔
گھر والے خوابیدہ تھے۔ اس نے باورچی خانے میں ایک چوکی پر بٹھا دیا اور چائے کے ساتھ ڈبل روٹی کھانے کو دی۔ وہ یہی سمجھا کہ میں گھر کا راستہ بھول گئی ہوں۔ جب بیگم اٹھ گئیں، وہ مجھے خاتون کے پاس لے گیا۔ میں ڈر رہی تھی۔ ڈرو نہیں۔ عورت بولی۔ تم کہاں رہتی ہو، کہاں سے آئی ہو؟ جب پیار سے حال پوچھاتو میں نے ساری بات بتا دی۔
آپ مجھے ان لوگوں کے حوالے مت کرنا۔ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔ ڈرو نہیں، ہم تمہیں کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ تم مجھے آپا بیگم کہہ سکتی ہو۔ یہ بہت اچھے لوگ تھے۔ ان کے پاس رہائش پذیر ہوکر سکون میسر آگیا۔ وہ اپنے بچوں کو تلقین کرتے کہ یہ بھی تمہاری بہن ہے، اس کا خیال رکھا کرو۔ جب وہ اپنے بچوں کے لئے کھلونے لاتے تو میرے لئے بھی گڑیا لے آتے۔ ان کے حسن سلوک نے پچھلے غم بھلا دیئے تھے۔ ان دنوں تقریباً دس سال کی تھی۔ آپا بیگم مجھے سمجھاتی تھیں کہ اب تم بڑی ہوگئی ہو، اپنا خیال خود رکھنا۔ گیلری میں کھڑی مت ہونا، کہیں کوئی تمہیں دیکھ نہ لے۔
ایک دن آپا بیگم کی بیٹی کے ساتھ گیلری میں کھڑی تھی کہ اقبال صاحب کی پڑوسن کا سڑک سے گزر ہوا۔ اس عورت نے مجھے پہچان لیا اور جاکر اقبال صاحب کی بیگم کو بتا دیا کہ میں فلاں جگہ ہوں۔ اسی روز شام کو در پر دستک ہوئی۔ میں نے پوچھا کون ہے…؟ گھر میں اکیلی تھی۔ دل دھڑک رہا تھا۔ جواب آیا۔ آپا بیگم کو بتائو کہ منا آیا ہے۔ میں نے گھر کے لوگوں سے منے کے بارے میں سنا تھا۔ جب آپا بیگم بازار سے شاپنگ کرکے لوٹیں تو بتایا کہ منا آیا تھا مگر میں نے دروازہ نہیں کھولا۔
بہت اچھا کیا۔ وہ پھر آجائے گا لیکن جب تم اکیلی ہو تو دروازہ مت کھولنا۔ آپا بیگم نے بتایا کہ یہ لڑکا بھی تمہاری طرح اپنے ماں، باپ سے بچھڑ گیا تھا۔ ہمیں یہ راولپنڈی میں ملا تھا۔ اس کے ماں، باپ کو تلاش کرتے رہے، وہ نہیں ملے تو اسے ہم ساتھ لاہور لے آئے۔ یہ ہمارے گھر پلا بڑھا ہے۔ گھر کا سودا سلف اور سارے کام کرتا تھا۔ پھر جب میرے بیٹے کی شادی ہوئی اور اس کی پوسٹنگ پنڈی ہوگئی تو ہم نے اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ اب یہ کبھی کبھار ملنے آتا ہے لیکن رہتا پنڈی میں ہی ہے۔
منے کی داستان مجھے معلوم ہوئی تو جی چاہا کہ اسے دیکھوں، اس سے باتیں کروں۔ اس کا اور میرا درد ایک تھا۔ بہرحال منا تو دوبارہ نہیں آیا لیکن اگلے دن جبکہ میں گیلری سے جھانک رہی تھی، ایک گاڑی آکر رکی۔ میں نے پہچان لیا کہ اس میں اقبال اور ان کی بیگم آئے ہیں۔ تبھی دوڑ کر آپا کے پاس گئی اور انہیں بتایا کہ انہوں نے مجھے ڈھونڈ لیا ہے، آپ مجھے کہیں چھپا دیں ورنہ وہ مجھے لے جائیں گے۔
انہوں نے مجھے اسٹور میں چھپا کر تالا لگا دیا، کیونکہ ان کے شوہر گھر پر نہیں تھے۔ اتنے میں یہ لوگ اوپر آگئے اور آتے ہی کہا کہ ہماری لڑکی ہمارے حوالے کردو۔ کوئی لڑکی یہاں نہیں ہے۔ آپا بیگم نے جواب دیا۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور آپ ہیں کون…؟ ہم جو بھی ہیں، ہماری لڑکی آپ کے پاس ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے۔ وہ سارے گھر میں گھوم کر مجھے ڈھونڈنے لگے۔ بیگم اقبال نے اسٹور پر تالا دیکھا تو کہا۔ اسے کھولیں، لڑکی کو آپ نے اسٹور میں چھپا کر تالا لگا دیا ہے۔ تب آپا بیگم بگڑ کر بولیں۔ ارے واہ اچھی دھاندلی ہے۔ جان نہ پہچان اور ہمارے گھر کی تلاشی لے رہے ہیں۔ تالے کی چابی میرے شوہر کے پاس ہوگی۔ اب آپ جایئے۔ اس وقت اسٹور کا تالا نہیں کھل سکتا۔
تو ہم توڑے دیتے ہیں۔ اس دھمکی پر آپا کو غصہ آگیا۔ کہا۔ توڑ کر دکھائو، ابھی پولیس کو فون کرتی ہوں۔ بلااجازت اندر آگئے اور ہمارے گھر کے تالے توڑ رہے ہیں۔ یہ سن کر وہ میاں، بیوی پیچ و تاب کھاتے ہوئےچلے گئے۔ تب میری جان میں جان آئی۔ آپا نے تالا کھولا۔ میں اسٹور میں کھڑی تھرتھر کانپ رہی تھی۔
اس واقعے کے بعد آپا بیگم اور ان کے شوہر نے مجھے فوراً بیٹے کے گھر بھجوا دیا۔ یہاں میں نے منے کو پہلی بار دیکھا۔ کافی بدصورت اور کالا کلوٹا، چھوٹے قد کا لڑکا تھا۔ وہ مجھے ذرا اچھا نہ لگا۔ منے کی داستان سن کر اس کے بارے میں جو ہمدردی دل میں پیدا ہوئی تھی، سب رفوچکر ہوگئی۔ اس کے بعد بھی کئی بار اقبال اور اس کی بیوی میری تلاش میں آپا بیگم کی بلڈنگ میں آتے جاتے رہے، مگر میں وہاں ہوتی تو ملتی، تاہم پڑوسیوں سے ان لوگوں نے میرے بارے میں ساری معلومات لے لیں اور اس تاک میں تھے کہ کسی طرح ہاتھ آجائوں تو مجھے لے جائیں۔ تین سال میں آپا بیگم کے بیٹے اور بہو کے گھر رہی پھر ان کا جانا بیرون ملک ہوا تو مجھے دوبارہ آپا بیگم گھر لے آئیں لیکن اب انہیں بھی خطرہ رہتا تھا کہ کسی دن میری تلاش


میں رہنے والے دوبارہ نہ آجائیں اور کوئی مصیبت کھڑی کردیں۔ اب میں بڑی ہوچکی تھی، تب انہوں نے یہ حل نکالا کہ میری شادی منے سے کردی جائے۔ منے کو انہوں نے ایک سرکاری محکمے میں چپراسی لگوا دیا تھا۔ مجھے منا پسند نہ تھا۔ بادل نخواستہ اپنے محسنوں کا کہا ماننا پڑا، کیونکہ میں ان کو کسی مصیبت میں ڈالنا نہ چاہتی تھی لہٰذا ان کی خواہش پر سر جھکا لیا اور میری شادی منے سے ہوگئی۔ وہ بہت اچھے تھے مگر شادی کے شروع دنوں مجھے ان کی بدصورتی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ آج اس واقعے کو نصف صدی کا عرصہ بیت چکا ہے اور میں پوتوں اور نواسوں والی ہوگئی ہوں۔ منے نے خوب محنت کی، اپنا کاروبار کیا اور پھر مالی اعتبار سے خوشحال ہوگئے۔ ہمارے بچے بڑے ہوگئے، ان کی شادیاں کردیں۔ زندگی میں کوئی غم باقی نہ رہا لیکن ایک غم ہے کہ آج تک یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ میں کس کی بیٹی ہوں، کہاں سے آئی تھی، میرے والدین کون تھے، میرے کھو جانے کے بعد اللہ جانے ان پر کیا گزری۔ بہت ذہن پر زور دیتی ہوں مگر اپنا شہر، اپنی بستی، اپنا گھر یاد نہیں آتا۔ والدین کے نام بھی بھول چکی ہوں۔
منے کی مشکور ہوں کہ انہوں نے محبت دی اور اللہ نے ہم دونوں کو ایک اچھے کنبے میں پناہ دے کر تباہ ہونے سے بچا لیا، پھر ہمیں ملایا اور ہمارا کنبہ بنایا۔ میں اپنے اس کنبے میں بہت خوش ہوں۔ میرے بچے اور ان بچوں کے بچے میری کل کائنات ہیں۔ منے کو بدصورت سمجھ کر آزردہ ہوئی تھی مگر سچ کہتی ہوں کہ ان جیسا اچھا شوہر اور اچھا انسان کسی نصیب والی عورت کو ہی ملتا ہے۔ آج میں اور منا بوڑھے ہوگئے ہیں لیکن جب کھوئے ہوئے والدین کو یاد کرتے ہیں تو ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ (ن… لاہور)