Rang e Zindagi | Last Episode

647
’’میری تو کل کوئی خاص مصروفیت نہیں ہے۔ اگر ہوتی بھی تو میں تمہاری خاطر ملتوی کردیتی۔‘‘ میڈم شاہینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کیا بات ہے کافی دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تم مجھ سے کھنچی کھنچی سی ہو؟‘‘ ماہ نور نے پوچھا۔
’’تمہیں اب میری کیا ضرورت ہے، تمہیں مجھ سے بہتر دوست جو مل گیا ہے۔ پڑھائی میں تم اچھی خاصی تیز تھیں، اب کالج سے اکثر غائب رہنے لگی ہو، اس کی وجہ تمہاری شہرام میں دلچسپی ہے۔ میں نے تمہیں منع بھی کیا تھا کہ وہ صحیح لڑکا نہیں ہے، مگر تم ہو کہ اس کے پیچھے دیوانی ہورہی ہو۔‘‘ علیزے نے کہا۔
’’تم میری فکر مت کرو، مجھے لوگوں کی پہچان ہے۔ بہت جلد میری شہرام سے شادی ہونے والی ہے۔ میں تمہاری طرح لڑکوں کے ساتھ ٹائم پاس نہیں کرتی پھرتی۔‘‘ ماہ نور نے تمسخر بھرے لہجے میں کہا۔
’’اوہ تو بات شادی تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہوگی کہ تمہاری شہرام سے شادی ہوجائے۔‘‘ علیزے نے یہ کہتے ہوئے اپنے سامنے پڑی نوٹس کی فائل کھول لی۔
٭…٭…٭
ماہ نور، شہرام کی باتوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی۔ شہرام کے الفاظ کی بازگشت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ’’تمہارے والدین تمہاری منگنی جہاں کررہے ہیں، تم کرلو۔ مجھ پر بھروسہ رکھو میں ایسا چکر چلائوں گا کہ تمہارا ہونے والا منگیتر خود تم سے شادی سے انکار کردے گا اور تمہارے ابا تمہیں میرے ساتھ رخصت کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔‘‘ ماہ نور جانے کب تک شہرام کی باتوں کے سحر میں کھوئی رہتی، اس کے کانوں میں اپنی دونوں بہنوں انزلہ اور عبیدہ کی سرگوشیاں گونجیں۔ وہ چند سیکنڈ پہلے اس کمرے میں داخل ہوئی تھیں جہاں ماہ نور اپنی منگنی کے لئے تیار ہوکر بیٹھی تھی۔ ’’عارب کی اماں نے تو کہا تھا کہ ہم منگنی کی رسم میں تیس افراد لے کر آئیں گے، مگر بڑی بی پچاس سے اوپر لوگوں کو لے کر آگئی ہیں۔ اب کیا ہوگا، کھانا کم پڑ جائے گا۔‘‘ انزلہ آپا فکرمندی سے بولیں۔
’’آپا! ایسا کریں آپ قورمے میں دو جگ پانی ڈال دیں، پورا ہوجائے گا۔‘‘ عبیدہ نے پریشانی کا حل پیش کیا۔
’’ترکیب تو اچھی بتائی ہے۔ اب تم ماہ نور کو لے کر جائو، عارب کو رسم کی بڑی جلدی ہورہی ہے۔‘‘ انزلہ آپا یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں۔
ان کے جاتے ہی حبیبہ آگئی۔ دونوں بہنیں ماہ نور کو لئے باہر شامیانے میں پہنچیں، جہاں اسٹیج پر عارب بیٹھا ہوا تھا۔ ماہ نور کے آتے ہی اس کی اماں اور بھابیاں رسم ادا کرنے لگیں۔
عارب بہت خوش تھا۔ ماہ نور جیسی حسین لڑکی مستقبل میں اس کی شریک سفر بننے والی تھی، مگر عارب کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔
اگلے دن اسے ماہ نور کی کسی مرد کے ساتھ کھنچوائی گئی نازیبا تصویریں موصول ہوئیں۔ وہ موبائل لئے ماہ نور کے ابا کے پاس پہنچ گیا اور ساتھ ہی منگنی توڑنے کا اعلان کردیا۔ انعام عباسی تو کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ثمینہ بانو نے حقیقت جانتے ہی ماہ نور پر تھپڑوں کی بارش کرتے ہوئے بددعائیں اور کوسنے دینے شروع کردیئے۔
’’کلموہی، ناہنجار! کالج کے بہانے تو کسی مرد کے ساتھ دل لگی میں مصروف تھی۔ ہم نے تجھے عیاشی کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت دی تھی۔‘‘ ثمینہ بانو نے یہ کہتے ہوئے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔ ماہ نور کے منہ سے دلدوز چیخ نکلی۔ ثمینہ بانو بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑیں۔ ’’بے غیرت تو مر کیوں نہیں جاتی، اپنے باپ کی جگ ہنسائی کروا کر زندہ کھڑی ہے۔ بیچارہ باپ سکتے کے عالم میں بیٹھا ہے۔‘‘
’’اماں…!‘‘ حبیبہ وحشیانہ انداز میں بہن کو پٹتا دیکھ کر چلائی۔ ’’اماں! رک جائیں۔ اسے جان سے مار کر جیل جائیں گی؟‘‘ حبیبہ نے ان دونوں کے بیچ آنا چاہا۔ اماں نے حبیبہ کو بھی ایک طرف دھکا دے دیا۔
چیخ سن کر ابا کمرے میں آگئے۔ وہ بولے۔ ’’ثمینہ! کیا تماشا لگا رکھا ہے تم نے! باہر چیخ و پکار کی آوازیں جارہی ہیں۔ اس سے پوچھو یہ لڑکا کون ہے، اسے فوراً بلوائے، مجھے اس لڑکے سے بات کرنی ہے۔‘‘ ابا کا حکم سنتے ہی اماں کے بڑھتے ہاتھ رک گئے۔
اسی دن رات میں ابا اور شہرام کے درمیان میٹنگ ہوئی اور دو دن بعد ماہ نور کا نکاح شہرام کے ساتھ طے ہونا قرار پایا۔
شہرام کے گھر سے رخصت ہوتے ہی ثمینہ بانو نے انعام عباسی سے کہا۔ ’’انزلہ کے ابا! تم نے لڑکے کے کسی عزیز کو بلائے بغیر پرسوں ماہ نور کو رخصت کرنے کا ارادہ کرلیا ہے وہ…!‘‘
’’چھان بین کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی عزت کی خیر منائو۔ اس لڑکے کے ساتھ اپنی بیٹی کو رخصت کرنا ہماری مجبوری ہے۔ ماہ نور بخوشی اس سے شادی کے لئے تیار ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے۔ وہ خود ہی بھگتے گی۔‘‘ انعام عباسی قطع کلامی کرتے ہوئے تیز لہجے میں بولے۔ ثمینہ بانو ایک بار پھر ماہ نور کو کوسنے دینے لگیں۔
٭…٭…٭
بدھ کے دن عصر کے بعد سادگی سے ماہ نور کا نکاح ہوا اور مغرب کے بعد رخصتی کردی گئی۔
’’اس گھر کے دروازے اب ہمیشہ کے لئے تم پر بند ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آئندہ تم یہاں کا رخ مت کرنا۔‘‘ رخصت ہوتے ہوئے ابا کے منہ سے ان الفاظ کو سنتے ہی ماہ نور کے دل میں تیر سا کھب گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی کہ وہ اس قدر قابل نفرت ہوگئی ہے کہ گھر والے اس سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتے۔
٭…٭…٭
حجلۂ عروسی میں بیٹھی ماہ نور نے شہرام کے کمرے میں آتے ہی احتجاجی لہجے میں کہا۔ ’’تم نے مجھے خاندان والوں کے سامنے نظریں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ میری بے ہودہ تصاویر بنا کر لوڈ کردیں۔ میں سمجھی تھی کہ تم عارب کو ڈرا دھمکا کر منگنی ختم کروا دو گے مگر تم نے تو حد ہی کردی۔‘‘
’’چھوڑو بھی یار! کتنی آسانی سے تم میری ہوگئی ہو۔ میں نے تمہاری بدنامی کا سامان کیا ہے تو تمہیں اپنایا بھی ہے۔ اس لئے آج کی رات فضول بحث مت کرو، گلے شکوے کرنے کے لئے پوری عمر پڑی ہے۔‘‘ شہرام کی بات سن کر ماہ نور نے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔
شادی کے ایک ہفتے بعد شہرام اسے لاہور لے آیا تھا۔ وہ ماہ نور کو صبح فلیٹ میں بند کرکے جاتا اور رات گئے واپس لوٹتا تھا۔ شہرام کا ہاتھ ذرا ذرا سی بات پر ماہ نور پر اٹھنے لگا تھا۔ وہ اس کی مار کھا کر نڈھال سی پڑی رہتی تھی۔
ماہ نور سمجھتی تھی کہ اس کی زندگی شادی کے بعد مسرتوں سے سرشار ہوکر گزرے گی۔ اسے پتا نہیں تھا کہ شہرام سے شادی کے بعد کے دن دکھوں سے عبارت ہوں گے۔ وہ شہرام جیسے درندے کی قید سے نکل کر بھاگنا چاہتی تھی، مگر یہ سوچ کر اس کا ذہن بھاگنے کا ارادہ ملتوی کردیتا کہ وہ بھاگ کر جائے گی کہاں!
پھر ایک روز ماہ نور نے شہرام کی کسی سے فون پر کی جانے والی گفتگو سن لی۔ شہرام کسی شخص سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ’’تجھے میں جو لڑکی اب کی بار دوں گا، وہ پچھلی والیوں سے بہت زیادہ حسین ہے۔ تو کل صبح آکر فلیٹ پر دیکھ لینا۔ جو رقم تو دے رہا ہے، وہ بہت کم ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ دوسری طرف کی گفتگو سننے لگا۔
شہرام کی دوسرے کمرے میں گفتگو جاری تھی مگر ماہ نور نے جو سن لیا تھا، اس کے لئے اتنا کافی تھا۔ اب اسے یہاں مزید نہیں رکنا تھا۔
٭…٭…٭
دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی رات تھی، سنسناتی ہوائوں کی سرسراہٹ کواڑوں میں ارتعاش پیدا کررہی تھی۔ لوگ اپنے گھروں میں لحافوں میں دبکے پڑے تھے۔ ماہ نور، شہرام کی گہری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاک کھول کر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور بھاگتے ہوئے سڑک پر کافی آگے نکل آئی تھی۔ ’’میڈم! کدھر جانا ہے؟‘‘ ماہ نور کے نزدیک ایک موٹرسائیکل آکر رکی جس پر دو آوارہ لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک لڑکے نے ماہ نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا۔
ماہ نور کے حلق سے چیخ برآمد ہوئی۔ وہ ہاتھ چھڑا کر بھاگی اور بے دم سی ہوکر اپنے سامنے آتی ہوئی کار کے سامنے گر پڑی۔ کار ایک جھٹکے سے رک گئی۔ کار میں سوار میڈم شاہینہ فوراً اتریں۔ انہیں کار سے اترتا دیکھ کر وہ دونوں لڑکے موٹرسائیکل پر بھاگ نکلے۔
’’کون ہو تم! اتنی رات گئے تنہا گھر سے باہر کیوں نکلی ہو؟‘‘ میڈم شاہینہ نے ماہ نور کو اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
’’پلیز آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گی، کس مجبوری کی وجہ سے میں گھر سے نکلی ہوں۔‘‘ ماہ نور نے الجھی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔ تم آئو میرے ساتھ!‘‘ میڈم شاہینہ، ماہ نور کو اپنی دوست کے گھر لے گئیں۔ ماہ نور سے اس کی ساری بپتا سن کر انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور شہرام کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔
٭…٭…٭
شہرام نے ماہ نور کے لگائے گئے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پولیس کے سامنے اسے ذہنی مریضہ قرار دیا، جو کسی پر بھی کوئی الزام لگا سکتی تھی۔ شہرام، ماہ نور کو اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا مگر ماہ نور نے صاف انکار کردیا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی۔
میڈم شاہینہ نے ماہ نور کو دارالامان بھجوا دیا۔ دارالامان میں رہتے ہوئے ماہ نور نے خلع کی درخواست دائر کی۔ پیشی پر شہرام کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسے ازخود عدالت کی طرف سے طلاق مل گئی۔
اس دوران ماہ نور، میڈم شاہینہ سے رابطے میں رہی۔ خلع کے بعد میڈم شاہینہ اسے اپنے ساتھ پنڈی لے گئی تھیں۔ پہلے انہوں نے ماہ نور کے گھر والوں سے رابطہ کرنا چاہا تھا مگر ماہ نور نے انہیں منع کردیا۔ ماہ نور کی شکل میں انہیں پڑھی لکھی خادمہ مل گئی تھی۔ ماہ نور نے ان کی اجازت سے پرائیویٹ طور پر اپنی تعلیم کا آغاز کردیا تھا۔
وقت تیزی سے کروٹ بدلتا رہا۔ ماہ نور نے پرائیویٹ بی اے کرلیا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ماہ نور پر میڈم شاہینہ کا التفات بڑھتا جارہا تھا۔ وہ اسے اپنا غمگسار سمجھنے لگی تھیں۔
’’میں سوچ رہی ہوں کہ اپنی وصیت میں تبدیلی کرکے تمہیں بھی اپنی جائداد میں سے کچھ حصہ دے دوں۔‘‘ ایک دن شام میں چائے پیتے ہوئے میڈم شاہینہ نے ماہ نور سے کہا۔
’’میڈم! آپ کو اپنی وصیت میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے آپ کی جائداد میں سے کچھ نہیں چاہئے۔ آپ کا مجھ پر یہ احسان کیا کم ہے کہ آپ نے مجھے سہارا دیا۔ جب تک آپ زندہ ہیں، میں آپ کی خدمت کرتی رہوں گی۔‘‘ ماہ نور جذباتی لہجے میں بولی۔
’’خدمت تو تم میری پانچ سالوں سے کررہی ہو اور وہ بھی بلامعاوضہ!‘‘
’’بلامعاوضہ کہاں! آپ ہر مہینے مجھے معقول رقم دیتی ہیں جسے میں اپنی مرضی سے خرچ کرسکتی ہوں۔‘‘
’’وہ تو میں تمہیں پاکٹ منی دیتی ہوں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بنا کر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ تمہاری وجہ سے میرا دل بہل جاتا ہے ورنہ میں سٹھیا کر پاگل خانے پہنچ جاتی۔ جب سے میرا بیٹا دنیا سے گیا ہے، مجھے شدید غصہ آنے لگا ہے۔ کئی مہینوں سے میں اپنے بھتیجے عالیان کو فون کررہی ہوں مگر اسے فون کرنے کی فرصت نہیں۔ یہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی، جب دیکھو ایک ہی بات کہتا ہے کہ میں مصروف ہوں۔ جانتی ہوں عالیان کو مجھ سے دور کرنے والی فرزین ہے۔ اس کے بہکاوے میں آکر وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ وہ ایک شرپسند اور شاطر عورت ہے، اسی لئے میں نے سوچا ہے کہ عالیان کے ساتھ تمہیں بھی اپنی وراثت کا حقدار بنا دوں۔‘‘ میڈم شاہینہ نے کہا۔
’’میڈم! میں نے کہا نا مجھے آپ کی جائداد میں سے کچھ نہیں چاہئے۔ میں آپ سے بے غرض اور پرخلوص محبت کرتی ہوں۔ اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بنانا تھا، تب ہی میری آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ آپ لاہور عالیان سے ملنے آئی تھیں۔ آپ نے مجھے شہرام جیسے درندے سے چھٹکارا دلوایا۔ ایک بات کہوں آپ عالیان صاحب کو اتنا مس کررہی ہیں تو ان سے ملنے چلی جائیں۔‘‘ ماہ نور نے دھیمے لہجے میں انہیں مشورہ دیا۔ ’’میں اس کے گھر جاکر کیا کروں گی۔ اس کی بیوی کا مجھے دیکھتے ہی منہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتی ہے۔ میں نے عالیان سے کہا تھا کہ اس کی بیوی اپنے تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے اسے لے ڈوبے گی اور گزرتے وقت نے یہ بات ثابت کردی۔ کاروبار فرزین کی غلط حکمت عملی کے سبب ڈوب گیا ہے۔ عالیان اور فرزین نے اپنی حیثیت صرف قرض کے بل بوتے پر برقرار رکھی ہوئی ہے۔ کاروبار کو جمانے کے لئے فرزین بینک سے بھاری سود پر رقومات لے رہی ہے۔ قرض چکانا کوئی آسان بات ہے کیا؟‘‘ یہ کہتے ہوئے میڈم شاہینہ لان میں نظریں دوڑاتے ہوئے کچھ سوچنے لگیں۔
’’کیا سوچ رہی ہیں میڈم…؟‘‘ انہیں سوچتے دیکھ کر ماہ نور نے پوچھا۔
’’میں سوچ رہی ہوں گھر میں تھوڑی تبدیلی کروا لوں۔ لان کو میں بڑا کروانا چاہ رہی ہوں۔ تم میری ڈائری سے ٹھیکیدار کا نمبر لے کر اسے کال کردو کہ وہ کل صبح آکر مجھ سے مل لے۔‘‘
’’اوکے… میڈم! میں ابھی جاکر فون کردیتی ہوں۔‘‘ ماہ نور اٹھتے ہوئے بولی۔ اس کے جانے کے بعد میڈم شاہینہ لان میں چہل قدمی کرنے لگیں۔
اگلے دن صبح عالیان کی اچانک آمد پر وہ حیران رہ گئیں۔
’’عالیان! تم اچانک یہاں کیسے؟‘‘ میڈم شاہینہ نے اسے دیکھتے ہی خوشگوار لہجے میں پوچھا۔
’’فرزین کا اچانک اسلام آباد آنے کا پروگرام بن گیا، میں بھی چلا آیا کہ آپ سے ملاقات ہوجائے گی۔ فرزین آج بزی تھی، وہ کل آپ کے گھر موجود ہوگی۔ ہم دونوں کا ارادہ آپ کے گھر رکنے کا ہے۔ آپ تو میرے گھر آتی نہیں!‘‘
عالیان کا شکوہ سن کر میڈم شاہینہ کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ ابھری۔ ’’میں آئوں گی تمہارے گھر! ایک بات بتائو تم دونوں میاں، بیوی اس لیڈی سرجن کے پاس گئے تھے جس سے میں نے تمہیں ملنے کا مشورہ دیا تھا؟‘‘
میڈم شاہینہ کے اس سوال پر عالیان کے چہرے پر اداسی کا تاثر ابھرا۔ اگلے لمحے اس نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ ’’جی آنٹی! ہم ان سے ملے تھے۔ انہوں نے بھی دوسرے ڈاکٹروں کی کہی ہوئی بات دہرا دی کہ فرزین کے ہاں اولاد نہیں ہوسکتی۔‘‘
’’عالیان! مجھے ایک بات بتائو تمہیں اولاد کی خواہش ہے یا نہیں؟‘‘
عالیان نے حیرانی سے میڈم شاہینہ کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’پھر تم دوسری شادی کرلو۔‘‘
’’آپ اتنی آسانی سے کہہ رہی ہیں کہ میں دوسری شادی کرلوں، فرزین بھلا مجھے دوسری شادی کی اجازت دے گی؟‘‘ عالیان کے لہجے میں طنز تھا۔
’’خیر میرا کام تمہیں مشورہ دینا تھا۔ میری یہ بات یاد رکھنا گزرتے وقت کے ساتھ تمہیں اولاد سے محرومی کا احساس بڑھتا جائے گا۔‘‘
’’وہ تو مجھے اب بھی ہے۔‘‘ عالیان نے سرد آہ بھری۔
اتنے میں ڈرائنگ روم میں ماہ نور داخل ہوئی۔ ماہ نور نے سلام کرتے ہوئے ایک نظر عالیان پر ڈالی اور میڈم شاہینہ سے مخاطب ہوئی۔ ’’میڈم! ٹھیکیدار آگیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم اسے لان میں بٹھائو، میں وہیں آکر اس سے بات کرتی ہوں۔‘‘
’’جی بہتر!‘‘ اتنا کہہ کر ماہ نور کمرے سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد عالیان نے میڈم شاہینہ سے کہا۔ ’’آپ اس لڑکی کی شادی کرکے اپنے گھر سے رخصت کیوں نہیں کردیتیں؟‘‘
’’میرا دل نہیں چاہتا اس جیسی مخلص اور بے لوث محبت کرنے والی لڑکی کو خود سے دور کرنے کا! روحیل کے بعد وہی میرا سہارا ہے۔ میرے دکھ سکھ کی ساتھی!‘‘
’’یہ تو آپ کی خود غرضی ہوئی۔ ابھی یہ جوان ہے، اس کی دوسری شادی ہوسکتی ہے، پھر اسے کون پوچھے گا۔‘‘
’’عالیان! تمہیں اس سے بڑی ہمدردی ہورہی ہے۔ تم اسے میری خودغرضی سمجھو یا کچھ اور! میں اپنی زندگی کے باقی دن ماہ نور کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔ میری موت کے بعد اسے دارالامان جانا ہی ہے۔ تم بیٹھو، میں تمہارے لئے چائے بھجواتی ہوں۔‘‘ میڈم شاہینہ جانے کے لئے اٹھیں۔ عالیان نے میز پر رکھا میگزین اٹھا لیا اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔
٭…٭…٭
صبح سے موسم ابر آلود تھا، ساتھ ہی ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی تھیں، جن کے چلنے سے درخت اور پودے جھوم رہے تھے۔ فرزین کا موڈ بے حد اچھا تھا، تب ہی وہ اپنی خوشی سے میڈم شاہینہ سے ملنے آئی تھی، ورنہ اس سے قبل وہ عالیان کے اصرار پر آتی تھی۔ وہ تینوں آپس میں محوگفتگو تھے۔ کلثوم ٹرالی میں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات لے آئی۔ کلثوم نے پلیٹیں اٹھا کر عالیان اور فرزین کو پکڑائیں۔
میڈم شاہینہ بولیں۔ ’’فرزین! میں نے عالیان سے کہا ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے، اولاد کے لئے دوسری شادی کرنا اس کا حق بنتا ہے۔ تمہیں خوشی سے اسے دوسری شادی کی اجازت دے دینی چاہئے۔‘‘
فرزین کا خوشگوار موڈ یکدم تبدیل ہوگیا۔ وہ بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے بولی۔ ’’آنٹی! میں اور عالیان اولاد کے بغیر بھی بہت خوش ہیں۔ وہ اولاد کے لئے دوسری شادی کبھی نہیں کرے گا۔ بہتر ہوگا آپ اس سلسلے میں پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’کیسے پریشان نہ ہوں، عالیان میرا وارث ہے۔ اسے اولاد کی خواہش ہے۔ تمہارا دل نہ دکھے، اس لئے یہ اپنی خواہش کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کی خواہش میں پورا کرکے رہوں گی۔ کیوں عالیان…؟‘‘
عالیان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ فرزین کھول کر رہ گئی۔
’’فرزین! ویسے بھی تمہارے پاس اب بچا کیا ہے۔ کوٹھی! جس کی بدولت تمہاری شان و شوکت قائم ہے، وہ بھی بینک کا لون چکانے کے لئے بیچنی پڑے گی۔ بہت برا وقت چل رہا ہے تمہارا۔ میں نہیں چاہتی کہ مزید کوئی محرومی تمہارا مقدر بنے اس لئے میں کہہ رہی ہوں کہ تم…!‘‘
’’پلیز آنٹی! میں آپ سے یہاں ملنے آئی ہوں۔ آپ اس طرح کی باتیں کرکے میرا موڈ خراب کررہی ہیں۔ کم ازکم اس بات کا خیال کرلیں کہ میں آپ کی مہمان ہوں۔‘‘ فرزین نے ان کی بات کاٹتے ہوئے حتی الامکان اپنا لہجہ دھیما رکھنے کی کوشش کی، جبکہ دل اس کا یہی چاہ رہا تھا کہ وہ انہیں کھری کھری سنائے کہ وہ میاں، بیوی کے معاملے میں دخل کیوں دے رہی ہیں۔ ’’آنٹی! آپ بھی کچھ لیں نا!‘‘ فرزین نے سینڈوچ کی پلیٹ اٹھا کر شاہینہ کی جانب بڑھائی۔
’’نو تھینکس!‘‘ کہتے ہوئے وہ ہاتھ باندھے کھڑی کلثوم کی جانب متوجہ ہوئیں۔ ’’تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟‘‘
’’بیگم صاحبہ! مجھے آپ سے بات کرنا تھی۔ مہربانی کرکے آپ مجھ سے کوارٹر خالی نہ کرائیں۔ میرا اس گھر کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، میں کہاں جائوں گی؟‘‘ کلثوم نے ملتجی لہجے میں کہا۔
’’دیکھو کلثوم! تمہارا بیٹا اب بڑا ہوگیا ہے۔ تم اپنی رہائش کا کسی اور جگہ انتظام کرلو۔ میں تمہارے بیٹے کی وجہ سے تمہیں اپنے گھر کے اندر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔‘‘
’’بیگم صاحبہ! مجیب آپ کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ اس کی کوئی بات آپ کو بری لگی ہو تو معاف کردیں۔‘‘ کلثوم نے التجا کی۔
’’کلثوم! میں تمہیں نوکری سے فارغ نہیں کررہی ہوں، تم میرے یہاں بدستور کام کرتی رہو۔ میں اپنا لان بڑا کروا رہی ہوں، تمہارا کوارٹر چونکہ لان سے ملحق ہے، اس لئے اسے توڑنا پڑے گا۔ مجبوری ہے تم اپنی رہائش کا کہیں اور انتظام کرلو۔ اب جائو یہاں سے، دیکھ نہیں رہیں میں مہمانوں سے باتوں میں مصروف ہوں۔‘‘ میڈم شاہینہ نے قہرآلود نظر اس پر ڈالی تو وہ مزید التجا کئے بغیر وہاں سے چلی گئی۔
٭…٭…٭
شام کا وقت تھا میڈم شاہینہ، ماہ نور کے ساتھ مارکیٹ گئی ہوئی تھیں۔ فرزین ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گیسٹ روم میں عالیان پر برس رہی تھی۔ ’’عالیان! تمہاری آنٹی کی باتیں سن کر میرا دماغ گھوم گیا ہے۔ عجیب بدتمیز عورت ہیں جس کے پیچھے پڑ جائیں، اس کی زندگی اجیرن کردیتی ہیں۔ تمہارے انکل کی جوانی میں موت کی وجہ بھی یہی محترمہ ہیں۔ بیچارے انکل نے ان کی باتوں کو دل پر لے لیا ہوگا تب ہی جوانی میں ہارٹ اٹیک ہوگیا۔ میں یہاں چند دن رہنے کے لئے اس لئے آئی تھی کہ موقع ملتے ہی کاروبار کو اسٹیبلش کرنے کا ذکر چھیڑوں گی تو تم آنٹی سے رقم کا مطالبہ کرتے مگر تمہاری آنٹی کے مزاج کو دیکھ کر میں سوچ رہی ہوں، اپنے قیام کو مختصر کرکے یہاں سے روانہ ہو جائوں۔ تم آنٹی کے سامنے چپ سادھے بیٹھے تھے، کہہ نہیں سکتے تھے کہ تمہیں اولاد کی کوئی خواہش نہیں۔ ویسے بھی یہ ہم میاں، بیوی کا ذاتی معاملہ ہے۔ آنٹی اس معاملے میں دخل اندازی کرنے والی کون ہوتی ہیں۔ ان کی قابل رشک صحت دیکھ کر مجھے یوں لگ رہا ہے آئندہ دس پندرہ سالوں تک ان کا اوپر جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کی طرف سے ملنے والی وراثت کے انتظار میں کہیں ہم خود اوپر نہ پہنچ جائیں۔ جس طرح کی ان کی دماغی کنڈیشن ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں وہ تمہیں وراثت سے محروم نہ کردیں۔ ویسے بھی وہ ماہ نور پر بہت مہربان ہورہی ہیں۔ میں کل یہاں سے جارہی ہوں، تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔ بڑھیا کے دماغ کا کوئی بھروسہ نہیں، کب تمہارا دماغ پھیر دے اور تم مجھے طلاق دے دو۔‘‘ فرزین سانس لینے کے لئے رکی۔
عالیان دھیمے لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ ’’فرزین! تم بلاوجہ ہائپر ہورہی ہو۔ خود بھی ٹینشن لے رہی ہو اور مجھے بھی ٹینشن دے رہی ہو۔ آنٹی نے ایسا بھی کچھ غلط نہیں کہا۔ اولاد کی خواہش کسے نہیں ہوتی، مجھے بھی ہے۔‘‘
’’مجھے تمہاری خواہش سے انکار نہیں۔ ہم کوئی بچہ بھی ایڈاپٹ کرسکتے ہیں۔ فی الحال تو بینک کا لون ادا کرنے کا سوچو۔‘‘
’’لون کی وجہ سے میں فکرمند ہوں فرزین! ہم کل یہاں سے نہیں جائیں گے، آنٹی خفا ہوں گی۔ میں ان کی ناراضی سے ڈرتا ہوں۔ تم جائو لان میں جاکر چہل قدمی کرو، تھوڑا ریلیکس ہوجائو گی۔‘‘ فرزین کے جانے کے بعد عالیان کو کلثوم نے آکر اطلاع دی کہ بیگم صاحبہ اسے چائے پر بلا رہی ہیں۔ عالیان چند منٹ بعد لان میں پہنچا تو وہاں فرزین، ماہ نور اور میڈم شاہینہ پہلے سے موجود تھیں۔ عالیان نے لان میں لگے پودوں پر سرسری نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔ ’’آنٹی! آپ لان بڑا کروا رہی ہیں۔ اچھا خاصا بڑا تو ہے یہ لان!‘‘
’’ہاں ہے تو مگر مجھے اس میں فائونٹین لگوانا ہے اور کچھ پرندے بھی رکھنے ہیں۔ ظاہر ہے اس کے لئے جگہ چاہئے۔ ٹھیکیدار تو آج سے کام شروع کرنا چاہتا تھا پر میں نے منع کردیا کہ اگلے ہفتے سے کام شروع کرے۔ ڈسٹ اور شور شرابے سے تم لوگوں کو پریشانی ہوگی۔ کلثوم کو بھی وقت مل گیا وہ کوئی دوسرا ٹھکانہ ڈھونڈ لے گی۔‘‘
’’آنٹی! آپ کلثوم کے لئے چھت پر چھوٹا سا کوارٹر بنوا دیں، وہ بیچاری کہاں جائے گی۔‘‘
’’عالیان! میں تو کلثوم کو فارغ کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہی تھی۔ اس کا بیٹا آوارہ لڑکوں کی صحبت میں پڑ کر ہیروئن پینے لگا ہے۔ کلثوم کے پیسے بھی چرا کر لے جاتا ہے۔
آٹھویں کلاس میں فیل ہونے پر اسکول چھوڑ دیا۔ اب بھگتے! مجھے تو اس کے بیٹے کا وجود اپنے گھر میں گوارا نہیں۔‘‘ میڈم شاہینہ نے کہا۔
فرزین نے اچٹتی ہوئی نگاہ ماہ نور پر ڈالی اور حقارت بھرے لہجے میں بولی۔ ’’آنٹی! آپ کو جن پر بھروسہ کرنا چاہئے، ان پر آپ نہیں کرتیں اور غیروں پر کرلیتی ہیں۔ اب ماہ نور کو آپ نے گھر میں رکھا ہوا ہے، اچھی خاصی یہ دارالامان میں رہ رہی تھی پھر…!‘‘
’’شٹ اَپ! تم جب بھی بات کرتی ہو، بے تکی کرتی ہو۔ ماہ نور مجھے بہت پیاری ہے، عالیان سے بھی زیادہ!‘‘ ماہ نور جس کا چہرہ ایک دم بجھ گیا تھا، میڈم شاہینہ کی بات سنتے ہی کھل اٹھا۔
٭…٭…٭
عالیان اور فرزین چار روز شاہینہ آنٹی کے گھر قیام کرنے کے بعد ہفتے کی شام گھر روانہ ہوگئے۔ اگلے روز ماہ نور ناشتے کے لئے میڈم شاہینہ کی منتظر تھی۔ میڈم شاہینہ مقررہ وقت پر اپنے کمرے سے باہر نہ نکلیں تو ماہ نور نے ملازمہ رقیہ کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہانپتی کانپتی ہوئی ماہ نور کے پاس واپس پہنچی۔ ’’بی بی جی کو میں نے اٹھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ تو بیڈ پر یوں پڑی ہوئی ہیں، جیسے خدانخواستہ مر گئی ہوں۔ آپ فوراً میرے ساتھ چلیں۔‘‘ رقیہ نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں بتایا۔
ماہ نور فوراً رقیہ کے ساتھ کمرے میں پہنچی۔ میڈم شاہینہ بیڈ پر اکڑی پڑی ہوئی تھیں۔ ماہ نور نے ان کی دل کی دھڑکن اور نبض چیک کی۔ فوراً ڈاکٹر کو بلا یا گیا۔ یہ بات وہ جان چکی تھی کہ میڈم اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔ ڈاکٹر نے آتے ہی میڈم شاہینہ کی موت کی تصدیق کردی۔
٭…٭…٭
’’خاتون! تشریف رکھئے۔‘‘ ایس ایچ او نظیرالدین نے کہا۔ ماہ نور جو ابھی کچھ دیر قبل تھانے پہنچی تھی، بے حد گھبرائی ہوئی تھی۔ اس کے
چہرے پر پھیلی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے ایس ایچ او نظیر مزید بولے۔ ’’خاتون! آپ گھبرائیں نہیں، اطمینان سے بتائیں آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا نام ماہ نور ہے۔ بہتر ہوگا کہ میں وضاحت سے آپ کو اپنے متعلق سب کچھ بتا دوں تاکہ آپ میری پوزیشن کو سمجھ سکیں۔‘‘ یہ کہہ کر ماہ نور نے اپنے متعلق وہ تمام باتیں بتا دیں کہ کن حالات کا شکار ہوکر وہ میڈم شاہینہ تک پہنچی، ساتھ ہی ان کی موت کے متعلق بھی بتا دیا۔ ’’میڈم کی موت طبعی نہیں ہے، انہیں قتل کیا گیا ہے۔ میں آپ کو ان کے قتل کے متعلق ہی بتانے آئی ہوں اور…!‘‘
’’ایک منٹ! آپ کو یقین ہے کہ میڈم شاہینہ کو قتل کیا گیا ہے؟‘‘ ایس ایچ او نظیر نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’جی ہاں! مجھے پورا یقین ہے۔ صبح جب میں ان کے کمرے میں گئی تھی، میں نے انہیں بے سدھ پڑا دیکھ کر ان کی نبض چیک کرنے کے لئے ان کے ہاتھ کو اٹھایا تھا۔ ہاتھ کے پاس مجھے بیڈ پر ایک مردانہ قمیض کا بٹن پڑا ملا تھا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ بٹن مجیب کا ہے۔‘‘
’’مجیب کون ہے؟‘‘
’’مجیب ان کی ملازمہ کلثوم کا بیٹا ہے۔ وہ ایک نشئی اور آوارہ لڑکا ہے۔ کچھ دن پہلے میڈم نے اس کی ماں سے کہا تھا کہ وہ ان کا کوارٹر خالی کردے۔ اس بات پر وہ میڈم سے خاصا الجھا تھا۔ میڈم کی وفات کی خبر سن کر جب وہ ان کے کمرے میں آیا تھا تو میری نظر اتفاقاً اس کی قمیض کے گریبان پر پڑی تھی۔ اس کی قمیض کے گریبان کا اوپری ایک بٹن ٹوٹا ہوا تھا۔ مجیب یقیناً رات کو میڈم کے کمرے میں گیا تھا۔ اب یہ نہیں پتا کہ وہ چوری کے ارادے سے گیا تھا یا انہیں…!‘‘
’’یہ معلوم ہو جائے گا۔ پہلے یہ تو پتا چلے کہ میڈم شاہینہ کی موت کیسے واقع ہوئی۔ یہ بات میڈیکل ایگزامنر ہی بتا سکتا ہے۔ ایک بات بتائیں آپ کو کمرے میں کسی قسم کی بے ترتیبی دکھائی دی تھی؟‘‘ ایس ایچ او نے ماہ نور کی بات کو کاٹتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں…!‘‘ ماہ نور کا سر نفی میں ہلا پھر وہ بولی۔ ’’سر! آپ تفتیش کریں، حقائق آپ کے سامنے آجائیں گے۔ میں تھانے آئی اس لئے ہوں کہ آپ سے تفتیش کی درخواست کروں۔ میں دولت مند نہیں ہوں لیکن میرے پاس جو کچھ ہے، وہ میں میڈم کے قتل میں ملوث مجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے میں بے جھجک خرچ کروں گی۔‘‘
’’ایک منٹ! دولت کے تذکرے پر مجھے خیال آیا۔‘‘ نظیر نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’یہ بتائیں کہ میڈم کی وراثت میں سے آپ کو کتنا حصہ ملے گا؟‘‘
’’جہاں تک میرے علم میں ہے، ان کی وراثت میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ بے سہارا خاتون ہیں؟‘‘ نظیر نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔
’’مجھے میڈم ہر مہینے کچھ رقم خرچ کے لئے دیتی تھیں۔ میرے اخراجات برائے نام ہیں اس لئے بچت کرنا میرے لئے مشکل نہیں تھا۔ میں اپنے پاس جمع رقم کی پائی پائی مجرم کو سزا دلوانے پر خرچ کرسکتی ہوں۔‘‘
’’میڈم شاہینہ کی جائداد کا وارث کون ہے؟‘‘ ایس ایچ او نظیر نے مزید پوچھا۔
’’عالیان ان کے مرحوم بھائی کا بیٹا۔‘‘
’’فرض کریں کہ عالیان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے، ایسی صورت میں میڈم کی چھوڑی ہوئی دولت کا حقدار کون ہوگا؟‘‘
’’ایسی صورت میں تمام دولت چیریٹی کو دی جائے گی۔‘‘
ایس ایچ او نظیر نے ماہ نور سے مزید چند سوالات کرنے کے بعد اسے رخصت کردیا۔ ماہ نور کے کوٹھی میں واپس پہنچنے کے کچھ دیر بعد پولیس موبائل بھی وہاں پہنچ گئی۔ اس وقت عالیان اور فرزین تدفین میں شرکت کے لئے پہنچ گئے تھے۔ کوٹھی کا بیرونی گیٹ کھلا ہوا تھا۔ عالیان گیٹ کے باہرموجود تھا۔ کچھ مرد اس کے پاس کھڑے تعزیت کررہے تھے۔ عالیان نے پولیس موبائل سے اترتے ایس ایچ او نظیر کو حیرت سے دیکھا، جیسے ان کی موجودگی پر یقین نہ آرہا ہو۔
ایس ایچ او نظیر اپنے ساتھیوں سمیت عالیان کے پاس پہنچے اور اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔
’’اوہ! تو ماہ نور نے آپ سے تفتیش کی درخواست کی ہے۔ کوئی وجہ تو ہوگی جس کی بنیاد پر اسے شبہ ہوا کہ آنٹی کو قتل کیا گیا ہے۔‘‘ عالیان نے پوچھا۔
ایس ایچ او نظیر نے اپنے لہجے کو دھیما کرتے ہوئے کہا۔ ’’فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ لاش کو میڈیکل آفیسر چیک نہ کرلے۔ بہتر ہوگا کہ آپ ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔ ہم لوگ اپنی کارروائی کئے بغیر آپ کو لاش دفنانے نہیں دیں گے۔‘‘
’’اوکے…!‘‘ عالیان نے کہا اور پولیس کو لئے اندرونی جانب بڑھ گیا۔
٭…٭…٭
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ میڈم شاہینہ کی موت گلا گھوٹنے سے واقع ہوئی تھی۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے مجیب کو گرفتار کرنے کے بعد اس سے اگلوا لیا کہ اس نے میڈم کو کیوں قتل کیا تھا۔ مجیب نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے فرزین کے کہنے پر قتل کیا تھا۔ فرزین نے اس کام کے عوض اسے پانچ لاکھ روپے کی رقم دینے کا کہا تھا جس میں سے کچھ رقم وہ دے بھی چکی تھی۔
مجیب کے اس انکشاف کے بعد پولیس نے فرزین کو گرفتار کرلیا۔ فرزین پہلے تو یہ کہتی رہی کہ مجیب نے ماہ نور کے کہنے پر اسے پھنسایا ہے، بعد میں پولیس کی سختی کرنے پر وہ اپنی زبان کھولنے پر مجبور ہوگئی۔ فرزین نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’آنٹی شاہینہ کے گھر چار روزہ قیام کے دوران اس نے آنٹی اور عالیان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سن لیا تھا۔ آنٹی، عالیان کو بتا رہی تھیں کہ وہ اپنی وصیت کو تبدیل کرتے ہوئے اپنی کوٹھی اور بینک میں موجود رقم کا کچھ حصہ ماہ نور کے نام کرنا چاہتی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ عالیان، ماہ نور سے دوسری شادی کرلے۔ عالیان نے کہا تھا کہ اسے فیصلہ کرنے کے لئے کچھ وقت چاہئے مگر مجھے پتا تھا کہ وہ یہ بات ایسے ہی کہہ رہا ہے۔ ماہ نور سے شادی کرنے میں اس کا ہی فائدہ تھا۔ عالیان نے مجھ سے اپنی اور آنٹی کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ذکر نہیں کیا۔ میں نے وہ دن پریشانی کے عالم میں گزارہ۔ میں نے سوچ لیا کہ قبل اس کے آنٹی اپنی وصیت کو تبدیل کرکے وراثت میں ماہ نور کو حقدار بنائیں، مجھے ان کا قصہ ختم کردینا چاہئے۔ مجیب مجھے اس کام کے لئے موزوں لگا۔ اگلے دن میں شاپنگ پر جاتے ہوئے مجیب کو سامان اٹھانے کی غرض سے اپنے ساتھ لے گئی۔ باتوں باتوں میں، میں نے آنٹی کے خراب رویئے کا ذکر کیا تو مجیب نے انہیں گالیاں دی تھیں۔ مجیب کے لئے آنٹی کا خاتمہ کردینا مشکل نہ تھا۔ وہ گھر کے چپے چپے سے واقف تھا۔ آنٹی رات میں نیند کی گولی لے کر بے خبر سوتی تھیں۔ ان کے کمرے میں پہنچ کر ان کا گلا دبا دینا بے حد آسان تھا اور جیسا کہ مجیب نے بتایا کہ اس نے ان کی گردن پر ہاتھ رکھا، وہ بیدار ہوگئیں اور مزاحمت کی کوشش کرنے لگیں۔ ان کے ہاتھ میں مجیب کی آستین کا بٹن آگیا جو بعد میں بیڈ پر پڑا ہوا ماہ نور کو مل گیا۔ مجیب بدحواسی کے عالم میں کمرے سے نکلا۔ اسے بیڈ پر پڑا ہوا اپنی قمیض کا بٹن دکھائی نہ دیا۔ اس ذرا سی غلطی نے اس کی موت کا سامان کردیا۔‘‘
’’اور آپ کو بھی گرفتار کروا دیا۔ مجیب کو اس قتل پر اکسانے کا الزام آپ کے سر ہے۔ سزا آپ کو بھی بھگتنا ہوگی۔‘‘ ایس ایچ او نظیر نے کہا۔
فرزین بولی۔ ’’یہ تو وقت بتائے گا۔ میرا وکیل اس قابل ہے کہ…!‘‘
ایس ایچ او نظیر اس کی بات کاٹتے ہوئے لیڈی پولیس سے مخاطب ہوئے۔ ’’انہیں یہاں سے لے جائو۔ انہیں اپنے جرم کی سنگینی کا احساس نہیں ہے۔ جب جیل میں کچھ وقت گزرے گا تو عقل ٹھکانے آجائے گی۔‘‘
٭…٭…٭
عالیان نے ماہ نور کو ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ہوا دیکھا تو خود بھی ادھر چلا آیا۔ ماہ نور کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا ہوا تھا۔
’’کیا میں یہاں تمہارے ساتھ چائے پی سکتا ہوں؟‘‘ عالیان نے کھنکارتے ہوئے ٹیبل کے نزدیک پہنچ کر کہا۔
ماہ نور ایک دم چونک گئی پھر بولی۔ ’’جی ضرور…!‘‘
عالیان، ماہ نور کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ماہ نور نے فوراً تھرماس سے چائے کپ میں انڈیل دی۔ پھر عالیان سے پوچھا۔ ’’کتنی شوگر لیں گے؟‘‘
’’ایک چمچ…!‘‘
ماہ نور نے شوگر ملانے کے بعد کپ عالیان کی جانب بڑھا دیا۔
عالیان نے بغور ماہ نور کے چہرے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے پپوٹے متورم ہورہے تھے۔ منتشر سوچوں نے اسے رات بھر سونے نہیں دیا تھا۔ وہ اپنی ذہنی کیفیت کو چھپائے ہوئے بظاہر پرسکون نظر آنے کی کوشش کررہی تھی۔ عالیان کو اس پر بے حد ترس آرہا تھا۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ عالیان نے پوچھا۔
’’جی! میں ٹھیک ہوں۔ دراصل میڈم کی موت کا غم ایسا ہے کہ میں خود کو اس کیفیت سے نہیں نکال پارہی۔ آج رات میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب مجھے یہاں مزید ٹھہرنے کے بجائے دارالامان چلے جانا چاہئے۔ مجھ جیسی بدنصیب لڑکیوں کا ٹھکانہ وہی ہے۔‘‘ ماہ نور کی آواز بھرا گئی۔
’’ماہ نور! تم کہیں نہیں جائو گی۔ آنٹی کی یہ خواہش تھی کہ وہ گھر تمہارے نام کردیں، موت نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی۔ اب یہ گھر تمہارا ہی رہے گا۔‘‘
’’میں تنہا اس گھر میں رہ کر کیا کروں گی۔ مجھے کبھی آنٹی کی دولت کا لالچ نہیں رہا۔‘‘
’’کون کہہ رہا ہے تم اس گھر میں تنہا رہو۔ تم چاہو تو میں بھی تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں، تم سے شادی کرکے! اگر تم مناسب سمجھو تو میری زندگی میں شریک ہوجائو۔ فرزین کی اب میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں رہی۔ مجھے تم جیسی مخلص ساتھی کی ضرورت ہے۔‘‘
’’مگر میرا اور آپ کا کوئی جوڑ نہیں۔ کہیں آپ مجھ پر ترس کھا کر تو یہ جذباتی فیصلہ نہیں کررہے؟‘‘
’’ہرگز نہیں! تم مجھے پسند ہو تب ہی میں نے یہ پیشکش کی ہے۔ بہرحال تمہاری رضامندی ضروری ہے۔ تم اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں خودمختار ہو۔ آنٹی شاہینہ کی بھی یہی خواہش تھی کہ تمہیں میری شریک حیات کے روپ میں دیکھیں۔ میری اس بات سے تم یہ مت سمجھنا کہ یہ آفر آنٹی کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کررہا ہوں۔ یہ میری ذاتی خواہش ہے کہ تم میری زندگی میں شریک ہوجائو، خاص طور پر اس وقت جب مجھے بے غرض اور محبت کرنے والی شریک حیات کی ضرورت ہے۔ بولو ماہ نور! تم رضامند ہو؟‘‘
ماہ نور کوئی جواب دیئے بغیر سر جھکائے بیٹھی رہی۔
’’ماہ نور! جواب دو، میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ بولو تمہیں میرا ساتھ قبول ہے؟‘‘ عالیان نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں…!‘‘ ماہ نور نے شرماتے ہوئے کہا اور اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ (ختم شد)
12