Thursday, February 22, 2024

Rasm o Rawaj Ka Talism – رسم و رواج کا طلسم

والد صاحب گاؤں کے بڑے زمیندار تھے۔ ہمارا خاندان گاؤں میں معتبر تھا اور والد صاحب اپنے علاقے میں مرکزی رہنما کی حیثیت رکھتے تھے- اور آج جو میں اپنی آپ بیتی رقم کر رہی ہوں تو وقت کی ستم ظریفی تمام ہو جانے کے بعد میرے دل پر انمٹ نقوش چھوڑ کر دم توڑ چکی ہے۔ تایا ابو میرے خالو بھی تھے، کیونکہ ان کی شریک حیات میری خالہ تھیں، ایک روز وہ کراچی سے ہمارے گھر آۓ ، ساتھ ان کا صاحبزادہ طارق بھی تھا۔ بتاتی چلوں کی خالہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔ کزن کی چند ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی۔ یہ لوگ ہم کواپنی اولاد سے بڑھ کر پیار کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خالہ جان مجھے اپنے ساتھ کراچی لے جانا چاہتی تھیں- ابو جان سخت مزاج تھے۔ وہ اجازت نہ دیتے تھے لیکن یہ مرحلہ تایا ابو نے حل کرا دیا۔ رات کے کھانے پر بات ہوئی تو ان کے اصرار پر ابو نے اجازت دے دی کیونکہ وہ تایا کی کوئی بات نہیں ٹالتے تھے۔ میرے تایا ابوکراچی میں پولیس انسپکٹر تھے۔ میں گاؤں سے کراچی جانے کی تیاری کرنے لگی۔ امی جان اور تمام سہیلیاں مجھے الوداع کہ رہی تھیں، سب کی آنکھیں پرنم تھیں جیسے میں ان سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ کر کہیں جا رہی ہوں۔ میری اپنی حالت قابل رحم تھی اور ڈرائیور کہہ رہا تھا بہن جلدی کرو، ریل گاڑی نکل جاۓ گی۔ جب میں چلی ماں مجھے بار بار پیار کر رہی تھیں۔ خالہ نے امی سے کہا بہن میں اس کی تعلیم کا معیار آپ کی منشا کے مطابق کروں گی- میرا کزن بہت شوخ مزاج تھا کہنے لگا۔ امی جان کا بس چلا تو جاتے ہی سحر کو پرنسپل کی کرسی پر بٹھا دیں گی ۔ سب ہنس پڑے۔ خالہ نے کہا چل شری، خبردار جو میری بیٹی کا مذاق بنایا۔ خیر ہم کراچی آ گئے۔ یہاں کے ماحول سے مانوس ہونے میں کچھ وقت لگا۔ خالہ جان کی محبت نے مجھے جلد معیارزندگی بخش دیا اور ایک ہفتہ بعد میرا داخلہ ایک اچھے اسکول میں کروادیا گیا۔ اسکول کا پہلا دن بڑی الجھن میں گزرا جبکہ میں گاؤں کے اسکول کی ایک ہونہار طالبہ تھی ۔ اللہ تعالی نے اچھی صورت سے نوازا تھا۔ تاہم شہر کی ہر بات گاؤں سے مختلف اور ایک جداگانہ نظام کے تابع ہوتی ہے۔ پہلے روز ہم جماعت لڑکیوں نے میری خوب نقل اتاری مگر فوزیہ آڑے آئی ۔ میری وکیل بن گئی، یوں درگت بننے سے محفوظ رہی۔ یہ فوزیہ سے میری دوستی کا پہلا دن تھا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ خالہ جان کے ساتھ والے گھر میں رہتی ہے ۔ ان کے گھر والوں سے تایا ابو اور خالہ جان کے فیملی تعلقات تھے، میری خوش بختی کہ یہ لڑکی نہ صرف میری ہم جماعت نکلی بلکہ ایک بہت اچھی دوست بھی ثابت ہوئی ، جہاں ہم رہتے تھے یہ پولیس لائن تھی جہاں پولیس والوں کی فیملیز ہی رہتی تھیں۔ بڑا کزن اپنا کاروبار کر رہا تھا جبکہ چھوٹا میٹرک میں تھا اور میں ان دنوں آٹھویں کلاس میں تھی ۔ عصر کے وقت فوزیہ آ جاتی اور ہم مل کر اسکول کا کام کرلیتیں۔اس کے بعد تازہ دم ہونے کو چھت پر چلی جاتی تھی یہ ہمارا فلیٹ دوسرے فلور پر تھا اور اس کے بعد چھت تھی۔ ایک دن چھت پر کھڑی موسم کے حسن کو محسوس کر رہی تھی کہ نگاہ بالمقابل فلیٹ پر پڑی۔ جہاں سامنے والے کمرے میں ایک لڑکا پڑھائی میں مصروف تھا۔اس نے نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ آب روز ہی میں اسے شام کے وقت اس عالم میں پاتی۔ وہ مجھے بہت ہی پڑھاکو قسم کا لگا۔ اچانک میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ آخرکسی دن تو یہ نظر اٹھا کر دیکھے گا۔ میں مقررہ وقت پہ با قاعدہ چھت پر ہوتی مگر اس کی توجہ تمام تر تعلیم پرتھی۔ چند بار اس نے ہماری چھت کی جانب دیکھا بھی مگر بغیر تاثر کے۔ اس کی نگاہیں فورا پلٹ جاتیں۔ عصر کا وقت تھا۔ میرا کزن اندر بیھٹا ڈیک پر میوزک سن رہا تھا، مدھم سروں میں نصرت فتح علی خان کی آواز آ رہی تھی۔ تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی۔ اتنے میں بیل بجی ۔ طارق نے کہا۔ سحر دیکھو تو کون ہے۔ میں نے جب دروازہ کھولا تو حیرت کا مجسمہ ہوگئی۔ کیونکہ وہی لڑکا میرے سامنے تھا۔ میری نگاہ اس کی نظر سے ملتے ہی حیا کی وادی میں اترگئی۔ طارق سے کہئے کہ فراز آیا ہے۔ میں نے آ کر کزن کو آگاہ کیا۔ غالبا ان کا کوئی پروگرام تھا کہ نام سنتے ہی طارق گھر سے ہوا ہو گیا اور میں خیالوں کی دنیا میں عازم سفر ہوگئی ۔ یہ سلسلہ تب ٹوٹا جب فوزیہ میں نے پکارا۔ یہ دشت یاد میں کیا ڈھونڈا جارہا ہے؟ ایسا کچھ نہیں. تو پھر اتنی بے خودی کیوں؟ بس ویسے ہی تصورات کو نقش نظر کر رہی تھی۔ تو بھائی کیا نذر ہو رہا ہے کچھ تو بتائے۔ میں نے چڑ کر کہا۔ چل چڑیل …… بڑی آئی شاعری فرمانے. حالانکہ اس وقت میرے اندرخیالات کی ہلچل مچی تھی ۔ گو میں ایسی باتوں میں ہرگز نہ تھی مگر دل بے بس نے اپنا ایک الگ سماں باندھ دیا تھا۔ اگلے دن شام کو میں اور فوزیہ چھت پر چہل قدمی کر رہے تھے…… میں اپنی چھت پہ اور وہ اپنی چھت پر… حالت سفر میں تھے کبھی نظریں ملتیں اور پھر واپس منزل ہو جاتیں۔ ان کی چھت کے بچے ہماری چھت کے بچوں سے کوئی شرارت بھری گفتگو یا حرکت کرتے تو ہمارے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ جاتی۔ اسی مسکراہٹ نے ہمارے درمیان ایک تعلق کو روا کر دیا کہ فراز مجھے دیکھ چکا تھا اب ہم ایک دوسرے لئے اجنبی نہ رہے تھے۔ فراز کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئیں وہ یہ تھیں کہ ان کا تعلق بھی ہمارے علاقے سے ہے اور اس کے والد صاحب تایا ابو کی طرح پولیس انسپکٹر ہیں ۔ ان کی فیملی کا بھی کبھار خالہ جان کے گھر آنا ہوتا تھا۔ یوں طارق اور فراز ….. نه صرف کلاس فیلو بلکہ اچھے دوست بھی تھے۔ چند ماہ گزر گئے اب میں پہلے سے زیادہ سنجیدہ و خاموش رہنے لگی ۔ ایک دن فوزیہ نے سوال کر دیا۔ سحر میں نوٹ کر رہی ہوں کہ تم کسی اور دنیا میں رہنے لگی ہولیکن میری دوست جذبات کے رشتے سوچ سمجھ کر نباہنے ہوتے ہیں کیونکہ یہ بہت نازک ہوتے ہیں جن کے ٹوٹ جانے سے انسان خود بھی ٹوٹ جاتا ہے، پھر ہمارا معاشرہ ہمیں ہمارے ذوق سفر کے مطابق نہیں چلنے دیتا۔ کیا مطلب میں نے انجان بن کر کہا۔ مطلب یہ کہ کیا فائدہ خود کو بے مقصد ہے مراد صحرا میں دھکیلنے کا کہ جہاں خواری و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں۔فوزی میں نادان نہیں ہوں ۔ گرچہ اندر سے کمزور ضرور ہوگئی ہوں ۔ مہمان دل کو حال دل تو نہیں سناسکتی مگر اس کی تمنا تو کرسکتی ہوں۔ ان دنوں خالہ جان کی صحت ٹھیک نہ تھی کہ فراز کی امی اور بہن ان کو دیکھنے آئیں۔ میں کچن میں گئی تو نشمیہ وہاں آ گئی۔ ہم نے مل کر چاۓ بنائی اور میں نے پھر اس کے گھر کا نمبر لے لیا۔ چند دن بعد میں نے ہمت کر کے فون ملایا۔ حسن اتفاق کہ فراز ہی نے ریسیو کیا۔ ہیلو ہیلو…. کہتا رہا، میں خاموش رہی ۔ دراصل پس پردہ رہ کر مکمل آگاہی چاہتی تھی تا کہ مجھ کو فیصلہ کرتے وقت دشواری نہ ہو، پھر خاندان کی پاسداری کا حق بھی محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ تیسری بار بھی جب ہیلو کے سوا اس نے کچھ نہ کہا تو میں بول پڑی کہ جناب کو ہیلو کے سوا بھی کسی لفظ پر دسترس ہے کہ نہیں؟ اس کا کہنا تھا کہ کیا معلوم کون ہو. آداب ملحوظ خاطر تھا کہ آغاز گفتگو میں پہل نہ کر سکا۔ یہاں سے ہمارا فون پر رابطہ شروع ہوا، اس کا اصرار کہ بتاؤ کون ہومکمل تعارف کراؤ جبکہ میں ابھی ایسا فیصلہ نہ کر پائی تھی کہ اس کو مکمل اپنے بارے میں باخبر کرتی۔ اس نے ایکسچینج میں جا کر نمبر ٹریس کیا…تو معلوم ہوا کہ نمبر تو اس کے دوست طارق کا ہے۔ اب راز کھل گیا کہ فون کرنے والی اس کی کزن سحر ہے۔ فراز نے کبھی نگاہ غیر مجھ پر نہ ڈالی تھی بلکہ اس کی نظر میں اس کے دوست کی عزت تھی ۔اب جب اس نے بات کی تو کہا۔ سحر میں نے بھی ایسا سوچا نہ تھا تبھی میں انجان بن کر گویا ہوئی ۔ جناب، کون سحر؟ کیونکہ میں تو ایک فرضی نام سے بات کرتی تھی- مجھے سب معلوم ہو گیا ہے، طارق میرا دوست ہے اور یہ بات مجھے شرمندگی کے دریا میں ڈبورہی ہے کہ جب اس کو معلوم ہوگا تو وہ میرے متعلق کیا خیال کرے گا ، میں خود اس نازک مسئلے پر کئی بارسوچ چکی تھی کہ جب بات عیاں ہوگی تو کیا ہوگا، پھر حالات نے ثابت کر دیا کہ جو ہوا وہ ہماری سوچ سے بھی برا ہوا۔ حالات کی آندھی نے ہم کو غرق طوفان کر دیا۔ ہمارے عزم کی جیت ہوئی بھی تو زندگی بذات خود ہار چکی تھی۔ فون پر جب ہمارے عہد و پیمان ہوۓ، زندگی کی راہوں پر اکٹھے چلنے کے منصوبے ترتیب دیئے جاتے تھے۔ خبر کیا تھی کہ وقت کے پردے میں ایک بہت بڑا خاموش طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔ ایک دن طارق نے مجھ کو نہ صرف فون پر باتیں کرتے دیکھ لیا بلکہ سن بھی لیا۔ تبھی اس نے مجھے پکڑ کر امی کے حضور پیش کر دیا۔ وہ گرج رہا تھا۔ امی جان سحر کو سنبھالئے کسی لڑکے سے باتیں کررہی تھی۔ پہلے تو خالہ جان کو یقین نہیں آیا۔ انہوں نے سرزنش کی تو میں نے کہا کہ طارق کوغلط فہمی ہوئی ہے- میں اپنی سہیلی سے بات کر رہی تھی ، اس وقت تو بات آئی گئی ہوگئی مگر اس کے بعد کزن نے مجھے نوٹ کرنا شروع کر دیا اور ایک دن عین اس وقت میرے ہاتھ سے فون لے لیا جب میں فراز سے محو گفتگوتھی۔ اس نے فراز سے کچھ نہ کہا مگر میری خوب بے عزتی کی۔ دوست کو بس اس قدر کہا کہ آپ سے مجھ کو یہ امید نہ تھی۔ اس کے بعد کبھی پھر اس سے بات نہ کی ، کوئی فساد برپا نہ کیا بلکہ مکمل خاموشی اختیار کر لی۔ جب انہوں نے نوٹ کیا کہ ہمارا رابطہ کسی نہ کسی طرح ہو جا تا ہے تو بالآخر وہ ایک فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے. کہ میں جلدی سے میٹرک کرلوں تومجھ کو واپس گاؤں بھیج دیا جاۓ۔ اس فیصلے کے بعد میری زندگی دوسروں کی سوچوں کی اسیر ہوگئی۔ زنداں کے قیدی کی طرح خوشیوں سے محروم کی جا رہی تھی۔ ایک فرد بھی میرے حق میں ایسا نہ تھا جو میرے احساسات کی ترجمانی کرتا. بس ایک یقین کی کرن تھی اور خدا سے امید باندھ لی تھی جس کی وجہ سے اپنی قوت ایمانی پر قائم اپنے ارادے پر اک چٹان کی طرح ٹھہر گئی تھی۔ جب فراز کو میں نے اپنے گھر والوں کے فیصلے سے آگاہ کیا کہ مجھے واپس گاؤں بھیجا جا رہا ہے تو انہوں نے کہا۔ اب ہمارا ملنا ضروری ہوگیا ہے تا کہ کوئی ایسا پروگرام ترتیب دیا جاۓ جس سے ہم منزل مقصود کو حاصل کرسکیں۔ ہمارے اسکول میں ایک تقریب ہورہی ہے لہذا فوزیہ سے طے کر کے وقت ملاقات مقرر کر لیتے ہیں۔ میں نے کہا۔ پھر جس دن اسکول میں فنکشن ہور ہا تھا ہم کلفٹن کا پروگرام ترتیب دے رہے تھے، اس جگہ کا میں نے خود انتخاب کیا تھا کیونکہ سمندر اورساحل میری کمزوری تھے۔ فراز کے دوست کا شوروم تھا۔ وہ گاڑی لے کر آ گیا تھا۔ آج چند اتفاقات ہماری ہمراہی کر رہے تھے۔ زندگی کے سوۓ ہوۓ دنوں میں یہ ایک جاگتا ہوا روشن دن تھا کہ ایک خواب نے حقیقت کا روپ دھار لیا تھا۔ آج ہم ساحل سمندر پر چلتے ہوۓ ایک حسین دنیا کے مہمان تھے ۔ اک تنہا پتھر پر… اک تنہا جوڑے کا ہونا… حد نگاہ سمندر کا ٹھاٹھیں مارنا….. کسی معروف مصور کا شاہکار نظارہ تھا۔ پانی کی ایک لہر آئی ۔ پتھر سے ٹکراتی اور پھر واپس چلی جاتی ۔ یہ منظر میرے اندر وجدان پیدا کر رہا تھا تبھی میں نے کہا تھا فراز …… تم میری زندگی کا حادثہ، ماضی کا فسانہ نہ بن جانا کہ میری مضبوطی آپ کی ذات سے ہے نہ کہ کسی وقتی جذ بہ وخواہش سے۔ سحر میں یہ تو نہیں کہتا کہاں تک آپ کا ساتھ دے پاؤں گا۔ وہ خواب نہیں تھا جو عارضی ہونے کے باوجود مکمل تعبیر رکھتا ہے۔ پھر وہ باتیں ہویں جن کا ہماری سابقہ اور مستقبل کی زندگی سے گہرا تعلق تھا۔ ایک اچھی کاوش ، منزل مراد ضرور ہو جاتی ہے ہمارے لئے حوصلے کی جو بات تھی وہ یہ تھی کہ ہمارے خاندانوں کے درمیان ایک اچھا تعلق قائم تھا مگر دونوں طرف سے شاید اس امر کو نا پسند کیا جارہا تھا کہ جو تعلق ہم دونوں کے درمیان تھا۔ اسی وجہ سے چند مضبوط مشکلات کا سامنا تھا۔ اب ہمارے لئے آنے والا وقت ایک امتحان سے کم نہ تھا۔ اس ملاقات کے بعد دو اور ملاقاتیں ہوئیں لیکن خاندان کی ناموں کی پاسداری کے سبب ہم لوگ کافی محتاط رہے۔ میٹرک کے پرچے ختم ہوگئے، میرے گاؤں واپس ہونے کا وقت آ چکا تھا۔ شام کو فوزیہ اور میں چھت پر کھڑے شہر افق پر گرتے اندھیرے اور اٹھتی روشنیوں کو تک رہے تھے، میری دلی حیرت آنکھوں میں سمٹ آئی تھی، جیسے یقین ہو کہ وقت کا قاضی پھر کبھی اس منظر کو دیکھنے کا موقع نہ دے گا۔ دوسرے دن میں کراچی سے واپسی کے سفر پر تھی۔ اسی ڈبے میں فراز نے بھی تین نشستیں بک کرائی تھیں سفر ہم سفر کے ساتھ ہو رہا تھا۔ کراچی سے پنجاب کا طویل سفر تھا جب راستے میں کسی اسٹیشن پر ریل رکتی ۔ کچھ دیرسہی ہماری بات چیت ہو جاتی چونکہ میرے ساتھ نانی جان تھیں اور وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ تھا۔ ہمارا اسٹیشن آ گیا۔ وہاں سے ہم نے گاؤں کے لئے ٹیکسی لی ۔ فراز نے بھی ایک علیحدہ ٹیکسی کر لی اور گاؤں تک ساتھ آۓ ۔ گاؤں کے اکلوتے ہوٹل پر وہ رک گئے ۔ میں فراز کے ساتھ اپنے تحفظات بانٹ چکی تھی ، خیر گزری کہ گاؤں والوں نے شک نہ کیا۔ گاؤں میں فون کی سہولت موجود نہ تھی ۔ کبھی شہر جانا ہوتا تو دوست کے نام سے فون پر چند باتیں رسمی ہو جاتی تھیں اور گھر والوں کو شک بھی نہ گزرتا اور حالات کا علم بھی ہو جا تا۔ کیونکہ فراز کے چچا وغیرہ سے ہمارے خاندان کا زمین کے سلسلے میں تنازع چل رہا تھا ، وہ اس کو حل کرنے کے لئے گاؤں لے آۓ اور مسئلے کا حل نکالنے کی خاطر کوشش بھی کی لیکن بات بگڑ گئی اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ معلوم نہیں گولی کس سے چلی مگر انہوں نے فراز کا نام لے دیا کیونکہ گولی چلنے سے ایک جان کا نقصان ہوگیا تھا۔ یوں فراز کو جیل ہوگئی اور کیس جب چلا تو اس کو سزاۓ موت ہوگئی۔ یہ تمام چیزیں میرے لئے کسی بڑے المیے سے کم نہ تھیں کیونکہ ان کا اثر مجھ پر بھی ہو رہا تھا۔ میرے گھر والے اس واقعے کو ایشو بنا کر جلد از جلد میری شادی کر دینا چاہتے تھے اور رشتے کی تلاش بھی شروع کر دی تھی۔ ان حالات کی وجہ سے الجھن بڑھتی جارہی تھی کہ ایک عزیز کا رشتہ ابو نے میرے لئے کنفرم کر دیا۔ میری ذہنی حالت دگرگوں ہوگئی ، رشتے داری سے ہٹ کر شریک حیات کے طور پر قبول کرنا میرے لئے خودکشی کے مترادف تھا لہذا میں نے صاف انکار کر دیا اور اس انکار نے مجھ کو زندگی سے ویران کر دیا کیونکہ گھر والوں نے ہر کوشش کر کے دیکھ لی۔ میرا جوابہمیشہ انکار ہی رہا۔ فراز گرچہ ان دنوں زنداں میں تھا مگر میری حالت بھی زنداں کے قیدی سے مختلف نہ تھی ، آخر میری دعاؤں کو شرف باریابی ملا اور باری تعالی نے فراز کو دوبارہ اک نئی زندگی عطا کی ، وہ ہائی کورٹ سے بری ہو گیا اور گھر آ گیا۔ ان لوگوں کو بھی عقل آ گئی ۔ گولی سے ہمارے خاندان کا ایک ملازم ہلاک ہوا تھا لہذا خون بہا کے بعد تنازعے میں کمی آگئی اور ہمارے لوگوں میں سے چند ایک ان کو فراز کے بری ہو جانے پر مبارکباد دینے گئے تو کافی خوشگوار ماحول میں ان کی باتیں ہوئیں۔ چند ایسی باتیں بھی زیر موضوع آ ئیں جن کا تعلق فراز اور میرے رشتے سے تھا۔ فراز کے گھر والوں کو معلوم تھا کہ ہمارا بیٹا اتنی بڑی آزمائش سے گزرا ہے لہذا مزید اس کو کسی امتحان سے بچایا جاۓ ۔ اسی سلسلے میں انہوں نے کافی انکساری سے کام لیتے ہوۓ ہمارے گھر پر دستک دی اور تمام معاملات کو خاندان کے افراد کے سامنے حل کرنے کی کاوش کی ۔ اچھی پیش رفت پر رابطہ بحال رکھا گیا تا کہ مستقبل کی دشمنی کا امکان سمٹ جاۓ۔ فراز سے میری بات چیت کبھی کبھار ہو جاتی تھی اور ہم ایک دوسرے کو حوصلہ و صبر کی تلقین کرتے ۔ آخر ہمارے خاندان کے بڑے آپس میں مل بیٹھے، بات درمیان میں کچھ بھی نہ تھی٠ اک ضد تھی کہ ان بچوں نے خود منتخب کیوں کیا ہے، ایک دوسرے کو؟ یہ ہماری روایت کے منافی ہے لیکن ایک بزرگ نے کہا کہ یہ بات ہمارے دین کے منافی ہے کہ بچوں کی راۓ لئے بغیر ان کی زندگی کا اہم فیصلہ صادر کر دیا جاۓ اور پھر بچوں نے باقی کا اختیار ہم ہی کو دینا ہے لہذا ان کی راۓ کی حمایت کرنی ہوگی تاکہ یہ دونوں ایک مکمل زندگی پاسکیں۔ یوں ایک پیچیدہ مسئلہ بزرگوں کے مل بیٹھنے سے حل ہو گیا۔ سبھی میرے ہم عمر لڑکے لڑکیاں خوش تھے کہ آج ایک غلط روایت کو شکست ہوئی تھی اور انانیت کا سر خم ہو گیا تھا۔ بے شک ہماری یہ کامیابی ثابت قدمی کا مظہر تھی لیکن بزرگوں کے لئے اس رشتے میں برکت کا یہ بھی پہلو تھا کہ اس طرح دشمنی کا خاتمہ ہورہا تھا، ورنہ دشمنی کا نسل درنسل جاری رہنا لازم تھا۔ اب ہر طرف اس فیصلے کو ایک اچھی مثال سے یاد کیا جا رہا تھا اور یہ سب کچھ ہماری قربانیوں کا ثمر تھا۔ شادی کی تاریخ طے پا چکی تھی اور ہمارے گھر ڈھولک کا اہتمام کیا گیا تھا۔ آج مہندی کی رات تھی اور گانے بھی اسی نسبت سے گاۓ جا رہے تھے جبکہ میں ایک حسین و جمیل تصوراتی دنیا میں گم تھی۔ فراز کے ساتھ مزار قائد ، کلفٹن اور ہاکس بے کے پرشور ساحل پر محو خرام کی ۔ وہ فراق کے دن بھی یاد آ رہے تھے جب زمانہ ستم گری پر تلا ہوا تھا۔ ایسے وقت میں اس سے نمٹنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ اپنی آرزو کی سرخروئی کی خاطر کتنی بڑی قربانی دینی ہوگی ۔ وہ منزل جو اوائل میں بہت قریب نظر آتی ہے حقیقت میں کتنی دور ہوتی ہے- بہت سے لوگ معاشرے کی بے رحمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر میرے آنسو نکل پڑے۔ تمام سہیلیاں میری طرف متوجہ ہوگئیں کہ پگلی اب کیوں روتی ہو اس دہشت سے تو تم آزاد ہو چکی ہو۔ خیر شادی پر خوب ہلا گلا تھا آخر منزل بر آئی اور میں پیا گھر آ گئی۔ آج جب ہم ایک دوسرے کے سامنے تھے تو تمام الفاظ دم توڑ چکے تھے ظاہری حالت کے برعکس ہم اندر سے ٹوٹ چکے تھے لیکن اب ماضی کو فراموش کر کے مستقبل کی راہوں کا تعین کرنا تھا۔ پچھلی محرومیوں سے نکل کر ایک مکمل زندگی جینا تھا تا کہ خاندان کا سر فخر سے بلند رکھ سکیں اور ہمارے بزرگ حق پر ہونے والے افراد کا ساتھ دیتے رہیں۔ زندگی ہنسی خوشی رواں دواں ہوگئی میرے آنگن میں دو پھول کھل گئے ۔ ان کے قہقہے نئے وقت کی نوید تھے۔ سات برس بعد ہم کراچی جا سکے تو کلفٹن گئے اور ساحل سمندر پر چلنا شروع کر دیا اور پھر اسی پتھر پر بیٹھ گئے ۔ آج بھی سمندر کا شوریدہ سر پانی روانی سے آتا اور پتھر کو اپنی آغوش میں لینے کی جدو جہد کر رہا تھا لیکن جیسے اس کی ہمت جواب دے جاتی کہ پھر واپس پلٹ جا تا تھا۔ تبھی میں نے کہا فراز- جب انسان عزم کر لیتا ہے تو یہ سمندر بھی تسخیر ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایمان اس ذات پر تھا جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا مگر ہم انسان ایک دوسرے کو کمزور اور کمتر کرنے میں لگے رہتے ہیں جبکہ وہ ذات ہم کو افضل رکھنا چاہتی ہے ۔ کاش ہم اس نکتے کو سمجھ لیتے ۔اپنی بنائی ہوئی ریتوں کو چھوڑ کر مالک حقیقی کے بناۓ ہوۓ قانون کو اپنا لیتے- تو کوئی عورت ونی نہ ہوتی اور نہ ہی کوئی جل کر خاکستر ہوتی ۔اچھا ہے کہ ہم بھی اپنی بچیوں کو وقت آنے پر شادی کے معاملے میں اظہار راۓ کا حق دیں۔ بے شک فراز نے کہا۔ ہم ان کی صحیح تربیت کریں گے ان کو اعتماد دیں گے اور اظہار راۓ کا حق بھی دیں گے تا کہ ایسا نظام قائم ہوجس میں کسی کی تذلیل ہو اور نہ کسی کا خون ناحق ہو. اگر کوئی بہن بیٹی غلط روایت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے تو ان کی زندگی کے پھول بھی کھلنے سے پہلے مرجھا جاتے ہیں-
(ختم شد)

Latest Posts

Related POSTS