Review of Load Wedding

425
‘لوڈ ویڈنگ’ نام اور پوسٹر سے ہی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فلم شادی سے متعلق ہے۔ یہاں لوڈ سے مراد بوجھ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ویسے ہی بیٹی اور بہن کی شادی والدین اور گھر والوں کیلئے ایک بوجھ ہی ہوتی ہے۔ جیسے منڈیوں اور مارکیٹوں میں بوجھ اٹھانے والے مزدوروں،رکشوں اور گاڑیوں کو لوڈرز کہا جاتا ہے اسی طرح لوڈ ویڈنگ میں راجا یعنی فہد مصطفیٰ کے کندھوں پر اپنی بہن کی شادی کرنے اور جہیز جمع کرنے کا بوجھ ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے فلم کا نام لوڈ ویڈنگ رکھا گیا ہے یا پھر کیوں کہ کہانی میں پیغامات کی بھرمار ہے اس لئے اسے لوڈ ویڈنگ کا نام دیا گیاہے۔
فلم شادی کے فنکشن سے شروع ہوتی ہے جہاں فہد مصطفیٰ اپنی محبوبہ کی شادی میں لائٹنگ کا کام کرنے میں مصروف ہوتے ہیں لیکن اپنی محبت کی شادی کسی اور مرد سے کروانے کا دکھ انہیں مجبور کردیتاہے کہ وہ اپنا کام اور شادی والا گھر چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ راجا بچپن سے ہی میرو” مہوش حیات” سے محبت کرتاہے لیکن اپنی محبت کا اظہار نہیں کرپاتا کیوں کہ راجا کو پتا ہوت ہے کہ جب تک اس کی بڑی بہن بےبی باجی” فائزہ حسن” کی شادی نہیں ہوجائے گی اس کی شادی نہیں ہوگی۔ راجا اپنی بہن کی شادی کیلئے جہیز اکٹھا نہیں کر پاتا اس لئے یہ بات تو طے ہے کہ شادی نہیں ہوگی لہذا فہد مصطفیٰ کو اپنی محبت کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں المیہ ہے کہ چھوٹے بہن بھائیوں کی شادی اس لئے نہیں کی جاتی کیوں کہ بڑے ابھی کنوارے ہوتے ہیں۔
کہانی اس وقت ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے جب مہوش حیات کا شوہر شادی کے دن ہی چل بستا ہے اور مہوش حیات بیوہ ہوجاتی ہے۔ مہوش حیات بیوہ ہونے کے بعد واپس اپنے گھر آجاتی ہے۔ لوگ بیوہ میرو سے اچھا سلوک نہیں کرتے اور اسے منحوس قرار دے دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسے اپنی کزن کی شادی میں جانے سے اور اس سے ملنے سے روک دیا جاتاہے۔ مہوش حیات کا بہنوئی بھی اسے خود پر بوجھ سمجھتا ہے کہ اتنی محنتوں سے شادی کی تھی، پھر واپس گھر آگئی اور جہیز کاسامان بھی واپس نہیں آیا۔
مہوش حیات کے واپس آجانے سے کوئی خوش ہوتاہے تو وہ صرف فہد مصطفیٰ ہے جو اس بار اپنی میرو کو کھونا نہیں چاہتا اور نہ صرف مہوش حیات سے اظہار محبت کرتا ہے بلکہ اپنی ماں “ثمینہ احمد” کو صاف صاف کہہ دیتاہےکہ بےبی باجی کی شادی ہو یا نہ ہو میری شادی کرو۔ اب اس شادی کی جنگ میں پہلے بےبی باجی لڑائی جھگڑا کرتی ہیں پھر ماں جذباتی حربے آزماتی ہے اور آخر میں خود راجا اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے فرنیل پی لیتا ہے لیکن جان بچ جاتی ہے۔ بیٹے کی خود کشی کے آگے ماں ہتھیار ڈال دیتی ہے اور یوں راجا اور میرو کا رشتہ اسپتال میں پکا ہوجاتا ہے اور ایک گانے ہی گانے میں شادی ہوجاتی ہے۔
اب یہاں سے شروع ہوتی ہے ایک پھپے کٹنی بہن کی کہانی جسے اپنی منحوس بھابھی ذرا پسند نہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے خود بےبی باجی کی شادی نہیں ہوئی۔ بےباجی نہ صرف شادی کی خوشی میں شریک ہوتی ہیں بلکہ بیمارے ہونے کا ڈرامہ کرکے بھائی کی سہاگ رات پر پانی پھیر دیتی ہیں اور ہنی مون کا بھی کباڑہ کردیتی ہیں۔
بےبی باجی کو عاشق لیاقت کاگیم شو بہت پسند ہوتاہے۔ شرکت کیلئے وہ قرعہ اندازی میں حصہ لیتی ہیں لیکن بے بی باجی کے بجائے میرو کا نام نکل آتاہے اور گھر پھر جنگ کا میدان بن جاتاہے۔ میرو گیم کھیلتی ہے اور اتنا سامان جیت جاتی ہے کہ بےبی باجی کا جہیز بن جاتاہے۔
جہیز کے بن جانے کے بعد بے بی باجی کا رشتہ ایک نہایت ہی لالچی اور جہیز کے بھوکے خاندان میں ہوجاتا ہے۔ وہ جہیز کے پیچھے رشتہ ختم کرنے پر تل جاتےہیں۔ راجا اور اس کی ماں اپنی عزت ان کے پیروں میں رکھ دیتےہیں لیکن وہ کہتےہیں کہ جہیز ہوگا تو شادی ہوگی۔
فلم لوڈ ویڈنگ کی ہدایات نبیل قریشی نے دی ہیں اور فلم کا سکرین پلے نبیل قریشی، فضاعلی مرزا اور محسن عباس حیدر نے لکھا ہے ۔جب لکھنے والے ایک دو نہیں بلکہ پورے تین ہوں تو کہانی کا طویل ہونا کونسی بڑی بات ہے۔ بہت سی جگہوں پر آپ کو لگے گا کہ بس اب فلم کا اختتام ہوجانا چاہئے لیکن پھر بھی کہانی چلتی رہتی ہے اور نئے رخ اختیار کرتی رہتی ہے۔
اگر ادکاری کی بات کی جائےتو مہوش حیات نے بہترین کام کیا ہے۔ فہد مصطفیٰ کی اداکاری میں وہ جان نہیں تھی جس سے وہ مہوش حیات کی اداوں کامقابلہ کرسکتے. ان کو مونچھیں بھی کچھ زیادہ سوٹ نہیں کیں اور ان کے تاثرات سے ایک نہیں کئی مناظر میں لگا کہ وہ ایکٹنگ نہیں اوورایکٹنگ کررہےہیں۔ فائزہ حسن کی اداکاری میں کچھ ڈراموں کا عنصر ضرور موجود تھا لیکن پھر بھی انہوں نے بہتر کام کیا۔ قیصر پیا نے بھی اچھ کام کیا اور ناظرین کو بور نہیں ہونے دیا۔
فلم کی موسیقی بھی ٹھیک ہے لیکن گانا “محلے وچوں کوچ نہ کریں” جو اظہر عباس نے گایا ہے، اس سے کہیں زیادہ بہتر نبیل شوکت نے گایا تھا۔ باقی گانے بھی ٹھیک ہیں۔
فلم کی کہانی ویسے تو فہد مصطفیٰ کی بہن فرحانہ عرف بےبی باجی “فائزہ حسن” کی شادی کے گرد گھومتی ہے لیکن اس سب کے بیچ میں فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات کی محبت کہانی میں ایک نیا رنگ بھر دیتی ہے۔ اگر آپ کو مسائل اور پریشانیوں میں گھری محبت کے رنگ دیکھنےہیں تو لوڈ ویڈنگ ایک اچھی فلم ہے۔