Monday, July 4, 2022

Rishtay Hein Anmol

پچھلے صحن سے لے کر باہری دروازے سے بھی باہر ٹائلوں کا فرش ایسا کہ منہ دکھے ہے اس میں اور گھر کی سجاوٹ دیکھ کر توقسم اللہ حیرت ہوتی ہے بندے کو-
اے کیا سچ میں آپا؟ فریحہ اتنا مرعوب ہوئیں کہ پوچھے بغیر نہ رہ پائیں۔
تو اور کیا ابھی چل کے دیکھ لے میرے ساتھ خود ہی یقین آ جاۓ گا۔ بڑے مقدر والوں کو ملتا ہے ایسارشتہ۔ ایک اکیلا لڑکا کوئی آگے نہ پیچھے۔ اوپر سے نوکری بھی سرکاری۔ اونچے گریڈ کا افسر ۔ ہفتے میں تین دن تو دفتر جا تا ہے اور بس۔ سمجھو پورے ماہ کی تنخواہ گھر بیٹھ کے ہی وصول کرے ہے ۔ ایک رشتے کی پھوپھی ہے ہو ان کا رشتہ کروا رہی ہے-
کچن کی کھڑکی سے باہر کا منظر علیزہ کی آنکھوں میں آئی نمی سے پل بھر کو دھندلا سا گیا جہاں صحن کے بیچوں بیچ رکھی چار پائی پر براجمان حلیمہ بی گزشتہ دو گھنٹوں سے لڑکے کے اوصاف گنوانے میں مصروف تھیں۔
یہ حلیمہ بی بھی عجیب ہیں جب آتی ہیں امی کو پریشان کر دیتی ہیں۔
ماں کوان کے سامنے یوں چپ سادھے بیٹھا دیکھ کر اس کا دل بھر آیا تھا۔ کوئی سمجھائے تو انہیں ، بھلا کہاں ملتے ہیں ایسے لڑکے، وہ بھی آج کل کے زمانے میں تیار چاۓ پیالیوں میں نکالتے ہوۓ وہ بڑبڑائی-
ہاں البتہ آرڈر پر ضرور بن جاتے ہوں گے بالکل میڈ ان چائنا جیسے۔ اپنی بات پر وہ خود ہی ہنس پڑی اور ٹرے اٹھا کر باہر کو چل دی۔
بھی ، جوڑ ملنا تو نصیب کی بات ہے پر مجھے اتنا ضرور پتا ہے کہ ان دونوں کی جوڑی جچے کی خوب ہاں تم دیکھ لینا۔
سلام کے جواب میں سرتا پا اسے دیکھتے ہوۓ حلیمہ بی نے اپنی بات پوری کی کہ علیزہ نے جھینپ کر جلدی سے ٹرے ان کے آگے رکھی اور واپسی کی راہ لی۔ تو انہوں نے بھی اس کے بناۓ مزے دار شامی کبابوں اور گاجر کے گرما گرم حلوے سے انصاف کرنے میں ذرا بھی دیر نہ کی ۔ ہاں مگر ساتھ ہی گاہے بگاہے وہ فریحہ پربھی نظر مارنا نہ بھولتیں جو چائے کا کپ تھامے اپنی نظریں بدستور زمین پر جماۓ کہیں سوچوں میں گم تھیں۔
اب سوچتی ہی رہے گی یا مجھے کچھ بتاۓ گی بھی کہ کب لاؤں ان لوگوں کو تیرے گھر؟ چاۓ کا ایک بڑا سا گھونٹ بھر کے وہ ان سے مخاطب ہوئیں۔
تیری جگہ اگر میں ہوتی ناں تو سچ کہوں کب کی اپنی بیٹی کے لیے اس رشتے کی منظوری دے کر شادی کے دن بھی ڈلوا چکی ہوتی۔ تیسرا چکر ہے میرا یہاں لیکن ابھی تک کوئی سرا نہیں پکڑایا تو نے۔
شکوہ تو آپ کا بھی بالکل بجا ہے آ پا مگر! کیا کروں دل مانتا نہیں ہے میرا۔ علیزہ کے ابو سے ذکر کرلوں تو پھر ایک آدھ ہفتے میں بتاتی ہوں-
سوسو کے کتنے ہی نئے نوٹ پرس سے نکال کر ان کی طرف بڑھا کر فریحہ ساتھ میں انہیں اپنی مجبوری بھی بتانے لگیں۔ ان لال کڑکتے نوٹوں کو پکڑتے ہوۓ مارے خوشی کے گرچہ حلیمہ بی کے ہاتھوں میں رعشہ سا طاری ہو گیا تھا مگر پھر بھی جھٹ پٹ انہیں بٹوے میں اڑس کر وہ خاصی راز داری سے گویا ہوئیں۔
تسلی سے سوچ لے ،فکر نہ کر ، ویسے بھی لڑ کے کی پھوپھی نے سب مجھ پر ہی چھوڑ رکھا ہے۔ تیری طرف سے ہاں یا ناں میں جواب لے کر ہی تو آگے چلوں گی ۔ جانتی ہوں اچھے سے کہ یہ رشتہ باہر نکلا نہیں اور لوگوں نے جھپٹا نہیں-
اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ عبایا سنبھالتی پھرحلیمہ بی تو چل دیں لیکن پیچھے فریحہ کواچھا خاصا الجھا گئیں۔ اس لیے وہ بھی سیدھی بستر پہ جا لیٹیں اور چادر سے منہ سر لپیٹ کرجان بوجھ کے سوتی بن گئیں۔ علیزہ انہیں پورے گھر میں ڈھونڈتی کمرے تک آئی مگر ماں کوسوتا دیکھ کر واپس لوٹ گئی۔
********
شوہر کے حصول روزگار کی خاطر شارجہ مقیم ہونے کے سبب دونوں بچوں علیز اور تیمور کے ساتھ ساتھ گھر با ہر کی تمام تر ذمہ داری فریحہ کے سر پہ تھی جسے بحسن وخوبی وہ کئی سالوں سے سرانجام دیتی چلی آرہی تھیں۔
علیزہ کے پڑھائی مکمل کرتے ہی ان کو اس کی شادی کی فکر دامن گیر ہوئی۔ شادی دفتروں کے چکر میں وہ پڑنا نہیں چاہتی تھیں اور نہ ہی بھانت بھانت کے لوگوں کو گھر بلوا کر بیٹی کی شناخت پریڈ کی قائل تھیں ، اس لیے رشتے کروانے والی حلیمہ بی سے ان کی پرانی جان پہچان ہونے کے سبب انہیں کوئی اچھا سارشتہ لانے کو کہا۔
وہ تو اگلے ہی روز ایک عدد رشتے کے ساتھ آن وارد ہوئیں جب کہ دوسری سلمہ تھی جوفریحہ کی دوست کے توسط سے آج ان کی طرف آئی تھی۔
بڑا سوہنا ہے یہ لڑ کا باجی …… بالکل جیسے کوئی شہزادہ ،لکھا پڑھا بھی خوب ہے اور خیر سے تنخواہ بھی اچھی لیتا ہے۔
خاندان تو زیادہ بڑا نہیں اس کا ؟ رشتہ معقول لگنے پر فریحہ کو بھی مزید جاننے میں دلچسپی ہوئی۔
کوئی نہیں باجی چھوٹا سا ہی تو ہے بس تین بھائی اور تین ہی بہنیں۔ سلمی جواب دیتے ہوۓ ذرا ہچکچائی۔
اچھا۔ فریحہ کے اندر تک کڑواہٹ گھل گئی تھی۔
مگر یہ خاندان کچھ زیادہ بڑا نہیں ہے؟
نہیں نہیں باجی، یہ چھوٹے دو بہن بھائی ہی بیاہنے کو رہ گئے ہیں بس ، بڑے والے تو سارے اپنے گھر بار بچوں والے ہیں۔
ان کے چہرے پہ لہراتی مایوسی دیکھ کر سلمیٰ نے ہمت بندھانی چاہی۔
”میری مانیں تو ایک نظر دیکھ لیں ۔کوئی حرج نہیں ۔اچھے لوگ ہیں، بچی خوش رہے گی سلمی کے مشورے پر فریحہ جوابا نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولیں۔
نہ بابا نہ …. میں کیسے اپنی ایک ہی بیٹی کو اتنے بڑے خاندان میں بیاہ دوں۔ ہمارے وقت میں تو بات اورتھی تب کنبے ہی بڑے بڑے ہوا کرتے تھے ، ماں باپ کے گھر سے کام کرتی لڑکیاں سسرال جاتے ہی چولہا چوکی کے آگے بٹھا دی جاتیں۔ ذمہ داریوں کے پہاڑ تھے جو ان پر لاد دیے جاتے اور کیا مجال ان کی کہ وہ چوک جائیں۔ لیکن آج کل خاندان چھوٹے
ہو گئے ہیں،اس لیے زندگی بھی آسان رہتی ہے۔
باجی، یاد کریں گی جو یہ رشتہ بتا رہی ہوں۔ ابھی سے انکار نہ کریں۔ میں پھر کسی روز آ جاؤں گی۔ سلمیٰ کی اس تجویز پر فریحہ کونہ چاہتے ہوئے بھی اقرار میں سر ہلانا پڑا۔
*******

ہاشم، علیزہ کے لیے دو گھروں سے رشتے ہیں۔ انجان لوگ ہونے کی وجہ سے گھر بلاتے ہوۓ بھی گھبراتی ہوں اس لیے پہلے اپنی تسلی کرنے کے بعد ہی دیکھوں گی کہ ان دونوں میں سے کون سا رشتہ زیادہ موزوں ہے۔ اسی فیملی کو گھر بلاؤں گی۔
دو تین دن کی مسلسل سوچ بچار کے بعد فریحہ سے جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو انہوں نے شوہرکوفون ملا لیا۔
بیٹی کے مستقبل کا معاملہ ہے جتنا بہتر فیصلہ ہم دونوں مل کر کر سکتے ہیں وہ مجھ اکیلی کے بس کی بات نہیں۔ کسی طرح بھی اگر آپ ایک ڈیڑھ ہفتے کے لیے آ جائیں تو کتنا اچھا ہو۔ میری ٹینشن بھی ختم ہو جاۓ گی۔
فریحہ، ابھی مجھے پاکستان سے واپس آۓ دو ماہ ہی تو گزرے ہیں۔ اتنی جلدی ایسا ممکن نہیں ہے کوئی ایمر جنسی ہو تو الگ بات ہے-
پھر بھی آپ ایک کوشش کر کے دیکھیں۔ ہاشم کے انکار پروہ مصر ہوئیں۔
ایک تو ویسے ہی آج کل ہماری کمپنی کا آڈٹ چل رہا ہے، دوسرا پورے سال کی کلوزنگ کا کام بھی اس مہینے کے آخر میں ہے اس لیے میرا ان دنوں پاکستان آنا بہت مشکل ہے، اسے میری مجبوری سمجھو، لیکن فریحہ مجھے تم پرمکمل بھروسا ہے یقینا اچھا فیصلہ ہی کروگی ۔ ہاں مگر رشتہ طے کرنے سے قبل لڑکے ، اس کی جاب اور خاندان وغیرہ کے بارے میں اپنے طور پر میں لازما تحقیق کراؤں گا ۔
وہ اپنی جگہ درست کہہ رہے تھے لہذا فریحہ بھی خاموش ہوگئیں۔
اس وقت علیزہ لاؤنج میں بیھٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب فریحہ اندر چلی آئیں اور اس سے کہنے لگیں۔
میرا سر بھاری ہورہا ہے اس لیے اندر آرام کرنے جارہی ہوں ۔ بھائی کالج سے آۓ گا تو اسے کھانا نکال دینا۔
جی امی، لیکن پہلے سر درد کی گولی لے لیں ساتھ چاۓ بھی بنا لائی ہوں ۔ وہ فکر مندی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ابھی نہیں ذرا دیرسولوں تو شاید فرق پڑ جائے اور چاۓ بھی اٹھ کر پیتی ہوں۔
******
بیٹی کے رشتے کے معاملات نے انہیں اچھا خاصا الجھا ڈالا تھا کہ ہر وقت ان ہی سوچوں کے ساتھ برسر پیکار رہنے کی وجہ سے طبیعت کی خرابی لازمی تھی لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اتنے روز کی سوچ بچار سے وہ کسی نتیجے پر پہنچ چکی تھیں۔ تب ہی تو آج صبح ناشتہ ۔ کرتے ہوۓ وہ کافی بشاش نظر آئیں۔
علیزہ میں نے سوچ لیا ہے کہ حلیمہ بی کوفون کر کے کہ دوں کہ لڑکے والوں کے ساتھ کوئی ٹائم سیٹ کر کے مجھے بتا دے۔ میرے خیال سے یہ رشتہ اس لحاظ سے مناسب ہے کہ اکیلا لڑکا …. ماں باپ۔ بھی نہیں ہیں اس کے اور نہ ہی دیور نندوں والے جھنجھٹ ہوں گے وہاں۔
جتنی پرسکون ہوکر وہ بیٹی کو بتارہی تھیں ان کی۔
باتیں سن کر علیزہ اتنا ہی بے چین ہوگئی اور خود کو ماں ۔
کے سامنے بولنے سے روک نہ پائی۔
سننے میں تو یہ سب بڑا اچھا لگتا ہے امی ۔۔۔۔ مگر۔ حقیقت میں کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ سرال کے نام پہ آپ کا کوئی رشتے دار ہی نہیں ۔ اس انسان کی بھی کیا زندگی ہے کہ جس کا کوئی اپنا ہی نہ ہو۔
ایک تو سسرال اور پھر وہ بھی بڑاسرال کی جنجال سے کم نہیں ہوتا، بیٹا جی، میں نے بھگتا ہے اس لیے نہیں چاہتی کہ تمہیں بھی بڑے خاندان میں بھیج دوں۔
علیزہ کی بات سن کر فریحہ نے اسے اپنی زندگی کا تجربہ بتانا چاہا۔
ہاشم کے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہونے کے سبب تمہاری چاروں پھوپھوں اور دونوں چچاؤں کی شادیاں بھی میں نے ہی کی ہیں ۔ ہم میاں بیوی تو ساری زندگی خدمتیں ہی کرتے آئے ہیں۔ مہمان داریاں ، دعوتیں، پورا پورا دن میں تو پن سے کچن ہی نہ نکل پاتی تھی ، دو جارہی ہیں اور دو آ رہی ہیں۔ یہ تو تمہارے ابو کا بڑا احسان ہے کہ مجھے الگ گھر بنوا دیا۔ تب ہی تو زندگی سکون سے گزر رہی ہے ۔
لیکن یہ سب سن کر بھی علیزہ ماں سے ہرگز متفق نہ تھی۔ مانتی ہوں امی، کہ آپ نے سسرال میں بڑی ذمہ داریاں نبھائی ہیں ، وہاں تصویر کا دوسرا رخ بھی تو دیکھیں کہ دادی، دادا پھپھ اور چاچو آپ کو عزت بھی تو کتنی دیتے ہیں۔ ہماری ذرا سی تکلیف یا پھر خوشی کا سن کر کیسے دوڑے چلے آتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں آپ ہمیں دادی کے پاس چھوڑ کر نانو کے گھر چلی جاتی تھیں۔ فراز ماموں کی شادی پہ تو آپ ایک ہفتہ پہلے ہی چلی گئیں۔ انیلا اور فائزہ پھپھونے پیچھے مارا کتنا خیال رکھا۔ روزانہ نہلا دھلا کر اسکول بھیجتیں اور پھر نانا جان کے بیمارہونے پرتو آپ پورا مہینہ ان کے پاس رہیں۔

اچانک یاد آنے پر وہ ماں کو بتانے لگی۔ پھپھو ہمیں ہوم ورک کرواتیں ایک دن بھی ہمارا اسکول سے ناغہ ہوا نہ کام کا حرج ۔ دادی تو گود میں بٹھا کر اتنے پیار سے اپنے ہاتھ سے نوالے بنا بنا کر ہمیں کھلایا کرتی تھیں ۔ وہ جو بھی کہہ رہی تھی بالکل پیچ تھا۔ بڑی بہو کی حیثیت سے اگر فریحہ نے اپنے سسرال کی خدمت کی ان کی ذمہ داریوں کو اپنا سمجھ کر طریقے سے نبھایا تھا تو جواباً سسرال والوں نے بھی فریحہ کو ہمیشہ عزت اور احترام کی مسند پر ہی بٹھایا۔علیزہ اور تیمور کو پال کر بڑا کرنے میں ان کی دونوں چھوٹی نندوں کا بڑا ہاتھ تھا ۔ دہ دل سے بیٹی کی سمجھ داری کی قائل ہو چکی تھیں۔
مجھے نہیں پتا امی، میرے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ آپ جو بھی فیصلہ کر یں گی یقینا وہ ہی بہتر ہوگا لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتی ہوں کہ محض بڑا خاندان ہونے کی وجہ سے کسی رشتے کو ریجیکٹ اور چھوٹا بلکہ ایک اکیلا لڑکا ہونے کی وجہ سے سے سلیکٹ نہ کریں۔
ماں ہوں ناں تمہاری ،اس لیے نہیں چاہتی کہ تم بھی بیاہ کر بڑے خاندان میں جاؤ اور ذمہ داریوں کے بھاری بوجھ تلے دب کے خودکو ہی فراموش کر بیٹھو۔
امی، ذمہ داریاں تو دونوں صورتوں میں ادا کرنی ہوتی ہیں چاہے خاندان بڑا ہو یا چھوٹا۔ اکیلا بندہ کتنا بھی باہر گھوم پھر آئے دھڑا دھڑ شاپنگ کر لے ۔ سینما جاۓ کھاۓ پئے لیکن جب خالی گھر کاٹ کھانے کو دوڑے گا تو پھر مجھے بھاگ بھاگ کر آپ کے پاس ہی آنا ہوگا اور یہ بات کسی کو بھی پسند نہیں ہوتی ۔
بلاشبہ علیزہ کی باتوں میں دم تھا کہ فریحہ بھی لاجواب ہو گئیں۔
نھیال ددھیال میں میری ہم عمرکوئی لڑکی نہیں مجھ سے بہت بڑی ہیں یا پھر بہت چھوٹی ۔ ہاں اسکول کالج کی فرینڈ ز سے مل کر دل بہلا لیتی ہوں مجھ سے بڑھ کر ان رشتوں کی قدر کس کو ہوگی امی کہ آگے نندوں کی صورت میں نہیں مل جائیں گی۔
ننھیال و دھیال میں میری ہم عمرکوئی لڑکی نہیں مجھ سے بہت بڑی ہیں یا پھر بہت چھوٹی ۔ ہاں اسکول کالج کی فرینڈ ز سے مل کر دل بہلا لیتی ہوں مجھ سے بڑھ کران رشتوں کی قدر کس کو ہوگی امی کہ آگے نندوں کی صورت میں بہنیں مل جائیں گی۔
میں ناحق پریشان ہو رہی تھی اور الٹا تمہارے ابو سے پاکستان آنے کا تقاضا کیے جاتی تھی مگر علیزہ بچے، تم نے تو میری اتنی بڑی مشکل آسان کر دی ہے ۔
فریحہ نے بیٹی کو گلے لگا کر چوم لیا۔
ہوتا یہ ہے کہ بات جب اپنے پہ آۓ تو ساری عقل مندی اڑن چھو ہو جاتی ہے۔ مجھ سے کوئی فیصلہ ہی نہیں ہو پارہا تھا۔ اچھا ہوا جو تم سے بات کر لی۔ اب آگے کیا کرنا ہے ، میں اچھی طرح سمجھ چکی ہوں۔ بڑے بزرگ ٹھیک کہتے تھے کہ ہر نسل پچھلی سے زیادہ ذہین ہوتی ہے۔ بچے بھی ہمیں اچھے مشورے دے سکتے ہیں۔
ذہنی طور پر مطمئن ہوکر آج وہ کتنے دنوں بعد کھل کر مسکرائی تھیں اور کچھ دیر بعد فون پکڑے سلمی کا نمبر ملا کر اسے لڑکے والوں کے ساتھ ملاقات کا دن اور وقت طے کر نے کا کہہ رہی تھیں۔
ان لوگوں نے علیزہ کو دیکھتے ہی پسند کر لیا۔ ایک سلجھی اور ہر لحاظ سے مہذب اطوار کی حامل لڑکے کی فیملی ان کی توقع سے بھی بڑھ کر اچھی نکلی کہ فریحہ کے لیے انکار کا کوئی جواز ہی نہ تھا۔ تب ہی انہوں نے شوہر سے مشورہ کر کے بخوشی اس رشتے کی منظوری دے دی۔
آنے والے ہفتے کی ایک حسین ابرآلود شام گھرمیں منعقدہ منگنی کی تقریب میں جب ہینڈسم سا ارسلان علیزہ کو انگوٹھی پہنا رہا تھا تو دھنک کے سارے ہی رنگ اس کے چہرے پہ رقصاں تھے۔ یہ دیکھ کر فریحہ کے اندر تک طمانیت بھر گئی۔ اپنے سسرال والوں کے جھرمٹ میں گھری تصویر میں بنواتی بیٹی کی حقیقی زندگی کی تصویرانہیں مکمل لگی جس میں کوئی خالی پن نہ تھا۔ تمام رشتے ہی آس پاس تھے۔ ساس سسر نندیں ، دیور ، جیٹھ، جیٹھانی۔
میں واقعی غلط تھی علیزہ کے لیے اکیلا لڑکا تلاش کر رہی تھی ، اچھی زندگی جینے کے لیے پیار اور احترام _ کے ساتھ رشتوں کا ساتھ ہونا بھی تو ضروری ہے۔ دکھ سکھ میں ساتھ کھڑے یہ ہی اچھے لگتے ہیں اور اپنے ہونے کا احساس دلا کر ہمیں معتبر بنا دیتے ہیں- یہی سوچتے ہوۓ بیٹی کی آئندہ زندگی کے لیے ان کے دل سے ڈھیروں دعائیں نکلتی چلی گئیں اور اس آسودگی سے مسرور ہوکر فریحہ نے اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔
(ختم شد)

زرقا سکندر

Latest Posts

Related POSTS