Rooh Laraz Jate Hae | Complete Urdu Story

1549
منگنی کے بعد میں بہت پریشان تھی۔ امی اور خالہ بھی آزردہ تھیں، مگر ابو کے آگے کسی کی نہ چلی۔ انہوں نے دانش کی بجائے میرا رشتہ محب خان سے کردیا۔ میں لڑکی تھی، دکھ سہنا، اور کچھ نہ کہنا ہم بے زبانوں کی گھٹی میں پڑا تھا۔ دانش کا براحال تھا، جبکہ وہ ابو کا پیارا بھتیجا تھا اور میرا رشتہ اسی سے طے کیا جانا تھا۔
والد کا خواب تھا کہ دانش آفیسر بنے، ان کے اصرار پر وہ کیڈٹ بھرتی ہوگیا لیکن سال بعد اکیڈمی چھوڑ کرگھر آگیا، سبھی نے سمجھایا مگر اس نے کسی کی نہ سنی … کہا کہ اکیڈمی کے چار سال مکمل کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ اس کا خواب تو مصور بننا ہے۔ اس جواب پر والد صاحب ناراض ہوگئے۔ صاف کہہ دیا کہ تم نے روشن مستقبل کی راہ سے فرار اختیار کرلیا ہے تویاد رکھنا کہ میں اب تمہیں اپنا داماد بھی نہ بناؤں گا۔
دانش کاشوق تھا کہ وہ آرٹسٹ بنے، پینٹنگ عمدہ بناتا تھا، اس کا رحجان مصوری کی جانب تھا، اس نے اپنے والد اور چچا کی خواہش کے برعکس ایک آرٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہ سمجھ رہاتھا کہ چچا اس سے والہانہ پیار کرتے ہیں، یہ وقتی غصہ ہے… جلد ہی مان جائیں گے لیکن ابو نے مان کر نہ دیا اور میری منگنی اپنے ایک کزن کے بیٹے محب سے کر دی، جس نے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور آفیسر ہوگیاتھا۔ محب سے میری منگنی کے بعد دانش نے ہنسنا بولنا، کھانا پینا چھوڑ دیا۔ میں بھی اس رشتے پر خوش نہ تھی، دانش کی جدائی کے خیال سے دل ڈوبا جاتا تھا۔
دانش کی والدہ امی کی سگی بہن تھیں، ہم سب ایک گھر میں رہتے تھے، میری منگنی ہوگئی تو میں نے دانش کے کمرے میں جانا چھوڑ دیا، اس سے بات چیت بھی کم کردی۔ اس بات کا اسے قلق تھا مگر میں کیا کرتی، والدہ کا یہی حکم تھا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ دانش کو میری طرف سے غلط فہمی رہے اور میری شادی کے موقعے پر کوئی مسئلہ کھڑا ہوجائے۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے جب میں نے اس سے ترک کلام کیا تو وہ بے چین ہوگیا، ہرروز کھڑکی سے ایک پرچہ میرے کمرے کے اندر ڈال جاتا، جس پر کوئی درد بھرا شعر لکھا ہوتا… میں پرچہ پڑھ کر پھاڑ دیتی، مگر جواب نہ دیتی، جانتی تھی اگر ایک بار جواب دیا تو یہ سودا مہنگا پڑ جائے گا، وہ روز جواب کی امید باندھ لے گا۔
میں نے امی کو بتادیا تھا کہ آپ کا بھانجا اتنا نڈر ہے، روز المیہ اشعار لکھتا ہے … کسی دن کسی کے ہاتھ یہ پرچہ لگ گیا، ابو کو پتا چلا تو برا ہوگا۔امی نے دانش کو سمجھایا … بیٹا تم خود کو سنبھالو… تمہارے تایا کی جو مرضی ہوتی ہے ہم وہی کرتے ہیں … تم نے حقیقت سے سمجھوتہ نہ کیا تو گھر میں بد مزگی پیدا ہوگی اور ہمارا خاندان بکھر جائے گا۔
امی کی بات سن کر وہ خاموش رہا، مگر دل پر اسے قابو نہ تھا، ایک ہفتہ بعد پھر وہی پرچے بازی شروع کردی… والد صاحب نے میری شادی کی بہت جلد تاریخ رکھ دی۔ میں نے سوچا کہ فی الحال دانش کو اس کے حال پر چھوڑ دوں، وہ اپنا اس طرح غم غلط کررہا ہے، کچھ کہا تو کہیں کوئی غلط عمل نہ کر گزرے۔
کچھ دنوں بعد اس نے میرے لئے ایک نئی پریشانی پیدا کردی۔ پرچوں پر لکھتا، اگر جواب نہ دیا تو بھوک ہڑتال کردوں گا۔ پھر واقعی اس نے بھوک ہڑتال کردی۔ تین روز دانش نے کچھ نہ کھایا تو میں نے اسے سمجھایا کہ دیکھو… تمہاری اس قسم کی حرکتوں سے سوائے پریشانی کے کچھ حاصل نہ ہوگا تم تو پریشان ہوہی، مجھے کیوں پریشان کرتے ہو۔ تو کیا تم اپنی منگنی سے خوش ہو؟
خوش ہوں یا نہیں اب یہ ایک لاحاصل سوال ہے۔ ابو تمہاری زندگی بنانا چاہتے تھے اور تم اکیڈمی سے بھاگ آئے، اب ان کا ارادہ بدل نہیں سکتا اور میں والد کے سامنے ڈٹ نہیں سکتی، منہ زوری نہیں دکھا سکتی۔ وہ جو چاہتے ہیں اس کی اطاعت کرنی ہے … اسی میں ہماری بھلائی ہے ۔
اس نے کہا …اے کاش وقت تھم جائے ، تمہاری شادی کا دن کبھی نہ آئے … چاہتی تومیں بھی یہی تھی کہ یہ دن نہ آئے لیکن وقت کوکون روک سکتا ہے۔ میرے آنسو بھی نہ روک سکے، وہ دن آہی گیا۔ میرے والدین بہت خوش تھے کہ نکمے لڑکے دانش کی جگہ ان کو ایک سرکاری آفیسر مل گیا ہے۔
مایوں سے ایک دن قبل دانش میرے پاس آیا اور آخری بار بات کی۔ اس نے کہا … وعدہ کرو جب بھی میکے آؤ گی مجھ سے بات ضرور کروگی… مجھ سے بات بند مت کرنا، ورنہ دل کا بوجھ اتنا بڑھ جائے گا کہ اس بوجھ کو سہہ نہ سکوں گا۔
گھبرا کر میں نے وعدہ کرلیا میں ضرور تم سے بات کیا کروں گی … فکر مت کرو لیکن تم بھی وعدہ کرو کہ کبھی مجھے خط نہ لکھو گے، کیونکہ یہ خط میری زندگی کو برباد کرنے کا سبب بن سکتے ہیں… یہ آخری وعدہ کرکے ہم دونوں جدا ہوئے تھے۔ میری شادی ہوگئی، بابل کے گھر سے خانیوال آگئی۔ سسرال والے بہت اچھے لوگ تھے۔ محب آفیسر تھے۔ وہ بہت نفیس انسان تھے۔ اصول پسند اور نرم گفتار، جو ملتا، ان کا گرویدہ ہوجاتا۔
وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس قدر خیال رکھتے کہ کسی اور کے تصور سے اب اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی، سوچتی جب اللہ تعالیٰ نے اتنا اچھا پیار کرنے والا خوش شکل شریک زندگی عطا کیا ہے تو کیوں نہ اس انعام کی قدر کروں۔ اپنے شوہر سے بے وفائی کا تو سوچ بھی نہ سکتی تھی، جو دل وجاں سے مجھ پر نثار ہوتے تھے۔ سچ کہتی ہوں کہ جتنی محبت، محب نے مجھے دی، شاید ہی کسی عورت کو اس کے خاوند سے ملی ہو۔
محب کی شدید محبت کو دیکھتے ہوئے مجبور ہوگئی کہ ماضی کی یادوں کو بھلا دوں اور کلی طور پر ان کی ہوکر رہوں… میں نے دانش کو بھلا دیا، مگر وہ دیوانہ مجھے نہ بھلا سکا، وہ میرا شدت سے انتظار کرتا کہ میں میکے آؤں گی اور وہ مجھے دیکھے گا، ایک نظر کا دیدار ہی بس اس کی زندگی تھا۔
خانیوال سے میرا شہر دور نہ تھا۔ پھر بھی میکے جانے سے کترانے لگی، تاکہ دانش کو صبر آجائے، جب میکے جاتی تو وہاں بڑے والہانہ انداز سے آجاتا، جہاں میںبیٹھی ہوتی۔ یہ بات میرے والدین کو اچھی نہ لگتی، وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی کی پرسکون زندگی میں اس جذباتی اور بے وقوف لڑکے کی وجہ سے کوئی خلل پڑجائے۔ بے شک محب کودانش کے جذبات کا علم نہ تھا، مجھ پر شک بھی نہیں کرتے تھے، میرے میکے آتے تو سبھی سے کھلے دل سے ملتے، کسی کا والہانہ انداز دوسرے کی نگاہوں سے زیادہ دنوں تک چھپا نہیں رہ سکتا۔
ایک روز عید کے موقع پر امی نے میری اور محب کی دعوت کی۔ ہم پہنچے تو دانش نے کالج سے چھٹی کرلی اور فوراً ہماری طرف آگیا۔ محب نے اس کے ساتھ خوش دلی سے بات کی، چاہئے تھا کہ وہ دعا سلام کرکے چلاجاتا لیکن نہیں گیا بلکہ ڈٹ کر ہم سب کے درمیان بیٹھ گیا۔ ابو نے اس بات کو محسوس کیا اور کہا بیٹا تم کیوں یہاں بیٹھ کر وقت ضائع کررہے ہو۔ جاؤ جاکر اپنی پڑھائی کرو… ابو کے اس طرح ٹوکنے پر دانش نے اپنی سخت بے عزتی محسوس کی۔
میں جانتی تھی وہ صرف مجھے دیکھنے کے لئے آتا ہے، مجھے دیکھ کر اس کو سکون مل جاتا تھا، لیکن والد صاحب کے خیال میں اس کے دل میں وہ مرض تھا کہ جس کا علاج کسی کے پاس نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کسی دن ان کی پوزیشن داماد کی نظروں میں خراب ہو… محض اس احمق لڑکے کی بے وقوفی کی وجہ سے۔
جب اس پر ابو نے اپنے گھر آنے پر پابندی لگادی تو وہ سخت مضطرب رہتے لگا۔ اس نے امی سے کہا خالہ میں کسی بری نیت سے نہیں آتا… ہمارا ایک ہی گھر ہے… جب نسترن آتی ہے تو اسے ایک نظر دیکھ لیتا ہوں مجھے سکون مل جاتا ہے۔ غلطی آپ لوگوں کی ہے، ہم دونوں کو پہلے ہمارے بچپن میں ایک دوسرے سے منسوب کیا اور پھر اچانک تایا ابو نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ یہ نہ سوچا کہ ہمارے دلوں پر کیا گزرے گی۔
امی کو دکھ توتھا لیکن اس کی حوصلہ افزائی کرنا نہ چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہا تمہیں مصور بننا تھا تواب مصور بنو … باقی باتیں بھلا کراپنے مقصد کی طرف دھیان دو۔ خالہ مصور بننا غلط تو نہیں، یہ ایک اعزاز کی بات ہے اور میں آپ کو ایک بڑا مصور بن کر دکھاؤں گا۔ دیکھنا میری ایک پینٹنگ لاکھوں میں بکے گی۔
اللہ تمہیں کامیاب کرے بیٹا… جب تم منزل کو پالو گے تو سب تمہاری توقیر کریں گے، ابھی تو تم منزل سے بہت دور ہو ناحق وقت کا زیاں کرکے اپنی منزل کھوٹی کررہے ہو۔ امی کا لیکچر سن کر وہ اور مایوس ہوگیا، جیسے اسے کسی غمگسار کی ضرورت ہو اور کوئی اس کا ندیم نہ رہا ہو ۔ تمام وقت اپنے کمرے میں پڑا رہتا۔
اس کی یہ کیفیت دیکھ کر میں نے میکے جانا ہی ترک کردیا ، سوچا بیاہتا ہوچکی ہوں، اب اس کا مجھے یوں ایک نظر دیکھنے کی خواہش کرنا بھی گناہ ہے۔ میرے دیدار سے اس کو سکون نہیں ملتا، اندر کی آگ اور سوا ہوجاتی ہے۔ یہ ادراک شاید اس کو نہ تھا، مجھے تو تھا۔ اس سے بات چیت ترک کرچکی تھی …جب امی نے ڈانٹ دیاتو وہ ہرطرف سے مایوس ہوگیا، اس کا عجیب فلسفہ تھا کہ تم سے ایک دولمحے بات کرتا ہوں، بھلا بات کرلینے سے تمہارا کیا جاتا ہے، جبکہ مجھ کو قرار آجاتا ہے۔ میں نے سمجھایا کہ اب ہوش میں آجاؤ ورنہ عمر بھر میری شکل نہ دیکھ سکوگے، تم جس کو قرار سمجھتے ہو وہ قرار نہیں بلکہ بے قراری ہے، جوتمہیں اور بے چین کرتی ہے۔
مجھے اپنے کزن پرترس بھی آتا کیونکہ اس کا خود پر بس نہ تھا۔ آخری حل بس یہی تھا کہ اپنی ازدواجی زندگی بچانے کی خاطر میکے سے مکمل ناتا توڑ لوں۔ آناجانا بالکل ترک کردوں، محب کہتے بھی تم کتنی سنگدل ہوگئی ہو، اپنے والدین، بہنوں سے ملنے نہیں جاتیں، وہ کیا سوچیں گے … آپ کے ہوتے، مجھے اور کسی کی چاہت نہیں ہے … میں جواب دیتی۔
جب سال بھر میکے نہ گئی تو مجھ کو دیکھے بنادانش کی حالت غیر ہوگئی تھی، وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایک روز خود ہمارے گھر چلا آیا، اس نے میرے دیور سے دوستی کرلی۔ اس کا جنون روز بہ روز بڑھ رہا تھا شاید اسے اپنے آپ پر قابو نہ رہا تھا۔ وہ میرے دیور سے ملنے آتا اور دوتین روز ٹھہر جاتا … امی ابو کو علم نہ تھا کہ وہ میرے گھر تک پہنچ گیا ہے، اللہ جانے کیا چاہتا تھا، میں دنیا داری کی خاطر بس اس سے سلام ودعا کرلیتی، مگر دور رہتی۔ ہماری ساس کہتیںتمہارا چچا زاد آیا ہے، بھئی کچھ خاطر مدارات کرو، کھانا وغیرہ ڈھنگ کا پکاؤ، تب میں ملازمہ کو ہدایت کردیتی کہ مہمان کوکوئی اچھی سی ڈش بناکر دینا … لیکن اس سے بے رخٰی برقرار رکھی تاکہ دیور کے کمرے تک ہی وہ محدود رہے۔ ایک دوبار منع کیا کہ یہاں مت آیا کرو، لیکن دانش نے سنی ان سنی کردی، لگتا تھا کہ میری بربادی کا آغاز ہوچکا

ہے۔ وہ کسی کی بات مانتا تھا اور نہ سنتا تھا۔
اس بار جب آیا تودوتین دن ہمارے گھر پڑا رہا، میں نے اسے دور سے سلام کیا اور کوئی بات نہ کی، مگر پریشان تھی کہ یہ کیوں آگیا ہے۔ اپنی پریشانی گھر والوں پر ظاہر بھی نہ کرسکتی تھی۔ سوچا امی جان کوفون کروں کہ یہ جلد جلد میرے گھر آنے لگا ہے۔ پھر خیال آیا وہ گھبرا کرکہیں ابو سے نہ کہیں اور وہ یہاں آکر اس کی بے عزتی کریں تو کوئی بات ابھی میرے سسرال والوں پر عیاں نہیں وہ کھل جائے گی۔ میں دانش کی اس جنونی کیفیت سے بھی ڈرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ میرے گھر آجاتا تھا۔ ابھی تک تو اس کے آنے کو میرے سسرال والوں نے کوئی خاص اہمیت نہ دی تھی لیکن کسی بھی وقت اس کی کوئی حرکت کوئی دوسرا رخ بھی اختیار کرسکتی تھی… سوچاکہ امی کو بتانے سے بہتر ہے ایک بار اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں، میری بات پھر بھی سن لے گا… امی ابو سے تو سخت برہم تھا وہ۔
اس روز محب کی رات کی ڈیوٹی تھی ۔ وہ سرشام گھر سے چلے گئے، آدھی رات کے وقت کسی نے میرے کمرے کی کھڑکی کے پٹ کو اپنی انگلی سے ہلکا سے بجایا، سمجھ گئی یہ دانش ہے۔ بات کرناچاہتا ہے اپنے کمرے سے نکلی اور اسے کہا کہ دانش تم ہوش میںتو ہو کیوں رات گئے کھڑکی بجا رہے ہو، میرے دیور یا سسر کی آنکھ کھل گئی تو کیا سوچیں گے، کیوں میرا گھر تباہ کرنے پر تلے ہو… آخر تم میرے گھر آتے ہی کیوں ہو۔ کیا یہ چاہتے ہو کہ محب مجھے طلاق د ے دے یا مجھے رسواکرنا چاہتے ہو۔
کہنے لگا آخری بار آیا ہوں، ایک بار میری بات سن لو… پھر کبھی نہیں آؤں گا سمجھ گئی کہ بات کیے بنا ٹلنے والا نہیں، کہا کہ لان میں چل کربات کرلو… یہاں سب اپنے کمروں میں سو رہے ہیں، کسی کی آنکھ کھل گئی تو برا ہوگا۔
ہلکی سردیوں کاموسم اور چاندنی رات تھی، مجھے خوف آرہاتھا لیکن بات کرنابھی ضروری تھا… ہم لان میں پڑی کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھ گئے، اس نے کہا کہ میرے پاس تمہارے چند خطوط ہیں تم کودینے آیاہوں…ملک سے باہر جارہا ہوں، تمہاری امانت دینا تھی، تبھی آگیا ہوں اب کبھی نہ آؤں گا۔
شکر یہ لیکن یہ خطوط تم خود بھی تلف کرسکتے تھے۔ اس طرح تو شاید مجھ سے خوف آتا رہتا اور یقین نہ کرتیں کہ میں نے تلف کردیئے ہیں، ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ آہٹ ہوئی۔ محب نجانے کیوں اور کیسے رات کی ڈیوٹی چھوڑ کرگھر کے اندر آچکے تھے۔ گیٹ کی چابی ان کے پاس رہتی تھی جب چاہے کھول کر اندر آسکتے تھے کسی کو ڈسٹرب نہ کرتے۔
سچ تویہ ہے کہ دانش کواس قدر افسردہ دیکھ کر اس دم میں بھی افسردہ ہوچکی تھی لیکن ابھی اس نے خطوط مجھے لوٹائے بھی نہ تھے کہ محب کے قدموں کی آہٹ پر وہ گیراج میں کھڑی سسر صاحب کی گاڑی کی اوٹ میں ہوکر دیوار والی جانب فرش پریوں اکٹروں بیٹھ گیا کہ نظر نہیں آرہاتھا ۔ وہاں سے گزرتے ہوئے محب نے اس کو نہیں دیکھا لیکن مجھے لان سے برآمدے کی جانب جاتے دیکھ لیا۔ پوچھا، اس وقت لان میں کیا کرنے گئی تھیں؟ میں سردی سے کپکپا رہی تھی۔
مجھے کمرے میں گرمی لگ رہی تھی کچھ گھٹن محسوس ہورہی تھی تو باہر چلی آئی تھی۔
انہوں نے میری بات کا اعتبار کرلیا اور مزید کوئی سوال نہ کیا۔ بولے… آج میٹنگ تھی جلد ختم ہوگئی اپنی ڈیوٹی معاون کو سونپ کرچلا آیا، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی آپ سو جائیے… نیند لیں گے توصبح طبیعت ٹھیک ہوجائے گی، اللہ جانے میں نے اپنے خوف اور لرزتی آواز پر اس وقت کیسے قابو پایا تھا۔
اللہ نے میرا پردہ رکھنا تھا سو رکھ لیا۔ زندگی میں ایک بڑا طوفان جوآنے والا تھا، رب العزت نے مجھے اس سے بچا کر میری عزت بھی رکھ لی تھی، اگر وہ گیراج سے گزرتے ہوئے دانش کا سایہ بھی دیکھ لیتے توسوچتی ہوں کیسی تباہی آجاتی۔
آج بھی اس بھیانک رات کا دھیان آتا ہے تو میری روح لرز جاتی ہے۔ سوچتی ہوں شاید اس وجہ سے مجھے اللہ نے رسوائی سے بچایا کہ میری نیت نیک تھی۔ کوئی برا ارادہ دل میں نہ تھا، بلکہ اپنے شوہر کی محبت بچانے کے لئے ہی میں نے دانش سے بات کرنے کا خطرہ مول لیا تھا۔ یہ واقعہ دانش کے دل وذہن پربھی گہرے نقوش چھوڑگیا۔ اسے واقعی مجھ سے محبت تھی تبھی تواس روز کے بعد کبھی میرے گھر نہیں آیا، گھر آنا تو کیا کبھی سامنے بھی نہیں آیا، اس نے اپنا گھر اپنا ملک تک چھوڑ دیا۔
اللہ جانے کس حال میں اس کی زندگی بسر ہورہی ہے، میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی … اسے گئے بیس برس سے اوپر گزر چکے ہیں، سنا ہے کبھی کبھی اپنی والدہ سے فون پربات کرلیتا ہے لیکن خاندان کے باقی افراد کو اس نے یکسر فراموش کردیا ہے۔ (ن… خانیوال)