Roshni Zaroor Hogi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2503
ہر خاندان میں کچھ غریب اور کچھ امیر ہوتے ہیں۔ ہم پہلے خوشحال تھے۔ میرے شوہر کی وفات کے بعد حالات دگرگوں ہوتے گئے اور نوبت فاقوں تک آگئی۔ شروع میں کسی سے ذکر کیا اور نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا، تنہا حالات کا مقابلہ کرتی رہی۔ میکہ، سسرال ایک ہی تھا۔ شوہر چچازاد تھے۔ دونوں طرف سے کافی زیور ملا تھا اور وراثت میں کچھ جائداد بھی آئی۔ بیوگی کے دنوں میں پہلے یہ زیورات کام آئے۔ بیچ بیچ کر گھر کا خرچہ چلایا پھر جائداد کی باری آگئی۔ دو پلاٹ والد صاحب اور دو خاوند سے ملے تھے جو میرے نام تھے۔ انہیں فروخت کرکے روپیہ بینک میں ڈالا اور اس سرمائے کے منافع سے گھر چلایا۔ کب تک؟ بالآخر یہ سلسلہ بھی موقوف ہوا کیونکہ بچے بڑے ہوگئے تھے، کالج جانے لگے تھے، تعلیمی اخراجات بڑھ گئے، فیسوں میں خاصی رقم نکل جاتی، کھانے کو کچھ نہ بچتا۔ ان دنوں میں پارٹ ٹائم جاب کررہی تھی۔
خدا خدا کرکے بڑے بیٹے کاشف نے تعلیم مکمل کرلی۔ اس کی ملازمت کیلئے تگ و دو کرنے لگی کہ اب وہی اس کشتی کا کھیون ہار اور ہمارا سہارا تھا۔ گھر کے سب افراد کی امیدیں اس سے وابستہ تھیں۔ کاشف نے بی اے کیا تھا۔ بی اے کے بعد مقابلے کے امتحان کی تیاری کی مگر گھریلو مسائل کے باعث یکسوئی سے تیاری نہ کرسکا۔ کامیابی نصیب نہ ہوئی تو میں نے مشورہ دیا مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے نوکری ڈھونڈو۔ اب تم نے کمانا ہے ورنہ تمہارے بہن، بھائی پڑھائی جاری نہ رکھ سکیں گے۔
کاشف ایک بار پھر مقابلے کے امتحان کی تیاری کرکے قسمت آزمانا چاہتا تھا مگر میں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ملازمت پر مجبور کردیا۔ چاہتی تو بھائیوں سے امداد کی درخواست کرسکتی تھی تاہم یہ میرے ضمیر نے گوارا نہ کیا۔ ایک قریبی عزیز پولیس آفیسر تھے، ان سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشف پولیس میں ملازمت کرنا چاہے تو کل میرے پاس دفتر آجائے۔ آج کل کچھ آسامیاں خالی ہیں۔ میں اسے پولیس انسپکٹر لگوا سکتا ہوں۔
میں نے کاشف سے ذکر کیا۔ وہ بولا۔ ماں! میں کوئی بھی نوکری کرلوں گا مگر پولیس میں جانا قبول نہیں ہے۔ آخر کیوں میرے بیٹے! لوگ تو ایسی پرکشش نوکری کیلئے ترستے ہیں؟ ایسی نوکری پا کر لوگوں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ میں نے بے خیالی میں کہہ دیا۔ میری بات سن کر کاشف کا رنگ یوں اُڑ گیا جیسے اسے خدانخواستہ کسی نے بجلی کا کرنٹ لگا دیا ہو۔ وہ بولا۔ ماں! یہ کیسے الفاظ آپ کے منہ سے سن رہا ہوں؟ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری ماں ایسا کہہ سکتی ہے۔
کیوں بیٹے! کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا ہے؟ غلط…؟ حیرت ہے امی جان! غلط نہیں بلکہ صریحاً غلط۔ بہت زیادہ غلط کہہ دیا ہے آج آپ نے… اب میں بیٹے کا منہ تک رہی تھی۔ کچھ سمجھ نہ پا رہی تھی۔ تبھی وہ بولا۔ امی جان! پولیس کی نوکری میں بہت پیسہ ہے۔ آپ نے یہی کہا نا تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ میں رشوت لوں۔ میں رشوت پر یقین نہیں رکھتا۔ کیا آپ رشوت پر یقین رکھتی ہیں۔ توبہ کرو بیٹا! میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ خدانخواستہ کیا کبھی میں نے تمہیں ایسی تعلیم دی ہے۔ ہمیشہ ایمانداری کا سبق پڑھایا ہے۔ تم رشوت مت لینا، نوکری تو بری نہیں ہے۔
ماں! مجھے اسی وجہ سے قبول نہیں ہے کہ رشوت نہ لی تب مجھے نوکری چھوڑنی پڑے گی۔ آپ نہیں جانتیں اس محکمے کے نظام کو۔ اچھا بیٹا! تم بہتر جانتے ہو گے لیکن تمہاری نوکری ہماری مجبوری ہے۔ فی الحال میرا کہا مان لو اور پولیس انسپکٹر بن جائو۔ اگر کوئی ایسی صورتحال درپیش ہو تو چھوڑ دینا یہ نوکری، استعفیٰ دے دینا۔
میرے مجبور کرنے پر کاشف اگلے دن میرے کزن کے دفتر چلا گیا اور چند روز بعد اسے تقرر نامہ مل گیا۔ وہ پولیس انسپکٹر بھرتی ہوگیا تھا۔ بہت خوش تھی، محلے میں مٹھائی تقسیم کی۔ کاشف ٹریننگ پر چلا گیا۔ جب وہ واپس لوٹا تو تھانیدار بن چکا تھا۔ شروع دنوں میں کاشف پرسکون رہا، رفتہ رفتہ بے سکون نظر آنے لگا۔ میں پوچھتی تو کچھ نہ بتاتا۔ ایک دن گھر آیا۔ پریشان دیکھ کر پوچھا۔ بیٹا! کیا بات ہے، کیوں مضطرب نظر آرہے ہو۔ تمہاری ماں ہوں آخر مجھے کچھ تو بتائو کہنے لگا بتا دوں گا تو کہیں گی کہ نوکری چھوڑ دو۔ اب یہ نوکری چھوڑ بھی نہیں سکتا اور ملازمت میں کچھ قباحتیں بھی ہیں۔ دراصل ایک نیا آفیسر آگیا ہے۔ پہلے والا ٹھیک آدمی تھا لیکن یہ آفیسر کچھ اور مزاج کا ہے۔ بات مانوں تو پریشانی لاحق ہوتی ہے، نہ مانوں تو کھڈے لائن لگتا ہوں۔
میری سمجھ میں تیری بات نہیں آرہی بیٹا! ذرا کھل کر بتائو۔ بعد میں بتا دوں گا ماں! ابھی تم یہ پستول رکھ لو۔ میں نے پستول رکھ لیا لیکن رات بھر فکر کی وجہ سے نیند نہ آئی۔ دو روز اسی طرح گزر گئے کہ وہ مضطرب رہا۔ تیسرے دن اس نے وہ پستول مجھ سے مانگا اور ساتھ لے گیا۔ ڈیوٹی کرکے لوٹا تو سکون کی نیند سو گیا۔ اگلے روز ہم ساتھ بیٹھے ناشتہ کررہے تھے۔ میں نے سوال کیا۔ بیٹا! کیا بات تھی، اس پستول کا کیا قصہ ہے، کس کا تھا، کیوں میرے پاس رکھوایا تھا۔ کہنے لگا۔ امی! یہ پولیس والوں کیلئے معمول کی بات ہے لیکن میں چونکہ اس کا عادی نہیں ہوں اس لئے پریشان تھا۔ صاف بات کہو تاکہ سمجھ سکوں۔ کل رات کی ڈیوٹی تھی، رات کے ایک پہر بعد سنسان سڑک پر ایک مرد ایک عورت نظر آئے۔ سمجھ گیا معاملہ کیا ہے۔ جاکر ان کو دھر لیا۔ پوچھ گچھ کی۔ مرد باتوں کے لحاظ سے مناسب معلوم ہوا مگر گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ عورت اس کی گرل فرینڈ یا کرائے کی لڑکی نہ تھی۔ وہ بھی کسی عزت دار گھرانے کی تھی۔ اگر بات اچھلتی اور طشت ازبام ہوجاتی تو بڑا مسئلہ کھڑا ہوجاتا کہ عورت کسی اور مرد کی بیوی تھی جو ان دنوں بیرون ملک گیا ہوا تھا۔ دو شریف گھرانوں کی عزت خاک میں ملنے لگی تھی۔ تبھی وہ شخص گھبرا گیا تھا۔ اس نے مجھ سے استدعا کی کہ انسپکٹر صاحب! بے شک مجھے تھانے لے چلو یا بھاری جرمانہ لے لو لیکن اس عورت کو چھوڑ دو، اسے تھانے نہ لے جائو ورنہ اس کے بچے بھی اس کے ساتھ بے موت مارے جائیں گے۔
میں نے کچھ سوچ کر عورت کو جانے دیا لیکن بغیر اسلحہ لائسنس کا وہ پستول کسی کے سر ڈالنا تھا جو میں نے آپ کو رکھنے کیلئے دیا تھا۔ بڑے آفیسر نے یہ ٹاسک میرے سپرد کیا تھا کہ اسے کسی کے بھی سر ڈال کر ناجائز اسلحہ رکھنے کا کیس بنانا ہے اور رقم اس سے لے کر دینی ہے۔ میں نے مرد کو حوالات میں بند کردیا اور ناجائز اسلحہ رکھنے کا الزام اس کے سر ڈال دیا اور دو گواہوں کے دستخط لینے کے بعد میں گھر آگیا۔ دو راتوں کا جاگا ہوا تھا، سکون کی نیند سو گیا۔ کھانے کی میز پر میرے بیٹے نے یہ داستان سنا کر لمبی سانس لی۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ یہ کاشف کے ایک اعلیٰ آفیسر کا فون تھا۔ کاشف سمجھا کہ بڑے آفیسر نے شاباش دینے کیلئے بلوایا ہے۔ رات اسلحہ برآمدگی کی کارروائی جو مکمل کرآیا تھا۔ وہ جلدی جلدی وردی پہن کر روانہ ہوگیا۔دفتر پہنچا تو کیسی شاباشی، وردی اتارنے کا حکم ملا۔ حیران کہ یہ کیا الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں۔ شاباشی کی بجائے معطلی کی دھمکی جبکہ ملزم پیسے والا تھا اور بھاری رقم دینے پر آمادہ تھا۔ پتا چلا کہ جس شخص کو رات ناجائز پستول رکھنے کے الزام میں حوالات میں بند کر آیا تھا، وہ اعلیٰ آفیسر کا بہنوئی تھا۔ اپنی گرل فرینڈ کو بچانے کی خاطر چپ رہا کہ عورت عزت سے گھر چلی جائے اور خود کو تھانے میں بند ہوجانے دیا مگر صبح اس نے اپنے برادر نسبتی کو فون کرکے تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔
ملزم کو بری کردینے کے احکامات کے ساتھ خود کاشف کی معطلی کے احکامات بھی تیار تھے۔ بڑی مشکل سے معافی تلافی پر جان بچی اور وہ معطل ہوتے ہوتے بچا۔ تب کاشف نے کہا۔ ماں! اب آگیا آپ کو میری بات کا مطلب سمجھ میں کہ کیوں پولیس کے محکمے میں جانے سے گھبرا رہا تھا۔ اب بتایئے آپ کیا کہتی ہیں؟ انسان دریا میں رہے اور گیلا نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے، اسی لئے پریشان اور مضطرب رہتا ہوں کہ کاش! آپ نے دیانت کا سبق نہ پڑھایا ہوتا۔ آپ نہیں جان سکتیں لیکن میں جانتا ہوں کہ روز مجھے کیسی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
اپنے بیٹے کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ روز اب یہی دعا کرتی ہوں۔ اے کاش! کوئی فرشتہ صفت حکمران آئے اور ہمارے ملک کا نظام ٹھیک ہوجائے۔ اللہ جانے وہ دن کب آئے گا۔ وہ روشن سویرا کب طلوع ہوگا۔ (مسز قادر … کراچی)