Wednesday, November 30, 2022

Rozi

ٹھاہ – کی آواز کے ساتھ ہی میڈم روزی کا دماغ کھول اٹھا اور وہ لاؤنج سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کے چہرے پر تناؤ تھا ،سرخ رنگ کی ڈیزائنرساڑھی میں ملبوس وہ غصے سے بے قابو ہورہی تھیں ۔ سرخ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ، نفیس گالیاں بک رہے تھے۔ پچیس ہزار کا سیٹ ، جس کا آج تیسرا گلاس جان سے گیا تھا ۔ ان کی تو آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔
آصفہ دوپٹے کے پلو سے ہاتھ صاف کر رہی تھی اور ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہے تھے۔ میڈم روزی جن کے بچے فرانس اور امریکہ میں سیٹلڈ تھے۔ فرفر انگریزی بولا کرتی تھیں مگر کوئی سوچ سکتا ہے کہ وہ اس طرح کی گندی زبان بھی استعمال کرتی ہوں گی مگر وہ سن رہی تھی اور حیران بھی نہ تھی ۔ ان کا معمول تھا پچھلے ہفتے ان کے اپنے ہاتھ سے پہلا گلاس زمین بوس ہوا تھا۔ تو آصفہ کو گھورتے ہوۓ بولیں۔ جلدی سے فرش سے کانچ سمیٹ لے ۔ اپنے ہاتھ سے ٹوٹے تو خاموشی اور ایسا اگر کسی دوسرے انسان ہے ہو تو اس کی تنخواہ میں سے پیسے کٹیں گے۔ روزی بیگم گلاسوں کی مالک ہیں اور وہ صرف گلاس دھو دھو کر رکھنے والی ملازمہ فرق ہے بڑا فرق ہے۔
آصفہ نے اپنے آنسو پونچھے اور کانچ اٹھانے گی ۔ دور دور تک اسے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔روز اس کے لیے ایک جیسا ہی سورج طلوع ہوتا تھا اور اسی کی طرح تھکا تھکا غروب ہو جا تا تھا۔اوپر تلے چار بیٹیوں کی ماں تھی،خود اس نے پانچویں تک پڑھا تھا۔ کتابیں چاہے خود وہ تھوڑی سی ہی پڑھ سکی تھی مگر اتنا ضرور سیکھ گئی تھی کہ تعلیم سانس لینے جیسی ضروری ، انسان کو انسان سمجھنا ہے ۔ بیٹی ہو یا بیٹا ہے تو اولاد ناں۔ شوہر کراچی بھاگ گیا تھا۔ جنگل جیسے شہر میں وہ اسے کہاں کہاں ڈھونڈتی پھرتی اور وہ بھاگ کر جاتی کہاں ۔ بیٹیوں کو چھوڑنا اسے منظور نہ تھا پھر کالونی ہی میں کام کرنے والی سکینہ خالہ نے اسے روزی میڈم کے بنگلے کی راہ دکھائی۔ چوڑی کشادہ سڑک سایوں سے بھری پر اس کے لیے کہیں جاۓ امان نہ تھی ۔ چاروں بیٹیوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا کر جو پہلے ہولے ہولے سوچتی ہوئی چلا کرتی تھی۔ زندگی کے پر خار راستے پر سرپٹ دوڑنے لگی۔ پرانے کپڑے، ہوائی چپل اٹھائیس سال کی آصفہ زندگی کو سمجھنے لگی تھی۔
میڈم روزی کی طبیعت میں غصہ بہت تھا۔ کبھی خوش ہوتیں تو ہزار پانچ سو تھما دیتیں ورنہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ ، برا بھلا ۔ ایک وہ ہی نہیں سارے ملازم ہی ان سے خائف رہا کرتے ۔ تنخواہ وقت پر دے دیتی تھیں ۔ آصفہ کا گھر چلنے لگا تھا پر تھک کر چور ہو جاتی تھی-
چھٹی کے بعد اس کی بیٹیاں نانی کے ہاں چلی جاتیں اور واپسی پر وہ انہیں اپنے ساتھ لے کر گھر آ جاتی۔ چھوٹا بھائی ممتاز علی رات ان کے ساتھ ہی سوجا تا۔ممتاز علی خود مز دور آدمی تھا۔ ہر کوئی اپنا بوجھ اٹھا رہا تھا۔ وہ کیوں کسی پر بوجھ بنتی۔ کوئی بھی راستہ کبھی سیدھا نہیں ہوتا اس میں ٹیڑھ، کھائیاں اور سراب چھپے رہتے ہیں ۔اس کا دکھ میڈم روزی تھیں-
کیا انہیں احساس نہیں ہونا چاہیے کہ روزی روٹی کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلنے والیوں پر چلو احسان نہ کرے احساس تو کر لیں مگر ان کے وسیع لان کی طرح ان کا دل کسی بھی ملازم کے لیے وسیع نہیں تھا۔ جب ایک دن اس نے مالی بابا علی بخش ہے کہا کہ ، میڈم ای غصیلی کیوں ہیں تو وہ بھی آصفہ نکلی تھیں ۔ شوہر نے کسی امریکن گوری سے بیاہ رچا لیا تھا ۔ بچے گھر چھوڑ کر باہر کی دنیاؤں میں کھو گئے تب ہی میڈم کا دل کہیں بھی نہیں لگتا۔
آصفہ کا دل کہتا کہ میڈم روزی ناشکری ہوگئی ہیں۔ جن کے پاس روٹیاں ہوتی ہیں بھلا وہ بھی کبھی اکیلے ہوئے ہیں، ان کی موٹی انگلیوں میں پہنی ڈائمنڈ رنگز قیمتی کپڑے ملازمین کی فوج ، ہر دوسرے دن ان کی بہنوں ، دوستوں کے چکر ، کیا زندگی صرف ایک انسان تک محدود ہو جاتی ہے۔ زندگی تو چلتی رہتی ہے تو وہ کیوں نہیں چلتی جاتیں ،خوش اسلوبی سے صلح جوئی سے ۔ آصفہ کے ہاتھ کام کرتے جاتے بنا رکے اور دماغ سوچتا رہتا۔ کتنا فرق تھا ان دونوں میں ایک تنہائی سے لڑ رہی تھی اور دوسری روٹی کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بہت سا پڑھاۓ گی ، بہت سارے کام کرے گی اسے بھی تھکنا نہیں تھا مگر ایک شام اپنے دل پر لات مارنے والی کا دل بھر آیا تھا۔ میڈم روزی نے اسے بے بھاؤ کی سنائی تھیں ۔ اس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، ہمت نہ ہارنے والی ہمت ہار گئی-
وہ روزی کمانے کے لیے آتی ہے، بے عزت ہونے کے لیے نہیں- بابا علی بخش نے بڑا سمجھایا تھا نوکری کی تے نخرہ کی- پر بابا نوکرنخرہ نہیں کر رہا عزت مانگ رہا ہے جو کہ اس کا حق ہے ۔ اور وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔
وسیع وعریض بنگلے سے اس کے چلے جانے کا کسی کو کیا غم ۔ نوکر بہت، نوکرانیاں بہت، یہاں روز پختہ چہرے والی نوکرانیاں غول در غول سفر کرتی ہیں۔ ان کی آواز کسی نے بھی نہیں سنی تھی کسی سے سوٹ کی قمیض جلے تو مالکن کی آواز آتی ہے پر نوکرانی ، انہیں بولنے کا کیا حق مگر وہ یہ حق رکھتی ہے ۔ اس نے کبھی چوری نہیں کی ، کام میں کوئی نقص نہیں چھوڑا ،صاف ستھرے کام کے باوجود کوئی اس پر اپنا غصہ کیوں نکالے آخر- کتنے سارے پتھروں کو اس نے اڑا ڈالا تھا سڑک خالی تھی۔
حساب کے دو ہزار مٹھی میں دباۓ وہ زمانے سے لڑ کر نکلی تھی ۔ میڈیم اس کے کام کو اکثر سراہتی تھیں مگر اپنی زبان پر قابونہیں رکھ سکی تھیں ۔ لچھے دار پیازاس نے میڈم کے گھر سے کاٹنا سیکھی تھی ایک طرح کا مزیدار پلا ؤ اور کچھ روٹیوں کی قسموں میں وہ خود کو ماہر سمجھا کرتی تھی موٹی پیاز بریانی کے لیے کاٹا کرتی ۔ ٹماٹر،لمبی لچھے دار پیاز سلاد کے لیے اس نے بہت ساری بریانی دل لگا کر تیار کی اور اسے پھٹے پر رکھ دیا۔ اب وہ روٹی سالن اور بریانی بیچنا چاہتی تھی۔
کون کھاۓ گا روٹی چاول، یہاں لوگ روٹی کھانے کے لیے ہی پیدا ہوتے ہیں اور اسی کی تلاش میں مر جاتے ہیں۔ جب سارے جذبے مارڈالے تھے تو کھانا بیچنے میں شرم کیسی ،اس جھوٹی انا کو بھی جھوٹا ہو کر مرنا چاہیے۔
پہلے پہل عورتوں نے بریانی اور اس کے مسالوں کوسراہا پھر خریدنے لگیں ۔ اس طرح کی ہنر مند پیاز جو اتنے سلیقے صفائی سے کٹی تھی لوگوں کے دل میں اترنے لگی تھی ۔اسے روٹیاں سالن، بریانی بیچنا تھی ہرصورت ، چاہے کہیں کسی گھنے درخت تلے گھڑی ہو گئے۔ ہمت ہو تو گھر کی دیواروں کے درمیان راستے نکل آتے ہیں اس نے تو خود اپنے ہاتھ سے اپنی خواہشوں تک کا گلا گھونٹا تھا یہ تو روٹی تھی تھوڑے سے پیسے تھے جو بہت ضروری تھے۔ آصفہ کا دل پہاڑوں کی طرح مضبوط اور جما رہنے والا تھا ۔
وہ بھگوڑی نہیں تھی ۔شوہر بزدلوں کی طرح بھاگ گیا تھا مگر وہ عورت ہو کر مرد کی طرح جی رہی تھی ۔ کون کہتا ہے کہ عورت کمزور ہے، کم تر وہ ہے جوخود کو سمجھ کر بیٹھ جائے بھلے وہ کوئی عورت ہو یا مرد۔
خودکو اگر اس نے اچھا پکانے والی سمجھا تھا تو یہ بات سچ نکلی تھی ۔ انتہائی لگن سے پکا کر بڑا مگن ہوکر بڑی امید سے بچا تھا ۔ بیچنے کو تو سب کچھ بک جاتا ہے سستے مہنگے بھاؤ، اس نے اپنی ہمت کی قیمت لگانا شروع کی تھی وہ ہارنا نہیں چاہتی تھی وہ ہاربھی کیسے سکتی تھی پورے پندرہ سو روپے پہلا منافع ۔
آصفہ کی آنکھیں خوشی سے بھر گئیں گورنمنٹ کالج کی کینٹین اس کی اگلی منزل تھی ۔اپنا چھوٹا سا کاروبار پلاؤ ،زردہ ، حلوہ پوری ۔اس نے دیکھا کہ وہ چاٹ بھی اچھی بنانے لگی ہے ۔ گلے سڑے پھل بھی استعمال نہ کیے۔ ایسی صاف ستھری چائے اور کھانا بنایا جسے وہ اور اس کی بچیاں بھی بے دھڑک کھاسکیں۔اس کی آنکھوں میں بھیک کے بجاۓ عزم جا بیٹھا۔اس نے بند دروازہ پیٹنے کے بجاۓ کئی اور دروازے دریافت کر لیے تھے دریافت کی دنیا ہے ناں-
میڈم روزی مالی بابا ڈرائیور سے ایک دوبار – پوچھنے کے بعد بھولی نہیں بلکہ اور بھڑک اٹھیں ایک سر پھری قلاش عورت جو دانے دانے کی محتاج تھی اسے ہر بات سہہ جانا چاہیے تھی مگر وہ ایک ایسی جرت کر گئی جوان کے سامنے نوکروں کی تاریخ میں کبھی کسی نے نہیں کی۔ بڑے دن انہوں نے انتظار
کیا۔
وہ بریانی اچھی بنایا کرتی تھی ، ذائقہ کک کے مقابلے میں اس کے ہاتھ میں زیادہ تھا مگر وہ تھی کہاں ۔ صبح لان کے خوش گوار موسم اور تازگی کو محسوس کرتے ان کے سامنے آصفہ کھڑی تھی مالی اسے بلا کرلیا تھا-
کیا کرتی ہو آج کل اور تم آئیں کیوں نہیں پھر، میڈم روزی طنزسے اس کی مصروفیات دریافت کرنے لگیں۔
اپنا کام شروع کیا ہے۔
کیا کام ؟ تم عورت ہو اور جانتی ہو ناں معاشرے کوکیسا اندھیر مچارکھا ہے لوگوں نے۔ میڈم روزی نے اسے واپس لانے کے لیے ساری دنیا کو یک دم تاریکی میں ڈبوکر سیاہ کر دکھایا تھا۔
مجھ میں اتنا دم ہے کہ میں دنیا کا مقابلہ کرسکوں-
کیسی پڑھے لکھوں والی باتیں کرتی ہو، کتنا پڑھ رکھا ہے تم نے ؟ وہ اس کی نئی چپل اور لان کے ٹو پیس پر نظر جما کر بولیں ۔
کتابیں تو اتنی نہیں پڑھیں مگر دنیا کو ضرور پڑھا اور یہ جان لیا ہے کہ روزی روٹی کسی بھی میڈم کے اختیار میں نہیں صرف میرا رب اختیار رکھتا ہے اس پہ-
چھ ہزار دیتی تھی ناں پیچھے اب آٹھ ہزار دوں گی، تمہارے ہاتھ میں صفائی تھی۔ وہ کچھ نرم پڑیں بہر حال وہ آصفہ کی واپسی چاہتی تھیں۔
مگر اصفہ صرف اب تھی ہی رہ جانا چاہتی تھی۔ کوئی ڈھنگ کی ملازمہ ڈھونڈ نا ہو تو بتائیں۔ وہ ٹھکراکرنکلی تھی، ٹھکرا کر ہی لوٹ آئی، عزت سے کوئی شے قیمتی نہیں ہوسکتی-
امی- آج تو بڑا گھاٹا ہوا ہے ۔ ہاں تو گھاٹے تو زندگی کا حصہ ہیں ناں ان سے بھلا کیا ڈرنا لڑ کیو-
آصفہ ایک ایک پتیلے کو چیک کرنے لگی تھی جن میں سے کسی کے بھی پیندے میں مایوسی نہیں جمی پڑی تھی-
کل کا سامان تو آ جاۓ گا ناں اور کل سے ہر سو روپے کے پیچھے پانچ روپے روزی دینے والے کے، جس طرح اس رب نے میڈم روزی کو ہمارے لیے وسیلہ بنا کر زمین پر اتارا تھا اسی طرح وہ ہمارے لیے روزی بھی اتارے گا۔ کیوں میں سچ کہتی ہوھوں ناں ۔

Latest Posts

Related POSTS