Saturday, April 13, 2024

Saanp Ka Dung

خالہ . آپ اعتبار پر یہ اندھا اعتبار کرنا چھوڑ دیں پتا نہیں آپ کیوں ہر کسی پر اتنی جلدی اعتبار کر لیتی ہیں۔“ میں عاجز آکر بولی تو  خالہ ہنس دیں۔ اری ….. اعتبار پر اعتبار نہ کروں تو کس پر کروں؟ خالہ چھری سے اروی کے ٹکڑے کرتے ہوئے بولیں۔ خالہ … آپ ہر بات مذاق میں ٹال دیتی ہیں۔ میری کوئی تو آپ کے ذہن میں بیٹھتی ہی نہیں ۔ میں منہ پھلا کر خفگی سے بولی- تیری باتیں میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتیں ذہن میں کیسے بیٹھیں ۔ خالہ کی بات تو میرے سر پر لگی اور اور تلوؤں پر بھی۔ کیوں ، کیا میں فارسی میں بات کرتی ہوں جو آپ کو سمجھ نہیں آتی ۔ صاف اور سیدھی بات کرتی ہوں کہ جمعہ، جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اعتبار سے میری شادی کو اور آپ نے اسے تمام سیاه سفید کا مالک بنا دیا اپنی ساری پراپرٹی اسے سونپ دی۔ ایسا کرتے ہوئے انسان کتنی بار سوچتا ہے، چاہے اپنے بھائی یا بیٹے کو ہی سونپ کیوں نہ رہا ہو لیکن آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کسی سے مشورہ کیا۔ نہ کسی کی صلاح لی۔ میں نے دل کے چلے پھپھولے پھوڑے تو خالہ نے چھری سبزی کے تھال پر رکھی اور نرم لہجے میں گویا ہوئیں۔

اول تو وہ غیر نہیں ہے انعم جب اس سے تمہاری شادی ہو گئی تو وہ خود بخود اپنا بن گیا ناں اور پھر خالہ کی آواز اچانک بھرا گئی تمہارے خالو کی وفات کے بعد میں کیا کرتی کسی پر تو اعتبار کرنا تھا میرا کوئی بھائی نہ بڑا بیٹا، تم بیٹی ہو اعتبار داماد ہے. وہ اس وقت ہمارا سب سے قریبی رشتہ ہے۔”جانتی ہوں خالہ میں دکھی لہجے میں بولی۔ لیکن آپ اعتبار سے حساب کتاب تو لے سکتی ہیں ناں کم سے کم اسے ڈر تو ہو گا کہ کوئی اس سے حساب کتاب لینے والا ہے۔ خالہ نے دوبارہ چھری اٹھا کر ارویوں کے دو، دو ٹکڑے کرنے شروع کر دیے۔ میری جان اپنے شوہر پر اتنی بے عتباری مت کرو اعتبار اچھا آدمی ہے، وہ ہمیں جو کا نہیں دے گا۔” اگر اس نے دھوکا دیا بھی تو کون اس سے جواب طلب کرے گا خالہ میری فکر وہی تھی ۔ نہ میں اس پوزیشن میں ہوں نہ آپ۔“ میں مایوسی سے بولی۔ ہمارا خدا ہے ناں جواب طلبی کے لیے ۔ اس پر اعتبار رکھو وہی ہمارا مددگار تو ہے ” خالہ کی آواز میں یقین تھا، سچائی تھی۔ میں مزید کچھ کہے بنا اٹھ کھڑی ہوئی اور سلاد کی پلیٹ تیار کرنے لگی اعتبار ، رمشا اور علی کے آنے کا وقت ہونے والا تھا۔خالہ نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا تو ہڑ بڑا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ارے اتنی دیر ہوگئی۔ ہانڈی ابھی تک نہیں بنی ۔ وہ ہانڈی بنانے لگیں میں بھی ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے چھوٹے ، چھوٹے کام کرنے لگی۔جانے کیوں میں انہیں اماں کے بجائے خالہ کہتی تھی حالانکہ مجھے خالہ نے ماں بن کر پالا تھا میں چھ سات سال کی تھی جب میرے والدین ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پاگئے تھے۔ باپ کی طرف سے ایک چچا تھے اور ماں کی طرف سے ایک خالہ تھیں یہی دو سگے رشتے دار تھے۔

میرے چچا کی میرے والد سے نہیں بنی تھی سو انہوں نے تو مجھے ساتھ رکھنے سے صاف انکار کر دیا میں ٹکر ، ٹکر ایک، ایک بندے کا منہ دیکھ رہی تھی کہ جانے میری منزل کہاں ہو گی کہ خالہ نے بڑھ کر جھٹ سے مجھے سینے سے لگا لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولیں۔ انعم کو میں اپنے گھر لے جاؤں گی اپنی بیٹی بنا کر کسی نے احتجاج کیا کہ تمہارے تو خود چھوٹے ، چھوٹے بچے ہیں۔ تیسرے بچے کی زنے داری لے پاؤ گی؟انعم ہماری بڑی بیٹی ہوگی ۔ تبھی خالد مضبوط لہجے میں بولے ۔ رمشا اور علی کا نمبر اس کے بعد آئے گا ۔ اور اس طرح میں خالہ اور خالو کی محبت بھری پناہ میں بڑی ہونے لگی ۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ بڑی بیٹی سمجھا میں تو یقین جانیے یہ بھول گئی کہ وہ میرے سگے ماں، باپ نہیں ہیں ۔ خالہ کا تو میں اپنا خون تھی لیکن خالو نے تو سچ مچ مجھے ایک باپ کی سی شفقت اور محبت دی میں نے بی اے کیا تو میرے لیے اعتبار کا رشتہ آ گیا ۔ ہماری طرف لڑکیوں کو جلدی بیاہنے کا رواج تھا ، میٹرک کے بعد ہی لڑکی شادی . کرتی تھی جبکہ میں تو بی اے کر چکی تھی۔ خالہ ، خالو کو میری شادی کی فکر پڑ گئی تھی سو اعتبار کا رشتہ گویا سوکھے دھانوں پر پانی پڑنے کے مترادف تھا۔ خالو نے ہر طرح سے اعتبار کے رشتے کو پرکھا، وہ ایک خوش شکل اور با اخلاق لڑکا تھا۔ اس کی جاب اگر بہت اچھی نہیں تو ایسی بری بھی نہیں تھی۔ خالو نے تو اسے ہر طرح سے جانچا اور او کے قرار دیا لیکن خالہ کچھ کنفیوز تھیں۔ دراصل انہیں اعتبار کا گھر پسند نہیں آیا تھا بقول ان کے پانچ مرلے کے اس گھر میں اعتبار کے تین بھائی اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے، اعتبار کا اس گھر میں ایک کمرا تھا جہاں مجھے بیاہ کر جانا تھا۔ بقول خالہ کے گھر نہیں تھا چوں چوں کا مربہ تھا۔ وہ میرے لیے فکر مند تھیں کہ میں وہاں کیسے رہوں گی ۔جبکہ خالو ا نہیں سمجھا رہے تھے۔ اعتبار کے کیریئر کی ابھی ابتدا ہے۔ وہ خود کہہ رہا تھا کہ اس کی پہلی جدوجہد اپنے گھر کے لیے ہوگی پھر اتنی ساری خوبیاں ہیں تو ایک آدھ خامی تو ہمیں برداشت کرنی ہوگی۔ خالو نے ڈھیروں مثالیں دے کر خالہ کو سمجھایا ۔ خالہ نے مجھ سے رائے مانگی تو میں نے سب کچھ ان پر ہی ڈال دیا کہ جیسا وہ میرے لیے اچھا سمجھیں وہی کریں کافی سوچنے کے بعد خالہ، خالو نے اعتبار کے لیے میرا رشتہ منظور کر لیا۔ شادی کی تاریخ بھی جلد ہی مقرر ہو گئی۔ خالہ نے مجھے بہت اچھا جہیز دیا، ضرورت کی ہر چیز دی بلکہ میں سمجھتی ہوں کہ انہوں نے مجھے اپنی استطاعت سے بڑھ کر جہیز دیا جبکہ میں خالہ کو منع کرتی رہتی۔ شاید ہر بیٹی کو اپنے والدین سے ایسی ہی ہمدردی ہوتی ہوگی جیسے مجھے تھی کیونکہ میں خالہ، خالو کو بے انتہا چاہتی تھی۔

اعتبار نے بہت محبت سے میرا استقبال کیا اور اپنی محبت سے میرا دل موہ لیا۔ وہ میرا بہت خیال رکھتا ، ہر دوسرے تیسرے دن مجھے خالہ خالو سے ملانے لے جاتا ۔ وہ دونوں مجھے خوش دیکھ کر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ….. وہ دونوں اعتبار کا کسی بیٹے کی طرح خیال رکھتے۔ لیکن افسوس کہ یہ خوشی بہت مختصر تھی ۔ خالو کو اچانک دل کا دورہ پڑا، وہ پہلا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ لمحات میرے اور خالہ بہت جان گسیل تھے۔ رمشا بڑی تھی اور علی چھوٹا لیکن دونوں سمجھدار تھے باپ کی بے وقت موت نے ان کو سہارا کر دیا تھا۔ وہ دونوں روتے تو میں انہیں لپٹا کر چیخیں مارنے لگتی گھر میں کچھ نہ پکتا ۔کوئی کھانا نہ کھاتا پڑوس سے کھانا آتا اور ہمیں زبر دستی کھلاتے خالہ راتوں کو بھی اٹھ اٹھ کر روتی جاتیں۔ اعتبار نے مجھے خالہ کے گھر کی مستقل طور پر رہنے دیا۔ وہ ہر روز آتا، گھر کی کہ ضروریات پوری کرتا اور رات گئے گھر چلا جاتا۔ مجھے اور خالہ کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹانےمیں اعتبار کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اس نے بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کیا مگر آخر کہاں کی تک خالو کاغم تو ختم ہونے والا نہیں تھا لیکن زندگی کو بھی تو چلانا تھا۔

خالہ ایک سادہ لوح عورت تھیں۔ خالو کی بڑے بازار میں دو دکانیں تھیں۔ ایک میں وہ خود بیٹھتے تھے اس کو جنرل اسٹور بنا لیا تھا…. دوسرے کو جے کرایے پر دیا تھا۔ زمین کا ایک ٹکڑا بھی خالو کی ملکیت تھا جس سے گندم وغیرہ ہوتی تھی۔ وہ محنتی بندے تھے۔ محنت کرتے اس لیے اچھی طرح سے گزارہ ہو جاتا تھا۔ خالہ کو فکر ہوئی دکان اب بند پڑی تھی۔ اس میں وافر سامان بھی موجود تھا جس کے خراب ہونے کا خدشہ تھا اور بھی خالہ نے مجھ سے مشورہ کیے بغیر اعتبار سے بات کی کہ وہ اس گھر کا سر براہ بن جائے اور خالو کا سارا کاروبار سنبھال لے اعتبار نے فورا سے پیشتر خالہ کی بات مان لی مجھے علم ہوا تو میں نے بڑا شور مچایا۔ اعتبار سے میں نے یہی کہا کہ اس کی جاب ہے تو وہ اپنا وقت کیسے خالو کی دکان کو دے سکتا ہے لیکن اعتبار نے مجھے کہا کہ وہ کر لے گا۔ میں خالہ سے بھی لڑی کہ اعتبار سے بات کرنے سے پہلے انہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی ۔ کیوں تمہیں اپنے نہیں اپنے شوہر پر اعتماد نہیں ہے؟ خالہ حیرت سے بولیں ۔ میری شادی کو کل چھ ماہ ہوے ہیں خالہ اتنی جلدی میں کیسے انہیں جان سکتی ہوں۔” میں بے بسی سے بولی۔ لیکن بیٹے ، اعتبار اچھا آدمی ہے۔ تم خواہ مخواہ و ہم مت کرو، دیکھ لو اس نے تمہارے خالو کی وفات کے بعد کیسے اس گھر کو سنبھالا دیا ہمیں کسی کی اچھائی میں برائی تلاش نہیں کرنی چاہیے۔” میں خاموش ہوگئی ….. بعد میں خالہ نے اعتبار ہے کہا کہ اگر تمہارے بھائیوں کو اعتراض نہ ہو تو تم دونوں میرے ساتھ رہنا شروع کر دو کہ گھر میں ایک مرد کی ہر وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اعتبار کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس بات پر تو مجھے بھی اعتراض نہیں تھا کہ یہ چھ ماہ اس گھر میں ، میں نے بڑی مشکل سے گزارے تھے۔ وہاں بھانت بھانت کے لوگ رہتے تھے جو آپس میں ہر وقت لڑتے رہتے تھے جبکہ خالہ کے گھر کا ماحول بہت پرسکون تھا سو میں وہاں سارا دن اپنے کمرے کا کا دروازہ بند کر کے ڈر کے مارے اندر بیٹھی رہتی۔ میں یہ ساری باتیں خالہ، خالو سے شیئر بھی کرتی تو وہ دونوں مجھے تسلی دیتے کہ سخت وقت بیت جائے گا۔ اعتبار جلد ہی اپنا گھر لے لے گا۔ میں جانتی تھی کہ وقتی طور پر یہ طفل تسلیاں ہیں مگر اب صورت حال مختلف تھی ۔ شادی سے پہلے جو کمرا میرا مسکن تھا اس میں اب اعتبار بھی شریک بن گیا تھا۔ اعتبار خالہ نے تم پر بہت اعتبار کیا ہے۔ کبھی ان کا اعتبار مت توڑنا اعتبار میری یہ بات سن کر ہنس پڑا اور مزاحیہ لہجے میں بولا ۔ انعم اعتبار بھی کبھی کسی کے اعتبار کو توڑتا ہے میرا نام اعتبار ہے تو سمجھ لو کہ ہر کوئی مجھ پر اعتبار کر سکتا ہے۔ میں چپ ہو گئی۔ میں نے خالہ کو بھی سمجھایا۔ ” اس سے روز ، روز کے حساب لیا کریں …. کم از کم دکان کے ملازم اسد سے پوچھ کچھ کرتی رہا کریں بلکہ ایسا کریں اسے اپنے اعتماد میں لیں کہ وہ آپ کو سب کچھ بتایا کرے۔ خالہ تو میری بات پر بھڑک ہی اٹھیں تیز آواز میں بولیں۔ میں تمہاری طرح سازشی ذہن نہیں رکھتی۔

غضب خدا کا ایک بندہ اپنا سارا وقت ہمارے کاروبار کو دیتا ہے ۔ دن رات محنت کرتا ہے اور ہم اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اب اتنی بھی احسان فراموش نہیں ہوں میں انہوں نے غصے سے منہ پھیر لیا تو میں خاصی شرمندہ ہوگئی ۔ خالہ ٹھیک کہتی تھیں اعتبار نے ایسا کچھ کیا بھی نہیں تھا۔ جس کی بنیاد پر میں اسے خطاوار سمجھتی لیکن جانے کیوں میرا دل مطمئن نہیں تھا۔ عجیب عجیب خیالات دل میں آتے۔ میرا دل کسی طرح بھی اعتبار کو ایک ایماندار شخص سمجھنے کو تیار نہیں تھا اور میں اسی بات پر پریشان رہتی تھی ۔

وقت عجیب سی سی چال چل رہا تھا۔ ایک دن اعتبار نے خالہ کو دس ہزار روپے دیتے ہوئے کہا۔ خالہ یہ گندم کی رقم ہے۔ گندم بک ہے۔ خالہ نے پیسے لیے لیے تو تو سہی سہی لیکن عجیب حیران نظروں سے اعتبار کو دیکھا. لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں اور رقم لے کر اندر کمرے میں چلی گئیں میرے دل میں عجیب دھڑک، دھڑک شروع ہوگئی اگر میں خالہ سے پوچھتی بھی تو بھی خالہ مجھے کچھ نہ بتاتیں لیکن مجھے خالہ کے رو یے سے ایسا لگا تھا کہ جیسے یہ رقم خالہ کی توقع سے بہت کم تھی لیکن خالہ سے پوچھنا فضول تھا۔ سو میں کئی دنوں تک اپ سیٹ رہی ۔ اس دن خالہ نے چکن بریانی پائی تھی۔ بریانی سارے گھر کی پسندیدہ ڈش تھی۔ رمشا اور علی بھی بریانی بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ میں اور اعتبار بھی بریانی کے بہت شوقین تھے۔ سو میں برتن میز پر سیٹ کر کے رائتہ بنانے لگی ۔ بچے ابھی اسکول سے نہیں آئے تھے۔ اعتبار بھی دکان سے گھر نہیں آیا تھا۔ خالہ بریانی کے ساتھ نبرد آزما تھیں کہ اچانک داخلی دروازہ زور سے بج اٹھا۔ میں نے اور خالہ نے حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا… میں دوسری کوئی بات کیے بغیر دروازہ کھولنے چل دی ….. دروازے پر دکان کا ملازم اسد کھڑا تھا ۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، مجھے دیکھ کر وہ جلدی سے بولا –

وہ اعتبار بھائی کو سانپ نے کاٹ لیا ہے. دوسرے دکاندار انہیں اسپتال لے گئے ہیں۔ میں آپ کو خبر دینے آگیا ۔ لک کیا؟ مجھے لگا جیسے میرے جسم سے جان نکل گئی ہو۔ کس اسپتال میں ہے؟ کس حال میں تھا وه؟ خالہ چیخ چیخ کر اسد سے پوچھ رہی تھیں۔ اسدان کے سوالات کے جواب دے رہا تھا۔ مجھے ہوش آیا تو میں نے اسد کو ٹیکسی لینے بھیج دیا۔ خالہ بھی جانے کے لیے تیار تھیں لیکن میں نے انہیں روکا۔ ” بچے اسکول سے آئیں گے تو گھر بند ہوگا خالہ آپ یہیں رک جائیں ۔ میں اسد کے ساتھ چلی جاتی ہوں آپ بعد میں آجائیے گا۔ میں پاگلوں کی طرح ایمر جنسی میں یہاں سے وہاں بھاگتی رہی کوئی مجھے اندر جانے نہیں دے رہا تھا ایک ڈاکٹر ایمر جنسی سے باہر نکلا تو میں بھاگ کر اس کی طرف گئی اور گڑ گڑا کر اس سے اعتبار کے بارے میں پوچھا۔ وہ سانپ والا مریض ؟ وہ بولا ۔ زہر اس کے جسم میں پھیل گیا تھا ہم سب نے جان توڑ کر محنت کی اس کے جان بچانے بچانے کے لیے ویسے اب بھی ، باہر تو نہیں ۔ خطرے سے لیکن اس کی حالت کچھ سنبھل گئی ہے۔

مجھے لگا جیسے میرے وجود کے اوپر سے ریل گاڑی گزر گئی ہو۔ اگر میں دھم سے کرسی پر گرنے کے سے انداز میں نہ بیٹھتی تو یقیناً کو پورے قد سے گر پڑتی۔ میرے دل کی دھڑکنیں اتنی بے ترتیب ہو گئیں جیسے دل باہر ہی آجائے گا۔ اعتبار اگرچہ میرا شوہر ضرور تھا لیکن میں نے یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ میرے لیے اتنا اہم ہے اس حادثے نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ مجھے اس اس سے سے کتنی محبت ہے۔ میرے روئیں ، روئیں سے اعتبار کی زندگی کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں۔ میں اس کی ذات پر کتنا شک کرتی تھی۔ خالہ کو اس کے خلاف بھڑکانا اور خود اس سے ہر وقت اس موضوع پر بات کرنا گویا میری عادت بن گئی تھی۔

ابھی دو دن پہلے کی بات تھی۔ میں سونے کے  لیے کمرے میں گئی تو اعتبار میرا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی بڑے میٹھے لہجے میں کہنے لگا۔ ” انعم کبھی مجھے بھی ٹائم دیا کرو میں  کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں آؤ ادھر میرے پاس بیٹھ جاؤ” اعتبار میں تم سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔ میں اس کے پاس بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگی۔ ہاں ، ہاں سو باتیں کہووہ میرے دونوں ہاتھ محبت سے پکڑ کر بڑے رومینٹک لہجے میں بولا تھا۔ ” اعتبار تم خالہ کی پراپرٹی کو پوری ایمانداری سے سنبھالو یہ صحیح ہے کہ ان کا کوئی نہیں جو تم سے جواب طلبی کرے لیکن خالہ نے خود کو خدا کے حصار میں دے رکھا ہے۔ ان کی طرف سے جواب طلبی اللہ ہی کرے گا۔ تو اس کے غضب سے ڈرنا اعتبار اللہ کا انتظام بہت سخت ہوتا ہے۔“ تمہیں کیا مصیبت ہے انعم ؟“ اس نے چڑ کر میرے ہاتھ چھوڑے۔ “کیا میرے اور تمہارے درمیان اب یہی ایک موضوع رہ گیا ہے ڈسکس کرنے کو یا تم مجھے کیا سمجھتی ہو۔ ایک کرپٹ شخص؟ اس کا موڈ آف ہو چکا تھا۔ اس نے دوسری طرف کروٹ بدلی تومیں دھیمی آواز میں بولی۔

سمجھا رہی ہیں یا ڈرا رہی تھیں۔ وہ خراب موڈ کے ساتھ بولا ۔ جانے تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے۔ جبکہ میں صرف اور صرف خالہ کی مدد کے خیال سے اتنی محنت کر رہا ہوں ورنہ اپنی جاب سے اتنی محنت کر رہا ہوں اور ساتھ، ساتھ خالہ کی اتنی ساری ذمے داریاں سنبھالنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے۔ میں شرمندہ ہو گئی تھی۔ میں نے محبت سے اعتبار کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولی ۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو اعتبار میں تم سے معافی چاہتی ہوں ۔ اعتبار کا موڈ جلد ہی ٹھیک ہو گیا تھا اور وہ اپنے جذبے مجھ پر لٹانا چاہتا تھا۔ اس وقت اس کی وارفتگی یاد کر کے میرے دل میں ٹیس سی اٹھی اور میں دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر بری طرح رودی – اسی دوران خالہ ایمرجنسی کی طرف آئی مجھے اس بری طرح روتے دیکھ کر وہ مجھے سینے سے لگا کر خود بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں – خاله اعتبار بچ تو جائے گا ناں ؟ میں روتے ہوئے بولی ۔ ہاں میری جان اللہ بہت بڑا ہے۔ رحیم و کریم ہے۔ تم اس سے مانگو وہ بندے کو مایوس نہیں کرتا ۔ ابھی خالہ مجھے تسلی ہی دے رہی تھیں دو افراد ان کے پاس آئے ۔ یہ وہی دکان دار تھے جو اعتبار کو اسپتال لے کر آئے تھے۔ اسد بھی ان کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ دونوں خالہ سے اظہار ہمدردی کر رہے تھے اور ان میں سے ایک حیرت سے کہہ رہا تھا ۔ اتنے سالوں میں کبھی کوئی سانپ کسی نے نہیں دیکھا. جانے یہ سانپ کہاں سے آیا تھا جو اعتبار کو کاٹنے کے بعد ایسا غائب ہوا کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ خالہ ان کا شکریہ ادا کر رہی تھیں کہ انہوں نے اعتبار کو بر وقت اسپتال پہنچایا ۔ اتنے میں ڈاکٹر ایمر جنسی سے نکلا اور میرے پاس آکر بولا ۔شکر ہے آپ کا مریض اب خطرے سے باہر ہے۔ ابھی وہ غنودگی میں ہیں۔ ایک گھنٹے بعد ان سے مل سکتی ہیں ۔ میں اور خالہ مارے خوشی سے ایک دوسرے سے لپٹ گئے خالہ نے اسد اور باقی دکانداروں سے کہا کہ وہ اب جا سکتے ہیں ۔ اسد نے کہا کہ وہ اعتبار سے ملے بغیر نہیں جائے گا۔ ان کے جانے کے بعد میں نے خالہ سے کہا کہ وہ بھی گھر چلی جائیں، بچے گھر میں اکیلے ہیں۔ میں اور اسد یہاں بیٹھے ہیں خالہ نے کچھ پس و پیش کی لیکن میں نے زبردستی انہی گھر بھجوا دیا اور خود اپنے پرس سے منزل نکال کر دعائیں پڑھنے لگی کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے مجھے اعتبار سے ملنے کی اجازت دے دی۔

میں جلدی سے کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ بیڈ پر اعتبار آنکھیں بند کیے لیٹا تھا لگتا تھا جیسے اس کا سارا خون کسی نے نچوڑ لیا ہو وہ اس قدر کمزور اور پیلا لگ رہا تھا کہ میں اسے دیکھ کر سکتے میں آ گئی۔ مجھے شدت کا رونا آیا – میرے رونے کی آواز کے ساتھ ہی اعتبار نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور نہایت کمزور آواز میں کچھ بولنے کی کوشش کی۔ انعم میں اب ٹھیک ہوں ۔“ اعتبار، آپ سچ میں ٹھیک ہیں ناں ۔ میں نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ ہاں انعم بس کمزوری ہے جو چند دن میں دور ہو جائے گی۔ وہ میرے و وہ میرے دونوں ہاتھ محبت سے دباتے ہوئے بولا ۔ شکر ہے خدا کا “ میں نے بے اختیار خدا کا شکر ادا کیا پھر اعتبار مجھے بتانے لگا کہ کیسے اسے سانپ نے کاٹا۔ اور وہ اس وقت کیا کر رہا تھا۔ وغیره وغیره.

اعتبار وہ بازار کے دکاندار بھی حیران تھے کہ ساری عمر اس بازار میں کسی نے کوئی سانپ نہیں دیکھا نہ ہی کبھی کوئی ذکر ہوا۔ پھر یہ سانپ اچانک کہاں سے آگیا۔ پھر بازار تھا کوئی جنگل تو نہیں تھا جہاں سانپ بچھو ہوتے ہیں ۔ میں نے پریشانی سے اعتبار کے چہرے پر کرب کے اثرات نمودار ہوئے۔ وہ سانپ خود نہیں آیا تھا انعم وہ بھیجا گیا تھا۔ وہ جیسے بڑی مشکل سے تھوک نگل کر اٹکتے ہوئے بولا ۔ ک کیا ؟ مجھے لگا جیسے کسی نے مجھ پربم پھوڑ دیا میں پھٹی پھٹی نظروں سے اعتبار کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے بولی ۔ کیا کہ رہے ہو اعتبار تمہارا بھلا کون دشمن ہو سکتا ہے؟ میرے اندر بے چینی کے ساتھ،  ساتھ بے انتہا پریشانی بھی تھی۔ یہ سانپ کسی دشمنی کی بنا پے نہیں مجھے سدھارنے کے لیے بھیجا تھا۔ یہ مجھے موت دینے نہیں آیا تھا ورنہ اب تم مجھے یہاں زندہ نہیں دیکھتیں۔ میں اعتبار کی کوئی بات سمجھ ہی نہیں پائی۔ کیا پہیلیاں بھجوا رہے ہو اعتبار میں نے الجھن آمیز لہجے میں اس سے کہا۔ میرا دل ہول رہا ہے پلیز ، مجھے صحیح بات بتاؤ اعتبار نے ایک ٹھنڈی آہ بھری کچھ دیر سکوت اختیار کیا اور جانے خلا میں کیا، کیا ڈھونڈتا رہا۔ حقیقت جان کر یقینا تمہیں بھی مجھ سے نفرت ہوگی لیکن مجھے اب اس کی پروا بھی نہیں ہے۔ میں تمہیں حقیقت ضرور بتاؤں گا۔ میں سانس روکے اس کی بات سننے لگی …. وہ دھیمی آواز میں بتانے لگا۔ ، تم نے مجھے ہمیشہ سمجھایا کہ میں خالہ کی پراپرٹی میں کوئی ہیر پھیر نہ کروں لیکن “ وہ کچھ دیر خاموش ہو کر خلا میں گھورتا رہا پھر آہستہ سے ٹوٹتی آواز میں بولا ۔

میں نے تمہاری بات کو کبھی سیریس نہیں لیا پیسوں کی چمک دمک نے مجھے پاگل کر دیا تھا۔ کہاں تو ہر ماہ ایک مخصوص نپی تلی رقم ہاتھ آتی اور کہاں اب روز کے روز بکری ہوتی اور اچھی خاصی رقم ہاتھ آتی ۔ سو اپنے لیے رقم نکال کر میں باقی پیسے خالہ کو دے دیتا۔ مزے ہی مزے تھے۔ کہاں تو میں  پہلے ایک، ایک دن گنتا کہ کب تنخواہ لے گی یا اب مجھے یاد بھی نہیں رہتا کہ یکم آکر گزر بھی گئی ہے۔ سونے پر سہا گا کہ خرچ کی بھی کوئی ٹینشن نہ تھی یا سارا خرچہ خالہ اٹھاتا تھیں ۔ سو موج ہی موج تھے۔ میں گندم وغیرہ کے پیسوں سے بھی خاصی بڑی رقم اڑا لیتا تھا۔ کوئی پوچھنے والا تو تھا نہیں ، خالہ ہمیشہ میری احسان مند رہیں. بس مجھے تمہاری طرف سے تھورا سا کھٹکا رہتا تھا لیکن یہ کہہ کر میں اپنے دل کو مطمئن کر دیتا کہ تم میری چوری کبھی نہیں پکڑ سکتیں اور نہ حساب کتاب کے لیے دکان میں آسکتی ہو۔ سو میں بے فکر ہی رہا ۔ اس بار مجھے گندم کی رقم میں  دس ہزار خود رکھ کر میں نے دس ہزار خالہ کو دے دیے تھے اور تب پہلی بار میں نے خالہ کی آنکھوں میں شک کی پر چھائیاں تیرتی دیکھیں۔ لیکن انہوں نے منہ سے کچھ نہ کہا بس میں پھر سے بے فکر ہو گیا۔ وہ سانس لینے کے لیے رکا اور غمزدہ آواز میں بولا ۔ میری بد قسمتی  یہ تھی کہ میں خدا کو بھول گیا تھا کہ وہ ایک ایسی ہستی ہے کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا ، وہ پاک ذات اس کا دفاع کرتی ہے تبھی تو اللہ نے مجھے سبق سکھانے کے لیے یہ سانپ بھیجا جس نے مجھے ڈنک مار کر اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ۔ میں ایسے گم صم بیٹھی تھی جیسے مجھ میں سانس لینے کی بھی طاقت نہیں رہی ہو۔ جیسے میں مر چکی ہوں یا خدا جس وقت مجھ پر یہ ادراک ہوا کہ میں اس شخص سے بے پناہ محبت کرتی ہوں تو مجھ پر اس کی اتنی بڑی خامی عیاں ہوئی کہ اب اس شخص سے محبت تو دور میں تو اسے نفرت کے بھی قابل نہیں سمجھوں . میرے سارے شکوک و شبہات حقیقت بن کر میرے سامنے کھڑے تھے۔

انعم، مجھے معاف کر دو ۔ وہ گڑ گڑا کر دونوں  ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہہ رہا تھا۔ میں بہت برا آدمی ہوں، میں تم جیسی نیک لڑکی کے قابل نہیں تھا۔ لیکن اب تم مجھے ایک موقع دو تو میں اپنے سارے گناہوں کا ازالہ کروں گا۔ میں تم جیسا نیک بنوں گا اور خالہ کا اصلی بیٹا بن کر دکھاؤں گا ۔” میں  اسے کیا کہتی میں تو سوچنے کے قابل تھی نہ سمجھنے کے  – میں تو زندہ ہی نہیں تھی تو سوچتی کیسے. اعتبار ٹھیک ہو کر گھر آ گیا۔  خالہ بہت فراخ دل تھیں۔ انہوں نے کھلے دل سے اعتبار کو معاف کر دیا تھا۔ مگر میں جیسے نفسیاتی مریضہ بن گئی تھی۔ خالہ مجھے سمجھاتی رہتی ۔ بیٹا انسان کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے جو اسے ورغلاتا رہتا ہے۔ اعتبار برال ڑکا نہیں بس وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گیا تھا۔ خدا نے اسے سمجھانے کے لیے ایک موقع دیا۔ اگر خدا کو اسے مارنا ہوتا تو وہ سانپ کے ڈنک سے ہی مر جاتا لیکن میرا رب اسے راہ راست پر لانا چاہتا تھا۔ دیکھو وہ راہ راست پر آ گیا … گویا خدا نے اسے معاف کر دیا تو پھر ہم بندے بھلا اسے کیوں نہ معاف کریں کیا ہم نعوذ باللہ خدا سے بڑے ہیں بولو تم بتاؤ “

میں خالی، خالی نظروں سے خالہ کو دیکھ رہی تھی اعتبار مجھ سے ہر وقت معافیاں مانگتا رہتا وہ پانچ وقت کا نمازی بن گیا تھا۔ روزانہ وہ خالہ کے ساتھ حساب کتاب کرتا ۔ گندم بیچتے وقت وہ بندوں کو لے کر خالہ کے پاس آتا اور ان کی مرضی سے سارے کام کرتا خالہ پہلے کی طرح اس کے واری صدقے جاتیں۔ مگر میں شاید کچھ وقت اور گزرے تو میں بھی اسے معاف کردوں لیکن ابھی تو میں اسی شش و پنج میں ہوں کہ اعتبار اس طرح بھی میرا اعتبار توڑ سکتا ہے بھلا خالہ مجھے سمجھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اعتبار اب بالکل بدل گیا ہے وہ اس گھر کے لیے صبح سے لے کر شام تک لگا رہتا ہے۔ اب اس کی نیت میں کوئی فتور نہیں ہے وہ مجھے ملتجی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے کہ شاید میرے جذبوں پر جو برف ہے وہ پگھل جائے اور وہ برف کب پگھلے گی مجھے معلوم نہیں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

Latest Posts

Related POSTS