Saazish | Episode 1

707
رات ہونے والی بارش کے باعث فضا، پرُفضا ہوگئی تھی۔ موسم خوشگوار ہونے کے باعث یونیورسٹی میں لڑکے اور لڑکیاں کلاس میں جانے کے بجائے برآمدوں اور لان میں گھومتے نظر آرہے تھے۔
نمرہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی اپنے ڈپارٹمنٹ میں پہنچی تو اسے اپنی سہیلی زوبیہ، اسجد کے ساتھ لان میں مل گئی۔
’’تم لوگ یہاں ہو، کلاس میں نہیں گئے؟‘‘ نمرہ نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’نمرہ! کلاس شروع ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے ہیں۔ موسم بڑا سہانا ہے اس لئے ہم نے سوچا کلاس میں جانے کے بجائے موسم کو انجوائے کیا جائے۔‘‘
’’نمرہ…! تم زوبیہ کو اچھی طرح جانتی ہو، یہ موقع کی تلاش میں رہتی ہے کہ کسی بہانے کلاس مس کرے۔ ان محترمہ کے اصرار پر میں بھی کلاس میں نہیں گیا۔‘‘ اسجد بولا۔
’’تم دونوں کی فطرت سے میں بخوبی واقف ہوں۔ تم لوگ حاضری پوری کرنے کیلئے کلاس میں جاتے ہو ورنہ پڑھائی کا شوق قطعاً نہیں ہے۔ میں اپنے نوٹس دینا بند کردوں گی تب تم لوگوں کی عقل ٹھکانے آئے گی۔‘‘
’’اوہو نمرہ…! صبح کے وقت ایسی باتیں کرکے ہمارا موڈ خراب مت کرو۔ ویسے تم پچھلے دو دنوں سے کہاں غائب تھیں؟‘‘ زوبیہ نے پوچھا۔
’’ایبٹ آباد سے میری خالہ آگئی تھیں۔ ان کی آمد اچانک ہوئی تھی اس لئے تم لوگوں کو بتانے کا موقع نہیں ملا ۔ویسے تم لوگ بڑے بے مروت ہو، میری غیر حاضری پر کسی نے فون نہیں کیا۔‘‘
’’سوری! غلطی ہوگئی نمرہ! تمہارے لئے ایک اچھی خبر ہے ۔ہفتے کو ہم لوگ ٹرپ پر جارہے ہیں۔‘‘
’’رئیلی…! مگر کہاں جارہے ہیں؟‘‘ نمرہ نے خوش ہوکر پوچھا۔
’’مائی ڈیئر فرینڈ! ہم لوگ کلری جھیل جارہے ہیں۔‘‘
’’اچھی خبر ہے۔ مجھے ویسے بھی گھومنے کا شوق ہے۔‘‘
’’نمرہ! تمہاری خالہ کب تک قیام فرمائیں گی؟‘‘
’’وہ پرسوں چلی جائیں گی۔‘‘
’’زوبیہ! تمہیں نمرہ کی خالہ کی اتنی فکر کیوں ہورہی ہے؟‘‘ اسجد طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’میں نے نمرہ سے اس لئے پوچھا ہے کہ کہیں وہ اپنی خالہ کی وجہ سے ٹرپ ملتوی نہ کردے۔ ویسے اس ٹرپ پر جانا بے حد ضروری ہے ہم لوگوں کا یونیورسٹی میں آخری سال ہے اس کے بعد صرف یادیں باقی رہ جائیں گی۔‘‘ زوبیہ نے جذباتی لہجے میں کہا۔
’’زوبیہ! زیادہ جذباتی نہ بنو، ہم لوگ یہاں سے جانے کے بعد بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گے۔‘‘
’’اسجد! تمہاری بات اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر یہ وقت دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گا اور تم کون سا یہاں رہو گے۔ اپنے باباسائیں کی طرح زمینداری کررہے ہو گے۔ غریب ہاری تمہارے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہوں گے اور تم ان پر حکمرانی کررہے ہو گے۔‘‘
زوبیہ کی بات سن کر اسجد کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ وہ بولا۔ ’’تم کوئی موقع طنز کرنے کا ہاتھ سے مت جانے دینا۔ مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے۔ آئو کینٹین چل کر کچھ کھا لیتے ہیں۔‘‘
’’کینٹین جانے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ لنچ تمہاری طرف سے ہوگا۔‘‘ زوبیہ نے کہا۔
’’اوکے! اب خوش…؟‘‘
’’ہاں! بالکل خوش۔‘‘ وہ بچوں کی طرح بولی۔ اس کے اس انداز کو دیکھ کر نمرہ مسکرا اٹھی۔
شام چار بجے نمرہ یونیورسٹی سے گھر پہنچی تو امی نے اسے لاہور سے اپنی دوسری بہن کی آمد کی اطلاع دی۔
’’خیریت…؟‘‘ نمرہ نے چونک کر پوچھا۔ ’’میرا مطلب ہے پہلے مینا خالہ اور اب فریحہ خالہ کی آمد!‘‘
’’تمہاری تو کوئی بہن ہے نہیں جو تمہیں اندازہ ہو اس رشتے کی اہمیت کا۔‘‘
’’امی! میری کوئی بہن، بھائی نہیں، کیا یہ میرا قصور ہے؟ آپ کی باتوں سے تو یوں لگ رہا ہے۔‘‘ نمرہ یہ کہتے ہوئے کپڑے تبدیل کرنے چلی گئی۔ اس کا دل فریحہ خالہ کی آمد، کسی ہلچل کا باعث ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔ جب وہ بارہ سال کی تھی تو جمیل ماموں کی شادی پر لاہور گئی تھی، وہاں فریحہ خالہ کے سسرالی عزیزوں اور بچوں سے ملی تھی پھر عرصہ ہوا دونوں گھرانوں میں کوئی آمدورفت نہیں ہوئی۔ ایک سال قبل وہ امی کے ساتھ ان سے ملنے لاہور گئی تھی۔ امی نے فریحہ خالہ سے کہا تھا کہ وہ کراچی آئیں مگر فریحہ خالہ نے مصروفیت کا بہانہ بنا دیا تھا۔ مینا خالہ سال دو سال بعد ضرور کراچی آتی تھیں مگر فریحہ خالہ ہمیشہ مصروفیت کا بہانہ بنا دیتی تھیں۔
نمرہ کپڑے تبدیل کرکے لائونج میں آئی تو اس کی امی کھانا لگا چکی تھیں۔ نمرہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی تو کھانا دیکھ کر اس کا موڈ آف ہوگیا۔ ’’امی! آپ نے آج پھر سبزی پکائی ہے، کسی دن گوشت بھی پکا لیا کریں۔‘‘ نمرہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ بھنڈی فرائی دیکھ کر اس کا موڈ آف ہوگیا تھا۔
’’تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے اس گھر میں گوشت پکتا ہی نہیں۔ ابھی کل ہی تو گوشت پکایا تھا۔‘‘
نمرہ پلیٹ میں سبزی ڈالتے ہوئے بولی۔ ’’مینا خالہ صبح کب ماموں کے گھر گئیں؟‘‘
’’وہ ناشتہ کرتے ہی چلی گئی تھی۔ کہہ رہی تھی شام تک لوٹ آئوں گی۔‘‘ نمرہ کی امی زبیدہ بانو بولیں۔
’’امی…! فریحہ خالہ اکیلی آرہی ہیں یا ان کے بچوں میں سے کوئی ان کے ساتھ آرہا ہے؟‘‘ نمرہ نے پوچھا۔
’’بچے تو نہیں آرہے البتہ تمہارے خالو آرہے ہیں۔ ان لوگوں کی آمد کی خبر سن کر مینا نے کہا ہے کہ وہ اب کچھ دن مزید رکے گی۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔ بہت دنوں بعد ہمارے گھر میں رونق ہورہی ہے۔ امی! آپ بھی پلان بنائیں، ایگزام کے بعد ہم لوگ لاہور اور ایبٹ آباد گھومنے چلیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میں تمہارے ابو سے بات کروں گی۔ نمرہ! سنو کھانا کھاتے ہی لیٹ مت جانا۔ میں نے کباب کا مصالحہ ابال کر رکھا ہے، اسے پیس کر ٹکیاں بنا کر فریز کردینا۔ میں صبح سے کام کرکے تھک گئی ہوں۔‘‘
’’اچھا امی! میں کباب بنا دوں گی۔ مجال ہے جو آپ مجھے آرام کرنے دیں۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے آپ میری سوتیلی ماں ہیں۔‘‘ نمرہ کی بات سن کر زبیدہ بانو کے لب مسکرا اٹھے۔ انہوں نے اس پر ایک محبت بھری نظر ڈالی اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئیں۔
اگلے دن نمرہ یونیورسٹی پہنچی تو زوبیہ کی زبانی اسے اپنی فرینڈ فائقہ کی بات پکی ہونے کی خبر ملی۔ فائقہ نے نمرہ کو اتوار کے دن اپنی منگنی میں مدعو کیا۔ ’’فائقہ! میں وعدہ نہیں کرتی، کوشش کروں گی۔ گھر میں دونوں خالائیں موجود ہوں گی۔ ہفتے کو ہونے والی ٹرپ کی امی کی طرف سے بمشکل اجازت ملی ہے۔‘‘ نمرہ نے بتایا۔
’’یار! آجائو فائقہ کی منگنی میں!‘‘ اسجد بولا۔
’’تمہارے بغیر اسجد بور ہوگا۔‘‘ حاشر نے کہا۔
’’تم ہونا اسجد کو کمپنی دینے کیلئے… خیر میں کوشش کروں گی۔ ویسے فائقہ…! تم نے بتایا نہیں تمہاری منگنی اپنوں میں ہورہی ہے یا غیروں میں؟‘‘
’’اپنوں میں کوئی ڈھنگ کا لڑکا ہے نہیں! میرے پاپا کے دوست کا بیٹا سفیان ہے، اس سے میری منگنی ہورہی ہے۔‘‘ فائقہ نے ایک ادا سے کہا۔ وہ خود کو اس وقت بڑا خوش نصیب تصور کررہی تھی۔ اسی لمحے اس کے موبائل کی بپ بجی اور وہ مسکراتے ہوئے میسج پڑھنے لگی۔
’’کس کا میسج آیا ہے؟‘‘ زوبیہ نے پوچھا۔
’’سفیان کا!‘‘
’’وہ تو تمہارے چہرے کا رنگ بتا رہا ہے۔‘‘ زوبیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اسی لمحے فائقہ کے موبائل پر اگلا میسج آگیا۔
’’چلو بھئی ہم لوگ کلاس لینے چلتے ہیں، ان محترمہ کو میسجز پڑھنے سے فرصت ملے گی تو خود ہی آجائیں گی۔‘‘ نمرہ بولی۔
اس کی بات سن کر اسجد، حاشر اور زوبیہ اٹھ کھڑے ہوئے اور تیز قدموں سے اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھنے لگے۔
دو دن بعد ہفتے کا دن آگیا جس کا نمرہ کو بے چینی سے انتظار تھا۔ آدھی رات تک نمرہ ٹرپ کی تیاری میں مصروف رہی۔ خوشی سے اس کی نیند کہیں گم ہوگئی تھی۔ رات دو بجے وہ سونے کیلئے لیٹی اور
صبح چھ بجے سے پہلے بنا کسی الارم کے اٹھ گئی۔
نیند سے جاگتے ہی اس کی نظریں فوراً وال کلاک پر پڑیں کہ کہیں ٹائم اوور تو نہیں ہوگیا۔ یہ وہی نمرہ تھی کہ جس کا الارم بجتے بجتے تھک جاتا تھا اور وہ کروٹیں بدلتی رہتی تھی مگر آج وہ الارم بجنے سے قبل ہی اٹھ گئی تھی اور اٹھتے ہی تیار ہونے لگی تھی۔
جب وہ یونیورسٹی پہنچی تو اس کے تمام دوست وہاں پہلے سے موجود تھے۔
’’شکر ہے تم آگئیں، میں سمجھا تھا کہیں تم نے اپنا ارادہ بدل تو نہیں دیا۔‘‘ اسجد اسے دیکھتے ہی بولا۔
’’میں اپنے ارادوں کی پکی ہوں البتہ تمہارے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
’’وقت آنے پر تمہیں پتا چل جائے گا۔ ویسے ایک بات بتائو تم کیا ہمیشہ کیلئے میرے ساتھ جارہی ہو جو اتنا بھاری بھرکم بیگ لے کر آئی ہو؟‘‘ اسجد نے مسکرا کر پوچھا۔
’’تم لوگوں کیلئے امی سے کچھ ڈشز تیار کروائی تھیں، لگ رہا ہے سامان کچھ زیادہ ہوگیا ہے۔ آئو زوبیہ لوگوں کے پاس چلیں۔ ہمارے گروپ کو بے چینی ہورہی ہوگی ہم لوگ یہاں کھڑے کیا بات کررہے ہیں۔‘‘ نمرہ نے یہ کہہ کر آگے قدم بڑھا دیئے۔
کچھ دیر بعد ہی ٹرپ روانہ ہوگئی۔ دوران سفر تمام اسٹوڈنٹس ہلاگلا کرنے میں مصروف رہے جبکہ اسجد، نمرہ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ نمرہ اور حاشر ہنسی مذاق میں مشغول تھے۔
اسجد نے اپنی نظر کے زاویہ تبدیل کیا اور بس سے باہر کا نظارہ کرنے لگا۔ موسم بہت اچھا تھا۔ تیز اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ کلری جھیل پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر خوب موج میلہ کیا۔
شام کو جب وہ واپسی کیلئے روانہ ہوئے تو نمرہ نے اسجد سے کہا۔ ’’کتنا مزاہ آیا ہم سب ساتھ رہے، آج واپس جانے کو دل نہیں چاہ رہا۔ فائقہ نے اتنے اچھے موقع کو کھو دیا۔‘‘
’’تمہاری بات دل کو لگ رہی ہے۔ کاش! وقت ٹھہر جاتا۔‘‘
’’اسجد! کچھ دنوں کی بات ہے، امتحان کے بعد ہم لوگ الگ ہوجائیں گے۔‘‘
’’ہم الگ کبھی نہیں ہوں گے۔ امتحان ختم ہوتے ہی میں تمہیں ہمیشہ کیلئے اپنا لوں گا۔‘‘
’’تمہارے بابا سائیں مان جائیں گے؟ انہوں نےتمہاری شادی اپنی بھتیجی سے کی ہے، وہ ان کا خون ہے۔‘‘
’’میں اس شادی کو نہیں مانتا۔ مہر بانو مجھ سے عمر میں پندرہ سال بڑی ہے۔ وہ صرف میٹرک پاس ہے، میری اس سے انڈراسٹینڈنگ نہیں ہوسکتی۔‘‘
’’اسجد! تمہاری بات اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر مجھے نہیں لگتا کہ میرے ابو اس رشتے پر رضامند ہوں گے۔ ان کا پہلا اعتراض یہی ہوگا کہ تم ایک شادی شدہ شخص ہو، تم اسے طلاق تو نہیں دو گے۔‘‘
’’طلاق تو میں نہیں دے سکتا لیکن مہر بانو کی حیثیت میرے گھر میں پرانے فرنیچر کی طرح ہے۔ میرے دل میں اس کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ یہ صرف بڑوں کا فیصلہ ہے جسے میں نے مجبوراً قبول کیا تھا۔ تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو؟‘‘ اسجد نے اس کے چہرے پر چھائی پریشانی دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں ٹینشن نہیں لے رہی۔ تم وعدہ کرو مجھے بھولو گے نہیں اور مجھے اپنانے کیلئے آخری حد تک جائو گے؟‘‘
’’تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ بھلا میں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔ تم میری زندگی ہو۔ میرے دل میں تمہاری جتنی جگہ ہے، اس کا اندازہ تم نہیں لگا سکتیں۔‘‘ اسجد کے منہ سے نکلے ان الفاظ سن کر نمرہ مطمئن ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
باہر ہلکی بارش ہورہی تھی، پیڑوں سے پتے ٹوٹ کر بارش کے ساتھ ہی برس رہے تھے۔ آج صائم کے دماغ پر عجیب طرح کا دبائو اور اداسی چھائی ہوئی تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے آفس سے لوٹا تھا۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اپنے کمرے کی کھڑکی سے بارش دیکھنے میں مصروف تھا۔ صائم کے دماغ میں ماضی کی فلم چل رہی تھی۔ بچپن، اپنا گھر، اسکول، کالج کا دور، ایم بی اے کی تعلیم جس کے دوران اس کے والد وفات پا گئے تھے۔ صائم اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس سے بڑی اس کی دو بہنیں شادی شدہ تھیں اور امریکا میں مستقل مقیم تھیں۔ ایم بی اے کرنے کے بعد صائم کو اچھی ملازمت مل گئی تھی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزار رہا تھا۔
پھر ماں کا کچھ عرصے بعد انتقال ہوگیا۔ ماں کی وفات کے بعد صائم تنہا زندگی کا سفر طے کررہا تھا۔ اس کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے پینتیس سال مکمل کرچکا تھا۔ اس نے شادی کی طرف کبھی توجہ نہیں دی تھی مگر آج اسے گھر کی تنہائی کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے پوری زندگی کچھ نہیں کیا۔ صرف صبح اٹھنا، مقررہ وقت پر کچھ کھانا، آفس کی لگی بندھی روٹین، رات میں گھر لوٹتا اور بستر پر پہنچ جاتا۔ یکسانیت سے زندگی گزارتے ہوئے اس نے پینتیس سال پورے کرلئے تھے۔ اب وہ محسوس کررہا تھا کہ اسے شادی کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔کب تک وہ تنہا زندگی کا سفر طے کرتا رہے گا۔ دونوں بہنیں اپنی شادی شدہ زندگی میں اتنی مصروف تھیں کہ مہینوں بعد ان سے رابطہ ہوتا تھا۔ شادی کی کوشش اس نے خود ہی کرنی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے وہ کھڑکی کے پاس سے اٹھا اور کمرے میں ٹہلنا شروع کردیا۔ وہ فیصلہ کرچکا تھا کہ شادی کے سلسلے میں اپنے دوست ارتضیٰ سے رابطہ کرے گا کہ وہ اپنی بیوی سے کہے کہ اس سلسلے میں کوشش کرے۔ ارتضیٰ کی بیوی سے براہ راست بات کرنے کی وہ خود میں ہمت نہیں پا رہا تھا۔
٭…٭…٭
فریحہ خالہ اور شبیر خالو لاہور سے آگئے تو نمرہ کی گھر میں مصروفیت بڑھ گئی۔ نمرہ کو فریحہ خالہ کا اپنائیت بھرا لہجہ اور چہرے سے جھلکتی سنجیدگی بڑی پسند تھی۔
تین روز بعد ہی فریحہ خالہ کی آمد کا عقدہ بھی کھل گیا۔ انہوں نے زبیدہ بانو سے نمرہ کو اپنے بیٹے حسن کیلئے مانگا۔ زبیدہ بانو اور ان کے شوہر وقار محسن اس خبر سے خوش ہوئے کیونکہ مالی طور سے وہ لوگ ان سے بہت بلند تھے۔ نمرہ کے ابو نے فوراً رشتے کی ہامی بھر لی۔ نمرہ کو زبیدہ بانو نے بتایا کہ اس کا رشتہ فریحہ خالہ کے بیٹے حسن سے طے کردیا گیا ہے۔ وہ یہ بات سنتے ہی غصے میں آگئی۔ ’’آپ اور ابو نے مجھ سے پوچھے بغیر میرا رشتہ طے کردیا۔ مجھے آپ لوگوں سے ایسی توقع نہیں تھی۔‘‘
’’نمرہ! اپنی آواز نیچی رکھو، گھر میں مہمان موجود ہیں۔ تمہیں اپنے اچھے، برے کا کیا پتا۔ ماں، باپ جو فیصلہ کرتے ہیں، وہ بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ حسن رضا کی شرافت کا اندازہ تم اس بات سے لگا لو کہ اس نے شادی کیلئے پسند کا اختیار اپنے ماں، باپ کو دے رکھا ہے۔ آج کے دور میں اتنا سیدھا لڑکا کہاں ملے گا۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ نمرہ نے لمبا سانس کھینچا۔ ’’لیکن…!‘‘
’’کیا لیکن…! مجھے کچھ نہیں سننا۔ اب کوئی اعتراض نہیں چلے گا۔‘‘
’’امی! آپ لوگوں نے اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کرلیا۔ فریحہ خالہ کا بیٹا مولوی ٹائپ ہے۔ ایسے لوگ بہت سخت ہوتے ہیں۔ میری اس سے انڈراسٹینڈنگ کیسے ہوسکتی ہے۔ میں پردہ بھی نہیں کرتی۔ میری سہیلیاں کیا کہیں گی کہ میں نے کس بندے سے شادی کرلی۔ آپ لوگوں کو ہمارے مزاج تو دیکھنے چاہئے تھے۔‘‘
’’تم بلاوجہ کی ٹینشن لے رہی ہو۔ شادی کے بعد لڑکیوں کو اپنے شوہر کے مزاج میں ڈھل جانا چاہئے، اسی میں عافیت ہے۔ حسن رضا مولوی ٹائپ بندہ ہے تو کیا ہوا، دیکھا بھالا خاندان ہے پھر اس کے باپ کے پاس اچھی خاصی دولت ہے۔ شبیر بھائی کی کئی دکانیں اور مکانات ہیں۔ ان کی جائداد سے حسن رضا کو کافی کچھ ملے گا۔‘‘ زبیدہ بانو، نمرہ کے جذبات سے بے پروا ہوکر اپنی کہے جارہی تھیں۔
’’امی! آپ کہیں مجھے اتنی جلدی شادی نہیں کرنی۔‘‘ نمرہ روہانسی ہوگئی۔
’’ابھی کون سی شادی ہورہی ہے صرف منگنی ہورہی ہے۔ میری شادی کون سی میری پسند سے ہوئی تھی۔ اماں، ابا نے رشتہ طے کردیا تھا۔ میری تمہارے ابو کے ساتھ بہت اچھی
گزری۔ شادی کے بعد میاں، بیوی میں انڈراسٹینڈنگ ہوہی جاتی ہے۔‘‘ زبیدہ بانو نے نمرہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’امی…! آپ کے اور ہمارے وقت میں بہت فرق ہے۔ میرا اس بندے کے ساتھ گزارہ نہیں ہوسکتا۔ فریحہ خالہ کو رشتہ مانگتے ہوئے سوچنا تو چاہئے تھا اوپر سے آپ اور ابو نے فوراً ہی ہامی بھر لی۔‘‘
’’جو ہونا تھا، ہوچکا ہے۔ اب تم حسن رضا کے ساتھ زندگی گزارنے کے بارے میں سوچو، دل میں خودبخود جگہ بن جائے گی۔‘‘ زبیدہ بانو حتمی فیصلہ سناتے ہوئے بولیں۔ نمرہ نے ان سے مزید بحث کرنا بیکار سمجھا۔
اگلے دن فریحہ خالہ نے خاندان کے دو تین گھرانوں کی موجودگی میں نمرہ کو اپنے بیٹے حسن کے نام کی انگوٹھی پہنا دی اور چار ماہ بعد شادی کرنے کا کہہ کر اپنے گھر کی راہ لی۔ جاتے جاتے وہ نمرہ کو یہ کہنا نہیں بھولی تھیں کہ وہ اب حسن کے نام سے منسوب ہے اس لئے اپنے پردے اور اخلاق کا خیال رکھے۔
٭…٭…٭
یونیورسٹی میں قدم رکھتے ہی نمرہ کو اپنا گروپ نظر آگیا جو فائقہ کی منگنی کی تصویریں دیکھنے میں مصروف تھا۔ ’’ارے نمرہ! تم کہاں غائب تھیں؟‘‘ فائقہ نے اسے دیکھتے ہی آواز لگائی۔
’’یہ کیسے آتی اس کی خالائیں آئی ہوئی تھیں۔‘‘ زوبیہ بولی۔
’’سوری فائقہ! میں تمہاری منگنی میں نہیں آسکی۔ سنائو کیسارہا فنکشن…؟‘‘ نمرہ نے اپنی منگنی کا ذکر گول کرتے ہوئے بات گھمانی چاہی کیونکہ وہ بتانا نہیں چاہتی تھی اس کے کزن سے اس کا رشتہ اس کی مرضی کے بغیر طے کیا گیا ہے۔
’’بہت ہی زبردست فنکشن رہا۔ دیکھ لو یہ تصویریں!‘‘ فائقہ نے اپنے مہندی سے سجے ہاتھوں سے نمرہ کی طرف موبائل اچھالا۔ اس نے موبائل کیچ کرتے ہوئے نظر ڈالی۔ اسکرین پر فائقہ اور سفیان کی اسٹائلش تصویر تھی۔ وہ بٹن کلک کرتی گئی اور ایک کے بعد ایک تصویر محویت کے عالم میں دیکھتی گئی۔ فل میک اَپ، اسٹائلش شرارہ، چہرے پر مسکراہٹ سجائے فائقہ کہیں سفیان کا ہاتھ تھامے ہوئے بیٹھی تھی تو کہیں کندھے سے کندھا ملائے کھڑی تھی۔ اس نے فائقہ کے منگیتر کا موازنہ اپنے منگیتر سے کیا تو اداس ہوگئی۔
’’کیا بات ہے نمرہ! تم کہاں کھو گئیں؟‘‘ حاشر نے اس کے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہوئے کہا۔
’’کچھ نہیں!‘‘ وہ ایک دم کھسیا گئی اور خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی دوستوں سے مذاق میں مصروف ہوگئی۔ کچھ دیر بعد اس کے فرینڈز کلاس لینے کیلئے جانے لگے تو اس نے اسجد کو روک لیا۔
’’تم اور اسجد کلاس نہیں لو گے؟‘‘ صبا نے انہیں بیٹھے دیکھ کر کہا۔
’’نہیں! ہم لوگ لائبریری جارہے ہیں۔ مجھے نوٹس بنانے میں، اسجد کی مدد لینی ہے۔‘‘ نمرہ بولی۔ پھر اسجد سے مخاطب ہوئی۔ ’’اسجد! مجھے تمہیں ایک بات بتانا تھی۔ میری منگنی میرے خالہ زاد سے ہوگئی ہے۔ میں نے امی کو بہت سمجھانا چاہا مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی۔ ابو اور امی نے میری رائے لئے بغیر میرا رشتہ طے کردیا ہے۔ تم بتائو میں کیا کروں؟‘‘ نمرہ روہانسی ہوگئی۔ دو آنسو نکل کر اس کے گال پر بہنے لگے۔
’’کیا…! مجھے یقین نہیں آرہا۔ یہ سب کیسے ہوگیا؟ تمہارے والدین کو تمہاری مرضی معلوم کرنی چاہئے تھی۔‘‘
’’مجھے اپنے ابو سے یہی توقع تھی۔ وہ اپنی مرضی دوسروں پر تھوپنے کے عادی ہیں۔ اب بتائو کیا کرنا ہے؟‘‘
’’کرنا کیا ہے، یہ تم بتائو گی۔ تمہارے گھر والوں کا تمہاری شادی کب تک کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘
’’فی الحال خالہ نے امی کو چار ماہ کا وقت دیا ہے۔ اسجد! میں ہرگز حسن سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ نمرہ ٹشو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’تمہاری شادی اس سے ہوگی بھی نہیں۔ تم ٹینشن مت لو۔ فی الحال امتحان کی تیاری کرو، اس کے بعد کچھ کرنے کا سوچیں گے۔‘‘ اسجد نے اسے تسلی دی۔
’’اسجد! تم مجھ سے شادی کرو گے نا؟‘‘ نمرہ نے بے یقینی کی کیفیت میں اس کی طرف دیکھا۔
’’ہاں! تم تسلی رکھو۔ چلو لائبریری چلتے ہیں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔ اس کو اٹھتا دیکھ کر نمرہ بھی جانے کیلئے تیار ہوگئی حالانکہ اس کا پڑھائی کرنے کا موڈ نہیں تھا۔
واپسی میں گھر جاتے ہوئے اس نے زوبیہ کو اپنی منگنی کے بارے میں بتا دیا۔ زوبیہ اس کی عزیز ترین سہیلی تھی۔ وہ اس سے اپنے دل کی ہر بات شیئر کرتی تھی۔
’’زوبیہ! میں اسجد سے شادی کرنا چاہتی ہوں، وہ بھی یہی چاہتا ہے۔ اس منگنی نے میری زندگی میں مشکلات پیدا کردی ہیں۔‘‘
’’تمہارے اور اسجد کی شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تمہارے اور اس کے والدین ہیں۔ اسجد کا رشتہ تمہارے گھر جاتا بھی تو تمہارے ابو اس رشتے کو قبول نہ کرتے۔ اسجد شادی شدہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ فی الحال تم پڑھائی پر توجہ دو۔امتحان شروع ہونے والے ہیں اس کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا۔‘‘
زوبیہ کی بات سن کر نمرہ خاموش ہوگئی۔ وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی لیکن حالات میں کچھ ایسی الجھ گئی تھی کہ پڑھائی سے اس کا دل اچاٹ ہوگیا تھا۔ وہ کیونکہ اچھی طالبہ تھی اس لئے جب پیپر شروع ہوئے تو اس کی توقع کے برعکس اچھے ہوئے اور وہ دن بھی آپہنچا جب آخری پیپر اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس دن ماحول اداس سا تھا۔ رخصت ہونے سے قبل اسجد نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے رابطے میں رہے گا۔ نمرہ کو اگر اس سے شادی کرنی ہے تو انتہائی قدم اٹھانا ہوگا۔ اسجد نے فیصلہ نمرہ پر چھوڑ دیا تھا۔ نمرہ خود میں اتنی ہمت نہیں پا رہی تھی۔ اس نے اسجد سے ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی۔
آخری پیپر دینے کے بعد جب وہ گھر پہنچی تو پیپر کے دوران نیند پوری نہ ہونے کے سبب وہ نڈھال سی تھی۔ رات کھانا کھاتے ہی وہ بے خبر سو گئی۔ جانے کب صبح ہوئی، اسے پتاہی نہ چلا۔ صبح نو بجے اس کی آنکھ کھلی تو اس کا بستر سے اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ نظروں کے سامنے یونیورسٹی میں بیتے چار سالوں کی مووی چل رہی تھی۔ وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا۔
وہ اپنے خیالوں میں گم تھی کہ زبیدہ بانو اس کے کمرے میں آکر بولیں۔ ’’تم جلدی سے ناشتہ کرلو۔ حسن کراچی آیا ہوا ہے، اپنے چچا کے گھر ٹھہرا ہے۔ میں نے رات اس کو کھانے پر بلایا ہے۔ تم ناشتے سے فارغ ہولو تو کھانے کی تیاری میں میری مدد کرو۔‘‘
’’ٹھیک ہے امی! میں ابھی آتی ہوں، آپ جائیں۔‘‘ وہ زبیدہ بانو کی بات سن کر بیزاری سے بولی اور بستر سے اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔
وہ دن اس کا خاصا مصروف گزرا۔ رات آٹھ بجے کے قریب حسن ان کے گھر پہنچ گیا۔ نمرہ کے ابو، حسن سے باتوں میں مصروف تھے تب ہی زبیدہ بانو نے کھانا لگنے کی اطلاع دی۔ کھانے کے دوران زبیدہ بانو نے نمرہ کو بھی بلا لیا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ڈائننگ ٹیبل پر جا بیٹھی۔ کھانا کھاتے ہوئے نمرہ نے نوٹ کیا کہ حسن اسے دیکھ رہا تھا جو نمرہ کو انتہائی برا لگ رہا تھا۔ اس نے بمشکل چند نوالے حلق سے اتارے اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔
ایک ہفتے بعد نمرہ نے اپنی زندگی کا اہم فیصلہ کرلیا۔ اس رات وہ بہت دیر تک اسجد سے فون پر بات کرتی رہی۔ اس نے اسجد سے خفیہ شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ صبح سویرے نمرہ نے امی کے ساتھ ناشتہ کیا۔ اس دوران اس کے ابو حسن کی تعریفیں کرتے رہے۔ ابو کے جانے کے بعد نمرہ نے امی سے کہا۔ اسے زوبیہ کے گھر جانا ہے، زوبیہ بہت دنوں سے اسے اپنے گھر بلا رہی ہے۔ زبیدہ بانو، زوبیہ کو اچھی طرح جانتی تھیں اس لئے انہوں نے اسے زوبیہ کے گھر جانے سے منع نہیں کیا اور اسے ہدایت کی کہ وہ شام تک گھر لوٹ آئے۔
نمرہ، زوبیہ کے گھر پہنچی تو وہ اسے بلڈنگ کے گیٹ پر کھڑی نظر آئی۔ وہ زوبیہ کو ساتھ لئے اسجد کے دوست کے فلیٹ کی طرف روانہ ہوئی۔ جونہی وہ زوبیہ کے ساتھ بلڈنگ کے گیٹ پر پہنچی، اسے حاشر باہر
; آتا دکھائی دیا۔ اسے آتے دیکھ کر وہ دونوں اپنی جگہ کھڑی رہیں۔
’’خیریت تو ہے تم لوگ یہاں کیا کررہی ہو؟ تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا۔‘‘ حاشر ان کے پاس آکر بولا۔
’’تمہیں یہاں اسجد نے بلایا ہوگا۔ یقیناً تم نکاح کے گواہان میں شامل ہوگے؟‘‘ زوبیہ بولی۔
’’کون سا نکاح…! کس کا نکاح ہورہا ہے؟‘‘ حاشر نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’تمہیں کچھ نہیں پتا، اسجد نے نمرہ سے خفیہ شادی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں نمرہ کے ساتھ یہاں اسی لئے آئی ہوں۔‘‘
’’کیا…! اس کا مطلب ہے تمہیں کچھ نہیں پتا۔ کل آدھی رات کے بعد پولیس نے اسجد کے فلیٹ پر چھاپہ مارا تھا اور اسے اس کے دوستوں سمیت نشے کی حالت میں گرفتار کرلیا ہے۔ اسجد اور اس کے دونوں دوستوں نے کل رات ایک میڈیکل اسٹور میں ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ مزاحمت پر اسٹور کے مالک کو گولی مار کر فرار ہوگئے تھے۔‘‘
’’حاشر! یہ تم کیا بکواس کررہے ہو؟ اسجد اتنے امیر باپ کا بیٹا ہے، اسے کیا پڑی ڈاکا ڈالنے کی؟‘‘ نمرہ جذباتی لہجے میں بولی۔
’’نمرہ صاحبہ! آپ اسجد کو اتنا شریف مت سمجھیں۔ وہ اور اس کے دوست امیر والدین کی بگڑی ہوئی اولادیں ہیں۔ مجھے نہیں پتا تھا آپ اسجد سے دوستی میں اس حد تک آگے نکل جائیں گی کہ اس سے خفیہ شادی کرنے کا فیصلہ کر بیٹھیں گی۔ آپ دونوں کو میری بات کا یقین نہیں آرہا تو میرے ساتھ بلڈنگ کے اندر چلیں، اسجد کے فلیٹ پر تالا پڑا ہوا ہے۔ بلڈنگ میں میری آنٹی بھی رہتی ہیں، ان کی زبانی تمہیں کل رات کے واقعے کی اطلاع مل جائے گی۔‘‘ حاشر بولا۔
’’ٹھیک ہے۔ جب ہم یہاں تک آگئے ہیں تو تمہاری آنٹی سے مل لیتے ہیں۔ آئو نمرہ!‘‘ زوبیہ نے کہا۔
نمرہ مرے مرے قدموں سے ان کے ساتھ چلنے لگی۔
٭…٭…٭
رات آہستہ آہستہ بیت رہی تھی۔ نمرہ بستر پر لیٹی اپنی قسمت پر آنسو بہا رہی تھی۔ اسے محبت بھی ہوئی تو کس سے…! یہ سوال اس کے دل میں ٹیس بن کر اٹھ رہا تھا۔ زوبیہ اور حاشر نے اسے سمجھایا تھا کہ جو کچھ ہوا، بہتر ہوا۔ اسے شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس کا نکاح اسجد سے نہیں ہوا مگر نمرہ اپنے جذباتی لگائو کو ختم نہیں کر پا رہی تھی جو اسے اسجد سے تھا۔ اسے شدید ذہنی صدمہ پہنچا تھا۔ جتنا وہ اسجد کے بارے میں سوچتی تھی، دماغ مزید الجھتا جاتا تھا۔ سوچتے سوچتے صبح ہوگئی۔
نمرہ نے دل پر جبر کرکے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب اسجد سے کوئی رابطہ نہیں رکھے گی۔ جو کچھ ہوچکا، اسے بھولنے کی کوشش کرے گی۔
اسی وقت اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح جب وہ اٹھی تو دن کی روشنی ہر طرف پھیل چکی تھی۔ زبیدہ بانو اس کے کمرے کی ڈسٹنگ میں مصروف تھیں۔ اسے اٹھتا دیکھ کر بولیں۔ ’’نمرہ! تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟ لگتا ہے پوری رات سوئی نہیں ہو، آنکھیں سرخ ہورہی ہیں۔‘‘
’’امی! کچھ نہیں ہوا بس مجھے رات کو نیند نہیں آئی۔ زکام ہورہا ہے، شاید اس وجہ سے!‘‘
’’تم ہاتھ، منہ دھو لو۔ میں تمہارے لئے ناشتہ لگاتی ہوں۔‘‘ زبیدہ بانو یہ کہتی ہوئی تیزی سے چلی گئیں۔ ان کے جانے کے بعد نمرہ نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو دیکھا۔ ایک دن میں اس کا چہرہ پژمردہ ہوگیا تھا، آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ گئے تھے۔ ’’مجھے کیا پڑی ہے جومیں اسجد کے غم میں خود کو ہلکان کروں۔ مجھے والدین کے کئے ہوئے فیصلے کو قبول کرلینا چاہئے۔‘‘ نمرہ بڑبڑائی اور اپنے بالوں کو درست کرنے لگی۔
ایک ہفتے بعد نمرہ کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی۔ زبیدہ بانو شادی کی تیاری میں خاصی مصروف تھیں۔ اس تیاری میں ان کا ساتھ نمرہ کی ممانی دے رہی تھیں۔ شادی کی تیاری میں نمرہ کی بیزاری کو گھر میں سب نے محسوس کیا تھا۔
خیر سے نمرہ سج سنور کر دھڑکتے دل، انجانے وسوسوں کے ہمراہ لاہور آگئی۔ اس کے لاہور پہنچتے ہی فریحہ خالہ کے گھر میں رونق آگئی۔ فریحہ خالہ کے سسرال کی خواتین جو شادی میں شریک نہیں ہوسکی تھیں، نمرہ سے ملنے آرہی تھیں۔ نمرہ جو سمجھ رہی تھی کہ نجانے اس کا شوہر کیسا ہوگا، اس کا تصوری خاکہ اور خیالات حسن رضا کی شخصیت سے کافی حد تک مماثلت رکھتےتھے۔ پھر بھی نمرہ نے خود کو ان کے مطابق ڈھالنے کیلئے تیار کرلیا تھا۔ شادی کے پانچویں روز ولیمے کی تقریب ہوئی جو رات گئے تک اختتام پذیر ہوئی۔ صبح حسن کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی۔
’’اس گھر کی رونق تمہاری بیداری کی منتظر ہے۔‘‘ حسن نے سر پر ٹوپی رکھتے ہوئے کہا۔
نمرہ نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔ ’’جی اٹھتی ہوں۔‘‘
حسن نے فل پاور لائٹ جلا دی اور ساتھ ہی نمرہ کو جھنجھوڑ دیا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ’’نماز پڑھ لو۔‘‘
’’جی… جی! میں اٹھ گئی ہوں۔‘‘
اسے اٹھنا ازحد بارگراں لگ رہا تھا۔ اپنے گھر میں وہ کبھی کبھار فجر کے وقت اٹھتی تھی اس لئے اسے صبح سویرے اٹھنے کی عادت نہیں تھی۔ نمرہ نے وضو کرکے نماز پڑھی۔ کمرے سے باہر نکلی تو لائونج میں شبیر خالو اور فریحہ خالہ تلاوت میں مصروف تھے۔ نمرہ کی نند عافیہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی۔ صبح ہی سے گھر میں چہل پہل تھی۔ نمرہ کچن میں عافیہ کے پاس پہنچی اور بولی۔ ’’میں تمہاری ہیلپ کردوں؟‘‘
’’نہیں بھابی! ابھی تو آپ کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری، میں ناشتہ بنا لوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر عافیہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔
ایک گھنٹے بعد ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگ گیا۔ ناشتے کے دوران شبیر خالو نے بتایا کہ آج رات ان کی بہن فرحت کے گھر پر دعوت ہے اس لئے عشا کے بعد گھر والے جانے کیلئے تیار رہیں۔
ناشتے سے فارغ ہوکر حسن اور شبیر خالو اپنے اسٹور پر چلے گئے جبکہ عافیہ مدرسے چلی گئی۔ گھر میں فریحہ خالہ اور نمرہ رہ گئے۔ نمرہ اپنے کمرے میں آگئی۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ کچھ دیر سو کر نیند پوری کرلے۔ ابھی وہ لیٹی تھی کہ زوبیہ کی کال آگئی۔ ’’کیسی ہو نمرہ…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم سنائو تمہاری جاب کا کیا ہوا؟‘‘
’’میں نے یہی بتانے کیلئے تمہیں فون کیا تھا کہ مجھے جاب مل گئی ہے۔ کل سے میں اپنا آفس جوائن کرلوں گی۔‘‘
’’بہت مبارک ہو تمہیں!‘‘ نمرہ بولی۔
’’نمرہ! میرے پاس حاشر کا فون آیا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ اسجد رہا ہوگیا ہے۔ اس کی رہائی کیلئے اس کے بابا نے پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے۔‘‘
’’زوبیہ! اب میرے لئے اسجد کا وجود کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ میں نے اپنا فون نمبر بھی تبدیل اسی کی وجہ سے کیا ہے کہ کہیں وہ رہا ہونے کے بعد مجھ سے رابطہ نہ کرے۔ پلیز زوبیہ! تم میرا نمبر کسی کلاس فیلو کو مت دینا۔ مجھے تم پر بڑا بھروسہ ہے۔‘‘
’’تم فکر مت کرو، میں تمہارے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائوں گی اور سنائو ولیمے کی تقریب کیسی رہی؟‘‘
’’بہت اچھی زوبیہ! میں ابھی آرام کروں گی پھر تم سے فون پر رابطہ ہوگا۔‘‘
’’اوکے! تم آرام کرو۔‘‘ زوبیہ نے یہ کہتے ہوئے کال بند کردی۔
مغرب کے وقت شبیر خالو اور حسن اپنے اسٹور سے لوٹے۔ ان کے آتے ہی گھر والے دعوت میں جانے کیلئے تیار ہونے لگے۔ نمرہ نے لائٹ برائون کلر کا سادہ سا سوٹ اپنی الماری سے نکالا اور استری کرنے لگی۔
’’یہ تم پھپھو کے گھر پہن کر جائو گی؟‘‘ حسن نے کپڑے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی…!‘‘ نمرہ کے منہ سے بمشکل نکلا۔
’’یہ سوٹ کچھ جچ نہیں رہا۔ آستینیں برائے نام ہیں۔ میری بیوی ہوکر تم ایسے کپڑے پہنو، مجھے گوارانہیں۔‘‘ یہ کہہ کر حسن نے الماری کھولی اور اس میں سے اسکائی بلیو بھاری کام والا جوڑا نکالا۔ ’’یہ پہنو، تم پر اچھا لگے گا۔‘‘
’’جی بہتر!‘‘ نمرہ نے سر ہلایا۔
رات نو بجے وہ لوگ گھر سے نکلنے لگے تو حسن نے ایک سیاہ برقع نمرہ کے سامنے رکھ دیا۔ ’’نمرہ! عورت کی زینت اس میں چھپی رہے تو اچھا ہے۔ یہ
پہن لو۔‘‘
’’جی بالکل!‘‘ نمرہ نے جھٹ برقع پہن لیا۔ انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی۔
٭…٭…٭
صائم کی اچانک آفس سے گھر آتے ہوئے طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ شدید سردی اور بارش میں وہ اپنے گھر پہنچا تھا اور دروازے پر آکر گر گیا تھا۔ پڑوسی نے اسے اسپتال پہنچایا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے ہوش آگیا تھا۔ اس کے پڑوسی فیروز نے اس کی خیریت دریافت کی اور کہا۔ ’’صائم بھائی! آپ کب تک یوں تنہا رہیں گے۔ گھر میں تنہا رہتے ہوئے آپ پریشان نہیں ہوتے؟‘‘
’’پریشان تو ہوتا ہوں مگر کیا کروں، تنہا رہنا میری مجبوری ہے۔‘‘
’’صائم بھائی! میری امی نے آپ کے رشتے کے سلسلے میں بات کی تھی۔ آپ نے انکار کیوں کردیا؟‘‘ فیروز نے پوچھا۔
’’فیروز…! نسرین آنٹی نے جو تصویر مجھے دکھائی تھی، وہ لڑکی کافی بڑی نظر آرہی تھی۔ نسرین آنٹی نےاس لڑکی کی عمر تیس سال بتائی تھی، مجھے وہ کہیں زیادہ کی لگ رہی تھی اس لئے میں نے انکار کردیا۔‘‘
’’صائم بھائی! آپ اس طرح ریجیکٹ کرتے رہے تو ہوگئی آپ کی شادی! اس سے پہلے فہمیدہ آنٹی نے بھی آپ کیلئے اپنی بیٹیوں کے رشتے کی بات کی تھی۔ آپ نے انہیں بھی منع کردیا تھا۔‘‘
’’فیروز! تم نے فہمیدہ آنٹی کی بیٹیوں کو دیکھا تو ہے۔ ان کا اور میرا جوڑ نہیں بنتا ہے۔ وہ معمولی شکل اور سانولی رنگت کی، کیا میرے لئے اسی طرح کی لڑکیاں رہ گئی ہیں؟‘‘
’’صائم بھائی! اب آپ کو شادی کرلینی چاہئے۔ اگر آپ اسی طرح حسن پرستی کا شکار رہے تو ہوگئی آپ کی شادی!‘‘
’’تمہاری باتوں سے تو یہی ظاہر ہورہا ہے کہ مجھے کوئی بھی الٹی سیدھی لڑکی دکھائے اور میں فوراً رشتے کیلئے رضامند ہوجائوں۔ ہرگز نہیں۔ مجھے اپنے لئے کسی خوبصورت لڑکی کی تلاش ہے اور ہاں! عمر میں وہ مجھ سے دس بارہ سال چھوٹی ہو۔‘‘ صائم کی بات سن کر فیروز مسکرا کر رہ گیا۔ اتنے میں نرس آگئی اور بلڈ پریشر چیک کرنے لگی۔
٭…٭…٭
’’تمہیں پتا ہے نا کہ میں نمرہ کو دل و جان سے چاہتا تھا۔‘‘ اسجد نے اپنے دوست فرقان سے کہا۔ وہ دونوں شام کے وقت پارک میں بیٹھے ہوئے تھے۔
’’ہاں! یہ بات مجھے پتا ہے۔ کیا ہوا نمرہ کو جو تم اتنے اداس ہو؟‘‘
’’فرقان! اس بے وفا نے اپنے کزن سے شادی کرلی ہے اور لاہور چلی گئی ہے۔ میں جیل کیا گیا، میری دنیا اجڑ گئی مگر میں اس کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ اسے اس کی بے وفائی کی سزا دوں گا۔‘‘
’’دفع کرو یار! تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے۔ ویسے بھی تم کون سا ایک لڑکی پر اکتفا کرنے والے ہو۔ نمرہ کے ہوتے ہوئے سحر اور کرن تمہاری زندگی میں شامل رہی ہیں۔‘‘ فرقان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’سحر اور کرن کے ساتھ تو میں ٹائم پاس کررہا تھا۔ نمرہ سے میں نکاح کرنے پر تیار تھا مگر میری بدقسمتی آڑے آگئی اور میں گرفتار ہوگیا اور اس نے میری غیر موجودگی میں اپنے کزن سے شادی کرلی۔ نمرہ نے اپنے موبائل کی سم بھی تبدیلی کرلی ہے مگر میں پتا چلا کر رہوں گا کہ اس کی رہائش کہاں ہے پھر اس کی بربادی کا آغاز ہوگا۔‘‘ اسجد جذباتی لہجے میں بولا۔
’’یار…! ان باتوں سے تمہیں کیا حاصل ہوگا۔ پندرہ دن بعد تم آسٹریلیا جا رہے ہو، وہاں کسی لڑکی کو دوست بنا لینا۔ نمرہ اور اس کی یادیں یہیں رہ جائیں گی۔‘‘
’’تم کچھ بھی کہو، مجھے نمرہ کو سزا ضرور دینی ہے۔ وہ چاہتی تو اپنی شادی ٹال سکتی تھی مگر وہ تو خوش ہوگی کہ مجھ جیسے لڑکے کے جال میں پھنسنے سے بچ گئی۔ دیکھتا ہوں اس کی یہ خوشی کتنے دن قائم رہتی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اسجد کے لبوں پر مکروہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
٭…٭…٭
نمرہ شام کی چائے کی تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے چائے کے ساتھ بڑے اہتمام سے سموسے اور کباب فرائی کئے اور ٹرے اٹھائے ڈائننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔ اسی وقت اس کا دیور ارمان لائونج سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔ حسن نے نمرہ کو تیز نظروں سے گھورا تو وہ گھبرا گئی۔ اس کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر عافیہ بولی۔ ’’بھابی! ارمان آپ کا دیور ہے۔ مجھے یقین تھا کہ بھیا آپ کو ارمان سے پردہ کرائیں گے۔ ویسے تو ارمان ہاسٹل میں رہتا ہے۔‘‘ عافیہ کی بات مکمل ہوتے ہی شبیر خالو نماز پڑھ کر آگئے۔
نمرہ ڈائننگ ٹیبل پر چائے اور دوسرے لوازمات رکھنے لگی۔ بعد میں حسن نے اسے سمجھایا کہ دیور سے پردہ کرنا کتنا ضروری ہے۔ حسن کی بات سن کر اس نے تائید میں سر ہلا دیا۔
زندگی کا ہر دن تیزی سے بیت رہا تھا۔ نمرہ کی شادی کو تین مہینے سے اوپر ہوگئے تھے۔ ہر آنے والا لمحہ ذمہ داریاں اور نت نئے مناظر پیش کررہا تھا۔ نمرہ گھر کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی سنبھال رہی تھی۔ جو مشکلات اور رکاوٹیں اس کے راستے میں آتیں، وہ فریحہ خالہ کی مدد سے دور ہوجاتیں۔
’’کراچی چلنے کا ارادہ ہے؟‘‘ ایک دن حسن نے پوچھا۔
’’کراچی…!‘‘ نمرہ نے حیرانی سے پوچھا۔
’’اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ میں پرسوں کراچی جارہا ہوں۔ مجھے وہاں کچھ ضروری کام ہے، سوچا تمہیں بھی اپنے ساتھ لے چلوں۔ تم جب سے یہاں آئی ہو، اپنے امی، ابو سے ملنے نہیں گئی ہو۔ تمہاری اس بہانے اپنے گھر والوں سے ملاقات ہوجائے گی اور میں وہاں اپنے کام نمٹا لوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ نمرہ خوش ہوتے ہوئے بولی اور جانے کی تیاریوں میں لگ گئی۔
اگلے دن ایسی انہونی ہوگئی جو نمرہ کے گمان میں بھی نہیں تھی۔ حسن کے نام ایک لفافہ کوریئر سروس والا دے کر گیا جسے شام کو حسن نے آتے ہی کھولا۔ حسن اس وقت اپنے کمرے میں تھا۔ نمرہ لفافہ اس کے ہاتھ میں دے کر کمرے سے باہر جا چکی تھی۔ جیسے ہی وہ حسن کیلئے پانی لے کر کمرے میں داخل ہوئی، حسن نے اپنے ہاتھ میں پکڑی تصاویر اور خطوط نمرہ کی طرف بڑھائے۔
’’یہ لو انہیں اچھی طرح سے دیکھ لو۔‘‘
نمرہ کی نظر جیسے ہی تصاویر پر پڑی، اس کے بدن سے جان نکل گئی۔ ’’کہہ دو یہ تصاویر اور خطوط تمہارے نہیں ہیں، کسی نے تمہیں بلیک میل کیا ہے؟‘‘ حسن غصے میں دھاڑا۔
’’مم… میں آپ کو…!‘‘
’’اب تم یہی کہو گی کہ یہ ہینڈ رائٹنگ تمہاری نہیں ہے اور تصویریں بھی جعلی ہیں۔ تم بہت پارسا ہو، تم کسی لڑکے کے ساتھ کندھے پر ہاتھ رکھے تصویریں نہیں کھنچوائو گی۔ تم مجھے بے وقوف سمجھتی ہو۔ اتنا کچھ کرکے تم نے مجھ سے شادی کی کیونکہ اس لڑکے نے تمہیں بیوی کے روپ میں قبول کرنے سے انکار کردیا ہوگا۔‘‘
’’کیا بات ہے، کیوں چلا رہے ہو؟‘‘ فریحہ خالہ اسی وقت کمرے میں داخل ہوکر بولیں۔ (جاری ہے)