Saboot | Complete Story

644
’’ہمیشہ سے اس کی عادت تھی۔ مجھ سے کچھ کہنا ہوتا تو خاموشی سے میرے سامنے کھڑی ہو جاتی تھی۔ منہ سے کچھ نہ کہتی۔ بس ٹکر ٹکر مجھے دیکھتی رہتی۔ کوئی بات منوانی ہوتی تو آنکھوں اور چہرے پر شوخی ہوتی۔ کسی بات پر پریشان ہوتی تو سنجیدہ چہرہ بنا کر کھڑی ہو جاتی۔ میں پوچھ پوچھ کر تھک جاتی تھی، تب کچھ بولتی لیکن اب خاموشی کھڑی رہتی ہے۔ منہ سے کچھ نہیں بولتی۔ عجیب سے تاثرات ہوتے ہیں چہرے پر۔ پتا نہیں کیا کہنا چاہتی ہے۔‘‘ عورت کی آواز میں ایسا کرب تھا کہ صفورا کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔
مرد نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھلنے کے لیے کہا۔ جبکہ خود اس کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے تھے۔
مرد کا نام نذیر الدین تھا۔ ساتھ اس کی بیوی سلطانہ بیگم تھی۔ کاسمیٹک اور پرفیوم وغیرہ کا امپورٹر تھا۔ ایک بڑی مارکیٹ میں اس کا بہت بڑا شو روم تھا۔ خاصا صاحب حیثیت اور مالدار آدمی تھا لیکن اس وقت دونوں میاں بیوی نہایت خستہ حالت میں نظر آ رہے تھے۔ سلطانہ بیگم کا چہرہ دُھلے لٹھے کی طرح سفید پڑا ہوا تھا۔ جیسے پورے بدن کا خون نکال لیا گیا ہو۔ اس کے انداز میں بھی بہکا بہکا پن تھا جیسے اس کا ذہنی توازن متاثر ہو رہا ہو۔
ان کی بیٹی گم ہو گئی تھی۔ وہ نوجوان اور شادی شدہ تھی۔ نذیر الدین کا خیال تھا کہ اس کی گمشدگی میں اس کے شوہر ناصر محمود کا ہاتھ ہے۔
’’ہماری ایک ہی اولاد ہے۔ میرا دل اسے ’’تھی‘‘ کہنے کو نہیں چاہتا۔ ہم دن رات اس کی زندگی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ بس وہ ہمیں مل جائے، ہم کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ نذیر الدین نے غم آلود لہجے میں کہا۔
’’خدا جانے، خدا جانے۔ اس منحوس نے میری بچی کے ساتھ کیا سلوک کیا۔‘‘ سلطانہ نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔ وہ اپنی بیٹی شاہدہ کے بارے میں بتا رہی تھی کہ وہ روز اس کے خواب میں آتی ہے اور خاموشی کھڑی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی رہتی ہے۔
’’آپ کہاں رہتے ہیں؟‘‘ شاہ میر نے سوال کیا۔
’’نکلسن روڈ پر میری کوٹھی ہے۔‘‘
’’آپ نے نکلسن تھانے میں رپورٹ درج کرائی ہے؟‘‘
’’سب کچھ کر لیا ہے جی میں نے۔ بڑے افسران سے بھی ملا ہوں۔ سب نے میرے ساتھ ہمدردی اور تعاون کیا ہے لیکن… میرا دل نہیں مانتا۔ شاہدہ بہت اچھے مزاج کی لڑکی ہے اور پھر اگر اسے گھر سے جانا ہی تھا تو کہیں اور جانے کی کیا ضرورت تھی۔ سیدھی ہمارے پاس آ سکتی تھی۔‘‘
’’پولیس افسران کیا کہتے ہیں؟‘‘
’’وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پوری تفتیش کر لی ہے۔ کہیں سے کوئی ایسا حوالہ نہیں ملتا جس سے پتا چلے کہ اس کی گمشدگی یا قتل میں اس کے شوہر ناصر محمود کا ہاتھ ہے۔‘‘
’’قتل؟ گویا آپ کو یہ بھی شبہ ہے کہ آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے۔‘‘ شاہ میر نے کہا۔
’’ہاں۔ ایسا ہو سکتا ہے۔‘‘ نذیر الدین نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
’’ایسا کون کر سکتا ہے۔‘‘
’’اس کا شوہر ناصر محمود۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘
’’اس کی وجہ بھی آپ کے ذہن میں ہو گی۔‘‘
’’ہاں۔ وہ اسی قسم کا انسان ہے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اس خیال کے پس پردہ کوئی خاص کہانی ہے۔‘‘ شاہ میر نے صفورا کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’آپ نے اپنے داماد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی۔‘‘
’’ہاں۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر طرح کی کوشش کے باوجود اس بات کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ شاہدہ کو اس کے شوہر یا کسی اور قتل نے کیا ہے۔ نہ ہی شاہدہ کی لاش کہیں سے ملی، پھر قتل کا مقدمہ کیسے درج کیا جاسکتا ہے؟‘‘
’’بات تو ٹھیک ہے۔ آپ خود بتائیے کوئی ثبوت نہیں ہے، صرف آپ کے کہنے پر تو کسی کو قاتل نہیں ثابت کیا جا سکتا۔‘‘ شاہ میر نے کسی قدر خشک لہجے میں کہا۔
’’آپ ہمیں پوری تفصیل بتائیں، پھر ہم غور کریں گے کہ اصل معاملہ کیا ہو سکتا ہے۔‘‘
صفورا نے ایک دم محسوس کر لیا تھا کہ شاہ میر کے مزاج میں کچھ برہمی پیدا ہونے لگی ہے۔ بات بھی ٹھیک تھی۔ ابھی تک اتنا پتا چلا تھا کہ نذیر الدین کی شادی شدہ بیٹی شاہدہ کچھ عرصہ قبل اچانک گم ہو گئی اور اب تک اس کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔ اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان لوگوں کے خیال کے مطابق شاہدہ کو اس کے شوہر نے قتل کر دیا ہے۔
شاہ میر نے پوچھا۔ ’’آپ نے نکلسن تھانے میں رپورٹ کی ہے اور وہاں آپ کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، پھر آپ ایک غیر متعلقہ تھانے کیوں آئے ہیں۔‘‘
’’وہاں قانون کے مطابق بیشک کارروائی کی گئی ہے لیکن مجھے ایک دوست نے بتایا کہ انسپکٹر شاہ میر تمہارے درد کا درماں بن سکتے ہیں۔ ان کا انداز تفتیش بالکل مختلف ہے۔ اگر شاہدہ قتل نہیں ہوئی ہے تو مجھے یقین ہے کہ آپ کی مدد سے وہ ہمیں ضرور مل جائے گی۔‘‘
شاہ میر کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن صفورا درمیان میں بول پڑی۔ ’’آپ ہمیں پوری تفصیل بتائیے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی صفورا نے عاجزانہ نگاہوں سے شاہ میر کو دیکھا۔ شاہ میر نے آنکھیں بند کر لیں۔
نذیر الدین اور اس کی بیوی سلطانہ بیگم کی حالت قابل رحم تھی۔ سلطانہ بیگم ماں تھی۔ اس نے اپنی گمشدہ بیٹی شاہدہ کے بارے میں جس طرح بتایا تھا کہ شاہدہ اپنے بچپن کی عادت کے مطابق اس کے خوابوں میں آ کھڑی ہوتی ہے۔ اس بات نے صفورا کو رلا دیا تھا۔ شاہ میر جانتا تھا کہ صفورا ایک قابل پولیس افسر ہونے کے باوجود آخرکار عورت ہے۔ چاند پر بیشک پہنچ جائے، پتھر دل نہیں ہو سکتی۔ اس کی عاجزانہ نگاہوں نے ایک لمحے میں شاہ میر کا موڈ بدل دیا۔
’’خدا کرے آپ کی بیٹی زندہ ہو۔ آپ نے شاہدہ کے شوہر ناصر محمود کے بارے میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے اس نے شاہدہ کو قتل کر دیا ہو، لیکن اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔‘‘
’’اس کے شاہدہ سے تعلقات بہت خراب تھے۔ دونوں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے۔‘‘
’’کیوں آخر؟‘‘
’’شاہدہ خدا کے فضل سے بہت اچھے ماحول میں پلی بڑھی ہے۔ اس نے زندگی میں کبھی کوئی تنگی نہیں دیکھی جبکہ ناصر محمود بے حد لالچی اور گھٹیا فطرت کا آدمی ہے۔ پیسے پیسے پر جان دینے والا۔ اس بات سے شاہدہ بہت تنگ تھی اور عاجز آ گئی تھی۔‘‘
’’کیا یہ ایک ناکام شادی تھی؟‘‘
’’ہاں۔ بڑی حد تک۔‘‘
’’کیا یہ ارینج میرج تھی۔ اس میں دونوں کی پسند کا کوئی تعلق نہیں تھا؟‘‘
اس سوال پر نذیر الدین کے چہرے پر ہچکچاہٹ نظر آئی لیکن سلطانہ بیگم نے جلدی سے کہا۔ ’’ایسی بات نہیں ہے انسپکٹر صاحب۔ جس نئے دور سے ہم گزر رہے ہیں اس نے ہم سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ ہماری روایتیں، ہماری خاندانی شرافتیں۔ اب تو ہر لڑکی، ہر لڑکا لَو میرج کرتا ہے۔ کسی بھی شادی شدہ جوڑے سے پوچھ لو۔ فوراً کہے گا کہ ان کی لَو میرج ہے۔ گویا لَو میرج نہ ہونا بڑی شرم کی بات ہے حالانکہ یہ بات ماں باپ کی شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔‘‘
’’گویا ان کی بھی لو میرج تھی۔ اس بارے میں ناصر محمود کا کیا بیان ہے۔‘‘
’’شاہدہ کی گمشدگی کے بارے میں؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’وہ کہتا ہے کہ شاہدہ نے جو کچھ کیا ہے اسے بتائے بغیر کیا ہے۔ وہ اپنے لاکھوں روپے کے زیور ساتھ لے گئی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ شاہدہ اگر ہمارے پاس نہیں آئی ہے تو پھر وہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہیں چلی گئی ہے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ زیورات کی وجہ سے وہ کسی لٹیرے کے ہاتھ لگ گئی ہو اور لٹیرے نے اس کے زیورات پر قبضہ کر کے اسے ہلاک کر دیا ہو۔‘‘
’’ہوں! ناصر محمود لالچی آدمی ہے۔‘‘
’’شدید لالچی۔ پیسے پیسے پر جان دینے والا۔‘‘
’’آپ نے کبھی اس کی مالی مدد کی؟‘‘
’’دن رات بدبخت کا پیٹ بھرتے رہتے تھے۔‘‘
’’ان کے درمیان لڑائی کی وجہ کیا ہوتی تھی؟‘‘
’’پیسے، پیسے صرف پیسے۔ دوبار شاہدہ ناراض ہو کر ہمارے پاس آ گئی تھی۔‘‘
’’وہ پہلے کبھی لڑنے کے بعد اپنے زیورات وغیرہ ساتھ لائی تھی؟‘‘
’’کبھی نہیں۔ وہ تو اپنے کپڑے تک ساتھ نہیں لاتی تھی۔ کہتی تھی جانا تو اسی گھر میں ہے۔ وہ کہتی تھی کہ ہم پریشان نہ ہوں۔ یہ مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
’’کیسے؟ آپ نے پوچھا۔‘‘
’’ہاں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ماں بن جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
’’کیا وہ ماں بننے والی تھی؟‘‘ صفورا نے پوچھا۔
’’ہاں۔ لیکن چھ ماہ کے بعد۔‘‘
’’ایک سوال اور میڈم۔‘‘ صفورا نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’کیا آپ کی بیٹی اپنے زیورات گھر میں ہی رکھتی تھی؟‘‘
’’نہیں۔ بینک کے لاکر میں ہوتے تھے۔‘‘
’’تو پھر وہ زیورات اس کے پاس اس وقت کیسے آ گئے جب اس نے اچانک گھر چھوڑا۔ اگر آپ کے داماد نے یہ الزام لگایا ہے کہ تو اس نے پولیس کو اس بارے میں ضرور بتایا ہو گا۔‘‘
’’یہ بات ہمارے علم میں بھی ہے کہ دو روز پہلے شاہدہ کی ایک دوست کی شادی تھی۔ اس نے اس شادی میں شرکت کے لیے اپنے زیورات لاکر سے نکلوائے تھے اور انہیں واپس نہیں رکھوایا تھا۔‘‘
’’زیورات کی مالیت کتنی ہو گی؟‘‘
’’تقریباً بیس سے پچیس لاکھ۔‘‘
’’کیا وہ اس شادی میں اتنے سارے زیورات پہن کر گئی تھی جبکہ آج کل امیر ترین خواتین بھی حالات کی وجہ سے قیمتی زیورات پہننے سے گریز کرتی ہیں۔‘‘
’’یہ باتیں تو ناصر محمود نے بتائی ہیں۔ کون جانے ان میں کتنی سچ ہیں۔ ممکن ہے وہ جھوٹ بول رہا ہو۔ اس نے ضرور میری بیٹی کے ساتھ کوئی ناروا ظلم کیا ہے۔‘‘ نذیر الدین نے کہا۔
’’معاف کیجئے۔ وہ بھی یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ آپ کی بیٹی نے کسی طے شدہ منصوبے کے تحت سارے زیورات نکلوائے۔ بہانہ شادی کا کیا اور پھر وہ سب کچھ لے کر غائب ہو گئی۔ اس شادی میں کسی کے ساتھ مل کر اس نے یہ گیم کھیلا۔‘‘
’’آہ! خدا کے لئے۔ اتنی بے دردی سے بات نہ کریں۔ وہ ایک صاحب کردار لڑکی تھی۔ اس کی ذات سے کوئی ایسی کہانی وابستہ نہیں کی جا سکتی لیکن اس بدبخت نے وہی کہا ہے جو آپ نے کہا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’اس نے شاہدہ کے کردار پر شک کیا ہے۔‘‘
’’بہت سادہ سی بات ہے۔ آپ جو بھی کہیں، حالات جو بھی نشاندہی کریں۔ پولیس کا پہلا مؤقف یہی ہوتا ہے کہ ممکن ہے گمشدہ لڑکی کسی کے اتنے قیمتی زیورات لے کر اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی ہے۔ ایسے کیس عام ہیں۔‘‘
’’نہیں۔ وہ ایسی نہیں تھی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ ہمارا ایک طریقۂ کار ہے۔ حالانکہ یہ کیس دوسرے علاقے کے تھانے کا ہے اور ہمارے بارے میں ہمارے ہمعصروں کو شکایت ہے کہ ہم بلاوجہ دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اَڑاتے ہیں لیکن ہمیں اس کی خصوصی اجازت ملی ہوئی ہے۔ یہ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہم اس بات کے شدید خواہش مند ہیں کہ آپ کی بیٹی زندہ سلامت آپ کو مل جائے۔ اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو۔ میں اپنے طریقۂ کار کے بارے میں آپ کو بتا رہا تھا۔ مجھے آپ کے حالات زندگی کی تفصیل درکار ہے۔ ایک ایک لفظ بالکل درست ہو تاکہ ہم صورت حال سے نتیجہ اخذ کر سکیں۔ اگر آپ اس کے لیے تیار ہیں تو کل شام چار بجے آ جائیے۔‘‘ شاہ میر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’میں ٹھیک چار بجے آ جائوں گا۔‘‘
ان لوگوں کے جانے کے بعد صفورا نے شرمندہ نگاہوں سے شاہ میر کو دیکھا تو شاہ میر مسکرایا۔ ’’نہیں ایس آئی صفورا شرجیل، آپ کو اختیار حاصل ہے کہ آپ اپنے طور پر کوئی بھی کیس ڈیل کریں۔ مجھے اعتراض نہیں ہو گا۔‘‘
’’سوری سر۔‘‘ صفورا نے بڑی معصومیت سے کہا۔
’’اب تو بالکل اعتراض نہیں رہا۔‘‘ شاہ میر کے ہونٹوں پر شوخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ کچھ لمحوں کے بعد وہ سنجیدہ ہو کر بولا۔ ’’صدیوں سے جرائم کی دنیا ایک ہی محور پر گھوم رہی ہے۔ زر، زن اور زمین۔ میں ان جرائم کی بات کر رہا ہوں جن کی تفتیش ہمیں کرنا ہوتی ہے۔ جرم عام طور سے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے، جن میں دولت کا حصول نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
’’بیشک۔‘‘ صفورا نے کہا۔
’’چنانچہ اس سلسلے میں اس کردار کو تلاش کیا جانا ہے جس کی موت سے اُسے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔‘‘
’’یقیناً۔ ویسے آپ کا کیا خیال ہے۔ نذیر الدین کی بیٹی قتل کر دی گئی ہے یا پھر کوئی اور معاملہ ہے۔‘‘ صفورا نے کہا۔
شاہ میر بے اختیار مسکرا کر بولا۔ ’’اس سوال کے جواب کے لیے مجھے آج رات چلاّ کشی کرنی پڑے گی، یا پھر کل تک ان لوگون کی آمد کا انتظار کر لیا جائے۔ دیکھیں وہ کیا کہانی لاتے ہیں۔‘‘
صفورا نے مسکرا کر گردن اثبات میں ہلائی۔
o…o…o
نذیر الدین کافی دولت مند تھا۔ کاروباری حلقوں میں وہ ’’کاسمیٹک کنگ‘‘ کہلاتا تھا۔ دنیا بھر سے وہ کاسمیٹک اور پرفیوم امپورٹ کرتا تھا۔ اس نے اپنی ایک ساکھ بنائی تھی اور کبھی دو نمبر مال کی پذیرائی نہیں کی تھی۔ تھوک مارکیٹ میں اس کا بہت بڑا شو روم تھا۔ یہ نام اس نے اپنی محنت سے پیدا کیا تھا۔ اس کا باپ ایک دفتر میں معمولی کلرک تھا اور یہ گھر کافی مالی بد حالی کا شکار تھا۔ نذیر الدین کی صرف ایک چھوٹی بہن تھی۔ اس طرح وہ ایک معمولی سے علاقے کے چھوٹے سے گھر میں کرائے پر رہتے تھے۔ نذیر الدین اور اس کی چھوٹی بہن محلہ اسکول میں پڑھتے تھے۔ ابھی نذیر الدین ابتدائی کلاسوں میں ہی پڑھ رہا تھا کہ اس کا باپ ظہیر الدین بیمار پڑ گیا۔ بیماری کوئی خاص نہیں تھی لیکن صحیح علاج کہاں سے ہوتا۔ حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔ مجبوراً ظہیر الدین کی بیوی فرزانہ نے کہا کہ کیوں نہ نذیر الدین کو کسی کام پر لگا دیا جائے۔ اس بچے کو بھلا کس کام پر لگایا جاتا۔ اور پھر باپ یہ چاہتا تھا کہ نذیر تھوڑا بہت پڑھ جائے۔
اسی دوران ایک دن نذیر الدین کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو گھروں سے پرفیوم کی خالی شیشیاں خریدتا تھا۔ نذیر نے اس سے پوچھا کہ وہ ان شیشیوں کا کیا کرتا ہے۔ تب اسے پتا چلا کہ ان میں جعلی پرفیوم بھر کر بیچا جاتا ہے۔ اس شخص نے نذیر الدین کو اپنے ساتھ کام پر لگا لیا۔ اس طرح نذیر الدین پڑھتا بھی رہا۔ وہ دل سے اس کام کو پسند نہیں کرتا تھا کہ شیشیوں میں نقلی پرفیوم بھر کر بیچا جائے۔ اس کا دل کڑھتا تھا لیکن گھر کے حالات اتنے خراب تھے کہ اسے مجبوراً یہ کام کرنا پڑتا تھا۔
اس وقت اس نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا کہ اسے قریشی صاحب مل گئے۔ کاسمیٹک امپورٹ کرتے تھے اور اچھا کاروبار چلتا تھا۔ انہیں نذیر الدین بہت اچھا لگا اور انہوں نے اس سے دو نمبر کام چھڑوا کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ فیصلے انسان خود نہیں کرتا، تقدیر کرتی ہے۔ قریشی صاحب، نذیر الدین کی مدد کرتے رہے۔ انہوں نے اسے ادھار مال دینا شروع کر دیا جسے وہ اچھی جگہوں پر سپلائی کرتا۔ ایمانداری سے کام کرنے کے نتیجے میں مارکیٹ میں اس کی ساکھ بنتی چلی گئی اور پھر قریشی صاحب ہی نے اسے ایک دکان خرید کر دی۔ نذیر ان کا خاص آدمی تھا۔ اس دوران اس نے پڑھنا نہیں چھوڑا تھا۔ وہ بہترین انداز سے کام کرتا رہا۔ پہلا دھچکا اسے اس وقت لگا جب ظہیر الدین کا انتقال ہو گیا۔ لیکن اب مالی حالات کافی سنبھل گئے تھے۔ اس نے ایک گھر بھی خرید لیا۔ اس نے اپنی بہن کی شادی کی۔ ترقی اس کے قدموں میں لوٹ رہی تھی۔ چھوٹا سا گھر ایک شاندار کوٹھی میں تبدیل ہوا۔ چھوٹی سی دکان ایک بڑی مارکیٹ میں ایک بڑے شو روم میں بدل گئی۔ کام تھا کہ تیزی سے بڑھتا جا رہا تھا۔
پھر اس کی شادی ہو گئی۔ سلطانہ کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ یہ رشتہ قریشی صاحب نے کرایا تھا جنہیں نذیر الدین اپنا رہنما مانتا تھا۔ سلطانہ گریجویٹ تھی۔ شادی کے پانچ سال کے بعد شاہدہ پیدا ہوئی۔ اس وقت تک نذیر الدین کروڑ پتی بن چکا تھا۔ کوٹھی، کاریں سب کچھ تھا اس کے پاس۔ شاہدہ خوش قسمتی کی علامت سمجھی جانے لگی۔
پہلی بار نذیر الدین بیمار ہوا تو سلطانہ نے کہا۔ ’’بس۔ اب زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو کچھ ہے ہماری اور ہماری بیٹی کی زندگی کے لئے کافی ہے۔‘‘
’’تو کیا ہاتھ پائوں چھوڑ کر بیٹھ جائوں۔‘‘
’’بیشک ایسا نہ کرو لیکن میں اتنی بھاگ دوڑ نہیں کرنے دوں گی۔‘‘
’’یہ میری عادت ہے سلطانہ۔‘‘
’’تو اسے بدل لو۔ بس میں نے کہہ دیا۔‘‘ سلطانہ نے حتمی لہجے میں کہا اور نذیر الدین ہنس کر خاموش ہو گیا۔ وہ کام کرنے کا عادی تھا، کام کرتا رہا۔ اس کی محنت رنگ لاتی رہی۔ اتفاق سے شاہدہ کے بعد اور کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔ شاہدہ کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اسے ایک بے حد مہنگے اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔
شاہدہ جوان ہو گئی۔ یہ لوگ اپنی تمام حسرتیں شاہدہ سے پوری کرتے تھے۔ اس کی عمر سولہ سال تھی اور وہ میٹرک کا امتحان پاس کر چکی تھی۔
اس وقت شاہدہ والدین کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی کہ نذیر الدین کی نگاہ اس کے ہاتھ پر پڑی۔ شاہدہ کسی الجھن کا شکار تھی۔ وہ کوئی بھی چیز اٹھاتے ہوئے ہاتھ کو بار بار جھٹکا دے رہی تھی۔ چیز اٹھا کر بار بار رکھتی اور اسے دوبارہ اٹھاتی۔
’’کیا بات ہے شاہدہ۔ کیا ہو گیا۔‘‘ نذیر الدین نے تعجب سے کہا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
’’پتا نہیں پاپا۔ کچھ دن سے ایسا ہونے لگا ہے۔‘‘ شاہدہ نے بے چینی سے جواب دیا۔
’’کیسا؟‘‘ نذیر الدین کے ساتھ اس کی بیوی بھی متوجہ ہو گئی تھی۔
’’خاص طور سے صبح کے وقت۔ کوئی کام کرتے ہوئے میری انگلیاں، کلائی، ٹیڑھی ہونے لگتی ہے۔ میری انگلیاں میرے بس میں نہیں رہتیں۔ جو کرنا چاہتی ہوں وہ نہیں کر سکتی۔ یہاں تک کہ میں چائے میں شکر بھی نہیں ملا سکتی۔ یہ عمل پہلے صرف انگلیوں تک تھا لیکن اب کلائیاں بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔‘‘
’’ارے۔ ایسا کب سے ہونے لگا ہے۔‘‘ نذیر الدین نے شدید تشویش سے پوچھا۔
’’بس۔ ایک ڈیڑھ ماہ سے۔‘‘
’’تم نے بتایا نہیں۔‘‘
’’میں نے سوچا اعصابی تنائو ہے، ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
’’میں ڈاکٹر حامد حسن سے بات کرتا ہوں۔‘‘ نذیر الدین نے کہا۔
ڈاکٹر حامد حسن نے اس کا معائنہ کیا۔ کچھ ٹیسٹ کرائے۔ پھر اس سے اس کی مصروفیات کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ کچھ عرصے سے اپنے میٹرک کے رزلٹ کے بارے میں سوچتی رہی ہے اور پاس ہونے کے بعد کالج کے بارے میں کہ نہ جانے وہاں کی زندگی کیسی ہو گی۔
’’تمہیں کالج جانے کی خوشی ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے سوال کیا۔
’’بہت زیادہ۔‘‘ وہ بولی۔
ڈاکٹر ہنسنے لگا۔ ’’یہ بالکل ٹھیک ہے نذیر صاحب۔ بس اس عمر میں کبھی ایسا ہو جاتا ہے۔‘‘
سب مطمئن ہو گئے لیکن شاہدہ مطمئن نہ ہوئی۔ اب اس کی انگلیاں اور کلائیاں ہی ٹیڑھی نہیں ہوتیں بلکہ پنڈلیوں کے مسلز بھی بے جان ہونے لگے تھے۔ اکثر وہ چلتے چلتے ڈس بیلنس ہو جاتی تھی۔ کئی بار گرتے گرتے بچی تھی۔ بظاہر بالکل تندرست تھی۔ جوانی، بہار کی طرح چہرے پر کھلتی جا رہی تھی اور وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت لگنے لگی تھی۔
اس دن وہ لڑکھڑا کر ڈرائنگ روم میں گری تو نذیر الدین پھر چونک پڑے۔
’’کوئی فائدہ نہیں ہوا مجھے ڈاکٹر حامد کی فضول گولیوں سے۔ میرا مرض اور بڑھ گیا ہے۔‘‘ وہ روپڑی۔
یہ سن کر ماں باپ ہکاّ بکاّ رہ گئے۔ شہر کے سب سے بڑے آرتھو پیڈک کو دکھایا گیا۔ اس نے چیک اپ کیا۔ اس سے پوچھا کہ اس کے ہاتھوں پیروں میں درد تو نہیں ہوتا۔ اس نے کہا بالکل نہیں۔
صحیح صورت حال کی کوئی نشاندہی نہیں ہو سکی لیکن کچھ انجکشنوں نے یہ کیفیت روک دی۔ جب دو مہینے تک ایسی کوئی تکلیف نہیں ہوئی تو شاہدہ مطمئن ہو گئی۔
وقت گزرنے لگا۔ شاہدہ کالج میں بہت خوش تھی۔ اس دن کالج میں کوئی تقریب تھی۔ اس نے اس تقریب میں شرکت کے لیے خوبصورت لباس تیار کرایا تھا۔ تقریب میں اسے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا لیکن جب اس کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر چڑھنے لگی تو اس کے پائوں ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ پہلی سیڑھی چڑھی اور دھڑام سے نیچے گر گئی۔ اس کی دوستوں نے اسے اٹھایا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ کسی سے کچھ نہ کہہ سکی۔ دوستوں نے اسے وقتی دورہ سمجھا تھا، وہی اسے گھر پہنچانے آئی تھیں۔ نذیر الدین اور سلطانہ تفصیل سن کر دنگ رہ گئے تھے۔
’’یہ کیا ہو گیا شاہدہ کو؟‘‘ نذیر الدین غم میں ڈوبے لہجے میں بولے۔
’’پتا نہیں۔‘‘ سلطانہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔
’’سارے ڈاکٹر صورت حال کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ ایک کام کرتے ہیں سلطانہ۔ ہم اسے لے کر لندن چلتے ہیں۔ ویسے بھی عالیہ باجی بڑا اصرار کر کے گئی تھیں کہ شاہدہ کو لے کر لندن آئیں۔‘‘
عالیہ، سلطانہ کی بڑی بہن تھیں۔ ان کے شوہر طویل عرصہ سے لندن کے ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے۔ بیٹا نیّر احمد اور بیٹی زنیرا بھی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ لندن میں وہ درمیانے درجے کی زندگی گزار رہے تھے۔ عالیہ چھوٹی بہن سے بہت پیار کرتی تھیں۔ کبھی کبھی پاکستان آ جاتی تھیں۔ پچھلی بار بھی آئی تھیں تو بہت کہہ کر گئی تھیں کہ سلطانہ کے لیے تو کوئی مشکل نہیں ہے، وہ کچھ عرصہ کے لیے لندن آجائے۔ پچھلی بار جب وہ گئی تھیں تو ان کے جانے کے بعد نذیر الدین نے سلطانہ سے کہا تھا۔ ’’تم نے کوئی خاص بات محسوس کی سلطانہ؟‘‘
’’کس سلسلے میں؟‘‘
’’عالیہ باجی کے کچھ الفاظ اس انداز کے تھے جیسے وہ نیّر کے لئے شاہدہ کا رشتہ مانگنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ہاں۔ مجھے علم ہے۔‘‘ سلطانہ نے آہستہ سے کہا۔
’’تو کیا انہوں نے تم سے کہا ہے؟‘‘
’’نہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہے کہ شاہدہ نے کس طرح زندگی گزاری ہے۔ ہم نے اس کے لئے جس زندگی کے خواب دیکھے ہیں، وہ زندگی کے سو سال تک عالیہ باجی اسے نہیں دے سکتیں۔‘‘
’’بالکل ٹھیک سلطانہ۔ نیّر کتنا ہی لکھ پڑھ جائے، زیادہ سے زیادہ کیا کما سکتا ہے۔ شاہدہ کے لیے تو شاندار رشتوں کی لائن لگ جائے گی۔‘‘
بات آئی گئی ہو گئی۔
لیکن اب عالیہ سے بات کرنی ضروری ہو گئی تھی۔ ’’شاہدہ کی کچھ طبیعت خراب ہے باجی۔‘‘
’’خدا خیر کرے۔ کیا ہوا؟‘‘ عالیہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’بس، کچھ عجیب سی کیفیت ہے۔ یہاں کوئی بہتر علاج نہیں ہو پا رہا۔ میں اسے لے کر لندن آنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تو آ جائو، دیر کیوں کر رہی ہو۔ اللہ میری بچی کو صحت دے۔ تم فوراً آ جائو۔‘‘ عالیہ بیگم نے کہا۔
اس گفتگو کے بعد سلطانہ بہت روئی تھی۔ اپنے اور شوہر کے غرور کے حوالے سے توبہ کی تھی۔ انہوں نے اپنی دولت پر غرور کر کے عالیہ کو اور اس کے بیٹے کو حقیر سمجھا تھا لیکن اب شاہدہ ایک بیمار لڑکی تھی۔ ایک عجیب و غریب مرض میں مبتلا۔ وہاں کے ڈاکٹر اسے چیک کریں گے۔ اس کے مرض کی تشخیص کریں گے، اسے قابل علاج یا لا علاج قرار دیں گے۔ کیا اس کے بعد بھی عالیہ بیگم اپنے خوبصورت اور تعلیم یافتہ بیٹے کے لیے ایسی لڑکی کو پسند کر لیں گی جس کا مستقبل نہ جانے کیا ہو۔
سلطانہ بیگم نے اپنے احساسات کا اظہار بیشک نذیر الدین سے نہیں کیا تھا لیکن کچھ باتوں سے انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ نذیر الدین بھی اسی انداز میں سوچ رہے ہیں۔
o…o…o
لندن ایئر پورٹ پر عالیہ بیگم، ان کے شوہر امیر علی، بیٹی زنیرا اور بیٹے نیّر نے بڑی چاہت اور خوش دلی سے ان کا استقبال کیا تھا۔ سب بے حد خوش تھے۔ اس وقت شاہدہ ایک حسین شال لپیٹے ہوئے بالکل گڑیا نظر آ رہی تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے جب سے اسے اپنی اس نامعلوم بیماری کا پتا چلا تھا اس کی شادابیاں ماند پڑ گئی تھیں جبکہ پچھلے سال جب عالیہ بیگم آئی تھیں تو اس کا چہرہ سرخ و سپید تھا۔ اس وقت عالیہ بیگم نے اسے محسوس کیا لیکن خاموش رہیں۔
ادھر نیّر نے بھی بھرپور نظروں سے شاہدہ کو دیکھا۔ نہ جانے اس پر کیا تاثر قائم ہوا لیکن اس نے بڑی توجہ سے شاہدہ کو خوش آمدید کہا تھا۔ لندن میں ان لوگوں کا گھر گو بہت بڑا نہیں تھا لیکن بہت خوبصورتی سے آراستہ تھا۔ امیر علی کو بینک کی طرف سے کار ملی ہوئی تھی۔ خود نیّر کے پاس بھی اپنی کار تھی۔ گویا وہ بالکل ہی گرے پڑے لوگ نہیں تھے۔
حالانکہ سلطانہ نے بہن کو بتا دیا تھا کہ وہ شاہدہ کی بیماری کے سلسلے میں لندن آ رہے ہیں لیکن گھر آ کر شاہدہ کی بیماری کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
دوسرے دن عالیہ نے سلطانہ سے پوچھا۔ ’’کیا ہو گیا ہے شاہدہ کو۔ وہ تو مجھے کافی نڈھال نظر آ رہی ہے۔‘‘
’’بس باجی۔ کیا بتائوں، سخت پریشان ہیں ہم
لوگ۔‘‘ سلطانہ نے آنسو بھری آواز میں کہا اور پوری تفصیل عالیہ کو بتا دی۔
عالیہ بھی پریشان نظر آنے لگی تھی۔ اس نے کہا۔ ’’تم فکر مت کرو۔ امیر علی سے بات کرتی ہوں۔ وہ لوگوں سے مشورے کر کے صحیح علاج کے لیے کوشش کریں گے۔‘‘
چھپنے والی بات نہیں تھی۔ دو تین بار یہاں بھی شاہدہ کی وہی کیفیت ہوئی تھی۔ امیر علی نے پوری توجہ سے ہر طرح کے اسپیشلسٹ کو شاہدہ کو دکھایا تھا لیکن صحیح مرض تشخیص نہیں ہو سکا تھا۔ ایک طرح سے مایوسی ہوئی تھی۔ عالیہ نے بہن کی بہت دلجوئی کی لیکن سلطانہ نے صاف محسوس کیا کہ عالیہ ایک بار بھی اس موضوع پر نہیں آئی جس کا اظہار اس نے پہلے کیا تھا۔ پھر نیّر کا رویہ بھی بس واجبی سا تھا۔ اس نے ایک بار بھی شاہدہ کی طرف جھکائو کا اظہار نہیں کیا تھا۔ حالانکہ عام حالات میں شاہدہ بالکل نارمل نظر آتی تھی البتہ اس کے چہرے پر پھیکا پن ضرور آ گیا تھا۔
آخر ایک دن سلطانہ بیگم نے خود ہی ذکر چھیڑا۔ ’’آپ زنیرا اور نیّر کی شادیاں یہیں لندن میں کریں گی یا پاکستان آ کر کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘
’’پاکستان سے اب واسطہ ہی کتنا رہ گیا ہے۔ تمہارے سوا کون ہے وہاں اور پھر بچے لندن کے ماحول میں رنگ گئے ہیں۔ انہوں نے یہاں کی زندگی اپنا لی ہے۔ بہت سے پاکستانی خاندان بھی ہماری طرح یہاں آباد ہیں۔ نیّر نے ایک لڑکی پسند کر لی ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اس سے شادی کرے گا۔‘‘
’’اچھا۔ خوشی کی بات ہے۔ اللہ بہتر کرے۔‘‘ سلطانہ بیگم بجھ گئیں۔ صاف ظاہر ہو گیا تھا کہ عالیہ بیگم کسی طرح ایک بیمار لڑکی کو اپنی بہو بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر بھی سلطانہ نے کہا۔ ’’میں بھی شاہدہ کے لئے بہت پریشان ہوں۔ دیکھیں خدا نے اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے۔‘‘
’’میرا تو دل اسے دیکھ کر خون کے آنسو روتا ہے۔ پچھلے ہی سال کی تو بات ہے کیسا تر و تازہ پھول سا چہرہ تھا۔ اب تو آنکھوں میں بھی حلقے پڑ گئے ہیں۔ ایک بات کہوں سلطانہ؟‘‘
’’جی باجی۔‘‘ سلطانہ کا دل زور سے دھڑکا۔
’’بُرا مت ماننا، تمہاری بہن ہوں، تمہاری ہمدرد ہوں۔ اس لئے رائے دے رہی ہوں۔‘‘ عالیہ بیگم نے کہا۔
’’جی؟‘‘ سلطانہ کے منہ سے فقط اتنا نکلا۔
’’قدرت نے تمہیں بہت دولت دی ہے۔ ایک ہی بیٹی ہے تمہاری، جو حالات ہیں، آگے جا کر نہیں کہا جا سکتا مزید کیا ہو۔ تم اس کی شادی کر دو، کسی ایسے شخص سے جسے مالی سہارے کی ضرورت ہو۔‘‘
سلطانہ کا دل جیسے بند ہو گیا۔ اسے ان کی بات کا سخت رنج ہوا تھا۔ بہن نے بڑی صفائی سے اپنا دامن بچا لیا تھا۔
رات کو اس نے نذیر الدین سے کہا۔ ’’باجی سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے نیّر اور شاہدہ کے بارے میں اپنا مؤقف دے دیا ہے۔‘‘ پھر سلطانہ نے ساری بات بتا دی۔
نذیر الدین نے آہ بھر کر کہا۔ ’’وہ بھی اپنی جگہ غلط نہیں ہیں۔ کون کس کی آگ میں کودتا ہے اور پھر بات خالی ان کی ہی نہیں ہے۔ میں نیّر کا بھی جائزہ لیتا رہا ہوں۔ اس نے بھی شاہدہ سے کسی خاص رغبت کا اظہار نہیں کیا۔ میرا خیال ہے اب یہاں زیادہ رکنا بیکار ہے۔ یہاں کے ڈاکٹروں نے بھی معذوری ظاہر کر دی ہے۔ واپس چلتے ہیں۔‘‘
’’ہاں۔ گھر بھی یاد آ رہا ہے۔‘‘
دوسرے دن جب انہوں نے واپس جانے کی بات کی تو کسی نے بھی ان سے رکنے کے لیے اصرار نہیں کیا۔ مزید دو دن قیام کے بعد وہ واپس چل پڑے۔ خاص طور سے سلطانہ کو اپنے بہن کے رویے سے بے حد دکھ ہوا تھا۔ اسے عالیہ پر بے حد اعتماد تھا۔ خود نذیر الدین بھی بڑی بے بسی محسوس کر رہا تھا۔ اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا تھا۔ بیٹی لاکھوں میں ایک تھی۔ اسے دیکھ کر کوئی بھی ریجھ سکتا تھا لیکن اسے جو روگ لگ گیا تھا، وہ اس کے سارے حسن کو خاک میں ملا دیتا تھا۔
نذیر الدین کو احساس ہوا کہ کروڑوں روپے کما لینا بہت کچھ نہیں ہے۔ اگر صحت نہ ہو تو انسان سب سے زیادہ غریب ہوتا ہے۔ سونے چاندی کے ڈھیر مٹی کے ڈھیروں سے بھی زیادہ بے وقعت ہوتے ہیں اگر صحت نہ ہو۔
وقت کہاں رکتا ہے۔ اس کی رفتار جاری رہتی ہے۔ شاہدہ نے بی اے کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ اس دوران نذیر الدین اور سلطانہ نے اس کی طرف سے لاپروائی نہیں برتی تھی۔ ان سے جو بھی ہوتا تھا، کر رہے تھے لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا۔ شاہدہ کا چہرہ حسین تھا، بدن بھرپور تھا لیکن ہاتھ پائوں بدنما ہوتے جا رہے تھے۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اب عجیب سے انداز میں ٹیڑھی ہو گئی تھیں۔ ہاتھوں کی کھال بھی سکڑ کر بے نور ہو گئی تھی۔ وہ ہر وقت دستانے استعمال کرتی تھی۔ تمام تر حسن کے باوجود اس کے چہرے پر ایک غم ناک مسکراہٹ پھیلی رہتی تھی لیکن اپنے اندر کے درد کے باوجود وہ اپنے ماں باپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ مختلف واقعات پیش آتے رہتے تھے۔ اکثر وہ گر پڑتی تھی لیکن جب کوئی اسے سہارا دے کر اٹھاتا تو وہ مسکرا دیتی تھی۔
اس دوران نذیر الدین کے دوستوں نے بھی اس کا درد بانٹنے کی کوشش کی۔ کئی رشتے آئے لیکن نذیر الدین سچا انسان تھا۔ بیٹی کے عیب کو چھپا کر وہ اس کے مستقبل کے لیے عذاب نہیں خریدنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس کے بارے میں بتا دیتا اور آنے والے دوبارہ نہ آتے۔ شاہدہ ماں باپ کی ان کاوشوں سے بے خبر نہیں تھی۔ ایک دن وہ بپھر گئی۔
’’ایک سوال کرنا چاہتی ہوں میں آپ سے۔‘‘ اس کے لہجے میں شیرنی جیسی غراہٹ تھی۔ ’’کیا آپ کو میرے کردار میں کوئی کمی نظر آتی ہے۔ جواب دیں۔‘‘
’’نہیں بیٹی۔ کیسی باتیں کر رہی ہو۔‘‘ نذیر الدین نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’تو پھر روزانہ میرا تماشا کیوں بنایا جاتا ہے۔ لوگ اس طرح آتے ہیں جیسے انہیں قربانی کے لیے جانور خریدنا ہو۔ مجھے دیکھتے ہیں، نا پسند کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ میری تذلیل اور کیا ہو سکتی ہے۔ آپ کبھی سوچتے ہیں۔‘‘
’’بیٹی۔‘‘ سلطانہ نے کمزور لہجے میں کہا۔
’’کوئی ٹھوس جواب دیجئے مجھے۔ میں خوش ہوں۔ مطمئن ہوں۔ مجھے زندگی کے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں اس کے بغیر آسانی سے زندگی گزار سکتی ہوں۔ آپ لوگ میرے لیے شادی کی بھیک کیوں مانگتے ہیں؟‘‘
’’نہیں بیٹی۔ ہم نے کسی سے بھیک نہیں مانگی۔ بس اگر کوئی اچھا رشتہ مل جائے تو۔‘‘
’’تو بھی میں شادی نہیں کروں گی۔ سمجھے آپ۔ میں وہ بات نہیں کہنا چاہتی جو کہنے کو دل چاہ رہا ہے۔ سکون سے ہوں، خوش ہوں۔ آپ مجھے لوگوں کی نگاہوں میں تماشا کیوں بناتے ہیں۔ بہت ہو چکا۔ اپنی محبت، اپنے پیار کی یہ قیمت وصول نہ کریں مجھ سے، جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ مجھے جینے دیجئے۔ ورنہ۔‘‘
اس ورنہ سے آگے سمندر تھا۔
o…o…o
یونیورسٹی کی زندگی میں بہت کچھ تھا۔ یہاں آ کر شاہدہ کو خوشی ہوئی تھی۔ اس نے کئی لڑکیوں سے دوستی بھی کر لی تھی۔ ناصر محمود نے اسے غور سے دیکھا تھا۔
’’اس کی چال میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ کس طرح چلتی ہے یہ؟‘‘ اس نے اپنے دوست اظہار احمد سے کہا۔
’’شاید بچپن میں پولیو کا شکار ہوئی ہے۔‘‘ دوسرے دوست نے جواب دیا۔
’’افسوس۔ کتنی خوبصورت ہے۔‘‘
’’اور بہت دولت مند بھی۔ بی ایم ڈبلیو میں آتی ہے۔‘‘
’’ایں۔ کیا واقعی۔‘‘
’’پرفیوم کنگ نذیر الدین کی بیٹی ہے۔‘‘
’’اور بیوی کس کی ہے۔‘‘ ناصر محمود نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ابھی تک کسی کی نہیں۔‘‘
’’ہائے۔ کتنی بری بات ہے۔‘‘ ناصر محمود نے اداکاری کرتے ہوئے کہا اور سب دوست ہنسنے لگے۔
ناصر محمود یونیورسٹی کا سب سے نکما طالب علم تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اسے طالب علم نہ کہا جائے کیونکہ اسے علم کی کوئی طلب نہیں ہے۔ وہ تو یونیورسٹی کی رنگین دنیا میں جینے آیا ہے اور وہ واقعی جی رہا تھا۔ اس کا باپ محمود جاوید کسٹم میں آفیسر تھا۔ جتنی اس کی تنخواہ تھی وہ اس کے گھر کے اخراجات کے لئے ایک ہفتے کے لئے بھی ناکافی تھی۔ لیکن اوپر کی آمدنی عیش کرا رہی تھی۔
البتہ کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی۔ اینٹی کرپشن والوں سے کسی بات پر تنازع ہو گیا اور انہوں نے کاٹھ کی ہانڈی چولہے سے اتار دی۔ اپنے تعلقات کی وجہ سے جیل جانے سے تو بچ گیا لیکن نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اندھی اور کالی کمائی بند ہو گئی۔ عیش و عشرت کی ریل آگے نکل گئی۔ اب وہ ایک فرم میں نوکری کر رہا تھا۔ بیٹا ناصر محمود جس کمائی سے پلا بڑھا تھا، وہ اس کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی تھی اور یونیورسٹی میں وہ اس کا بھرپور مظاہرہ کر رہا تھا۔
ایک ہفتے تک اس نے شاہدہ کا بغور جائزہ لیا۔ اس کی چال ڈھال اس کے چہرے کے تاثرات کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ پھر ایک دن اس تک جا پہنچا۔
شاہدہ چھٹی کے بعد اپنی کار کی طرف جا رہی تھی۔ برآمدے کی سیڑھیاں اترتے وہ لڑکھڑائی تو ناصر محمود نے بڑھ کر اسے اپنے بازوئوں میں سنبھال لیا اور اس طرح سنبھالا کہ شاہدہ کچھ لمحوں کے لیے حواس کھو بیٹھی۔
ناصر محمود نے بے حد احترام سے اسے سیدھا کیا۔ پھر نیچی آنکھیں کر کے بولا۔ ’’خدا کی قسم آپ کو سنبھالنے میں بس ایک جذبہ تھا کہ خدانخواستہ آپ گر نہ پڑیں، خدا آپ کو سلامت رکھے۔‘‘
شاہدہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے اپنی کار کی طرف بڑھ گئی۔ لیکن وہ رات اس کی زندگی کی سب سے بھیانک رات تھی۔ کسی کے بازوئوں کا حصار، ساری رات وہ خوابوں میں کھوئی رہی۔ دوسرے دن وہ سخت بخار میں پھنک رہی تھی۔ یہ بخار بھی بہت دلکش تھا۔
تین دن تک وہ بیمار رہی، چوتھے دن یونیورسٹی گئی، وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ چھٹی کے وقت اس کا دل چاہا کہ وہ دوبارہ سیڑھیوں پر لڑکھڑائے اور دو مضبوط بازو…!
اس رات بھی وہ ان خیالات سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی رہی۔ اسے وہ نوجوان یاد آ رہا تھا۔ واقعی اس نے جان بوجھ کر وہ حرکت نہیں کی تھی اور پھر بعد میں اس کا لہجہ، اس کے الفاظ بے حد شریفانہ تھے۔
البتہ دوسرے دن وہ نظر آ گیا۔ شاہدہ ہیجان کا شکار ہو گئی۔ وہ خود ہی اس کے پاس جا پہنچی۔ ’’ہیلو۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ہیلو۔ کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’ٹھیک ہوں۔ آپ کہاں تھے؟‘‘
’’جی۔‘‘ وہ بولا۔
’’میرا مطلب ہے نظر نہیں آئے۔‘‘
’’آپ بھی تین دن یونیورسٹی نہیں آئیں۔‘‘
’’اچھا۔ آپ کو معلوم ہے۔‘‘
’’جی۔ کل آپ تین دن بعد آئی تھیں۔‘‘
’’آپ آئے تھے کل؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’مجھے نظر نہیں آئے۔‘‘
’’میں نے جان بوجھ کر آپ کے سامنے آنے سے گریز کیا تھا۔‘‘ وہ اداسی سے بولا۔
’’کیوں؟‘‘ وہ حیرت سے بولی۔ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ لمحے انتظار کرنے کے بعد اس نے دوبارہ کہا۔ ’’آپ نے بتایا نہیں۔‘‘
’’بس ایسے ہی۔‘‘
’’ایسے ہی تو کوئی کام نہیں ہوتا۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی۔ اسے خود پر حیرت تھی۔ وہ خود لیے دیے رہتی تھی۔ لڑکیوں تک سے اس کی زیادہ دوستی نہیں تھی لیکن نہ جانے کیوں اس لڑکے سے باتیں کرنے کو دل چاہ رہا تھا۔ وہ حادثہ انوکھا تھا۔
وہ بھی ہنس دیا۔
’’میں نے جان بوجھ کر آپ کو نہیں سنبھالا تھا۔‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔
’’ایں؟ میں نہیں سمجھی؟‘‘ وہ سمجھ کر بولی۔
’’آپ سیڑھیوں پر تھیں۔ بہت زور سے گرتیں۔‘‘
’’پتا نہیں کیا ہوتا۔ ہاتھ پائوں بھی ٹوٹ سکتے تھے۔‘‘ وہ بولی۔
’’بس۔ میں آپ کو گرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔‘‘ نوجوان نے مدھم سے لہجے میں کہا۔ مگر ان الفاظ کا اثر شاہدہ نے اپنے دل میں محسوس کیا تھا۔ اس بار وہ کچھ نہ بولی۔ تو اس نے کہا۔ ’’میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ میرے بارے میں کوئی برا تاثر قائم کریں۔‘‘
’’برا تاثر؟‘‘
’’جی۔ ایک چھوٹا سا کام کر کے میں آپ کے سر پر مسلط ہو جائوں، اس لئے میں آپ کے سامنے نہیں آیا۔‘‘
شاہدہ نے گردن ہلائی، پھر بولی۔ ’’کیا نام ہے آپ کا؟‘‘
’’ناصر محمود۔‘‘
’’میرا نام شاہدہ نذیر ہے۔‘‘
شاہدہ اس کے مہذب اور دلنشیں انداز سے متاثر ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ اس کے ساتھ انتہائی شائستگی اور متانت سے بات کرتا تھا۔ ایک بار بھی اس نے اپنے معیار کو گرنے نہ دیا اور تھوڑے ہی عرصے کے اندر شاہدہ کو احساس ہونے لگا کہ ناصر اس کے دل میں اترتا جا رہا تھا۔ ناصر کی اس سے دلچسپی بھی اسی بات کا اظہار کرتی تھی کہ وہ بھی اسے چاہنے لگا ہے۔
یہ بالکل اتفاق تھا کہ اس دوران شاہدہ پر وہ اعصابی دورہ نہیں پڑا تھا لیکن کبھی کبھی راتوں کو وہ یہ سوچ کر تھرا جاتی تھی کہ ناصر کو جب اس کی بیماری کے بارے میں علم ہو گا تو کیا وہ اس سے گریز نہیں کرے گا۔ تب وہ کیا کرے گی۔ اسے نیّر اور اپنی سگی خالہ کا رویہ یاد تھا۔ بے وقوف نہیں تھی سب سمجھ گئی تھی۔
لیکن اب میں کیا کروں۔ ناصر کو میرے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ جب اسے پتا چلے گا تو اس کا کیا رویہ ہو گا۔ ایک نیا خلجان پیدا ہو گیا تھا جو اسے اکثر راتوں کو جگاتا تھا۔
اس دن جب شاہدہ کی بی ایم ڈبلیو سڑک سے گزر رہی تھی، اس نے ناصر کو ویگن اسٹاپ پر کھڑے دیکھ لیا۔ وہ بری طرح چونک پڑی۔ آج تک اس نے ناصر کے مالی حالات یا اس کے گھر اور گھر والوں کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا تھا۔
اس نے گاڑی روکی اور اسے ریورس کر کے ناصر کے پاس لے آئی۔ پھر اس نے کار کا دروازہ کھول کر آواز لگائی۔ ’’ناصر۔ آئیے۔‘‘
’’ارے۔ آپ چلیے شاہدہ۔ اپنی فراری آنے والی ہے۔‘‘ ناصر نے مسکراتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔
’’فراری؟‘‘
’’جی۔ ڈبلیو اکیس۔ ہماری ویگن کا یہی نمبر ہے۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’پلیز آئیے۔‘‘
’’پلیز جائیے۔‘‘ اس نے اسی انداز میں کہا۔
’’ناصر۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’کل۔ یونیورسٹی میں۔ دیکھئے ہماری فراری آ گئی۔‘‘ پیچھے سے ایک ویگن آئی اور وہ ہاتھ ہلا کر اس میں جا بیٹھا۔ ویگن چلی گئی اور وہ کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔ کسی طرف سے آواز آئی۔
’’چھوڑ گئے بالم۔ مجھے ہائے اکیلا چھوڑ گئے۔‘‘
اس نے جلد سے کار آگے بڑھا دی۔ راستے میں وہ ناصر کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ شاید ناراض ہے۔ اس سے پہلے میں نے اسے یہ پیشکش کیوں نہیں کی۔ اس نے کبھی پوچھا ہی نہیں کہ وہ یونیورسٹی کیسے آتا جاتا ہے۔ اس کے گھر میں کون کون ہے۔ اس کے مالی حالات کیسے ہیں۔ ان تمام باتوں کا اسے کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ ناصر کو اپنی گاڑی میں چھوڑتی۔ کار وہ خود ڈرائیو کرتی تھی۔ اس وقت سے کرتی تھی جب وہ اس مرض کا شکار نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں نذیر الدین نے اس کے لئے ڈرائیور رکھنے کی کوشش کی تھی۔
’’نہیں۔ اپنی کار میں خود چلائوں گی۔‘‘
’’وہ تمہاری تکلیف کی وجہ سے۔‘‘ نذیر الدین نے کہا۔
’’اپنی کار میں خود چلائوں گی، ورنہ۔ تعلیم چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جائوں گی۔‘‘
اس نے حد درجے سرد لہجے میں کہا جو دیوانگی جیسی کیفیت رکھتا تھا۔ نذیر الدین خاموش ہو گیا تھا۔
راتیں سوچنے کے لیے ہوتی تھیں۔ دوسرے دن کے لیے اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے ناصر سے کیا بات کرنی ہے۔ صبح کو یونیورسٹی جاتے ہوئے بھی اس نے اپنے فیصلے کو دہرایا تھا۔ بہت مشکل فیصلہ کیا تھا اس نے۔ ناصر کو اپنے بارے میں سب کچھ بتا دے گی۔ اس سے کہے گی کہ اگر وہ چاہے تو اس سے دوستی رکھ سکتا ہے۔ سچی دوستی اور بس۔
’’آئو ناصر۔ ادھر چلتے ہیں۔‘‘ اس نے ایک خوبصورت گوشے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ یہاں وہ اکثر بیٹھتے تھے۔ دونوں وہاں جا بیٹھے۔ ’’آپ مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘
’’ارے واہ کمال ہے۔ میں خود یہی پوچھنے والا تھا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کل میں آپ کے ساتھ نہیں گیا تھا۔‘‘
’’میں ناراض نہیں، شرمندہ ہوں۔ مجھے یہ پیشکش پہلے ہی کرنی چاہیے تھی۔‘‘ شاہدہ نے کہا۔
’’نہیں شاہدہ۔ یہ مجھے کبھی پسند نہیں ہو گا۔ میں روزانہ ویگن سے آتا جاتا ہوں۔ میری حیثیت اتنی ہی ہے۔ ایک امیر لڑکی سے دوستی کر کے میں اس کی گاڑی میں سفر کرنا پسند نہیں کرتا۔ مجھے وہ لوگ برے لگتے ہیں جن کی گاڑیاں خواتین چلا رہی ہوتی ہیں اور وہ ان کے نزدیک بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہاں اگر میرے پاس میری اپنی گاڑی ہوتی تو آپ کو اپنے ساتھ بٹھا کر سفر کرنا اپنی شان سمجھتا۔‘‘
شاہدہ کو ایک عجیب سا فخر محسوس ہوا تھا۔
’’آپ قابل فخر انسان ہیں ناصر صاحب۔ آپ سے دوستی میری خوش نصیبی ہے۔ آپ کو میری مشکل کا علم ہے۔‘‘
’’آپ کی مشکل کا؟‘‘
’’ہاں۔ میری بیماری کے بارے میں آپ جانتے ہیں؟‘‘ شاہدہ نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
’’جی۔ کلثوم نے طاہر کو اور طاہر نے فائزہ کو، فائزہ نے حسن کو اور حسن نے مجھے بتایا تھا۔‘‘ ناصر نے کہا۔
’’کیا؟‘‘ وہ سہمی ہوئی آواز میں بولی۔
’’یہی کہ کبھی کبھی آپ پر اعصابی دورے پڑتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ پائوں ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ اس دن بھی سیڑھیوں پر آپ اسی لیے لڑکھڑائی تھیں۔‘‘
’’آپ کو سب معلوم ہے؟‘‘ وہ حیرت سے بولی۔
’’جی۔ بالکل۔‘‘
’’لیکن آپ نے کبھی مجھ سے اس بارے میں بات نہیں کی۔‘‘
’’کیا بات کرتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو یہ تکلیف کیوں ہوئی؟‘‘
’’ایں۔نہیں۔‘‘ وہ کچھ نہیں سمجھ سکی۔
’’اسی طرح آپ کو یہ بھی نہیں معلوم ہو گا کہ یہ تکلیف کیسے چلی گئی۔ بیماری آتی ہے، چلی جاتی ہے۔ ماشاء اللہ آپ بالکل ٹھیک ہیں اور اگر کوئی تکلیف ہے تو وہ بھی ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘
’’میں اس کے علاج کے لیے لندن تک ہو آئی ہوں۔ لیکن…‘‘
’’کیوں۔ لندن میں فرشتے رہتے ہیں جو سب ٹھیک کر دیتے ہیں۔‘‘
’’آپ نہیں جانتے ناصر۔ یہ سب کچھ میری زندگی پر کس طرح محیط ہو گیا ہے۔ میں نے اپنے مستقبل میں بس تاریک گڑھے دیکھے ہیں۔ میرے پاس زندگی گزارنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
’’آپ کی کوئی بہن ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’بھائی؟‘‘
’’ماں باپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔‘‘
’’کوئی ایسی دوست بھی نہیں جس سے آپ دل کی بات کر سکیں۔‘‘
’’کوئی نہیں ہے۔‘‘
’’آپ کی سب سے بڑی بیماری یہی ہے کہ کوئی آپ کو صحیح مشورہ دینے والا نہیں ہے ورنہ یہ مایوسی آپ کے دل میں نہ پیدا ہوتی۔‘‘
’’آپ میرے دوست ہیں۔‘‘
’’میں صرف دوست نہیں ہوں شاہدہ۔ میں آپ کو چاہتا ہوں۔ آپ سے بے پناہ پیار کرتا ہوں۔ آپ کو اپنی ساری زندگی کا ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔ آپ کے اندر وہ سب کچھ ہے جو ایک آئیڈیل ساتھی میں ہونے کی خواہش کی جا سکتی ہے لیکن میرے راستے بند ہیں۔ میری پرواز وہاں تک نہیں ہے جہاں آپ موجود ہو۔‘‘
شاہدہ کے دل و دماغ پر بے خودی سی چھا رہی تھی۔ وہ نشے کی سی کیفیت کا شکار ہوگئی تھی۔ ناصر کے منہ سے نکلا ہر لفظ اس کے سلگتے دماغ پر ٹھنڈے پانی کی بوند جیسا لگ رہا تھا اور اس کی آنکھیں بند ہوئی جارہی تھیں لیکن چند ہی لمحوں کے بعد وہ ہوش میں آگئی۔
’’کیا آپ میرا مذاق اُڑا رہے ہیں ناصر صاحب۔‘‘
’’مذاق؟‘‘ ناصر نے حیرانی سے کہا۔
’’یا مجھ پر ترس کھا رہے ہیں؟‘‘
’’کیوں کہہ رہی ہیں آپ ایسا؟‘‘
’’یہ تو ممکن ہی نہیں کہ آپ کو میری بیماری کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ یہ بات یونیورسٹی میں سبھی جانتے ہیں۔‘‘
’’میں جانتا ہوں لیکن کیا یہ کافی نہیں ہے کہ آپ خوبصورت دل کی مالک ہیں۔ ہر لحاظ سے ایک مکمل لڑکی جسے ٹوٹ کر چاہا جاسکتا ہے، جس کو زندگی بھر پوجا جاسکتا ہے۔ میں آپ کی زندگی کا ساتھی بننا چاہتا ہوں کیونکہ میں آپ کو بہت چاہنے لگا ہوں۔‘‘
ناصر محمود نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا۔ دوسری ملاقات میں شاہدہ نے کہا تھا۔ ’’بعد میں پچھتائو گے ناصر۔ کیسا بوجھ زندگی پر سوار کرلیا۔‘‘
’’شاہدہ! میں نہیں جانتا میری اس چاہت کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ میں نہیں جانتا میرے لئے آپ کے دل میں کیا ہے البتہ میں یہ جانتا ہوں کہ آپ ایک امیر باپ کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ میں آپ کے قابل نہیں ہوں لیکن میرے پاس آپ کی چاہت کا خزانہ ہے جسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔‘‘
’’آہ! میں کیا کروں ناصر! آپ بہت اچھے ہیں، بہت ہی اچھے۔ میں آپ کو خوابوں میں دیکھنے لگی ہوں۔ ناصر آپ میرے دل میں اُتر چکے ہیں۔‘‘
’’اگر آپ میری زندگی میں شامل ہوجائیں تو میں آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔‘‘ شاہدہ آہستہ سے مسکرا دی۔
اور سلطانہ نے طویل عرصے کے بعد بیٹی کے چہرے پر شگفتگی اور آنکھوں میں خوشیوں کی چمک دیکھی۔ اس نے پوچھا۔ ’’آج تم بہت خوش ہو شاہدہ۔‘‘
’’میں خوش ہوں؟‘‘ وہ حیرت سے بولی۔ پھر ہنس پڑی۔ ’’کتنی چالاک ہیں آپ۔‘‘
’’چالاک نہیں، تمہاری ماں ہوں۔‘‘
’’وہ تو ہیں۔ سب سے اچھی، سب سے پیاری ماں۔‘‘ شاہدہ محبت سے ماں سے لپٹ گئی۔
’’مجھے بتائو کیا بات ہے۔ میں تمہاری دوست ہوں۔‘‘
تب شاہدہ نے اپنی دوست کو سب کچھ بتا دیا۔ تجربہ کار سلطانہ نے بہت سنجیدگی سے سوچا۔ کوئی دھوکا، کوئی وقتی جذباتی کیفیت تو نہیں۔ اس نے شاہدہ سے ناصر محمود، اس کے خاندان کے بارے میں بہت سی باتیں پوچھیں۔ شاہدہ کو معلوم ہی کیا تھا جو بتاتی۔ بس اتنا اسے ضرور معلوم تھا کہ کبھی ناصر کا گھرانہ خوشحال تھا لیکن اب ان کے حالات اچھے نہیں تھے۔
’’کسی دن اسے چائے یا کھانے پر بلا لو۔‘‘
’’وہ اتنا خوددار ہے کہ کبھی میری گاڑی میں نہیں بیٹھتا۔ بہرحال میں اس سے بات کرتی ہوں۔‘‘
سلطانہ نے پوری تفصیل نذیرالدین کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوا۔ ’’خدا کرے وہ اچھا لڑکا ہو۔ اگر سب کچھ جاننے کے باوجود وہ شاہدہ کو قبول کرتا ہے تو ہمارے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوگی۔ ہم اسے سب کچھ دیں گے، کوئی کمی نہیں رہے گی۔‘‘
’’شاہدہ اسے یہاں بلائے گی۔‘‘ سلطانہ نے کہا۔
ناصر بڑی مشکل سے تیار ہوا تھا۔ پہلی بار وہ شاہدہ کے ساتھ اس کی بی ایم ڈبلیو میں بیٹھا۔ پہلی بار اس نے شاہدہ کی محل نما کوٹھی دیکھی۔ اس کے گھر کے عالیشان ڈرائنگ روم کو دیکھا جہاں نذیرالدین اور سلطانہ بیگم نے بڑی محبت سے اس کا استقبال کیا۔ اس نے بڑی اپنائیت سے باتیں کیں۔ اس سے اس کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا۔
ناصر نے نہایت صاف گوئی سے ان کے ہر سوال کا جواب دیا۔ کہیں بھی زمین آسمان کے قلابے نہیں ملائے۔ جس سے نذیر الدین بہت متاثر ہوئے تھے۔
’’تم نے کبھی کاروبار کے بارے میں سوچا؟‘‘ نذیرالدین نے پوچھا۔
’’نہیں انکل! میں جھوٹے خواب دیکھنے کا قائل نہیں ہوں۔ وہ سوچتا ہوں جو کرسکتا ہوں، خود کو دھوکا نہیں دینا چاہیے۔ کاروبار دولت سے ہوتا ہے اور ہم دولت مند نہیں ہیں۔‘‘
’’کبھی کبھی کاروبار صرف دولت سے نہیں ہمت سے بھی ہوتا ہے۔‘‘ نذیرالدین نے کہا۔ اس کی مثال وہ خود تھے۔ ناصر محمود نے ان لوگوں پر بہت اچھا تاثر چھوڑا تھا جس کا اظہار اسی رات نذیرالدین نے اپنی بیوی سے کیا۔ ’’لڑکا بہت غیور اور خوددار ہے۔ لالچی ہے اور نہ ان لوگوں میں سے ہے جو کسی مالدار لڑکی سے شادی کرکے اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے اندر خود اعتمادی ہے۔‘‘
’’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ شاہدہ کی بیماری کو بیماری نہیں سمجھتا۔ بڑی بے نیازی سے کہتا ہے کہ وہ جلد ٹھیک ہوجائے گی۔ یوں ہمیں اس کی بیماری کی وجہ نہیں معلوم۔ ہوسکتا ہے شادی کے بعد یہ خودبخود دور ہوجائے۔‘‘
٭…٭…٭
’’آپ کا گھرانہ آئیڈیل ہے شاہدہ۔ آپ کے ممی، ڈیڈی بہت نفیس ہیں۔ مجھے بے حد پسند آئے۔‘‘ ناصر نے کہا اور شاہدہ نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ بات کچھ اور آگے بڑھی اور دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوگئی کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد ناصر اپنے والدین کو شاہدہ کے گھر بھیج کر رشتے کی بات کرے گا۔
’’آپ کے والدین ناصر۔‘‘ شاہدہ نے افسردگی سے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’میری بیماری کے بارے میں جاننے کے باوجود کیا وہ مجھے قبول کرلیں گے؟‘‘
’’ہمارے معاشرے میں بہت سی خرابیاں ہیں شاہدہ۔ مثلاً یہ کہ والدین اپنے حقوق سے زیادہ حق جمانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن میں بہت مضبوط ہوں۔ میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا قائل ہوں اور تم میری زندگی بھی ہو اور مرضی بھی۔‘‘
ٹھیک کہا تھا ناصر نے۔ اس کے والدین ہنسی خوشی اس کا رشتہ لے کر گئے تھے اور نذیرالدین کے گھر انہوں نے جو کچھ دیکھا، اسے دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ نہ صرف ان کے بیٹے کی بلکہ خود ان کی تقدیر بدل رہی تھی۔ بیٹے کی فراست پر وہ نہال ہوگئے تھے۔
نذیرالدین نے ناصر محمود اور اس کے خاندان پر عنایتوں کے دروازے کھول دیئے۔ اکیلی بیٹی تھی اور اس کی بیماری جوں کی توں تھی۔ کبھی کبھی اس کے اعصاب بالکل جواب دے جاتے تھے۔ وہ بیچ سڑک پر گر پڑتی تھی لیکن اسے سنبھالنے کے لیے کوئی نہ کوئی ساتھ ہوتا تھا۔ ناصر دعوے سے کہتا تھا کہ شادی کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ ناصر کا یہ اعتماد شاہدہ کو بہت سہارا دیتا تھا۔
شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ نذیرالدین نے شاہدہ کے جہیز کے لیے ایک کنال کا انتہائی خوبصورت گھر خریدا اور اسے مکمل ڈیکوریٹ کرایا۔ ایک قیمتی گاڑی ناصر کی سلامی کے لیے خریدی گئی۔ اس طرح ایک رئیس کی بیٹی کی شادی جتنی دھوم دھام سے ہوسکتی تھی، ہوئی۔
شاہدہ رخصت ہوکر سسرال والوں کے ساتھ جس نئے مکان میں گئی تھی، ناصر کے گھر والے اسے دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوگئے تھے۔ ان کی تو تقدیر کھل گئی تھی۔
وقت تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ نذیرالدین نے فیصلہ کیا تھا کہ کچھ عرصے کے بعد ناصر کو اپنے کاروبار میں شریک کرلے گا لیکن ابھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد ناصر محمود کھلنے لگا۔ اس نے شاہدہ سے کہا کہ یہ گھر وہ اس کے نام کردے۔ کچھ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں کہ وہ بیوی کو جہیز میں ملے گھر میں رہتا ہے۔
شاہدہ، ناصر پر قربان تھی۔ اس نے شاہدہ کو اس طرح اپنی محبت کے جال میں جکڑا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو کچھ نہیں بتاتی تھی۔ ناصر جو کچھ کہتا تھا، وہ آنکھیں بند کرکے مان لیتی تھی۔ کئی بار اسے اندازہ ہوا کہ ناصر بڑی کنجوس فطرت کا ہے، اس کے ساتھ تو نہیں لیکن دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ بڑا عجیب ہوتا تھا۔ وہ پیسے پیسے پر جان دیتا تھا۔ شاہدہ نے خوشی سے گھر اس کے نام کردیا۔ ناصر اس سے اکثر کاغذات پر دستخط کراتا رہتا تھا اور شاہدہ یہ بھی نہ دیکھتی کہ ان پر کیا لکھا ہے۔ ایک بار اس نے شاہدہ کو بینک لے جاکر اس کے اکائونٹ کو بھی جوائنٹ اکائونٹ کرالیا۔
شاہدہ نے اس کے کسی عمل کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنی قسمت پر نازاں تھی کہ اسے ناصر جیسا شوہر ملا ہے۔ اپنا سب کچھ ناصر پر قربان کرچکی تھی۔ بس کبھی کبھی وہ اس کی کنجوسی سے پریشان ہوجاتی تھی۔ ناصر ایک طرح سے اس کے تمام اثاثوں پر قبضہ کرچکا تھا۔
بالکل اتفاق سے ایک بار نذیرالدین کو یہ پتا چل گیا کہ وہ گھر جو انہوں نے شاہدہ کو جہیز میں دیا تھا، ناصر محمود کے نام منتقل ہوچکا ہے۔ نذیرالدین ہکاّبکّا رہ گئے تھے۔ ’’اس کی ضرورت کیوں پیش آئی آخر؟‘‘ انہوں نے شاہدہ سے پوچھا تو وہ ہنس دی۔
’’بس ناصر کی خواہش تھی، میں نے پوری کردی۔‘‘
’’مجھ سے مشورہ بھی نہیں کیا۔‘‘
’’نہیں ابو! ناصر بہت مخلص شخص ہیں۔ ہم دونوں میں بڑی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ جو وہ کہتے ہیں ، میں کرتی ہوں اور جو میں کہتی ہوں، وہ کرتے ہیں۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے کہ میں…‘‘ نذیرالدین نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’جی جناب! ہم دونوں خوش ہیں، آپ بھی خوش رہیں۔‘‘
٭…٭…٭
’’کیا بات ہے۔ آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں؟‘‘ سلطانہ نے خلاف معمول رات کو نذیرالدین کو جاگتے اور کروٹیں بدلتے دیکھا تو بولی۔ ’’ہاں! کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔‘‘
’’کیا عجیب؟‘‘
’’ناصر محمود کو ذرا گہرائیوں میں دیکھنا ہوگا۔‘‘
ناصر محمود کا کام جاری تھا۔ شاہدہ پوری طرح خوش تھی۔ کوئی ایک سال گزر گیا۔ ایک دن شاہدہ کی طبیعت کچھ خراب ہوئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر حنا نے انکشاف کیا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔
شاہدہ خوشی سے دیوانی ہوگئی۔ وہ بے اختیار رو پڑی۔ پھر رات کو اس نے خوشی اور شرم سے گلنار ہوکر ناصر کو یہ خوشخبری سنائی تو ناصر گم سا ہوگیا۔ اس نے کسی طرح کا اظہار نہیں کیا۔ شاہدہ نے حیران ہوکر کہا۔ ’’آپ کو خوشی نہیں ہوئی ناصر۔‘‘
’’ہاں، ہوئی ہے۔‘‘ ناصر نے آہستہ سے کہا۔
’’ارے کیا بات ہے۔‘‘ شاہدہ بولی۔
’’تم خوش ہو شاہدہ؟‘‘
’’ہاں، بہت۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’نہیں پلیز، مجھے بتائو کیا بات ہے۔‘‘
’’میں ابھی بچہ نہیں چاہتا تھا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس کی دو وجوہات ہیں۔‘‘
’’مجھے بتایئے ناصر، میں پریشان ہوگئی ہوں۔‘‘
’’پہلی یہ کہ میں ابھی اپنے اور تمہارے درمیان کسی تیسرے وجود کی مداخلت نہیں چاہتا۔ دوسرے میں خوفزدہ ہوں۔ شاہدہ! میں چاہتا تھا کہ تم پوری طرح ٹھیک ہوجائو تب ہمارے ہاں بچہ پیدا ہو، کہیں تمہاری بیماری بچے میں منتقل نہ ہوجائے۔ ابھی تم ہو، بعد میں مجھے ایک معذور بچے کا عذاب بھی بھگتنا پڑے گا۔‘‘
پہلی بار، بالکل پہلی بار شاہدہ کے دل پر بجلی گری۔ ’’عذاب، عذاب، عذاب۔‘‘ تو ناصر مجھے عذاب سمجھ کر بھگت رہا ہے۔
دل میں بال پڑ گیا۔ محبت ایسی ہی نامراد شے ہے۔ ناصر کا سارا وجود اجنبی ہوگیا۔ غور کرنے پر اس کے ہر عمل میں کھوٹ نظر آنے لگا۔
’’میں چاہتا ہوں تم لیڈی ڈاکٹر سے مشورہ کرو۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’یہی کہ تم ابھی ماں نہیں بننا چاہتیں۔‘‘
یکایک شاہدہ کے اندر ماں جاگ اٹھی۔ ’’تمہیں شرم نہیں آتی یہ الفاظ کہتے ہوئے، لوگ اولاد کی آرزو کرتے ہیں اور تم، اتنا بڑا گناہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’مجھے ایک معذور بچہ نہیں چاہیے اور تم نے میرے لئے کیا الفاظ استعمال کئے ہیں، اندازہ ہے؟‘‘
اس دن کے بعد سے ناصر کا رویہ بدل گیا۔ وہ شاہدہ سے کھنچا کھنچا رہنے لگا، بات بات پر بدتمیزی کرتا۔ ایک بار شاہدہ اس کے سامنے گر پڑی۔ وہ اسے اسی طرح چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا۔ شاہدہ اس دن خوب روئی تھی، پھر تقریباً روزانہ ان کے درمیان جھگڑا ہونے لگا۔ ایک دن شاہدہ نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے میرے ماں باپ کے پاس اتنا کچھ ہے کہ میں آسانی سے زندگی گزار سکتی ہوں۔‘‘
’’چلی جائو۔ انہوں نے ہمیں دیا کیا ہے، ایک اپاہج بیوی کے سوا۔‘‘
اب شاہدہ کی برداشت جواب دے گئی۔ اس نے کار کی چابی اٹھائی اور اپنے گھر چلی گئی۔
لیکن ناصر اس کے جانے سے افسردہ نہیں ہوا۔ شاہدہ کے جانے کے بعد اس کے ہونٹوں پر ایک آسودہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ کچھ دیر وہ آرام سے لیٹا رہا، پھر موبائل اٹھا کر کسی کے نمبر ڈائل کئے اور باتیں کرتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ اٹھا اور لباس تبدیل کرکے تیار ہوا، پھر سلامی میں ملی گاڑی میں بیٹھ کر سسرال چل پڑا۔
سلطانہ اسے کوٹھی کے لان میں نظر آئی۔ کسی ملازم سے بات کررہی تھی۔ اسے دیکھ کر سلطانہ کی بھنویں چڑھ گئیں۔
وہ اداکاری کرتے ہوئے بولا۔ ’’آنٹی! شاہدہ ٹھیک ہے، میں نے اس کی گاڑی دیکھ لی ہے ، خدا کا شکر ہے وہ یہیں آئی ہے۔ ان دنوں بہت چڑچڑی ہوگئی ہے، بلاوجہ مجھ سے لڑ کر چلی آئی ہے۔‘‘
’’اندر آئو۔‘‘ سلطانہ سرد لہجے میں بولی۔ ’’جو کچھ تم نے اس سے کہا ہے، کیا وہ ٹھیک ہے؟‘‘
’’ہم میاں بیوی ہیں آنٹی۔ اصولی طور پر ہمارے معاملات میں دوسروں کو نہیں بولنا چاہئے اور نہ شاہدہ کو بتانا چاہیے۔ وہ مجھے جو دل چاہتا ہے کہہ لیتی ہے لیکن خیر۔ کہاں ہے وہ؟‘‘
شاہدہ سامنے آئی تو ناصر نے اس کے سامنے خوب اداکاری کی۔ معافیاں مانگ کر اسے منا لیا۔ پھر رات کا کھانا کھا کر دونوں گھر آئے۔
لیکن بعد میں بھی ناصر اپنے مؤقف پر قائم رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ بچہ ابنارمل ہوسکتا ہے، وہ یہ رسک نہیں لے سکتا۔
کوئی دو ماہ کے بعد پھر اسی موضوع پر ان کے درمیان سخت لڑائی ہوئی۔ ناصر کا کہنا تھا کہ وقت زیادہ ہوتا جارہا ہے، بچے کے سلسلے میں شاہدہ کو جو کرنا ہے، جلدی کرلے۔
’’تم بہت گھٹیا انسان ہو۔ کاش میں تم سے شادی نہ کرتی۔ میں جارہی ہوں، دوبارہ نہیں آئوں گی۔‘‘
’’خدا کرے تم اپنی زبان پر قائم رہو تاکہ میرے سر سے بوجھ اترے۔‘‘
شاہدہ زاروقطار روتی اپنے گھر پہنچی تھی۔ سلطانہ اسے دیکھ کر گھبرا گئی۔
’’بڑی غلطی ہوگئی امی۔ مجھے اس سے یہ امید نہیں تھی لیکن اب میں وہاں نہیں جائوں گی۔‘‘
’’کیسی باتیں کررہی ہو شاہدہ۔ میاں، بیوی میں جھگڑے ہوہی جاتے ہیں۔‘‘ سلطانہ نے اسے سمجھایا۔
’’وہ جو کچھ کہتے ہیں، وہ ناقابل برداشت ہے۔‘‘ شاہدہ نے ماں کو پوری تفصیل بتائی تو سلطانہ رونے لگی۔
’’یہ کیسے ممکن ہے۔ پہلا بچہ ہے۔ یہ تو خوشی کی بات ہے۔ میں نذیرالدین سے بات کرتی ہوں۔‘‘
سلطانہ نے نذیرالدین سے کہا کہ شاہدہ کا الٹرا سائونڈ کرا لیا جائے۔
’’اور اگر بچہ معذور ہوا تو اس کی جان لے لی جائے۔‘‘ نذیرالدین نے شدید غصے کے عالم میں کہا۔ پھر بولا۔ ’’اس نے خود بھی تو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کروڑوں روپے کا گھر اس کے نام کردیا۔ نوّے لاکھ کا بینک بیلنس اسے سونپ دیا۔ یہ سب کچھ اس نے ہم سے پوچھ کر نہیں کیا۔‘‘
’’غصہ مت کرو۔ اب یہ بتائو کیا کریں؟‘‘ سلطانہ بیگم نے کہا۔
’’مجھے تو یہ آدمی بڑا چالاک اور مکار معلوم ہوتا ہے۔ شاہدہ سے بات کرو کہ وہ اس گفٹ ڈیڈ کو منسوخ کرا دے۔ بینک میں درخواست دے کر جوائنٹ اکائونٹ بند کرا دے۔‘‘
’’یہ تو رشتہ ختم کرنے والی بات ہوگی۔ شاہدہ ایسا نہیں کرے گی اور اگر اس نے ایسا کیا تو دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجائے گی۔‘‘
دوسری صبح تینوں ناشتہ کررہے تھے کہ ناصر آگیا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، شیو بڑھا ہوا تھا، کپڑے بھی بری طرح ملگجے ہورہے تھے۔ وہ کسی مجرم کی طرح ان کے سامنے گردن جھکا کر کھڑا ہوگیا۔
’’آئو ناشتہ کرلو ناصر۔ آئو بیٹھ جائو۔‘‘ سلطانہ نے کہا۔
’’آنٹی! میں سخت شرمندہ ہوں۔ کل میں نے واقعی شاہدہ کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ بس پتا نہیں مجھے یکدم کیا ہوجاتا ہے۔‘‘
’’تمہیں معلوم ہے ان دنوں اس کی کیا کیفیت ہے۔ اسے خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ تم پڑھے لکھے آدمی ہو، سمجھدار ہو۔‘‘
’’میں سخت شرمندہ ہوں آنٹی! مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے لیکن شاہدہ بھی باربار گھر چھوڑ کر چلی آتی ہیں، کیا یہ ٹھیک ہے؟ میں ساری رات پریشان رہا ہوں۔‘‘
اس کے ان الفاظ پر شاہدہ نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا۔ ناصر کی حالت واقعی خراب نظر آرہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ بے چین ہوگئی۔ ناصر نے مزید کہا۔ ’’مجھے معاف کردو شاہدہ۔‘‘
’’آپ ناشتہ کریں۔‘‘ شاہدہ نے کہا۔
ناشتے کے بعد شاہدہ، ناصر کے ساتھ واپس جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ سلطانہ بیگم سے ناصر نے وعدہ کیا تھا کہ اب ان کے درمیان کبھی جھگڑا نہیں ہوگا۔
ناصر نے اس وعدے کا خیال رکھا۔ واقعی کافی دن تک ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ سلطانہ سے فون پر بات ہوتی رہتی تھی۔ شاہدہ نے کہا۔ ’’خدا کا شکر ہے بات ناصر کی سمجھ میں آگئی ہے۔ اس نے مجھے الٹرا سائونڈ کے لیے بھی منع کردیا ہے۔ کہتا ہے ٹھیک ہے تقدیر پر بھروسا کرنا چاہیے۔ جو قسمت میں لکھا ہے، سامنے آجائے گا۔‘‘
٭…٭…٭
اس دن نذیرالدین اخبار پڑھ رہا تھا۔ سلطانہ کچھ فاصلے پر صوفے پر بیٹھی موبائل فون کا جائزہ لے رہی تھی کہ ناصر کی کال موصول ہوئی۔ نمبر دیکھ کر اس نے جلدی سے فون اٹینڈ کیا۔
’’آنٹی! میں ناصر بول رہا ہوں، شاہدہ وہاں پہنچ گئی؟‘‘ ناصر نے کہا۔
’’شاہدہ؟ نہیں یہاں تو نہیں آئی۔ خیریت، پھر کچھ ہوگیا ہے کیا؟‘‘
’’آنٹی! وہ مجھ سے بہت لڑی ہے، بے حد بدتمیزی کی ہے اس نے میرے ساتھ۔ میں قسم کھاتا ہوں میری کوئی غلطی نہیں تھی۔ وہ بلاوجہ غصے میں آگئی۔ اس نے کچھ عجیب حرکتیں کی ہیں۔‘‘
’’عجیب حرکتیں؟‘‘ سلطانہ نے چونک کر کہا۔
’’جی! وہ لاکھوں روپے کے زیورات اور کچھ کپڑے بھی سوٹ کیس میں رکھ کر لے گئی ہے۔ اپنی کار نہیں لے گئی بلکہ ٹیکسی میں گئی ہے۔‘‘
’’کیا؟ ٹیکسی میں کیوں گئی ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتا۔ اس نے میری کوئی بات نہیں سنی۔‘‘
’’تم نے اسے زیورات ساتھ لے جانے دیئے؟ تمہیں اندازہ ہے کہ ان دنوں اس کی کیا حالت ہے؟‘‘
’’میری کون سنتا ہے۔ دو کوڑی کی عزت ہے میری۔ لیکن آنٹی میں تھک چکا ہوں، کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ ناصر کی آواز آئی اور فون بند ہوگیا۔
’’ہیلو… ہیلو۔‘‘ سلطانہ نے کئی بار کہا۔ پھر اپنا فون بھی بند کردیا۔ نذیرالدین اس کی باتیں سن رہا تھا اور سمجھ بھی رہا تھا۔ سلطانہ نے ساری بات اسے بتا دی۔
’’واقعی کچھ کرنا ہوگا۔ بات حد سے بڑھ گئی ہے۔ میں اس جھگڑے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردوں گا۔‘‘
’’خدا کے واسطے جو کچھ کریں، سوچ سمجھ کر کریں، وہ ماں بننے والی ہے۔‘‘
دس بج گئے۔ دونوں شاہدہ کا انتظار کررہے تھے۔ سلطانہ نے شوہر سے کہا۔ ’’وہ زیور اور کپڑے لے گئی ہے، ٹیکسی سے گئی، کہیں دیوانی لڑکی شہر سے باہر تو نہیں نکل گئی؟‘‘
’’ایں۔ شہر سے باہر وہ کہاں جاسکتی ہے؟‘‘
’’اپنی کسی دوست کے ہاں نہ چلی گئی ہو۔‘‘
سلطانہ نے گھبرا کر ناصر کو فون کیا تو وہ بھی گھبرا گیا۔ ’’وہ میرے روکنے کے باوجود میرے سامنے ٹیکسی میں بیٹھی تھی۔ جب وہ گھر سے نکلی تو میں اس کے پیچھے تھا۔ اتفاق سے ایک ٹیکسی آگئی اور وہ اس میں بیٹھ کر چلی گئی۔ میرا خیال تھا کہ وہ آپ کے پاس پہنچ گئی ہوگی۔‘‘
دوپہر کو دو بجے تک سلطانہ نے شاہدہ کی سہیلیوں کو فون کرکے اس کے بارے میں معلوم کیا۔ نذیرالدین نے شہر بھر کے اسپتالوں اور ریسکیو سے معلومات حاصل کیں لیکن کہیں سے کوئی پتا نشان نہیں ملا۔ آخر شام چار بجے انہوں نے پولیس میں شاہدہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی۔ ناصر ان کے پیچھے پیچھے اپنی گاڑی دوڑاتا رہا تھا لیکن نذیرالدین نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔ سلطانہ کی حالت الگ خراب تھی۔
رات ہوگئی۔ ناصر کو یہاں کوئی توجہ نہیں ملی تھی۔ چنانچہ وہ اپنے گھر چلا گیا لیکن رات کو دو بجے اس نے سلطانہ کے سیل پر کال کی۔ ’’آنٹی! ابھی ابھی میرے پاس شاہدہ کا فون آیا ہے۔‘‘
’’کہاں، کہاں ہے وہ، ٹھیک تو ہے، کوئی حادثہ تو نہیں ہوا اس کے ساتھ؟‘‘ سلطانہ نے بے چینی سے پوچھا۔
’’اس نے بتایا ہے کہ وہ ٹھیک ہے لیکن اب وہ کبھی ہمارے پاس نہیں آئے گی۔ اسے تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ میں نے اس کی بہت خوشامد کی لیکن اس نے فون بند کردیا۔‘‘
’’جھوٹا ہے یہ شخص۔ بکواس کررہا ہے۔ میرا دل نہیں مانتا۔ اس کمینے کو فون کرنے کے بجائے وہ ہمیں فون کرتی۔ ہم سے تو وہ ناراض نہیں تھی۔ وہ جانتی ہے کہ ہمارا کیا حال ہوگا۔ سلطانہ! میرا دل کچھ اور کہہ رہا ہے۔‘‘ نذیرالدین نے کہا۔
’’کیا؟‘‘ سلطانہ لرزتی آواز میں بولی۔
’’اس مردود نے کوئی گڑبڑ کی ہے۔ میں اس کے خلاف پرچہ کراتا ہوں۔‘‘ اور دوسرے دن نذیرالدین نے باقاعدہ رپورٹ درج کرا دی کہ شاہدہ کو اس کے شوہر ناصر محمود نے غائب کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس نے اسے قتل کردیا ہو۔
پولیس نے فوراً ناصر محمود کو گرفتار کرلیا۔ کئی دن تک وہ ناصر محمود سے تفتیش کرتی رہی۔ نذیرالدین نے ساری تفصیل پولیس کو بتائی تھی۔ مکان کے بارے میں، جوائنٹ اکائونٹ کے بارے میں، لیکن ناصر محمود ہر معاملے سے صاف نکل گیا۔ اس نے شاہدہ کے اکائونٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں نکالا تھا۔ گھر کے بارے میں بھی اس نے بتایا تھا کہ اس کی بیوی اس سے بہت محبت کرتی تھی اور اس نے جذباتی ہوکر زبردستی اس گھر کو اس کے نام کیا تھا۔
نذیر احمد نے ہر ممکن کوشش کر ڈالی۔ پولیس نے ناصر محمود کے گھر کی تلاشی بھی لی لیکن کچھ پتا نہیں چل سکا۔ کچھ شبہات ضرور تھے کہ آخر تیسری بار شاہدہ، ناصر سے لڑ کر میکے کیوں نہیں آئی اور کہیں اور کیوں چلی گئی۔ پولیس نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا تھا کہ ممکن ہے ٹیکسی ڈرائیور کو کسی طرح شاہدہ کے پاس زیورات کا علم ہوگیا ہو اور اس نے زیورات چھین کر شاہدہ کو ٹھکانے لگا دیا ہو۔ وہ تنہا تھی اور اس کے پاس سامان کا بیگ تھا۔
اور ایسی کوئی چیز نہیں مل سکی تھی جس سے ناصر محمود کے خلاف کوئی کارروائی کی جاسکتی۔ دوسری طرف ناصر محمود کے والدین نے ایک قابل وکیل کی مدد حاصل کرلی جس نے عدالت میں پولیس کے خلاف اس کے موکل کو حبس بیجا میں رکھنے اور اسے ہراساں کرنے کی درخواست دائر کردی اور پولیس کو اس کیس کو چلانے کا کوئی ثبوت نہ مل سکا جس کے نتیجے میں ناصر کی فوری ضمانت ہوگئی۔
نذیرالدین کے پاس اب کوئی چارئہ کار نہیں رہا۔ ہر کوشش کرکے دیکھ لی۔ اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائے لیکن کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ اب تو کئی ماہ گزر چکے تھے۔
’’وہ زور میرے خواب میں آتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی کیفیت ہوتی ہے انسپکٹر صاحب۔ کوئی قصور نہیں تھا میری بیٹی کا، ٹھیک تھی، بیمار ہوگئی، اس میں اس کا کیا قصور تھا۔‘‘
سلطانہ سسکنے لگی۔ صفورا کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔
٭…٭…٭
’’میں دعوے سے کہتی ہوں کہ اس شاطر شخص نے بیچاری شاہدہ کو قتل کرکے اس کی لاش غائب کردی ہے اور اس کا یہ منصوبہ نیا نہیں تھا۔ اس نے سب کچھ جان کر ہی یونیورسٹی میں شاہدہ پر ڈورے ڈالے تھے اور بالآخر کامیاب ہوگیا تھا۔ بس اس کے بعد اس نے نذیرالدین کی دولت پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔ کروڑوں کی مالیت کا مکان، لاکھوں کے زیورات، کیا نہیں حاصل ہوا اسے۔‘‘ صفورا جوش میں بول رہی تھی اور شاہ میر مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’پھر اب کیا ارادہ ہے حضور کا؟‘‘ شاہ میر نے بدستور مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’ناصر محمود کو نگاہ میں رکھ کر تفتیش کریں گے۔ میرے ذہن میں بہت سی باتیں ہیں۔‘‘
’’ارشاد۔‘‘ شاہ میر بولا۔
’’جیسا کہ میں نے کہا۔ ناصر محمود نے بڑی لمبی پلاننگ کی۔ شاہدہ کے بارے میں یہ معلوم کرکے کہ وہ ایک دولت مند شخص کی اکلوتی بیٹی ہے، اس نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔ اسے شاہدہ کی بیماری نے بڑی مدد دی۔ دوسرے لوگ جو شاہدہ کو ایک عجیب مریضہ سمجھ کر اس سے دور بھاگتے تھے، ان کی نسبت ناصر نے اس سے گریز نہ کیا۔ یہ رویہ شاہدہ کو متاثر کرنے کے لیے کافی تھا اور ناصر، شاہدہ کی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے یہ کام بے حد چالاکی سے کیا۔ لیکن سر! ہماری کامیابی قدرت کے اصول میں پوشیدہ ہے اور قدرت کا اصول یہ ہے کہ ہر چالاک سے چالاک مجرم سے کوئی ایسی غلطی ضرور ہو جو اس کے جرم کا پردہ چاک کردے۔ اس نے اپنے طویل منصوبے کے تحت شاہدہ سے اتنی محبت کا اظہار کیا کہ معصوم لڑکی اس پر بھروسا کرنے لگی اور اس نے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردیا۔ تب ناصر محمود نے چولا بدلا اور ایسے حالات پیدا کئے کہ شاہدہ کو دو بار اپنا گھر چھوڑ کر میکے آنا پڑا۔ اس
نے بتایا کہ وہ لڑ کر ٹیکسی میں گئی ہے۔ اس نے خیال ظاہر کیا کہ ممکن ہے ٹیکسی ڈرائیور نے اسے اغوا کیا ہو۔ اس نے زیورات لے جانے کا حوالہ بھی دیا تاکہ اس اغوا کا جواز بن سکے۔ اسی طرح اگر وہ کہتا کہ وہ اپنی کار میں گئی ہے تو پھر وہ اس کی کار کو کہاں چھپاتا، اور اب وہ ایک کامیاب قاتل ہے۔‘‘
شاہ میر پیار بھری نظروں سے صفورا کو دیکھ رہا تھا۔ صفورا کا چہرہ جوش سے تمتما رہا تھا اور وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ صفورا کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ جھینپ گئی۔ شاہ میر نے کہا۔ ’’آپ ان لوگوں سے بہت متاثر ہوئی ہیں مس صفورا۔‘‘
’’ہوں تو انسان ہی نا۔ سلطانہ بیگم کی آواز میں جو مامتا سسک رہی تھی، اس نے مجھے رُلا دیا۔ شاہ میر! ہم اس کیس پر کام کریں گے نا؟‘‘
’’ہاں۔ اب ضرور کریں گے۔‘‘ شاہ میر نے محبت سے کہا۔
’’تو پھر گھمایئے جادو کی چھڑی اور پکڑ لیجئے مجرم کو۔‘‘ صفورا نے شاہ میر کے انداز کو نظرانداز کرکے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ شاہ میر نے بدستور مسکرا کر کہا۔
’’ہوتا یہی ہے کہ ہم لوگ یعنی میں اور زمان شاہ بڑی محنت سے کھیر پکاتے ہیں اور کہیں نہ کہیں پھنس جاتے ہیں۔ آپ ایک دائو مارتے ہیں اور مجرم سامنے آجاتا ہے۔‘‘ صفورا نے کہا۔
’’ایسی بات نہیں ہے۔ تم لوگ مجھے کھیر پکا کر دیتے ہو، میں اس میں چمچہ چلا دیتا ہوں اور کھیر تیار ہوجاتی ہے۔‘‘
’’خدا کرے شاہدہ زندہ مل جائے۔ کتنی خوشی ہوگی مجھے۔‘‘
’’مشکل ہے صفورا، جو ہونا تھا ہوچکا۔ تم یہ دیکھو کتنے مہینے گزر چکے ہیں۔ اچھا تم ایک کام کرو۔‘‘
’’جی۔‘‘ صفورا مستعدی سے بولی اور شاہ میر اسے کچھ سمجھانے لگا۔
٭…٭…٭
بینک کے عملے نے سنسنی خیز نظروں سے پولیس کو دیکھا تھا۔ باہر پولیس موبائل آکر رکی تھی اور اس سے باوردی پولیس والے اتر کر اندر آئے تھے جن میں ایک خوبصورت سی خاتون اور دوسرا خطرناک شکل کا مرد تھا۔ بینک منیجر بھی کسی قدر پریشان ہوگیا تھا۔ اس نے بڑی خوش اخلاقی سے انہیں بیٹھنے کی پیشکش کی۔
’’شکریہ منیجر صاحب۔ مسز شاہدہ ناصر محمود نے آپ کے بینک میں ایک لاکر لے رکھا تھا۔ ہمیں اس سلسلے میں معلومات درکار ہیں۔‘‘ زمان شاہ نے کہا۔ اور منیجر نے متعلقہ کلرک کو لاکر رجسٹر کے ساتھ بلوا لیا۔ کلرک نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس لاکر کو مسٹر ناصر محمود اور مسز ناصر محمود دونوں افراد کھول سکتے تھے۔
’’آخری بار یہ کب کھولا گیا؟‘‘ صفورا نے پوچھا۔
کلرک نے جو تاریخ بتائی، وہ شاہدہ کی گمشدگی سے صرف ایک دن پہلے کی تھی۔
’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس دن لاکر کھولنے کون آیا تھا؟‘‘
’’جی ضرور۔ ہمارے رجسٹر میں لاکر کھولنے والے کے دستخط ہوتے ہیں۔‘‘ کلرک نے رجسٹر دیکھ کر بتایا کہ اس دن لاکر ناصر محمود صاحب نے کھولا تھا اور وہ تنہا آئے تھے۔
’’اس سے پہلے لاکر کب کھولا گیا تھا؟‘‘
’’چھ ماہ پہلے۔‘‘ کلرک نے بتایا۔ صفورا اور زمان شاہ منیجر کا شکریہ ادا کرکے باہر نکل آئے۔
’’ہوگئی غلطی کمبخت سے۔‘‘ صفورا نے موبائل میں بیٹھتے ہوئے کہا اور زمان شاہ اس کی صورت دیکھنے لگا۔ تب صفورا نے زمان شاہ سے کہا۔ ’’ناصر نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ شاہدہ نے وقوع سے دو دن پہلے زیورات لاکر سے نکالے تھے جبکہ بینک ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ زیورات ایک دن پہلے اور خود ناصر نے نکالے تھے۔‘‘
٭…٭…٭
’’مجھے توقع تھی کہ کوئی کام کی بات معلوم ہوگی۔‘‘ شاہ میر نے کہا۔ پھر اس نے صفورا سے کہا کہ فون پر نذیرالدین سے بات کرے۔ وہ ان کے گھر آنا چاہتے ہیں۔ نذیرالدین نے خوش دلی سے ان لوگوں کو گھر آنے کی دعوت دی تھی۔
نذیرالدین نے اپنی عالیشان رہائش گاہ پر ان کا استقبال کیا تھا۔ اس وقت بہت سے لوگ وہاں تھے۔ ایک عمر رسیدہ خاتون جن کے چہرے کے نقوش سلطانہ بیگم سے بہت زیادہ ملتے تھے۔ دو نوجوان لڑکیاں اور دو مرد موجود تھے۔
’’یہ میری بہن عالیہ ہیں۔ یہ لوگ لندن سے ائے ہیں، یہ بہنوئی۔ یہ بھانجا اور اس کی دلہن اور یہ بھانجی ہے۔‘‘
’’مگر وہ پولیس والے کہاں ہیں جن کے بارے میں تم نے بتایا تھا کہ آرہے ہیں؟‘‘ عالیہ نے کہا۔
’’یہی دونوں ہیں۔‘‘ سلطانہ نے کہا۔
’’آنٹی! پاکستان میں پولیس اتنی خوبصورت ہوتی ہے؟‘‘ عالیہ بیگم کی بہو نے کہا اور لوگوں نے اس معصوم سوال پر بڑی مشکل سے مسکراہٹ روکی۔
’’ہمیں تو سلطانہ نے اس اندوہناک واقعے کے بارے میں بتایا تک نہیں۔ یہ ہم سے ناراض تھی، ہم تو بس ملنے آگئے تھے۔‘‘ عالیہ بیگم نے کہا۔
سب لوگ ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئے۔ ڈرائنگ روم اعلیٰ درجے کے فرنیچر سے آراستہ تھا۔ سب لوگ بیٹھ گئے۔ شاہ میر لندن سے آنے والے مہمانوں کے بارے میں سوالات کرنے لگا۔ اسی اثنا صفورا ڈرائنگ روم میں لگی کچھ تصویریں دیکھنے لگی۔ اس کی نظریں ایک خوبصورت گروپ پر جا ٹکیں جو کافی بڑی تھی اور واضح نظر آرہی تھی۔ تصویر میں نذیرالدین، اس کی بیوی سلطانہ کچھ دوسرے لوگوں کے علاوہ درمیان میں یہ لڑکی جو عالیہ بیگم کی بیٹی تھی اور جس کا نام زنیرا تھا، دلہن کے لباس میں ناصر محمود کے ساتھ کھڑی تھی۔ ناصر محمود ایک خوبصورت سوٹ میں ملبوس تھا۔
’’آنٹی یہ…‘‘ صفورا نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
’’شاہدہ کے ولیمے والے دن کی تصویر ہے، ساتھ میں ناصر کے اہل خانہ ہیں۔‘‘
’’اور یہ شاہدہ ہے جو دلہن بنی ہوئی ہے۔‘‘ صفورا نے حیرت سے کہا اور اٹھ کر تصویر کے پاس پہنچ گئی۔ پھر اس نے دوبارہ زنیرا کی طرف دیکھا تو نذیرالدین بول پڑے۔
’’اوہ! آپ کو حیرت ہورہی ہوگی انسپکٹر صاحبہ! جس طرح عالیہ باجی اور سلطانہ کی شکلیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتی ہیں، اسی طرح زنیرا اور شاہدہ بھی ایک دوسرے کی کاپی ہیں، کزن بھی ہیں۔ آپ نے ناصر کو بھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘
اچانک شاہ میر بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر تصویر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اس نے کئی بار تصویر کی دلہن اور پھر زنیرا کو دیکھا اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک پیدا ہوگئی، پھر وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
شاہ میر نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔ ’’ہم نے شاہدہ کے کیس پر باقاعدہ کام شروع کردیا ہے نذیرالدین صاحب۔ نتائج حاصل ہوتے جارہے ہیں۔ واقعات بڑے سادہ سے ہیں اور ان میں کوئی گہری پیچیدگی نہیں ہے۔ شاہدہ ایک معصوم سی بچی تھی اور اس کے کردار میں کوئی کھوٹ نہیں تھی اس لئے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ایک برے انسان کی ہوس کی بھینٹ چڑھ گئی اور اس ملعون نے جلد بازی کی۔ اگر وہ عقل سے کام لیتا تو یہ ضرور سوچتا کہ آخرکار نذیرالدین کی ساری دولت شاہدہ ہی کے پاس آئے گی، ان کا اور ہے کون۔ لیکن اس نے پتا نہیں اتنا گھنائونا قدم کیوں اٹھایا۔‘‘
’’اگر اس نے میری بچی کی جان لے لی ہے تو خدا کی قسم میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ قانون اسے سزا نہ دے سکا تو میں اسے کرائے کے قاتلوں سے قتل کرا دوں گا۔‘‘ نذیرالدین نے روتے ہوئے کہا۔ ’’میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
ماحول کافی غمزدہ ہوگیا۔ عالیہ اور زنیرا بھی رونے لگے۔
’’اتفاق سے مس زنیرا کو دیکھ کر ایک خیال میرے ذہن میں آیا ہے۔ انہیں ہماری تھوڑی سی مدد کرنی ہوگی۔‘‘ شاہ میر نے کہا۔
’’وہ میری کزن تھی۔ میرا خون تھی اور پھر میری ہمشکل بھی۔ اللہ کرے وہ زندہ ہو۔‘‘ زنیرا نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا۔
’’نذیر صاحب! شاہدہ کے پاس بی ایم ڈبلیو تھی؟‘‘ شاہ میر نے کہا۔
’’ہاں۔‘‘
’’وہ کہاں ہے؟‘‘
’’پیچھے گیراج میں کھڑی ہے۔‘‘
’’مطلب آپ کے پاس ہی ہے۔ ناصر نے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟‘‘
’’وہ میرے نام رجسٹر ہے۔ اس ذلیل نے کئی بار شاہدہ سے کہا تھا کہ وہ اسے اپنے نام ٹرانسفر کرالے لیکن اس نے انکار کردیا تھا۔‘‘
’’گڈ۔ دوسری بات یہ کہ کیا ناصر نے زنیرا کو دیکھا ہے؟‘‘
’’نہیں۔ ہم لوگ کبھی نہیں ملے۔ میں نے بتایا نا انسپکٹر صاحب کہ سلطانہ ہم سے ناراض تھی۔ ہم تو شاہدہ کی شادی میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔‘‘ عالیہ نے بتایا۔
’’تب پھر میں بتاتا ہوں کہ زنیرا کو ہمارے لئے کیا کرنا ہے۔ مس زنیرا! کیا آپ ڈرائیونگ کرلیتی ہیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ زنیرا نے کہا۔
٭…٭…٭
ناصر محمود ڈپارٹمنٹل اسٹور سے خریداری کررہا تھا۔ اسٹورز میں زیادہ رش نہیں تھا۔ دن کا ایک بجا تھا۔ اپنی ضرورت کی کچھ چیزیں منتخب کرکے وہ کائونٹر کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ اس کی نگاہ آخری کائونٹر کی طرف اٹھ گئی جہاں ایک خوش لباس لڑکی ایک شاپنگ بیگ سنبھال کر باہر کی طرف جارہی تھی۔ نظر اتفاقیہ طور پر اٹھی تھی لیکن دوسرے لمحے ناصر کا دل بڑی زور سے دھڑکا۔ اس کے دماغ میں بجلی سی چمکی۔ وہ چہرہ اس کے لیے اجنبی نہیں تھا۔
شاہدہ… بالکل شاہدہ۔ اس کے نقوش، اس کے چلنے کا انداز۔ ارے یہ کیسے ممکن ہے۔ ایک لمحے کے لیے اس کے حواس معطل ہوگئے۔ وہ پتھرا گیا لیکن دوسرے لمحے سنبھل گیا۔ اپنا منتخب شدہ سامان لے کر وہ کائونٹر کی طرف لپکا۔ سامان کائونٹر پر رکھ کر اس نے کہا۔ ’’تم ان چیزوں کا بل بنائو، میں ابھی آیا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔
چہروں کے نقوش آپس میں مل جاتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں سے پتا چل جاتا ہے۔ اس نے شاہدہ کی ایک جھلک دیکھی تھی لیکن وہ اس قدر شاہدہ سے ملتی تھی کہ ناصر دھک سے رہ گیا تھا۔ مزید جھٹکا اس وقت لگا جب باہر آکر اس نے ایک کار کو اسٹور کے پارک سے باہر نکل کر سڑک پر جاتے دیکھا۔ یہ کار بی ایم ڈبلیو تھی اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر شاہدہ ہی تھی۔ ایک بار پھر ناصر کی کیفیت بری ہوگئی۔ اس کی کار بھی پارکنگ میں تھی لیکن بیکار… بی ایم ڈبلیو اس دوران دور جا چکی تھی البتہ ناصر اس کا نمبر دیکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ نمبر بھی شاہدہ کی کار والا تھا۔
’’مائی گاڈ۔‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا اور وہ اپنے حواس مجتمع کرنے لگا پھر اندر جاکر اس نے اپنا سامان لیا، بل ادا کیا اور باہر نکل آیا۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، بدن بے جان ہورہا تھا۔ کار کا دروازہ کھول کر وہ اندر بیٹھ گیا لیکن اعصاب بری طرح کشیدہ تھے۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اس حالت میں کار نہیں چلا سکے گا۔
شاہدہ۔ یہ شاہدہ کہاں سے آگئی۔ وہ اس دنیا میں کہاں ہے۔ قبر کے اندر انسانی جسم کتنے عرصے میں گل سڑ جاتا ہے۔ اسے معلوم نہیں تھا لیکن شاہدہ… اوہ میرے خدا! یہ ممکن ہی نہیں، پھر یہ کیا اسرار ہے۔ گاڑی بھی وہی تھی، نمبر بھی وہی تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس نے پوری ہوش مندی سے شاہدہ کو دیکھا تھا۔ کیسے ممکن ہے یہ۔کیسے ممکن ہے۔
بہت دیر تک وہ اسی طرح بیٹھا رہا۔ پھر اپنے حواس مجتمع کرکے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ ابھی کوئی بات ذہن میں نہیں آئی تھی کہ کیا کرے۔ گاڑی کو احتیاط سے ڈرائیو کرکے وہ ایک ریستوران کی طرف چل پڑا۔
ریستوران میں بیٹھ کر اس نے کئی گلاس پانی پیا، پھر چائے پی کر بل طلب کرلیا۔ بل ادا کرکے اٹھا اور کار میں بیٹھ کر چل پڑا۔
اس کا رخ نذیرالدین کی کوٹھی کی طرف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ کوٹھی کے سامنے پہنچ گیا۔ گیٹ اس قسم کا تھا کہ اس سے اندر تک کا منظر نظر آتا تھا اور اس نے جو کچھ دیکھا، اس نے اسے حواس باختہ کردیا۔
سامنے پورچ میں دوسری کاروں کے ساتھ شاہدہ کی بی ایم ڈبلیو بھی نظر آرہی تھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ شاہدہ کی گمشدگی کے بعد اس گاڑی کو کوٹھی کے پچھلے حصے کے گیراج میں کھڑا کردیا گیا تھا۔ یہ ایک جذباتی عمل تھا۔ نذیرالدین کا کہنا تھا کہ اسے شاہدہ ہی دوبارہ گیراج سے نکالے گی۔
’’تو کیا اسے شاہدہ نے ہی نکالا ہے لیکن شاہدہ کہاں سے آگئی۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا کہ کوٹھی میں گھس جائے اور ان لوگوں سے پوچھے کہ یہ سب کیا ہے لیکن یہ خطرناک تھا۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکا اور پھر وہاں سے واپس چل پڑا۔
اس کے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم تھا کہ انتہائی ہوشیاری سے اسپیشل پولیس کے تربیت یافتہ لوگ اس کا تعاقب کررہے ہیں۔ یہ پانچ افراد تھے جو تھوڑے تھوڑے وقفے سے اپنی ڈیوٹیاں بدل رہے تھے تاکہ ناصر محمود کو کوئی شبہ نہ ہوسکے۔
٭…٭…٭
سرشام ہی بوندا باندی شروع ہوگئی تھی۔ موسم سارا دن ابرآلود رہا تھا اور فضا میں ایک عجیب سی اداسی رچی ہوئی تھی۔ ناصر محمود نے ضرورت کی تمام چیزیں لوہا مارکیٹ سے خریدی تھیں۔ بہت پہلے بھی اس نے یہی چیزیں خریدی تھیں لیکن پھر انہیں بڑی احتیاط سے شہر سے باہر ایک جگہ پھینک دیا تھا۔ آج پھر اسے ان چیزوں کی ضرورت پیش آگئی تھی۔
اس وقت رات کے پونے دس بج رہے تھے جب ناصر محمود کی کار یونیورسٹی روڈ کی جانب چل پڑی۔ وہ کار زیادہ تیز نہیں چلا رہا تھا کیونکہ اس کی اعصابی کیفیت درست نہیں تھی۔ یونیورسٹی سے آگے بہت سی کمپنیوں نے فلیٹس بنائے تھے۔ ابتدائی علاقے کے فلیٹس آباد ہوگئے تھے لیکن سیدھی سڑک سے ہٹ کر سڑک سے کافی فاصلے پر بھی کچھ کمپنیوں نے فلیٹ بنائے تھے۔ وہ ٹھیک سے آباد نہیں ہوئے تھے جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہاں گیس اور بجلی نہیں پہنچی تھی اور یہ کم قیمت بھی تھے۔ پھر بھی کچھ پروجیکٹس میں تھوڑے سے فلیٹ آباد ہوگئے تھے۔ ایسے غریب لوگ جنہوں نے کسی نہ کسی طرح یہ فلیٹ حاصل کرلئے تھے، ان میں جا بسے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور گیس یا بجلی کا نہ ہونا ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔
ایک جگہ ناصر محمود کی کار نے سڑک چھوڑ دی اور ایک فلیٹ پروجیکٹ کی طرف بڑھنے لگا۔ یہ بھی دو کمرے والے سستے فلیٹوں کا پروجیکٹ تھا، جہاں کچھ فلیٹ آباد تھے لیکن تمام سہولتوں سے عاری تھے۔ کار ایک جگہ رک گئی۔ یہ فلیٹوں کے اندر کی جگہ تھی۔ ناصر محمود نے نیچے اتر کر چاروں طرف دیکھا۔ ہر طرف گہری خاموشی، سناٹے اور تاریکی کا راج تھا۔
ناصر نے جس جگہ کار روکی، اس سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر ایک فلیٹ کا دروازہ تھا۔ ناصر اس دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے جیب سے چابی نکال کر گرائونڈ فلور کے اس فلیٹ کا دروازہ کھولا اور گہری گہری سانسیں لینے لگا، پھر وہ واپس پلٹا اور کار کی ڈگی سے وہ اوزار نکالنے لگا جو اس نے لوہا مارکیٹ سے خریدے تھے۔ ان میں کدال اور چھوٹا پھاوڑا وغیرہ تھے۔ یہ چیزیں نکال کر اس نے دروازہ بند کیا اور ایک چارجنگ لائٹ روشن کرکے آگے بڑھ گیا۔
فلیٹ میں دو چھوٹے کمرے تھے۔ وہ ایک کمرے میں داخل ہوگیا۔ چارجنگ لائٹ نے پورے کمرے کو روشن کیا ہوا تھا۔ اس نے آستینیں چڑھائیں اور کدال سے زمین کھودنے لگا۔ فلیٹ کا فرش پختہ تھا لیکن جو جگہ وہ کھود رہا تھا، وہ پختہ نہیں تھی۔ شاید پہلے بھی اسے ایک مخصوص سائز میں کھودا گیا تھا۔ ناصر بڑی مشقت سے وہ جگہ کھودتا رہا، پھر شاید اس کا کام مکمل ہوگیا۔ اس نے وہاں سے ہٹ کر چارجنگ لائٹ اٹھائی اور اس کی روشنی اس گڑھے میں ڈالنے لگا جہاں ایک انسانی جسم انتہائی خستہ حالت میں موجود تھا۔
’’تو تم یہاں موجود ہو۔ پھر وہ کون تھی؟‘‘ ناصر کے منہ سے نکلا لیکن اسی وقت باہر کچھ آہٹیں سنائی دیں اور ناصر اُچھل پڑا لیکن وہ فوراً ہی خاص روشنیوں کی زد میں آگیا۔ انتہائی تیز روشنیوں سے اس کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔ ساتھ ہی روشنیوں کے مزید جھماکے ہونے لگے۔ غالباً اس کی تصویریں بنائی جارہی تھیں۔
اسی وقت کسی نے آہنی ہاتھ سے اس کی گردن پکڑ لی اور پھر اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں۔ ناصر محمود آنکھیں پھاڑے ایک ایک کو دیکھ رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہوگئی ہوں۔
’’اسے لے جاکر گاڑی میں بٹھائو۔‘‘ شاہ میر نے زمان شاہ سے کہا اور پھر ساتھ موجود دوسرے لوگوں سے کہا۔ ’’اسپتال فون کرکے وہاں سے ایمبولینس منگوائو۔‘‘
کئی ماہ کا عرصہ گزرنے کی وجہ سے لاش گل سڑ گئی تھی۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ شاہدہ کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ضروری کارروائیوں کے بعد لاش کی تدفین قبرستان میں کردی گئی۔
دوسری طرف پولیس کی کارروائی میں کوئی سقم نہیں تھا۔ ناصر کی تصاویر اس وقت بنائی گئی تھیں جب وہ گڑھا کھود کر لاش دیکھ رہا تھا۔ ساری تفصیل لاتعداد ثبوتوں کے ساتھ موجود تھی۔ چنانچہ ناصر محمود نے اقبال جرم کرلیا۔ اس نے یہ جرم بڑی چالاکی اور انتہائی طویل المیعاد منصوبے کے تحت کیا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ناصر نے یونیورسٹی میں شاہدہ کو دیکھا تھا اور اسے یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک دولت مند باپ کی بیٹی ہے۔ اس نے فوراً شاہدہ پر جال ڈالنے کی کوششیں شروع کردی تھیں اور آخرکار اس میں کامیاب ہوگیا تھا۔ شاہدہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کی لڑکی تھی۔ اس نے ناصر کی جھوٹی محبت سے متاثر ہوکر اپنا تن من دھن اس پر نچھاور کردیا۔ اس نے کروڑوں کی مالیت کا گھر، لاکھوں کا بینک بیلنس ناصر محمود کے حوالے کردیا تھا۔
لیکن ناصر محمود اس کے ساتھ پوری زندگی نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک دوسری ہی زندگی کے خواب رچے ہوئے تھے۔ وہ دنیا دیکھنا چاہتا تھا اور یہ ساری منصوبہ بندی اس نے اپنی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے کی تھی اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے اس نے اپنی محبت کرنے والی بیوی کو قتل کردیا تھا جو اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔
ابتدا میں ناصر محمود نے زبان بند رکھی۔ اس نے پاگل پن کا ڈھونگ رچایا لیکن وہ زمان شاہ سے بڑا پاگل نہیں تھا۔ زمان شاہ نے اس کی ساری ’’بیماری‘‘ دور کردی۔ اس کی نشاندہی پر وہ زیورات بھی حاصل ہوگئے تھے جن کے بارے میں اس نے بتایا تھا کہ شاہدہ وہ زیورات لے کر فرار ہوگئی تھی۔
ناصر محمود کے لیے اب اس کے گھر والے بھی کچھ نہیں کرسکتے تھے اور یہ جان لیا گیا تھا کہ اب اسے سزائے موت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اس نے جو اعتراف جرم کیا تھا، اس کی تفصیل یوں تھی۔
منصوبے کے مطابق اس نے شاہدہ سے جھگڑنا شروع کردیا تھا اور ایسے مواقع دو بار پیدا کئے تھے کہ شاہدہ اپنے والدین کے گھر چلی جائے اور ایک جواز پیدا ہوجائے۔ شاہدہ کو آخری بار جب وہ اس کے گھر سے لے کر آیا تھا تو اس کے بعد سے اس نے اس کے ساتھ بہت محبت آمیز سلوک کیا تھا۔ یہ بھی اس کے منصوبے کا حصہ تھا۔ اس نے سارے انتظامات کرلئے تھے اور پھر ایک رات اس نے شاہدہ کا گلا دبا کر اسے ہلاک کردیا۔ مرتے ہوئے بھی شاہدہ کی آنکھوں میں خوف کے بجائے حیرت تھی۔
لاش کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں اس کا منصوبہ مکمل تھا۔ اس نے اس غریب علاقے میں جعلی نام سے گرائونڈ فلور کا ایک فلیٹ کرائے پر حاصل کیا تھا اور وقفے وقفے سے وہاں جاکر اندرونی کمرے میں ایک گڑھا کھودتا رہا تھا۔ قبر نما گڑھا تیار ہوگیا تو اس نے شاہدہ کو زندگی سے محروم کردیا اور اس کی لاش کو ایک چادر میں باندھ کر فلیٹ میں لے آیا۔ یہاں نہ لائٹ تھی، نہ گیس۔ ویسے بھی چند ہی فلیٹ آباد تھے چنانچہ اس نے آسانی سے اپنا کام کرلیا اور پھر دوسرے دن اس نے نذیرالدین کو فون کرنے کا ڈرامہ کیا۔
بے چارے نذیرالدین نے بہت ہاتھ پائوں مارے۔ اسے یقین تھا کہ شاہدہ کہیں نہیں گئی۔ ناصر نے ہی کچھ کیا ہے لیکن پولیس کو شاہدہ کی لاش ملی تھی نہ اور کوئی ایسا ثبوت جس سے اس پر گرفت کی جاسکتی۔ وہ صبر کرکے خاموش ہوگئے لیکن صبر کہاں تھا۔ سلطانہ بے سکون تھی۔ شاہدہ اس کے خوابوں میں آکر سوالیہ شکل بنا کر کھڑی ہوجاتی تھی۔
تب کہیں سے اسے شاہ میر کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ قبر کی گہرائیوں سے بھی مجرم کو نکال لاتا ہے اور ایسا ہی ہوا تھا لیکن زنیرا کا شاہدہ کا ہمشکل ہونا اس کیس کی سب سے بڑی کامیابی تھی جس نے اس چالاک مجرم کو آخرکار سزائے موت کا راستہ دکھایا تھا۔
(ختم شد)
(پروف شدہ:جے۔اے)