Sad Shuker Tum Mily | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1573
ان دنوں میں تین برس کی تھی۔ جب ہمارے گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ تو میں پیدل چلتی دہلیز پار کر کے گلی میں نکل گئی، اس وقت گھر میں صرف میری والدہ تھیں۔ انہیں میرے باہر نکل جانے کا علم نہ ہوسکا۔ میں ایک چھوٹی بچی تھی، مجھے گلیوں کا کیا پتا تھا، بس چلتی چلی گئی۔ بالآخر کسی بے رحم انسان کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ اس نے مجھے اٹھا کر ایک ایسی عورت کے ہاتھ فروخت کر دیا جس کی کوئی اولاد نہ تھی… یہ تمام قصہ بعد میں مجھے اسی عورت نے سنایا، جس نے مجھے پالا پوسا، انہیں میں اماں کہتی تھی۔
جب تک اماں کے شوہر حیات رہے، گھر میں کسی شے کی کمی نہ تھی۔ وہ ہر شے مہیا کر دیا کرتے تھے۔ وہ ایک اچھے طبلہ نواز بھی تھے۔ گھر میں طبلے دیکھ کر میں ان سے سوال کرتی تھی کہ آپ ان کا کیا کرتے ہیں۔ وہ بتاتے بیٹی انہیں بجا کر رزق کماتا ہوں۔ میں اس شخص کو ابا کہتی تھی۔ ابا ایک اچھے دل کے آدمی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ باپ کی شفقت اور پیار دیا، جب تک وہ زندہ رہے کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی مجھے بتاتا کہ میں ان کی سگی بیٹی نہیں ہوں۔ ان کی وفات کے دن پہلی بار ایک عورت نے یہ بات میرے کانوں میں ڈالی کہ میں ان کی سگی بیٹی نہیں ہوں۔ اللہ جانے یہ منحوس اور بدخواہ عورت کون تھی جو ابا کی میت پر آئی ہوئی تھی۔
اس وقت تو میں رو رو کر نڈھال تھی۔ میں نے اس بارے میں کسی سے بات نہ کی۔ جب تین روز گزر گئے اور اماں کے حواس بحال ہوئے تو انہیں بتایا کہ ایک عورت جو ابا کی وفات پر آئی تھی۔ مجھے روتا دیکھ کر گلے لگایا اور میرے کان میں کہا بچی تم کیوں اتنا رو رہی ہو۔ مت رو، یہ لوگ کون سے تمہارے سگے ہیں۔ مرنے والے تیرے ابا تھے اور نہ یہ تیری اماں ہیں۔ انہوں نے بس تمہیں پالا ہے… میں نے پوچھا اگر یہ میرے اماں، ابا نہیں تو پھر کون ہیں۔ تب اس عورت نے کہا کہ میں کیا جانوں، یہ تم اپنی اماں سے پوچھ لینا۔
میرے منہ سے یہ باتیں سن کر وہ افسردہ ہو گئیں۔ کہنے لگیں۔ بچی کب تک تم سے سچ چھپائوں گی، اس عورت نے صحیح کہا ہے، یہ تمہارے ابا کی رشتہ دار تھی۔ تمہارے کانوں میں زہر گھول گئی ہے۔ لیکن مجھے علم نہیں ہے کہ تم کس کی بیٹی ہو۔ تم تین سال کی تھیں جب ایک شخص کو گلی میں روتی ملی تھیں۔ وہ آدمی تمہارے ابا کا واقف کار تھا جانتا تھا کہ ہماری اولاد نہیں ہے۔ وہ تمہیں ہمارے پاس لے آیا اور بتایا کہ اس کھوئی ہوئی بچی کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ یہ کچھ بھی اپنے گھر والوں اور گھر کا پتا بتانے سے قاصر ہے۔ تم لوگ اس کو لینا چاہو تو مجھے بیس ہزار دے دو۔ ورنہ مجھے جہاں بن پڑا اسے فروخت کر دوں گا، کیونکہ اسے پال نہیں سکتا۔
تمہاری صورت اتنی پیاری اور معصوم تھی کہ میرا دل پسیج گیا۔ تمہیں اٹھایا تو والہانہ تم نے میرے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ تمہیں بیٹی بنا کر پالوں گی، کسی قیمت پر اس شخص کے حوالے نہ کروں گی۔
ان دنوں بیس ہزار بڑی رقم ہوتی تھی۔ گھر میں اتنے پیسے نہ تھے، میں نے اپنا تمام زیور اسے دے دیا اور کہا کہ یہ زیور بیس ہزار سے کچھ اوپر ہو گا۔ بے شک صرافہ بازار سے قیمت لگوا لو اور بچی میرے حوالے کر دو۔ وہ زیور لے کر چلا گیا۔ تم شدید بھوکی تھیں، میں نے اس روز چاول بنائے تھے تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلانے لگی، یوں تم پوری پلیٹ کھا گئیں۔ تھوڑا سا دودھ پیا اور میری گود میں سر رکھ کر سو گئیں۔
اس دن سے اب تک ہم نے تمہیں واقعی اپنی اولاد کی طرح پالا ہے۔ ہم نے اس وجہ سے وہ گھر بھی چھوڑ دیا کہ وہاں کے لوگ تمہیں کہیں یہ بات نہ بتا دیں۔
وقت گزرتا رہا اور تم بڑی ہوگئیں۔ محلے داروں نے کبھی کچھ نہ کہا مگر رشتے دار واقعی عقرب ہوتے ہیں۔ آخر تمہارے ابا کی کزن نے ہمارے دکھ کے کم ہو جانے کا بھی انتظار نہ کیا اور کانوں میں زہر گھول دیا… بیٹی تمہارا کوئی نہیں ہے۔ نہ ماں باپ، نہ بہن بھائی۔ میں ہی تمہاری سب کچھ ہوں۔ مجھے خود سے دور نہ کرنا ورنہ اس بے رحم دنیا میں بھٹکنے کے لئے تنہا رہ جائو گی۔
مجھے اماں کی بات سمجھ میں آگئی، ان سے محبت اور ان کی میرے دل میں قدر اور بھی بڑھ گئی۔
ان دنوں میری عمر چودہ برس تھی، ہم ماں بیٹی اکیلی تھیں اور ہمارا کفیل بھی کوئی نہیں رہا تھا۔ جہاں تک ہوسکا اماں نے گھر کا خرچہ چلایا۔ جب آخری پائی بھی ختم ہو گئی تو جینےکے لالے پڑ گئے۔ اماں نے ابا کے وہ طبلے بھی بیچ دیئے جو ان کو جان سے بڑھ کر پیارے تھے۔ بھلا اب وہ ہمارے کس کام کے تھے۔ جو شخص ابا کے یہ ساز خریدنے آیا۔ وہ ان کا ایک واقف کار تھا، اس نے مجھے دیکھا تو بس دیکھتا رہ گیا۔ اماں سے کہا۔ بیگم جان… تم نے تو گدڑی میں لعل چھپا رکھا ہے۔ یہ چاند غربت کے اندھیروں میں اپنی آب و تاب کھو دے گا، سچ کہو یہ تمہاری اپنی اولاد ہے؟
ہاں میری بیٹی ہے… تم اب طبلے اٹھائو ان کی قیمت دو اور چلتے بنو۔ تمہیں ہماری غربت سے کیا مطلب؟ اس نے کہا۔ میں اس لئے کہہ رہا تھا کہ تم نے اپنا ٹھکانہ چھوڑ کر ایک غریب طبلچی کے عشق میں عمر بھر کے لئے غربت کو گلے لگا لیا۔ اپنی بیٹی کو تو مفلسی کے اندھیروں کا شکار نہ کرو ۔ کہو تو میں کسی خوشحال آدمی سے اس کی شادی کرا دوں، تاکہ یہ تمہاری طرح شرافت کی زندگی گزارنے کی خاطر کسی مفلس کے پلے نہ بندھ جائے، بچی حسین ہے۔ اسے کسی اونچے گھرانے کی بہو بنوا سکتا ہوں۔
اماں نے کچھ دیر کو سوچا پھر کہا کہ کوئی ایسا رشتہ ہے تو میرے سامنے لائو… پھر دیکھوں گی۔
طبلہ نواز ایک ہفتے بعد دوبارہ آیا ساتھ ایک خوبرو نوجوان تھا۔ جو اپنے لباس اور قد کاٹھ سے کسی امیر گھرانے کا فرزند لگتا تھا۔ نہیں معلوم وہ اسے کیا کہہ کر لایا تھا ۔ اماں نے اس سے بات کی۔ اس نے اپنا نام خرم خان بتایا اور مجھے دیکھنے کے بعد کہا کہ مجھے اپنا احوال سچ سچ بتا دو۔ مجھے دھوکا نہ دینا۔ میں بھی تمہیں دھوکا نہیں دوں گا۔
والدہ نے سارا قصہ صحیح اس کے گوش گزار کر دیا۔ اس نے کہا۔ میں شادی کی نیت سے یہاں نہیں آیا تھا، لیکن تم لوگوں سے ملنے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں نور جہاں سے نکاح کروں گا۔ اور اسے ایک اچھی زندگی دوں گا۔ طبلہ نواز سے جو میرا معاملہ طے ہے وہ الگ بات ہے۔ خرم خان نے اس شخص کو منہ مانگے دام دے کر رخصت کیا اور ہمارے ہی گھر پر اس نے چار دوست بلا کر مجھ سے باقاعدہ نکاح کیا۔ پھر مجھے رخصت کروا کر ساتھ لے گیا۔ اماں سے کہا۔ آپ فکر نہ کریں جب چاہیں گی میں نور جہاں کو آپ سے ملوا دیا کروں گا۔ اور آپ کو خرچہ بھی دوں گا تاکہ بڑھاپے میں کسی کی محتاج نہ ہوں۔
خرم خان نے جو کہا تھا کر دکھایا وہ ہر ماہ اماں کو خرچہ دینے جاتا اور مجھے بھی ساتھ لے جاتا۔ ان سے ملاقات کراتا اس نے مجھے شہر میں ایک مکان بھی خرید کردیا۔ جہاں میں عزت و احترام سے زندگی کے دن بسرکرنے لگی۔
یہ اللہ کی مہربانی ہوئی کہ اس نے خرم خان کے دل میں میرے لئے محبت ڈال دی اور میں طبلہ نواز کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئی۔ میں خرم خان سے نکاح ہو جانے پر خوش تھی اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر اداکرتی تھی کہ اس نے مجھے ایک باعزت شادی شدہ زندگی عطا کر دی تھی۔ شوہر بھی مالدار ہونے کے ساتھ اچھی نیت کا خوبصورت اور پچیس سال کا تھا۔ اگر کوئی بوڑھا اپنی دولت کے بل بولتے پر خرید لیتا تو بھی زندگی برباد ہو جاتی ۔
بے شک خرم ایک بہت اچھا انسان تھا۔ وہ میرا بہت خیال رکھتا تھا لیکن اس میں یہ جرأت نہ تھی کہ مجھے اپنے اصل گھر لے جاتا اور ایک بیوی کی حیثیت سے میرا تعارف اپنے خاندان میں کرواتا۔ جب میں کہتی اپنے گھر لے چلو تو جواب دیتا۔ ذرا صبر کرو، ابھی حالات ایسے نہیں ہیں مناسب وقت آنے پر ضرور لے جائوں گا۔ ابھی لے گیا تو حالات تمہارے حق میں بگڑ سکتے ہیں۔
میں خرم کو زیادہ پریشان نہیں کرتی تھی، کیونکہ اس کی مجبوری تھی۔ انتظار کرنے لگی کہ وہ دن آئے جب میں اپنے سسرال جائوں اور ان کی نظروں میں توقیر پائوں۔
اسی انتظار میں چار برس گزر گئے اور وہ دن نہ آیا… لیکن ایک آزمائش بھرا دن آگیا جب میں نے خرم کو پریشان دیکھا تو قسم دے کر پوچھا مجھے سچ بتا دو تم کیوں پریشان ہو، تب اس نے کہا ۔ تم پر بھروسہ ہے اس لئے سچ بتا دیتا ہوں۔ میری منگنی بچپن میں تایا زاد سے ہو گئی تھی۔ اب تک پڑھائی کے بہانے ٹالتا رہا ہوں لیکن اب والد اور تایا سر ہو گئے ہیں کہ پڑھائی مکمل ہوگئی ہے، ملازمت بھی شہر میں حاصل ہے توپھر شادی کرنے میں کیا قباحت ہے۔ وہ اصرار کر رہے ہیں۔ میں شگفتہ سے شادی کرلوں یہ جائیداد کا معاملہ بھی ہے، خاندان بھر کی مخالفت مول نہیں لے سکتا۔ اور منگنی نہیں ٹوٹ سکتی۔ بے شک شگفتہ عمر بھر بن بیاہی رہ جائے۔ میں نے تم سے شادی تمہیں تحفظ دینے کے لئے کی تھی۔ ایک پاکیزہ زندگی دینے کے لئے مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔ پھر میں تو صاحب حیثیت خاندان سے ہوں۔ میرے لئے پیسہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اور میں دو خاندانوں کی کفالت کر سکتا ہوں۔ پہلے دل کو راضی کیا اب والدین کو بھی راضی کرنا ہے۔ تم کیا کہتی ہو۔
میں مجبور تھی کیا کہتی تمام اختیارات خرم کے پاس تھے، اس کے سامنے مجھ ناچیز کی کیا اہمیت تھی۔ وہ جو چاہے کر سکتا تھا، اگر وہ اطلاع کئے بغیر دوسری شادی کرلیتا توبھی میں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔ اس کی مہربانی کہ اس نے مجھے مطلع کرنا مناسب سمجھا۔
جانتی تھی یہ شادی جو وہ کرنےجا رہا تھا۔ دراصل اس کی اصل شادی ہے۔ مجھ سے نکاح تو رحم یا پھر وقتی جذبے کے تحت کر لیا تھا۔ میں نے اپنی ذات کی بہت زیادہ قیمت نہیں لگائی، صرف اسی قدر کہا کہ آپ اپنی زندگی کے مختیار و مالک ہیں۔ میں آپ کی رہین منت ہوں۔ احسان مند ہوں کہ مجھے تحفظ دے دیا ہے۔ اماں وفات پا گئی ہیں۔ اس دنیا میں میرا کون ہے بلکہ یہ دنیا طبلہ نواز جیسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ صد شکر آپ نے مجھے برے حالات سے بچایا اور میں جگہ جگہ بھٹکنے سے بچ گئی۔ ایک التجا کروں گی کہ میری کفالت کے لئے ایسا مستقل انتظام کر دیں کہ کبھی در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔
میری بات خرم کی سمجھ میں آگئی۔ اس نے ایک کوٹھی خرید کر میرے نام کر دی، جس کے دو پورشن تھے اور وہ دو منزلہ تھی۔ تاکہ مجھے اپنے گھر کی چھت میسر رہے۔ اس نے کہا کبھی ضرورت پڑے تو کوٹھی کے ایک حصے کو کرائے پر اٹھا سکتی ہو، اس طرح تم کسی کی محتاج نہ رہو گی۔ آپ کی خوشی ہے آپ اپنے والدین کو راضی کریں۔
خرم کو مجھ سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی۔ میں یوں بھی اس کی دوسری شادی میں مانع کب تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ وقتاً فوقتاً میرے پاس آتا رہے گا۔ یہ وقتی آزمائش ہے ابھی والد اور تایا کو علم ہو گیا تو تمہیں طلاق دلوا دیں گے۔ مگر میںتمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا۔ تم بے فکر رہو۔ بس صبر کرنا۔
دوسری شادی کے بعد وہ چند بار آیا اور پھر یہ لوگ امریکہ چلے گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے سکونت اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اس امر میں ان کے سسر نے بہت معاونت کی کہ خرم خان کی بیوی کے دوبھائی عرصہ دراز سے وہاں سیٹ تھے اور کاروبار کرتے تھے۔
انسان سوچتا کیا ہے اور ہوتا کیا ہے۔ خرم خان نے جب مجھ سے وفا نبھانےکا وعدہ کیا ہو گا یقیناً اس وقت اس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہ ہوگا، مگر امریکہ جا کر وہ حالات کے جال میں کچھ اس طرح جکڑا گیا کہ لوٹ نہ سکا جن دنوں وہ مجھے چھوڑ کر گیا، میں امید سے تھی۔ خرم خان نے اس کے بعد مجھ سے کوئی رابطہ نہ کیا۔
وہ بنگلے کا اوپر والا پورشن خود کرائے پر اٹھا کر گیا تھا تاکہ پیسے مجھے ملتے رہیں۔ کرائے دار بہت اچھے لوگ تھے۔ وقت پر کرایہ دے دیتے تھے ۔ رفتہ رفتہ میرے حالات سے واقف ہوتے گئے تو انہیں مجھ سے ہمدردی ہو گئی۔ وہ میرا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ خاص طور پر کرائے دار کی والدہ جو عمر رسیدہ خاتون تھیں، مجھے انہوں نے بیٹی بنا لیا تھا۔ وہ روز میرے پاس آجاتی تھیں۔ جب میرے یہاں بیٹے نے جنم لیا تو میں نے استدعا کی کہ اماں جی، آپ نیچے میرے پاس رہا کریں، میں چھوٹے بچے کو اکیلی نہیں سنبھال پائوں گی۔
اماں نے میری بات مان لی۔ سیڑھیاں اترنے چڑھنے میں ان کو تکلیف ہوتی تھی۔ لہٰذا میں نے اپنے ساتھ والا کمرہ انہیں دے دیا۔ وہ میرے پاس رہنے لگیں۔ میرا ساتھ دیتیں۔ میرے بچے کی دیکھ بھال کرتیں۔ ان سے بہت سہارا ملا۔
میں روز و شب خرم خان کا انتظار کرتی رہی، اس کی جدائی کو ایک آزمائش سمجھ کر جھیلتی رہی، مگر وہ نہ آیا۔ اس نے مکمل طور پر مجھے بھلا دیا، شاید اس کی زندگی میں اب میری گنجائش نہ رہی تھی۔ مجھے اس کے امریکہ کے پتے کا علم نہ تھا۔ گائوں کا پتا معلوم تھا مگر وہاں اپنی شادی اور بیٹے کی اطلاع دینا بے معنی امر تھا۔ جانے وہ لوگ حقیقت جاننے کے بعد میرے ساتھ کیا سلوک کرتے… اسی خوف سے ان سے بھی رابطے کی جرأت نہ کرسکی۔
اللہ کا شکر کہ کرائے دار بہت اچھے لوگ تھے انہوں نے میرا اتنا خیال رکھا کہ مجھے کبھی اپنوں کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ بچہ بیمار ہو جاتا تو اماں جی اور ان کے بیٹے اور بہو دکھ سکھ میں میرا ساتھ دیتے تھے۔
مجھے زمانے کے چلن کا اندازہ نہیں تھا۔ اتنی زیادہ چالاک تھی اور نہ پڑھی لکھی تھی کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتی۔ میرا خاندانی پس منظر بھی روشن نہ تھا۔ اگر کہتی کہ میں ایک طبلچی کی بیٹی ہوں تو لوگ باتیں ہی بناتے۔
جیسے بھی حالات تھے کرایہ وقت پرملتا تھا تو میں عزت سے گزارہ کر رہی تھی۔ مگر معاشرے میں عورت کے لئے مرد کے تحفظ کا سائبان ضروری ہے۔ ورنہ لوگ تنہا عورت پر سو طرح کی باتیں بناتے ہیں اور کئی بری نگاہیں اس پر پڑنے لگتی ہیں۔ اللہ کا شکر کہ اچھے کرائے داروں کی وجہ سے مجھے اس قسم کے حالات پیش نہ آئے جو مجھ جیسی تنہا عورتوں کو درپیش ہوتے ہیں۔ یہ لوگ میرے حالات سے واقف تھے اور خرم خان سےمل چکے تھے، تبھی انہوں نے پورا پورا میرا ساتھ دیا تھا۔
جب میرا بیٹا اسکول جانے لگا تو ایک روز اماں جی نے کہا بیٹی ،کب تک اس طرح اپنے بیٹے کو سنبھالو گی۔ آخر اسے بھی باپ کے خاندان سے واقفیت اور ان کا نام چاہیےتاکہ وہ خرم خان کے بیٹے کی حیثیت سے معاشرے میں پہچانا جائے، انہوں نے مشورہ دیا کہ مجھے اب اپنے سسرال والوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اپنا نکاح نامہ انہیں دکھانا چاہیے تاکہ بیٹے کی ولدیت مسلم ہو اور وہ اسے تسلیم کر لیں۔
اس بچے کو خاندان کی پہچان باپ کا نام اور اس کی شناخت ملنی چاہیے۔ یہ ایک اہم بات تھی مگر میں بہت ڈرتی تھی۔ تبھی اماں جی اور ان کے بیٹے نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ گائوں چلتے ہیں۔ اپنے بیٹے کو ساتھ لو اور نکاح نامہ بھی لے چلو… آگے جو ہو گا دیکھا جائےگا۔
میرا بیٹا صلاح الدین اب آٹھ برس کا ہو چکا تھا۔ آخر میں ان لوگوں کے ہمت دلانے پر ان کے ہمراہ خرم خان کے گائوں چلی گئی۔ وہاں ان کا گھر تلاش کرنےمیں ذرا بھی دقت نہ ہوئی، ہر شخص ان کی حویلی کو جانتا تھا۔ میں نے لرزتے قدموں سے ان کی دہلیز پر قدم رکھا خرم خان کی والدہ نے مجھے مہمان خانے میں بٹھا دیا اور سوال کیا کہ میں کون ہوں اور آنے کا کیا مقصد ہے۔ اماں جی جو ساتھ تھیں انہوں نے مجھے ڈھارس دی اور میں بولنے کے قابل ہوئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں خرم خان کی پہلی بیوی ہوں او یہ بچہ آپ کا پوتا ہے، میرے پاس نکاح نامہ موجود ہے، آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں، جب سے ان کی دوسری شادی ہوئی ہے اور وہ امریکہ گئے میری خبر نہیں لی۔ مجھے ان کا امریکہ کا پتا دے دیجیے بس یہی عرض کرنے آئی ہوں۔ انہوں نے بچے کو غور سے دیکھا وہ بہت باوقار خاتون تھیں، مجھ سے کچھ نہ کہا اور اپنے شوہر کو جا کر بتایا۔ بزرگ کمرے میں تشریف لائے اور کہا۔ خاتون میں کیسے یقین کر لوں۔ آپ سچ کہہ رہی ہیں۔ آپ نکاح نامہ دیکھ لیجیے اوران پر جن گواہان کے دستخط ہیں، اگر وہ آپ کی جان پہچان کے ہوں تو ان سے معلوم کر لیجیے ورنہ اپنے بیٹے سے میری ملاقات کروا دیجیے۔ اگر وہ انکار کر دیں کہ یہ نکاح نامہ اصلی نہیں ہے تو میں دوبارہ کبھی نہیں آئوں گی۔
ٹھیک ہے ابھی آپ لوٹ جائیے۔ خرم خان امریکہ سے آنے والے ہیں۔ جب وہ آجائیں گے تو ہم آپ کو اطلاع کریں گے ۔ اگر انہوں نے آپ کو بیوی اور اس بچے کو اپنا فرزند مان لیا تو اس امر کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آپ کو بہو اور آپ کی اولاد کو ہم اپنا پوتا تسلیم کر لیں۔
اب اماں جی نے ذمہ لے لیا کہ وہ خرم خان کے آنے کی کھوج میں رہیں گی۔ یہ کام انہوں نے اپنے بیٹے کے ذمے لگا دیا، جس نے علاقے کے پٹواری سےرابطہ رکھا اور جونہی خرم خان اپنے گائوں آیا۔ پٹواری نے آکر اماں جی کے بیٹے فیصل کو اطلاع کر دی۔ اماں جی کے دونوں بیٹے مجھے اور صلاح الدین کو لے کر گائوں آئے۔ اتفاق کہ خرم کے والد اپنے گھر کے دروازے پر مل گئے۔ بہرحال وہ خاندانی اقدار کے حامل لوگ تھے۔ ہم سب کو لے کر مہمان خانے میں آئے اور خرم خان کو اندر سے بلوایا۔ نکاح نامہ ان کے ہاتھ میں ،میں نے دے دیا۔
انہوں نے بیٹے سے سوال کیا۔ خرم خان، کیا یہ خاتون صحیح کہہ رہی ہیں کیا تم نے ان سے نکاح کیا تھا۔ کیا یہ نکاح نامہ اصل ہے۔ اور اس پر تمہارے دستخط ہیں، کیا یہ بچہ تمہارا بیٹا ہے؟ تم اس کی ولدیت کو مانتے ہو۔ سر جھکائے خرم ساری باتیں سنتے رہے، لگتا تھا ان کا سر کئی من کا ہو گیا ہے۔ جس کو وہ اپنے والد کے سامنے اوپر نہ اٹھا پا رہے تھے۔
چپ کیوں ہو؟ اماں جی بولیں۔ یہ عورت برسوں سے تمہاری منتظر ہے۔ تم اسے کس جرم کی سزا دے رہے ہو۔ ہم نے اس بدنصیب کا اب تک ساتھ نہ دیا ہوتا تو جانے اس کا اور تمہارے بچے کا کیا حشر ہوتا۔ بے شک اس بچے نے تمہارے جانے کے بعد جنم لیا تھا۔ اب تم اسے اپنا بیٹا تسلیم کرو یا نہ کرو۔ مگر اس نکاح نامے کو تسلیم کرو کہ تم نے اس عورت سے نکاح کیا تھا۔
کچھ دیر سر جھکائے رکھنے کے بعد آخر کار خرم خان کو جواب دینا پڑا۔ باپ کے سامنے حد ادب مانع تھا تبھی کہا۔ اس نکاح نامے میں جو دو گواہ ہیں وہ میرے اسی گائوں کے دوست ہیں، وہ معزز والدین کے بیٹے ہیں آپ بلوالیجئے تویہ اس بات کا جواب دیں گے۔ ان حضرات کے گھر بھی قریب تھے، خرم کے والد نے ملازم کو بھیجا اور وہ دونوں دوست بھی آگئے۔
بزرگ نے ان سےسوال کیا۔ کیا میرے بیٹے نے اس خاتون سے شادی کی تھی اور کیا آپ اس نکاح پر بطور گواہان تھے۔ انہوں نے کچھ جھجھکتے ہوئے جواب دیا۔ جی… چچا جان یہ سچ ہے۔ خرم خان نے دوستی کا واسطہ دے کر ہمیں گواہ بن جانے پر مجبور کیا تھا اور قسم دی تھی کہ ہم اس معاملے کو راز میں رکھیں کسی کو آگاہ نہ کریں گے۔ آپ بے شک جو سزا اس قصور کی ہے ہم کو دیں ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔
خرم خان کے والد کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ بولے۔ گواہ بننے میں فرد جرم عائد نہیں ہوتی۔ البتہ اگر گواہ جھوٹا ہو، وہ جھوٹی گواہی دے تب فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ تم لوگوں نے تو دوستی نبھائی۔ اس بے چاری لڑکی کو کس جرم کی سزا ملی اور اس بچے کا کیا قصور ہے جس نے پیدائش سے اب تک اپنے باپ کی شکل نہیں دیکھی۔ اسے یہ معلوم ہی نہیں اس کا خاندان اس کا دادا اور باپ کون ہیں۔ پھر وہ بیٹے سے مخاطب ہوئے۔ خرم خان معلوم نہ تھا تم اتنے گر جائو گے، تم بزدل ہو، مجھے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے شرم آرہی ہے، ارے نالائق ہمارے خاندان میں بہت سے لوگوں نے کئی شادیاں کیں، مگر کسی نے ایسی بے حسی نہیں دکھائی کہ بیوی کو نکاح کے بعد بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ دیا اور پھر اس کی خبر تک نہ لی۔ اس بات کی بھی خبر نہیں ہو سکی تمہیں کہ تمہارا کوئی بیٹا بھی ہے۔ شگفتہ سے تمہاری چار لڑکیاں ہیں۔ شاید اسی لئے اللہ نے تمہیں بیٹے کی نعمت سے محروم رکھا ہے کہ تم نے اپنے بیٹے کو باپ کی محبت اور شفقت سے محروم رکھا ہے۔
اللہ نے اتنے برسوں بعد میری سن لی، جن لوگوں سے ڈر کر رابطہ نہ کرتی تھی۔ وہ فرشتہ صفت نکلے۔ یہاں تک کہ خرم خان کے سسر نے بھی میری مخالفت نہیں کی، بلکہ اپنے داماد ہی کو لعن طعن کی کہ اس نے خاندانی اقدار کی پاس داری کرنے کی بجائے ان کو پامال کیا۔
سسر صاحب نے مجھے بہو قبول کر لیا۔ میرے بیٹے کو اس کی خاندانی شناخت مل گئی، مجھے اور کیا چاہیے تھا۔
میں اب بھی اپنے ساس سسر کے گھر میں رہتی ہوں۔ میرے بیٹے کو اس کی ددھیال خرم خان کا بیٹا تسلیم کرتی ہے۔ مجھے اور کیا چاہیے۔ خرم خان اپنی خاندانی بیوی کے پاس رہے، میں نے کبھی اعتراض کیا اور نہ کروں گی۔ میرا بیٹا تو اس کو بابا جان کہہ کر پکار سکتا ہے اسی پر میں اپنے رب کا شکر ادا کرتی رہتی ہوں۔
(ن…ملتان)