Sadd Shukar Laaj Reh Gaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1763
میں ان دنوں 6برس کی تھی۔ ایک دن امّی کو بتائے بغیر ماموں کے گھر چلی گئی۔ ان کا گھر قریب ہی تھا۔ باتوں باتوں میں ممانی نے پوچھ لیا۔ کیا بڑی خالہ تمہارے گھر آتی ہیں؟
اتفاق کہ اسی دن بڑی خالہ آئی ہوئی تھیں۔ وہ آج ہی ہمارے گھر آئی ہیں۔ میں نے جواب دیا اور ان کے بچّوں کے ساتھ کھیل میں مصروف ہو گئی۔ تھوڑی دیر کھیل کر اپنے گھر لوٹی تو امّی نے سوال کیا۔ مینا!تم کہاں غائب ہو گئی تھیں؟
ماموں کے گھر گئی تھی اماں۔
مجھے بتائے بغیر! کتنی بار کہا ہے کہ بغیر بتائے کہیں مت جایا کرو۔میں پریشان ہو گئی تھی، ابھی تمہیں ڈھونڈنے کو نکلنے والی تھی۔
کیا پوچھ رہی تھیں وہ تم سے؟ خالہ نے متجسس ہو کر سوال کیا۔
وہ پوچھ رہی تھیں، کیا بڑی خالہ تمہارے گھر آتی ہیں؟ میں نے بتایا تو امّی اور خالہ دونوں کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
ہم اسے منہ نہ لگائیں پھر بھی اسے ہماری جاسوسی کی پڑی رہتی ہے اور نہ جانے کیا کیا نہیں کریدا ہو گا بچّی سے۔کل جا کر خبر لوں گی اس کی۔
دوسرے روز وہ ممانی کے گھر گئیں اور ان سے جھگڑنے لگیں کہ تمہیں کیا حق پہنچتا ہے ہماری جاسوسی کرنے کا؟ تم نے مبینہ سے کیوں پوچھ گچھ کی؟
میں نے اگر ایک بات یوں ہی پوچھ لی تو اس میں ایسی بگڑنے والی کیا بات ہے۔ آپ تو خواہ مخواہ جھلس رہی ہیں۔ جھلسو، مرو تم اور جھلسیں میرے دشمن۔ بڑی خالہ بھی جھگڑے میں کود پڑیں بھاوج سے۔
منہ سنبھال کر بات کرو، لگتا ہے آپے میں نہیں ہو۔ بس پھر کیا تھا نندوں اور بھاوج میں خوب لے دے ہوئی بلکہ گھمسان کا رَن پڑا۔ چھوٹی ممانی نے اپنی حمایت سے بڑی ممانی کو کمک پہنچائی۔ یوں نوبت ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔ بڑی ممانی دھاڑیں مار مار کر روئیں۔ امّی اور خالہ بھی اپنے بالوں کو نوچ کھسوٹ کر روتی پیٹتی گھر آ گئیں۔ جب رات کو دونوں ماموں گھر آئے تو بیویوں نے بلک بلک کر آہ و زاری کی کہ آج تمہاری دونوں بہنوں نے ہمارے گھر آ کر ہماری بے عزتی کی ہے، مار پیٹ کر گئی ہیں۔ وہ اتنا پھوٹ پھوٹ کر روئیں کہ گھبرائے ہوئے دونوں ماموں اسی وقت ہمارے گھر آئے اور بہنوں سے دریافت کیا کہ ایسی کیا بات آپ لوگوں نے کہی ہے جو ہماری بیویاں گھر چھوڑ جانے پر آمادہ ہیں۔
بہنوں نے اپنی سی کہی تو بھائی بھی غصّے میں آ گئے اور کہا کہ تم لوگ ذرا ذرا سی بات پر ہنگامہ کرتی ہو، اگر ایسے ہی ہنگامہ کرنا ہے تو مت آیا کرو۔ وہ ویسے ہی غصّے میں کہہ گئے تھے۔ والدہ اورخالہ نے اس بات کو خاندان بھر میں جا کر کہا کہ ہمارے بھائیوں نے اپنے گھروں کے دروازے ہم پر بند کر دیئے ہیں۔
خاندان والوں نے بھی اس بات کو خوب اچھالا کہ ایسے بھائیوں سے پھرکیا ناتا رکھنا۔ ان سے کہو کہ تمہارے حصّے کی جائیداد تقسیم کر دیں ورنہ عدالت سے اپنا حق لے لو۔
یہ باتیں جب کچھ رشتے داروں نے جا کر ماموں سے کہیںتو وہ بولے کہ ہماری بہنوں سے کہو کہ جا کر عدالت کے ذریعے اپنا حصّہ لے لیں، یوں تو ہم نہیں دیں گے۔
یہ سننا تھا کہ امّی اور خالہ کا پارہ ساتویں آسمان پر جا پہنچا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کو نیچا دکھانے کیلئے عدالت میں کیس کر دیا۔ بہن، بھائیوں کے پیارے رشتے ختم ہو گئے، محبت بھرا سلوک فنا ہو گیا، اپنا ہی خون ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ دس سال تک کیس چلتا رہا، نتیجہ کچھ نہ نکلا آخرکار بڑی خالہ کو موت کا سندیسہ آ پہنچا اور وہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
خالہ بے اولاد تھیں، جائیداد ان کے کسی کام نہ آتی لیکن امّی اس میدان کار زار میں وکیلوں اور پیشیوں کے جھرمٹ میں اکیلی رہ گئیں۔ ادھر میرے والد کا انتقال ہو گیا اور ہمارے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والا کوئی نہ رہا۔ ہم ماموں کے گھر نہیں جا سکتے تھے کہ وہ جائداد کے کیس میں فریق تھے۔
اس مقدمے پر امّی کا اتنا خرچہ ہوا کہ رہی سہی پونجی بھی ختم ہو گئی۔ اتنا سرمایہ جائداد سے نہ ملنا تھا کہ جس قدر سرمایہ اس کیس پر لگ چکا تھا۔ ذہنی پریشانی الگ بھگتی اور ہم ماموئوں کی محبت کو الگ ترستے تھے۔
ان دنوں ہم بری طرح مالی پریشانیوں میں گھر چکے تھے۔ میں نے میٹرک پاس کیا تھا چونکہ بہن، بھائیوں میں سب سے بڑی تھی یوں کنبے کا بوجھ مجھ پر آ گرا۔ روز نوکری کی تلاش میں ماری ماری پھرنے لگی۔ اتفاق سے ایک کمپنی میں انٹرویو دینے گئی تو وہاں انٹرویو بورڈ کے ممبران میں ماموں بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھا تو گم صم رہ گئے۔ انٹرویو دے کر باہر آئی، وہ بھی آفس سے اٹھ کر میرے پیچھے آئے اور مجھے پکارا۔ مڑ کر دیکھا تو سامنے ماموں تھے۔ بولے۔ وہ سامنے میری کار کھڑی ہے، چلو آئو، میرے ساتھ اس میں بیٹھ جائو۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی۔ کہنے لگے۔ نہیں جانتا تھا کہ تمہارے حالات ایسے ہو چکے ہیں اور تم نوکری کیلئے در در ماری ماری پھر رہی ہو۔ ایسی بات تھی تو مجھے ٹیلیفون کر دیا ہوتا۔ پھر بولے… دراصل تمہاری ماں کی ضد کی وجہ سے مقدمہ بازی ہو گئی۔ خیر اب تم نوکری کی خاطر کہیں مت جانا، کالج میں داخلہ لے لینا۔ میں تمہاری تعلیم کا خرچہ دوں گا اور تمہاری ماں کا جائداد میں جو حصّہ بنتا ہے وہ بھی تمہیں مل جائے گا۔ تمہیں اس حال میں دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مقدمہ بازی ختم کر دوں۔
ماموں جان نے محبت میں جو بات کہی تو خوشی سے میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ گھر آ کر امّی کو بتایا، وہ بھی رو پڑیں۔ بولیں۔میں کب مقدمہ بازی چاہتی تھی، یہ تو بھابی جان سے جھگڑا ہوا تو غصّے میں ایسا قدم اٹھا لیا۔ خواہ مخواہ بھائیوں کو پریشان کیا۔ مجھے اب جائداد نہیں بھائیوں کی ضرورت ہے۔ حصّہ جائے بھاڑ میں۔ بھائیوں کو کھو کر بھلا میں ایسی جائداد کا کیا کروں گی۔
یوں بارہ برس بعد اماں اور ماموئوں میں صلح ہو گئی۔ جائداد میں جو حصّہ بنتا تھا اس سے کہیں زیادہ انہوں نے میری والدہ کو دے دیا۔ چھوٹی بہن کا رشتہ اپنے بیٹے صفدر اور میرا رشتہ ماموں جان نے اپنے لڑکے وقیع کیلئے لے لیا۔
منگنی کے سال بعد میری شادی وقیع سے ہو گئی اور ہم ہنی مون منانے اسلام آباد چلے گئے۔ اسلام آباد میں تایا کا گھر تھا، انہیں خبر ہوئی تو ہوٹل آئے اور کھانے کی دعوت دے گئے۔ عرصے سے ان سے کچھ تعلق اور رابطہ نہ رہا تھا، اب انہوں نے مدعو کیا تو میں نے سوچا کہ دعوت رد کرنا بری بات ہے، سوہامی بھر لی۔
اگلے دن شام کو دعوت پر گئے۔ تائی اور ان کے بچّوں نے اصرار کیا کہ اب آئی ہو تو ایک دن ہمارے پاس رہو۔ وقیع نے کہا…مجھے دوست کی شادی میں جانا ہے، بے شک آج رات مینا آپ کے پاس رہ جائے۔میں کل شام کو آ کر لے جائوں گا۔ شوہر سے بھی اجازت مل گئی اور میں تایا کے گھر ٹھہر گئی جبکہ وقیع چلے گئے۔ شاید وہ ان کے گھر ٹھہرنا نہ چاہتے تھے۔ اس کے بعد وقیع کے ساتھ کیا عجب واقعہ پیش آیا کہ کانوں کو یقین نہ آتا تھا۔ ان ہی کی زبانی سنیئے۔
مینا اس رات تمہیں تایا کے گھر چھوڑ کر ہوٹل آیا۔ چونکہ مہنگا ہوٹل تھا کافی بل بن چکا تھا۔ سوچا آج رات کسی دوسرے کم کرایے والے ہوٹل میں کمرہ لے لیتا ہوں، ایک رات ہی تو بسر کرنی ہے، صبح ایوبیہ کی سیر کے بعد تمہارے پاس چلا جائوں گا اور پھر ہم لاہور کیلئے روانہ ہو جائیں گے۔
رات ہو رہی تھی۔ ہوٹل کی سیڑھیاں اترا تو سڑک پر ہی ایک ٹیکسی ڈرائیور نظر آ گیا۔ اس سے کسی درمیانے درجے کے ہوٹل کا پوچھا۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کے پاس ایک 18-19برس کا لڑکا کھڑا تھا۔ ڈرائیور نے کہا ۔صاحب!اس سے بات کر لیں۔ لڑکے نے اپنا نام عظمت بتایا۔
وہ ایک خوبرو، سیدھا سادا سا نوجوان لگتا تھا۔ اس نے کہا…صاحب میں بھی
یہاں سیر کو آیا تھا۔قریبی ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ اچھا ہوٹل ہے اور بہت مناسب کرایہ ہے۔ چاہیں تو آپ کو وہاں لئے چلتا ہوں، چاہیں تو میرے ساتھ ٹھہر جائیں۔ شاید اس وقت کوئی کمرہ خالی نہ ملے۔
اچھا چلو، دیکھ لیتے ہیں۔ یہ کہہ کر میں اس کے ہمراہ ہو لیا۔
میں اور وہ ہوٹل میں آ گئے۔ اس کا کمرہ پہلے سے بک تھا۔ اس نے میرا بیگ اٹھا لیا اور اپنے کمرے میں لے آیا جہاں دو بستر الگ الگ موجود تھے۔
اپنے لئے وہ کھانا لینے چلا گیا اور میں نے وضو کر کے عشاء کی نماز پڑھی۔ تھکن ہو رہی تھی، ایک طرف لگے سنگل بیڈ پر لیٹتے ہی سو گیا۔ صبح میری آنکھ کھلی، دوسرے سنگل بیڈ کی طرف نگاہ ڈالی جو عظمت کا تھا لیکن وہاں عظمت نہیں تھا بلکہ ایک نوجوان سترہ برس کی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے دیکھتے ہی جیسے میرے بدن میں لہو جم کر رہ گیا ۔
میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور لڑکی سے سوال کیا۔تم یہاں کیسے اور وہ لڑکا کہاں ہے؟ وہ بولی۔ کون سا لڑکا، یہاں کوئی لڑکا نہیں ہے۔
تو تم یہاں کیسے آ گئیں۔ کہنے لگی۔واہ بڑے بھولے بن رہے ہو، مذاق کرتے ہو، رات خود ہی تو مجھے لائے تھے۔
میں سمجھ گیا یہ کوئی پیسے بٹورنے والا معاملہ ہے۔ میں اس شہر میں نیا تھا، کبھی ایسے دھندوں میں نہ پڑا تھا۔ سوچا پولیس کو اطلاع کر دوں پھر بزدلی آڑے آ گئی۔ ہوٹل کے منیجر کو بتاتا تو شاید خود پھنس جاتا۔ پس یہی سوچا جتنا پیسہ یہ لڑکی مانگے دے دینا چاہئے اور جان چھڑا لینی چاہئے ورنہ لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔
بدنامی سے زیادہ تمہارا اور تمہارے رشتہ داروں کا خوف سہما رہا تھا۔ تم میرے ساتھ ہنی مون پر اسلام آباد آئی ہوئی تھیں۔ اگر معاملہ کھل جاتاتو تم کیا سوچتیں۔تب ہی اس لڑکی سے مخاطب ہوا۔ دیکھو بی بی! صاف صاف مجھے بتا دو کہ تمہیں کتنا روپیہ چاہئے؟ وہ بولی…ایک ہزار روپے۔ ان دنوں ہزار روپیہ بہت تھا تاہم یہ رقم عزت کے بچائو کیلئے بہت نہ تھی۔ مجھے سوچتے دیکھ کر بولی۔رقم دے دو اور اپنا بیگ اٹھا کر چلے جائو ورنہ میں شور مچا دوں گی ۔ میرا کچھ نہ جائے گا مگر تمہاری عزت جائے گی۔ پولیس آئی تو بھی میرا کچھ نہیں بگڑے گا مگر تم…
دیکھو لڑکی تم مجھے زیادہ سبق مت پڑھائو۔ یہ شہر میرا نہیں ہے، اگر میرا شہر ہوتا تو میں تمہیں اچھی طرح سبق سکھا دیتا۔ یہ لو روپیہ۔میں نے ایک ہزار کی رقم اس کے آگے رکھی۔ اپنا بیگ اٹھا کر کمرے سے نکل آیا۔
اس وقت دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ہزار بلائیں میرے تعاقب میں ہوں۔ وہاں سے سیدھا تمہارے پاس آ رہا ہوں۔ اب اپنے پرس کو ہلکا کرو اور کچھ رقم ہے تو نکالو تاکہ ہم عزت کے ساتھ گھر روانہ ہوں۔ تایا اور تائی نے منہ دکھائی میں ہزار روپیہ دیا تھا، کچھ اور بھی رقم تھی میرے پاس سو ہم نے اپنے میزبانوں سے اجازت لی اور ٹکٹ لے کر لاہور پہنچے۔ اس روز اپنے شوہر کی پریشانی دیکھی نہ جاتی تھی حالانکہ مجھے ان پر پورا اعتبار تھا۔
آج اس واقعے کو 40برس بیت گئے ہیں۔ ہمارے بچّے جوان ہیں مگر جب بھی وقیع کے ساتھ اسلام آباد سیر کیلئے آنا ہوتا ہے، اس ہوٹل کے پاس سے گزرتے ہوئے خوب ہنستے ہیں پھر افسردہ ہو کر کہتے ہیں۔ دنیا میں کیسے کیسے واقعات ہوتے ہیں لیکن یہ واقعہ بڑا انوکھا تھا۔
سوچتی ہوں پتا نہیں اس قسم کی لڑکیاں خود برائی کی راہ پر اپنی مرضی سے چلتی ہیں یا انہیں غلط قسم کے لوگ اس راہ پر چلنے کیلئے مجبور کر دیتے ہیں۔ دعا ہے اللہ بچائے ہم سب خواتین اور ہماری بچیوں کو ہر قسم کے برے حالات سے اور اپنی پناہ و عافیت میں رکھے۔ (آمین) (م…ملتان)