Sajal Ali – Husan o Ada Ka Haseen Imtazaj

416
گڑیا جیسی بڑی بڑی، حیران اور معصوم سی آنکھیں، بھولی صورت، مختصر سراپا، مزاج میں انکساری اور بے پناہ باصلاحیت…! مختصر الفاظ میں سجل علی کی شخصیت کو اسی طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات خاصی حیرت انگیز ہے کہ اس نوجوان لڑکی نے سات سال کے مختصر سے عرصے میں نہ صرف اپنے آپ کو ایک بہت اچھی اور باصلاحیت اداکارہ کے طور پر منوالیا ہے بلکہ کاروباری اعتبار سے بھی یہ کامیابی حاصل کی ہے کہ ٹی وی اور فلم کا ہر پروڈیوسر اسے اپنے کسی نہ کسی پروجیکٹ میں کاسٹ کرنے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود شہرت کی طلب گار دکھائی نہیںدیتی۔ وہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتی، شہرت شاید خود ہی اس کی تلاش میں تھی۔
حسن و ادا کے دیپ جلاتی ہوئی یہ خوبصورت غزل یعنی اداکارہ سجل اب بھی انٹرویو دیتے ہوئے شرماتی ہے، گھبراتی ہے۔ اپنے آپ کو اسٹار ہرگز نہیں سمجھتی۔ شایداسے اب بھی یقین نہیں آتا کہ وہ اتنی مشہور اور مقبول ہوچکی ہے۔ یہ سب کچھ شاید اسے ایک خواب سا لگتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سینئر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، اسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں تو وہ حیران رہ جاتی ہے۔ خوش بخت شجاعت اسے ملیں اور انہوں نے ایک مداح یا پرستار کی طرح اس کی تعریف کی تو وہ بے یقینی سے ان کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ وہ تو خود ان کی بہت بڑی مداح تھی۔
سجل علی پہلی بار 2011ء میں ٹی وی سیریل ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ میں نمودار ہوئی تھیں۔ اس سیریل میں تقریباً سبھی ادارکارائیں نئی اور نوآموز تھیں، جن میں سجل کی بہن صبور بھی شامل تھی۔ سجل علی اپنی اس پہلی سیریل سے ہی ناظرین اور ڈراما پروڈیوسرز کی نظر میں آگئیں۔ اس سیریل کا تاثر اس لئے بھی دیرپا تھا کہ یہ300؍قسطوں پر مشتمل تھی۔ تاہم سجل علی تو چند قسطوں کے بعد ہی ایک جانی پہچانی شخصیت بن گئیں۔ راہ چلتے لوگ انہیں پہچاننے لگے تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ شہرت یوں راتوں رات بھی مل جاتی ہے۔
وہ گویا اس وقت کی یادوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بتاتی ہیں ’’میرے لئے یہ ایک حیرت انگیز، لیکن خوشگوار تجربہ تھا۔ چند دن پہلے تک کوئی مجھے جانتا نہ تھا اور چند دن بعد، راہ چلتے لوگوں کے لئے میرا چہرہ شناسا ہوچکا تھا۔ تاہم میںنے پوری کوشش کی کہ شہرت سے میرا دماغ خراب نہ ہونے پائے۔ میری والدہ نے بھی مجھے زیادہ اونچی ہوائوں میں اڑنے سے باز رکھا اور مجھے سمجھایا کہ کس طرح میں اپنے قدم زمین پر ہی جمائے رکھ سکتی ہوں۔ ہمیشہ حقیقت کی دنیا میں رہنا میں نے انہی سے سیکھا ہے۔ شہرت کو بہت زیادہ اہم نہیں سمجھنا چاہئے، یہ ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔‘‘
پہلی سیریل کے بعد شوبز کی دنیا میں سجل کا سفر کچھ اور تیز ہوگیا۔ ان کی ایک اور سیریل ’’محبت جائے بھاڑ میں‘‘ تھی، جس میں ریشم، حنا دلپذیر اور عدنان صدیقی ان کے ساتھ تھے۔ سیریل ’’ننھی‘‘ میں انہوں نے جاوید شیخ کے ساتھ کام کیا ’’چپ رہو‘‘ بھی ان کی ایک سیریل تھی۔ وہ جب بھی ٹی وی پر نمودار ہوئیں، انہوں نے داد سمیٹی لیکن بڑھتی ہوئی شہرت اور مقبولیت اب ان کے لئے کچھ اور بھی بے معنی سی ہوگئی ہے۔ شاید اس لئے کہ پچھلے سال کینسر کے باعث ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے تو انہیں ہر چیز اور بھی زیادہ ناپائیدار اور عارضی سی لگنے لگی ہے۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ عمرے سے واپس آئی تھیں جب ان کی والدہ کو بخار ہوا۔ انہوں نے اسے عام سا بخارسمجھا لیکن صرف 17؍دن کے اندر وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
یہ صدمہ انہیں اس وقت سہنا پڑا جب وہ بولی وڈ میں سری دیوی کے ساتھ اپنی پہلی فلم ’’موم‘‘ مکمل کرارہی تھیں۔ ان کی فلم کے تقریباً ساتھ ساتھ ہی پاکستان کی دوسری دو اداکارائوں کی بولی وڈ فلمیں بھی ریلیز ہوئیں۔ وہ اداکارائیں سجل سے زیادہ سینئر اور اپنے فن میں ماہر تھیں لیکن خود ان فنکارائوں نے بھی سجل کی صلاحیتوں اور فن کو سراہا۔ تاہم سجل اسے اپنی صلاحیتوں کا کمال نہیں، بلکہ صرف قسمت کی مہربانی سمجھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’’اپنے کیریئر کے آغاز پر میں نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ میں بہت محنت سے کام کرتی تھی لیکن ڈراموں کے آن ایئر جانے سے پہلے ان کی جو تعارفی جھلکیاں چلتی تھیں، ان میں سے مجھے نکال دیا جاتا تھا۔ میں تنہائی میں اس طرح کی باتوںکے بارے میں سوچ کر روتی تھی لیکن بہرحال… وہ وقت بھی گزر گیا۔ آج میرا کام ہی میرا تعارف ہے۔ اگر ایک فنکار دوسرے فنکار کی صلاحیتوں کو تسلیم کرلے تواس سے نہ صرف بطور فنکار اس کا بڑا پن ظاہر ہوتا ہے بلکہ بطور انسان بھی وہ کچھ اور بڑا ہوجاتا ہے۔‘‘
ٹی وی ڈراموں کے معیار اور کرداروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سجل کہتی ہیں ’’آج کل زیادہ تر گھر میں بیٹھی، روتی دھوتی لڑکی کے کردار کو پسند کیا جاتا ہے حالانکہ افسانوں، ڈراموں اور حقیقی زندگی میں ہر دور میں ایسی لڑکیاں رہی ہیں اور آج بھی موجود ہیں جن میں جبر اور ناجائز باتوں کے خلاف بغاوت کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ پرانی سیریلز ’تنہائیاں‘، ’ان کہی‘ یا اس سے بھی پرانی سیریل ’شہزوری‘ وغیرہ دیکھیں، منٹو کے افسانے پڑھیں، آپ کو مضبوط اور نظریاتی لڑکیوں کے کردار ملیں گے جنہیں بعض لوگ باغی یا سرکش کے نام بھی دیتے ہیں۔ ہمیں ایسی لڑکیوں یا خواتین کو بھی اپنے ڈراموں کے کرداروں میں ڈھالنا چاہئے۔‘‘
سجل کا ناظرین کیلئے یہ بھی مشورہ ہے ’’ہمیں سب کچھ ڈراموں سے ہی نہیں سیکھنا ہے۔ تفریح کو محض تفریح سمجھنا چاہئے۔ ڈرامے دل بہلانے اور وقت گزاری کا ذریعہ ہیں۔ ان میں کہیں کہیں ہمیں حقیقی زندگی اور اپنے گردوپیش کی جھلک بھی نظر آجاتی ہے اور کبھی کبھی اپنے دکھوں کا احساس بھی شاید یہ سوچ کر کچھ کم ہوجاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ہم ہی نہیں ہیں جس پر یہ گزررہی ہے… لیکن صرف ٹی وی دیکھنا یا اس کے بارے میں شکوے شکایتیں کرنا ہی تو ضروری نہیں۔ کبھی آپ کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ معلوماتی پروگرام بھی دیکھ سکتے ہیں، اپنے کاموں اور ذمے داریوں کو بھی زیادہ وقت دے سکتے ہیں۔‘‘
مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں سجل کہتی ہیں ’’مجھے بہت کچھ کرنا ہے۔ میں ساری زندگی ایک اداکارہ کے طور پر نہیں گزارنا چاہتی۔مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے۔ پورا پاکستان دیکھنا ہے اور دنیا کی سیر بھی کرنی ہے۔ میں موسیقی اور گانا بھی سیکھنا چاہتی ہوں اور اگر کوئی اچھا آدمی مل گیا تو شاید گھر بسا کے بھی بیٹھ جائوں۔ حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ مجھے شادی سے خوف آتا ہے۔ میں نے بڑے بڑے گہرے تعلق، مضبوط رشتے ٹوٹتے دیکھے ہیں۔‘‘
سجل کے ذہن کے کسی تاریک گوشے میں یہ خوف شاید اس لئے بھی بیٹھا ہوا ہے کہ ان کے والدین کی شادی ناکام ہوگئی تھی اور ان کے والد نے جب ان کی والدہ کو چھوڑ کر دوسری شادی کرلی تو ان کی والدہ نے بہت مشکل وقت دیکھا۔ اسی دوران وہ لاہور سے کراچی آگئے۔ زندگی کی مشکلات نے سجل کو زیادہ سے زیادہ محنت کرنا سکھایا۔ تاہم اب وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوںنے والدہ کے انتقال کے بعد اپنے والد سے بھی دوبارہ بات شروع کردی ہے بلکہ اب تو وہ ان کے پاس واپس لاہو ر جانے کے بارے میں بھی سوچتی ہیں۔ کراچی کا موسم بھی انہیںراس نہیںآتا اور وہ جب یہاں آئی تھیں تو اس وقت کی کچھ اچھی یادیں اس شہر سے وابستہ نہیں ہیں… لیکن پھر وہ سوچتی ہیں کہ برے وقت کے بعد اچھا وقت بھی انہوں نے اسی شہر میں دیکھا ہے، اس لئے یہاں سے جانے کو بھی جی نہیں چاہتا۔
SHARE