Sakoon e Dil Ki Khatir | Teen Auratien Teen Kahaniyan

817
یوں تو میرے والدین میں کبھی نہ بنی لیکن ہمارے گھر کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ یہاں لڑکوں کو فوقیت دی جاتی جبکہ بیٹیوں سے دورِ جاہلیت والا سلوک کیا جاتا تھا۔ یوں لڑکی ہونے کی وجہ سے اس امتیازی سلوک نے مجھے بالکل ہلا کر رکھ دیا۔ سوچوں کی اس اذیت بھری زندگی نے میری رُوح کے تار جھنجھوڑ ڈالے تھے۔ سوچتی رہتی تھی کہ ہمارے گھر کا ماحول دوسرے گھروں جیسا کیوں نہیں ہے۔ ہمیں بھائیوں جیسی اہمیت کیوں نہیں ملتی۔
کاش میں نے اس گھر میں جنم نہ لیا ہوتا کہ جہاں والدین نے کبھی ہم بچوں پر توجہ نہ دی۔ وہ پیار نہ دیا جس کی خاص طور پر بچیوں کو ضرور ت ہوتی ہے۔ ہمیں ساتھ لے کر کہیں نہ جاتے اور نہ کسی سے ملنے دیتے۔ رشتے دار آتے اور ہم دُور سے انہیں دیکھتے۔ وہ بڑوں سے مل کر چلے جاتے۔ گھر میں ایک خاص قسم کا تنائو رہتا تھا۔ میری والدہ کو شوق تھا کہ ان کے بچّے پڑھ لکھ جائیں کیونکہ ان کو خود تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ ملا تھا۔ سسرال میں سبھی پڑھے لکھے تھے۔ ان کے سامنے یہ احساس کمتری کا شکار رہتی تھیں اور جاہل اَن پڑھ ہونے کے طعنے سننے پڑتے تھے۔ تبھی چاہتی تھیں کہ ان کی اولاد میں یہ کمی نہ رہے۔ کوئی ان کو اَن پڑھ اور جاہل نہ کہے۔
جس گھر کا ماحول پُرسکون نہ ہو۔ وہاں بچّے اپنی ٹوٹی پھوٹی اور مسخ شدہ شخصیت کے ساتھ کس طرح ساتھی طالب علموں کے ہمراہ قدم سے قدم ملا کر چل سکتے ہیں حالانکہ میں ذہین تھی اور محنت بھی خوب کرتی تھی لیکن جب امتحانی پرچہ حل کرنے بیٹھتی، دل دھڑکنے لگتا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا اور میں ایک لفظ بھی نہ لکھ پاتی۔ بالآخر والد صاحب کو توجہ دینی پڑی، انہوں نے سمجھ لیا کہ مجھے پڑھائی میں مدد کی اشد ضرورت ہے ورنہ کبھی نہ پڑھ سکوں گی۔ انہوں نے اس ٹیوٹر سے بات کی جو روز شام کو میرے بھائیوں کو پڑھانے آیا کرتا تھا۔ اُس نے کہا… ٹھیک ہے، آپ کے لڑکوں کو پڑھانے کے بعد میں آپ کی بیٹی کو بھی پڑھا دیا کروں گا۔
میری ضرورت ان دنوں ٹیوٹر سے زیادہ کسی ایسی ہستی کی تھی جو میری ٹوٹی ہوئی شخصیت کو سہارا دے۔ میری رُوح محبت بھرے سلوک کی پیاسی تھی۔ اُستاد ہمارے گھریلو ماحول کو سمجھ چکے تھے۔ ان کا نام بلند بخت تھا۔ بخت صاحب نوجوان آدمی تھے حال ہی میں فارغ التحصیل ہو چکے تھے اور ملازمت کی تلاش میں تھے۔ اس دوران ٹیوشن پڑھاتے تھے۔ انہوں نے مجھے بہت پیار و توجہ سے پڑھانا شروع کر دیا۔ اُن کی بھرپور توجہ کے باعث میں نہ صرف پڑھائی میں دلچسپی لینے لگی بلکہ ان کی ذات بھی میرے لیے دلچسپی کا مرکز بن گئی اور یوں ہم چاہت کی منزلوں سے آگے نکل گئے۔
بخت بہ ظاہر شرافت کا نمونہ تھے اور ان کے نیک چلن ہونے کے ہمارے گھر میں چرچے تھے۔ گھر کا ہر فرد اُن کی نیک نفسی اور اچھے اخلاق کے گُن گاتا تھا۔ اس امر کی گھر والوں کو مطلق خبر نہ تھی کہ میں اسکول سے چھٹی ہو جانے کے بعد کچھ وقت اپنے ٹیوٹر کے ساتھ گھر سے باہر گزارتی ہوں۔ ہم اکثر ایک قریبی ریسٹورنٹ کے فیملی روم میں جا بیٹھتے اور تھوڑی دیر بات چیت کر لیا کرتے… اس دوران چائے یا کافی ہم دونوں کا موڈ مزید خوشگوار بنا دیتی تھی۔
بخت نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جونہی ان کو ملازمت مل جائے گی، مجھ سے شادی کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے والد مجھے پسند کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارا رشتہ مجھے دے دیں گے۔ اس بات پر میں نے بھی یقین کیا کیونکہ والد صاحب بلند بخت کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ ہر وقت اُن کی تعریف کرتے رہتے تھے۔ میری والدہ سے کہتے کہ ایسے لائق بیٹے نصیب والوں کے ہوتے ہیں۔ ابّا ان کی ملازمت کی کوشش بھی کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے اس بارے میں اپنے کئی دوستوں سے کہہ رکھا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور میں بخت کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگی۔ میٹرک پاس کیا تو سب سے زیادہ بخت کو خوشی ہوئی۔ میرے والدین کا کہنا تھا کہ یہ سب بخت کی محنت کا نتیجہ ہے ورنہ کبریٰ نے کب پاس ہونا تھا۔ جب بخت پاس ہونے کی خوشی میں میرے لئے کتابوں کا تحفہ لائے تو میں نے انہیں وعدہ یاد دلایا۔ وہ بولے۔ میری ہمت نہیں پڑتی ایسی بات تمہارے والدین سے کہنے کی، تم خود ہی ان کے گوش گزار کر دو کہ میں تم سے شادی کے لیے والدہ کو لانے کا آرزومند ہوں۔ وہ سمجھے کہ لڑکی ہو کر بھلا یہ کیسے والدین سے رشتے کی بات کر سکتی ہے لیکن میں اپنے جذبے میں سچی تھی، بہن کی مدد لی اور یہ بات عظمیٰ کے ذریعے والدہ تک پہنچا دی۔ اب جو بلند بخت آئے، امّی جان نے بلا جھجھک سیدھے سبھائو کہہ دیا کہ بیٹا اگر تم کبریٰ سے شادی کے آرزومند ہو تو رشتے کے لئے اپنے والدین کو لے کر آئو۔ یہ سُن کر وہ گھبرا گئے، شاید وہ یہ سُننے کے لیے تیار نہ تھے۔ سٹپٹا کر رہ گئے۔ تبھی ابو آ گئے۔ والدہ نے فوراً معاملہ کھول دیا کہ کبریٰ کے ابا، دیکھو بلند بخت کیا چاہ رہا ہے، یہ آپ کی فرزندی میں آنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
فرزندی میں آنا تو اچھی بات ہے۔ ہم اسے بیٹا سمجھ کر ہی گھر کے اندر بٹھاتے ہیں، بیٹا سمجھ کر گلے سے بھی لگا سکتے ہیں۔ بیٹیوں کا فرض ہر ماں باپ کو ادا کرنا ہوتا ہے، بلند بخت کو بیٹا بنا لینے میں کوئی ہرج نہیں۔ وہ سر جھکائے سُنا کیا۔ تبھی امّاں نے کہا۔ بیٹا اگر ایسی بات ہے تو اپنی والدہ کو میرے پاس بھیجنا۔
اب سارے بہن بھائی بخت صاحب سے پوچھتے تھے کہ کب آرہی ہیں آپ کی امّی، وہ کبھی آج کل آج کل کرنے لگتا، کبھی سر جھکا لیتا۔
ایک دن اتفاق سے بازار میں اپنی والدہ کے ہمراہ ان کی دوائیں خرید رہا تھا کہ اُسی اسٹور پر ہماری اماں بھی آ پہنچیں۔ بخت کو دیکھا فوراً آگے بڑھیں۔ بیٹا تم یہاں… پھر ان کی والدہ کی طرف دیکھا۔
یہ میرا بیٹا ہے بہن، دوائیں خریدنی تھیں اور آپ کون ہیں؟ اماں نے اپنا تعارف کروایا اور سوال کیا کہ آپ کب آ رہی ہیں ہمارے گھر… بلند بخت نے بتایا تھا کہ جلد آنے والی ہیں۔ خاتون کچھ نہ سمجھیں۔ کہا کہ اپنا پتا بتا دیں، کسی دن آ جائوں گی تب اماں نے پتا سمجھا دیا۔
ایک دن وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ آ گئیں۔ میری ماں نے جتلایا کہ آپ لوگوں کا بڑا انتظار تھا کیونکہ بخت ہمارے ہاں رشتہ کرنا چاہتا ہے اور آپ کو لانے کی بات کی تھی اُس نے۔ وہ بولیں- بہن جس میں اُس کی خوشی اور جیسے آپ راضی… مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ آپ اچھے لوگ ہیں، تبھی اس نے ایسا کہا ہوگا۔ یوں بھی ہمیں بچوں کی خوشی عزیز رکھنی چاہیے۔ ہم تو بلند بخت کی خوشی میں خوش ہیں۔ یوں دونوں خواتین نے آپس میں چند ملاقاتوں اور بات چیت کے بعد منگنی کا اعلان کر دیا۔ بخت کی والدہ نے مجھے دیکھتے ہی پسند کرلیا تھا۔ گمان بھی نہ تھا کہ بخت نے اپنی ماں سے میرے بارے میں ذکر تک نہیں کیا ہے۔ غالباً وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھے خاصے دنوں تک بے وقوف بناتا رہے گا کہ ماں باپ اس رشتے پر ابھی نہیں مان رہے اور میں انہیں منانے میں لگا ہوں۔
ان کی والدہ ویسے ہی آ گئیں کہ جس گھر میں بیٹا ٹیوشن پڑھانے جاتا ہے ان لوگوں سے ملوں کہ کہاں اور کن لوگوں کے گھر جاتا ہے۔ ہم سے ملیں تو مطمئن ہوگئیں اور ہم انہیں پسند آ گئے۔ خوش ہوئیں، رشتے کی فکر میں تھیں، بیٹھے بٹھائے رشتہ بھی مل گیا۔ انہوں نے سمجھا کہ بیٹے نے لڑکی پسند کی ہوئی ہے تو بلند بخت کی خوشی پوری کر دوں۔ میرے اور اُس کے والدین خوشی خوشی ایک دوسرے سے ملنے کے بعد میرے اور بلند بخت کے رشتے پر راضی ہوگئے تھے۔ بخت کو ہوش آیا کہ ارے یہ کیا ہوگیا۔ مجھے پتا نہ چلا وہ مجھے بےوقوف بنا رہا تھا اور دلاسے دےرہا تھا۔ فی الحال اس کا شادی کا ارادہ ہی نہیں تھا مگر رشتہ طے کر لینے میں ہمارے والدین نے قباحت نہ سمجھی اور یوں بُری طرح جکڑا گیا۔
جب اُن کی والدہ نے ہمارے گھر آنا جانا شروع کیا اور منگنی کا معاملہ طے کر لیا تو وہ اپنی والدہ سے لڑا کہ آپ نے کیوں اتنی جلدی رشتہ پکا کر دیا۔ مجھ سے تو پوچھ لیا ہوتا۔ ماں نے جواب دیا کہ ان کی لڑکی سے محبت کا چکر چلا کر تم نے شریفوں والا کام نہیں کیا۔ اتنی معصوم لڑکی کو فریب دینے کی سوچ رہے تھے تو یہ فریب خود تمہارے لئے جال ثابت ہوا ہے۔ تم نے لڑکی سے کیوں شادی کا جھوٹا وعدہ کیا تھا؟ اب اپنا وعدہ پورا کرو۔ بالآخر بڑی مشکلوں سے والدین نے دبائو ڈال کر شادی کی تاریخ طے کر دی۔
ہمارے گھر شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ جس روز شادی تھی، اس سے دو روز پہلے میری بڑی بہن پنڈی سے آئی۔ جب بھائی اُس کو لینے اسٹیشن گیا تو بخت کو وہاں پایا۔ وہ پنڈی کا ٹکٹ لے رہا تھا۔ بھائی نے پوچھا۔ آپ یہاں کس کا ٹکٹ لینے آئے ہیں۔ بتایا کہ اپنا… ایک دوست کے ساتھ پنڈی اور پھر مری جانا ہے۔ لیکن پرسوں تو آپ کی شادی ہے۔ آپ اتنی جلد کیسے واپس آئیں گے؟ کہا۔ اچھا… میری شادی ہے؟ مجھے تو خبر نہیں ہے۔ بھائی نے سمجھا مذاق کر رہے ہیں۔
وہ گھر آئے اور بتایا کہ اسٹیشن پر بخت بھائی ٹکٹ لے رہے تھے، وہ دوستوں کے ہمراہ مری جا رہے ہیں۔ میرے گھر والوں نے بھی یہی کہا کہ تم سے مذاقاً ایسا کہا ہوگا۔ شام کو اماں اُن کے گھر گئیں۔ شادی کے بارے میں کچھ بات کرنا تھی۔ پتا چلا کہ وہ تو واقعی مری چلا گیا ہے۔ اس کے والدین پریشان نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے بہانہ بنایا کہ اس نے کافی دنوں سے ملازمت کے لئے درخواست دے رکھی تھی، اتفاق کہ آج ہی کال ملی ہے، ملازمت پر اُسے بلا لیا گیا ہے لہٰذا اب آپ شادی کی تاریخ کچھ آگے کرلیں۔
میرے والدین پریشان ہوگئے کہ اب شادی کی تاریخ کیسے بدلی جاسکتی ہے۔ دعوت نامے بھجوائے جا چکے ہیں اور رشتے دار دوسرے شہروں سے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان سے کیا کہیں گے۔ جو بھی ہو، مگر جب دولہا ہی موجود نہ ہو تو شادی کیسے ہو سکتی تھی۔ تاریخ بدلنا بھی ایک امر مجبوری تھا۔ بالآخر بھاگم بھاگ ہر ایک کو اطلاع کرنا پڑی کہ ناگزیر وجہ کی بنا پر شادی کی تاریخ آگے کر دی گئی ہے۔ کہیں ٹیلی فون کیا، کہیں ٹیلی گرام دیا، جو مہمان آ چکے تھے ان سے معذرت کر لی گئی۔
ان دنوں سیل فون کا رواج نہ تھا۔ ہر کسی کے گھر ٹیلی فون کی سہولت نہ تھی۔ میرے والدین بہت بڑے امتحان میں پڑ گئے۔ برادری کو سنبھالنا ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ بخت کا انتظار ہونے لگا۔ ایک ماہ گزر گیا، وہ نہ لوٹا۔ شادی کی تاریخ بھی بدلی گئی۔ خبر نہ تھی کس محکمے میں نوکری ملی ہے کہ کوئی خبر لینے جاتا اور اس کے دل کی مرضی کسی پر عیاں نہ تھی۔ وہ دراصل شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اپنے والدین تک کو اس نے اس بات کی ہوا نہ لگنے دی کہ شادی سے بچنے کے لیے وہ یہ ڈرامے کر رہا ہے اور اس کی وجہ ایک دوسری لڑکی ہے۔
اب میرے والدین پچھتانے لگے کہ ہم نے ناحق جلدبازی میں ایسے شخص پر اعتبار کر لیا جس کی زبان پر کچھ تھا اور دل میں کچھ اور۔ اس کے والدین کم پریشان نہ تھے، اس کے دوست کے گھر گئے جس کے پاس اُس کا فون نمبر تھا۔ اُس نے فون پر بخت کو لعنت ملامت کی، تب اس نے اپنے والدین سے بات کی اور کہا کہ نئی نئی ملازمت ہے فی الحال نہیں آ سکتا۔ دو ماہ بعد آ سکوں گا۔
اے کاش وہ اس دن ہی والدین کو اصل بات سے آگاہ کر دیتا تو ہم لوگ مزید خواری سے بچ جاتے مگر اس کم ہمت انسان میں اتنی اخلاقی جرأت نہ تھی کہ سچ بات لبوں پر لاتا۔ آخری وقت تک دھوکے میں رکھا بلکہ ایک نئی تاریخ بتا دی۔میرے والدین نے دوبارہ کارڈ چھپوائے اور برادری میں تقسیم کرا دیئے۔ آخری وقت میں پھر انہیں سب سے منہ چھپانا پڑا۔
ہوا یوں کہ دُوسری بار جو تاریخ طے ہوئی تھی، بخت اس سے ایک روز پہلے گھر آ گیا۔ سب خوش ہوگئے، شکر ہے کہ وہ آ گیا۔ میں مایوں بٹھا دی گئی، سہیلیاں سہاگ گیت گانے لگیں۔ اس کا ایک دوست آیا اور والد صاحب کو بتایا کہ بلند بخت اکیلا نہیں آیا ہے بلکہ اپنی نئی دُلہن کے ساتھ آیا ہے۔ بار بار تاریخ تبدیل کرنے کا سلسلہ اب سمجھ میں آ گیا۔ اُسی دوست نے بتایا کہ وہ ایک اور گھر میں بھی ایک لڑکی کو ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا جو ایف اے کی طالبہ تھی اور ایک بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی۔ اُسے بھی محبت کا فریب دیا تھا لیکن بخت کو اُمید نہ تھی کہ اتنے امیر گھرانے کا اُسے رشتہ مل جائے گا۔ سمجھ رہا تھا کہ وہ ایک معمولی گھرانے کا بیروزگار نوجوان ہے، بھلا اتنا بڑا سرمایہ دار کیوں کر اس کو داماد بنا سکتا ہے، لہٰذا وہاں بھی بس دل لگی ہی تھی، تاہم اچانک جب لڑکی پر انکشاف ہوا کہ بخت کی شادی ہو رہی ہے۔ اس لڑکی نے بخت کے ساتھ خوب جھگڑا کیا۔ تب اُس نے کہا کہ تم رئیس آدمی کی بیٹی ہو اور میں ایک معمولی گھرانے کا فرد ہوں، تمہارا میرا رشتہ نہیں ہو سکتا۔ بے شک اپنے باپ سے منوا سکتی ہو تو منوا لو۔
لڑکی لاڈلی اور ضدّی تھی۔ وہ اَڑ گئی اور والدین سے بات منوا لی۔ عین وقت پر جبکہ شادی کے کارڈ بھی چھپ چکے تھے۔ اس لڑکی نے بخت سے کہا۔ اب مجھ سے شادی کرنی پڑے گی ورنہ میں خودکشی کر لوں گی اور میرا باپ تمہیں جیل میں ڈلوا دے گا۔ بخت کے ہوش اُڑ گئے اور اس نے دوست کو تمام کہانی بتا کر مری کی راہ لی… جہاں اُس کا ایک کلاس فیلو رہتا تھا وہ وہاں جا بیٹھا۔ لڑکی بھی اس دوست کے پاس پہنچی اور دھمکی دی کہ اُس کا پتا دو ورنہ تمہارے گھر میں زہر پی کر جان دوں گی اور تم پکڑے جائو گے۔
اس زورآور لڑکی سے ڈر کر اُس نے بخت کا پتا بتا دیا۔ وہ وہاں پہنچی اور شادی کے لئے کہا۔ یوں وہ اسے لے آئی اور والدین سے کہا کہ دولہا آ گیا ہے مگر اس کے والدین شادی میں شامل نہیں ہو رہے۔ آپ ہماری شادی کر دیجئے۔ اس طرح بخت کی شادی فرحانہ سے ہوگئی۔ ادھر دوسری بار میری تاریخ رکھی جا چکی تھی۔ پس وہ آ تو گیا مگر اپنی دلہن امیر باپ کی بیٹی فرحانہ کے ہمراہ۔ یوں جو خواری میرے والدین کی قسمت میں لکھی ہوئی تھی، اُس کا پورا پورا سامان ہوگیا۔
بخت نے تو ڈر کر وہاں شادی کرلی مگر میرا شادی والا دوپٹہ بے رنگ ہوگیا اور مایوں کی زردی میرے وجود میں اُتر گئی۔ آج اس واقعے کو برسوں گزر چکے ہیں۔ میرے سیاہ بال سفید ہوگئے ہیں۔ میں نے شادی سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ آج بھی جب سوتی ہوں تو ڈر کر اُٹھ جاتی ہوں… کسی کی شادی ہو، میں اس تقریب میں کبھی نہیں جاتی۔ مجھے شادی کے ہنگامے سے ہی ڈر سا لگتاہے۔ جیسے یہ کوئی بھیانک منظر ہو جسے دیکھنے کی مجھ میں تاب نہ ہو۔
آج بے شک زمانہ بدل گیا ہے۔ اب لڑکیوں کے لیے وہ حالات نہیں ہیں جو ہمارے دور میں تھے۔ وہ اب برملا والدین سے دل کی بات کر سکتی ہیں جبکہ ہمارے دور میں لڑکیاں یہ جرأت نہ کرسکتی تھیں۔ لڑکے بھی اپنے دل کی بات والدین کے سامنے نہیں کھول سکتے تھے۔ تب ہی اس قسم کے المیے جنم لیتے تھے۔ والدین بھی سیدھے سادے تھے کہ ایک دو ملاقاتوں میں اعتبار کا رشتہ قائم کر لیتے تھے جیسا کہ ہماری دو سادہ دل مائوں نے کیا اور جھٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ کر ڈالا۔ تاہم یہ بات آج تک سمجھ نہ سکی کہ بلند بخت، بزدل تھا یا بے وقوف یا دھوکے باز انسان تھا جس نے ایک وقت میں دو لڑکیوں سے شادی کا وعدہ کر لیا تھا۔ اللہ جانے اس نے ایسا کیوں کیا۔
وہ دو کشتیوں کا سوار تھا مگر وہ دریا پار اُتر گیا اور اُس کی عاقبت نااندیشی کی سزا مجھے مل گئی۔ میں جو گھر کے ماحول سے بیزار تھی، اُس کی توجہ اور ہمدردی پا کر اس پر اعتبار کر بیٹھی، اگر یہ توجہ مجھے اپنے ماں باپ سے مل جاتی تو یقیناً میں ایک سراب جیسی شے سے دھوکا نہ کھاتی کہ جسے محبت کہا جاتا ہے۔ میری دونوں بہنوں کی زندگی آج کامیاب اور مطمئن انداز سے گزر رہی ہے، شاید اس لیے کہ وہ مجھ سے زیادہ مضبوط اعصاب کی مالک تھیں۔
ماں باپ اور ماحول ایک ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ سب بچّے بھی ایک جیسے ہوں، کچھ بچّے بے حد حساس ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو سمجھیں اور اپنے زیادہ حساس بچوں کو ہرگز نظرانداز نہ کریں ورنہ وہ ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور زندگی میں ناکامیاں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ میرے نزدیک بچپن اور لڑکپن کی عمر میں بچوں کے لئے سب سے زیادہ ضروری اور قیمتی دولت ماں باپ کا پیار اور ان کا آپس میں وہ حسنِ سلوک ہوتا ہے جس سے گھر میں سکون کی فضا قائم ہوتی ہے اور بچّے اس پُرسکون گہوارے میں پل کر کامیاب اور کامران زندگی گزارتے ہیں۔ (ک… راولپنڈی)