Sunday, May 19, 2024

Salai Wali Amma

اک ماموں ہی ہمارا آسرا تھے، اس بھری دنیا میں ۔ بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے دوسری شادی نہ کی۔ جو کما کر لاتے، اسی سے گزارہ ہوتا۔ امی نے کئی بار کہا کہ اب تم اپنا گھر بسا لو، لیکن انہوں نے صرف امی کی بیوگی اور میری یتیمی کی خاطر انکار کردیا کہ کہیں دوسری بیوی ،ہمیں دربدر نہ کر دے ان کے اولاد نہ تھی، مجھ سے وہ اپنی اولاد کی طرح پیار کرتے تھے۔ ماں سلائی کرتی رہیں، میں اسکول پڑھتی رہی اور دکھ سکھ کے دن جوں توں گزرتے رہے۔ میٹرک کیا تو ماموں نے زمانے کے ڈر سے مجھے گھر بٹھا دیا۔ میرا بڑا دل تھا کہ آگے پڑھوں، مگر انہوں نے نہ پڑھنے دیا۔ بولے ساری عمر تمہاری ماں نے محنت کی ہے، کیا اب تم بھی نوکری کروگی؟ میں جلد تمہیں اچھی جگہ بیاہ دوں گا، جہاں تم عیش سے رہنا۔ میں تم کو عزت سے رخصت کروں گا، تب ہی چین سے مر سکوں گا۔ یوں ماں اور ماما جی کسی اچھے رشتے کے انتظار میں روز جیتے اور روز مرتے رہے، مگر وہ دن نہ آیا۔ اب میں تیس سال کی ہوگئی تھی۔ میری عمر تیزی سے ان منازل کو طے کرنے لگی جب لڑکی مستقبل کے سنہرے خواب دیکھتے دیکھتے تھکنے لگتی ہے اور سر میں چاندی اترنے کا ڈر ہوتا ہے۔ ماں اب بوڑھی ہوگئی تھیں اور ماما جی کو آنکھوں سے کم نظر آنے لگا تھا۔ ایسے میں ان کے سامنے دن، رات میرے وجود کا پہاڑ روح کا بوجھ بن گیا تھا کہ جس کی طرف سے وہ آنکھیں بند کرسکتے تھے اور نہ اپنے ہاتھوں سے ہٹا سکتے تھے۔ غربت ہو تو رشتے بھی مشکل سے ہی جڑتے ہیں۔

میری ماں محلے بھر میں اماں سلائی والی مشہور تھیں۔ محلے کے کھاتے پیتے لوگوں کی ہم برابری نہ کرسکتے تھے مگر میری نیک دل اور بھولی بھالی اماں ہر بی بی کے دکھ سکھ میں کام آتی رہیں۔ انہوں نے اماں سے رشتہ لگانے کو کہا مگر اماں کی بیٹی پر کسی کی نظر نہ گئی، جو انہوں نے اپنے منہ سے کہہ بھی دیا تو یہی جواب ملا۔ اللہ نے چاہا تو نصیبہ کھل جائے گا۔ رشتے تو آسمانوں پر ہوتے ہیں نہ جانے کون سے رشتے آسمانوں پر ہوتے ہوں گے۔ میری بٹیا کے تو بھاگ نہ کھلے۔ اماں منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی رہ جاتیں۔ وہ اب میری فکر میں سٹھیانے لگی تھیں ماما جی ہر ملنے والے سے میرے رشتے کے لیے تذکرے کرتے، دو چار نے آسرا بھی دیا مگر رشتہ لے کر کوئی نہ آیا۔ ہمارا گھر بھی کیا تھا بس ایک کٹیا تھی، جس کا چھپر بھی ٹین کا تھا کہ برسات میں جھر جھر بہتا تھا۔ ایسے گھر کی لڑکی لینے کون آئے گا۔ میں نے تو اب خواب دیکھنے ہی چھوڑ دیے تھے کہ اماں اگر ہر دم بیاہ کے تذکرے نہ چھیڑتیں تو میرے دل میں بھی کبھی شادی کا ارمان انگڑائی نہ لیتا۔ ماما جی پڑوس کی دکان پہ جاکر اخبار ضرور پڑھتے تھے۔ ایک دن وہ اخبار ہاتھ میں لیے آئے اور ماں سے بولے۔ دیکھ فریدہ اب تک ہم بھی کتنے غافل رہے۔ روز ہی اخبار پڑھتا ہوں، یہ خیال کبھی نہ آیا کہ یہ کالم اپنے کام کا بھی ہوسکتا ہے ۔ ماں سے مشورہ کرکے انہوں نے جھٹ پٹ ایک خط لکھا اور پوسٹ کر آئے۔ چند دنوں میں جواب آگیا، انہوں نے پھر دوسرا خط ارسال کردیا۔ اس کے جواب میں بھی خط آیا اور پھر دو چار دنوں بعد ہی کچھ لوگ ہماری کٹیا کا پتا پوچھتے ہوئے آ گئے ۔ یہ لوگ دیکھنے سے کافی امیر اور
خوش حال لگتے تھے۔ ماں نے ماما سے کہہ دیاکہ یہ ہمارے جوڑ کے نہیں ہیں۔ ماموں نے ان کو یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ خدا خدا کرکے تو کوئی آیا ہے اور تم ایسی باتیں لے بیٹھی ہو۔ کچھ لوگ صرف شرافت اور سیرت بھی تو ڈھونڈتے ہیں۔ سب ہی تو دولت اور جہیز نہیں دیکھتے۔ اماں بے چاری خاموش ہوگئیں ۔ دو ہفتے گزر گئے، روز ماموں اور ماں انتظار کرتے کہ ہماری لڑکی کو تو دیکھ گئے ۔ واپس آنے کا کہا تھا، شاید لڑکی پسند نہیں آئی یا ہمارے گھر کے حالات سے مایوس ہوگئے ، جو ابھی تک نہیں لوٹے۔

اچانک ایک دن پھر یہ لوگ آگئے ۔ دو عورتیں تھیں، پکے سن کی اور دو فیشن ایبل مرد ایک تو وہ لڑکا جس کا رشتہ کرنا چاہ رہے تھے اور دوسرا اس کا بڑا بھائی تھا۔ جس کا رشتہ لائے تھے، وہ خوب صورت تھا، دوسرا بھی اچھی شکل کا تھا۔ میری ماں لڑکا دیکھ کر خوش ہوگئیں کہ خوش حال ہیں، لڑکا حسین اور برسر روزگار ہے اور ہمیں کیا چاہیے۔ یہ لوگ مٹھائی ساتھ لائے تھے اور منگنی کی انگوٹھی بھی عورتوں نے مجھے انگوٹھی پہنا دی، البتہ ہم لڑکے کو انگوٹھی نہ پہنا سکے۔ وہ لوگ کہنے لگے۔ کوئی بات نہیں، آپ بنوا کر رکھیں ، مگر شادی کی تاریخ دے دیں۔ ماں اور ماما جی نے آئندہ شادی کی تاریخ طے کر کے بتانے کا وعدہ کیا اور ان کو رخصت کردیا۔ میں یہ سارا تماشہ خوشی سے دیکھ رہی تھی۔ کبھی سوچتی ماں کو کیا ہوگیا ہے۔ ان لوگوں کا خاندان پتا ہے، نہ آگے پیچھے دیکھا کہ کون ہے، کیا ہیں؟ بس جھٹ پٹ رشتہ دینے پر راضی ہوگئیں، محض خط و کتابت پر، پهرسوچتی۔ ماں بھی حق بجانب ہے۔ شادی تو جوا ہوتا ہے۔ دیکھ بھال کر کرو، تب بھی پتا نہیں ہوتا کہ بیٹی کا نصیب کیا ہوگا۔ اگر قسمت اچھی ہو، تو برے بھی اچھے بن جاتے ہیں۔ میں نے اس بارے زیادہ سوچنا چھوڑ دیا ، پھر سچ بات تو یہ ہے کہ چونتیس سال عمر ہورہی تھی اب تو یہی جی چاہتا تا کہ ایک بار دلہن تو بن جائوں، پھر جو ہو سو ہو۔ وہ دن بھی آگیا جب بارات دروازے پر آ پہنچی۔ محلے والے حیران کہ سلائی والی خالہ نے کہاں سے اتنا اچھا رشتہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ بارات میں زیادہ لوگ نہ تھے، مگر لباس اور وضع قطع سے اچھے گھرانے کے لگتے تھے ، بری بھی اچھی لائے تھے ۔ ماں تو خوشی سے پھولی نہ سماتی تھیں۔ میری ایسی سہیلیاں نہ تھیں، جو ڈھولک گیت گاتیں۔ بس نکاح ہوا اور ماما جی نے دعائوں کے ساتھ مجھے وداع کردیا اور میں بیاہ کر کراچی آگئی۔ کراچی کوئی دور نہ تھا۔ ایک بار ماں میرے گھر آئی اور ایک بار میں میکے گئی۔ شہر میں شوہر نے ایک فلیٹ کرائے پر لیا ہوا تھا، جس میں تھوڑا سا سامان تھا چند دن ہم خوش و خرم رہے۔ انہوں نے مجھے بتایا۔ میں بیرون ملک ملازمت کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہاں پیسے کم ملتے ہیں، باہر کے ملکوں میں تنخواه زیاده ملتی ہے۔ میرے بڑے بھائی باہر ہیں۔ وہ ہمارے ویزے کی کوشش کر رہے ہیں، جوں ہی کام ہوا ہم چلے جائیں گے ۔ جلد ہی ان کے بھائی کا خط آگیا اور ساتھ ویزا بھی۔ میں نے ماں کو فون کروایا تو وہ ملنے آگئیں۔ ماما جی بھی ساتھ آئے۔ ان سے رخصت لی۔ وہ بے چاری کیا کہتیں، مجبور تھیں۔ اب تو بیٹی دوسرے کے بس میں تھی۔

ہم دبئی پہنچے ، بڑی شان دار جگہ تھی۔ گھر میں ہر چیز موجود تھی۔ میں تو جیسے خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئی۔ دو دن تک یہی سمجھتی رہی کہ خواب دیکھ رہی ہوں۔ تیسرے روز شام کو شوہر نے کہا۔ کپڑے بدل کر تیار ہوجائو۔ ایک دوست کے گھر چلنا ہے۔ میں تیار ہوگئی۔ سب سے اچھا والا جوڑا پہنا، بن سنور کر ، ہلکے پھلکے زیور بھی پہن لئے اور سوچنے لگی کہ نہ جانے کیسے لوگ ہونگے۔ کہیں مجھے اجڈ ہی نہ سمجھیں، پھر یہ خواب یوں ٹوٹا کہ وہ جہاں مجھے لے گئے، وہ دوست کا گھر نہ تھا اور میرا شوہر میرا نہ تھا، کیونکہ شوہر عزت کے رکھوالے ہوتے ہیں، اپنی عزت و حرمت کا بیوپار نہیں کرتے اور یہاں تو کام ہی ان کا یہ ہی تھا۔ دونوں بھائی شادی کرکے لاتے اور عورت کو بازار کی جنس بنا دیتے۔ دولت کمانے کا آرام دہ اور آسان ذریعہ ۔ انہوں نے پہلے بھی دو شادیاں کی تھیں۔ ان عورتوں سے میری ملاقات ہوئی۔ اب ہم سب کا نصیب ایک اور کام بھی ایک ہی تھا ۔ وہ اپنے دکھوں سے سمجھوتہ کرچکی تھیں کیونکہ وہ بهی میری طرح لاوارث تھیں۔ بھال کر ایسے گھرانے پھانستے تھے، جو غریب ہوں اور جن کے پیچھے کوئی نہ ہو۔ مدت گزر گئی، اسی طرح جسم کو بکتے اور روح کو پامال ہوتے، پھر جیسے ہر احساس مٹ گیا اور مجبوری پائوں کی زنجیر بن گئی۔ یہاں تک کہ عمر رسیدگی نے آ لیا۔ میں ان کے گھر کا کچن سنبھانے پر لگا دی گئی۔ میری جگہ وہ اور دو لڑکیاں لے آئے تھے ۔گھر اور وطن سے دور صرف اپنوں کی یادیں باقی رہ گئیں ۔ سارے رشتے خاک ہوگئے ، تمام کشتیاں جل چکیں۔ لوٹ کر جانے کے تمام رستے بند ہوگئے۔ لوٹ کر جاتی بھی تو وہاں کون ملتا؟ جانے والے تو اس جہان سے گزر چکے تھے۔ اس عمر میں صرف ایک روشنی کی کرن پاس تھی، نماز کی پابندی۔ آدھی رات کو اٹھ کر اللہ کے حضور سجدے میں گر کر اپنے گناہوں کی معافی کے لیے دعائیں کرتی۔ گرچہ اپنی مرضی سے اس راہ کو نہیں چنا تھا، پھر بھی الله کا خوف آتا۔ اس رب سے ڈر تو لگتا تھا، نہ جانے ہماری بخشش ہوگی یا نہیں؟ مگر اس کی رحمتوں سے تو گناہ گار سے گناہ گار کو بھی مایوس نہ ہونا چاہیے۔ وہ معاف کرنے والا، بڑا غفور الرحیم ہے۔ خود کو سمجھاتی اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ کچھ عرصے بعد قیصر نے مجھے ایک مراکشی کے ہاتھ بیچ دیا۔

دونوں بھائیوں کی نئی بیویاں بازار جاتیں، وہ مجھے بھی کبھی کبھار ہمراہ لے جاتیں۔ ایک دن وہ ایک بڑے مال گئیں اور شاپنگ میں مصروف ہوئیں۔ میں ان کے ساتھ چلتے چلتے تھک گئی تو ایک جگہ پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ ادھر سے ایک عورت گزر رہی تھی جس کا چار سال کا بچہ دوڑتا ہوا میرے پاس آگیا۔ وہ عورت بچے کو ادھر ادھر ڈھونڈنے لگی۔ میں نے اسے پریشان دیکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا کہ تمہارا بچہ ادھر ہے۔ شکریہ خالہ جی، میرا لڑکا بہت شریر ہے۔ شکر ہے آپ نے اسے تھام لیا، ورنہ تو یہ اور آگے دوڑ جاتا۔ میرے میاں بل ادا کرنے میں مصروف تھے اور میں اس لڑکے کے پیچھے دوڑ نہیں سکتی تھی۔ میں نے کہا۔ کوئی بات نہیں بیٹی میں دیکھ رہی تھی یہ کیسے بھاگا ہے۔ میرے سامنے آیا تو میں نے روک لیا، تاکہ اور آگے نہ چلا جائے۔ وہ کہنے لگی۔ آپ کون ہیں، کہاں رہتی ہیں ؟ میں نے بتایا، پاکستانی ہوں، ایک گھر میں ملازمت کرتی ہوں، ان کا کھانا وغیرہ پکاتی ہوں۔ کیا آپ وہاں خوش ہیں؟ ہرگز نہیں، مگر مجبوری ہے، واپس وطن نہیں جاسکتی۔ کیا آپ وطن واپس جانا چاہیں گی ؟ وہاں اب میرا کوئی نہیں رہا، کس کے پاس جائوں گی؟ آپ وہاں کون سے شہر میں رہتی تھیں؟ حیدرآباد میں۔ میں نے بتایا۔ میں بھی وہاں کی رہنے والی ہوں، حیدرآباد میں کس جگہ رہتی تھیں؟ غلط کیا بتاتی میں نے علاقے اور محلے کا بتایا تو وہ چونک پڑی اور کہنے لگی۔ میں بھی وہاں کی رہنے والی ہوں، پھر تو آپ مجھے جانتی ہوں گی نہیں بیٹی، تمہاری اور میری عمر میں بہت فرق ہے، میری شادی ہوگئی تو قسمت دبئی لے آئی تهى، تب تم شاید چھوٹی سی ہوگی۔ اس نے اصرار کیا، اپنے والدین کا اتا پتا بتائیے۔ میرا تو وطن آنا جانا رہتا ہے، آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا وہاں میری ماں کا بس اتنا ہی پتا ہے بیٹی اماں سلائی والی۔ میں نے اسے ٹالنا چاہا، کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ جن کے ساتھ آئی ہوں وہ شاپنگ کر کے بس آتی ہی ہوں گی۔ اماں سلائی والی وہ چونک پڑی۔ اس کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ یہ میرے گھرانے کو جانتی ہے۔ کہنے لگی۔ اگر آپ دکھی ہیں تو میں آپ کو اپنے گھر لے جاسکتی ہوں ۔ میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، آپ میرا کچن سنبھال لینا۔ میں آپ کو ہر ماہ بہت اچھے پیسے دوں گی۔ تنخواه مت سمجھنا ۔ آپ ایک زندہ انسان ہیں ، آپ کو بھی تو اچھی زندگی گزارنے کے لیے رقم چاہیے ہوگی۔ میں ضرور چھوٹی سی تھی مگر یاد ہے کہ اماں سلائی والی ہمارے گھر آتی تھیں۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ، میں تو کب کی اس دوزخ سے نکلنا چاہتی تھی۔ جوانی ختم ہونے کو تھی، ادھیڑ عمری میں ، مجھے بیاہ کر لانے والے نام نہاد شوہر کو جب میری ضرورت نہ رہی تو اس نے جس شخص کے ہاتھ بیچا ، وه ایک مراکشی تھا اور اس نے مجھے اپنی گھریلو ملازمہ کے طور پر خریدا تھا۔ میں تو ان کی زبان بھی نہیں جانتی تھی میں نے اس بچی کو بتایا۔ بیٹی تم مجھے ایسے نہیں لے جاسکتیں، البتہ میرے مالک سے تمہارا شوہر بات کرلے تو وہ مجھے تم لوگوں کے حوالے کرسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے، ویسے ہی اجازت دے دے تمہارے ساتھ جانے کی نہیں تو جتنے میں خریدا تھا، اس سے زیادہ دام دے دو تو بھی مجھے لے جاسکتی ہو ۔ اس محلہ دار لڑکی کا نام شازیہ تھا۔ اس نے اسی وقت اپنے شوہر سے بات کی۔ میں نے ان کو دونوں مراکشی بھائیوں کا نمبر بتا دیا، جنہوں نے مجھے خریدا تھا۔ ان لوگوں نے اس سے بات کی، جس کی بیوی مجھ سے خوش نہ تھی کیونکہ مجھے مراکشی کھانے بنانے نہیں آتے تھے۔ وہ آدمی مجھے فروخت کرنے پر راضی ہوگیا اور میری خیر خواہ نے مجھ کو ان لوگوں سے خرید لیا۔ شازیہ مجھے گھر لے آئی۔ اس نے بتایا کہ تمہاری ماں زندہ ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب میں پاکستان گئی تھی، میں نے اپنی بڑی بہن سے سنا کہ اماں سلائی والی کے بھائی جب سے بیمار ہوئے ہیں، وہ دکھی رہنے لگی تھی۔ پہلے ہی بیٹی کے غم میں بیمار رہتی تھی، مگر بے چاری سلائی کرکے گزارہ چلا رہی تھی۔ وقت نے بوڑھا تو کرنا ہوتا ہے، وہ بھی بوڑھی ہوگئی اور محنت کرنے کے قابل نہ رہی تو اس کے دیور کے پوتے اسے لے گئے ہیں . حیدرآباد میں کہاں ہیں، یہ نہیں معلوم مگر ان کے شوہر کا مکان ابھی بھی خالی پڑا ہے، اس پر تالا لگا ہوا ہے ۔ تم کہو تو میں اپنے بھائی سے کہہ کر پتا کرادوں گی کہ تمہاری والدہ کہاں ہیں۔ زندہ ہیں یا الله کی رضا سے خالق کے پاس چلی گئی ہیں۔

شازیہ بات کررہی تھی اور آنسو میری آنکھوں سے رواں تھے۔ قیصر نے تو مجھے کہا تھا کہ تمہارے ماما اور ماں مر چکے ہیں۔ خدا کرے، میری ماں زندہ ہو اور میں آخری بار اس کو دیکھ سکوں، دل سے دعا کی تھی۔ کچھ باتیں انہونی ہوتی ہیں مگر ہو جاتی ہیں۔ میں نے شازیہ کو قیصر کے بارے میں بس اسی قدر بتایا کہ اس نے اور شادی کرلی تو مجھے طلاق دے کر اس مراکشی خاندان کے حوالے کردیا تھا کیونکہ یہی اس کی نئی بیوی کی مرضی تھی کہ میں وہاں نہ رہوں۔ میں پانچ سال تک مراکشی خاندان کے ساتھ رہی۔ ان کی تھوڑی تھوڑی بات سمجھتی تھی لیکن وہ میری بات سمجھ لیتے تھے۔ خیر، جب شازیہ اور اس کے شوہر پاکستان جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ آگئی۔ شازیہ میکے گئی تو میں نے اپنا محلہ دیکھا ، جہاں میں نے بچپن گزارا تھا۔ اپنا گهر دیکھا، جو پہلے جھونپڑے نما تھا، پھر ماما نے رفتہ رفتہ اس کو ایک مکان کی شکل دے دی۔ اسی گھر میں ہی تو میں نے جنم لیا تھا۔ شازیہ کے بھائی نے کسی صورت اماں سلائی والی کو تلاش کر لیا۔ مکان کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن وہ شخص آیا، جس نے تالا لگایا تھا۔ وہ والد کا وہی رشتہ دار تھا جو میری والدہ کو لے گیا تھا، کیونکہ میرے بعد یہی میرے والد کے نزدیکی رشتہ دار تھے اور وراثت میں حق جان کر اب ہمارے مکان کی دیکھ بھال کر رہے تھے مجھے مکان سے نہیں ماں سے غرض تھی اور میرے لیے خوشی کی بات یہ تھی کہ میری ماں زندہ تھیں، میں ان سے مل سکتی تھی۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش اور دلی دعا قبول ہوگئی تھی۔ میرے والد کے اس رشتہ دار کا نام جلیل تھا ۔ اس نے بتایا کہ ایک پڑوسی نے اس وقت ہم سے رابطہ کیا جب آپ کی والدہ بہت علیل اور اکیلی تھیں۔ ان کی دیکھ بھال کرنے والا اور ان کو کھانا تک دینے والا کوئی نہ تھا، لہٰذا میرے والد اور والدہ نے کہا کہ اب تک ہم نے چچی کی خبر گیری نہیں کی، کہ ان کے بھائی اور بیٹی موجود تھے، اب ہمارا فرض بنتا ہے آخری عمر کے حصے میں، جبکہ وہ تنہا رہ گئی ہیں ۔ جلیل نے بتایا۔ بہن آپ کی ماں ہمارے پاس ہیں لیکن وہ بہت نحیف ہوگئی ہیں اور چلنے پھرنے سے تقریباً معذور ہیں۔ میری والدہ اور بہن ان کا ہاتھ پکڑ کر واش روم تک لے جاتی ہیں ۔ جلیل بھائی کے ذریعے میں والدہ سے ملی تو انہوں نے اپنے گھر میں واپس آنے کی خواہش ظاہر کی کیونکہ وہ اب میرے پاس اور میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ تب ہی شازیہ نے مجھے میری والدہ کے پاس چھوڑ دیا۔

بے شک میری ماں تھوڑے دن اور زندہ رہیں، مگر یہ دن بھی میرے اور ماں کے لیے انمول تھے۔ خدا نے مجھے ملایا، آخری دنوں میں مجھے ان کی خدمت کا موقع دیا۔ میں نے ان کو اپنی گزری ہوئی زندگی کے تاریک دنوں کے بارے میں کچھ نہ بتایا کیونکہ میں انہیں دکھ نہ دینا چاہتی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد میں نے جلیل بھائی سے درخواست کی کہ مجھے اپنے والد کے گھر میں رہنے دیں۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں یہ گھر ان کے نام لکھ دوں گی، وہ بولے۔ بہن، تم اپنی خوشی سے والدکے گھر رہنا چاہتی ہو ، بے شک رہو ، مگر اکیلی کیسے رہوگی؟ آپا شازیہ کے والد اور بھائی کا گھر سامنے ہی تھا۔ میں ان کے سہارے رہ سکتی تھی۔ جلیل بھائی کو میں نے مکان کی وراثت کا مختیار نامہ دے دیا۔ وہ میرے لیے
بھائیوں جیسے تھے۔ رشتے کے ہی نہیں سگے بھائی کی طرح انہوں نے میرا خیال رکھا اور مجھے ہر ماہ خرچے کے لیے معقول رقم بھی دیتے۔ شازیہ آپا کے شوہر کی ملازمت کا کانٹریکٹ ختم ہو گیا تو یہ لوگ بھی اپنے وطن لوٹ آگئے ۔ آپا نے اپنے والدین کے نزدیک گھر خرید لیا تو ان کی محبت سے اوربھی سہارا مل گیا۔ محلے والے بھی میرا خیال رکھنے لگے، لیکن جب وہ یہ سوال پوچھتے کہ تم آخر کہاں چلی گئی تھیں؟ میکے دوبارہ کیوں نہیں لوٹیں
کہ تمہاری ماں تمہاری جدائی سے بدحال رہتی تھیں۔ تب میں اس سوال کا ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتی۔ شازیہ نے البتہ سب کو یہ بات بتا دی کہ جس قیصر نامی شخص سے فریدہ آپا کی شادی ہوگئی تھی وہ دھوکے باز نکلا اوراس نے مراکش لے جاکر آپا کو فروخت کردیا۔ جب خریدنے والے دبئی آئے تو یہ بھی ان کے ساتھ دبئی آگئیں اور مجھے مل گئیں، یوں یہ لوٹ کر یہاں آپائی ہیں۔ محلے والوں نے ان کی بات کا یقین کرلیا اور یوں میں زندگی کے باقی دن شازیہ کے پاس گزار رہی ہوں۔ الله تعالیٰ اس جيسى بمدرد اور نیک بیٹی سب کو دے۔ میں جب تک زندہ ہوں ان اور ان کے بچوں کے لیے دعا گو رہوں گی۔

Latest Posts

Related POSTS