Samjohta | Episode 2

249
’’جج… جی جناب! بہت اچھی طرح سمجھ رہا ہوں میں آپ کی بات…!‘‘ شوکت نے فوراً سر ہلا کر جواب دیا۔ ’’میری بھی اب سمجھ میں آیا کہ آپ اس طرح تاریکی میں کیوں بیٹھے ہیں۔‘‘
’’بالکل یہی بات ہے۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’اگر ہمیں پتا چلا کہ تم نے رازداری سے کام نہیں لیا تو فوراً ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا اور ہاں! تمہاری تنخواہ تیس ہزار ماہوار ہوگی۔‘‘
شوکت حسین کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ تنخواہ کم نہ تھی۔ وہ خوش ہوکر بولا۔ ’’سر! میں خود کو اہل ثابت کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘
’’خوب! اب کچھ اور باتیں…! دفتر میں تمہارے علاوہ چار افراد اور ہوں گے۔ ایک کیشیئر، ایک اسٹینوگرافر، ایک پیون اور ایک فیلڈ آفیسر۔ ان سب کو تم خود منتخب کرو گے۔ ان کیلئے کل ہی اخبار میں اشتہار دے دینا۔ اسٹینوگرافر کوئی ماڈرن لڑکی مناسب رہے گی لیکن خیال رہے کہ اس کے ساتھ عشق شروع نہ کردینا۔ پیون کوئی مضبوط قسم کا آدمی ہونا چاہئے جو سمجھدار بھی ہو کیونکہ تمہارا واسطہ لیبر سے پڑے گا۔ ان لوگوں کو کنٹرول کرنا آسان کام نہیں۔ فیلڈ آفیسر کوئی ہوشیار اور چرب زبان آدمی ہو اور وہ پاسپورٹ اور ویزے کے کام سے واقفیت رکھتا ہو، افسروں سے بات کرسکتا ہو اور بوقت ضرورت دفتری کاموں میں تمہارا ہاتھ بھی بٹا سکتا ہو۔‘‘ مشوری اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ’’دفتر کا چھ ماہ کا کرایہ پیشگی ادا کیا جا چکا ہے باقی اخراجات کیلئے فی الحال یہ دو لاکھ روپے رکھ لو۔‘‘ اس نے ایک لفافہ تاریکی میں بیٹھے بیٹھے ہی اس کی طرف اچھال دیا۔ ’’اس رقم سے صوبت خان ایسوسی ایٹس کے نام سے اکائونٹ کھلوا لینا۔‘‘
’’دستخط کون کرے گا سر…؟‘‘ شوکت نے پوچھا۔
’’یہ اکائونٹ تم اپنے دستخطوں سے چلائو گے۔ تم اب پوری طرح اس دفتر کے نگراں ہو، ہر کام تمہاری مرضی سے ہوگا۔ اس رقم سے اگلے ماہ کی تنخواہیں اور اشتہارات کے اخراجات پورے ہوجائیں گے۔ ہاں! ایک بات اور نوٹ کرلو۔ تم اسٹاف کو میرے بارے میں یعنی فرم کے مالک کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں بتائو گے۔ انہیں بس یہی احساس ہونا چاہئے کہ تم خود مالک ہو یا مالک کے قریبی رشتے دار ہو۔ اسٹاف کے سلسلے میں جو اشتہارات اخبار میں شائع ہوں گے، ان میں دفتر کا پتامت دینا ورنہ یہاں بڑا ہجوم ہوجائے گا اس کیلئے ہم نے پوسٹ بکس کا انتظام کیا ہے، اس کا نمبر ہمارے لیٹر پیڈ پر موجود ہے۔ اشتہارات میں ہمیشہ پوسٹ بکس نمبر دینا۔ اگرچہ ہمارا کاروبار بالکل قانونی نوعیت کا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس والے چھان بین کیلئے آسکتے ہیں، انہیں مطمئن کرنا تمہارا کام ہے۔ بات سمجھ رہے ہو نا…! ہم ان لوگوں کو ناراض نہیں کرسکتے۔ اگر ضرورت محسوس کرو تو ان پر کچھ رقم بھی خرچ کرسکتے ہو۔
اب ایک آخری بات اچھی طرح سمجھ لو۔ جو امیدوار ہوں گے، ان سے بیس ہزار فی کس لئے جائیں گے، اس معاملے میں سودے بازی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مت سمجھنا کہ ساری رقم ہماری جیب میں جائے گی۔ ہمارے پاس رقم کا دسواں حصہ بھی نہیں آئے گا۔ نصف سے زیادہ رقم تو وہ ایجنٹ لے جائے گا جو ہمیں ڈیمانڈ نوٹ دلوائے گا اس کے علاوہ پاسپورٹ، امیگریشن، ویزا اور نجانے کہاں کہاں خرچا کرناپڑے گا اس لئے کسی سے کوئی رعایت کرنے کی گنجائش نہیں اور کسی کام میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ اگر ایک امیدوار رقم دینے کے قابل نہ ہو تو اس کی جگہ دوسرے کو موقع دے دینا۔‘‘
چند ثانیئے خاموشی چھائی رہی۔ اسی وقت شوکت کے آگے رقم کے پھینکے گئے لفافے کے قریب اس نے چابیوں کا گچھا اچھال کر کہا۔ ’’یہ رہیں دفتر کی چابیاں! ان میں پوسٹ بکس اور تجوری کی چابیاں بھی ہیں۔ تجوری میری کرسی کے پیچھے چھوٹے سے کمرے میں رکھی ہوئی ہے۔ میں بوقت ضرورت دفتر آکر کاغذات چیک کرسکتا ہوں۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد مشوری دوبارہ بولا۔ ’’اگر کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہو تو پوچھ سکتے ہو۔‘‘
’’جو رقم جمع ہوگی، وہ کہاں رکھی جائے گی؟‘‘ شوکت نے سوال کیا۔
’’خوب یاد دلایا۔ جو رقم امیدواروں سے وصول ہو، اسے ایک لسٹ کےساتھ تجوری میں رکھ دیا کرنا۔ میں کسی وقت بھی آکر رقم لے جایا کروں گا۔ میرا خیال ہے کہ پہلی دفعہ ہمیں سو ڈیڑھ سو آدمی بھرتی کرنے پڑیں گے۔ اتنے زیادہ آدمیوں سے ایک روز میں پیسے وصول نہیں کئے جاسکتے یوں بھی ایک ساتھ اتنی بڑی رقم تجوری میں رکھنا ٹھیک نہیں اسی لئے روزانہ زیادہ سے زیادہ پچیس آدمیوں سے پیسے وصول کرنا ٹھیک رہے گا۔‘‘
’’جی ہاں!‘‘ شوکت بولا۔ ’’میں نے تمام ضروری پوائنٹ نوٹ کرلئے ہیں۔‘‘
’’بہت خوب!‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’تم کل سے کام شروع کردو، میں ہفتے دس دن میں بیرون ملک سے واپس آجائوں گا تاہم ہوسکتا ہے کہ اس دوران تمہیں کاریگروں کے ڈیمانڈ نوٹس موصول ہوجائیں۔ تم بلاتامل اخبار میں اشتہار دے کر کام شروع کردینا۔ اب تم جاسکتے ہو، کل سے یہ دفتر مکمل طور پر تمہارا ہوگا۔‘‘
شوکت نے پیڈ بند کرکے رکھ لیا اور پھولے ہوئے ادھ کھلے لفافے سے نوٹوں کی جھانکتی ہوئی گڈیوں کو دیکھنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس رقم کو تجوری میں رکھ دیا جائے؟‘‘
’’بہت خوب! میں یہی دیکھنا چاہتا تھا کہ تم رقم کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہو۔ تم نے صحیح فیصلہ کیا ہے۔ ہم آنکھیں بند کرکے تم پر اعتماد کرسکتے ہیں۔ لائو میں اس رقم کو تجوری میں رکھ دیتا ہوں۔‘‘
شوکت نے چابیاں اٹھا کر جیب میں رکھیں اور سلام کرکے رخصت ہوگیا۔ اس کی حالت اس شخص کی سی تھی جسے اچانک بہت بڑا خزانہ مل گیا ہو۔ سڑک پر پہنچ کر اس نے رکشہ پکڑا اور اپنی منگیتر نبیلہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ سب سے پہلے یہ خبر نبیلہ کو سنانا چاہتا تھا۔ ابھی تک اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اسے واقعی تیس ہزار ماہوار کی نوکری مل گئی ہے۔ اس کا ہاتھ لاشعوری طور پر جیب میں رکھی ہوئی چابیوں پر جا پڑا۔ چابیوں کی کھنکھناہٹ سے اسے بڑی طمانیت حاصل ہوئی۔ وہ کوئی خواب نہیں دیکھ رہا تھا۔ اسے فی الحقیقت نوکری مل چکی تھی البتہ ایک بات اس کے ذہن میں الجھن پیدا کررہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایجنسی کا مالک خود کو پردے میں کیوں رکھنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ جو لڑکی تھی، وہ کون تھی؟ غالباً صوبت خان (مشوری) کوئی بہت بڑا سرکاری افسر تھا۔ سامنے آنے سے اس کی سرکاری حیثیت مجروح ہوسکتی تھی یا پھر حقیقت وہی تھی جو اس نے بیان کی تھی یعنی وہ سفارشی امیدواروں سے بچنا چاہتا تھا۔ شوکت نے ان خیالات کو ذہن سے جھٹک دیا۔ اس کی بلا سے، اگر اس کی نوکری سلامت رہے تو اسے کسی بات کی پروا نہیں تھی۔ مالک بے شک سات پردوں میں بیٹھا رہے۔
نبیلہ کے گھر کے سامنے پہنچ کر اس نے رکشے والے کو فارغ کردیا اور کسی قدر عجلت میں دروازے پر دستک دی۔ تھوڑی دیر بعد نبیلہ کی چھوٹی بہن شمائلہ نے دروازہ کھولا اور شوکت کو دیکھ کر کچھ حیران سی نظر آنے لگی۔
’’شوکت بھائی! آپ کیسے آئے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
شوکت کو اس کا سوال کچھ عجیب سا لگا۔ بولا۔ ’’کیا مجھے یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں! میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ وہ دراصل امی آپ کے گھر گئی ہیں۔‘‘
’’ہمارے گھر…؟‘‘ شوکت چونک گیا۔ جب سے وہ بیروزگار ہوا تھا، نبیلہ کی ماں نے ان کے ہاں آنا جانا چھوڑ دیا تھا۔ ان کی آپس میں کوئی رشتے داری نہیں تھی صرف خاندانی مراسم تھے۔
’’نبیلہ گھر پر ہے…؟‘‘
شمائلہ قدرے تامل کرتے ہوئے بولی۔ ’’باجی تو نہیں ہیں۔ اچھا خداحافظ!‘‘ اس نے جلدی سے دروازہ بند کردیا۔ شوکت کو
یہ اندازہ لگانے میں مطلق دیر نہ لگی کہ شمائلہ جھوٹ بول رہی تھی۔ نبیلہ گھر میں ہی تھی۔ اس نے دروازہ دوبارہ کھٹکھٹایا۔ چند لمحوں کے بعد اندر سے سرگوشیوں کی آواز آئی اور کسی نے دروازہ کھولے بغیر اندر سے پوچھا۔ ’’کون…؟‘‘ شوکت نے اندازہ لگایا کہ بولنے والی کوئی معمر عورت تھی۔ ’’کس سے ملنا چاہتے ہو؟‘‘
’’میں شوکت ہوں۔‘‘
’’تمہیں بتایا تو ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔‘‘ عورت نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
’’میں ذرا نبیلہ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
دوسری طرف سے مزید سرگوشیوں کی آواز سنائی دی۔ پھر عورت نے کہا۔ ’’نبیلہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی، خواہ مخواہ پریشان مت کرو۔‘‘
شوکت کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ یہ بات تسلیم نہیں کرسکتا تھا کہ نبیلہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ بس میں بیٹھ کر اپنے گھر پہنچ گیا۔ وہاں خلاف معمول کچھ خاموشی سی چھائی ہوئی تھی۔ اس کی ماں باورچی خانے میں کھانا پکا رہی تھی اور چھوٹی بہن آسیہ بستر پر لیٹی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ آج اس کی ماں اور نہ ہی بہن نے انٹرویو کے بارے میں پوچھا حالانکہ اس سے پہلے دونوں ہمیشہ سب سے پہلے ملازمت کے بارے میں سوال کرتی تھیں۔
’’کیا بات ہے آسیہ…!‘‘ وہ بستر پر بیٹھتا ہوا بولا۔ ’’آج تم چپ چپ سی کیوں ہو؟‘‘
’’بس یونہی…!‘‘ آسیہ نے بجھے بجھے لہجے میں کہا۔
’’ارے ہاں! یاد آیا، آج نبیلہ کی امی آئی تھیں؟‘‘ شوکت نے پوچھا۔
اس دوران اس کی ماں تولئے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں آئی اور بولی۔ ’’نبیلہ کی ماں انگوٹھی اور جوڑا واپس کر گئی ہے۔‘‘
’’اوہ… کیا مطلب…!‘‘
’’مطلب صاف ظاہر ہے۔ وہ اپنی بیٹی کسی بیروزگار کے پلے نہیں باندھ سکتے۔‘‘
’’لیکن ماں! مجھے آج نوکری مل گئی ہے۔‘‘
’’مبارک ہو!‘‘ ماں نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے۔ ’’خدا نے میری دعائیں سن لی ہیں۔‘‘
شمائلہ نے کتاب ایک طرف پھینک دی اور اچھل کر کھڑی ہوگئی اور پوچھا۔ ’’کیا واقعی میرے بھیا کو نوکری مل گئی ہے؟ کہاں ملی ہے؟‘‘
’’ایک پرائیویٹ فرم میں منیجر کی نوکری مل گئی ہے۔‘‘ شوکت نے کہا۔ پہلے وہ فرم کے مالک کا نام بتانے لگا تھا لیکن پھر فرم کے مالک سے کیا ہوا وعدہ یاد آگیا۔
’’تنخواہ کتنی ہے؟‘‘ شمائلہ نے پوچھا پھر جلدی سے بولی ’’ٹھہرو میں بتاتی ہوں، کم ازکم دس پندرہ ہزار تو ضرور ہوگی۔‘‘
’’اور زیادہ کرو۔‘‘ شوکت اکڑ کر بولا۔
’’ہیں بھیا! بیس ہزار…؟‘‘
’’اونہہ…!‘‘ شوکت نے منہ بنایا۔ ’’پورے تیس ہزار اور اس میں جلد ہی اضافے ہوتے رہنے کی توقع بھی…!‘‘
یہ سن کر ماں بھی چونک گئی۔ بولی۔ ’’بہن کےساتھ مذاق تو نہیں کررہے ہو بیٹا…؟‘‘
’’نہیں ماں! بالکل صحیح کہہ رہا ہوں۔ پورے تیس ہزار تنخواہ مقرر ہوئی ہے۔ کل سے کام شروع کررہا ہوں۔ پورا دفتر میرے سپرد ہے بس دعا کرنا کہ اللہ مزید کامیابی عطا کرے۔‘‘
’’جس نے روزگار دیا ہے، وہی اور کامیابی بھی عطا کرے گا۔ محنت اور ایمانداری سے کام کرنا بیٹا!‘‘
’’ان شاء اللہ اماں!‘‘ شوکت بولا۔ ’’ماں! ایسا کرو یہ انگوٹھی اور جوڑا لے جائو، مجھے امید ہے کہ میری ملازمت کی خبر سن کر وہ یہ چیزیں واپس لے لیں گے۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ شمائلہ نے منہ بنا کر کہا۔ ’’آپ کو رشتوں کی کیا کمی ہے۔‘‘
ماں نے بھی بیٹی کی تائید میں شوکت سے کہا۔ ’’ہاں… ہاں بیٹے! کیا ضرورت ہے جھکنے کی! لڑکا برسروزگار ہو تو ایک سے ایک اچھا رشتہ مل جاتا ہے پھر میں نے سنا ہے کہ نبیلہ کی کہیں اور بات پکی ہوگئی ہے۔ وہ لوگ ان کے رشتے داروں میں سے ہیں۔ ان کے اصرار پر ہی انگوٹھی اور جوڑا واپس کیا گیا ہے۔‘‘
’’مجھے یقین نہیں آتا۔‘‘ شوکت نے کہا اور اٹھ کر اندر چلا گیا۔ اس نے نبیلہ کی وفا پر کبھی شک نہیں کیا تھا تاہم وہ جانتا تھا کہ وہ اپنے ماں، باپ کی بھی وفادار ہے۔ وہ بستر پر لیٹ کر چھت کو گھورنے لگا۔ ملازمت ملنے کی ساری خوشی اس خبر کی وجہ سے غارت ہوگئی تھی۔
اگلے روز وہ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے دفتر پہنچ گیا۔
وہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ یہ دفتر تین منزلہ عمارت کی پہلی منزل پر تھا۔ اس میں تین کمرے، ایک اسٹور، ایک کچن اور ایک باتھ روم تھا۔ تینوں کمروں میں قالین بچھے تھے اور ضرورت کا سارا سامان موجود تھا۔ پہلا کمرہ خاصا بڑا تھا۔ یہ ایک طرح کی انتظار گاہ تھی اس میں آرام دہ صوفے اور کرسیاں رکھی تھیں۔ اندرونی دروازے کے دائیں طرف ایک میز تھی اور بائیں طرف اسٹول رکھا تھا۔ میز کے اوپر اکائونٹ کی کتابیں اور وائوچر موجود تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ اکائونٹینٹ کی میز تھی۔
اس کے بعد ایک چھوٹا کمرہ تھا جس میں ایک میز، فائلنگ کیبنٹ اور ایک الماری تھی۔ میز کے اوپر کمپیوٹر اور پرنٹر رکھا تھا۔ داہنی جانب ایک اور کمرہ تھا۔ اس کمرے کی آرائش پر زیادہ رقم خرچ کی گئی تھی۔ میز خاصی بڑی تھی، پیچھے ایک ریوالونگ چیئر رکھی تھی۔ میز کے پیچھے کونے میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو اسٹور میں کھلتا تھا۔
شوکت نے مختلف چابیاں آزمانے کے بعد تجوری کھولی تو اس میں دو لاکھ روپے کی گڈیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ان گڈیوں کے نیچے تہہ کیا ہوا ایک کاغذ موجود تھا۔ اس نے اسے کھول کر پڑھا۔ لکھا تھا۔
’’ڈیئر شوکت! دفتر میں پہلا دن مبارک ہو۔ کل ایک بات بتانے کا خیال نہیں رہا۔ ریکروٹنگ ایجنسی کے کام میں بعض طبع شدہ فارم استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان فارموں کی نقول تمہیں کسی ایجنسی سے حاصل کرنا پڑیں گی اس کے ساتھ ہی ان کا طریقۂ کار بھی معلوم کرلینا۔ آج اسٹاف کیلئے اخبار میں اشتہار دے دینا، بینک میں اکائونٹ بھی کھلوا لینا۔ ویسے یہ اتنا ضروری نہیں۔ تم چاہو تو رقم تجوری میں بھی رکھ سکتے ہو۔ کام محنت سے کرنا۔ بزنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ تمہاری بھی ترقی ہوگی۔‘‘
شوکت نے تجوری سے کچھ رقم نکال کر جیب میں رکھ لی اور پوری توجہ کے ساتھ کام میں مصروف ہوگیا۔ سب سے پہلے اس نے اشتہار بک کروائے۔ اس کے بعد ایک ریکروٹنگ ایجنسی میں جاکر ان کے مطبوعہ فارموں کی نقول حاصل کیں۔ ان فارموں پر صوبت خان ایسوسی ایٹس لکھ کر چھپنے کیلئے دے دیئے۔
تین روز بعد اس نے پوسٹ بکس چیک کیا تو وہاں سوسوا سو درخواستوں کے علاوہ ایک تعمیراتی کمپنی کی طرف سے ایک سو دس کاریگروں کیلئے ڈیمانڈ لیٹر بھی تھا۔ شوکت کو حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی…! اس نے دفتر پہنچ کر تمام درخواستوں کو بغور پڑھا اور ہر پوسٹ کیلئے پانچ پانچ موزوں امیدواروں کو انٹرویو لیٹر روانہ کردیا۔ اس کے علاوہ اس نے ڈیمانڈ لیٹر کے مطابق ایک اشتہار تیار کیا اور اسے اخبار کے دفتر پہنچا دیا۔
ایک ہفتے بعد دفتر میں گہماگہمی شروع ہوگئی۔ ایک اسمارٹ سی لڑکی جولی اسٹینو کی کرسی پر موجود تھی، اسٹول پر ایک گھنی مونچھوں والا خاکی یونیفارم میں ملبوس پیون بیٹھا تھا۔ اس کا نام گل خان تھا۔ اکائونٹینٹ کی کرسی پر ایک پینتیس چھتیس سالہ ذمہ دار اور سنجیدہ مزاج شخص کام میں مصروف تھا۔ اس کا نام شرف دین تھا۔ چوتھے شخص کا نام سراج تھا۔ اسے بطور فیلڈ آفیسر ملازم رکھا گیا تھا۔ وہ حد سے زیادہ باتونی تھا۔ بڑے یقین کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بات خواہ سچی ہو یا جھوٹی لیکن وہ حتمی اور یقینی انداز میں کرتا اورمخاطب کو قائل کر لیتا تھا۔ وہ ہر موضوع پر بے تکان بولنے میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔
اشتہار کے جواب میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ شوکت نے جانچ پڑتال کے بعد تقریباً ڈھائی سو امیدواروں کو انٹرویو لیٹر روانہ کردیئے۔ پہلے دن پچاس امیدواروں کا انٹرویو لیا جن میں سے تیس کو منتخب


اور بقیہ کو نااہل قرار دیا۔
پانچ روز میں اس نے تقریباً ڈیڑھ سو امیدواروں کو منتخب کرلیا۔ چھٹے روز جب وہ دفتر پہنچا تو اس کی میز پر دو سو آدمیوں کا ایک ڈیمانڈ لیٹر موجود تھا ساتھ ایک رقعہ بھی تھا۔
’’مسٹر شوکت! خوش قسمتی سے ہمیں مزید دو سو آدمیوں کا ڈیمانڈ لیٹر موصول ہوگیا ہے۔ میں کل واپس آجاؤں گا اور شاید چند روز بعد دوبارہ بیرون ملک جانا پڑے۔ اس وقت رات کے دس بج رہے ہیں، میں تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے سے یہاں موجود ہوں۔ میں نے تمام کاغذات اور فائلیں چیک کی ہیں۔ تمہارا کام بالکل تسلی بخش ہے۔ تم نے جن ایک سو پچاس آدمیوں کو منتخب کیا ہے، ان کی قابلیت اور تجربہ مطلوبہ معیار کے عین مطابق ہے چونکہ اب ہمیں مزید دو سو آدمیوں کی ضرورت ہے اس لئے ویٹنگ لسٹ والے چالیس آدمیوں کے کاغذات کی تیاری بھی شروع کردو۔ نئی ڈیمانڈ کیلئے میں نے پرانی درخواستوں میں سے ڈھائی سو درخواستیں الگ کی ہیں، انہیں فوراً انٹرویو لیٹر روانہ کردو۔ امید ہے کہ تم چھ سات دن کے اندر انٹرویوز سے فارغ ہوجائو گے لہٰذا آج سے چھ روز بعد یعنی بارہ تاریخ سے پیسے وصول کرنا شروع کردو۔ یہ کام پندرہ دن کے اندر مکمل ہوجانا چاہئے۔ توقع ہے کہ فروری کی پندرہ تاریخ تک ویزے تیار ہوجائیں گے اس کے بعد ہوائی جہاز میں سیٹوں کی ریزرویشن کا کام شروع ہوجائے گا۔ بیرون ممالک کی فرموں کے ساتھ میرا براہ راست رابطہ قائم ہے۔ ان کے خطوط کے جواب ٹائپ کروا کے میز پر رکھ دینا، میں فرصت ملنے پر رات کو کسی وقت لے جائوں گا۔ اخراجات کیلئے مزید دو لاکھ سیف میں رکھ دیئے ہیں۔‘‘
شوکت نے خط پڑھ کر دراز میں رکھ دیا۔ مس جولی کو بلوا کر خطوط لکھوائے پھر سیف چیک کیا۔ دو لاکھ وہاں موجود تھے۔ گزشتہ پیسوں سے تنخواہیں ادا کرنے کے بعد بھی خاصی رقم کیش باکس میں موجود تھی۔ شوکت ایک بار پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کمپنی کا مالک سامنے آنے سے آخر کیوں کترا رہا ہے…؟
لنچ کے بعد جولی نے انٹرلنک کال سسٹم پر اسے اطلاع دی کہ واثق شمسی نامی ایک صاحب ملنا چاہتے ہیں۔ جولی نے جس انداز میں مذکورہ ملاقاتی کا ذکر کیا تھا، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کوئی اہم آدمی ہے۔ شوکت نے اسے اندر بلا لیا اور اس پر نظر پڑتے ہی سمجھ گیا کہ وہ پولیس کا کوئی افسر تھا۔ اس نے شلوار قمیض کے اوپر ہلکے رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا۔ اگرچہ وہ خوش اخلاق نظر آنے کی کوشش کررہا تھا تاہم شوکت نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک سخت گیر اور تند مزاج آدمی ہے۔
’’تشریف رکھئے۔‘‘ شوکت کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ نووارد تعریفی نظروں سے کمرے کی آرائش کا جائزہ لیتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا۔ شوکت اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا۔
’’ آپ کے دفتر کے باہر بڑی رونق ہے۔‘‘ نووارد جس کا نام واثق شمسی بتایا گیا تھا، بظاہر بے خیالی میں بولا۔
’’جی ہاں!‘‘شوکت نے لاپروائی سے کہا۔ ’’بڑی افسوسناک بات ہے۔‘‘
’’افسوسناک…؟‘‘ واثق نے سوالیہ نظروں سے شوکت کی طرف دیکھا۔
’’جی ہاں! یہ ملک اس لئے بنایا گیا تھا کہ ہم یہاں عزت و آبرو کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔‘‘ شوکت بولا۔ ’’لیکن یہاں ہر صحت مند اور تجربہ کار آدمی باہر جانے کیلئے پر تولے ہوئے نظر آتا ہے۔ اگر حکومت ان لوگوں کو کھلی چھٹی دے دے تو صرف ایک سال بعد یہاں فقط بوڑھے، بچے رہ جائیں گے۔ ہے نا افسوسناک بات…؟‘‘
واثق شمسی اس قسم کی باتوں کی تائید کرنے کا عادی نہیں معلوم ہوتا تھا۔ قدرے توقف کے بعد بولا۔ ’’گویا یہ باہر جو ہجوم جمع ہے، یہ سب اس ملک سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کا ہے اور آپ نے ایسے لوگوں کی مدد کیلئے دفتر کھولا ہے؟‘‘
’’کچھ ایسی ہی بات سمجھ لیں۔ جو گھر میں رہنے کو تیار نہ ہو، اسے کب تک روکا جاسکتا ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا…؟‘‘
’’آپ فیس کتنی لیتے ہیں؟‘‘
’’کس سے…؟‘‘
’’باہر جانے والوں سے!‘‘
’’یہ بے چارے کیا فیس دیں گے۔ یہ لوگ تو محتاجی کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ ہم اپنی فیس اس کمپنی سے لیتے ہیں جو لیبر منگواتی ہے البتہ ان لوگوں کو کاغذات کی تیاری اور پاسپورٹ وغیرہ کا خرچہ دینا پڑتا ہے لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘ شوکت نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
وہ تھوڑا سا کھنکار کر بولا۔ ’’ہمارے گھر میں بھی دو محتاج پل رہے ہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ آپ کی مدد سے انہیں باہر بھجوا دوں۔‘‘
’’بشرطیکہ وہ معیار پر پورے اتریں۔‘‘ شوکت نے کہا۔ ’’آپ انہیں کل گیارہ بجے درخواست اور اسناد کی نقول کے ساتھ بھجوا دیں، میں دیکھ لوں گا۔‘‘پھراس نے قدرے لاپروائی سے پوچھا۔ ’’آج کل آپ کسی تھانے میں متعین ہیں یا ہیڈ آفس میں ہوتے ہیں؟‘‘
اس کی بات سن کر واثق نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ پھر بولا۔ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ مجھے پہلے سے جانتے ہیں۔‘‘
’’میں نے یہ بات تو نہیں کہی، محض اندازہ لگایا تھا جو صحیح ثابت ہوا۔ کیا آپ واقعی اپنے آدمی باہر بھجوانا چاہتے ہیں یا ہمارے بارے میں انکوائری کرنے آئے ہیں؟‘‘
واثق شمسی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ وہ بولا۔ ’’آپ جیسے ذہین آدمی سے کچھ چھپانا بیکار ہے۔ میں اس علاقے کا ایس ایچ او ہوں اور یہ معلوم کرنے آیا ہوں کہ آپ کی کمپنی کوئی قابل اعتراض کام تو نہیں کررہی۔‘‘
’’ابھی تک تو کوئی ایسا کام نہیں کیا۔‘‘ شوکت دانستہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔
ایس ایچ او نے پوچھا۔ ’’اس فرم کے مالک کا کیا نام ہے؟‘‘
’’صوبت خان!‘‘
’’ہوں… ں…ں!‘‘ واثق نے ہنکاری بھری۔ ’’یہ دفتر میں کس وقت بیٹھتے ہیں؟‘‘
’’آج کل مشرق وسطیٰ کے دورے پر گئے ہوئے ہیں، دفتر کم ہی آتے ہیں۔‘‘
’’میں اپنے آدمی کل بھجوا دوں گا۔‘‘ واثق اٹھتا ہوا بولا۔ ’’ان کیلئے کوشش کرکے کوئی گنجائش نکال لینا۔ ایک کرین آپریٹر ہے اور دوسرا ڈرائیور!‘‘
’’آدمی اصلی ہیں نا…؟‘‘ شوکت نے پوچھا۔ ’’میرا مطلب ہے کہ کہیں یہ بھی آپ کی انکوائری کا حصہ تو نہیں ہیں؟‘‘
’’انکوائری مکمل ہوچکی ہے۔ آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایک ایماندار آدمی ہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر ایس ایچ او رخصت ہوگیا۔
اس روز چھٹی کرنے سے پہلے شوکت نے ایس ایچ او واثق سے ملاقات کا احوال لکھ کر میز پر رکھ دیا۔ اگلے روز اسے میز پر ایک رقعہ رکھا ہوا ملا جس میں اس کی ذہانت کی تعریف کی گئی تھی اور ساتھ ہی یہ ہدایت درج تھی کہ ایس ایچ او کے دونوں آدمیوں کو بغیر کسی معاوضے کے منتخب شدہ افراد میں شریک کرلیا جائے۔
پروگرام کے مطابق دس تاریخ تک انٹرویو کا سارا کام ختم ہوگیا۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس پاسپورٹ موجود تھے۔ جن کے پاسپورٹ نہیں تھے، ان کی درخواستیں پاسپورٹ آفس میں جمع کروا دی گئیں۔ بارہ تاریخ کو امیدواروں نے پیسے جمع کروانے شروع کردیئے۔ پہلے دن سولہ لاکھ اسی ہزار روپے جمع ہوئے۔ اکائونٹینٹ کا سارا دن نوٹوں کی گنتی کرتے ہوئے گزر گیا۔ شام کے وقت شوکت نے دفتر بند کرنے سے قبل تجوری میں نقدی کے ساتھ امیدواروں کی فہرست بھی رکھ دی جنہوں نےپیسے جمع کروائے تھے۔
یہ سلسلہ دس روز تک چلتا رہا۔ دسویں روز بیس آدمیوں نے روپے جمع کروا دیئے اور یوں لاکھوں روپے جمع ہوگئے جن کی مالیت دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں تک جا پہنچی۔ سوائے چند لاکھ کے باقی سب رقم مشوری وصول کرچکا تھا۔ اس صبح شوکت کی میز پر اس مضمون کا رقعہ موجود تھا۔
’’مسٹر شوکت! ہمارے لاہور آفس کے منیجر ایک حادثے میں زخمی ہوگئے ہیں لہٰذا ہم نے فوری طور پر تمہیں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہوائی جہاز میں سیٹ بک کرانے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر کامیابی نہ ہوئی تو
تمہیں بذریعہ ٹرین جانا پڑے گا۔ آج رات ٹھیک آٹھ بجے قبرستان کے مغربی کونے پر پہنچ جانا۔ پیٹرول پمپ کے عقب میں پیپل کا درخت ہے، اس درخت کے نیچے نیلے رنگ کی گاڑی تمہاری منتظر ہوگی۔ اپنے ساتھ زیادہ سامان نہیں لانا۔ دفتر کی چابیاں شرف دین کے سپرد کردینا، تمہارے بعد وہی دفتر کا انچارج ہوگا۔ یہ بات سارے اسٹاف کو بتا دینا۔ اگر کوئی مزید رقم موصول ہوئی ہو تو اسے ساتھ لیتے آنا۔‘‘ صوبت۔
رقعہ پڑھ کر شوکت سوچ میں پڑ گیا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ ایجنسی کا مالک اتنی رازداری سے کیوں کام لے رہا ہے۔ پہلے انٹرویو کے بعد وہ سامنے نہیں آیا تھا اور اب ملاقات کیلئے جو ہدایت دی تھی، وہ بھی حیرت انگیز تھی۔ وہ دفتر میں بھی لینے آسکتا تھا، اپنے گھر پر بھی بلا سکتا تھا لیکن قبرستان کے کونے پر پیپل کےدرخت کے نیچے بلانا خاصا عجیب لگ رہا تھا۔
شوکت کیلئے فوری نوٹس پر لاہور جانا بہت مشکل تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کئی روز کی کوششوں کے بعد وہ نبیلہ سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا تھا اور شام کے سات بجے ایک ریسٹورنٹ میں ملاقات کا بھی پروگرام طے تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ کسی طرح ایک دو روز کیلئے لاہور کا پروگرام ملتوی کرانے کی کوشش کرے گا۔ شام کو اس نے نقدی بریف کیس میں رکھی اور دفتر بند کرکے گھر پہنچا۔ چائے پی کر جلدی سے مطلوبہ ریسٹورنٹ جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ پہلے اسے خیال آیا کہ بریف کیس ساتھ ہی لے جائے لیکن پھر اتنی بڑی رقم کو یوں اٹھائے پھرنا مناسب نہیں سمجھا۔
’’اماں! میں ایک ضروری کام سے باہر جارہا ہوں۔‘‘ اس نے ماں کو بریف کیس دیتے ہوئے کہا۔ ’’اس بریف کیس میں کچھ اہم کاغذات اور دفتر کے پیسے رکھے ہیں، اسے کہیں سنبھال کر رکھ دینا۔‘‘
’’کتنے پیسے ہیں؟‘‘ ماں نے بریف کیس لیتے ہوئے پوچھا۔
’’نو لاکھ روپے!‘‘
’’نو لاکھ…!‘‘ ماں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ’’ہائے بیٹا…! تم اتنی بڑی رقم یوں ساتھ لئے پھر رہے ہو؟‘‘
’’مجبوری ہے۔‘‘ شوکت نے جواب دیا۔ ’’یہ رقم آج ہی موصول ہوئی ہے اور رات آٹھ بجے مالک کے پاس پہنچانی ہے۔‘‘
’’لیکن اس وقت تم جا کہاں رہے ہو؟‘‘ ماں نے پوچھا۔
’’ایک دوست سے ملنے جارہا ہوں، ایک گھنٹے تک واپس آجائوں گا اس کے بعد اپنے باس سے ملنے جانا ہے۔ وہ لوگ مجھے لاہور بھیجنا چاہتے ہیں۔‘‘ شوکت نے بتایا۔
’’لاہور کیوں…؟‘‘
’’دراصل لاہور آفس کا منیجر کسی حادثے میں زخمی ہوگیا ہے اور اس کی جگہ مجھے بھیجا جارہا ہے۔‘‘
’’تو کیا ہم اکیلے رہیں گے؟‘‘ اس کی بہن آسیہ نے پوچھا۔
’’اری پگلی! یہ کوئی جنگل تھوڑی ہے۔‘‘ شوکت بولا۔ ’’آس پاس ہر طرف رونق ہے اور پھر میں کون سا ہمیشہ کیلئے جارہا ہوں، ایک دو ہفتے میں واپس آجائوںگا۔‘‘
اسے کیا معلوم تھا کہ ایک نواحی علاقے کے نامعلوم مکان میں اس کیلئے بھی قبر کھودی جا چکی تھی اور تین عدد دولت کے پجاری اسے دفن کرنے کیلئے بے چین تھے۔
’’جانا کب ہے؟‘‘ ماں نے پوچھا۔
’’انہوں نے تو آج جانے کیلئے کہا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک دو روز بعد جائوں۔‘‘
’’دیکھو اپنے باس کو ناراض مت کرنا۔‘‘ ماں نے کہا۔ ’’اتنی اچھی نوکری باربار نہیں ملا کرتی۔‘‘
’’فکر مت کرو، اب میں باس کو خوش رکھنے کا طریقہ جان گیا ہوں۔‘‘ پھر وہ اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔ ’’میں چلتا ہوں، بریف کیس کا خیال رکھنا۔‘‘
تقریباً بیس منٹ بعد جب وہ رکشے کے ذریعے مذکورہ ریسٹورنٹ پہنچا تو سات بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن نبیلہ کہیں نظر نہیں آئی۔ وہ فٹ پاتھ پر ٹہلنے لگا۔ سورج غروب ہوئے کافی دیر ہوچکی تھی اور سڑک کی بتیاں روشن ہوگئی تھیں۔ شوکت ہر رکنے والے رکشے اور ٹیکسی کو پرامید نظروں سے دیکھ رہا تھا لیکن معلوم ہوتا تھا کہ نبیلہ کو گھر سے نکلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس نے ایس ایم ایس بھی کیا تھا۔ کال کرنے کی نبیلہ نے ممانعت کررکھی تھی۔ میسج کا سیل فون پر جواب بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے مس کال دے دی پھر بھی کوئی جواب نہیں آیا۔
شاید راستے میں ہو اسی لئے میسج کی بپ نہ سنی ہو۔ اس نے اپنے دل کو دلاسہ دیا۔
ساڑھے سات بجے شوکت بالکل مایوس ہوگیا۔ اسے لگا جیسے آج کے دن نبیلہ پر کڑا پہرہ لگا دیا گیا ہو۔ وہ واپس جانے کے ارادے سےکسی رکشے کا انتظار کرنے لگا۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک ٹیکسی اس کے قریب رکی۔ نبیلہ اس میں سے اتری۔ وہ سیاہ برقعے میں تھی اور شوکت پہلی نظر میں اسے پہچان نہیں سکا تھا۔ وہ اسے نظرانداز کرکے ایک رکشہ ڈرائیور سے بات کرنے جارہا تھا کہ اپنا نام سن کر رک گیا۔
’’اوہ نبیلہ! تم…؟‘‘ اس نے حیرت آمیز مسرت سے کہا۔ ’’یہ برقع کب سے پہننا شروع کردیا؟‘‘
’’بڑی مشکل سے چھپ کر آئی ہوں۔‘‘ نبیلہ نے ہولے سے کہا۔ ’’یہ برقع ایک سہیلی کا ہے۔‘‘
پھر دونوں ریسٹورنٹ میں جاکر ایک کونے والی میز پر بیٹھ گئے۔ بیرے کو چائے کا آرڈر دینے کے بعد شوکت نے مسکرا کر کہا۔ ’’بالآخر تمہیں بھی برقعے کی افادیت کا قائل ہونا پڑا۔ ویسے اچھی لگ رہی ہو۔‘‘
’’آج میں نے تمہارے ساتھ بہت سی باتیں کرنی ہیں جبکہ وقت کم ہے، واپس بھی جانا ہے، شمائلہ کوسہیلی کے گھر چھوڑ کر آئی ہوں۔ اگر کوئی گھر سے لینے آگیا تو مصیبت آجائے گی۔ اس روز تمہیں دروازے سے واپس جانا پڑا جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ بات پتا ہے کیا تھی، میری پھوپھی آئی ہوئی تھیں۔ وہ شروع سے ہی اس رشتے کی مخالف تھیں۔ انہوں نے ہی امی کو انگوٹھی واپس کرنے پر مجبور کیا تھا۔ مجھے تو وہ بہت زہر لگتی ہیں۔ میرا بس چلے تو پتا نہیں میں کیا کر ڈالوں۔ دراصل ان کا ایک بیٹا ہے، انٹر تک پڑھا ہوا ہے۔ سنا ہے کہ گیراج میں مکینک ہے لیکن خود کو انجینئر ظاہر کرتا ہے۔ میری قسمت اسی کی ساتھ پھوڑی جارہی ہے لیکن…!‘‘ وہ سانس لینے کیلئے رکی۔
شوکت نے جلدی سے بات کاٹی۔ ’’خدا کا شکر ہے کہ تم نے دم لیا۔ اگر تم اسی رفتار سے بولتی رہیں تو تھوڑی دیر بعد میری قوت سماعت مائوف ہوجائے گی۔ کچھ میری بھی سن لو…!‘‘
’’ٹھیک ہے، نہیں بولتی۔‘‘ نبیلہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ ’’آپ کے سوا میری سنتا ہی کون تھا، اب آپ بھی میری باتوں سے تنگ آگئے ہیں۔ میں چپ ہوجاتی ہوں، گھٹ کے مر جائوں گی کسی دن! اتنے دنوں سے سوچ رہی تھی کہ آپ سے ملاقات ہوگی تو جی بھر کے باتیں کروں گی۔ گھر میں تو مجھے کوئی بولنے نہیں دیتا۔ ماں، باپ بوجھ سمجھ کر گھر سے نکالنے کی فکر میں ہیں۔ آپ سے نہیں کہوں گی تو اور کس سے کہوں؟‘‘
’’پتا ہے میرا کیا جی چاہتا ہے؟‘‘
’’یہی نا کہ میں منہ بند کرلوں۔‘‘
’’تم غلط سمجھ رہی ہو۔‘‘ وہ محبت پاش لہجے میں بولا۔ ’’میرا جی چاہتا ہے کہ چاندنی رات ہو، ہم اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوں، تم باتیں کرتی رہو اور میں سنتا رہوں۔‘‘
’’آپ مجھے بنا رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں سچ کہہ رہا ہوں۔ تمہاری خوبصورت آنکھوں کی قسم!‘‘
نبیلہ کے چہرے پر سرخی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ بائیس تئیس برس کی نرم و نازک سی لڑکی تھی۔ بڑی بڑی آنکھوں میں شوخی تھی اور ایک انجانا سا خوف بھی…! بالکل اس ہرنی کی مانند جو جنگل میں اکیلی پھر رہی ہو۔
نبیلہ، شوکت سے بہت زیادہ بے تکلف تھی۔ دل کی ہر بات اس کے سامنے کھول کر رکھ دیتی تھی بلکہ اس کے سامنے اس کے احساسات خودبخود الفاظ کا روپ دھار لیتے تھے۔
’’تمہیں پتا ہے آج کل میں ایک فرم میں منیجر کی پوسٹ پر لگا ہوا ہوں۔‘‘
’’ارے ہاں…! مجھے پچھلے ہفتے معلوم ہوا ہے۔ بڑی خوشی ہوئی، مبارک ہو۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ شوکت نے کہا پھر گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔ ’’آج مجھے کمپنی کے باس نے ایک ضروری
سلسلے میں بلایا ہے۔ ٹھیک آٹھ بجے پہنچنا ہے۔‘‘
بیرے نے چائے کے برتن میز پر رکھ دیئے اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔ شوکت نے پیالیوں میں چینی ڈالی اور نبیلہ اور اپنے لئے چائے بنائی پھر ایک کپ اس کی جانب کھسکا دیا۔
’’باس نے کیوں بلایا ہے؟‘‘
’’مجھے لاہور بھیجنا چاہتے ہیں۔ وہاں کے منیجر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، آج اسی سلسلے میں بلایا ہے۔‘‘ پھر وہ چائے کی چسکی لیتے ہوئے آگے بولا۔ ’’لیکن ایک چیز بڑی عجیب لگ رہی ہے میں نے آج تک فرم کے مالک کی شکل نہیں دیکھی۔ کوئی انتہائی پراسرار شخص ہے۔‘‘
’’پراسرار…؟‘‘
’’پہلے دن اس نے خود میرا انٹرویو لیا تھا لیکن میں اس کی شکل نہیں دیکھ سکا۔‘‘
’’کیا اس نے نقاب ڈالی ہوئی تھی؟‘‘
’’نقاب ہی کہنا چاہئے۔ خود اندھیرے میں بیٹھا تھا اور امیدواروں کو فلیش لائٹ کی روشنی میں بٹھایا تھا۔ مجھے ملازمت کیلئے منتخب کرنے کے بعد دوبارہ سامنے نہیں آیا۔ رات کو کسی وقت دفتر آکر حساب کتاب چیک کرتا ہے اور ضروری باتیں کاغذ پر لکھ کر میری میز پر رکھ دیتا ہے۔ دفتر کا اسٹاف مجھے ہی کمپنی کا مالک سمجھتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ معاملہ کیا ہے۔‘‘
’’اس کی رہائش کہاں ہے؟‘‘ نبیلہ نے پرسوچ انداز میں اپنی آنکھیں سکیڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’کچھ پتا نہیں۔‘‘
’’ابھی تم کہہ رہے تھے کہ اس نے تمہیں گھر پر بلایا ہے۔‘‘
’’اس نے مجھے قبرستان کے کونے پر بلایا ہے۔ یہ رقعہ دیکھ لو۔‘‘ کہتےہوئے شوکت نے اپنی جیب سے رقعہ نکال کر دکھایا۔ ’’اس میں پوری وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ مجھے کہاں پہنچنا ہے۔‘‘
رقعہ پڑھنے کے بعد نبیلہ کے چہرے پر پریشانی نظر آنے لگی۔ اس نے پوچھا۔ ’’ان لوگوں کا کاروبار کیا ہے؟‘‘
’’جس فرم کا میں منیجر ہوں، وہ ایک ریکروٹنگ ایجنسی ہے۔ اسے شروع کئے ہوئے بمشکل دو ماہ ہوئے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ان لوگوں کا کوئی دوسرا کاروبار بھی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر قانونی کاروبار ہو جب ہی یہ لوگ سامنے نہیں آنا چاہتے۔‘‘
’’کیا ایجنسی کا کاروبار قانونی ہے؟‘‘
’’کاروبار تو قانونی ہے۔ ان کےپاس حکومت کا جاری کردہ لائسنس بھی ہے، خاصے اثرورسوخ والے لوگ ہیں۔ پہلے ہی مہینے مشرق وسطیٰ سے تین سو آدمیوں کی ڈیمانڈ آگئی ہے۔ ان لوگوں کے کاغذات تیار کئے جارہے ہیں۔ صرف ایک چیز کو غیرقانونی کہا جاسکتا ہے ہر امیدوار سے تیس سے پچاس ہزار لئے گئے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، اس کے بغیر ایجنسی چل نہیں سکتی۔ کئی جگہوں پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے مثلاً پچاس فیصد تو وہ ایجنٹ لے جاتا ہے جو ڈیمانڈ بھجواتا ہے۔‘‘
’’خاصا بدنام قسم کا کام ہے۔‘‘ نبیلہ بولی۔ ’’تمہیں بہت محتاط رہنا چاہئے۔‘‘
’’ابھی تک تو سب ٹھیک جارہا ہے۔ بظاہر خطرے کی کوئی بات نہیں۔ ایک بات خاصی تعجب خیز ہے۔ یوں تو لوگ کہتے ہیں کہ ملک میں غربت بہت ہے لیکن مجھے یوں نظر آتا ہے کہ ہر طرف دولت کی ریل پیل ہے۔ میرا خیال تھا کہ مزدور قسم کے لوگ اتنی بڑی بڑی رقم کا انتظام نہیں کرسکیں گے اس لئے میں نے کم ازکم پچاس آدمی ویٹنگ لسٹ میں رکھے تھے لیکن ہر شخص نے مقررہ مدت کے اندر رقم جمع کرا دی ہے۔ بعض لوگوں کا حلیہ دیکھ کر اندازہ ہوجاتا تھا کہ ان کی جیب میں بیس روپے بھی نہیں ہوں گے مگر انہوں نے بھی مطلوبہ رقم جمع کرا دی۔‘‘ پھروہ اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔ ’’اوہ آٹھ بجنے میں صرف دس منٹ رہ گئے ہیں، ہمیں اب چلنا چاہئے۔‘‘
’’میری باتیں تو دل میں ہی رہ گئیں۔‘‘
’’ایسا کرتے ہیں کہ ٹیکسی میں چلتے ہیں۔ تم مجھے قبرستان کے پاس اتار کر آگے چلی جانا، راستے میں ہم باتیں کرلیں گے۔‘‘
انہوں نے جلدی جلدی چائے ختم کی، بل ادا کیا اور باہر آکر ٹیکسی پکڑی اور ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔ فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ ٹیکسی تھوڑی دیر بعد ہی قبرستان کے سامنے پہنچ کر رک گئی۔
’’میں کل ٹھیک دس بجے تمہیں فون کروں گا۔‘‘ شوکت اترتا ہوا نبیلہ سے بولا۔ ’’اچھا خداحافظ!‘‘
’’اب کہاں چلنا ہے؟‘‘ ٹیکسی ڈرائیور نےنبیلہ سے پوچھا۔
’’ایک منٹ ٹھہرو۔‘‘ وہ اس کار کی طرف دیکھ کر بولی جو پیپل کے نیچے تاریکی میں کھڑی تھی۔ شوکت اس کار کی پسنجر سیٹ پر بیٹھ گیا اور اس کے بیٹھتے ہی کار روانہ ہوگئی۔ نبیلہ ازراہ تجسس اس کار کی طرف دیکھنے لگی۔ جب وہ کار پیٹرول پمپ کی روشنی میں گزری تو وہ چونک گئی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک سرخ و سپید رنگت والی لڑکی بیٹھی تھی جسے دیکھتے ہی نبیلہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ اس کا سینہ رقابت کی آگ میں جلنے لگا۔ اس نے فوراً فیصلہ کرلیا کہ شوکت نے جو کچھ کہا تھا، وہ جھوٹ تھا۔ یقیناً وہ اس لڑکی کے چکر میں پھنس چکا ہے۔
’’ڈرائیور…!‘‘ اس نے جلدی سے کہا۔ ’’اس نیلے رنگ کی کار کے پیچھے چلو… دیکھو کار نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔‘‘
(جاری ہے)
SHARE