Samjohta | Episode 1

186
Samjohta | Episode 1
ثمیر ایک تیس بتیس سالہ پرکشش اور خوبرو نوجوان تھا۔ وہ اس وقت اپنی عالیشان رہائشگاہ میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اس نے بیش قیمت سوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے انداز و اطوار سے اضطراب مترشح تھا۔ وہ باربار دستی گھڑی پر نظر ڈال کر کچھ بڑبڑاتا جارہا تھا۔ بالآخر یہ بڑبڑاہٹ بلند ہوگئی۔ ’’کہاں رہ گیا مشوری ابھی تک آیا کیوں نہیں… ایسا تو نہیں کہیں کوئی گڑبڑ ہوگئی ہو؟‘‘
یہی وہ وقت تھا جب گل ناز کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ ایک پچیس سالہ دلکش عورت تھی۔ دیکھنے والوں کو وہ کسی مصور کا شاہکار لگتی تھی۔ وہ ہر وقت خود کو بناسنوار کر رکھتی تھی۔ اس وقت بھی وہ میک اَپ اور خاصے دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھی۔ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی ثمیر کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی مگر بولی کچھ نہیں۔ وہ اپنے ہی خیالوں میں گم نظر آرہی تھی۔
چند سال قبل وہ گھریلو حالات سے مجبور ہوکر ملازمت کی تلاش میں گھر سے نکلی تھی تو ایک سہمی سمٹی ہوئی، شرمیلی سی لڑکی تھی۔ مردوں سے بات کرتے وقت اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہوجاتا تھا اور وہ نروس سی ہونے لگتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس میں خوداعتمادی آتی گئی۔ اسے اپنی اہمیت کا احساس ہوگیا تھا کہ اس کی نظر التفات اچھے خاصے مردوں کو نروس کردیتی ہے تب ہی اس کی گھبراہٹ، خود اعتمادی اور خود اعتمادی، بے باکی میں تبدیل ہوگئی اور اس نے مردوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔
وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی پرورش سخت قسم کی روایتی پابندیوں میں ہوئی تھی۔ اس نے کبھی برقعے کے بغیر گھر سے قدم باہر نکالا تھا اور نہ ہی کبھی کسی غیر مرد سے بات کی تھی۔ ایک دن اس کے والد اچانک ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے اور ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ منقطع ہوگیا۔
اس کی ایک چھوٹی بہن اور ایک بھائی تھا۔ بھائی ساتویں میں پڑھتا تھا، فریحہ کمانے کے قابل نہیں تھی، ماں معمولی پڑھی لکھی تھی۔ وہ کوئی اچھی ملازمت حاصل نہیں کرسکتی تھی۔ والد ایک سیدھے سادے آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے پیچھے کوئی جائداد نہیں چھوڑی تھی۔ زندگی بھر کی محنت سے بس ایک چھوٹا سا مکان بنوایا تھا اور اس پر بھی قرضے کی کچھ قسطیں واجب الادا تھیں۔ گل ناز گریجویشن کرچکی تھی۔ اس کا ملازمت کیلئے گھر سے نکلنا ناگزیزتھا لیکن جب اس نے ملازمت کی تلاش شروع کی تو لوگوں نے اس کے پردے کو تضحیک کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ بالآخر وہ تنگ آگئی۔ اس نے برقع طے کرکے صندوق میں رکھ دیا۔
اس تبدیلی کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں فزوں تر ہوگئیں اور ملازمت کی تلاش بھی آسان ہوئی۔ ہر شخص اس پھول سی گل ناز کو دیکھنے کا متمنی نظر آنے لگا۔ یوں کٹھن زندگی کو آسان بنانے کیلئے یہ راہ گل ناز کو بھی سہل لگی۔ یوں اس نے خوب فائدہ اٹھایا۔ گھر کی ساری پریشانیاں دور ہوگئیں۔ اس نے تھوڑے ہی عرصے کے اندر نہ صرف مکان کی قسطیں (جس کی قرقی کا نوٹس آچکا تھا) ادا کردیں بلکہ نئے فرنیچر، ریفریجریٹر اور دیگر چیزوں سے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا۔ اس کے والد زندگی بھر کولہو کے بیل کی طرح کام کرنے کے باوجود یہ آسائش نہیں دے سکے تھے۔ گویا ان کی موت نے آسائش بھری زندگی کا دروازہ کھول دیا تھا۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ اس کے کانوں میں ثمیر کی آواز آئی۔ ’’غالباً مشوری آگیا ہے۔‘‘
’’آں… ہاں…! کچھ نہیں۔‘‘ اس نے گویا خیالات کے بھنور سے نکلتے ہوئے جواب دیا۔ ’’کیا کہا تم نے…! کون آگیا ہے؟‘‘
’’باہر کسی کار کے رکنے کی آواز آئی ہے۔‘‘
اتنے میں دروازہ کھلا اور ایک ادھیڑ عمر کا شخص اندر داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں پر چشمہ تھا، بالوں میں سفیدی جھلک رہی تھی، چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کی گھنی مونچھیں تھیں، ہاتھ میں سیاہ بریف کیس تھا۔ وہ بہترین قسم کے سوٹ میں ملبوس تھا۔ وہ مشوری تھا۔ اس کا پورا نام مشوری عزیز تھا۔
ثمیر تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا۔ ’’سنائو مشوری! کیا خبر لائے؟‘‘
’’میں ایک خوشخبری لایا ہوں… ہماری ریکروٹنگ ایجنسی رجسٹرڈ ہوگئی ہے۔‘‘
’’اوہ… اٹس سوونڈر فل!‘‘ ثمیر سے پہلے گل ناز نے خوشی سے چہک کر کہا اور آگے مستفسر ہوئی۔ ’’لائسنس کب مل رہا ہے؟‘‘
’’لائسنس مل گیا ہے، اسے فریم کروا کے دفتر میں لگا کے آیا ہوں۔‘‘ مشوری نے پاس کھڑی گل ناز کی طرف دلچسپ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بہت خوب!‘‘ ثمیر بولا۔ ’’گویا ہمارے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے؟‘‘
’’دھیرج…! ابھی ایک کڑی باقی ہے۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’ہمارا پارٹنر صوبت تھوڑی دیر میں یہاں پہنچ رہا ہے۔ اس شخص کا کام ختم ہوچکا ہے لہٰذا اب اس کا بھی کام ختم ہوجانا ضروری ہے۔‘‘
اس کی بات سن کر گل ناز کے عنابی ہونٹوں پر بے رحم سی مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ ’’ہم تین روز سے اس خدمت کو انجام دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔‘‘
’’تم دونوں جانتے ہو کہ ایجنسی کے سلسلے کا سارا کام صوبت نے کیا ہے۔ دفتر اس کے نام سے کرایے پر لیا گیا ہے، چھ مہینے کا کرایہ پیشگی دیا جا چکا ہے اس لئے کم ازکم چھ ماہ تک عمارت کا مالک دفتر میں قدم نہیں رکھے گا۔ فرنیچر صوبت نے خریدا ہے، لائسنس بھی اسی کے نام پر بنا ہے۔ اگرچہ پیسہ ہمارا خرچ ہوا ہے لیکن قانونی نقطۂ نظر سے وہی اس دفتر کا مالک ہے۔‘‘
’’اور دماغ میرا خرچ ہوا ہے۔‘‘گل ناز نے ایک ادائے دلربائی سے کہا۔
ثمیر ایک چھوٹی سی تعمیراتی کمپنی کا مالک تھا۔ وہ زیادہ تر سرکاری ٹھیکے لیتا اور متعلقہ افسروں کو دے دلا کر معقول رقم کما لیتا تھا۔ گزشتہ سال ایک مہربان کے مشورے پر اس نے ذاتی مکانوں کے ٹھیکے لینے بھی شروع کردیئے تھے۔ شروع میں کچھ نفع ہوا لیکن پھر پے درپے نقصان ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسے اپنا ایک مکان اور دو پلاٹ فروخت کرنے پڑ گئے۔ اس دوران اس کی گل ناز سے ملاقات ہوگئی۔ ان دنوں وہ اور کاموں کے علاوہ ٹی وی کمرشلز میں ماڈلنگ کررہی تھی۔
ثمیر نے چند ملاقاتوں کے بعد اسے اپنے ڈوبتے ہوئے کاروبار کے بارے میں بتایا۔ تب گل ناز نے ریکروٹنگ ایجنسی کے ذریعے دولت کمانے کا منصوبہ بنایا۔ شروع میں ثمیر اس کام میں پیسہ لگانے کیلئے تیار نہیں تھا کیونکہ اس کے خیال میں ریکروٹنگ ایجنسی چلانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن گل ناز نے اسے بتایا کہ وہ ریکروٹنگ ایجنسی چلانے کی بات نہیں کررہی بلکہ اس کی آڑ میں دولت کمانے کی بات کررہی ہے۔
گل ناز نے ثمیر کو اس سلسلے میں صراحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ ایک تیسرے آدمی کے نام پر ایجنسی قائم کریں گے اور کسی ملک سے کاریگروں کی جعلی ڈیمانڈ منگوا کر اخبار میں اشتہار دیں گے اور چند سو افراد سے دو دو لاکھ روپے وصول کرکے غائب ہوجائیں گے۔ اس معاملے پر چند ہفتوں تک تبادلہ خیال ہوتا رہا اور بالآخر ثمیر پیسہ لگانے پر راضی ہوگیا۔
کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک تیسرے آدمی کو ساتھ ملانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس سلسلے میں نظرانتخاب مشوری پر پڑی۔ وہ جعلسازی اور فراڈ میں خاصا ماہر تھا۔ فراڈ کے ایک چکر میں اپنی زندگی کے چار سال جیل میں گزار چکا تھا۔ نہایت تیز طرار آدمی تھا۔ نہ صرف جرائم پیشہ افراد سے اس کے مراسم تھے بلکہ بڑے لوگوں تک اس کی رسائی تھی۔
جب اس نے منصوبے کی تفصیل سنی تو فوراً ساتھ دینے پر آمادہ ہوگیا تاہم اس نے منصوبے میں بعض تبدیلیاں کیں۔ پہلی تبدیلی یہ کی کہ ایجنسی کی رجسٹریشن قانون کے مطابق ہونی چاہئے۔ اس پر سوال اٹھا کہ رجسٹریشن کس کے نام پر ہو چونکہ کام کی بنیاد فراڈ پر رکھی جارہی تھی اس
لئے کوئی بھی اپنا نام بطور پروپرائٹر دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ بہت سوچ سمجھ کے کسی چوتھے آدمی کو قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
چند ہفتوں کی کوشش کے بعد انہیں صوبت جیسا ایک سیدھا سادہ آدمی مل گیا۔ وہ ٹرانسپورٹ کا کام کرتا تھا اور عرصے سے کسی بڑے نفع بخش کاروبار کی تلاش میں تھا۔ مشوری جیسے چرب زبان آدمی نے اسے چند ملاقاتوں میں ساتھ دینے پرآمادہ کرلیا۔
’’اس کام میں ہم تینوں برابر کے شریک ہیں۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’ثمیر کے پینتیس لاکھ خرچ ہوچکے ہیں، مزید پندرہ لاکھ خرچ ہونے کی توقع ہے۔ بہرکیف…! کاروبار میں جو بچت ہوگی، اس میں سے یہ رقم پہلے منہا کرلی جائے گی اس کے بعد منافع تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔‘‘
’’یہ ایک طے شدہ بات ہے۔‘‘ گل ناز نے کہا۔ ’’اب آگے کیا پروگرام ہے؟‘‘
مشوری گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بولا۔ ’’صوبت تقریباً نصف گھنٹے بعد یہاں پہنچ رہا ہے۔ اسے جس کام کیلئے شریک کاروبار کیا گیا ہے، وہ مکمل ہوچکا ہے۔ اب اگلا مرحلہ شروع کرنے سے پہلے اس شخص کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس کاروبار کے سلسلے میں کوئی نہیں جانتا۔ جب ہمارا منصوبہ مکمل ہوجائے گا تو پولیس کو صوبت کی تلاش ہوگی۔ جب وہ نہیں ملے گا تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ ملازمت کے امیدواروں کی رقوم لے کر بیرون ملک فرار ہوگیا ہے۔‘‘
’’لیکن ہم اسے آج ہی ٹھکانے لگا رہے ہیں؟‘‘ ثمیر نے کہا۔ ’’کل جب وہ گھر نہیں پہنچے گا تو اس کے گھر والوں کو تشویش ہوگی اور وہ اس کی تلاش شروع کردیں گے۔‘‘
’’یہاں تمہاری ذہانت کی داد دینی پڑے گی۔‘‘ مشوری نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے بہت پہلے اس خامی کو محسوس کرلیا تھا اور اس کا انتظام بھی کرچکا ہوں۔ پہلے یہ خط پڑھ لو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے بریف کیس سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر ثمیر کے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ ایک ٹائپ شدہ خط تھا جو مسقط سے کسی تعمیراتی کمپنی کی طرف سے لکھا گیا تھا۔
’’محترمی! ہمیں اپنی کمپنی کیلئے بڑی تعداد میں مزدور اور کاریگروں کی ضرورت ہے لیکن ڈیمانڈ بھیجنے سے پہلے ہم آپ کے کسی ذمہ دار نمائندے کے ساتھ بالمشافہ شرائط طے کرنا چاہتے ہیں لہٰذا یہ خط ملتے ہی اپنے کسی بااختیار افسر کو روانہ کریں۔ روانگی سے قبل مطلع کردیں تاکہ ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا جاسکے۔‘‘
’’یہ خط کب آیا؟‘‘ گل ناز نے حیرانی سے پوچھا۔
’’مجھے معلوم تھا کہ تم دھوکا کھا جائو گی۔‘‘ مشوری نے عیارانہ مسکراہٹ سے کہا اور انکشاف کیا۔ ’’یہ خط جعلی ہے۔ یہ لیٹرہیڈ میں نے یہیں چھپوایا ہے۔ آج جب میں نے یہ لیٹر صوبت کو دکھایا تو وہ بہت خوش ہوا۔ وہ اپنی بسیں فروخت کرکے اس کاروبار میں سارا روپیہ لگانے پر تیار ہے لیکن میں نے اس سے کہا ہے کہ ابھی اس کی ضرورت نہیں۔ دوسری بات میں نے اس سے یہ کہی ہے کہ وہ فوراً میرے ساتھ بیرون ملک جانے کیلئے تیار ہوجائے۔ اب وہ اپنے گھر والوں کو یہ کہہ کر آئے گا کہ وہ کاروباری سلسلے میں باہر جارہا ہے لہٰذا چند ہفتوں تک اس کے بارے میں کسی کو تشویش نہیں ہوگی۔‘‘
’’ونڈر فل…!‘‘ گل ناز نے کہا۔
’’اب ہمیں ایک اور قربانی کے بکرے کی ضرورت ہے۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’ایک ایسے شخص کی جو بطور منیجر کام کرے، دفتر کیلئے ضروری اسٹاف بھرتی کرے، اخبارات میں اشتہار دے، امیدواروں کے انٹرویو لے، انہیں منتخب کرے، ان سے رقمیں وصول کرے اور ہمارے حوالے کرتا رہے۔ اسے ہماری سرگرمیوں کا قطعاً کوئی علم نہیں ہوگا لہٰذا وہ اس یقین کے ساتھ کام کرے گا کہ سارا کام اصل اور قانونی ہے۔ اسے تین مختلف کمپنیوں کی طرف سے تقریباً تین سو افراد کیلئے ڈیمانڈ لیٹر موصول ہوں گے۔ ان لوگوں سے دو لاکھ روپے فی آدمی کے حساب سے وصول کئے جائیں گے۔ اس طرح ہمیں پانچ چھ کروڑ سے زائد حاصل ہوجائیں گے۔ اس میں سے چند ہزار سمجھو اشتہارات، اسٹاف کی تنخواہوں اور متفرق اخراجات کی مد میں خرچ ہوں گے۔‘‘
’’اس طرح تو کروڑوں کا فائدہ ہوجائے گا ایک ہی جھٹکے میں…؟‘‘ ثمیر کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’اور یہ جھٹکے گاہے بگاہے لگتے رہیں گے۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’ہم لوگوں کے حصے میں اچھی خاصی رقم آجائے گی۔‘‘
’’لیکن میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی۔‘‘ گل ناز بولی۔ دونوں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ بولی۔ ’’معمولی اور عام سے کاریگر لوگ کیا ہمیں دو لاکھ روپے دے دیں گے؟‘‘
’’اسی لئے میں نے صرف دو لاکھ رکھے ہیں۔ اچھے مستقبل اور سہانے خوابوں کے لالچ میں یہ لوگ کسی نہ کسی طرح رقم کا بندوبست کرلیں گے۔ یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔‘‘ مشوری نے جواب دیا۔
’’لیکن اگر اسٹاف کے کسی ممبر نے ہمارے بارے میں پولیس کو بتا دیا تو بڑی گڑبڑ ہوجائے گی۔‘‘ ثمیر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بولا۔
’’ہم میں سے کوئی دفتر جائے گا اور نہ ہی کسی اسٹاف ممبر سے بالمشافہ بات کرے گا۔‘‘ گل ناز نے کہا۔ ’’یہ اس منصوبے کا ایک اور حصہ ہے۔ گویا سارا منصوبہ ساٹھ دن کے اندر مکمل ہوجانا چاہئے۔ پہلا مہینہ امیدواروں کے انٹرویوز میں صرف ہوگا۔ اس کے بعد پندرہ دن پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کی تیاری میں صرف ہوں گے۔ پاسپورٹ کی حد تک سارا کام اصلی ہوگا اس کے بعد آخری دو ہفتے رقم کی وصولی کیلئے مخصوص ہوں گے۔ روزانہ بیس سے پچیس افراد سے رقم وصول کی جائے گی۔ تقریباً تیس چالیس لاکھ روزانہ…!‘‘
’’اگر کوئی امیدوار رقم دینے پر تیار نہ ہوا یا اس نے حکام کو خبر کردی تو…؟‘‘
’’اس کا انتظام بھی کرلیا جائے گا۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’اتنے بڑے منصوبے میں حکام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی امیدوار نے مخبری کی کوشش کی تو اسے سوائے شرمندگی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘
اچانک کال بیل بجی۔
’’شاید صوبت آگیا؟‘‘ ثمیر نے کہا۔ نجانے کیوں وہ کچھ نروس سا نظر آرہا تھا۔
’’تم اتنے خوف زدہ کیوں ہو ثمیر؟‘‘ مشوری نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ ’’تمہاری یہ گھبراہٹ ہمارا کھیل بگاڑ سکتی ہے۔‘‘
’’دراصل بات یہ ہے کہ…!‘‘ ثمیر نے پھنسی پھنسی آواز میں کہا۔ ’’میں نے کبھی کسی کو قتل ہوتے نہیں دیکھا ہے۔ کیا کوئی اور صورت نہیں ہوسکتی… میرا مطلب ہے کہ کیا قتل کے بغیر کام نہیں چل سکتا؟‘‘
’’کیوں نہیں چل سکتا۔‘‘ گل ناز نے برہمی سے کہا۔ ’’صوبت کو چھوڑو، اسے ایک ریکروٹنگ ایجنسی چلانے دو اور اپنے کروڑوں کی رقم پر فاتحہ پڑھ لو۔‘‘
’’بحث ختم کرو۔‘‘ مشوری نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’میں دروازہ کھولنے جارہا ہوں، تم دونوں دوسرے کمرے میں چلے جائو۔‘‘
اطلاعی گھنٹی دوبارہ سنائی دی تھی۔ گل ناز اور ثمیر دوسرے کمرے میں چلے گئے اور مشوری نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ سامنے ایک بھاری جسم اور درمیانی قد کا ادھیڑ عمر شخص کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بریف کیس تھا اور ایک اٹیچی کیس زمین پر رکھا تھا۔ اس نے شلوار، قمیض کے اوپر ہلکے رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا۔ وضع قطع سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک سیدھا سادہ کاروباری شخص ہے۔
’’آیئے صوبت صاحب!‘‘ مشوری نے کہا اور آگے بڑھ کر اس کا اٹیچی کیس اٹھا لیا۔ ’’آپ ہی کا انتظار ہورہا تھا۔‘‘
دونوں آراستہ نشست گاہ میں پہنچ گئے۔ مشوری نے اٹیچی کیس ایک طرف رکھا اور صوفے پر بیٹھ گیا ساتھ ہی اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’تشریف رکھیں۔‘‘
’’یہ آپ کا ذاتی مکان ہے؟‘‘ صوبت نے دلچسپ سی نظروں سے اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’اپنا ہی سمجھیں!‘‘ مشوری نے جواب دیا۔ پھر قدرے توقف کے بعد اس نے پوچھا۔ ’’آپ نے اس کاروبار کے بارے میں کسی سے ذکر تو نہیں کیا؟‘‘
’’قطعاً نہیں! دیکھیں مشوری


میں کاروباری آدمی ہوں، کاروبار میں وعدہ خلافی کبھی نہیں کرتا۔ میں نے ابھی تک اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا۔ آج بھی صرف اتنا بتایا ہے کہ ایک کاروبار کے سلسلے میں بیرون ملک جارہا ہوں۔‘‘
’’بہت خوب…!‘‘
’’بچے بہت ضد کررہے تھے کہ الوداع کرنے ایئرپورٹ پر جائیں گے لیکن میں نے منع کردیا۔ آپ سے وعدہ جو کرلیا تھا۔‘‘ پھر وہ بولا۔ ’’مشوری صاحب! وہ ہمارے پارٹنر کہاں ہیں؟ آپ نے آج ان سے ملاقات کرانے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘
’’اوہ ہاں… پارٹنر! ایک منٹ ابھی بلاتا ہوں۔‘‘ مشوری نے کہا اور اٹھ کر اندر چلا گیا۔
اس نے صوبت کو صرف اتنا بتایا تھا کہ کاروبار میں پیسہ لگانے والا ایک تیسرا آدمی ہے جو بعض وجوہات کی بنا پر کام میں عملی طور پر شریک نہیں ہوسکتا۔ وہ اندر گیا اور ثمیر سے مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’آئو اپنے پارٹنر سے مل لو… تمہیں اپنا پارٹنر یاد ہے نا؟‘‘
ثمیر کا چہرہ گھبراہٹ کے مارے سرخ ہورہا تھا۔ وہ ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ ملاقات رہنے دو، کوئی بہانہ کردو۔ کہہ دو کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں اچانک کسی کام کے سلسلے میں باہر چلا گیا ہوں۔ میں کسی ایسے شخص سے نہیں مل سکتا جو عنقریب مرنے والا ہو اور پلیز جو کچھ کرنا ہے، جلدی کر ڈالو۔ میری بیوی واپس آنے والی ہوگی۔‘‘
اس نے اپنی بیوی کو ضروری شاپنگ کرنے کیلئے بھیج دیا تھا۔
’’ابھی ساڑھے دس بجے ہیں۔‘‘ گل ناز نے کہا۔ ’’تمہاری بیوی بارہ بجے سے پہلے نہیں آئے گی۔‘‘
’’ملاقات کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟‘‘ مشوری اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
’’کہا نا میں نہیں مل سکوں گا، کوئی بہانہ کردو۔ میرے منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نکل جائے گی۔‘‘
’’تم نے صوبت کو ثمیر کے بارے میں بتایا تو نہیں؟‘‘
گل ناز نے کسی خیال کے تحت مشوری سے پوچھا۔
’’ابھی تک تو کچھ نہیں بتایا۔‘‘ مشوری نے جواب دیا۔
’’تو پھر ٹھیک ہے۔ میں پارٹنر کی حیثیت سے اس سے مل سکتی ہوں۔‘‘
اس کی بات سن کر مشوری کچھ سوچنے لگا پھر بولا۔ ’’ٹھیک ہے آئو چلیں۔‘‘ ثمیر نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا لیکن آواز اس کے حلق میں اٹک کر رہ گئی۔ اس نے اضطراری انداز میں جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور کپکپاتے ہاتھوں سے ایک سگریٹ نکال کر سلگانے کی کوشش کرنے لگا۔ مشوری اور گل ناز اسے پریشان چھوڑ کر نشست گاہ میں پہنچ گئے۔
صوبت نے جب گلابی ساڑھی میں ملبوس ایک دلکش خاتون کو دیکھا تو اس کے چہرے پر بدحواسی اور خوش اخلاقی کا ملا جلا تاثر نمودار ہوگیا۔ اس کی مسکراہٹ انتہائی مضحکہ خیز ہوگئی۔
’’مس گل ناز!‘‘ مشوری نے جیسے اعلان کیا۔ ’’صوبت ایسوسی ایٹس کی فنانسر اور پارٹنر!‘‘
’’وہ… آپ!‘‘ صوبت اٹھتے ہوئے بولا۔ ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ…!‘‘
’’کہ آپ کی پارٹنر ایک خاتون ہوںگی‘‘ مشوری نے جیسے اس کی بات مکمل کردی۔ ’’مس گل ناز! آپ ہیں صوبت صاحب آپ کے ورکنگ پارٹنر!‘‘
گل ناز نے بے تکلفی سے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ صوبت نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی خاتون سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ اس نے قدرے تامل کرتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کردیا۔ گل ناز نے گرم جوشی کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا۔
’’بیٹھئے نا صوبت صاحب!‘‘ گل ناز نے مترنم لہجے میں کہا اور صوبت کے ساتھ ہی صوفے پر یہ کہتے ہوئے بیٹھ گئی۔ ’’میں آپ کی سلیپنگ پارٹنر ہوں۔‘‘
’’جج… جی… بالکل… ٹھیک کہا آپ نے!‘‘ صوبت کے منہ سے اٹکتے ہوئے الفاظ برآمد ہوئے۔ ’’میری سلیپنگ پارٹنر تو بس ایک ہی ہے… میرا مطلب ہے میری بیوی!‘‘
مشوری نے اس کی بات سن کر زور دار قہقہہ لگایا۔ ’’آپ بہت دور چلے گئے… مس گل ناز تو کاروباری سلیپنگ پارٹنر کی بات کررہی ہیں۔‘‘
’’اوہ سوری! معاف کرنا مس گل!‘‘
’’آپ خواہ مخواہ تکلف کررہے ہیں صوبت صاحب! آپ نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس کیلئے معافی مانگی جائے۔‘‘
صوبت صوفے کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا اور ترچھی آنکھ سے گل ناز کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ میں نے آپ کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے لیکن یاد نہیں آرہا کہ کہاں… چہرہ کافی مانوس سا لگتا ہے۔‘‘
’’میں آپ کی مشکل حل کردیتا ہوں۔‘‘ مشوری نے ہولے سے کھنکھار کر کہا۔ ’’آپ نے ان کا چہرہ ٹی وی پر دیکھا ہوگا۔ یہ ٹی وی کے اشتہارات میں کام کرتی رہی ہیں۔‘‘
’’بالکل ٹھیک کہا آپ نے…! غالباً کسی ملک کے اشتہار میں دیکھا تھا۔‘‘
’’آپ کیا پئیں گے؟‘‘ گل ناز نے ایک دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔ ’’چائے یا کافی…!‘‘
’’چائے ٹھیک رہے گی۔‘‘ صوبت نے جلدی سے کہا۔
گل ناز اٹھ کر کچن میں چلی گئی اور چائے بنانے لگی۔ اس نے تین کپ تیار کئے، انہیں ٹرے میں رکھا پھر درمیان والے کپ میں ایک سفوف ملایا۔ جب وہ ٹرے اٹھا کر مڑی تو ثمیر کو دروازے میں کھڑے پایا۔
’’گل ناز…!‘‘ اس نے ہولے سے کہا۔ ’’میرا خیال ہے کہ ہم غلطی کررہے ہیں۔ قتل ایک سنگین جرم ہے، ابھی وقت ہے، ہمیں اس کام سے دست کش ہوجانا چاہئے۔‘‘
’’راستہ پلیز…!‘‘ گل ناز آگے بڑھتے ہوئے بولی۔ ’’ہم بہت آگے جا چکے ہیں۔‘‘
’’ابھی کچھ نہیں ہوا۔‘‘ ثمیر نے کہا۔ ’’میرے پیسوں کی فکر مت کرو۔‘‘
’’مجھے تمہارے پیسوں کی فکر ہے بھی نہیں!‘‘
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ مشوری کی آواز سنائی دی۔ ’’چائے میں اتنی دیر کیوں ہورہی ہے؟‘‘ وہ اس طرف آگیا تھا۔
’’چائے تیار ہے؟‘‘ گل ناز نے کہا اور ثمیر کو ایک طرف ہٹاتی ہوئی باہر نکل گئی۔
’’ایک منٹ… ایک منٹ!‘‘ ثمیر نے کہا۔ ’’مشوری! میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کرو بات…!‘‘ مشوری جاتے جاتے رک گیا۔
’’گل ناز کو تو روکو۔‘‘
لیکن گل ناز نشست گاہ میں پہنچ گئی تھی۔ اس نے ٹرے میز پر رکھ دی۔ درمیان والا کپ اٹھا کر صوبت کو پیش کیا۔ اس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کپ لے لیا۔ گل ناز دوبارہ اس کے قریب بیٹھ گئی۔ اس قرب نے صوبت کو ایک بار پھر نروس کردیا۔
’’دیکھئے صوبت صاحب!‘‘ گل ناز نے کہا۔ ’’ہم پارٹنر بن چکے ہیں، اب یہ تکلف نہیں چلے گا۔‘‘
’’جی بالکل… بالکل!‘‘
’’چائے پئیں نا…!‘‘ گل ناز نے کسی قدر لگاوٹ سے کہا۔
اس التفات کا مقصد یہ تھا کہ صوبت چائے میں ڈالی گئی بے ہوشی کی دوا کے ذائقے کو محسوس نہ کرسکے۔ صوبت، گل ناز کی شیریں گفتاری میں ایسا محو ہوا کہ چائے کی تلخی کو محسوس نہ کرسکا۔ چند لمحوں بعد اس نے پیالی خالی کردی اور نیم وا آنکھوں سے گل ناز کی طرف دیکھنے لگا۔
’’اور پئیں گے…؟‘‘ گل ناز نے پوچھا۔
’’بس شکریہ…!‘‘ صوبت نے قدرے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ’’عجیب سا ذائقہ تھا۔‘‘
گل ناز نے اپنی پیالی اٹھا کر ایک گھونٹ بھرا پھر بولی۔ ’’ذرا سی تلخی ہے شاید مجھ سے پتی زیادہ ڈل گئی۔‘‘
اس کی آواز بھاری اور آنکھیں بوجھل ہوتی جارہی تھیں۔ ’’نیند سی آرہی ہے یا پھر پتا نہیں کیا ہورہا ہے۔‘‘ صوبت نے کہا۔
’’آپ کو کسی اور قسم کا نشہ ہورہا ہے۔‘‘ گل ناز نے بغور اس کے چہرے پر اپنی نگاہیں جما کر کہا۔ ’’اچھا! ایک بات بتائیں اگر آپ کوپتا چل جائے کہ یہ آپ کی زندگی کا آخری دن ہے تو آپ کی آخری خواہش کیا ہوگی؟‘‘
صوبت نے یہ سوال سن کر بڑے زور سے جھرجھری لی اور پوری آنکھیں کھول کر گل ناز کو گھورنے لگا۔ اسے یوں اپنی طرف گھورتا پا کر گل ناز لمحے بھر کو سکتے میں آگئی۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ دوا نے کوئی اثر نہیں دکھایا تھا یا اس کا اثر جلد ہی زائل ہوگیا۔
’’میں سب سمجھ گیا ہوں۔‘‘ صوبت نے بظاہر بڑے جوش کے ساتھ کہا۔ ’’چائے میں کچھ ملا ہوا تھا… کیا تم لوگ مجھے ختم کرنا چاہتے ہو؟ اوہ! نہیں… نہیں…! اللہ کے واسطے ایسا نہیں کرنا۔ میں نے آج تک کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔‘‘ اس
آواز ڈوبنے لگی۔ ’’میری تین بیٹیاں ہیں۔ میرے بعد انہیں کوئی نہیں پوچھے گا… میں تم سے… رحم…!‘‘ اس کی آواز ساتھ چھوڑ گئی اور وہ صوفے پر لڑھک گیا۔
اسی لمحے مشوری کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے پیچھے ثمیر بھی تھا جو آنکھیں جھپکاتا ہوا صوبت کو دیکھ رہا تھا۔
’’کیا یہ مر گیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں! صرف بے ہوش ہوا ہے۔‘‘ گل ناز نے کہا۔ ’’میرا کام ختم ہوچکا ہے، اب تم اسے سنبھالو۔‘‘
’’خاصا وزنی ہے۔‘‘ مشوری اسے سیدھا کرتے ہوئے بولا۔ ’’ثمیر! اسے سہارا دے کر میرے کاندھوں پر ڈال دو۔‘‘
صوبت جو پوری طور پر بے ہوش نہیں ہوا تھا، اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔ ’’مم… میں خدا کے نام پر… رحم کی بھیک مانگتا ہوں۔ میں تمہارا ہر مطالبہ پورا کرنے کو تیار ہوں… رحم… رحم!‘‘
ثمیر کو اسے درد بھرے، لاچار اور بے بسی کے انداز میں دادو فریاد کرتے دیکھ کر جھرجھری آگئی۔
’’بڑا سخت جان ہے۔‘‘ گل ناز نے کہا۔
’’معلوم ہوتا ہے تم نے دوا کی مقدار کم ڈالی تھی؟‘‘ مشوری نے کہا۔
صوبت دوبارہ لڑھک گیا۔ مشوری نے جلدی سے اسے سیدھا کیا۔ اس کے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے اوپر ٹکائے اور پشت پر ڈال لیا۔
’’ثمیر! تم اس کا بریف کیس اور اٹیچی کیس اٹھا کر لے آئو۔‘‘ اس نے کہا اور باورچی خانے سے ہوتا ہوا مکان کے پچھلے حصے میں پہنچ گیا۔
رات تاریک اور سنسان تھی۔ جس مکان میں یہ بھیانک کارروائی ہورہی تھی، وہ ایک ترقی پذیر نواحی علاقے میں واقع تھا۔ وہاں آس پاس بہت کم آبای تھی۔ زیادہ تر مکانات زیرتعمیر تھے۔ ان میں تاریکی اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔
مکان کے پچھلے حصے میں پھولوں اور پھلوں کے چند پودے اگے تھے۔ ان پودوں سے ذرا ہٹ کر عقبی دیوار کے قریب ایک چھ فٹ گہرا گڑھا تیار تھا۔ دیوار کے ساتھ چند گملے رکھے ہوئے تھے۔
مشوری اس گڑھے کے کنارے پہنچ کر رک گیا اور بے ہوش صوبت کو کندھے سے اتارا اور نہایت سنگ دلی کے ساتھ گڑھے میں لڑھکا دیا۔ اس کے منہ سے کراہنے کی دبی دبی سی آواز برآمد ہوئی۔ اس کے بعد سناٹا چھا گیا۔
’’لائو یہ سامان بھی گڑھے میں ڈال دو۔‘‘ مشوری نے ثمیر سے کہا۔
ثمیر نے قدرے ہچکچاہٹ سے گل ناز کی طرف دیکھا لیکن وہ اپنی ساڑھی سنبھالے اطمینان سے کھڑی تھی۔ ثمیر کو اس کی سخت دلی پر حیرت ہوئی جبکہ اس کا اپنا یہ حال تھا کہ خوف کے باعث ہاتھ کانپ رہے تھے۔ جب وہ منصوبے کی تفصیلات طے کررہے تھے تو اس وقت ساری بات محض ایک کاروباری منصوبہ معلوم ہوئی تھی۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ عملی اعتبار سے وہ ایک دہشت ناک منصوبہ تھا تو وہ کبھی اس میں شریک نہ ہوتا۔
’’کیا سوچ رہے ہو ثمیر…؟‘‘
’’کک… کک… کچھ نہیں۔‘‘
مشوری نے اس کے ہاتھ سے بریف کیس اور اٹیچی لے کر گڑھے میں پھینک دیئے اور قریب رکھی ہوئی کدال اٹھا کر گڑھے میں مٹی ڈالنے لگا۔
’’تم بھی شروع ہوجائو۔‘‘ مشوری نے کہا۔ ’’اگر کام ختم ہونے سے پہلے تمہاری بیوی گھر پہنچ گئی تو مصیبت میں پڑ جائو گے۔‘‘
ثمیر نے کانپتے ہاتھوں سے کدال اٹھا لی اور گڑھا پر کرنے لگا۔ تقریباً نصف گھنٹے کے اندر گڑھا پر ہوگیا۔ مشوری نے کدال رکھ دی اور گملوں کے اندر لگے ہوئے پودے نکال کر گڑھے کے اوپر لگانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد صوبت کی قبر پر پھولوں کی کیاری بن چکی تھی۔
٭…٭…٭
شوکت نے ایک نظر انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے امیدواروں پر نظر ڈالی جن کی تعداد نو تھی پھر اپنے تئیں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا کہ اس کی اپنی کامیابی کا امکان کتنے فیصد ہے۔ تین امیدواروں کو اس نے پہلی ہی نظر میں نااہل قرار دے دیا کیونکہ ان کی عمریں چالیس برس سے زائد معلوم ہوتی تھیں۔ اشتہار میں اس امر کی واضح تصریح موجود تھی کہ امیدوار کی عمر پینتیس برس سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ گویا اس کا مقابلہ صرف چھ امیدواروں سے تھا۔ وہ دل ہی دل میں اپنی کامیابی کی دعا مانگنے لگا۔
چھ ماہ کی بیروزگاری کے بعد یہ پہلا انٹرویو لیٹر تھا جو اسے امید افزا معلوم ہوا تھا۔ اس سے قبل وہ کئی جگہوں پر انٹرویو دے چکا تھا لیکن کہیں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ وہ اپنی ماں، ایک چھوٹی بہن اور چھوٹے بھائی کا واحد سہارا تھا۔ پانچ سال قبل جب اس نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کی ڈگری لی تھی تو اپنے مستقبل کے بارے میں خاصا پرامید تھا لیکن عملی میدان میں قدم رکھنے کے بعد اسے پتا چلا کہ مستقبل بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں وہ تین پرائیویٹ فرموں میں کام کرچکا تھا لیکن افسروں کو خوش کرنے کا فن نہ جاننے کی وجہ سے ابھی تک ناکام رہا تھا۔ اب وہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ کامیابی کیلئے محنت اور قابلیت کے علاوہ بھی کسی اور چیز کی ضرورت پڑتی ہے۔
خیالات کی رو میں اس کا خیال نبیلہ کی طرف چلا گیا۔ نبیلہ اس کی محبوبہ اور منگیتر تھی لیکن جب سے اس کی ملازمت گئی تھی، نبیلہ صرف محبوبہ بن کر رہ گئی تھی کیونکہ اس کی ماں نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی چاند سی بیٹی کو کسی بیروزگار نوجوان کے پلے نہیں باندھ سکتی۔ گویا یہ ایک طرح سے منگنی توڑنے کا اعلان تھا مگر ماں کے اس اعلان کے باوجود نبیلہ چوری چھپے شوکت سے ملتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے والہانہ محبت کرتے تھے اور جدائی کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ شوکت نے سوچا کہ اگر وہ انٹرویو میں کامیاب ہوگیا تو سیدھا نبیلہ کے پاس جائے گا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی ملازمت کی خبر سن کر نبیلہ کی ماں کا موڈ خودبخود ٹھیک ہوجائے گا۔
’’توجہ فرمایئے!‘‘ اچانک انتظار گاہ کے کسی کونے میں لگے ہوئے اسپیکر پر ایک نسوانی آواز گونجی۔
’’امیدوار باری باری آندر آتے جائیں۔ سب سے پہلے دائیں طرف والا پہلا امیدوار اندر آجائے۔‘‘
دائیں طرف بیٹھے ہوئے دبلے پتلے نوجوان نے ٹائی کی گرہ درست کی اور اداس چہرے پر رونق پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوا اندر چلا گیا۔ اس کے ساتھ بیٹھا ہوا دوسرا امیدوار پرامید انداز میں اپنا ہاتھ ملنے لگا۔
صرف ایک منٹ بعد ہی پہلا امیدوار واپس آگیا۔ اس کے چہرے پر پہلے سے زیادہ اداسی چھائی ہوئی تھی۔
’’جایئے آپ کی باری ہے۔‘‘ اس نے برا سا منہ بنا کر دوسرے امیدوار سے کہا اور بیرونی دروازے کی طرف چل دیا۔
’’بات سنئے!‘‘ ایک ادھیڑ عمر امیدوار نے نوجوان کو روکتے ہوئے کہا۔ ’’کیا پوچھا تھا…؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ نوجوان نے جواب دیا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ اندر جانے کے بعد اس کا جبڑا ٹیڑھا ہوگیا تھا۔’’ ان لوگوں کو کوئی پہلوان چاہئے پہلوان…!‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے کہ میری صحت بہت کمزور ہے، آپ یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکیں گے۔ جی میں تو میرے آئی کہ کہوں باہر نکل بیٹا! ہوجائیں دودو ہاتھ لیکن شرافت آڑے آگئی۔‘‘
یہ سن کر دیگر امیدوار اپنی اپنی صحت و توانائی کا اندازہ کرنے لگے۔
’’لو بھئی دوستو! ہم بھی چلے۔‘‘ ادھیڑ عمر امیدوار اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا بولا۔ ’’ریکروٹنگ ایجنسی میں واقعی کسی باڈی بلڈر کو کام کرنا چاہئے۔اس کام میں بڑے ہنگامے ہوتے ہیں۔‘‘
پھر وہ نوجوان کے ساتھ ہی باہر نکل گیا۔ اتنے میں دوسرا امیدوار اندر سے نکلا اور دائیں بائیں دیکھے بغیر تیر کی طرح باہر نکل گیا۔
چھٹے نمبر پر شوکت کی باری آئی۔ اس نے فائل بغل میں دبائی اور پورے اعتماد سے دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ وہ ایک خوبصورت اور آراستہ دفتر تھا۔ دائیں کونے میں ایک بڑی سی میز تھی۔ دیواروں پر تیز روشنی والے فلیش بلب روشن تھے۔ ان کی روشنی کا رخ میز کے سامنے رکھی ہوئی واحد کرسی کی طرف تھا۔ میز کے پیچھے جو شخص بیٹھا تھا، وہ تاریکی میں تھا اور محض ایک ہیولا سا نظر


تھا۔ اس کی دائیں جانب ایک لڑکی بیٹھی تھی اور وہ بھی تاریکی میں تھی۔
’’آپ کا نام…؟‘‘ سوال لڑکی نے کیا تھا۔ شوکت نے اندازہ لگایا کہ لڑکی نوجوان اور شوخ تھی۔
’’کیا آپ میری صحت کی طرف سے مطمئن ہیں؟‘‘
’’بظاہر ٹھیک نظر آتے ہو۔‘‘ مرد نے کہا۔ ’’لیکن اپنی گفتگو جواب دینے تک محدود رکھو۔ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’شوکت حسین!‘‘
’’ہوں…!‘‘ اس نے ایک گمبھیر لہجے میں کہا پھر بولا۔ ’’ریکروٹنگ ایجنسی کے کام کے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘
’’کبھی یہ کام نہیں کیا لیکن ایسا مشکل بھی نہیں جیسا کہ میں نے اپنی درخواست میں لکھا ہےکہ میرے پاس ایم بی اے کی ڈگری کے علاوہ بزنس مینجمنٹ کا چار سالہ تجربہ ہے۔ میں کسی بھی کام یا کاروبار کو کامیابی کے ساتھ چلا سکتا ہوں۔‘‘
’’تم نے اس سے پہلے والی ملازمت کیوں چھوڑی تھی؟‘‘
’’پارٹی بازی کا شکار ہوگیا تھا ورنہ میرے کام میں کوئی خامی نہیں تھی۔‘‘
’’شادی شدہ ہو؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
چند ثانئے کی پرسوچ خاموشی طاری رہی پھر اس نے اگلا سوال پوچھا۔ ’’ریکروٹنگ ایجنسی کے کام میں کچھ پہلو ایسے ہوتے ہیں جنہیں مکمل طور پر قانونی نہیں کہا جاسکتا، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’غالباً آپ کا اشارہ اس رقم کی طرف ہے جو ملازمت کیلئے منتخب ہونے والے امیدواروں سے لی جاتی ہے؟‘‘
’’ٹھیک سمجھے!‘‘ مرد نے کہا۔ ’’اگر یہ رقم نہ لی جائے تو کاروبار نہیں چل سکتا یعنی نقصان ہونا لازمی ہے۔‘‘
’’ایسی صورت میں یہ ناجائز کام مجبوری بن جاتا ہے۔‘‘
’’خاصے عقلمند اور مفاہمت پسند معلوم ہوتے ہو۔ فی الحال تم باہر انتظار کرو، ہم بقیہ امیدواروں کو بھی دیکھ لیں۔‘‘
شوکت باہر جاکر بیٹھ گیا۔ انتظار گاہ میں صرف تین امیدوار رہ گئے تھے۔ تینوں باری باری اندر گئے اور منہ لٹکا کر واپس چلے گئے۔
’’شوکت حسین!‘ معاً اسپیکر پر لڑکی کی آواز گونجی۔ ’’اندر آجائو۔‘‘
شوکت سمجھ گیا کہ اسے منتخب کرلیا گیا ہے۔ وہ اپنی نشست سے اٹھا اور اندر جاکر کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’مبارک ہو۔‘‘ مرد نے کہا۔ ’’تمہیں منتخب کرلیا گیا ہے۔ آج سے تم صوبت ایسوسی ایٹس کے منیجر ہو۔‘‘
’’شکریہ سر…!‘‘ شوکت نے کہا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ فی الفور یہ خبر نبیلہ کو جا کے سنائے۔
’’میرا نام صوبت ہے اور میں اس ایجنسی کا مالک ہوں۔‘‘ مرد نے کہا۔
درحقیقت وہ مشوری تھا اور اس کے ساتھ جو لڑکی بیٹھی تھی، وہ گل ناز تھی۔ نام بتانا اس لئے ضروری تھا کہ ایجنسی کے لائسنس اور دیگر کاغذات میں ہر جگہ صوبت کا نام درج تھا۔
’’میں آج شام کی فلائٹ سے بیرون ملک جارہا ہوں۔‘‘ مشوری بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ’’اس لئے ہوسکتا ہے کہ ہماری کچھ عرصے تک ملاقات نہ ہوسکے۔ اس دوران سارا کام تمہیں چلانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمہیں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ تم ایک ہوشیار نوجوان ہو، بخوبی ہر کام سنبھال لو گے تاہم تمہیں موٹی موٹی باتیں بتا دیتا ہوں۔ یہ پیڈ لو اور تمام پوائنٹ نوٹ کرتے جائو۔‘‘
شوکت نے میز پر رکھا ہوا پیڈ اور بال پوائنٹ اٹھا لیا۔
’’سب سے پہلے ملازمت کی شرائط اور تنخواہ کا ذکر ہوجائے۔ سب سے اہم بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ رازداری اس ملازمت کی اہم شرط ہے۔ تم دفتر کے معاملات کا کسی سے ذکر نہیں کرو گے یہاں تک کہ اپنی ماں اور بیوی سے بھی نہیں خصوصاً میرے بارے میں قطعاً کسی سے ذکر نہیں کرو گے۔ یہاں تک کہ میرا کوئی عزیز رشتے دار یہ بات نہیں جانتا کہ میں نے ریکروٹنگ ایجنسی کا کام شروع کیا ہے۔ اس رازداری کی ایک وجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ ایجنسی کا مالک کون ہے تو وہ رشتے داروں اور دوستوں کے ذریعے سفارشیں کروانا شروع کردیتے ہیں۔ بعض دوست ایسے ہوتے ہیں جن کی سفارش رد کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یوں نااہل امیدوار منتخب ہوجاتے ہیں اور ایجنسی کی بدنامی ہوتی ہے۔ میرا مطلب سمجھ رہے ہو نا…؟‘‘ (جاری ہے)
SHARE