Sana Javed Phonk Phonk Kar Film Sign Karenge

63
2017ء میں ثناء جاوید نے فلم ’’مہر النساء وی لب یو‘‘ میں کام کیا تو فلم بینوں کو لگا کہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی فلمی صنعت کو ایک اور نوخیز اداکارہ دستیاب ہوگئی ہے، جو چھوٹی اسکرین کے راستے سے بڑے پردے پر آکر چھا جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے مگر ایسا ہوا نہیں اور ایک ہی کامیاب فلم کے بعد ثناء جاوید اپنی کچھار میں واپس آگئیں اور ٹی وی پر اپنے جلوے بکھیرنے شروع کردیئے۔ ’’جیو‘‘ پر ان کی سیریل ’’خانی‘‘ نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ بنانا شروع کردیے اور ان کے ٹائٹل رول نے انہیں ایسی قبولیت عام بخشی جو عموماً اداکارائوں کو فلموں کے ذریعے بھی نصیب نہیں ہوا کرتی۔
جب ثناء جاوید سے پچھلے دنوں پوچھا گیا کہ ایک فلم کے بعد ہی انہوں نے سلور اسکرین سے خود کو دور کیوں کرلیا تو ثناء کا کہنا تھا کہ ’’مہر النساء وی لب یو‘‘ میں کام کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ کئی پہلو ایسے ہوتے ہیں جنہیں مدنظر رکھے بغیر فلم سائن نہیں کرنا چاہئے۔ اسی لیے اب وہ نہ صرف اچھے اسکرپٹ کا انتظار کررہی ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ میں ایک نسبتاً بہتر ٹیم کی بھی تلاش میں ہوں جب تک یہ دونوں چیزیں دستیاب نہیں ہوں گی، میں فلم میں کام نہیں کروں گی۔
اس موقف کے بعد یہ بات بآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ ثناء کو نہ صرف اس فلم کے اسکرپٹ سے اتفاق نہیں تھا بلکہ اس کی ٹیم کے حوالے سے بھی انہیں تحفظات ہیں۔ بہرحال اختلافی باتوں سے دور رہتے ہوئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ثناء جاوید نے صرف چار پانچ سال کے عرصے میں اپنی منفرد شناخت بنوالی ہے۔
2013ء میں ڈرامہ سیریل ’’پیارے افضل‘‘ سے انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ میں اچھی ٹیم کے بغیر کبھی اچھی پرفارمنس نہیں دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ’’خانی‘‘ نے فقید المثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس کی ریٹنگ میں ہر ہفتہ ہونے والا اضافہ اور ناظرین کی اس سیریل میں بڑھتی دلچسپیاں بھی اس بات کا ثبوت رہیں کہ اگر ٹیم ورک مضبوط ہو، تبھی کوئی پروجیکٹ کامیاب ہوسکتا ہے اور اچھی ورکنگ کیمسٹری ہی اصل کامیابی کا راز ہے۔
ثناء کہتی ہیں کہ ڈائریکٹر انجم شہزاد کے ساتھ ان کی ذہنی ہم آہنگی نے بھی سونے پہ سہاگے کا کام کیا ہے۔’’خانی‘‘ کے آن ایئر آنے سے قبل ثناء جاوید کو اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھ کر اکثر کسی سین کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کردیا کرتی تھیں انہوں نے کہا کہ محنت کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل بھی آپ کی کامیابیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر ہادی اور ارحم جیسے منفی اور مثبت کرداروں کے بیچ گھری ’’خانی‘‘ کی پسندیدگی، ٹیم ورک اور محنت کا نتیجہ ہے
انہوں نے کہا کہ اس سیریل کے دوران انہیں مداحوں کا بھی پیار ملا ہے اور وہ جہاں گئیں، انہیں ایسے سوالات کا سامنا رہا ہے کہ، اگلی قسط میں کیا ہونے والا ہے، میر ہادی گرفتار ہوگا یا نہیں، ایسے ہی بہت سے سوالات سن کر مجھے لگتا ہے کہ ناظرین خود کو ہمارے ادا کیے گئے کرداروں کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔
یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ خواہ ’’پیارے افضل‘‘ میں لبنیٰ کا کردار ہو، ’’ذرا یاد کر‘‘ کی ماہ نور ہو، یا ڈرامہ سیریل ’’گویا‘‘ کی موہنی ہو، ثناء جاوید نے ہمیشہ بہت چنیدہ چنیدہ کردار خوب سوچ سمجھ کر منتخب کیے ہیں۔
اس حوالے سے ثناء کا کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ وہ کردار منتخب کیے جن میں عورت کو مضبوط اور بااختیار دکھایا گیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹی وی ایک بہت طاقتور میڈیم ہے اور ہم اس کے ذریعے عوام کا شعور اجاگر کرسکتے ہیں۔ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ عورت کوئی موم کی گڑیا نہیں بلکہ اپنا حق لینا جانتی ہے، وہ مضبوط اور آزاد ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے ڈراموں میں ادا کیے گئے کرداروں کے ذریعے خواتین کو یہی پیغام دینا چاہتی ہوں کہ ہمیں اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا اور ناانصافی کے خلاف آواز بھی اٹھانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’خانی‘‘ میں بھی میں نے ایک بہادر لڑکی کا کردار نبھایا جو اپنے جڑواں بھائی کے قاتل، میر ہادی سے ہر گز نہیں ڈرتی، جس نے دن دہاڑے اس کی زندگی چھین لی تھی، وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر انصاف کی تلاش میں سرگرداں رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ان کے پاس تین سے چار اسکرپٹ موجود ہیں، جنہیں وہ پڑھ رہی ہیں، خصوصاً ایک اسکرپٹ انہیں بہت پسند آیا ہے جو ایک فرسودہ رسم کے خلاف ہے اور اس میں بھی عورت کو مضبوط کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
عید کے موقع پر وہ مہرین جبار کی ٹیلی فلم ’’ڈینو کی دلہنیا‘‘ میں بھی خوب پسند کی گئیں اور اب انجم شہزاد کی ہدایات میں رومانٹک کامیڈی پروجیکٹ ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ بھی تقریباً تیار ہے۔ اس میں بھی وہ فیروز خان کے ساتھ ہی جلوہ گر ہورہی ہیں۔