Thursday, February 22, 2024

Saraab

میں دوڑتی بھاگتی سینما پہنچی تو نمرتا بڑی بے تابی سے میری راہ دیکھ رہی تھی، کیونکہ فلم شروع ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا۔ سینما ہیں آج کل ہالی ووڈ کی ماضی کی مقبول فلموں کی نمائش چل رہی تھی۔ انہوں نے ماضی میں ریکارڈ بزنس کیا تھا۔ گو کہ ان فلموں کی سی ڈیز دستیاب تھیں لیکن بڑی اسکرین پر فلم دیکھنے کا جو مز ا تھا وہ چھوٹے اسکرین پر کہاں .. نمر تا جیمز بانڈ کی بڑی شیدائی تھی۔ جب سینما میں جیمز بانڈ کی فلم گولڈ فنگر لگی تو اس کا دل مچل اٹھا۔ اس نے   شو کی بکنگ کر والی تھی۔ خیال تھا کہ فلم بہت رش لے رہی ہے، لیکن وہاں رش نہیں تھا کیونکہ آج کل ہندوستانی فلموں کی نمائش دھڑلے سے ہو رہی تھی۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کے ایک طرف لے جا کر بولی۔ “کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ فلم تین بجے شروع ہو گی ؟“ میں بس میں بے بس ہو گئی تھی، پھر راستے میں ٹریفک جام ہو گیا۔ رکشا اور ٹیکسی میں بھی آتی تو دیر ہی ہو جاتی۔“ جب ہم دونوں فلم دیکھ کے سینما ہال سے نکلیں تو دن رات کی آغوش میں سما چکا تھا اور برقی روشنیاں اندھیرے کا سینہ چیر رہی تھیں۔ ہم دونوں کو فلم بہت پسند آئی تھی۔ یہ ہنگاموں سے بھر پور ایک سنسنی خیز فلم تھی۔ جب ہم دونوں سڑک پر آئیں تو فلم کا سحر ٹوٹ چکا تھا۔ بس اسٹاپ کی طرف لپکتے ہوئے مرد ، لڑکیوں اور عورتوں کو دیکھ کر میں سوچنے لگی کہ شاید ہی بس میں سوار ہو سکوں گی۔ آسمان پر گہرے سیاہ بادلوں کے ٹکڑے آوارہ گردی کر رہے تھے، جیسے برسنے پر تلے ہوئے ہوں۔ اگر خدانخواستہ بارش ہو گئی تو پھر سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ سڑکوں پر پانی اور کیچڑ پھیل جائے گا اور مجھے سخت پریشانی اٹھانا پڑے گی۔ میں اور نمرتا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ذرا سنبھل سنبھل کر چل رہی تھیں۔ دفعتا نمرتا نے اپنا ہاتھ چھٹرا لیا تو میں نے چونک کے دیکھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کی پر چھائیں تک نہ تھی، پھر وہ مسکراتی ہوئی بولی۔ جیمز بانڈ صاحب ! چلو ہم تمہیں کریم کافی پلائیں۔ وہ جو ریڈ روز ریسٹورنٹ نظر آرہا ہے نا ! وہاں کی کافی بہت عمدہ ہوتی ہے۔ کافی … ! میں نے اسے گھور کے دیکھا۔ ”کیا تیر ادماغ چل گیا ہے۔ کیا یہ کوئی کافی کا وقت اور موقع ہے ؟  میرے انکار کے باوجود وہ مجھے لے کر ریسٹورنٹ میں بھی گئی۔ دیکھو، کس قدر بھیڑ بھاڑ ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی لنگر کھلا ہوا ہے۔“ میں نے دائیں بائیں کی سمت اشارہ کر کے کہا ۔ ” ایک میز بھی خالی دکھائی نہیں دیتی ہے۔“ میز تو مل جائے گی، لیکن آدھے گھنٹے تک کوئی بس نہیں ملے گی۔ چلو کیبن میں بیٹھتے ہیں، بس تو آدھے گھنٹے بعد ہی ملے گی۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا، مسافر کم ہو جائیں گے۔ اتنی دیر میں کیوں نہ کافی کا ایک دور ہو جائے۔“ پھر وہ میرا بازو تھام کر اس کیبن کی طرف بڑھ گئی، جس میں سے ایک جوڑا نکل رہا تھا۔ بیٹھتے ہی نمرتا نے کافی کا آرڈر دیا۔ ویٹر چلا گیا تو میں اس پر بھڑک اُٹھی۔ رات کی رانی صاحبہ ! آپ کو تو کسی بات کی کوئی فکر نہیں، مگر گھر پہنچتے ہی مجھ سے اس طرح سے سوالات اور پوچھ گچھ کی جائے گی جیسے میں کوئی مجرم ہوں اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہوں۔ کیا آج ہی فلم دیکھنا ضروری تھا؟ میری جیمز بانڈ ، جمعہ کے دن فلم اتر جاتی “ اس نے میری ٹھوڑی پکڑ کے ہلائی۔ میں نے گہر اسانس لیتے ہوئے فکر مندی سے کہا۔ ” اب جلد گھر پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ تجھ سے باز پرس کرنے والا کون ہے بھلا ؟ رات دیر سے گھر پہنچو تو صرف گھر والوں کو نہیں، اڑوس پڑوس کی خالائوں اور چاچیوں کو بھی تفصیلات بتانی پڑتی ہیں، پھر گھر والوں کی معنی خیز نگاہیں اور زہر میں بجھے ہوئے سوال تیر کی مانند دل میں اُتر جاتے ہیں۔ جب تک ان کی تسلی نہ ہو، ان تیروں کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“ گو یا تم گھر میں نہیں ، جہنم میں قدم رکھتی ہو۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تمہارے گھر والے وہیں ہیں۔ اس بات ہی کا تو رونا ہے۔ میں کہتے کہتے رک گئی، کیوں کہ ویٹر کافی لے آیا تھا۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا۔ گھر کا ہر مرد میرے لیے دیوار بنا ہوا ہے۔“تو یہ دیواریں گرا کیوں نہیں دیتی رہے؟ نمرتا نے تلخ لہجے میں کہا۔ ”آخر تو گھر چلارہی ہے ، ملازمت کرتی ہے، کماتی ہے۔ کیا کچھ بھی تجھے نصیب نہیں ہے ؟ تیری تو ہر طرح سے عزت اور قدر کرنی چاہئے۔ “ دو میں بڑی کم زور اور بے بس سی لڑکی ہوں۔ میرے لیے ان دیواروں کو گرانا آسان نہیں ہے۔  میری آواز بھر اسی گئی۔  مجھے تو تجھ پر رشک آتا ہے۔“ رشک کی بات ہی تو تھی۔ نہ نمرتا نے جو دنیا بسائی ہوئی تھی ، وہ اس کی اپنی تھی۔

وہ اس قسم کی فا فکروں سے آزاد اور بے نیاز ، بے پروا تھی۔ ایک آزاد پنچھی کی طرح، وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ رہتی تھی۔ اس کے ماں باپ مضافات میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ یہاں ملازمت کر رہی تھی۔ کئی برس تک وہ ایک خاتون بیوہ کے مکان میں رہتی رہی تھی، پھر ایک نجی تقریب میں ، ایک شخص سے اس کا تعارف ہوا تو وہ دونوں جلد ہی ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔ اس شخص کا اپنا کاروبار تھا۔ وہ آزاد خیال شخص تھا، بال بچوں کے جھمیلے میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ دوسری طرف نمرتا بھی ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے دونوں نے باہمی سمجھوتے کے تحت سول میرج کر لی۔ ان کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا تھا، اس کی رُو سے جب نمرتا کے والدین اسے بلائیں گے ، تب وہ اس شادی کو منسوخ کر کے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائیں گے۔ اس کے شوہر نے اسے ایک فلیٹ دے دیا تھا، جہاں وہ اکیلی رہتی تھی، جبکہ اس کا شوہر سوسائٹی کے ایک بنگلے میں اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہتا تھا اور شام کو اس سے ملنے آتا تھا۔ وہ اپنی شامیں ہوٹل بازی کی نذر کر دیتے ، پھر وہ اپنے فلیٹ اور اس کا شوہر اپنے گھر چلا جاتا تھا۔ وہ اکثر اس کے فلیٹ میں آتا، مگر رات بارہ بجے کے بعد فوراً چلا جاتا تھا۔ نمر تا اپنی اس زندگی سے بے حد خوش تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اتنے اطمینان اور شاہانہ انداز سے زندگی گزار سکتی ہے۔ وہ اپنی تمام تنخواہ گھر بھیج دیتی تھی، کیوں کہ اس کا تمام خرچ تو اس کا شوہر اٹھاتا آرہا تھا۔ وہ اتنی بڑی رقم ہوتی تھی کہ اس میں سے کچھ رقم پس انداز کر کے وہ اپنے بینک اکائونٹ میں جمع کر دیتی تھی۔ اس کے شوہر کو کار و باری دورے سے جب کسی شہر یا باہر جانا ہوتا تو وہ ان دنوں میرے ساتھ پرو گرام بنالیتی۔ اس کا شوہر کئی دنوں سے لاہور سے نہیں لوٹا تھا، اس لیے اس نے میرے ساتھ فلم دیکھنے کا پرو گرام بنالیا تھا۔ میں صرف ایک بار اس کے فلیٹ پر گئی تھی۔ مجھے اس کی بے فکر اور آرام دہ زندگی پر رشک آتا تھا۔ ہم دونوں کی زندگی میں کتنا تضاد ہے۔ نمرتا کے رہن سہن ، رکھ رکھائو اور اس کی باتوں سے فکر کی بو بھی نہیں آتی تھی۔ اس کی زندگی ایک آزاد پرندے کی سی تھی۔ اپنی مرضی و مختار ، ہر پابندی سے آزاد و بے نیاز ، وہ کسی پرندے کی مانند چہچہاتی پھرتی تھی۔ ایک خوش حال شخص کی بیوی ہونے کا فخر بھی اسے حاصل تھا۔ دوسری طرف میں ، اپنی نا تمام خواہشات کی لاش اپنے ہی کندھے پر اٹھائے گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی۔ کارخانہ کے ایک حادثے میں میرے ابو ہاتھ کٹنے کے بعد جیتے جی موت سے ہم کنار ہوئے تھے۔ اس سنگین حادثے نے ایسا جھٹکادیا تھا کہ گھر کے پر خچے اڑ گئے تھے۔

اُدھر میں نے اپنی تعلیم نا مکمل چھوڑ کے ٹائپنگ و شمارٹ ہینڈ اور دو ایک کمپیوٹر کورس کر کے گھر کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لیا تھا۔ میری چھوٹی بہن اور بھائی کی شادی کے بعد بھی میرے کندھوں سے بوجھ اتر نہ سکا بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اب میں ہانپتے اور منہ سے کف نکالتے ہوئے کو لہو کے بیل کی طرح ہو رہی تھی۔ میں اس دُنیا میں خوش رہنا چاہتی تھی۔ ان سب کی فرمائشیں اور ضرورتیں کسی نہ کسی طرح پوری کر کے مجھے بے پناہ مسرت محسوس ہوتی تھی۔ دل ایک عجیب سی طمانیت محسوس کرتا تھا، جیسے میں کوئی چراغ ہوں جس کی روشنی میں سب کھڑے بھیگ رہے ہوں لیکن جب کبھی میں نمرتا اور دوسری سہیلیوں کی زندگی میں جھانکتی تو میری آنکھیں چندھیاسی جاتیں۔ میرے دل پر تازیانہ سا لگتا، پھر مجھے بھی اس سکھی زندگی کے ٹھنڈے ، میٹھے آبشار کے چند گھونٹ۔ ونٹ پینے کی شدید خواہش ہوتی۔ میں ان سہیلیوں کی طرح دور … بہت دور نکل جانا چاہتی تھی، لیکن اس شہر میں رہتے ہوئے ، جہاں گھر والے، جاننے والے اور رشتہ داروں کی ایک فوج ہو وہاں اتنا بڑا اور جرات مندانہ قدم اٹھانا ممکن نہیں تھا۔ دفعتاً میز پر گلاس بجنے کے شور سے میرے خیالات کا سلسلہ اک دم سے بکھر گیا۔ نمر تا شوخ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، پھر وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی۔ میرا جیمز بانڈ کہاں چلا گیا؟ کیا تم مجھے قاہرہ کے بازاروں اور گلیوں، کوچوں میں تلاش کر رہی ہو ؟“ شریر کہیں کی ۔ میں نے شرما کے اس کے گال پر ملکی سی چیت لگادی۔ ” تیرا جیمز بانڈ تو کل ہی لاہور سے آرہا ہے جلدی سے بل ادا کر مجھے گھر جانا ہے۔“ جب ہم دونوں ریسٹورنٹ سے نکل کر سڑک پار کرنے کے لیے فٹ پاتھ پر آئیں ، تب ایک ٹویوٹا کرولا ہمارے سامنے آر کی ، جس کے نمبروں اور اسٹیئرنگ پر بیٹھے آدمی سے ہم دونوں واقف تھیں۔ وہ ہمارے لئے اجنبی نہ تھا۔ رشید اسٹیئرنگ پر بیٹھا ہوا مجھے جیمز بانڈ کی طرح ہی لگا۔ اس نے بڑی شائستگی سے ہمیں لفٹ کی پیش کش کی۔ پہلے تو میں ہچکچائی، میں نے رشید تو کیا، کبھی کسی بھی مرد سے لفٹ نہیں لی تھی۔ یہ پہلا اتفاق تھا۔ ایک ثانیے کے لیے میری نظر آسمان کی طرف اٹھی ۔ گھرے ہوئے سیاہ بادلوں ، گھپ اندھیرے اور بارش کی رم جھم اسی لمحے شروع ، پھر نمبر تا کی خفگی بھری ہوئی تھی، رے موقع سے فائدہ اُٹھانے پر مجبور کر دیا اور ہم دونوں کار میں جا بھری نگاہوں نے اس سنہری موقع ۔ بیٹھیں۔ میں نے سوچا کہ نمر تا کو ویسے بھی کسی بات کا ڈر خوف ہے ؟ وہ آزاد خیال عورت ہے ، ایک رنگین تتلی کی مانند … اس کی کھلکھلاہٹ نے مجھے نامعلوم خوف سے باہر نکال دیا۔ میں جس فیکٹری میں ملازمت کرتی تھی ، رشید اس فیکٹری میں حصہ دار تھا۔ اس کے بارے میں طرح طرح کی کئی کہانیاں مشہور تھیں کہ اس کی اپنی زمین اور جائداد سے کافی آمدنی ہو جاتی ہے۔ وہ ہنس مکھ اور شوخ تھا اور دوست نواز بھی۔ دوسروں کے دُکھوں میں بہت کام آتا ہے۔ کیا آپ لوگ فلم دیکھ کر جارہی تھیں ؟ رشید نے سامنے سے نظریں ہٹا کے میرے سراپا پر ناقدانہ نظر ڈالی۔ میں اس کے برابر والی سیٹ پر سکٹر سمٹ کے بیٹھی ہوئی تھی۔ جی ہاں “ میرے بجائے نمرتا نے جواب دیا۔ ”ہماری نازنین مہارانی اور میں، جیمز بانڈ کے ساتھ گھوم کے آرہی ہیں۔“ کیا آپ ہماری اور انڈین فلمیں نہیں دیکھتی ہیں ؟ رشید نے عقبی آئینے میں نمر تا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں انڈین فلمیں تو دیکھتی ہوں لیکن مہارانی انگریزی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔

آج ان کی خاطر مجھے اپنی پسند کی قربانی دینا پڑی ؟“ جھوٹ … میں نے اک دم سے پلٹ کے نمرتا کو دیکھا۔ ” تم پر بھی جیمز بانڈ کا بھوت سوار تھا۔“ سارا راستہ ہم دونوں میں نوک جھونک ہوتی رہی۔ رشید پہلے نمرتا کے گھر پہنچا، حالاں کہ میراگھر پہلے پڑتا تھا۔ پھر وہ مجھ سے میرے خاندان ، گھر اور ادھر اُدھر کی باتیں کرتارہا۔ اس کی شریفانہ گفتگو ، شائستہ اور مہذبانہ تھی جس سے میری ساری ہچکچاہٹ دور ہو گئی ، پھر مجھے اس سے کوئی خوف محسوس نہ ہوا۔ اس نے میرے کہنے پر ، مجھے میرے گھر سے کافی پہلے اتار دیا اور ہاتھ ہلا تا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ بارش اور ہوا تھم گئی تھی۔ پانی سڑکوں پر جمع ہو گیا تھا۔ میں رکشا میں گھٹنوں گھٹنوں پانی سے ہوتی ہوئی گھر پہنچی۔ ماں وتی ہوئی ماں نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا، جیسے پوچھ رہی ہوں کہ اتنی تیز بارش میں تم تم بالکل بھی نہیں بھیگیں ؟ ان کی مشکوک اور قہر آلود نگاہوں سے بچنے کے لیے میں تیزی سے باتھ روم میں بھس گئی۔ جب میں منہ ہاتھ دھو کر اور لباس بدل کے آئی تو ماں ، میرے لیے چائے اور پکوڑے لے آئی۔ میں نے ایک پکوڑا منہ میں رکھ کے چائے کا گھونٹ لیا تھا کہ بھا بھی سامنے آکر بیٹھ گئی اور ترکش سے ایک زہریلا تیر چلایا۔ آج آپ نے اتنی دیر کیوں کر دی باجی !“ میں نے ایک اور پکوڑا اٹھا کے منہ میں رکھا اور جواب دیا۔ ”ٹریفک جام میں بس پھنس گئی تھی۔“ حیرت ہے، اتنی تیز بارش میں بالکل بھی نہیں بھیگیں ؟ ویسے اچھاہی ہوا، ورنہ سارار استہ آپ کو شرمندگی اٹھانا پڑتی 66 اللہ کا بڑا کرم ہے۔ ٹریفک جام میں پھنس جانا اچھا ہوا۔ یہاں جب بس سے اتری تو بارش بالکل تھم چکی تھی۔ راستے یں ان پانی اور کیچڑ تھا کہ رکشاکر کے گھر آئی۔ میں نے بڑے ضبط و محل سے جواب دیا۔ میں کہتی بھی کیا۔ اسے کسی طرح سمجھاتی ؟ مجھے اندر ہی اندر غصہ بھی آرہا تھا۔ آخر یہ لوگ کیوں میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے رہتے ہیں۔ کیوں میرے ساتھ اس انداز سے پیش آتے ہیں ؟ تھوڑی دیر بعد میر اچھوٹا بھائی لالو باہر سے آیا اور مجھ سے تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔ ”باجی ! آپ نے گاڑی موڑ پر کیوں رکوادی …؟ جب گاڑی محلے میں داخل ہو ہی گئی تھی تو گھر تک لے آتیں ۔ رکشا میں آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ رکشا والے نے پچاس روپے تو لے ہی لیے ہوں گے…؟ میر ادماغ بھک سے اڑ گیا۔ کیا ہر چھوٹے بڑے کے سامنے صفائی پیش کرنا ہو گی ؟ کیا مجھے ایسا ہی صلہ ملتا رہے گا ؟ میں چائے چھوڑ کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ پیچھے سے ماں کے پکارنے کی آواز آتی رہی، مگر میں رکی نہیں۔ کمرے میں پہنچ کے میں نے دیوار کے سہارے کھڑی ہو کے آنکھیں بند کر لیں۔ اُدھر ماں لالو کو بری طرح ڈانٹ رہی تھی۔ تو آتے ہی اس کے پیچھے پڑ گیا۔ بڑے چھوٹے کا بھی تجھے کوئی لحاظ نہیں ہے ؟“ وہ بھی تو مجھے طعنے دیتی اور ٹوکتی رہتی ہے ؟“ لالو دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ وہ ٹھیک ہی تو کہتی ہے۔ تجھے محلے کے آوارہ لڑکوں کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے کام تلاش کرنا چاہیے۔“ اسے میرے معاملے میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، میرے جی میں جو آیا وہی کروں گا۔ مجھے کیا، تیری مرضی میں جو آئے وہ کر میں اس کی بات سن کے زیر لب بڑ بڑائی۔ میر اول تلخی سے بھر گیا تھا، پھر میں نے دروازہ بند کر کے اندر سے چٹخنی لگالی اور آئینے کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ میں آزادی، اطمینان اور ناقدانہ نظروں سے اپنا جائزہ لینا چاہتی تھی۔ میں نے تھوڑی دیر اپنے نے سراپا سرا پر ایک نظر ڈالی، چند لمحوں تک ہر زاویئے اور انداز سے جائزہ لیتی رہی تھی۔ میں سیلفی نہیں بنا سکتی تھی، کیونکہ میرے پاس معمولی اور عام قسم کا موبائل تھا۔ فیکٹری میں دو ایک لڑکیوں سے میری گہری دوستی تھی، ان کے پاس بیش قیمت مو بائل فون تھے ، بیش قیم جن سے وہ ہو شر با سیلفیاں بناتی تھیں۔ اگر میرے پاس ایسا مو بائل ہوتا تو میں بھی اپنی ایسی سیلفی بنانے سے باز نہیں رہتی۔ مجھے سنگھار میز کے آئینے میں خود کو دیکھنے میں ایک عجیب سی فرحت محسوس ہو رہی تھی، پھر میں نے اپنے عکس کو مخاطب کیا۔ جو جتناد بتا ہے ، اسے اتناہی دبایا جاتا ہے۔ اب میں کسی سے بھی دب کر نہیں رہوں گی۔ میں بزدل اور کم زور نہیں ہوں۔ میں اب تک ڈرپوک تھی لیکن آج اور ابھی سے ایک نئی ناز نین ہوں، طرح دار ، سنبھلی ہوئی اور خطر ناک میں ایک زہر یلی ناگن ہوں، میں نے پرانی اور دقیانوسی ناز نین کو ڈس لیا ہے۔ اب میں اس گھر کے ہر شخص کو دبا کے رکھوں گی۔“ میں نے جو عہد کیا تھا، وہ پختہ تھا۔ میرے متزلزل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، پھر میرے سوچنے اور بات کرنے کے انداز سے لے کر لباس کی تراش خراش تک میں رفتہ رفتہ غیر محسوس انداز سے تبدیلی آنے تھی، جسے صرف گھر میں ہی نہیں ، دفتر میں بھی محسوس کیا جانے لگا۔ اب میں ہندوستانی فلموں کی اداکارائوں کی طرح بولڈ دکھائی دینے لگی تھی۔ میں اپنے خول سے نکل آئی تھی۔ اب پہلی جیسی خاموش طبع نازنین نہیں رہی تھی۔ دفتر کے مردوں سے الگ تھلگ رہنے والی ناز نین ، ان کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہانکنے لگی تھی۔ بات بات پر ہنستی اور کھلکھلاتی رہتی تھی۔ میری قریبی سہیلیاں جانتی تھیں کہ یہ تبدیلی رشید کی وجہ سے ہے۔ اب میری شامیں رشید کے ساتھ گزرنے لگیں۔ میری خزاں بھری زندگی کے ویرانے میں بہار آگئی تھی۔ کسی رات ڈنر تو کبھی چائے کافی، کبھی مہنگے ترین ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں میں کھانے کا پرو گرام بنتا تو کبھی وہ مجھے ایسی تقریب میں لے جاتا جو بر گر فیملیز کی رہائش گاہوں میں ہو ہوتی تھی۔ اس میں نہ صرف وی آئی پیز بلکہ اعلیٰ افسران کی بیگمات بھی ہوتی تھیں۔ وہاں ہر قسم کے مشروبات ہوتے ، رقص کی محفل بھی جمتی تھی۔ میں صرف کولڈ ڈرنکس پیتی تھی۔

رشید نے دو ایک مرتبہ مجھے مشروب خاص پینے پر اصرار کیا، لیکن میں نے اسے چکھا تک نہیں تھا،البتہ میں رقص دیکھ کر بڑی محظوظ ہوتی تھی۔ تقریب سے آکر جب میں سونے کے لیے بستر پر دراز ہوتی تو سوچتی کہ یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا۔ اب یہاں کا ماحول بھی امریکہ یورپ کی طرح ہے۔ تاہم رشید اور میرے درمیا رمیان ایک فاصلہ اور ر حجاب قائم تھا۔ اسے اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہوں۔ ہمارا ماحول مشرقی ہے۔ میں اب دیر سے گھر آنے لگی تھی۔ دروازہ لالو کھولتا اور دیر سے گھر آنے نے کا۔ کا سبب پوچھتا تو میں اسے بُری طرح جھڑک دی دیتی۔ میرے پاس دیر سے گھر آنے کا جواز پیدا ہو چکا تھا۔ سہیلی کی بہن کی شادی تھی، مایوں تھا ، سالگرہ تھی، میں دیر سے گھر آتی ہوں تو کون سی قیامت آ گئی … میں گھر والوں کی باتیں، ایک کان سے سُن کے دوسرے کان سے نکال دیتی تھی۔ بیٹی ! تو سمجھتی کیوں نہیں. ہم سب تیرے بھلے کے لیے کہتے ہیں۔ امی مجھے سمجھاتی تھیں۔ کیا میں اپنا برابھلا نہیں سمجھتی ! میں کوئی بچی نہیں ہوں۔“ میں تڑ سے انہیں جواب دیتی۔ اگر تو بچی ہوتی تو ہم تیری اتنی فکر نہیں کرتے . تو ایک جوان لڑکی ہے۔ ایک بات یاد رکھ کہ تیری کوئی لغزش تجھے کہیں کا نہیں رکھے گی۔“ تو ٹھیک ہے۔ پھر میں ان سے تند لہجے میں کہتی۔ ”میں کل سے گھر میں بیٹھ کے کسی اچھے رشتے کا انتظار کرتی ہوں، آپ لالو سے کہیں کہ وہ گھر چلائے۔ میں گھر کا نظام سنبھال لیتی ہوں۔“ 66 اور انتہائی جھگڑالو عورت ہے۔ اسے اپنے باپ کی دولت اور جہیز پر بڑا زعم ہے۔ اس نے میری ری زندگی زندگی اجیرن کرد رکھی ہے۔ میں کتناؤ کھی اور پریشان ہوں، اندر سے کتناٹوٹ پھوٹ گیا ہوں، میرے سوا کوئی نہیں جانتا… دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے۔ اصل زندگی سکون ہے ، جس سے میں محروم ہوں۔ رشید اپنی دُکھ بھری کہانی سنا کے میری تب میرے لبوں پر ایک نا آسودہ سی مسکراہٹ پھیل جاتی۔ میں بیتے برسوں کے بارے میں سوچتی تو مجھے آج وہ سب اس بات پر ماں کے دل میں چھپا، ان جانا خوف، چہرے پر ابھر آتا اور وہ خائف سی ہو کر چپ ہو جاتیں۔ جب بھی میری رشید سے ملاقات ہوتی، وہ مجھے اپنی دُکھ بھری ازدواجی زندگی کی کہانی سنا تا کہ اس کی ماں نے ایک اعلیٰ دولت مند گھرانے سے اس کے لیے بیوی کا انتخاب کیا۔ وہ نہ صرف موٹی بھدی اور بد صورت ہے بلکہ جاہل، گنوار آنکھوں میں جھانکتا پھر کہتا۔ کاش ! تم سے دو برس پہلے ملاقات ہو گئی ہوتی … کچھ غلط معلوم ہوتا۔ آخر ایک روز رشید مجھے سمندر کے کنارے بنے ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا، پھر پر تکلف ڈنر کے بعد ساحل سمندر پر لے آیا۔ وہاں دودھیا چاندنی کا منجمد دریا تھا۔ ریت کے ڈھیر پر بیٹھ کے اس نے میر ا ہاتھ تھام کے میری آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے پوچھا۔ ناز نین ! آخر ہم کب تک ایک ندی کے دو کنارے بنے رہیں گے ، جدار ہیں گے ؟ اس طرح کبھی نہیں مل سکیں  گے۔“ کیا میں ایک لڑکی ہونے کے ناتے جابر معاشرے کی اتنی بڑی دیوار گر اسکوں گی ؟ یہ دیوار جو ہمارے بیچ کھڑی ہے۔“ میں نے اس سے کہا۔ میں اس دیوار کو گرا دینا چاہتا ہوں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے .. اب میں تم سے ایک دن کیا لمحے کے لیے جدا نہیں رہ سکتا۔ تم اتنی بڑی دیوار کیسے گرا سکتے ہو ؟ کیا تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو گے ؟ طلاق دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کہو کہ سانپ بھی مر جائے گا ،لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ اس نے جواب میں تمہارا مطلب نہیں سمجھی؟ میں نے اپنی پلکیں جھپکاتے ہوئے پوچھا۔ ہم دونوں سول میرج کر لیتے ہیں ؟ سول میرج …! میرے اندر خوشی جیسے پھوٹ پڑی۔ ہاں، سول میرج .. رشید نے میری کمر میں ہاتھ ڈال کے مجھے قریب کر لیا، پھر مسکرا کے بولا۔ ”ہم کوئی دن مقرر لھ کے اس رشتے کو قانونی شکل دے دی کر کے وکیل کے پاس چلتے ہیں۔ سوروپے کے بانڈ پیپر پرشہ پر شرائط لکھ ۔ مادے دیں گے ، پھر وہ دیوار آپ ہی آپ گر جائے گی جو ہمارے درمیان کھڑی ہے۔

سچ میں خوشی کے جذبات سے مغلوب ہو کر بولی، مگر میرے سوال پر اس کے چہرے پر فکر مندی سی چھا گئی، جیسے کہیں کھو گیا ہو۔ ”ویسے تم مجھے کہاں رکھو گے ؟“ دل میں رشید نے شوخ نظروں سے میری آنکھوں میں میں جھانکا۔ تو کیا میں پہلے سے دل میں نہیں تھی ؟“ میں نے روٹھے ہوئے انداز سے کہا۔ کیوں نہیں ۔ تم ہی تو میرے من میں بسی ہوئی ہو ، جس کے بغیر میں اپنی زندگی ادھوری سمجھتا ہوں۔ “ اس نے پیار سے میرا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ میں تمہیں اس شہر کے اعلیٰ رہائشی علاقے میں، ایک آراستہ فلیٹ لے کر دوں گا جو تم پسند کرو گی … یچ میں خوشی سے اچھل پڑی۔ کہیں میری سماعت دھوکا تو نہیں کھارہی ؟“ 66 بالکل سو فیصد سچ میری جان ! “ وہ مسکرایا۔ ” اس گھر میں ہم دونوں ایک خواب ناک زندگی کے سفر کا آغاز کریں گے۔“ گھر میرا گھر میں کچھ اور کہنا چاہتی تھی لیکن پھر چپ ہو گئی ، مگر میر ادل خوشی سے جھوم جھوم اٹھا تھا۔ میری نگاہوں کے سامنے وہ خواب لہرانے لگے تھے جو میں جانے کب سے دیکھتی چلی آ رہی تھی – ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گھر اور بچے قوس قزح کے رنگ میری ہر سمت بکھرنے لگے۔ دور ، بہت دور سے مجھے شادی کے گیت اور ڈھول کی تھا میں سنائی دے رہی تھیں۔ میں اس لمحہ کو محسوس کر رہی تھی کہ سچ سچ کی دُلہن بن حجلۂ عروسی میں بیٹھی ہوئی ہوں، پھر میں نے پلٹ کے اپنے گھر کی طرف دیکھا۔ اب میری میرے گھر والوں کو کوئی ضرورت نہیں رہی تھی۔ دراصل ضرورت تو اس رقم کی ہوتی تھی، جو میں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ماں کے ہاتھ پر رکھتی تھی۔ رشید نے مجھے نئی زندگی کی خوش خبری سنا کر جیسے ایک ساز دے دیا تھا۔ گھر والوں کی ذمہ داریوں ۔ پیچھا چھٹنے۔ نے کے تصور سے میں مسرور سی ہونے لگی۔ اب ہمیشہ ہمیشہ اس گھر کے جہنم سے نجات مل جائے گی، جہاں ہر شخص پھنکارتے ناگوں کی طرح میرے وجود کو ڈسنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ میں آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرتے ہوئے سوچنے لگی کہ گھر میرا اپنا ہو گا، صرف میرا، میری اپنی ملکیت … اس پر صرف اور صرف میری حکمرانی ہوگی۔ میں ایک خود مختار زندگی بسر کروں گی۔ اب مجھے اپنا گھر بغیر کسی پس و پیش کے بسا لینا چاہیے۔ بار بار زندگی میں ایسے لمحات اور سنہرے مواقع نہیں آتے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ فیصلے میں کسی تاخیر سے یہ خواب ناک زندگی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ اب تک کی ملاقاتوں میں ، میں نے محسوس کر لیا تھا کہ رشید نہ صرف سیدھا سادہ بلکہ بھلا آدمی ہے۔ اس نے کبھی محبت کی سرحد پار نہیں کی تھی۔ اسے پاکر میں اپنے خاندان کے دُکھوں سے نجات پالوں گی۔ میرے ذہن میں ایک پل میں ہزاروں خیالات کسی سیارے کی طرح آکر گزر گئے۔ رشید نے مجھے سوچوں میں کم پاکے میرا باز و ہلاتے ہوئے کہا۔ ” شاید تم یہ سوچ رہی ہو گی کہ میں اپنی بیوی کو چھوڑ کیوں نہیں دیتا ہوں …؟ میں نے اپنی جھکی جھکی پلکیں اُٹھائیں اور آہستگی سے کہا۔ ” تم نے کیسے جان لیا کہ میں یہی کچھ سوچ رہی ہوں گی ؟ ہر عورت اس عورت کے بارے میں ضرور سوچتی ہے، جو مرد کی زندگی میں پہلے سے داخل ہے ، اس لئے تمہارا اس انداز سے سوچنا فطری ہے۔ اچھا میں نے شگفتگی سے کہا۔ ”کیا تم میرے دل کا حال پڑھ سکتے ہو ؟ تمہارے بشرے پر دل کی باتیں اسٹیکر بن کے پھیل گئی ہیں۔ “ رشید نے کہا، پھر میرا چہرہ اپنی طرف کر کے میری آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ ”تم یقین کرو، میں تمہار اغلام بن کے رہوں گا۔“ کیا ایک شخص بیک وقت دو بیویوں کا غلام بن کے رہ سکتا ہے ؟ میں اک دم سے کھلکھلا کے ہنس پڑی ، جبکہ وہ اک دم سے سنجیدہ ہو گیا، پھر رُک رُک کے کہنے لگا۔ میں صرف اپنے بچوں کی وجہ سے اپنی بیوی سے طلاق حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر میرے بچے نہ ہوتے تو میں اس روز اسے طلاق دے دیتا جب تم نے میرے دل کے دروازے پر پیار بھری دستک دی تھی۔ اس گنوار عورت سے مجھے غم اور اذیت کے سوا ملتا ہی کیا ہے ؟ سکھ اور محبت کے لیے تو تمہارے سامنے جھولی پھیلا رہا ہوں۔

سکھ سے رشید کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ؟ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا لیکن اس وقت میں کوئی وضاحت طلب کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ دو میں اپنی ساری زندگی تمہارے قدموں میں گزار دوں گی۔ تمہارے قدموں کی دُھول، میری مانگ کی افشاں ہو گی . میں نے حیا آلود نظریں جھکالیں۔ مجھے تم سے یہی امید تھی۔ تم میرے قدموں میں نہیں ، دل میں رہو گی ۔ “ وہ چند لمحوں تک میری صورت تکتا رہا ۔ اچھا تو میں وکیل سے بات کیے لیتا ہوں۔ میں اس سے ملاقات کا وقت طے کر کے تمہیں بتادوں گا۔“ ٹھیک ہے۔“ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ” جو تم مناسب سمجھو، میں ہر بات کے لیے تیار ہوں۔“ میرے ایک دوست کا فلیٹ خالی پڑا ہے۔ وہ بیرون ملک ملازمت کے لیے گیا ہوا ہے۔ فلیٹ کی چابی میرے پاس ہے۔ وہ اس لیے دے گیا ہے کہ میں اس کی دیکھ بھال کرتار ہوں۔ فی الحال تم اس میں رہو گی ، بعد میں ، میں تمہارے لیے فلیٹ تلاش کر دوں گا۔ تمہیں اس پہ کوئی اعتراض تو نہیں ؟“ د تم مجھے جہاں بھی رکھو گے ، میں خوش رہوں گی۔ بس مجھے تمہار ا سا یہ چاہیے۔ “ میں نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔ میں بہت خوش تھی۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں فضائوں میں کسی آزاد پنچھی کی طرح پرواز کر رہی ہوں۔ رات گئے گھر پہنچی تو ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ لالو نشست گاہ میں براجمان تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور مجھ پر زہر میں بجھے تیر چھوڑ دیئے۔ باجی! آپ کا روز روز رات دیر سے آنا معمول بن گیا ہے ، پھر چہرے پر ندامت کی بجائے سُرخی دہک رہی ہوتی ، ہے۔ میرے خیال میں موٹر نکڑ پر خراب ہو گئی ہو گی ؟“ آج مجھ پر ان تیروں کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ میں نے رُک کر اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ ایک دن میں نے اپنی چھوٹی بہن نائلہ کے کہنے پر انگریزی فلم ٹائی ٹینک کی دو ٹکٹیں بک کرائیں۔ وہ مجھ سے چار برس چھوٹی، لیکن کسی سہیلی کی طرح میری دوست تھی ، میری بے انتہا ہم درد۔ جب مجھے کوئی فلم دیکھنا ہوتی تو اس کو  پیسے انتہاہم مجھے تو دے کر نشستیں بک کرالیتی تھی۔ ہم دونوں فلم دیکھنے جایا کرتی تھیں، لیکن برقع میں جاتی تھیں۔ فلم دیکھنے سے پہلے میں اسے قریبی ریسٹورنٹ میں لے گئی۔ اسے چکن بروسٹ بہت پسند تھا۔ میں آرڈر دے کر اس سے باتیں کرنے لگیں۔ باجی ! ایک بات پوچھوں؟ آپ برا تو نہیں منائیں گی نا! وہ بروسٹ کھاتے ہوئے بولی۔ میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ” آپ جو یہ روز روز دیر سے گھر آرہی ہیں نا، سارا دن آپ کے بارے میں سر گوشیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اچھا ! میں اِک دم سے ہنس پڑی، پھر اس کے قریب ہو کے اشتیاق سے پوچھا۔ “) کیا کہتے ہیں سب لوگ میرے بارے میں ؟“ آپ شاید دفتر کے کسی افسر سے دوستی کر بیٹھی ہیں۔ اس کے ساتھ شامیں گزارتی ہیں، ہوٹلوں میں کھانا کھاتی ہیں۔“ اور سچ سچ بتا، تیرا کیا خیال ہے ؟“ میرے لہجے میں بڑی نرمی تھی۔ ” مجھے بھی آپ کو دیکھ کے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی کو پسند کرنے لگی ہیں۔ نائلہ نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ آپ میں کتنی ہی تبدیلیاں آگئی ہیں۔ آپ دھیمے دھیمے گنگناتی رہتی ہیں ، مسکراتی رہتی ہیں۔ پھر آپ کا چہرہ کس قدر نکھر گیا ہے۔ بھا بھی کہتی ہیں کہ جب لڑکی کو کسی سے پیار ہو جاتا ہے تو اس کار نگ روپ بھی کھل اٹھتا ہے۔“ دو تم سب کا خیال اور اندازہ بالکل صحیح ہے۔ محبت تو مشک کی طرح ہوتی ہے ، چھپ ہی نہیں سکتی۔“ وہ ہے کون باجی …؟ نائلہ کے لہجے میں اشتیاق تھا۔ کہیں وہ تو نہیں ، جو آپ کو موٹر میں لا کر چھوڑ جاتے ہیں ؟ اس کے پاس شان دار قسم کی ٹویوٹا کرولا گاڑی ہے۔ “ میں نے تو سوچا ہوا تھا کہ گھر والوں کو دھیرے دھیرے یہ بات بتاؤں گی مگر یہاں تو پہلے ہی دھماکے ہو رہے تھے۔ جس کی مجھے خبر نہ تھی۔ ہم دونوں ریسٹورنٹ سے نکلیوں اور سڑک پار کر کے سینما ہال کی طرف بڑھی تھیں کہ معا میری نگاہ پارکنگ لاٹ پر پڑی اور میں ٹھٹھک کے رُک گئی۔ رشید گاڑی کا شیشہ بند کر رہا تھا۔ ایک عورت گاڑی کے پاس ہی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ انتہائی قیمتی اور بھر کیلئے لباس میں ملبوس تھی۔ اس کے گلے اور کانوں میں زیورات دمک رہے تھے۔ بلا شبہ وہ نہایت حسین اور پر کشش تھی۔ نائلہ مجھے تھکتے دیکھ کر رک گئی۔ باجی ! کتنی حسین ، دل کش اور ہنس مکھ نظر آرہی ہے وہ اس نے عورت کی طرف اشارہ کیا۔ رشید کے ساتھ دو دوست بھی تھے۔ میں نائلہ کو لے کر ایک گاڑی کی آڑ میں کھڑی ہو گئی، جہاں سے میں اُن کی باتیں سن سکتی تھی، لیکن وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ یار رشید ! بھا بھی نے تمہیں آج کیسے حراست میں لے لیا ؟ ایک دوست نے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھ کے پوچھا۔ ہماری عزیز از جان بیگم صاحبہ نے ٹکٹ منگوار کھے تھے۔ بہت اصرار کیا، منت سماجت کی تو کشاں کشاں چلے آئے۔ رشید نے جواب دیا۔ یہ ہمیشہ کہہ دیتے ہیں کہ ٹکٹ نہیں مل رہے۔ آپ کے دوست یہی بہانہ بناتے رہتے ہیں۔“ نہیں یار ! ایسی کوئی بات نہیں رشید نے دوست کو جواب دیا۔ ” یہ تو خواہ مخواہ مجھ پر الزام تھوپ رہی ہیں۔ بیگم صاحبہ حکم فرمائیں تو یہ غلام آسمان سے تارے توڑ لائے ؟“ د مگر ابھی آسمان پر تارے نہیں نکلے ہیں۔ بیوی نے برجستہ کہا اور فضا قہقہوں سے گونج اٹھی۔ میرے کانوں میں گرم گرم سیسہ پگھلنے لگا۔ میں نے تیر زدہ نظروں سے اس عورت کو دیکھا۔ یہ ہے رشید کی بیوی …. جو نہ صرف نہایت حسین بلکہ بڑی نفیس ، شائستہ اور خوش مزاج بھی تھی۔ میں اس کے بالکل برعکس تھی۔ میرے دل کو جیسے اندر کوئی نچوڑ رہا تھا۔ کیا ہوا باجی …؟ نائکہ میرا متغیر چہرہ دیکھ کے پریشان اور متفکر سی ہو گئی۔ کچھ نہیں ، میں نے خود کو فوراً سنبھالا۔

چائے کے ساتھ بروسٹ کھا لیا تھا، اس لیے تیزابیت ہو گئی۔ چکر سا آرہا ہے۔“ ٹکٹ واپس کر کے گھر چلتے ہیں۔ نائلہ نے تشویش ناک لہجے میں کہا۔ میں نے چہرے پر نقاب ڈال لیا اور اسے لے کر سینما ہال کی عمارت کی طرف بڑھی۔ نہیں ، اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔“ فلم کیسی تھی ؟ اس کی کہانی کیا تھی ؟ مجھے کچھ محسوس نہیں ہوا تھا۔ میں تو اپنی کہانی کے بارے میں سوچ رہی تھی، جس میں اچانک ایک سنسنی خیز اور چونکا دینے والا موڑ آگیا تھا۔ فلم ختم ہونے تک میر اذ ہن سنسار ہا تھا۔ پیر کے روز دفتر پہنچی تو پتا پتا چلا چلا کہ کہ رشید رشتہ کو اچانک دورے پر باہر ر ؟ بھیج دیا گیا۔ کیا ہے۔ جانے کیوں یہ من کے لیے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ میں اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی۔ پہلے کچھ سوچنا، سمجھنا اور کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتی تھی۔ میں کوئی بھی جذباتی قدم اٹھانا نہیں چاہتی تھی کہ بعد میں وہ فیصلہ پچھتاوابن کر زہر یلے ناگ کی طرح مجھے ڈستار ہے۔ نچ کے لیے اُٹھ رہی تھی کہ نمرتا کے دفتر سے اس کی ایک سہیلی نے فون کر کے کہا۔ ”نمر تانرسنگ ہوم میں داخل ہے۔ وہ آپ کو بہت یاد کر رہی ہے۔ پلیز ! آپ اس سے ضرور مل لیں، بھولیں نہیں۔ وہ بہت پریشان ہے۔“ شام کو دفتر سے چھٹی پر میں نے اس کے لیے پھولوں کا گلدستہ خریدا اور دماغ میں بہت سارے آن جانے سوالات لیے نمرتا کے پاس پہنچی۔ اس کی حالت دیکھ کر مجھ پر سکتہ سا چھا گیا۔ نمرتا کے چہرے کی شادابی جانے کہاں رخصت ہو گئی تھی۔ اس کی جگہ زردی نے لے لی تھی۔ وہ چند ہی دنوں میں برسوں کی مریض دکھائی دیتی تھی۔ وہ مجھے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔ کیا ہوا ؟ میں بولی تو میرے لہجے میں ارتعاش ساتھا، پھر میں نے جھک کر اس کے آنسوئوں کو ٹشو پیپر سے جذب کیا۔ وہ چند لمحوں تک آنسو بہاتی رہی، پھر سسکیوں کے درمیان بولی۔ ” اپنی غلطی کا خمیازہ بھگت رہی ہوں۔“ خمیازہ …؟ میرادل سینے میں دھک دھک کرنے لگا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا، کہیں سول میرج کا انجام تو نہیں ہے …! پھر خود کو سنبھال کے بولی۔ ” پہیلیاں نہ بجھا ، صاف صاف بتا ! اصل معاملہ کیا ہے ؟“ نمرتا نے گہر اسانس لیا، جس میں دُکھ بھرا ہوا تھا۔ ”تجھے صاف صاف بتانے کے لیے ہی تو بلایا ہے۔ میرے ساتھ سول میرج کے پردے میں کیسا بھیانک کھیل کھیلا گیا۔ میں اپنے چاہنے والے کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر خود کو تباہ کر بیٹھی ہوں۔ شروع میں تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک چلتا رہا۔ اپنے گھر کا خواب گویا پورا ہو گیا لیکن دھیرے دھیرے میرے شوہر کا دل جو مجھ سے کھلونے کی طرح کھیلتے ہوئے بھرتا گیا۔ پیسوں کے بل پر کھیلا گیا کھیل ختم ہو گیا، اس نے مجھے اپنے فلیٹ سے بے دخل کر دیا ہے۔ اب میں کہاں جاؤں گی … ! 66 اس نے پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر کے عوض اپنا دل بہلایا، جیسے میں کوئی کھلونا ہوں۔ چند مہینے تک مجھے ایک مرد کی رفاقت میں سکھ ملتارہا، لیکن وہ مجھے بیچ منجدھار میں چھوڑ گیا۔ میں تو سمجھی تھی کہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔ دو لیکن نمر تا …؟ و لیکن یہ معاملہ تو قانونی طور پر کیا گیا تھا ؟ میں غصے سے اُبل پڑی۔ اب کیا میں کورٹ کچہری کے چکر لگاتی رہوں …؟ اس سے میری رسوائی بد نامی ہو گی۔ قانون تحفظ دے گا ؟ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ویسے بھی قانون کی نظر میں یہ معاہدہ صرف ایک کورا کاغذ ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کاش ! میں قانونی طریقے سے اس کی ہوئی ہوتی تو اس کا گریبان پکڑ سکتی۔ سوچتی ہوں کہ کاش ! میں گھر سے دُلہن بن کر رخصت ہوتی …؟ میں نے رجسٹرار کے سامنے اقرار کیا تھا۔ اُس نے سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر میرے دستخط لیے تھے۔ اس میں ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ وہ میری کفالت کرے گا۔ وہ بے ربط کہے گئی۔ مگر نمر تا ! شادی تو ہوئی تھی نا .. میں نے تنگ کے کہا۔ یہ شادی نہیں محض ایک لیبل ہے ، را ر نگین اور خوشنما … اس کی جاذب نظروں میں ہم جا جیسی ناعاقبت اندیش لا لڑکیاں آ جاتی ہیں، جور نگین خواب دیکھتی رہتی ہیں۔ سچ پوچھو تو ہم سے بازار حسن کی ایک عورت لاکھ درجے بہتر ہے جو سر عام اس مرد کا گریبان پکڑ لیتی ہے جو اُسے دھوکا دیتا ہے۔ آج مجھے احساس ہو رہا ہے گھر والوں کی رضا سے شادی کرنے والی لڑکی کو دھتکارنا آسان نہیں ہوتا، کیوں کہ اس کے گھر والے اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔  نمرتا سسک پڑی اور تکیے میں منہ چھپا کر رونے لگی۔ میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور بالوں کو سہلانے لگی۔ میرا دل شدت جذبات سے بھر آیا تھا۔ پھر مجھے اچانک محسوس ہوا کہ نمرتا کی جگہ میں سک رہی ہوں۔ میں بھی تو سوچے سمجھے بغیر ، اندھادھند ، اسی سراب کے پیچھے دوڑ رہی ہوں؟ اندھے کنویں میں کودنے والی ہوں؟ چار دن کی چاندنی راتیں ڈھلنے کے بعد میں بھی اسی طرح کسی نرسنگ ہوم میں سکوں گی ، تڑپوں گی۔ نہیں نہیں مجھے بھیک میں ملا ہوا گھر نہیں چاہیے۔ یہ تو کنوئیں سے نکل کر کھائی میں کودنے والی بات ہوئی۔ سر شام ، جب میں گھر میں داخل ہوئی تو ابو امی بھائی اور بھاوج کی نگاہوں میں زہر میں بجھے ہوئے سوالوں کے تیر تھے۔ ہر نگاہ جیسے پوچھ رہی تھی کہ تم آج جلدی کیسے آگئیں ؟ لیکن اب میرے دل میں نفرت کی کوئی اہر نہیں اٹھی، میں نے ان کو نفرت و حقارت سے نہیں دیکھا۔ بس محبت بھری نگاہوں میں سب کو سمولیا۔ میں نے سوچا۔ میرے گھر والے جیسے بھی ہیں، میرے اپنے ہیں۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، ان لوگوں نے جو دیواریں کھڑی کی ہیں، وہ نفرت کی نہیں، تحفظ کی ہیں۔ یہی میرا اپنا گھر ہے ، میری دُنیا ہے۔ اگر میرے کندھوں پر ذمے داریاں ہیں تو اس میں اپنائیت کا سکھ بھی تو ہے۔ یہ سب ہی تو مل کر خوشیاں دیتے ہیں۔ میں سراب کے پیچھے پاگلوں کی طرح کیوں، کس لیے بھاگ رہی تھی …؟ اچھا ہی ہوا کہ ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی مجھے ہوش آگیا۔ اگر پستی میں گر جاتی تو کبھی نکل نہ پاتی۔

Latest Posts

Related POSTS