Thursday, February 22, 2024

Saath

دعا کر تیرے ابا کو کو آج دیہاڑی مل گئی ہو۔ رات سالن بناؤں گی۔ حسنہ نے بچوں کو روز والا لارا دیا۔ چل اماں ! انڈا ہی بھون دے۔ بیٹے نے بھی فرمائش کی۔ تیرے باوا کا مرغی فارم ہے کیا ؟ انڈا مفت ملتا ہے وہ اکتا کر بولی ۔ پریا کی اماں روز صبح اسے ابلا ہوا انڈا دیتی ہے کھانے کو بیٹی کے لہجے میں حسرت ہی حسرت تھی۔ ارے روز انڈا کوئی کھانے کی چیز ہے کیا ؟ گرم ہوتا ہے ابلا انڈا۔ اندر گرمی ہو جاتی ہے آنکھیں پیلی پڑ جاتی ہیں ۔ حسنہ نے بہلایا۔ کوئی نہیں اماں ۔ بڑی بیٹی نے منہ بسورا ۔ آرائیوں کی زینب کے ہاں سے پیسے لے آ سلائی کے کل سوٹ جو سلائی کر کے دیا ہے اس کے، انڈا بنا دیتی ہوں پھر ۔ حسنہ نے بیٹی کو پچکارا ۔ وہ آس کی ڈور تھامے بھاگتی ہوئی گئی۔ چند ہی منٹوں میں مایوس لوٹ آئی وہ کہتی ہے سوٹ صحیح نہیں سلائی کیا ، فٹنگ نہیں ٹھیک ، گلا پیچھے کو جاتا ہے، آکے بیٹھ کے ٹھیک کرواتی ہوں پھر پیسے بھی دوں گی – چلو وہ جو پیسے دے گی اس سے شام کو انڈا بنا دوں گی ابھی کھالو۔ سارے لوگ سالن کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں اور ایک ہم ہیں کبھی پیاز تو کبھی چینی ۔ آجاؤ پیاز بھون دیتی ہوں۔ اماں نے اپلوں کو چولہے میں ڈالا توا رکھا دو چار قطرے تیل ڈالا۔ سرخ مرچ اور کتری پیاز ڈال کر تھوڑا سا بھونا ۔ پیاز نرم ہوئی تو توا نیچے اتارا آدھی آدھی روٹی تینوں بچوں کو تھمائی اور اپنی بھوک کے اوپر ممتا کا بھاری پتھر رکھا۔ بچے خوش ہو گئے۔ افضل شام کو مایوس اور خالی ہاتھ لوٹا۔ دیہاڑی ملی ہی نہیں، دو گھنٹے مزدور منڈی میں کھڑا رہا۔ پھر نمبرداروں کے ہاں چلا گیا پر وہاں بھی کوئی کام نہیں تھا کرنے کو، تیرہواں مہینہ چل رہا ہے۔ افضل چار پائی پر لیٹا۔ ہمارا تو سارا سال ہی تیرھواں مہینہ رہتا ہے۔ حسنہ بڑ بڑائی۔ ایسے ہی لیٹ گئے ہیں۔ روٹی تو کھا لیں-  جو کام نہ کرے اس کا روٹی پہ بھی کوئی حق نہیں ۔ آنکھوں پر بازو رکھےوہ بےبسی سے بولا۔ سارا دن ویلے رہو چاہے، جتے رہو، پیٹ کو اس کی کیا پرواہ اسے کھانا چاہیے۔ حسنہ شوہر کو پیار بھری نظروں سے دیکھتی نرمی سے بولی۔ کیا پکایا تھا ؟ اس کا انداز مجرموں کا سا تھا۔ سلامی کے پیسے آئے تھے سوچا خرچا کیا کرنا سالن روٹی کا ، ذرا سا بیسن منگوایا تھا پیاز مرچ ڈال کر گوندھ کر روٹی پکا لی ۔ ساتھ پودینے کی چٹنی بنا لی تھی۔ ارے واہ ! بچے تو خوش ہو گئے ہوں گے۔
افضل نے ستائشی نگاہوں سے بیوی کو دیکھا۔ غریبوں کے بچے ہیں ؟ ذرا سی چٹنی سے ہی خوش ہو گئے۔ امیروں کے تو تھے نہیں کہ دس کھانے آ گئے ہوں تب بھی نحرے۔ حسنہ کے لہجے میں نا چاہتے بھی کڑواہٹ اتری۔ اچھے دن آئیں گے حوصلہ رکھو۔ افضل نے نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔ دن تو یہ بھی اچھے ہیں۔ باقی مزدور امیر ہونے اور مالک بننے سے تو رہے۔ حسنہ قناعت پسندی سے بولی۔
☆☆☆

سوئے ہوئے بچوں کر دعاؤں سے نوازا ، نظریں بڑی بیٹی مبینہ پہ رکیں۔ آٹھ سال عمر ہوگئی تھی مگر ابھی تک تک ڈھنگ کا سوٹ نصیب نہیں ہوا تھا۔ کبھی آدھا پونا پیٹ بھرتا۔ بیشتر وقت خالی ہی رہتا۔ بنیادی ضرورت بھی نہ پوری ہو پاتی تھی۔ مبینہ کی شادی تو میں کسی امیر شخص سے کروں گی۔ جس کا کچن انواع و اقسام کے اناج سے بھرا ہوں پیٹ بھر کے کھانا، اس کی ہر ضرورت پوری ہو ادھوری خواہش نہیں۔ خود حسنہ کی زندگی تو گھسٹ گھسٹ کر گزر رہی تھی ، مبینہ کی زندگی اچھی چلے اس کی شادی کرتے اس نے لڑکے کا چلتا کاروبار دیکھا۔ لڑکا خاص خوب صورت نہ تھا مگر دہی اور دہی پکوڑیوں کا کاروبار خوب چلتا تھا۔ اپنا ذاتی پکا گھر تھا۔ اس کی رخصتی کے سمے حسنہ کی سانس آسودہ حال تھی۔ کانوں میں جھمکا ڈالتی مبینہ نے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے سے نظر آتے شوہر کو دیکھا ، سفید کلف لگے کرتا شلوار اور سیاہ پشاوری چپل میں وہ بالکل تیار تھا۔ مگر اور لوگ نہانے سے پہلے بھی شاید اتنے کوجے نہ ہوں جتنا سرفراز تیار ہو کر لگ رہا تھا۔ رنگ تو پکا تھا ہی نین نقش بھی پھیلے ہوئے تھے۔ تقریبات میں مبینہ سرفراز کے ساتھ ذرا کم ہی بیٹھتی ، ہر دیکھتی نگاہ اسے تمسخر اڑاتی ہوئی محسوس ہوتی۔ دولت کئی ایک داغ مٹا دیتی ہے پر بدصورتی نہیں۔ شوہر کتنا ہی سکھ دینے والا ہو جب اس کی طرف دیکھنے کو جی ہی نہ چاہے تو سکھ کہاں ہوں گے۔ نند کی بیٹی کی شادی سے واپسی پر وہ امی کی طرف چلی آئی۔ ۔ مبینہ نے گود میں اٹھائی عشوہ ماں کی گود میں ڈالی اور ہیل اتارنے لگی۔ سرفراز نہیں آئے۔ حسنہ نے عشوہ کی بلائیں لیتے ہوئے پوچھا۔ نہیں آئے ۔ مبینہ نے مڑ کر دیکھا۔ وہ کہہ رہے ہیں کچھ کام ہے واپسی پر آتا ہوں ۔ اس نے اندر آتے ہوئے بتایا۔ کیا کھاؤ پیوگی- فی الحال تو کچھ نہیں اماں ! اپنا کوئی سوٹ دے دیں میں چینج کروں گی ۔ مبینہ بے زاری سے جیولری اتارتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اماں کا سوٹ اور بھائی کی چپل میکے کی دو انتہائی آرام دہ اشیاء – مبینہ پرسکون تھی۔ شام ابا آئے تو اسے دیکھ کر خوش ہو گئے ۔ مبینہ ابا سے ملتے ہی اداس ہو گئی۔ پھٹی ایڑیاں میلے کٹے پھٹے جھریوں زدہ ہاتھ ، پھر بھی مسکراتا چہرہ مسکراہٹ بھی ایسی کہ جھریوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتی۔

ابا مت کیا کریں محنت اب ، یہ عمر ہے کیا مزدوری کی ، انس بڑا ہو گیا ہے، سرفراز نے بھی مجھے منع نہیں کیا آپ لوگوں سے خرچ کرنے سے ۔ ابا کے بازو پے لیٹی وہ شکوہ کناں تھی۔ ارے تیری ماں کے عتاب سے بچنے کو جاتا ہوں دیہاڑی پہ، ورنہ اس کی اگلے مہینے سے نوکری لگ رہی ہے۔ اور سرفراز پرائے بیٹے کا پیسہ ہم خود پر کیوں خرچ کریں بھلا؟ اماں پانی کا گلاس لیے آئیں۔ ابا نے نرم مسکراہٹ سے گلاس تھاما۔ مبینہ نے بغور دونوں کو دیکھا۔ زندگی نے انہیں سہل کیا ہوتا تو دونوں اپنے وقت کے خوب صورت ترین اور جاذب نظر بڑھاپا لیے ہوتے۔ دونوں ایک ساتھ بہت بچتے، پورے اعتماد کے ساتھ کہیں اکھٹے جاتے۔ اور مبینہ کہیں بھی جانا ہوتا پہلے کتنی بار تو سوچتی۔ لوگ احساس دلاتے باورکرواتے یہاں تک کے جان کو آ جاتے۔ حسنہ نے رشتہ دیتے سرفراز کا پیسہ دیکھا ہے الفاظ کانوں کے اندر نشتر بن کے گھستے اور دل چھلنی کر آتے۔ ہاں بھئی اگر پیسہ بھی دیکھا تو پھر کیا ؟ زندگی مبینہ کی.. فیصلہ حسنہ کا ..تم لوگوں کو کیا؟ وہ کیوں نہ اعتراض کریں۔ زبانیں جو سانپ کا روپ دھارے کنڈلی مارے منہ کے اندر بیٹھی ہیں۔ زہر انڈیلنا اور کسی کی زندگی زہر کرنا فرض خیال کرتی ہیں۔ زندگی میں سب کچھ باطن ہی نہیں ہوتا ۔ ظاہر بھی کچھ ہوتا ہے اور آج کل تو سب کچھ ظاہر ہی ہوتا ہے- شکل بھی دیکھنی چاہیے۔ عشوہ کی شادی کرتے کرتے وقت میں مرد کی شکل دیکھوں گی۔ اور شکل وصورت تو ضرور ہی دیکھوں گی۔ مبینہ کا عزم پختہ تھا۔
☆☆☆

جوائنٹ فیملی میں رہنے کا عشوہ کو شوق تھا اتنا ہی اس کے لیے وبال بنتی جا رہی تھی۔ اوپر سے عدیل کا رویہ ؟ نہ کسی بیٹھے کو دیکھتا نہ محفل ، غصہ آیا نہیں اور زبان فراٹے بھرتی غصے کا زہر نکالتی جاتی ۔ غصہ سیال بن کر عشوہ کے دل کو لبالب بھر دیتا۔عدیل کو غصہ زیادہ آتا اور عشوہ کی عادت بات دل میں رکھنے کی تھی۔ عدیل کو نارمل ہونے کے لیے چند منٹ درکار ہوتے جبکہ عشوہ کو دنوں لگتے۔ پہلے وہ اکیلی تھی عدیل کو غصہ کرنے کا جواز کم ہی ملتا مگر جب سے سے زائشہ آئی تھی۔ کام بڑھ گئے تھے یوں لگتا وقت کم ہو گیا ہے۔ یا تو وقت پہ چائے دینی نہیں، اور دو تو یخ ٹھنڈی ۔ عدیل نے زور سے کپ پھینکا۔ زائشہ کا فیڈر گرم کرتی عشوہ گھبرا کر پلٹی ۔ اس کی دیورانی نے مسکراہٹ رخ بدل کے چھپائی۔ اندر آتی ساس نے طنزیہ دیکھا۔ کپ میں چائے نکالی ہی تھی کہ زائشہ رونے لگی۔ اسے اندر سے اٹھا کے لائی اور کپ ٹیبل پر رکھا۔ آپ بھی تھوڑا لیٹ ہو گئے سو ٹھنڈی ہو گئی۔ کہانیاں مت سنانے بیٹھ جایا کرو ۔ عدیل نے اس کی بات کاٹی۔اور بنادوں؟ کندھے پہ ہمکتی زائشہ کو تھپکتی عشوہ شرمندگی سے بولی -بنا دو اور پیچھے آفس میں لے آؤ ناشتا چھوڑ کے اسے بھگو  کے مارتا عدیل ہیلمٹ لیے گیٹ سے نکلا۔ چچی آپ چائے بنائیں میں یونیورسٹی جاتے آپ کو چاچو کے آفس چھوڑتا جاؤں گا۔ کاشی نے بھی مذاق بنایا۔عشوه چپ چاپ زائشہ کو اٹھائے اندر آئی۔ تھپک تھپک کر سلایا اور صفائی کرنے بیٹھ گئی کہ عدیل کو ایک ذرہ بھی گرد کا نظر آجاتا تو آسمان سر پر اٹھا لیتا تھا۔ اسے لگتا تھا وہ زندگی گزار نہیں رہی بلکہ زندگی اسے بھگا رہی ہے۔ وہ تھکی ہوئی اور ہانپتی ہوئی پھرتی تھی۔ بیڈ کراؤن پر کپڑا پھیرتی وہ سائیڈ ٹیبل کی طرف آئی۔اس کی اور عدیل کی ولیمہ کی تصویر تھی وہ بغور دیکھنے لگی ۔ کتنا خوب صورت تھا عدیل ، دیکھنے والے کا دل موہ لیتا تھا اور ساتھ رہنے والے کا دل ساڑ کے رکھ دیتا تھا۔ ایسی خوب صورتی کا بھی کیا فائدہ کہ جسے دیکھے مہینوں بیت جائیں۔ باطن کی سیاہی ظاہر پہ پھری ہوئی ہو۔ خود عشوہ کے بابا ذرا بھی خوب صورت نہیں تھے ۔ مگر اس کی ماما کو انہوں نے پھولوں کی سیج مہیا کی مہیا ہوئی تھی۔ غصیلا مرد وعورت کی ساری خوشیاں ،رنگ نگل جاتا ہے اور اسے بد رنگی بد مزاج عورت میں بدل دیتا ہے۔ ایسی عورتیں قدرتی روبوٹ ہوتی ہیں۔ زندگی میں کچھ بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا اور انسان تو ہرگز نہیں۔ انسانوں کا مکمل ہونا ایسا ضروری بھی نہیں۔ ضروری تو در حقیقت ساتھ ہوتا ہے۔ جو رشتوں کو مکمل کرتا ہے اور انسانوں کو بھی۔ مرد کو بڑا ظرف اور حاکمانہ رویہ ودیعت کیا گیا ہے۔ عورت کو بات منوا لینے کی طاقت ان کا درست استعمال ہی درحقیقت میاں بیوی کے رشتے کو مکمل کرتا ہے۔ باقی تو سب عارضی ہے۔

Latest Posts

Related POSTS