Saza Kisay Mile | Teen Auratien Teen Kahaniyan

633
آٹھ برس کی تھی جب ممانی نے اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بیٹے سہیل کو پسند تھی جبکہ وہ مجھ سے دس برس بڑا تھا۔ آٹھویں پاس کرتے ہی میری منگنی اس کے ساتھ کردی گئی اور دس روز بعد ہی یہ منگنی ٹوٹ گئی۔ منگنی ٹوٹنے کا قصہ بھی بڑا عجیب تھا۔ مڈل پاس کرنے کی مبارکباد دینے ممانی لاہور آئیں۔ اس مبارکباد کے پیچھے ان کا یہ ارادہ کارفرما تھا کہ رسم منگنی ادا کرکے جائیں گی، تبھی مٹھائی اور انگوٹھی ساتھ لائی تھیں۔ امی، ابو کو میری شادی کی جلدی نہ تھی مگر سہیل کو دھڑکا تھا، اس کے ڈاکٹر بننے تک میرا کہیں اور رشتہ طے ہوگیا تو وہ ہاتھ ملتے نہ رہ جائیں۔
ان دنوں وہ میڈیکل تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ لڑکے کے شاندار مستقبل کو دیکھتے ہوئے ابو نے امی کا دبائو قبول کرلیا اور رشتے کے لیے ہامی بھر لی تو ممانی نے یہ مسئلہ جلد نمٹا دیا کیونکہ میرے سگے تایا بھی رشتہ مانگ رہے تھے۔
ایسی باتیں خاندان میں پوشیدہ نہیں رہتیں۔ میری منگنی کی خبر جب تایا کو ملی تو ان کو سخت صدمہ ہوا۔ منجھلا بیٹا برہان تو خبر سنتے ہی خودکشی کی دلدل میں جاگرا۔ علم نہ تھا کہ مجھے اس قدر چاہتا ہے کہ جان پر کھیل جائے گا۔
اس نے میری منگنی کی خبر سنتے ہی کوئی زہریلی دوا پی لی۔ اللہ نے کرم کیا تایا عین وقت پر گائوں سے شہر پہنچ گئے اور برہان کو اسپتال میں فوری طبی امداد مل گئی، اس کی جان بچ گئی لیکن ہوش میں آنے تک وہ میرا نام لے کر پکارتا رہا۔
برہان کی اس حرکت سے سب کو معلوم ہوگیا کہ وہ مجھے چاہتا ہے۔ منگنی کا سن کر ہی خودکشی کی کوشش کی ہے۔ میں نے سنا تو دل تھام لیا۔ سچ بات تھی کہ مجھے بھی برہان پسند تھا اور اپنے ماموں زاد سہیل سے کوئی لگائو نہ تھا۔ وہ مجھ سے عمر میں کافی بڑا تھا۔ جب گھر آتا، اس سے بات بھی نہ کرتی تھی جبکہ برہان اور میں ساتھ کھیلے تھے۔ بچپن کے وہ سنہری دن جب ہم ایک گھر میں رہا کرتے تھے، میں ابھی تک نہ بھولی تھی۔
ابو اپنے بھتیجے سے بہت پیار کرتے تھے۔ خودکشی کا سن کر اسپتال دوڑے گئے۔ برہان کو تسلی دی اور اپنے بھائی سے وعدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ برہان کی زندگی رکھے، وہ اس کو اپنا داماد بنائیں گے۔ گھر واپس آکر انہوں نے ماموں کو فون کرکے منگنی توڑنے کا اعلان کردیا۔
والد کی طرف سے رشتے سے انکار پر امی روہانسی اور ماموں، ممانی شدید ڈسٹرب ہوئے۔ انہوں نے ہم سے قطع تعلق کرلیا مگر تایا اور تائی نہال تھے۔ ان کے بیٹے کو نئی زندگی کی نوید جو ملی تھی۔ میں بھی خوش تھی۔ بچپن سے میرے معصوم دل پر برہان کی تصویر ثبت تھی، اسے مٹا دینا میرے بس میں نہ تھا۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ اگر میں برہان کی شیدائی تھی تو وہ بھی مجھے اس قدر چاہتا تھا کہ اس نے جان کی بازی لگا دی۔ سوچتی تو اس کی محبت پر فخر ہوتا۔ بھلا کون کسی کو اتنا چاہتا ہے کہ اپنی جان بھی دائو پر لگا دے۔
کتنا اعتماد اور یقین تھا مجھے اپنے تایا زاد پر مڈل سے ایف اے تک میں نے ہر دن گن گن کر گزارہ تھا۔ تایا کہتے تھے۔ برہان تعلیم مکمل کرلے تو بیٹے کے سر پر سہرا سجا کر بارات لے کر آئیں گے اور مجھے ڈولی میں بٹھا کر لے جائیں گے۔
منگنی کو چار سال گزر گئے۔ برہان نے تعلیم مکمل کرلی۔ ابو نے تایا کو کہلوایا کہ اب بیٹے کی شادی کی تیاریاں شروع کریں، میں بیٹی کو رخصت کرنا چاہتا ہوں۔ جواب آیا۔ چند ماہ ٹھہر جائو، برہان کسی کام کے سلسلے میں اسلام آباد گیا ہوا ہے۔ اس کو آجانے دو، تاریخ بھی رکھ لیں گے۔ دو ہفتے تک انتظار کیا جواب نہ آیا تو ابو گائوں چلے گئے تاکہ تایا سے حتمی تاریخ لیں۔ پتا چلاکہ برہان روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر جارہا ہے۔ ہمیں ایک سال اور انتظار کرنا ہوگا۔ والد منہ لٹکا کر لوٹ آئے۔ برہان بیرون ملک چلا گیا۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ سال پلک جھپکتے گزر گیا مگر میرے لئے انتظار کی گھڑیاں صدیوں جیسی تھیں۔ منگنی کے بعد برہان نے ہماری طرف آنا کم کردیا تھا۔ کبھی آتا بھی تو میں سامنے جانے سے گریز کرتی تھی۔ امی کا لحاظ، کبھی ابو بیٹھے ہوتے اور کبھی اس کے گرد چھوٹی بہنوں کا جمگھٹا لگا ہوتا۔ ایسے میں منگیتر سے دل کی باتیں کیونکر کرسکتی تھی۔
منگنی کو پانچ سال بیت گئے، دل کے ارمان حسرت بن گئے، برہان نہ لوٹا۔ امی، ابو بھی اب میرے فرض سے جلد سبکدوش ہونا چاہتے تھے کیونکہ چھوٹی بہنیں شادیوں کی عمر کو پہنچ رہی تھیں۔
اس دوران شومئی قسمت، تایا وفات پا گئے۔ باپ کی موت پر بھی بیٹا امریکا سے نہ لوٹ سکا۔ ابو نے برہان کے بھائی فرقان سے بات کی کہ اب کب تک ہمیں انتظار کروانا ہے۔ اس نے کہا۔ چچا جان! خاطر جمع رکھئے، میں برہان کو خط لکھتا ہوں۔ فون تو وہ اپنی مرضی سے اٹھاتا ہے۔ میرا ایک دوست اس شہر میں جارہا ہے، جہاں برہان رہتا ہے۔ وہ بذات خود مل کر جواب لائے گا۔ ان دنوں فون کی اتنی سہولت نہ تھی جس قدر آج ہے۔ فرقان نے خط لکھ کر دوست کو دیا کہ میرے بھائی کے ہاتھ میں دینا تاکہ وہ شادی کے بارے میں بتائے یا فون کرے تو یہ مسئلہ حل ہوجائے۔
برہان نے خط کے جواب میں لکھا۔ بھائی جان! مجھے نازیہ سے شادی نہیں کرنی اور میرا وطن لوٹ کر آنے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔ آپ میری فکر چھوڑ دیں، میں اپنی شادی خود کرلوں گا۔ دوبارہ مجھے اس موضوع پر خط تحریر کرنے کی کوئی تکلیف نہ کرے۔
فرقان نے جواب پڑھا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ چچا کو کیا جواب دے۔ خط لے کر ابو کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور بولا۔ جو جواب دیا ہے، آپ خود پڑھ لیں، اپنے منہ سے کیا کہوں کہ منہ نہیں کھلتا۔ والد نے خط پڑھا تو سکتے میں آگئے کیونکہ یہ منگنی بھی خود برہان نے خودکشی کی کوشش کرکے اور سب کو ہلا کر کروائی تھی۔
امی نے میری بہن کو بتایا کہ وہاں سے ایسا جواب آیا ہے۔ نازی کو خط دکھا دو۔ بہن نے مجھے خط لا کر پڑھوا دیا۔ اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا لیکن فرقان بھی جھوٹ بولنے والوں میں سے نہ تھا، تبھی وہ برہان کا اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ وہ خط لے کر آگیا تھا تاکہ کسی شک و شبہے کی گنجائش نہ رہے۔
میں نے خط پڑھا۔ غم و غصے سے خون کھول گیا بلکہ غصہ غم پر غالب آگیا۔ اب میں سمجھدار ہوچکی تھی، برداشت نہ ہوسکا۔ اسی وقت خط کا جواب لکھ کر فرقان کو دیا کہ اگر یہ خط لا سکتے ہو تو اس کا جواب بھی اپنے بھائی تک پہنچا دو۔ تمہارا احسان ہوگا۔ خط میں، میں نے تحریر کیا تھا۔
برہان! تم نے جو مذاق ہم لوگوں سے کیا ہے، وہ شریفوں کا شیوہ نہیں۔ پانچ برسوں تک تم نے میرے والدین کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا اور پھر ایسا جواب دیا جسے پڑھ کر تم کو شوٹ کردینے کو جی چاہتا ہے۔ میری منگنی ہوگئی تھی، تم ہی نے میری خاطر خودکشی کرکے یہ منگنی ختم کروائی اور اب تم ہی ٹکا سا جواب دے رہے ہو، وہ بھی پانچ برس کے انتظار کے بعد… کاش! تمہاری اپنی کوئی بہن ہوتی اور اس کے ساتھ ایسا ہوتا تو تمہیں پتا چلتا کہ بیٹی والے والدین کی اہانت کرنے سے ان کو کس قدر دکھ پہنچتا ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو تم کو ایسی سزا دیتی کہ عمر بھر یاد کرتے۔ کاش! میں اتنی بے بس نہ ہوتی اور تم سے اپنی اہانت کا بدلہ لے سکتی۔ ایسا بدلہ کہ تم کو چھٹی کا دودھ یاد آجاتا۔
فرقان نے ایک امانت کی طرح میرا خط کسی طور اپنے بھائی کو بھجوا دیا۔ سوچتی تھی خط ملتے ہی رو پڑے گا مگر اس کٹھور پر کوئی اثر نہ ہوا۔ الٹا اس نے قسم کھا لی کہ یہ کیا بدلہ لے گی، میں اس کو مزہ چکھائوں گا۔
چند دن بعد اس نے اپنے بھائی کو خط بھیجا اور اپنے پہلے خط میں لکھی تحریر کی معافی مانگی اور میرے والد کے پاس جاکر معافی طلب کرکے شادی کی تاریخ لینے کی ہدایت کی۔ یہ خط لے کر تائی اور فرقان ہمارے گھر آئے۔ برہان کا خط دکھا کر اس کی طرف سے معافی کے خواستگار ہوئے۔ بتایا کہ پندرہ روز بعد برہان وطن پہنچ جائے گا، آپ شادی کی تاریخ دے دیں تاکہ ہم اسے فون کرکے بتا دیں۔ ابو، امی نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور تائی کو شادی کی تاریخ دے دی۔ وہ بڑی تھیں اور معافی مانگ لی تھی تو اب ان کو کچھ کہنا بداخلاقی ہوتی۔ بے شک برہان سے ناراض تھی لیکن دل میں ابھی تک محبت کے جذبات باقی تھے۔ میں اس وجہ سے خوش تھی کہ ابو صدمے سے بچ گئے تھے اور رشتے داروں میں جو ہماری سبکی ہونی تھی، اس سے بھی اللہ نے ہمیں بچا لیا تھا۔ برہان کی ہاں سے عزت رہ گئی اور میرا بھی اس نے مان رکھ لیا تھا۔ گویا میرے خط نے اس کے دل پر اثر کیا تھا لہٰذا یک گونہ خوشی ہوئی۔ پہلے خط نے جو صدمہ دیا، جاتا رہا۔ امی، ابو میری شادی کی تیاریوں میں لگ گئے تھے، بہنیں خوش تھیں۔ پندرہ روز پلک جھپکتے گزر گئے اور برہان پاکستان آگیا۔
ہمارے گھر خوشی کے گیت گائے جانے لگے۔ طویل انتظار ختم ہوچکا تھا۔ سہلیاں ڈھولک پر گیت گا رہی تھیں، مجھے ابٹن لگایا گیا، مہندی گھولی گئی اور سب سہیلیوں نے مہندی لگائی۔ امی نے منیاری بلا کو گھر پر ہی ان کو پسند کی چوڑیاں پہنا دیں۔ شادی میں ایک دن باقی تھا۔ اچانک برہان نے فرقان سے کہا۔ بھائی جان! کل میری فلائٹ ہے۔ میں واپس جارہا ہوں، وہاں سے فوری بلاوا آگیا ہے۔ نہیں گیا تو پھر کبھی نہ جاسکوں گا، جانا ضروری ہے۔
یہ کیا کہہ رہے ہو بھائی؟ کل تمہاری شادی ہے، ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ بس مجبوری ہے، کیا کروں۔ معاملے کو تم سنبھال لینا۔ یوں بھی مجھے نازیہ سے شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ امی کی خاطر پھانسی کا یہ پھندا گلے میں ڈال رہا تھا۔
تم ہوش میں تو ہو؟ تائی نے گھبرا کر کہا۔ ہر جگہ دعوت نامے بٹ چکے ہیں اور گھر مہمانوں سے بھرا ہے۔ ان لوگوں سے کیا کہوں جو تمہاری شادی میں شرکت کرنے آس پاس کے گائوں سے آچکے ہیں۔
ان سے کہہ دیجئے کوئی مجبوری ہوگئی ہے، تبھی یہ شادی ملتوی کررہے ہیں۔ وہ واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔
معاملہ کیا ہے، کچھ بتائو تو؟ فرقان نے اپنے چھوٹے بھائی کو قسم دی تو وہ منہ سے پھوٹا۔ نازیہ نے مجھے ایسا خط لکھا کہ سخت غصہ آیا۔ وہ مجھے سزا دینا چاہتی تھی اور بدلہ لینا چاہتی تھی۔ میں نے اس کو سزا دے دی ہے۔ وہ کیا بدلہ لے گی، منہ چھپا کر روئے گی اور تاقیامت یاد رکھے گی میری اس سزا کو… اپنے بھائی کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر فرقان کا برا حال ہوگیا۔ شادی کا سارا انتظام اسی نے کیا تھا، والد کی وفات کے بعد وہی کنبے کا سہارا اور سربراہ تھا۔ اسی وجہ سے ابھی تک شادی بھی نہ کی تھی۔
اتنا کہہ کر
برہان اپنا بیگ لے کر چلا گیا جبکہ فرقان اس کو روکتا رہ گیا۔ اب ساری برادری کا سامنا اسی نے کرنا تھا۔ رشتہ داروں کو جواب اسی نے دینا تھا۔ امی، ابو کا سامنا بھی اسی نے کرنا تھا۔ وہ سر پکڑے بیٹھا تھا۔ تائی بے چاری بوکھلا کر اِدھر اُدھر دوڑ رہی تھیں۔ ان کی حالت دیدنی تھی اور ان کا دکھ سننے والا کوئی نہ تھا۔ فرقان سوچ رہا تھا کہ وہ مہمانوں سے کیا کہے۔ کیا یہ کہہ دے کہ اس کے والد دوبارہ فوت ہوگئے ہیں، اسی لئے برہان شادی نہیں کررہا۔
فرقان پر یہ رات بہت بھاری گزری۔ اس میں ہمت نہ تھی جاکر دلہن والوں کو کہے کہ اس کے بھائی نے عین وقت پر دھوکا دیا ہے، شادی سے انکار کرکے چلا گیا ہے۔ شاید کہ برفانی ملک جاکر اس کا دل بھی برف کی طرح یخ اور خون سفید ہوگیا تھا۔ دل سے رشتوں کا احساس اور ان کا تقدس جاتا رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل بیٹھا جاتا تھا کہ کل جب گائوں سے بارات شہر دلہن والوں کے گھر نہ جائے گی تو ہم لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔
فرقان بہت پریشان تھا۔ اس نے پھپھو کے بیٹے کو بلا کر احوال کہا۔ بولا۔ اب تم ہی جاکر چچا سے کہو کہ برہان یہ کرگیا ہے، میری تو ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہی ہے۔
مجھے دلہن بنانے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ سنار سے زیور لا کر سنگھار میز پر رکھ دیا گیا تھا، عروسی جوڑا استری ہوچکا تھا۔ مجھے نہلا کر آئینے کے سامنے بٹھا دیا گیا تھا۔ مشاطہ سجانے سنوارنے آچکی تھی۔ باہر بارات کے استقبال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں۔
بارات کے انتظار میں شام کے چھ بج گئے۔ انہوں نے پانچ بجے آنے کا کہا تھا کیونکہ گائوں سے شہر آنا تھا، پھر دلہن کو لے کر واپس بھی جانا تھا۔ ابو نے ہدایت کی تھی، سرشام نکاح اور رخصتی ہوجائے گی تاکہ بروقت بارات کی واپسی ہوسکے۔ آٹھ، نو اور پھر رات کے دس بج گئے، بارات نہیں آئی تو والد صاحب نے فون کرایا۔ ان دنوں فون پولیس اسٹیشن پر ہوتا تھا یا پھر اسپتال میں… ابو نے اپنے ایک دوست ڈاکٹر کو اسپتال فون کیا کہ جاکر میرے بھائی کے گھر معلوم کریں، خیریت تو ہے؟ ہم بارات کا انتظار کررہے ہیں۔ ادھر فرقان، تائی سے کہتا تھا۔ اب تم وہاں جائو، میں کس منہ سے جائوں، ان کو کیا کہوں۔ بالآخر تائی نے اپنے بھائی سے کہا کہ گاڑی نکالو۔ تین گھنٹے کا راستہ تھا۔ ملتان سے بہاولپور آنا تھا۔ ایک بجے رات یہ لوگ آگئے جب تک مہمانوں کو کھانا کھلایا جا چکا تھا اور مولوی صاحب دم بخود بیٹھے تھے کہ مزید انتظار کریں یا چلے جائیں۔ مہمان تو آدھے سے زیادہ کھانا کھا کر جا چکے تھے۔
فرقان اور تائی بغیر بارات پہنچے تو ابو نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ فرقان کے ماموں نے احوال بتایا جو فرقان نہ بتا سکا تھا۔ والد نے حواس بحال رکھے اور اعلان کیا کہ میری والدہ جو ضعیف ہیں اور گائوں میں ہیں، ان کی طبیعت بے حد خراب ہوگئی تو ان کو اسپتال لے جانے کی وجہ سے دیر ہوگئی ہے۔ باراتی صبح آئیں گے اور دلہن صبح رخصت ہوگی۔ ابھی صرف نکاح ہو گا، تبھی انہوں نے فرقان سے کہا۔ بیٹا! تم برہان کے کئے کو سنبھال لو۔ تم میرے بھائی کے بیٹے ہو، اس وقت تم سے التجا کرسکتا ہوں کہ خاندان کی لاج رکھ لو۔ برہان نہ سہی تم سہی۔ امی ابو رو رہے تھے، تائی بھی رو رہی تھیں۔ ہمارے گھر میں قیامت کا سماں تھا۔ فرقان نے فیصلہ کرلیا۔ اس نے کہا کہ تایا میں رکھوں گا خاندان کی لاج۔ اب میں آپ کا بیٹا ہوں، لایئے وہ جوڑا جو آپ نے برہان کے لیے بنوایا تھا۔ اس نے بسم اللہ کہہ کر چچا کا ہاتھ تھام لیا۔ انہوں نے عروسی جوڑا پہنا دیا، سر پر سہرا بھی اپنے ہاتھوں سے باندھا۔ رات ڈیڑھ بجے فرقان کا مجھ سے نکاح کردیا گیا۔
جب نکاح میں مولوی صاحب نے برہان کی جگہ فرقان کا نام لیا تو میں سن ہوگئی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ سہواً یہ غلطی کرگئے ہیں یا پھر مجھ سے اس امر کو پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ میں قبول ہے کہنے سے ہچکچائی، تبھی ابو نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ تم نے قبول ہے کہنا ہے، میری لاج رکھنی ہے ورنہ میرا دل بیٹھ جائے گا۔ مجھے صرف اپنے والد کا دھیما لہجہ جس میں التجا تھی، یاد رہ گیا، باقی ہر شے بھلادی اور قبول ہے، دہرادیا۔ صبح چھ بجے بارات گائوں سے آگئی اور سات بجے وہ مجھے لے کر واپس ہوگئے۔ تمام راستے ذہن سن اور حواس مختل رہے۔ سوچ نہ پائی یہ سب کیا ہے۔
دلہن کا کمرہ وہاں سجا ہوا تھا، دلہن بھی آگئی لیکن دولہا وہ نہ تھا جس کو دولہا بننا تھا۔ فرقان نے مجھے کہا۔ نازیہ! گھبرانا مت، ہر بات بتاتا ہوں۔ میرا کوئی دوش نہیں ہے۔ چچا جان نے التجا کی اور میں ان کی التجا کو ٹھکرا نہ سکا۔ اب اگر تمہیں نامنظور ہے تو جو چاہے فیصلہ کرو، جو چاہے سزا دو۔ میں نے اپنے مرحوم والد کی عزت اور چچا جان کی لاج نباہی ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گرے اور میں نے ان کو اپنے رومال سے صاف کردیا۔ اب اگر میں تم کو قبول نہیں تو بتا دو، میں تمہارے فیصلے کا احترام کروں گا۔
جو ہوا، بہتر ہوا فرقان! اس سے تم بہتر ہو جو ہمیں رسوا کرنے کا منصوبہ بنا کر بدیس سے آیا اور نجانے کس بات کی سزا دے کر چلا گیا لیکن اللہ نے مجھ پر مہربانی کی ہے۔ اس نے تم کو میرا ساتھی بنا دیا ہے۔ برہان اس لائق نہ تھا کہ میری اس سے شادی ہوتی تبھی اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا۔ جب اس کو پتا چلا کہ فرقان اس کی کھودی قبر میں لیٹ گیا ہے، اس کے بعد برہان کبھی نہ لوٹا۔ تائی راہ تکتی وفات پا گئیں۔ اس کو پتا تھا کہ اب خاندان اور گھر میں اپنوں کے دلوں میں اس کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے۔ پھر وہ کیوں لوٹ کر آتا۔ اچھا ہوا کہ نہیں آیا، آتا بھی تو ہم میں سے کون تھا جو اس کی شکل دیکھنا گوارا کرتا۔
آج میں اسی گھر کی بہو ہوں، جس گھر کی بہو مجھے بننا تھا۔ فرق یہ ہے کہ ایک نیک فطرت اور عمدہ سیرت انسان کی شریک حیات ہوں جس کے اچھے کردار پر مجھے فخر ہے۔ (ن۔ م … ملتان)