Serhi | Episode 1

763
بارات میں شامل کچھ لوگ دولہا کی قسمت پر رشک کر رہے تھے، کچھ اسے حسد کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جن سے زمان اختر کا دولہا بننا برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا۔
ایک فارم ہائوس میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ دولہا زمان شرمایا ہوا بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ براجمان اس کی دُلہن الماس کے چہرے پر مسکراہٹ اور خوشی عیاں تھی۔
اس شادی کی تقریب میں ایک ایسا نوجوان بھی شامل تھا جو دُلہن الماس کا کزن تھا اور وہ اسے بہت پسند کرتا تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ اس کی شادی الماس سے ہو جائے۔ اس نے اپنے دل کی بات الماس سے کہی بھی تھی لیکن الماس اسے شروع سے ہی ناپسند کرتی تھی۔ حالانکہ وہ خوبصورت تھا اور اس کے والد بھی بہت بڑے کاروباری تھے، دولت کی ریل پیل تھی۔ اس کے باوجود الماس جانے کیوں اس سے چڑتی تھی اور جب اس نے اپنے دل کی بات کہی تو الماس نے اس کی طرف دیکھ کر متانت سے کہا تھا۔ ’’مسٹر اویس میں آپ کو پسند نہیں کرتی۔ آپ جو میرے لئے محبت بھرے جذبات لئے پھر رہے ہیں۔ براہ مہربانی ان جذبات کو دل سے نکال دیں اور اپنے لئے کوئی اور لڑکی تلاش کرلیں۔‘‘
الماس کے صاف جواب کے بعد ایک دن اُسے اچانک پتا چلا کہ اس کی شادی ہو رہی ہے اور وہ بھی الماس کے باپ کی کمپنی میں کام کرنے والے ایک ایسے نوجوان سے جس کا کوئی آگے ہے اور نہ کوئی پیچھے… سب کے لئے یہ حیران کن اور چونکا دینے والی خبر تھی لیکن سارا خاندان جانتا تھا کہ الماس کا باپ وجاہت حسین جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو پھر اسے دُنیا کی کوئی طاقت اس فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ الماس کی شادی زمان اختر کے ساتھ اچانک طے نہیں ہوئی تھی۔ اس کے لئے زمان کو بہت محنت کرنی پڑی تھی۔
زمان کی عمر تیس سال سے کم تھی۔ اس کا نکلتا ہوا قد اور خوبصورت چہرہ کسی فلمی ہیرو سے کم نہیں تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا۔ ابھی زمان کی کالج کی تعلیم ختم ہوئی تھی کہ اس کا باپ چل بسا اور ٹھیک چھ ماہ کے بعد اس کی ماں بھی دُنیا چھوڑ گئی اور وہ اکیلا رہ گیا۔
زمان کی شدید خواہش تھی کہ اس کے پاس ڈھیر سا روپیہ، بڑا سا بنگلہ، قیمتی گاڑیاں ہوں اور کوئی فکر نہ ہو۔
اس کا شاطر دماغ کالج کے دنوں میں بھی اپنے دوستوں کو مختلف طریقوں سے لوٹتا رہتا تھا۔ وہ کسی کو بھی آسانی سے بے وقوف بنا لیتا تھا۔ وہ چھوٹے موٹے فراڈ کرتا رہتا تھا جس کا کسی کو پتا نہیں چلتا تھا۔ جب وہ دُنیا میں اکیلا رہ گیا تو اس نے بڑے فراڈ شروع کر دیئے اور پھر ناجائز طریقے سے پیسہ کمانے کے لئے وہ مزید آگے بڑھا، اس کے تعلقات جرائم پیشہ لوگوں سے ہوگئے۔ وہ ایک شہر سے دُوسرے شہر منتقل ہونے لگا۔ وہ پولیس کی نظروں میں نہیں آنا چاہتا تھا۔ دولت لوٹنے کے چکر میں وہ کراچی پہنچ گیا۔
اس شہر میں زمان نے وجاہت حسین کو اپنی پجیرو سے اُترتے اور پھر ایک ہوٹل میں جاتے دیکھا۔ اس کے ٹھاٹ دیکھ کر زمان سوچنے لگا کہ زندگی ایسی ہونی چاہئے۔ اس نے وجاہت حسین کے بارے میں معلومات جمع کرنی شروع کر دی۔ وجاہت کا کاروبار بیرون ملک تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک انتہائی امیر کبیر شخص تھا۔
اسی دوران چائے پیتے ہوئے زمان نے اخبار میں اشتہار دیکھا کہ وجاہت حسین کی کمپنی کو کچھ ملازمین کی ضرورت ہے۔ زمان نے اسی وقت درخواست لکھی، اپنی تعلیمی اسناد منسلک کیں اور اپنے شہر میں مقیم اُستاد قیوم کو فون کیا۔ اس نے کبھی بتایا تھا کہ کراچی میں اس کے بہت سے لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔
اُستاد قیوم سے رابطہ ہوتے ہی زمان نے وجاہت حسین کی کمپنی کے بارے میں بتانے کے بعد کہا۔ ’’میں اس کمپنی میں ملازمت کرنا چاہتا ہوں۔ سفارش کے بغیر کام بنتا نہیں۔ اگر اس نوکری کے لئے سفارش کر دیں تو مہربانی ہوگی۔‘‘
’’یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں تمہارا نمبر اپنے ایک بندے کو دیتا ہوں۔ وہ تمہارا کام کر دے گا۔‘‘ اُستاد قیوم نے ہامی بھر لی۔
آدھے گھنٹے کے بعد زمان کو ایک فون آیا۔ دُوسری طرف سے کوئی شبیر بھائی بول رہا تھا۔ اس نے کچھ سوال کئے اور پھر اسے ایک پتا سمجھا کر کہا کہ وہ اس جگہ آ جائے۔ زمان اس جگہ پہنچ گیا۔ شبیر بھائی بظاہر علاقے کا معزز شخص دکھائی دیتا تھا
لیکن ایسا تھا نہیں۔ اس نے اُستاد قیوم سے پہلے ہی زمان کے بارے میں ساری معلومات لے لی تھی، اب محض وہ اس کی شکل دیکھنا چاہتا تھا۔
ملاقات کے بعد شبیر بھائی نے زمان سے کہا۔ ’’انٹرویو دینے کے فوراً بعد میرے اس نمبر پر رابطہ کرنا۔ کام ہو جائے گا۔ کوئی ٹینشن نہیں۔ قیوم بھائی نے بولا ہے پھر کام کیسے نہیں ہوگا۔‘‘
دُوسرے دن انٹرویو تھا، جب زمان انٹرویو دے کر کمرے سے باہر نکلا تو اس نے فوراً شبیر بھائی کو فون کیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا اور دُوسرے دن اس کمپنی میں زمان کو نوکری مل گئی۔
زمان نے کرائے پر ایک کمرا لیا ہوا تھا۔ وہ اس نوکری کے ملنے پر بہت خوش تھا۔ اس نے جھوم کر کہا۔ ’’میری کامیابی کی یہ پہلی سیڑھی ہے۔‘‘
دُوسرے دن وہ تیار ہو کر آفس پہنچا۔ تین دن میں اس نے اپنا کام بھی سمجھ لیا اور وجاہت حسین کو بھی قریب سے دیکھ لیا۔ وجاہت حسین کام کے بارے میں بہت سنجیدہ تھا۔ وہ اپنے ہر کارکن پر نظر رکھتا تھا۔ ان سے اپنے کمرے میں بلا کر کام کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا۔ اس نے زمان کو اپنے کمرے میں بلا کر کام کے حوالے سے بات کی تھی اور کچھ ہدایات دینے کے بعد زمان کو کمرے سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
زمان نے محسوس کیا تھا کہ وجاہت حسین دولت کے ڈھیر پر بیٹھا ضرور تھا لیکن اس کے اندر زعم نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ کام کی قدر کرنے والا شخص تھا۔ اس کی نظر ہر معاملے میں بہت گہری تھی۔ وہ وقت بچا کر پیسہ بچانے کا ہنر جانتا تھا۔
ایک دن دو خوبصورت لڑکیاں آفس آئیں اور سیدھی وجاہت حسین کے کمرے میں چلی گئی تھیں۔ زمان نے باتوں باتوں میں اپنے کولیگ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ وجاہت حسین کی بیٹیاں ہیں۔ ایک کا نام الماس اور دُوسری کا نام رمشا ہے۔
الماس کا چہرہ زمان کی نگاہوں میں بس گیا تھا۔ اس نے اس کمپنی میں کسی اور مقصد کے لئے نوکری کی تھی، اس کا منصوبہ کچھ اور تھا، لیکن اب الماس کو دیکھ کر اس کی سوچ بدل گئی تھی۔ اب وہ کچھ اور سوچنے لگا تھا۔
چند دن گزر گئے۔ ایک رات زمان فٹ پاتھ پر ٹہلتا ہوا جا رہا تھا کہ اچانک ایک سیاہ پجیرو آئی جس کی رفتار بہت تیز تھی، اس نے ایک راہ گیر کو ٹکر مار دی۔ راہ گیر ایک طرف جاگرا۔ پجیرو کو یکدم بریک لگے تو اس کے ٹائر چیخے۔ زمان کی فوراً توجہ اس طرف مبذول ہوگئی۔ اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ بھاگ کر زخمی راہ گیر کے گرد جمع ہوگئے ہیں۔ پجیرو نے اس جگہ سے نکلنا چاہا تو ایک موٹرسائیکل برق رفتاری سے پجیرو کے آگے کھڑی ہوگئی۔ اس موٹر سائیکل پر دو افراد سوار تھے۔ دونوں جوان تھے اور شکل و صورت سے شریف لوگ نہیں لگتے تھے۔
موٹرسائیکل کے پیچھے بیٹھا شخص تیزی سے ان لوگوں کی طرف بڑھا، جو زخمی کے گرد جمع تھے۔ اس نے شور مچا کر قریب سے گزرتے رکشہ والے کو روکا اور زخمی کو رکشہ میں سوار کرا کے دو آدمیوں کے ساتھ اسپتال کی طرف بھیج دیا اور واپس موٹرسائیکل سوار کے پاس آ گیا۔ وہ دونوں پجیرو کی طرف بڑھے۔ ایک نے شیشے پر اپنی اُنگلی ماری تو ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کا شیشہ جونہی نیچے ہوا، کچھ فاصلے پر کھڑا زمان یہ دیکھ کر چونک گیا کہ ڈرائیونگ سیٹ پر الماس براجمان تھی اور اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔
’’میڈم باہر آئیں اور ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن چلیں۔ آپ کی گاڑی کی ٹکر سے وہ شدید زخمی ہوگیا ہے۔‘‘ اس آدمی نے بارعب آواز میں کہا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ وہ مشکل ہی سے بچے گا۔‘‘ یہ سن کر الماس کا رنگ اُڑ گیا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ اور پیچھے اس کی دوست بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ بھی ڈری اور سہمی ہوئی تھیں۔
’’میں نے جان بوجھ کر ٹکر نہیں ماری۔‘‘ الماس نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’یہ آپ پولیس کو بتایئے گا۔ باہر نکلیں۔‘‘ اس نے غصے سے کہا۔
’’میں پپا کو فون کرتی ہوں۔‘‘ الماس نے فون پکڑا۔ ایک دَم اس آدمی نے الماس کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔
’’فون شون جو بھی کرنا ہے تھانے جا کر کرنا۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’میرا فون دو۔‘‘ الماس بولی۔
’’فون کی بڑی فکر ہے، اس غریب کی کوئی فکر نہیں ہے جسے آپ نے بے دردی سے ٹکر ماری ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں نے جان بوجھ کر ٹکر نہیں ماری۔‘‘
’’جب قتل کرنے پر جیل میں چکی پیسنی پڑے گی پھر سوچنا میڈم کہ جان بوجھ کر ٹکر ماری تھی یا انجانے میں ایسا ہوگیا تھا۔ آپ جیسی امیرزادیاں غریبوں کو کچھ
سمجھتیں۔ کیڑے مکوڑوں کی طرح کچل کر چلی جاتی ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’میں پولیس کو فون کر کے یہاں ہی بلا لیتا ہوں۔‘‘ اس کے ساتھی نے اپنا فون نکالا۔
’’پلیز مجھے میرے پپا سے بات کرنے دیں۔‘‘ الماس نے کہا۔
اس وقت تک زمان ان کے پاس پہنچ گیا اور پراعتماد لہجے میں بولا۔ ’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘
زمان کی آواز سنتے ہی الماس کے ساتھ وہ دونوں شخص بھی اس کی طرف متوجہ ہوگئے، ایک شخص بولا۔ ’’اس امیرزادی نے ایک شخص کو اپنی گاڑی سے ٹکر مار کر مار دیا ہے۔‘‘
زمان نے اس کے ہاتھ میں پکڑا الماس کا فون ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا۔ ’’لڑکی کے ساتھ بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر زمان نے موبائل فون الماس کی طرف بڑھا دیا۔ الماس نے فوراً اپنا فون تھام لیا۔
’’اس نے اس غریب کی جان لے لی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس سے تمیز سے بات کریں۔‘‘ اس نے زمان کی طرف غصے سے دیکھا۔
’’پیچھے ہو جائو۔ مجھے لڑکی سے بات کرنے دو۔ اس کے بعد میں بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں۔‘‘ زمان نے کچھ اس انداز میں کہا کہ وہ دونوں پہلے تو اسے دیکھتے رہے اور پھر پیچھے ہو کر کھڑے ہوگئے۔
زمان آگے بڑھا اور الماس کے پاس جا کر بولا۔ ’’میرا نام زمان اختر ہے اور میں آپ کے والد کی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔ چند دن پہلے میں نے آپ کو آفس میں دیکھا تھا۔ آپ یہاں سے چلی جائیں، میں انہیں سنبھال لوں گا۔‘‘
الماس اس کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیاکرے۔ اس کے برابر بیٹھی اس کی دوست نے کہا۔ ’’سوچ کیا رہی ہو… گاڑی پیچھے کرو اور یہاں سے نکلو۔‘‘
الماس ایک دَم چونکی، اس نے گاڑی پیچھے کی اور پھر تیزی سے نکل گئی۔
’’یہ کیا کیا… اسے جانے کیوں دیا۔‘‘ وہ شخص تیزی سے زمان کی طرف بڑھا۔
’’زخمی تمہارا کیا لگتا تھا؟‘‘ زمان نے اس سے پوچھا۔
’’انسانیت سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں نے دیکھا ہے کہ وہ زیادہ زخمی نہیں ہوا تھا۔ ہلکی سی ٹکر لگی تھی جس سے وہ گر گیا تھا۔ اسے اسپتال لے جانے کی بھی ضرورت نہیں تھی لیکن تم لوگوں نے اسے جان بوجھ کر اسپتال بھیج دیا۔ تم دونوں اس لڑکی سے پیسے لینے کے چکر میں تھے؟‘‘
’’ہم یہ سب پیسوں کے لئے نہیں کر رہے تھے۔‘‘ وہ آنکھیں چرا کر بولا۔
زمان نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ ’’اب بہتر یہ ہے کہ تم دونوں یہاں سے چلے جائو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں تم دونوں سے اپنا تعارف کرائوں اور پھر تم دونوں بھاگنے کا راستہ ڈھونڈتے پھرو۔‘‘
زمان کا کمال یہ تھا کہ وہ بات پورے اعتماد سے کرتا تھا۔ اس کے لہجے میں ایسا زور ہوتا تھا کہ سامنے والا ایک بار تو سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ اس کے سامنے کھڑا کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ اس لئے وہ دونوں آوارہ اپنی موٹرسائیکل کی طرف بڑھے اور وہاں سے چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد زمان معنی خیز انداز میں مسکرایا اور سیدھا اسپتال پہنچا۔ سرکاری اسپتال قریب ہی تھا۔
شعبہ حادثات میں زمان کووہ شخص ایک بستر پر پڑا مل گیا۔ اس شخص کی حالت سے پتا چل رہا تھا کہ وہ کوئی نشئی ہے۔ اس کو چند ہلکی چوٹیں آئی تھیں، کیونکہ اس وقت گاڑی کی رفتار زیادہ تیز نہیں تھی۔نرس نے اس کی مرہم پٹی کر دی تھی اور اسے جانے کا کہہ دیا تھا۔ وہ بدستور بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
زمان اس کے پاس چلا گیا اور بولا۔ ’’وہ کہاں گئے جو تمہیں یہاں لائے تھے؟‘‘
’’مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ اس نے جواب دیا اور زمان کا جائزہ لینے لگا۔
’’بڑا افسوس ہوا تمہیں چوٹیں بھی آئیں اور ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔‘‘ زمان نے افسوس کا اظہار کیا۔
اس آدمی نے زمان کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘
’’میں وہاں کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔ اس امیرزادی کو تو کچھ پیسے دینے چاہئے تھے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے تاسف سے سر ہلایا۔
’’کہو تو میں تمہیں اس سے پیسے دلا دوں؟‘‘ زمان نے کہا۔
’’تم کیسے دلا دو گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میں اس امیرزادی کو جانتا ہوں۔ میں تمہیں اچھے خاصے پیسے دلا دوں گا۔‘‘ زمان نے کہا۔
اس کی آنکھوں میں چمک اُبھر آئی۔ ’’میرا حق تو بنتا ہے۔ دیکھیں مجھے کتنی چوٹیں آئی ہیں۔‘‘
’’خیر چوٹیں تو اتنی نہیں آئیں اس کے باوجود میں تمہیں پیسے دلا سکتا ہوں، تمہیں ایک کام کرنا ہوگا۔ یہ ظاہر کرو کہ چل نہیں سکتے۔ تم شدید تکلیف میں ہو۔‘‘ زمان نے سمجھایا۔
’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا نام لیاقت ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’میرا نام عادل ہے۔‘‘ زمان بولا۔ ’’دیکھو تم خود کو تکلیف میں مبتلا کر لو۔ میں نرس کو لے کر آتا ہوں۔‘‘ زمان یہ کہہ کر نرسنگ روم کی طرف چلا گیا۔
تھوڑی دیر کے بعد زمان اپنے ساتھ ایک نرس کو لے کرآگیا۔ نرس کو دیکھتے ہی لیاقت نے تکلیف سے چلانا شروع کر دیا۔
’’یہ بہت تکلیف میں ہے۔ مجھے لگتا ہے کوئی اندرونی چوٹ آئی ہے۔ ایکسرے ہو جائیں تو معاملہ صاف ہو جائے گا۔ آپ اسے ایک دو دن کے لئے اسپتال میں داخل کر لیں۔‘‘ زمان نے کہا۔
نرس منہ بنا کر واپس چلی گئی۔ زمان اس کے پیچھے گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی، وہ اس کے پاس آکر بولا۔ ’’تم اسپتال میں داخل ہوگئے ہو۔ اگر میرے ساتھ کوئی آیا تو تم اس طرح تکلیف میں مبتلا کر لینا کہ تمہیں دیکھنے والا یقین کر لے کہ تم شدید تکلیف میں ہو۔‘‘
لیاقت نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ کچھ دیر کے بعد لیاقت کو جنرل وارڈ میں منتقل کر دیا اور زمان وہاں سے چلا گیا۔
٭…٭…٭
دُوسرے دن آفس میں جب وجاہت حسین اپنے کمرے میں گیا تو تھوڑی دیر کے بعد زمان نے وجاہت حسین کی سیکرٹری سے کہا کہ اُسے باس سے ضروری بات کرنی ہے۔ وجاہت حسین نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی۔
’’کیا ضروری بات کرنی ہے؟‘‘ وجاہت حسین نے پوچھا۔
’’رات ایک حادثہ ہوا تھا۔ آپ کی بیٹی کی گاڑی سے ایک شخص ٹکرا گیا تھا۔ اس وقت وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہے۔‘‘ زمان نے بتایا۔
اس کی بات سن کر وجاہت حسین کے چہرے پر حیرت برسنے لگی۔ ’’یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟‘‘
’’یہ بات آپ کے علم میں نہیں آئی کیا؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’صبح ناشتے کی میز پر الماس سے میری ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘ وجاہت حسین پریشان ہو گیا تھا۔
’’اتفاق سے میں وہاں موجود تھا۔ کچھ لوگوں نے ان کی گاڑی کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ میں نے ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر مس الماس کی گاڑی وہاں سے نکال دی تھی۔ انہوں نے گاڑی کا نمبر اورموبائل فون سے ویڈیو بھی بنائی تھی، میں اسپتال گیا تھا وہاں زخمی کو دیکھ کر آیا ہوں۔ وہ موت اور زندگی کی کشمکش میں ہے۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’وہ لوگ پولیس تک تو نہیں گئے؟‘‘ وجاہت حسین کی تشویش دوچند ہوگئی تھی۔
’’میں نے ان کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ میں اس فیملی کو جانتا ہوں، اس لئے افہام و تفہیم سے معاملہ ختم کرانے کی کوشش کروں گا۔ لیکن وہ لوگ بضد ہیں کہ ہم مس الماس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ میں نے ان سے آج دوپہر تک کا وقت لیا ہے۔ آپ کا فون نمبر میرے پاس نہیں تھا، ورنہ میں آپ سے اسی وقت رابطہ کرلیتا۔‘‘ زمان نے بڑی عیّاری سے بات کی۔
وجاہت حسین ایک بزنس مین تھا۔ وہ پیسہ کمانا جانتا تھا، پیسے کے لئے پریشان ہونا جانتا تھا۔ وہ ان بکھیڑوں میں کبھی پڑا تھا اور نہ اس کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ ان چکروں میں اپنا وقت برباد کرے۔
’’میں اپنے وکیل سے بات کر تاہوں۔‘‘ وجاہت حسین نے اپنا ہاتھ انٹرکام کی طرف بڑھایا۔
’’سر وکیل تک بات پہنچانے سے بہتر ہے کہ ہم اس معاملے کو یہیں ختم کر دیں۔ اس معاملے میں وکیل آئے گا تو وہ لوگ بھی وکیل لے آئیں گے۔ پھر مس الماس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی اور معاملہ عدالت میں چلا جائے گا۔ ایک نئی ٹینشن کھڑی ہو جائے گی۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص مر جائے اور معاملہ مزید گھمبیر ہو جائے، آپ اس شخص سے خود بات کر لیں جو اس معاملے کو زیادہ اُچھال رہا ہے اور چوہدری بنا ہوا ہے۔‘‘ زمان نے کہا۔
وجاہت حسین بولا۔ ’’میں الماس سے بات کر لوں کہ اس نے مجھے اتنی بڑی بات کیوں نہیں بتائی۔‘‘
وجاہت حسین نے اپنے موبائل فون سے الماس کا نمبر ملایا اور رابطہ ہوتے ہی بولا۔ ’’الماس رات کوئی حادثہ ہوا تھا؟‘‘
’’پپا کیا پولیس آئی ہے؟‘‘ ایک دَم الماس نے پوچھا۔
’’نہیں پولیس نہیں آئی۔ مجھے زمان نے بتایا ہے۔‘‘ وجاہت حسین نے جلدی سے کہا۔
’’پپا حادثہ اچانک ہو گیا تھا۔ میں ساری رات نہیں سوسکی۔ میں بہت ڈری ہوئی ہوں۔‘‘ الماس نے کہا۔
’’تم ٹینشن مت لو۔ ایسی کوئی بات ہوئی تھی تو مجھے بتا دیتیں اور اگر وہاں زمان نہ ہوتا تو مجھے کیسے پتا چلتا۔‘‘ وجاہت حسین بولا۔
’’وہاں میری گاڑی ان لوگوں نے روک لی تھی اور زمان اختر نے میری گاڑی وہاں


نکلوائی تھی۔‘‘ الماس نے بتایا۔
’’تم فکر مت کرو۔ پرسکون رہو۔ اس کا ذکر اب کسی سے مت کرنا۔ میں کچھ کرتا ہوں۔‘‘ وجاہت حسین نے فون بند کرکے ایک نظر زمان کی طرف تعریفی نگاہوں سے دیکھا اور بولا۔ ’’اب کیا کرنا ہے؟‘‘
’’سر اسے کچھ دے دلا کر چپ کرا دیتے ہیں۔ زخمی کا علاج کسی اچھے اسپتال میں کرا دیتے ہیں۔ بس دُعا کریں کہ وہ زندہ بچ جائے۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے میں کچھ بااثر دوستوں کو کال کرتا ہوں۔‘‘ وجاہت حسین بولا۔
’’سر جیسا آپ چاہیں لیکن اگر آپ مجھ پر اعتماد کریں تو میں یہ سارا معاملہ رازداری سے ختم کرانے کی کوشش کروں گا۔ میں نے سوچا ہے کہ اگر وہ لوگ نہ مانے تو بجائے اس کے کہ ہم کسی دُوسرے کی مدد لیں، میں خود پولیس اسٹیشن چلا جائوں گا اور وہاں اقرار کر لوں گا کہ رات میری گاڑی سے ایک شخص ٹکرا گیا تھا۔ میں اپنے آپ کو آپ کا ڈرائیور ظاہر کر دوں گا۔ آپ کی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دوں گا۔‘‘ زمان نے کہا۔
زمان کی بات سن کر وجاہت حسین اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ ’’تم اتنی بڑی قربانی دینے کو تیار ہو؟‘‘
’’سر آپ کا نمک کھایا ہے۔ نمک حرامی نہیں کروں گا۔‘‘ وہ بولا۔
’’آج تم نے میرا دل جیت لیا۔ ایسی بات شاید میرا کوئی سگا رشتے دار بھی نہ کرتا۔ میں تمہیں پورا اختیار دیتا ہوں کہ تم اس معاملے کو جیسے چاہو حل کرو۔ جتنا پیسہ ان کے منہ میں ٹھونسنا چاہو ٹھونس دو کہ ان کے منہ نہ کھل سکیں۔‘‘
’’میں ابھی جاتا ہوں سر… اگر وہ نہ مانے اور انہوں نے پیسہ لینے سے انکار کر دیا تو میں سیدھا پولیس اسٹیشن چلا جائوں گا اور اعترافی بیان دے کر خود کو پولیس کے حوالے کر دوں گا، بس سر آپ پولیس کے پوچھنے پر یہ بتا دیجئے گا کہ میں آپ کا ڈرائیور ہوں۔‘‘ زمان نے کہا۔
وجاہت حسین بولا۔ ’’پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا ہوا تو میں تمہارے لئے اپنا بڑا وکیل کھڑا کر دوں گا۔‘‘
’’شکریہ سر… آپ میرے ساتھ چلیں گے ان کے پاس؟‘‘ زمان نے کہا۔
’’میرا خیال ہے کہ تم اکیلے ہی معاملہ طے کرنے کی کوشش کرو اور اس کے بعد جو ہو مجھے بتا دینا۔‘‘
’’بہتر سر۔‘‘ زمان کہہ کر باہر جانے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ وجاہت حسین نے اسے روک کر کہا۔ ’’میں اکائونٹینٹ سے بول دیتا ہوں۔ تم اس سے دو لاکھ روپیہ لے جائو۔ مزید پیسوں کی ضرورت ہوگی تو مجھے کال کر دینا۔‘‘
وجاہت حسین نے پہلے اکائونٹینٹ کو ہدایت دی اوراس کے بعد اس نے اپنا ذاتی موبائل فون نمبر دے دیا۔
زمان باہر گیا۔ اس نے اکائونٹینٹ سے دو لاکھ روپے لے کر اپنی جیب میں ڈالے اور دفتر سے باہر نکل گیا۔
٭…٭…٭
لیاقت اسے دیکھتے ہی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی اُمید تھی جیسے ابھی زمان جیب سے پیسے نکال کر اسے تھما دے گا۔
’’ابھی ڈاکٹر سے مل کر آ رہا ہوں۔ اس نے بتایا ہے کہ تم بالکل ٹھیک ہو اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ چھٹی دے رہے ہیں۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’میں یہاں لیٹ کر کون سا خوش ہوں۔ یہ بتائو ان لوگوں سے بات ہوئی؟‘‘
’’ان سے بات ہوئی تھی۔ وہ بڑے عجیب لوگ ہیں۔ ان کو کسی چیز کا ڈر خوف نہیں ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ اگر وہ زندہ ہے تو پھر خود آ کر مار دیتے ہیں۔‘‘
’’ارے وہ کیوں؟‘‘ لیاقت ایک دَم خوفزدہ ہو گیا۔
’’تاکہ تمہارا قصہ ہی ختم ہو جائے۔ ان لوگوں کے پاس پیسہ ہے۔ وکیلوں کی فوج ہے۔ انہیں کوئی پروا نہیں ہے۔ اس لئے میں تمہیں ڈسچارج کرانے جا رہا ہوں۔‘‘ زمان نے اتنا کہہ کر اس کی فائل اُٹھائی۔ اسے ڈسچارج کرایا اور اس کا بازو پکڑ کر باہر آیا۔ باہر آ کر اس نے پچاس کا نوٹ اس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’جوس پی لینا۔‘‘
لیاقت پچاس روپے لے کر برا بھلا کہتا ہوا ایک طرف چل دیا۔ زمان نے مسکرا کر اسے جاتے ہوئے دیکھا اور اپنی بائیک پر گھومتا رہا اور کافی وقت گزارنے کے بعد وہ آفس پہنچ گیا۔
وجاہت حسین ایک میٹنگ میں مصروف تھا لیکن اس کا دھیان مسلسل زمان کی طرف تھا۔ کئی گھنٹے ہوگئے تھے اور زمان نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ جونہی وجاہت حسین کو زمان کے آنے کا پتا چلا اس نے فوراً میٹنگ ختم کی اور تھوڑی دیر کے بعد ہی زمان کو اندر بلا لیا۔
’’میں بہت بے چین تھا۔ الماس کا کئی بار فون آ چکا تھا۔‘‘ وجاہت حسین نے اپنی بے
چینی کا اظہار کیا۔
’’میں آپ سے رابطہ کرنا چاہتا تھا لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، کیونکہ وہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھے کہ الماس بی بی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانی ہے۔ میں نے ان کی بہت منت سماجت کی اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ میں اکیلا تھا اور وہ ایک درجن کے قریب تھے۔ میں نے ان کے سرغنہ کو لالچ بھی دیا لیکن وہ نہیں مانا۔ تب میں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ جو کچھ کرنا چاہو کر لو اور میں اُٹھ کھڑا ہوا۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟‘‘
’’جب انہوں نے میرے تیور دیکھے تو ان کے سرغنہ کا رویہ ایک دَم بدل گیا۔ وہ مجھے بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔ اس نے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی اور کہا کہ وہ قصہ یہیں ختم کرا دے گا۔ میں فیصلہ کر چکا تھا کہ یہاں سے سیدھا تھانے جائوں گا اور اپنا اعترافی بیان دے کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دوں گا۔ میں اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا اور اس کی پروا کئے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ میں سیدھا اسپتال گیا۔ وہاں دیکھا کہ وہ آدمی ہوش میں تھا۔ اس کے لواحقین اس کے پاس کھڑے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ میری کار سے ٹکرایا تھا۔ آپ چاہیں تو مجھے پولیس کے حوالے کر سکتے ہیں۔‘‘
’’اچھا پھر؟‘‘
’’اس آدمی کی حالت خطرے سے باہر تھی اور میں اس کے رشتے داروں کے سامنے مجرم کی طرح کھڑا تھا۔ تب انہوں نے مجھے معاف کر دیا۔ میں نے اس شخص کو علاج معالجے کے لئے پیسے دینے چاہے لیکن انہوں نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ ‘‘زمان نے یہ کہہ کر جیب سے دو لاکھ روپے نکالے اور وجاہت حسین کی میز پر رکھ دیئے۔
وجاہت حسین کبھی میز پر پڑے دو لاکھ روپے کو دیکھ رہا تھا اور کبھی اس کی نظر زمان پر چلی جاتی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ زمان کتنا ایماندار اور نمک حلال شخص ہے۔ اس نے اس کی بیٹی کی جان بچانے کے لئے خود کو قانون کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ اس کی کمپنی کا ایک معمولی ملازم ہے اور اگر وہ آ کر یہ کہہ دیتا کہ دو لاکھ روپے اس نے زخمی کو علاج کے لئے دے دیئے ہیں اور وہ روپے خود رکھ لیتا تو مجھے کیسے پتا چلتا؟ میں اس کی بات پر یقین کرلیتا۔
’’سر اجازت ہو تو میں اپنی سیٹ پر جائوں؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
وجاہت حسین چونکا۔ ’’تم نے مجھے آج خرید لیا ہے۔‘‘
’’آپ ایسا مت کہیں سر… میں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ تو بس میرے ماں باپ کی تربیت کا اثر ہے جو انہوں نے مجھے دی ہے۔‘‘
’’میں تمہارے والدین سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’سر وہ دونوں حیات نہیں ہیں۔ میں اکیلا ہی ہوں۔‘‘
’’اوہ… بہرحال تمہارے والدین کی بہترین تربیت ہے۔ تمہارا دل لالچ سے پاک ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ تم میری کمپنی میں کام کرتے ہو۔‘‘ وجاہت حسین بہت خوش تھا۔
’’سر میری کوشش تھی کہ میں آپ لوگوں کے کام آئوں۔‘‘ زمان کے لہجے میں عاجزی تھی۔
وجاہت حسین نے دو لاکھ روپے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ دو لاکھ روپے اب تمہارے ہیں۔‘‘
’’نہیں سر… بالکل نہیں… میں ان میں سے ایک پیسہ بھی نہیں لوں گا۔‘‘ زمان نے انکار کر دیا۔
’’یہ تمہیں میں دے رہا ہوں۔ اس لئے ان پیسوں کو رکھ لو۔‘‘ وجاہت حسین نے نوٹ اس کی ہتھیلی پر رکھنے کی کوشش کی۔
زمان نوٹ پکڑ کر میز پر رکھتے ہوئے بولا۔ ’’سر آپ کے حکم سے انکار نہیں… میں نے لے لئے اور اب پھر واپس کر رہا ہوں۔ پلیز سر مجھے مجبورنہ کیجئے، میں یہ پیسے نہیں لوں گا۔ میں نے آپ لوگوں کی مدد پیسوں کے لئے نہیں کی تھی۔‘‘ زمان کے چہرے پر متانت آ گئی تھی۔
زمان کی اس بات نے وجاہت حسین کومزید متاثر کیا۔ ’’ٹھیک ہے…تمہارا شکریہ… اور مجھے شکریہ ادا کرنے سے منع مت کرنا، مجھے تم پر فخر ہے۔‘‘ وجاہت حسین بولا۔
’’میری جان بھی آپ کے لئے حاضر ہے سر… اب میں اپنی سیٹ پر جائوں؟‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے۔ تم اپنی سیٹ پر جائو۔‘‘ وجاہت حسین نے اجازت دے دی، زمان کمرے سے چلا گیا۔
اسی وقت وجاہت حسین کا فون بجنے لگا۔ اس نے فون کان سے لگایا تو دُوسری طرف الماس کی گھبرائی ہوئی آواز تھی۔ ’’پپا کیا ہوا…؟‘‘
’’سب ٹھیک ہو گیا ہے۔‘‘
’’کیسے ٹھیک ہو گیا پپا؟‘‘
’’تم فکر کرنی چھوڑ دو۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔ رات کو بات کریں گے۔‘‘ وجاہت حسین نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
٭…٭…٭
الماس سب کچھ سُن کر دَم بخود وجاہت حسین کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس دور میں بھی ایسا ایماندار نوجوان ان کی کمپنی میں
موجود ہے جس نے بغیر کسی لالچ کے اس کی جان بچانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا اور جب سارا معاملہ حل ہوگیا تو اس نے ایک پائی بھی نہیں لی تھی۔
’’آپ ایک کام کریں۔‘‘ الماس کچھ سوچنے کے بعد بولی۔
’’کیا کروں؟‘‘ وجاہت حسین اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’اس نے انعام میں کچھ نہیں لیا تو آپ اس کی ترقی کر دیں۔ تنخواہ بڑھا دیں اور کچھ مراعات بھی دے دیں۔‘‘ الماس نے تجویز دی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وجاہت حسین نے سوچتے ہوئے گردن ہلائی۔ ’’کل سب سے پہلا کام یہی کروں گا۔‘‘
٭…٭…٭
دُوسرے دن وجاہت حسین نے ایک لیٹر تیار کرایا اور وہ لیٹر کچھ دیر میں زمان کی میز پر پہنچ گیا۔ زمان نے لیٹر کھول کر پڑھا اور پڑھنے کے بعد وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا اور پھر دُوسرے ہی لمحے اس کے چہرے پر متانت آ گئی۔ اس نے استعفیٰ لکھا اور متعلقہ شخص کو پہنچا دیا۔
اس شخص نے ریزائن وجاہت حسین کے سامنے رکھ دیا۔ وجاہت حسین نے حیرت سے اسے پڑھا اور فوراً زمان کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہ میرا ریزائن ہے سر۔‘‘ زمان نے جواب دیا۔
’’میں تمہیں اس کمپنی میں ترقی دے رہا ہوں اور تم ریزائن دے رہے ہو؟ یہ میرے لئے حیران کن بات ہے۔‘‘ وجاہت حسین نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سر… مجھے جو ترقی مل رہی ہے وہ میری قابلیت کی وجہ سے نہیں مل رہی بلکہ یہ اس کام کا انعام ہے جو میں نے آپ کے لئے کیا تھا۔‘‘ زمان کے چہرے پر متانت تھی۔
زمان کا جواب سن کر وجاہت حسین کی حیرت مسکراہٹ میں تبدیل ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں چمک اُبھری آئی۔ اس نے کہا۔ ’’بیٹھ جائو۔‘‘
زمان سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ توقف کے بعد وجاہت حسین نے کہا۔ ’’میں ایک کمپنی بنا رہا ہوں جس کا نام ہے الماس بوتیک، الماس کی کمپنی میں خواتین کے ملبوسات تیار ہوں گے اور الماس بوتیک کی چین پہلے اس شہرمیں شروع ہوگی اور پھر ہم اسے دُوسرے شہروں تک پھیلا دیں گے۔ اس کمپنی کو الماس خود ہینڈل کرے گی۔‘‘ وجاہت حسین اتنا کہنے کے بعد چپ ہوگیا۔ زمان خاموشی سے سنتا رہا تھا۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد وجاہت حسین نے پوچھا۔ ’’کیا تم الماس کے ساتھ مل کر وہ بزنس کرنا چاہو گے؟‘‘
’’سر مجھے تو کام کرنا ہے اور جو کچھ کرنا ہے وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر کرنا ہے۔‘‘ زمان بولا۔
وجاہت حسین نے زمان کی طرف جھک کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’تم ایماندار ہو اور میری خواہش ہے کہ تم الماس کے ساتھ مل کر کام کرو… میرے داماد بن کے۔‘‘
زمان نے چونک کر وجاہت حسین کی طرف دیکھا۔ اس کا دل خوشی سے جھوم اُٹھا۔ وہ کچھ ایسا ہی چاہتا تھا اور وہ سب آسانی سے اس کی جھولی میں آ گرا تھا۔ زمان نے اپنے اندر کی خوشی اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دی تھی۔ اس کے چہرے پر بدستور سنجیدگی تھی۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سر؟‘‘ زمان نے متحیر لہجے میں پوچھا۔
’’میں پورے ہوش و حواس میں بات کر رہا ہوں۔ یہ فیصلہ کرکے مجھے خوشی ہو رہی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ الماس سمیت میرے گھر کے کسی فرد کو اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘ وجاہت حسین نے پراعتماد لہجے میں کہا۔
’’سر آپ نے مجھے عجیب شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔‘‘ زمان نے تذبذب کے انداز میں اپنے ہاتھ ملے۔
’’تم ریلیکس ہو جائو اور رات کو ڈنر ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں کرو گے۔‘‘ وجاہت حسین نے مسکرا کر کہا۔
زمان یوں اُٹھا جیسے کسی سوچ میں مبتلا ہو اور کسی فیصلے تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ جونہی وہ وجاہت حسین کے کمرے سے باہر نکلا اس کا دل چاہا کہ وہ خوشی سے ناچنا شروع کر دے۔ وہ سب کے سامنے ایسی کوئی حرکت نہیں کر سکتا تھا اس لئے چپ چاپ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
٭…٭…٭
وجاہت حسین نے ساری بات اپنی بیوی غزالہ کو بتائی تو وہ حیرت سے زمان کی ایمانداری پر تو خوش ہوئی، لیکن اسے وجاہت حسین کے اچانک فیصلے پر حیرت ہوئی۔ غزالہ جانتی تھی کہ وجاہت حسین نے زندگی میں بڑے بڑے فیصلے کئے تھے، لیکن یہ فیصلہ الماس کی زندگی کے ساتھ جڑا ہوا تھا، اس لئے اسے کچھ شک تھا کہ شاید الماس کو اس پر اعتراض ہو۔
لیکن اس وقت سب کچھ صاف ہوگیا جب ساری حقیقت جان کر الماس نے بخوشی اس سے شادی کرنے کی ہامی بھر لی۔
زمان کے لئے گھر میں بہترین ڈنر تیار ہو رہا تھا۔ زمان نے اچھا سا سوٹ خریدا اور رکشہ میں بیٹھ کر اس عالیشان بنگلے میں پہنچ گیا۔
زمان تقریباً آدھا


گھنٹے تک وجاہت حسین اور غزالہ کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ دونوں اس کی سعادت مندی اور بہترین انداز گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ کھانے کی میز پر الماس بھی آ گئی۔ کھانے کے دوران بھی باتیں ہوتی رہیں اور ان باتوں کے دوران زمان اور الماس کی نگاہیں بھی ٹکراتی رہیں۔ رات گئے زمان کو جانے کی اجازت ملی۔ پھر ایک شام زمان اور الماس کی چند مہمانوں کی موجودگی میں منگنی ہوگئی اور اس منگنی کے دو ہفتوں کے بعد زمان اور الماس کی شادی طے تھی۔
شادی کے بعد زمان بہت خوش تھا۔ وجاہت حسین نے انہیں ایک الگ گھر دے دیا تھا۔ زمان اور الماس کی رُخصتی ہوئی تو وہ سیدھے اس گھر میں چلے گئے جو الماس کی ملکیت تھا۔ زمان نے گھر کے اندر جا کر، پہلے گھر کو اچھی طرح دیکھا، پھر مہنگی کار پر ہاتھ پھیرا اور کمرے میں چلا گیا۔
الماس دُلہن بنی بیٹھی تھی۔ زمان نے الماس کی طرف دیکھ کر اپنے دل میں کہا۔ ’’ساری زندگی تمہارے ساتھ گزاروں گا اور ہر عیش و آرام تمہارے ذریعے حاصل کروں گا اور کبھی تمہیں شک نہیں ہونے دوں گا کہ میرے دل میں کیا ہے۔ تمہیں اپنے دل کی رانی بنا کر رکھوں گا لیکن دیمک کی طرح تمہارے باپ کی دولت چاٹتا رہوں گا اور اپنے ماضی کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ کر تمہارے باپ کے دولت کے کنویں سے اپنا خالی کنواں بھرتا رہوں گا۔‘‘
زمان دل ہی دل میں اپنا عہد دُہرا کر مسکراتا ہوا الماس کی طرف بڑھا۔
٭…٭…٭
الماس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کا شوہر اس سے اتنی محبت کرتا ہے۔ شادی کے چند دنوں میں زمان نے الماس کا دل جیت لیا تھا۔ وہ اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہتا تھا۔ وہ الماس کا اتنا خیال رکھتا تھا کہ اسے اپنے آپ پر رشک آنے لگتا تھا۔ زمان کی چاہت کے قصے الماس کے گھر والوں تک بھی پہنچ گئے تھے، وہ بھی خوش تھے کہ زمان کی شکل میں انہیں بے انتہا شریف داماد مل گیا ہے۔
ایک دن رات کے وقت دونوں ٹیرس پر بیٹھے تھے۔ تاروں بھرا آسمان تھا اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ ستمبر کا مہینہ تھا۔ زمان نے الماس کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ باتوں باتوں میں اچانک اندھیرے کا ذکر چھڑا تو الماس نے بتایا۔ ’’مجھے اندھیرے سے بہت خوف آتا ہے۔ اندھیرے میں میرا دَم گھٹنے لگتا ہے۔ میرا دل اتنی تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے کہ جیسے ابھی پھٹ جائے گا۔ میں اپنے کمرے میں ٹارچ روشن کر کے سوتی تھی، ٹارچ کے ساتھ زیرو پاور کا بلب بھی روشن ہوتا تھا۔‘‘
’’پھر ٹارچ کیوں جلاتی تھیں؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’اس خوف سے کہ اگر رات کو بجلی بند ہوگئی تو میرے کمرے میں اندھیرا نہ ہو جائے۔‘‘ الماس نے بتایا۔
زمان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اُبھری۔ وہ بولا۔ ’’اتنا ڈرتی ہو اندھیرے سے؟‘‘
’’آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے کہ میں کتنا ڈرتی ہوں۔ ڈیڈی نے میرے لئے کمرے میں الگ یو پی ایس لگوا کر دیا تھا۔ پھر بھی میں ٹارچ روشن کر کے سوتی تھی۔‘‘
’’اب تو تم نے سوتے ہوئے کمرے میں کبھی ٹارچ روشن نہیں کی۔‘‘
’’اب آپ جو میرے ساتھ ہوتے ہیں۔‘‘
’’اچھا کیا تم نے مجھے بتا دیا۔ میں اندھیرے میں اب تمہارے ساتھ ٹارچ کی طرح روشن رہا کروں گا۔‘‘ زمان محبت بھرے انداز میں بولا۔
’’اندھیرے میں ڈرنے کی بات میرے گھر والوں کے علاوہ اب صرف آپ کو پتا ہے۔‘‘ الماس بولی۔
زمان نے الماس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
٭…٭…٭
رات کا لباس بدلنے کے لئے الماس باتھ رُوم میں چلی گئی تو زمان تیزی سے اپنی جگہ سے اُٹھا اور اس نے الماری کی دراز کھولی۔ اندر کچھ کاغذات کے علاوہ بینکوں کی چیک بکس پڑی تھیں۔ زمان نے دیکھا کہ دونوں اکائونٹس الماس کے نام پر تھے۔ چیک بکس کے ساتھ کریڈٹ اور اے ٹی ایم کارڈز بھی موجود تھے۔ زمان سوچنے لگا کہ اسے کسی طرح ایک چیک سائن کرا لینا چاہئے۔ شادی کے بعد وجاہت حسین نے اسے آفس میں آنے سے منع کر دیا تھا۔ یہ کہا تھا کہ وہ اب الماس کے ساتھ مل کر کاروبار سنبھالے۔
شادی ہوئے دس دن ہوگئے تھے۔ ابھی الماس نے بھی اپنے کاروبار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ زمان نے سوچا کہ وہ الماس سے کاروبار کی بات کرے تاکہ کوئی چیک سائن کرا کے وہ رقم اپنے اکائونٹ میں منتقل کرا سکے۔
جب الماس اس کے پاس آئی تو زمان نے بات شروع کی۔ ’’الماس ہم اپنا کاروبار شروع کرنے والے تھے؟‘‘
’’بہت سا کام مکمل ہوچکا ہے، بس تھوڑا سا باقی ہے
مکمل ہونے میں شاید تین دن لگ جائیں، اس کے بعد بزنس شروع ہو جائے گا۔‘‘ الماس نے بتایا۔
’’کام ہو رہا ہے کہ رُکا ہوا ہے؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’میرے نہ جانے کی وجہ سے رُکا ہوا ہے۔‘‘ الماس نے کہا۔
’’کام کیوں روکا ہوا ہے؟ مجھے بتائو میں کل سے وہ کام شروع کرا دوں۔‘‘ زمان جلدی سے بولا۔
’’میں اس لئے ذکر نہیں کر رہی تھی کہ ہماری ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ آپ کہیں میرے کہنے پر برا نہ مان جائیں۔‘‘ الماس نے کہا۔
’’میں کام کرنے والا آدمی ہوں۔ بیکار بیٹھنا میرے لئے مشکل ہے۔ ہماری شادی ہوچکی ہے، ہم نے گھر میں بہت سا وقت گزار لیا، اب ہم کل سے کام شروع کر رہے ہیں۔‘‘ زمان نے فیصلہ سنایا۔
الماس مسکرائی۔ ’’میں سوچ رہی تھی کہ آپ سے کیسے بات کروں۔ آپ نے میری مشکل آسان کر دی۔ ہم کل سے دفتر جائیں گے۔‘‘
’’جتنی جلدی ہو سکتا ہے، کام مکمل کراتے ہیں اور پھر بزنس شروع کرتے ہیں۔‘‘ زمان مسکرایا تو الماس بھی مسکرا دی۔
٭…٭…٭
وہ جگہ شہر کے پوش علاقے میں تھی جہاں ’الماس بوتیک‘ کی خوبصورت عمارت کھڑی تھی۔ زمان اور الماس صبح سے اس جگہ پر موجود تھے۔ زمان ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خوش تھا کہ اب اسے کسی غبن، یا بے ایمانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی قسمت بدل چکی ہے۔ اس کی سوچ میں تغیر آ گیا تھا۔ اب اسے کوئی چیک سائن کرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ مسلسل یہاں آرہا تھا اور اپنی نگرانی میں کام کرا رہا تھا۔
ایک شام جونہی وہ گاڑی میں بیٹھ کر کچھ آگے گئے تو اچانک لیاقت ان کی گاڑی کے سامنے آ گیا۔ زمان کو فوراً بریک لگانا پڑا۔ زمان نے نشئی لیاقت کی طرف دیکھا تو وہ ایک لمحے کے لئے پریشان ہو گیا کہ یہ اچانک کیسے آ گیا۔ اس نے لیاقت کو سامنے سے ہٹانے کے لئے ہارن دینا شروع کر دیئے۔ لیکن لیاقت اپنی جگہ جما کھڑا رہا۔
’’یہ سامنے سے ہٹ کیوں نہیں رہا۔‘‘ الماس اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔ اس نے لیاقت کو پہچانا نہیں تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو اس کی گاڑی سے ٹکرایا تھا۔
’’ان کے مانگنے کے طریقے ہیں۔ میں باہر نکل کر دیکھتا ہوں۔‘‘ زمان جونہی باہر نکلا۔ الماس نے اپنی طرف کا شیشہ تھوڑا سا نیچے کر لیا۔
’’کیوں سامنے کھڑے ہو؟‘‘ زمان نے رعب سے پوچھا۔
’’تین دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم اس لڑکی کے ساتھ یہاں آ رہے ہو۔ یہ وہ لڑکی ہے جس نے مجھے ٹکر ماری تھی اور تم نے مجھے اسپتال میں کیا کہا تھا؟‘‘ لیاقت بولا تو زمان گھبرا گیا۔ لیاقت کی آواز صاف الماس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔
’’چلو یہاں سے دفع ہو جائو۔‘‘ زمان نے سختی سے کہا۔
’’عادل صاحب… یہی نام بتایا تھا نا تم نے مجھے…؟ اسپتال میں کہا تھا کہ وہ امیرزادی ہے اور تم مجھے اس سے پیسے لے دو گے اور تم نے خود مجھے اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ پھر دُوسرے دن مجھے اسپتال سے چلتا کر دیا۔ یہ تمہاری بیوی تھی یا تم نے بعد میں شادی کی؟‘‘
’’کیا بکواس کر رہے ہو چلو جائو یہاں سے۔‘‘ زمان نے اسے ڈانٹا۔
’’مجھے شک تھا کہ تم اپنی لائن سیدھی کر رہے ہو۔ کل یہاں مجھے شبیر بھائی بھی ملا تھا۔ میرا جاننے والا ہے۔ نشہ پانی اسی کے بندوں سے لیتا ہوں۔ اس نے تمہیں دیکھا تو بولا کہ بڑا لمبا ہاتھ مارا ہے اس لٹیرے نے۔‘‘ لیاقت کہہ کر ہنسا۔ ’’شبیر بھائی تمہارے بارے میں سب جانتا ہے۔‘‘
’’تم نشے میں ہو۔ پتا نہیں کیا کہہ رہے ہو چلو بھاگو اور راستہ چھوڑو۔‘‘ زمان نے اسے ایک طرف دھکا دیا۔
’’شبیر بھائی نے مجھے بتایا کہ اسی نے تمہیں اس کمپنی میں نوکری دلائی تھی۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ پنجاب کی پولیس تمہیں تلاش کر رہی ہے۔ اب تو مجھے یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ تمہارا نام عادل نہیں زمان ہے۔‘‘ لیاقت کہہ کر پھر ہنسا۔
زمان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہ تذبذب میں تھا۔ اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ہزار کا نوٹ نکال کر اس کی مٹھی میں رکھتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی یہ لو اور یہاں سے نکلو… پھر اور بھی دوں گا۔‘‘
’’پکا وعدہ؟‘‘ لیاقت نے کہا۔
’’ہاں… ابھی نکلو۔‘‘ زمان نے کہا۔ لیاقت ایک طرف ہٹ گیا۔ زمان واپسی اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ ’’یہ بھیک مانگنے والے ہماری جیب میں پڑا مال اپنا ہی سمجھتے ہیں۔ اتنے ضدی اور چال باز ہیں کہ بندا بے بس ہو جاتا ہے۔‘‘
زمان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ الماس چپ بیٹھی
رہی۔ زمان نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو اس کی نگاہ کچھ نیچے ہوئے شیشے پر پڑی تو وہ سمجھ گیا کہ الماس نے ان دونوں کی بات سن لی ہے۔
گاڑی آگے گئی تو زمان نے کچھ ظاہر کئے بغیر مسکرا کر پوچھا۔ ’’الماس… کیا سوچ رہی ہو؟‘‘
الماس نے زمان کی طرف دیکھا اور بولی۔ ’’کچھ نہیں بس ایسے ہی۔‘‘
زمان کے بارے میں جان کر اسے دُکھ ہوا تھا۔ اعتماد میں دراڑ آ گئی تھی۔ اس کا دِل گھبرانے لگا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی بات وہ ڈیڈی کو بتائے گی تاکہ انہیں بھی اس کی حقیقت کا پتا چل جائے کہ زمان نے ایمانداری دکھانے کے لئے پوری بے ایمانی سے کام کیا تھا۔
زمان تیز طرار شخص تھا۔ اس کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ الماس نے سب سن لیا ہے وہ ان باتوں کا ذکر اپنے باپ سے ضرور کرے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو اس کے بارے میں تحقیق شروع ہو جائے گی، اس طرح اس کا ماضی اسے لے ڈوبے گا۔ (جاری ہے)