Serhi | Episode 2

466
زمان ایسا نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ الماس نے ایک دم اپنے چہرے کی متانت معدوم کی اور مسکرا کر بولی۔ ’’مما کی طرف چلیں…؟‘‘
’’ابھی…! اس وقت…؟‘‘ زمان نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔
’’تو کیا ہوا، ابھی تو سات بجے ہیں۔ آج ڈنر مما کی طرف کرتے ہیں۔‘‘ الماس نے کہا۔
’’کیا خیال ہے ہم کل نہ چلیں مما کی طرف… آج ہم گھر پر ہی ڈنر کرلیتے ہیں؟‘‘ زمان نرم لہجے میں بولا۔
’’میرا دل چاہ رہا تھا مما کی طرف جانے کو!‘‘ الماس اداس سی ہوگئی۔ اسے زمان سے خوف آنے لگا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ گھر جاکر مما کو فون کردے گی کہ فوراً ڈرائیور بھیج دیں، وہ ان کے پاس آنا چاہتی ہے۔ ’’چلیں ٹھیک ہے۔ ہم کل چلیں گے۔‘‘
زمان مسکرایا اور اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ گھر پہنچ کر دونوں بیڈ روم میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد الماس اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ زمان نے دیکھا کہ وہ اپنا موبائل فون بھی ساتھ لے گئی ہے۔
زمان کمرے سے باہر نکلا اور تیزی سے کچن کی طرف بڑھا۔ الماس فون کان سے لگائے دوسری طرف منہ کئے کھڑی تھی۔ اس کی مما کے فون پر بیل جارہی تھی۔
زمان نے کھنکھار کر اپنا گلا صاف کیا تو الماس نے ڈر کر اپنے عقب میں دیکھا اور ساتھ ہی اس نے کال کاٹ دی۔ ابھی دوسری طرف سے اس کی مما نے ’’ہیلو‘‘ کہا ہی تھا۔ الماس ڈر گئی تھی اور وہ متوحش نگاہوں سے زمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’کیا ہوا… کسے فون کررہی تھیں؟‘‘ زمان نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
’’وہ میں مما کو فون کررہی تھی۔‘‘
’’پہلے تو تم میرے سامنے ہی مما کو فون کرلیا کرتی تھیں۔ آج کیا ہوا، انہیں فون کرنے کے لئے تمہیں کچن میں آنا پڑا؟‘‘ زمان نے کہتے ہوئے نرمی سے الماس کے ہاتھ سے موبائل فون لے لیا۔
’’میں پانی پینے آئی تھی، سوچا مما کو فون کرلوں۔‘‘ الماس نے کہا۔ اس کے لہجے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔
اسی اثناء میں الماس کی مما غزالہ کا فون آگیا۔ زمان نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر الماس کو چپ رہنے کا اشارہ کیا اور فون آن کرکے اپنے کان سے لگا لیا۔
’’کیا بات تھی الماس! تم نے مجھے کال کی اور پھر کاٹ دی؟‘‘ دوسری طرف سے الماس کی ماں نے رابطہ ہوتے ہی پوچھا۔
’’آنٹی! میں بول رہا ہوں زمان…!‘‘ زمان نے مسکراتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا۔
’’کیسے ہو زمان…؟‘‘ غزالہ نے پوچھا۔
’’جی! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ دراصل الماس کے فون سے میں کال کررہا تھا۔ الماس چند دن آپ کے پاس رہنا چاہتی ہے۔‘‘
’’جب چاہے آجائے۔‘‘ غزالہ نے خوشدلی سے کہا۔
’’لیکن ایک مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے میں نے آپ کو فون کیا تھا۔‘‘ زمان نے کہا۔ الماس اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’کیا مسئلہ ہے…؟‘‘ غزالہ نے پوچھا۔
’’الماس کہتی ہے کہ میں ایک ہفتہ مما کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا تمہارے بغیر میرے لئے ایک پل گزارنا مشکل ہے۔ اگر تم ایک ہفتہ مما کے گھر رہو گی تو پھر میں بھی تمہارے ساتھ رہوں گا۔ الماس اس کے لئے مان نہیں رہی تھی تو میں نے آپ کو کال کردی۔ جونہی رابطہ ہوا، الماس نے کال کاٹ دی۔‘‘ زمان کی بات سن کر الماس حیرت سے زمان کو دیکھنے لگی۔
دوسری طرف سے الماس کی ماں کی ہنسی سنائی دی۔ ’’اس میں کیا مسئلہ ہے۔ تم دونوں آجائو اور جتنے دن یہاں رہنا چاہو، خوشی سے رہو۔‘‘
’’آنٹی! میرے لئے الماس کے بغیر رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ آپ الماس سے ذرا میری سفارش کردیں۔‘‘ زمان نے متانت سے کہا اور موبائل فون کا اسپیکر آن کرکے الماس کی طرف بڑھا دیا۔
’’ہیلو مما…!‘‘ الماس نے فون کان سے لگا کر کہا۔
’’الماس! تم کیوں روک رہی ہو؟ ویسے بھی زمان اکیلا گھر میں رہ کر کیا کرے گا۔ تم دونوں آجائو۔‘‘ الماس کی ماں بولیں۔
’’جی بہتر…!‘‘ الماس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے، اس لئے اس نے اتنا کہنے میں ہی اکتفا کیا۔
’’تو کب آرہے ہو تم دونوں…؟‘‘ غزالہ نے پوچھا۔
الماس نے ایک نظر زمان کی طرف دیکھا اور زمان نے اشارہ کیا کہ بتا دو کہ ہم کل آرہے ہیں۔ الماس نے کہا۔ ’’ہم کل آئیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ کل ڈنر یہاں کرنا، میں انتظار کروں گی۔‘‘ غزالہ نے کہا۔
فون بند ہوتے ہی زمان کے چہرے پر سختی آگئی اور اس نے پوچھا۔ ’’تم نے کیا سنا تھا؟‘‘
’’کک… کیا…؟‘‘ الماس
گھبرا گئی۔
’’تم نے کار میں بیٹھ کر کیا سنا تھا؟‘‘ زمان نے اس کی طرف دو قدم بڑھا کر پوچھا۔ الماس ڈر گئی۔ وہ اس کی طرف یک ٹک دیکھے جارہی تھی۔ زمان نے اسے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ ’’میں پوچھ رہا ہوں کہ تم نے کیا سنا تھا؟‘‘
’’آپ دونوں کی باتیں سنی تھیں۔‘‘ الماس نے سچ بتا دیا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ تم نے سب کچھ سن لیا تھا؟‘‘ زمان کو غصہ آگیا۔ ’’اس کمینے کو بھی اس وقت سامنے آنا تھا۔ یہ اچھا ہوا تھا کہ تم نے اپنی سائیڈ کا شیشہ بند نہیں کیا، ورنہ مجھے پتا ہی نہ چلتا کہ تم نے ہماری باتیں سن لی ہیں۔‘‘ زمان کی بات سن کر الماس کو احساس ہوا کہ اس سے بڑی غلطی ہوگئی تھی۔ اگر وہ شیشہ بند کرلیتی تو زمان کو شک نہ ہوتا اور وہ آسانی سے سب باتیں اپنے ڈیڈی تک پہنچا دیتی۔
زمان اس کے سامنے ٹہلتا رہا۔ پھر اس نے الماس کا بازو پکڑا اور اسے اپنے بیڈ روم میں لے گیا۔ اس نے الماس کو کرسی پر بٹھایا اور نرم لہجے میں بولا۔ ’’تم جان گئی ہو کہ میں کون ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم سب بھول جائو، سب کچھ اپنے دل میں دفن کرکے میرے ساتھ اسی طرح رہو جیسے ابھی چند گھنٹے پہلے میرے ساتھ تھیں۔‘‘
’’میں ایک بہروپئے کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔ آپ نے میرے ڈیڈی کو دھوکا دیا تھا۔ آپ دھوکے سے میرے شوہر بنے ہیں۔‘‘ الماس ہمت کرکے بولی۔
اس کی بات سن کر زمان کو غصہ آگیا لیکن اس نے اپنا غصہ برداشت کیا اور کوشش کی کہ وہ اپنے لہجے کو نرم رکھے۔ وہ بولا۔ ’’ایسا مت کہو۔ بہتر ہے کہ بھول جائو۔ اب میں اچھا انسان بن گیا ہوں۔‘‘
’’تم جھوٹے، مکار اور فریبی ہو۔ مجھے نفرت ہے، ہر اس انسان سے جو جھوٹ اور فریب کی سیڑھی پر چڑھ کر بلندی کو چھونا چاہتا ہے۔ تمہاری حقیقت مجھ پر کھل چکی ہے۔ اب تم اپنا اعتماد کھو چکے ہو۔‘‘
’’آپ سے تم پر آگئیں؟ اس کا مطلب ہے کہ اب تم مجھ سے نفرت کرنے لگی ہو۔ مجھے کچھ ایسا کرنے پر مجبور مت کرو کہ تمہیں پچھتانا پڑے۔‘‘
’’میں ابھی اور اسی وقت مما کے پاس جارہی ہوں۔‘‘ الماس اپنی جگہ سے اٹھی اور جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھی تو زمان نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور سانپ جیسی پھنکارتی آواز میں بولا۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ تم نہیں مانو گی۔ یہ بھی یاد رکھو کہ میں اپنا بھید کھلنے نہیں دوں گا، چاہے اس کے لئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔ تمہارے والدین کی نظر میں، میں ایک بہت اچھا داماد ہوں، میں ایک ایماندار شخص ہوں۔ میں خوددار ہوں۔ میں ان خوبیوں کو ختم نہیں ہونے دوں گا، کیونکہ تم سے شادی کرکے ابھی مجھے کچھ نہیں ملا۔ ایک کوڑی بھی نہیں…! میں ساری زندگی سونے کا انڈا کھانا چاہتا تھا اور تم میرا بھید کھولنے جارہی ہو؟‘‘
الماس سہمی ہوئی نگاہوں سے زمان کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ زمان پھر بولا۔ ’’اب جب سب ختم ہورہا ہے تو تم اپنی چیک بک نکالو اور تمام چیکوں پر اپنے سائن کردو۔‘‘
’’میں ایسا نہیں کروں گی۔‘‘ الماس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’تمہیں ایسا کرنا پڑے گا۔‘‘ زمان کا لہجہ درشت ہوگیا۔
’’نہیں… بالکل نہیں!‘‘ الماس بولی۔
زمان نے جو سوچا تھا، اس کے برعکس ہوگیا تھا۔ زمان کو لیاقت پر غصہ آرہا تھا۔ وہ اس کی سوچ سے بھی تیز نکلا تھا۔ زمان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ اس نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔ وہ ابھی تہی دست تھا۔
زمان نے الماس کا موبائل فون اٹھایا اور باہر نکل کر دروازہ باہر سے مقفل کردیا۔ الماس دروازہ کھولنے کے لئے چلانے لگی۔ زمان نے لائونج کا دروازہ بھی بند کردیا۔ بیڈ روم سے باہر گیٹ تک الماس کی آواز نہیں آرہی تھی۔ دونوں ملازم میاں، بیوی گیٹ سے ملحق سرونٹ روم میں موجود تھے۔ زمان کو گیٹ کی طرف آتا دیکھ کر مرد ملازم تیزی سے باہر نکلا اور بولا۔ ’’کسی چیز کی ضرورت ہے صاحب…؟‘‘
’’میں ذرا باہر چہل قدمی کرنے جارہا ہوں۔ الماس کے سر میں درد تھا، وہ لیٹ گئی ہے۔ میں نے لائونج کا دروازہ لاک کردیا ہے تاکہ غلطی سے بھی تم میں سے کوئی اندر نہ چلا جائے اور وہ ڈسٹرب ہوجائے۔ ادھر جانے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘ زمان نے نرم لہجے میں کہا۔
’’بہت بہتر صاحب!‘‘ ملازم نے کہا۔
’’تمہارے پاس موبائل فون ہے؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’جی ہے صاحب!‘‘ ملازم نے کہا اور اپنا نمبر بتانے لگا۔ زمان نے اس کا نمبر اپنے موبائل فون میں
کرلیا۔
زمان باہر چلا گیا۔ اس نے گیٹ کی چابی ملازم سے لے لی تھی۔ ملازم اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کرلیا۔
٭…٭…٭
زمان ٹہلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے؟ کیسے اپنے آپ کو چھپا کر رکھے جو الماس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا۔ اچانک زمان کی آنکھوں کے سامنے الماس کی چھوٹی بہن رمشا کا چہرہ آگیا۔ اس نے سوچا کہ وہ الماس کے گھر والوں کی نظر میں ایک اچھا انسان ہے۔ اگر وہ الماس کو ہمیشہ کے لئے چپ کرا دے تو اس کا راز بھی قائم رہے گا اور ممکن ہے کہ اس کے والدین اس کی شرافت، ایمانداری، سعادت مندی کو مدنظر رکھتے ہوئے رمشا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ کوئی ایسا حل نکال لے گا کہ وہ رمشا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے پر مجبور ہوجائیں۔ رمشا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں کیسے آئے گا۔ یہ بعد میں سوچنے کی بات تھی۔ فی الحال اسے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے الماس کو چپ کرانا تھا۔
یہ سوچتے وہ اپنے گھر سے کافی آگے آگیا تھا۔ وہ واپس جانے کے لئے پلٹا تو ایک دم اس کے قدم رک گئے اور اس نے اپنے سامنے ایک کوٹھی دیکھی جو اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کے گیٹ پر تالا پڑا تھا۔ زمان نے دائیں بائیں دیکھا۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ اس سڑک پر جو کوٹھیاں تھیں، ان کے مکین اندر تھے۔ اس بند کوٹھی کے ساتھ ایک خالی پلاٹ تھا جو اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
زمان نے دائیں بائیں دیکھ کر ایک جست لگائی اور گیٹ کے اوپر چڑھ کر پھرتی سے دوسری طرف کود گیا۔ چھوٹے گیٹ کا اندر سے کنڈا لگا ہوا تھا۔ نوتعمیر، اس کوٹھی کے ابھی دروازے اور کھڑکیاں بھی نہیں لگی تھیں۔ زمان نے اندر جاکر موبائل کی روشنی میں دیکھا کہ ایک کمرے پر دروازہ اور کھڑکی موجود تھی۔ زمان واپس گیٹ کے پاس آیا اور چھوٹے گیٹ کا کنڈا کھول کر باہر نکلا اور گیٹ کو اسی طرح بند کرکے گھر کی طرف چل پڑا۔
زمان بغیر آواز پیدا کئے گیٹ کا قفل کھول کر اندر چلا گیا۔ چوکیدار اور اس کی بیوی کو علم نہیں ہوسکا کہ زمان اندر آگیا ہے۔ زمان دبے پائوں اندر چلا گیا۔
اس نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا۔ کمرے کے کونے میں الماس ڈری، سہمی گٹھڑی بنی بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر گالوں پر خشک ہوچکے تھے۔ جونہی اس نے زمان کو دیکھا، وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کی طرف بڑھی۔
زمان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور حلیم لہجے میں بولا۔ ’’سوری الماس…! ویری سوری… مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میں باہرٹہل رہا تھا تو مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں نے غلط کیا ہے۔ دیکھو میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے جو کچھ کیا، وہ غلط کیا۔ ایک لڑکی جو میری بیوی ہے، اس پر مجھے ایسا ظلم نہیں کرنا چاہئے۔ الماس! میں اپنے کئے کی سزا بھگتنے کو تیار ہوں۔ میرے ساتھ چلو میں تمہیں تمہاری امی کی طرف چھوڑ آتا ہوں۔‘‘
الماس متحیر ہوکر اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اچانک زمان کی کایا پلٹ کیسے ہوگئی۔
زمان اداس سا منہ بنا کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا سر جھکا رکھا تھا، جیسے اسے اپنے کئے پر سخت ندامت ہو۔ الماس ایک بار پھر اس کے فریب میں آگئی تھی۔
’’کیا تم مجھے واقعی امی کی طرف چھوڑنے جارہے ہو؟‘‘
’’میں تمہیں چھوڑنے بھی جارہا ہوں اور ان کے سامنے اپنے جرم کا اقرار بھی کروں گا۔ وہ مجھے جو سزا دیں گے، مجھے منظور ہوگی۔‘‘ زمان ندامت بھری آواز میں بولا۔
الماس نے الماری سے اپنا بیگ نکالا، جس میں اس نے اپنی ضرورت کی چیزیں پہلے ہی رکھ لی تھیں۔ وہ بیگ لے کر کمرے سے باہر نکلی۔ زمان اس کے پیچھے چل پڑا۔ الماس کار تک پہنچی۔ اس نے ابھی ڈرائیونگ سیٹ والا دروازہ کھولا ہی تھا کہ زمان تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور نرم لہجے میں بولا۔ ’’پلیز ملازموں کے سامنے کچھ مت کہنا۔ تم دوسری طرف بیٹھ جائو، گاڑی میں چلاتا ہوں۔‘‘
زمان کے کہنے کا انداز کچھ ایسا التجا آمیز تھا کہ الماس دوسری سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اس دوران چوکیدار بھی بھاگ کر باہر آگیا تھا۔ زمان گاڑی میں بیٹھتے ہوئے چوکیدار سے بولا۔ ’’ہم باہر کھانا کھانے جارہے ہیں، دیر بھی ہوسکتی ہے۔ چوکس بیٹھا کرو، ایسے نہیں کہ ہمارے آنے کا تمہیں پتا نہ چلے۔ کیا سمجھے…؟‘‘
’’جی صاحب…!‘‘ چوکیدار نے کہا۔
زمان نے باہر نکل کر گاڑی کا رخ اس طرف کرلیا جہاں اس نے زیرتعمیر مکان دیکھا تھا جو


اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ الماس چپ تھی۔ سردی اور پوش علاقہ ہونے کی وجہ سے سڑک سنسان تھی۔ زمان نے اس زیرتعمیر مکان کے ساتھ اندھیرے میں ڈوبے خالی پلاٹ پر گاڑی کھڑی کردی اور فوراً ہیڈ لائٹس بند کردیں۔
’’گاڑی یہاں کیوں کھڑی کی ہے؟‘‘ الماس نے پوچھا۔
’’تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔‘‘ زمان نے متانت سے کہا۔
’’کیا دکھانا ہے…؟‘‘
’’ایک حقیقت دکھانی ہے۔ ایک خواب جسے میں نے پائی پائی جوڑ کر پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ مکان جو میں اپنی بیوی کے لئے بنانا چاہتا تھا اور جو ابھی بن رہا ہے۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں دیکھنا۔ گاڑی اسٹارٹ کرو۔‘‘ الماس نے بارعب لہجے میں کہا۔
دوسرے ہی لمحے زمان گاڑی سے باہر نکلا اور الماس کی طرف کا دروازہ کھول کر اس کا بازو پکڑ کر باہر نکالا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے اس مکان کے گیٹ کی طرف لے جانے لگا۔ الماس مزاحمت کرنے لگی، لیکن زمان کے مضبوط ہاتھوں نے اس کی کمزور مزاحمت کو غالب نہیں آنے دیا۔ وہ چلانا چاہتی تھی لیکن زمان کا منہ پر رکھا ہاتھ مانع تھا۔
زمان اس زیرتعمیر مکان کے چھوٹے گیٹ کو کھول کر اسے اندر لے گیا۔ اس نے گیٹ کا کنڈا لگا دیا اور اسے اس کمرے میں لے گیا جس پر دروازہ لگا ہوا تھا۔ وہاں اندھیرا تھا۔
الماس کے منہ سے جیسے ہی زمان نے ہاتھ ہٹایا، وہ چلائی۔ ’’تم مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہو؟‘‘
زمان نے اپنے موبائل کی روشنی میں نرم لہجے میں کہا۔ ’’اب شور مت کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔‘‘
زمان کے کہنے کا انداز بے شک نرم تھا لیکن ایسا خطرناک تھا کہ الماس ڈر گئی۔ وہ خوف زدہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ زمان نے موبائل فون ایک طرف رکھا اور الماس کے گلے میں پڑا دوپٹہ کھینچ کر اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیئے۔ الماس پہلے تو ناکام مزاحمت کرتی رہی، پھر اس نے چلانا چاہا تو زمان نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کردیا۔ وہ ایک طرف گر گئی اور چلانا بھول کر محض متوحش نگاہوں سے زمان کو دیکھتی رہی۔ زمان نے ایک کپڑا اس کے منہ میں ٹھونس کر اس کے منہ کو بھی باندھ دیا۔ اب الماس بول بھی نہیں سکتی تھی۔
زمان بولا۔ ’’سوری الماس…! مجبوری ہے، اب تمہیں مرنا ہوگا۔ میں اپنی حقیقت کسی پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا۔ تمہیں اندھیرے سے خوف آتا ہے اور اس سے بہتر جگہ نہیں ہے کہ تم خوف کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر مر جائو۔ میں تمہارے والدین کے سامنے اغوا کا ڈرامہ رچا دوں گا۔ وہ مجھ پر بہت اعتبار کرتے ہیں۔ جب تم انہیں نہیں ملو گی تو تمہارے گھر والے بھولنے لگیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میرے اچھے کردار کی وجہ سے وہ تمہاری چھوٹی بہن کے ساتھ میرا رشتہ طے کردیں گے۔‘‘
زمان کی منصوبہ بندی سن کر الماس کی آنکھوں سے مزید خوف عیاں ہونے لگا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن بول نہیں سکتی تھی۔ زمان اپنا موبائل فون اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ کمرا اندھیرے میں ڈوب گیا۔ الماس چیخ نہیں سکتی تھی۔ خوف اس کی آنکھوں میں تیرنے لگا تھا اور دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
زمان باہر نکلا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔
اچانک زمان کی نظر الماس کے بیگ پر پڑی۔ اس نے کار ایک طرف روکی اور بیگ کھول کر دیکھنے لگا۔ اندر الماس کے کپڑے تھے۔ اس نے اپنی چیک بکس اور کارڈ بیگ کی خفیہ جیب میں رکھے تھے، جس پر زمان کی نظر نہیں پڑ سکتی تھی۔ بیگ دیکھتے ہوئے الماس کا ایک دوپٹہ باہر رہ گیا تھا۔ زمان نے گاڑی پھر چلا دی اور آگے جاکر کوڑے کے ڈھیر پر بیگ پھینک دیا۔
زمان کچھ دیر سڑکوں پر وقت گزاری کے بعد الماس کے اغوا کا ڈرامہ رچانا چاہتا تھا۔ اس کے لئے اسے اپنا سر بھی زخمی کرنا تھا تاکہ معلوم ہو کہ اس نے مزاحمت کی تھی اور اس مزاحمت کے دوران انہوں نے زمان کو زخمی کردیا تھا۔
گاڑی چلاتے ہوئے زمان سوچ رہا تھا کہ وہ کس جگہ گاڑی روک کر اپنے آپ کو زخمی کرے۔ زمان نے سوچ لیا تھا کہ وہ کیا کہانی سنائے گا۔ وہ بتائے گا کہ جونہی وہ اور الماس گاڑی میں بیٹھے، اچانک دو نقاب پوش بھی پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئے۔ وہ بہت دیر تک انہیں سڑکوں پر گھماتے رہے۔ اس کے بعد وہ الماس کو دوسری گاڑی میں اپنے ساتھ لے گئے۔ اس نے مزاحمت کی تو اس کے سر پر کوئی سخت چیز مار کر اسے زخمی کردیا۔
زمان نے طے کیا کہ وہ پلے لینڈ کی طرف جاکر گاڑی اس جگہ روک کر اپنے آپ کو زخمی
ویران ہوتی تھی۔ وہ ویران سڑک پلے لینڈ سے ملحق تھی۔ یہ سوچ کر اس نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھا اور گاڑی کی رفتار تیز کردی۔ وہ تیزی سے گاڑی دوڑاتا اس روڈ پر چلا گیا جہاں سڑک کے درمیان میں چوڑی اور گہری نہر تھی۔
زمان کی کار کی رفتار کچھ زیادہ ہی تیز تھی۔ اچانک اس کے سامنے ایک راہگیر سڑک پر آگیا۔ شاید اس راہگیر کا خیال تھا کہ وہ سڑک عبور کر جائے گا لیکن زمان عین اس کے سر پر پہنچ گیا تھا۔ وہ راہگیر ڈر کر وہیں رک گیا۔ زمان نے فوراً کار کا اسٹیئرنگ گھمایا تو اس کی کار نہر کی طرف بڑھی اور اس کے قابو سے باہر ہوگئی۔ کار تیر کی طرح اڑتی ہوئی نہر میں جاگری۔ ایک دھماکا ہوا اور آتے جاتے لوگ رک گئے۔ سب کی نگاہیں نہر میں گرنے والی کار پر تھیں جس کا اگلا حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا اور رفتہ رفتہ کار کا پچھلا حصہ بھی پانی میں گم ہوتا جارہا تھا۔
زمان کے لئے یہ ایک غیر متوقع صورتحال تھی۔ وہ ڈوبتا ہوا ہاتھ، پیر مارنے لگا تھا۔ اس نے کوشش کی کہ کسی طرح کار کا دروازہ کھل جائے۔ گاڑی رفتہ رفتہ نیچے جارہی تھی۔ زمان کی سانس گھٹنے لگی تھی۔
٭…٭…٭
زمان کی قسمت اچھی تھی کہ اس وقت ایک تیراک وہاں سے گزر رہا تھا۔ جب اس نے گاڑی گرتی دیکھی تو وہ بھاگ کر نہر کے کنارے آگیا۔ کچھ دیر وہ کھڑا جائزہ لیتا رہا پھر اس نے نہر میں چھلانگ لگا دی۔ جب وہ نیچے اترا تو زمان کار کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ وہ کار سے باہر نکل کر ہاتھ، پیر مار رہا تھا اور اس اثنا میں تیراک اس کے پاس پہنچ گیا اور اسے پکڑ کر اوپر لے آیا۔ تب تک زمان بے ہوش ہوچکا تھا۔
جب زمان کی آنکھیں کھلیں تو اس نے خالی خالی نظروں سے چھت کو دیکھا۔ اسے سب یاد آنے لگا۔ اسے یاد تھا کہ اسے کوئی پکڑ کر پانی سے باہر لایا تھا۔ پھر اسے ہوش نہیں رہا تھا۔ اب وہ مکمل ہوش میں تھا۔ اس نے کمرے میں نگاہیں گھما کر دیکھا۔
وہ اسپتال کا کمرا تھا۔ اس کے پاس ایک نرس کھڑی تھی۔ جونہی اس نے زمان کو ہوش میں آتے دیکھا، اس نے اس کی نبض، بلڈ پریشر چیک کرنے کے بعد کلپ بورڈ پر لگے کاغذ پر اندراج کیا اور بولی۔ ’’آپ کیسا محسوس کررہے ہیں؟‘‘
’’جی! میں بہتر محسوس کررہا ہوں لیکن مجھے سردی لگ رہی ہے۔‘‘ زمان بولا۔
نرس نے اس کا کمبل ٹھیک کیا اور بولی۔ ’’ٹھنڈے پانی میں گرنے کی وجہ سے آپ کو سردی لگ گئی ہے۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں ڈاکٹر کو اطلاع کرتی ہوں۔‘‘ نرس کہہ کر باہر چلی گئی۔
زمان کو الماس یاد آنے لگی کہ وہ اسے ایک ویران زیرتعمیر مکان میں باندھ آیا تھا۔ اب تک وہ ڈر اور خوف سے مر چکی ہوگی۔ زمان کو وہاں جاکر دیکھنا تھا کہ وہ مرچکی ہے یا ابھی زندہ ہے۔ اس نے الماس کو مضبوطی سے باندھا تھا۔ اس کے منہ میں کپڑا ٹھنسا ہوا تھا۔ اس کے وہاں سے نکلنے کا کوئی چانس نہیں تھا۔ وہ یقیناً مرچکی ہوگی۔ ایک بار جاکر اس کی تصدیق کرنی تھی لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ الماس کے گھر والوں کو کیا جواب دے گا۔ پھر اچانک اسے خیال آیا کہ الماس بھی تو اس کے ساتھ تھی، وہ پانی میں بہہ گئی ہے۔ اس خیال نے زمان کو مطمئن کردیا تھا۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور وجاہت حسین کے ساتھ اس کا بیٹا اندر آگئے۔ دونوں پریشان تھے۔ وجاہت حسین نے آتے ہی پوچھا۔ ’’زمان بیٹا! تم کیسے ہو؟‘‘
’’جی! میں ٹھیک ہوں… الماس کیسی ہے؟‘‘ زمان نے گھبرا کر پوچھا۔
وجاہت حسین اور اس کے بیٹے کے چہرے پر کرب آگیا۔ وجاہت حسین نے بتایا۔ ’’گاڑی باہر نکال لی ہے۔ گاڑی میں الماس کا دوپٹہ تھا لیکن…!‘‘
’’لیکن کیا…؟‘‘ زمان نے مضطرب ہوکر پوچھا۔ دوپٹے کا سن کر وہ دل ہی دل میں مسرور ہوگیا تھا کہ کار سے اس کے دوپٹے کا مل جانا اس کے حق میں بہتر ہوا تھا۔
’’لیکن الماس نہیں ملی…!‘‘ وجاہت حسین نے بتایا۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ…؟ الماس میرے ساتھ گاڑی میں تھی۔ میں جاکر اسے تلاش کرتا ہوں۔‘‘ زمان نے ایک دم کمبل ہٹایا اور اٹھنے کی کوشش کی۔
وجاہت حسین کے بیٹے راحیل نے زمان کو پکڑ کر بستر پر لٹانے کی کوشش کی لیکن زمان کے لئے اداکاری کا یہ بہترین موقع تھا۔ وہ اسے کسی بھی صورت نہیں گنوانا چاہتا تھا۔ اس موقع پر اس کا جذباتی ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ وہ الماس سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی جدائی کو برداشت کرنا اس کے لئے ناممکن ہے۔
’’مجھے چھوڑ دیں، میں الماس کو خود تلاش کروں گا۔‘‘ زمان
زبردستی اپنی جگہ سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا۔
ایک دم اس کے سامنے وجاہت حسین کھڑا ہوگیا اور بولا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ تمہارے لئے یہ صدمہ برداشت کرنا بہت مشکل ہے لیکن اس وقت ہمارے دلوں پر بھی قیامت گزر رہی ہے۔ وہ شہر کی طویل نہر ہے جو دریا سے جا ملتی ہے۔ اس نہر میں غوطہ خور بھی اترے تھے۔ وہاں موجود دو چشم دید گواہوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ تمہاری کار کے آگے کوئی راہگیر آگیا تھا جس کو بچانے کی کوشش میں گاڑی نہر میں جاگری تھی۔‘‘
یہ سن کر زمان نے اپنی آنکھیں گھمائیں۔ اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اس لئے وجاہت حسین اور راحیل اس کا یہ مکر نہیں دیکھ سکے۔ زمان کے علم میں یہ نئی بات آئی تھی۔ ان چشم دید گواہوں نے زمان کو مزید محفوظ کردیا تھا۔
’’میں وہاں جانا چاہتا ہوں۔ میں حادثے والی جگہ پر جانا چاہتا ہوں، ابھی جانا چاہتا ہوں۔‘‘ زمان نے رٹ لگا دی۔
’’راحیل! تم انہیں وہاں لے جائو۔ میں گھر جارہا ہوں۔ دیکھو اس کا خیال رکھنا۔‘‘ وجاہت حسین نے کہا اور پھر زمان کے جسم پر اسپتال کا لباس دیکھ کر کہا۔ ’’کیا اسی لباس میں جائو گے؟‘‘
’’میں نے آتے ہوئے ایک جوڑا گاڑی میں رکھ لیا تھا۔‘‘ راحیل یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکلا اور تھوڑی دیر کے بعد اس کا ڈرائیور پینٹ، شرٹ اور جیکٹ لے آیا۔ زمان نے لباس تبدیل کیا اور جانے کے لئے تیار ہوگیا۔
راحیل کے ساتھ زمان نہر پر وہاں پہنچ گیا جہاں حادثہ ہوا تھا۔ اس وقت وہاں کار موجود نہیں تھی۔ زمان کے چہرے پر افسردگی تھی۔ وہ نہر کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے چاہتا ہو کہ ابھی الماس نکل کر سامنے آجائے۔ اس کے برابر راحیل کھڑا تھا۔ زمان کسی نہ کسی طرح اپنی آنکھوں میں آنسو لے آیا۔ راحیل نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی۔
’’ہم لونگ ڈرائیو اور کھانا کھانے کے لئے نکلے تھے۔ ہم بہت خوش ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے۔ وہ راہگیر اچانک سامنے آگیا۔ میری گاڑی کی رفتار اس وقت تیز تھی، نتیجے میں گاڑی نہر میں جاگری۔ او خدایا…! یہ کیا ہوگیا؟‘‘ زمان بتاتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر رونے کی اداکاری کرنے لگا۔
راحیل کے پاس اسے حوصلہ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اچانک زمان کی نگاہ نہر کی دوسری طرف پڑی تو وہ چونک گا۔ وہاں لیاقت کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جونہی لیاقت سے اس کی نظریں چارہوئیں، وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا۔ اس نے ایسا اشارہ کیا جیسے وہ اس کی اداکاری پر اسے داد دے رہا ہو۔
لیاقت کا اس جگہ موجود ہونا زمان کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ اسی کی وجہ سے الماس پر اس کی حقیقت منکشف ہوئی تھی۔ زمان نے سوچا کہ لیاقت اسے ایک بار پھر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اب اس سے بچنا ضروری تھا اور اس کا ایک ہی حل تھا کہ وہ اسے ہمیشہ کے لئے خاموش کردے۔
’’چلیں…؟‘‘ راحیل نے کہا تو زمان چونکا۔
’’میں نہیں جائوں گا۔ میں کچھ دیر یہاں بیٹھنا چاہتا ہوں۔‘‘ زمان نہر کنارے اگی گھاس پر بیٹھ گیا۔ پھر وہ راحیل سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’تم چلے جائو، میں آجائوں گا۔‘‘
٭…٭…٭
راحیل کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ جب زمان کو تسلی ہوگئی کہ وہ جا چکا ہے تو اس نے لیاقت کو اشارے سے اپنے پاس بلا لیا۔
لیاقت اس کا اشارہ سمجھ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور کچھ فاصلے پر بنے پل کی طرف بڑھا، جس سے وہ نہر عبور کرکے اس طرف آسکتا تھا۔ وہ چلتا ہوا اس کے پاس آگیا اور اس کے قریب ہی گھاس پر بیٹھ گیا۔
’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’ماتم کررہا ہوں۔ میرے پیارے دوست کی بیوی نہر میں ڈوب گئی ہے۔‘‘ لیاقت نے جواب دیا۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘ زمان نے غصے سے دانت پیس کرکہا۔
لیاقت نے اپنے پیلے دانت نکالے اور ہنسنے کے بعد بولا۔ ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں تمہارا سایہ کیوں بن گیا ہوں۔ تقدیر مجھے گھیر کر تمہارے پاس کیوں لے آتی ہے؟ اب دیکھو جب رات کو تمہاری کار اس نہر میں گری تھی تو میں سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ کار میں صرف تم تھے، تمہارے ساتھ بیوی نہیں تھی۔‘‘ لیاقت کے اس انکشاف نے جیسے زمان کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔ لیاقت نے جس جگہ کی طرف اشارہ کیا تھا، وہ اس جگہ سے واضح طور پر دیکھ سکتا تھا کہ کار میںڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ کوئی


تھا یا نہیں۔
’’تم نشے میں دھت کیا جانو کہ میرے ساتھ کون بیٹھا تھا۔‘‘ زمان نے اس کی بات کو رد کرنے کی کوشش کی۔
لیاقت نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’جب میں نشے میں ہوتا ہوں تو میری آنکھیں بلی جیسی ہوجاتی ہیں۔ اندھیرے میں بھی مجھے صاف نظر آنے لگتا ہے۔‘‘
زمان اس کی بات سن کر چپ ہوگیا۔ وہ اس کے ساتھ زیادہ دیر بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے کہا۔ ’’میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔‘‘
’’میں کوئی بات نہیں کروں گا، صرف پیسے کی زبان بولوں گا۔ اسی نہر پر آگے چھوٹے پل کے ساتھ نہر کی دوسری طرف بڑے بڑے پائپ پڑے ہوئے ہیں۔ اسی ایک پائپ میں، میں شام ہوتے ہی پہنچ جاتا ہوں، وہاں آجانا۔‘‘ لیاقت یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور ایک طرف چل پڑا۔
زمان سوچتا رہا کہ لیاقت کو جتنی جلدی وہ مار دے، اتنا ہی بہتر ہے۔ زمان کو اس بات کی بھی فکر تھی کہ وہ اس زیرتعمیر مکان میں جاکر دیکھے کہ الماس کی کیا صورتحال ہے۔ زمان نے تو سوچا تھا کہ وہ اغوا کا ڈرامہ رچا کر منہ اندھیرے وہاں پہنچ کر الماس کی لاش ٹھکانے لگا دے گا لیکن اس حادثے نے اس کے منصوبے کا رخ بدل دیا تھا۔
زمان نے اپنی جگہ سے اٹھ کر دائیں بائیں دیکھا اور تیزی سے ایک ٹیکسی کی طرف بڑھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ٹیکسی میں سوار ہوتا، اس نے اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، وہ خالی تھیں۔ زمان کو یاد آیا کہ اس نے راحیل کا لایا ہوا لباس پہنا ہے جس کی جیبیں خالی ہیں۔
تہی دست ٹیکسی میں جانا اور واپس آنا، ممکن نہیں تھا۔ زمان ابھی پیچھے ہٹا ہی تھا کہ ایک کار اس کے سامنے آکر رکی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ اس نے زمان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’آپ کو کہیں جانا ہے؟‘‘
زمان نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ اس سے قبل اس نے اس نوجوان کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے سوچا شاید وہ اسے لفٹ دینے کے لئے رکا ہے۔
’’کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
وہ نوجوان مسکرایا۔ ’’میں آپ کو جانتا ہوں لیکن آپ مجھے نہیں جانتے۔‘‘
زمان نے اس کا پھر جائزہ لیا۔ ’’آپ بتانا چاہیں گے کہ آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟‘‘
’’آپ پہلے گاڑی میں بیٹھ جائیں پھر بتاتا ہوں۔‘‘ نوجوان نے اتنا کہہ کر ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھول دیا۔ زمان نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور پھر اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
نوجوان نے پوچھا۔ ’’کہاں جانا ہے؟ الماس کے ڈیڈی کے گھر یا اس گھر میں جو الماس کو جہیز میں ملا تھا؟‘‘
نوجوان کی اس بات نے زمان کو چونکا دیا۔ اس کی سوالی نگاہیں ایک بار پھر نوجوان کے چہرے پر مرکوز ہوگئیں۔
اس نے اپنا تعارف کرایا۔ ’’میرا نام اویس ہے اور میں الماس کا کزن ہوں۔‘‘
زمان اس کا تعارف سن کر چونکا لیکن اس نے اپنے چہرے سے اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اس نے ایک دم اپنے چہرے پر اداسی سجاتے ہوئے کہا۔ ’’الماس… میری الماس…!‘‘ ساتھ ہی اس نے اس نہر کی طرف دیکھا جہاں رات کو اس کی گاڑی گری تھی۔
اسے اس بات کا رنج ہورہا تھا کہ اسے ہر حال میں اس زیرتعمیر مکان میں پہنچنا تھا جہاں اس نے الماس کو باندھ کر چھوڑا تھا۔ اس کے لئے یہ جاننا بہت ضروری تھا کہ وہ زندہ بچی ہے یا ڈر، خوف اور وحشت سے مر گئی ہے؟ اس کا مرنا بہت ضروری تھا۔ اگر وہ زندہ رہی اور کسی طرح واپس گھر پہنچ گئی تو اس کے لئے زمین تنگ ہوجائے گی اور زمان ایسا ہونے نہیں دینا چاہتا تھا۔
’’الماس کی تلاش جاری ہے۔ میں آگے تک دیکھ کر آرہا ہوں، اس کی تلاش کا کام جاری ہے۔‘‘ اویس بولا۔
زمان نے کہا۔ ’’مجھے گھر تک چھوڑ دو۔ اس گھر تک جہاں الماس دلہن بن کے آئی تھی۔‘‘
اویس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ زمان اداس اور چپ بیٹھا رہا۔ کچھ توقف کے بعد اویس نے معنی خیز انداز میں کہا۔ ’’ایک بات پوچھوں جب میں نے کار آپ کے پاس روکی تھی تو آپ اتنے رنجیدہ نہیں تھے جتنے اب دکھائی دے رہے ہیں؟‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا…! میں آپ کے سامنے اداکاری کررہا ہوں؟‘‘ زمان نے آنکھیں نکال کر دیکھا۔
’’میرا یہ مطلب نہیں۔ میں نے تو ایسے ہی ایک بات کی تھی۔‘‘ اویس نے جلدی سے کہا۔
’’آپ مجھے یہیں اتار دیں۔‘‘
’’میں آپ کو گھر تک چھوڑ کر آئوں گا۔ آپ کو یہاں اتارنے کی گستاخی نہیں کرسکتا۔‘‘ اویس نے اتنا کہہ کر کار کی رفتار مزید بڑھا دی۔
زمان دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد کار اس کے گھر
کے سامنے پہنچ گئی۔ زمان باہر نکلا اور گیٹ کی طرف جانے لگا تو اویس نے جلدی سے کہا۔ ’’مجھے اندرآنے کے لئے نہیں بولیں گے؟‘‘
’’ہم پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہوا ہے اور آپ کو مسخریاں سوجھ رہی ہیں۔‘‘ زمان غصے سے کہہ کر گیٹ کی طرف چلا گیا۔ اویس معنی خیز انداز میں مسکرایا اور اس نے کار آگے بڑھا دی۔ زمان نے گیٹ کے پاس پہنچ کر بیل دی تو چوکیدار نے گیٹ کھول دیا۔ زمان اندر گیا اور گیٹ کے پاس اس طرح رک گیا جیسے وہ شدید غم میں مبتلا ہو۔
چوکیدار نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ ’’صاحب جی…! بی بی جی کا پتا چلا؟‘‘
زمان نے ایک نظر چوکیدار کی طرف دیکھا اور اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے جواب دیا۔ ’’نہیں…!‘‘
بیڈ روم میں پہنچ کر زمان نے الماری کی دراز کھول کر متلاشی نگاہوں سے دیکھا۔ ایک دراز میں اسے کچھ نوٹ مل گئے جو اس نے اپنی جیب میں رکھ لئے۔
وہ جب دوبارہ باہر نکلا تو اس نے اپنے چہرے پر اداسی طاری کرلی تھی۔ وہ چوکیدار کے پاس پہنچ کر غم زدہ آواز میں بولا۔ ’’مجھے الماس یاد آرہی ہے، میں جارہا ہوں۔‘‘
زمان باہر نکل کر تیزی سے زیرتعمیر مکان کی طرف چلا گیا۔ اس مکان کے پاس پہنچ کر اس نے اردگرد کا جائزہ لیا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔
زمان چھوٹے گیٹ کے پاس پہنچا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور گیٹ کھول کر اندر چلا گیا۔ اندر جاتے ہی اس نے گیٹ کا کنڈا لگا لیا اور تیزی سے اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں اس نے رات کے اندھیرے میں الماس کو چھوڑا تھا۔ جونہی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا، وہ چونک گیا۔ کمرا خالی تھا اور اندر الماس زندہ یا مردہ حالت میں موجود نہیں تھی۔
زمان نے متلاشی اور مضطرب نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا اور پھر کمرے سے نکل کر اس زیرتعمیر مکان کا چپہ چپہ چھان لیا لیکن الماس کہیں نہیں ملی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ جس طرح سے اس نے کمرے کا دروازہ باہر سے کنڈی لگا کر بند کیا تھا، دروازے کو اسی طرح کنڈی لگی ہوئی تھی مگر الماس غائب تھی۔
زمان سوچنے لگا کہ ایسا کیسے ہوا۔ جب اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا تو وہ اس مکان سے باہر نکلا اور تیزی سے ایک طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے خیال آیا کہ کہیں الماس واپس گھر تو نہیں چلی گئی؟
یہ سوچ کر وہ واپس گھر آگیا۔ جونہی چوکیدار نے گیٹ کھولا، زمان نے اس انداز میں پوچھا جیسے وہ اس کے کھو جانے پر دیوانہ ہوگیا ہو۔ ’’میری الماس تو نہیں آئی…؟‘‘
چوکیدار نے جلدی سے زمان کا بازو پکڑ کرکہا۔ ’’صاحب جی! آپ اندر تشریف لے جائیں اور تھوڑی دیر آرام کرلیں۔‘‘
’’میں نے پوچھا ہے میری الماس تو نہیں آئی؟‘‘ زمان نے پھر اسی انداز میں پوچھا۔ اس کے لب و لہجے سے لگتا تھا گویا اس پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہوا ہے اور اس کا دماغ مائوف ہوچکا ہے۔
’’نہیں! وہ نہیں آئیں۔‘‘ چوکیدار نے کہا تو زمان واپس جانے کے لئے پلٹا اور جاتے ہوئے بولا۔ ’’اگر وہ آجائے تو مجھے فون کرکے اطلاع کردینا۔‘‘ زمان باہر نکلا اور تیزی سے آگے جاکر رکشے میں بیٹھا اور سیدھا وجاہت حسین کی کوٹھی پر پہنچ گیا۔
وہاں بہت سے مہمان جمع تھے اور الماس کے گھر والوں سے اظہار افسوس کررہے تھے۔ زمان مریل قدموں سے چلتا ایک طرف رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے چہرے پر غم سجایا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پانی اترا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے اسے اردگرد کا ہوش نہ ہو۔ اس وقت وہ بہترین اداکاری کا مظاہرہ کررہا تھا۔
وجاہت حسین اور اس کے کچھ رشتے دار زمان کی طرف بڑھے۔ وجاہت حسین نے غم زدہ لہجے میں اسے دلاسا دیا۔ ’’زمان بیٹا! تم ہمت سے کام لو۔‘‘
’’اب ہمت کہاں ڈیڈی…! اب یہ جسم بے جان ہے، روح پرواز کرچکی ہے۔‘‘ زمان کھوئے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’میں جانتا ہوں کہ تم پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ دیکھو میں اس کا باپ ہوں اور پھر بھی کتنی ہمت سے کام لے رہا ہوں۔‘‘
’’میرے اندر ہمت ختم ہوچکی ہے۔ مجھے الماس مل جائے تو میرے لئے جینا آسان ہوجائے، ورنہ اس کے بغیر سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔‘‘ زمان اتنا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
٭…٭…٭
اس واقعے کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔
الماس کی لاش کہیں سے نہیں ملی تھی۔ سب کا یہی خیال تھا کہ الماس پانی میں بہہ کر کہیں دور نکل گئی تھی۔ اس کے گھر والوں کو اگر اس کی لاش مل جاتی تو چین آجاتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا تھا۔
الماس کے گھر والوں نے صبر کا بھاری
پتھر اپنے اپنے سینوں پر رکھ کر معمولات زندگی میں مصروف ہونا شروع کردیا تھا۔ ایک زمان تھا جس نے اپنا شیو بڑھا لیا تھا۔ وہ ابھی تک غم کی تصویر بنا کبھی وجاہت حسین تو کبھی اس گھر میں چلا جاتا جو الماس کو جہیز میں اس کے باپ نے دیا تھا۔
جب زمان، الماس کے گھر والوں کے سامنے ہوتا تو ایسی صورت بنا لیتا جیسے غم کا پہاڑ اٹھائے ہو۔ اس سے بولنا مشکل ہوتا، اس کا چہرہ مسکرانا بھول گیا ہو اور جب اکیلا الماس کے گھر میں ہوتا تو مسکراتا بھی تھا اور مزے سے پھل بھی کھاتا تھا۔
سب الماس کی گمشدگی پر غم زدہ تھے اور زمان کو اس بات کا غم تھا کہ وہ کہاں چلی گئی۔ اس نے الماس کو اچھی طرح باندھا تھا۔ پھر اس نے اس کمرے کا باہر سے کنڈا بھی لگایا تھا۔ کھڑکی پر لوہے کی گرل لگی ہوئی تھی۔ جب وہ اس مکان میں گیا تھا تو اس دروازے کا کنڈا باہر سے کھلا ہوا تھا اور الماس غائب تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ الماس کو اس جگہ سے کوئی نکال کر لے گیا تھا۔ کون لے گیا تھا اور اسے کیسے پتا چلا کہ اس جگہ کوئی لڑکی قید ہے…؟
ایسے کئی سوال تھے جو زمان کے دماغ میں جنم لے کر کسی پانی کے بلبلے کی طرح معدوم ہوجاتے تھے۔ کسی سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔
سات دن گزرنے کے بعد اب یہ سوال بھی جنم لینے لگا تھا کہ اگر الماس کو اس جگہ سے کوئی لے گیا تھا تو پھر ابھی تک وہ اسے منظر پر کیوں نہیں لے کر آیا تھا اور اگر الماس اس جگہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ باہر سے لگی کنڈی کھول لیتی؟
زمان ایک ایسے مسئلے میں الجھ گیا تھا جس سے نکلنے کے لئے اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ جتنا سوچتا، اتنا ہی الجھ جاتا تھا۔
ان سات دنوں میں وہ لیاقت کے پاس بھی نہیں جا سکا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جب بھی وہ وجاہت حسین کے گھر جاتا تو اویس اچانک ٹپک پڑتا تھا۔ وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا اور اس جستجو میں رہتا تھا کہ وہ زمان سے کچھ اگلوا سکے۔
زمان جب وجاہت حسین کے گھر سے الماس کے گھر کی طرف جاتا تو بھی اویس کی گاڑی اسے کہیں نہ کہیں دکھائی دیتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ لیاقت کے پاس نہیں گیا تھا کہ اویس کہیں لیاقت تک نہ پہنچ جائے، حالانکہ اویس نے اس دن لیاقت کے ساتھ اسے باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ وہ اس سے ملنا چاہتا تھا لیکن اس دن کے بعد وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا تھا۔
زمان کو تفکرات نے گھیر لیا تھا۔ الماس کی پراسرار گمشدگی اور لیاقت کا کسی تلوار کی طرح اس کے سر پر لٹکے رہنا، اس کے لئے سوہان روح بن گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھنے پر مجبور تھا۔ (جاری ہے)