Serhi | Episode 3

524
شام کو جب زمان اٹھ کر جانے لگا تو وجاہت حسین کی بیوی غزالہ، زمان کی طرف دیکھ کر بولی۔ ’’زمان! تم یہیں رہ جائو، اسی کمرے میں جو پہلے الماس کا تھا۔‘‘
’’غزالہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔‘‘ وجاہت حسین نے تائید کی۔
’’میں یہاں رات نہیں گزار سکتا۔ مجھے لگتا ہے جیسے وہ اچانک میرے بیڈ روم میں آجائے گی۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’میرا دل بھی کہتا ہے کہ الماس ضرور آئے گی لیکن پھر کچھ باتیں سوچ کر دل ڈوب جاتا ہے۔ زمان بیٹا! تم یہیں رہو، ہمارے ساتھ!‘‘ غزالہ نے اصرار کیا۔
’’ابھی میں جارہا ہوں۔ جب دل کچھ ہلکا ہوجائے گا تو پھر سوچوں گا کہ مجھے کہاں رہنا ہے۔‘‘ زمان بولا۔ پھر وہ کچھ توقف کے بعد بولا۔ ’’جب الماس ہی نہیں ہے تو میں یہاں رک کر کیا کروں گا؟‘‘
وجاہت حسین اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کو کندھوں سے پکڑ کر بولا۔ ’’تم کہیں نہیں جائو گے اور نہ کہیں جانے کے بارے میں سوچو گے… تم ہمارے ساتھ رہو گے۔ ہمیشہ…!‘‘
زمان کا دل یکدم کھل اٹھا۔ وہ دل ہی دل میں مسکرایا اور اثبات میں سر ہلا کر گیٹ کی طرف چل پڑا۔
’’رکو زمان…!‘‘ وجاہت حسین نے اسے روکا اور اپنے ڈرائیور سے چھوٹی گاڑی کی چابی لے کر اسے تھما دی۔ ’’تم اب آنے جانے کے لئے یہ گاڑی استعمال کرو۔‘‘
زمان تو پہلے ہی رکشوں پر سفر کرکے تنگ آچکا تھا۔ وجاہت حسین نے اسے گاڑی کی چابی دے کر خوش کردیا۔ وہ اس بات پر بھی خوش تھا کہ دونوں میاں، بیوی فی الحال اسے اپنے خاندان سے الگ نہیں کرنا چاہتے۔
٭…٭…٭
مزید دن گزر گئے۔
الماس کے گھر والوں کو اس بات کی فکر تھی کہ الماس کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا تھا اور زمان اس بات پر پریشان تھا کہ وہ کہاں غائب ہوگئی۔
زمان دو بار اس جگہ ہو آیا تھا جہاں کا لیاقت نے بتایا تھا کہ وہ شام کو بڑے پائپ میں ہوتا ہے۔ اس سیمنٹ کے بڑے بڑے پائپوں میں نشئی رہتے تھے لیکن اب پولیس نے انہیں وہاں سے بھگا دیا تھا۔ زمان کو لیاقت کا پتا نہیں چل رہا تھا۔
زمان نے سوچا کہ اب کافی دن گزر گئے ہیں۔ الماس کے گھر والوں کے معمولات زندگی بھی معمول پر آگئے ہیں تو وہ یہ جائزہ لینے کے لئے کہ اس کے گھر والوں کے دل میں اس کے لئے کیا ہے، اس نے یہاں سے جانے کی ٹھانی۔
ایک صبح ناشتے کی میز پر جب وہ اپنے سوٹ کیس سمیت آیا تو سبھی نے اس کی طرف متحیر نگاہوں سے دیکھا۔ اس سے قبل کہ کوئی اس سے سوال کرتا، زمان بولا۔ ’’انکل…! میں جانے کی اجازت چاہوں گا۔‘‘
’’کہاں جانا چاہ رہے ہو؟‘‘ وجاہت حسین نے ششدر لہجے میں پوچھا۔
’’انکل! میرا آپ لوگوں کے ساتھ رشتہ الماس کی وجہ سے تھا۔ اب الماس…! میرا مطلب ہے کہ الماس کے بغیر میرے لئے یہاں رہنا مشکل ہے… میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔‘‘ زمان نے رک رک کر اپنی بات مکمل کی۔
وجاہت حسین نے ایک نظر غزالہ کی طرف دیکھا اور پھر کہا۔ ’’تم فی الحال ناشتہ کرو، اس پر ہم دوپہر کو بات کریں گے۔‘‘ وجاہت حسین نے ملازم کو آواز دی کہ اس کا سوٹ کیس کمرے میں پہنچا دے۔
دوپہر کو آفس میں کھانے کے دوران وجاہت حسین نے زمان کے ساتھ بات شروع کی۔ ’’زمان بیٹا…! میں نے دنیا گھومی ہے، طرح طرح کے لوگوں سے ملا ہوں۔ میں نے بہت سے نوجوانوں کو دیکھا ہے لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے تم جیسا نوجوان نہیں دیکھا جس کے دل میں لالچ نام کی کوئی چیز نہیں، جس نے اپنی بیوی کے ساتھ اتنی محبت کی کہ ہم والدین اس صدمے کو بھول کر اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے لیکن تم ہر لمحہ اس کی یادوں کے ساتھ جڑے ہو۔ میری نظر میں تم جیسا ہیرا ملنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم تمہارا نکاح رمشا کے ساتھ کردیں، تاکہ تم کہیں جا ہی نہ سکو۔‘‘
زمان نے سنا تو اس کے دل کی مراد جیسے پوری ہوگئی۔ اس نے وجاہت حسین اور اس کے گھر والوں کے سامنے بھرپور اداکاری کی، جس سے لگے کہ وہ الماس کی جدائی میں کسی کام کے قابل نہیں رہا۔ اس جاندار اداکاری کا ایوارڈ اسے رمشا کی صورت میں مل رہا تھا۔
’’سوری انکل…! ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ زمان نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
’’کیوں نہیں ہوسکتا!‘‘ وجاہت حسین نے پوچھا۔
’’کیونکہ میں ساری زندگی الماس کی یادوں کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’اسی لئے تو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تم اس کی
یادوں کے ساتھ رہو، اسی گھر میں جیو۔ الماس بوتیک کا کاروبار رمشا کے ساتھ مل کر کرو۔ ہم تمہاری زندگی میں کسی اور کو نہیں بلکہ الماس کی بہن رمشا کو داخل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’میں اب شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
’’تمہیں جینے کے لئے ایسا کرنا ہوگا۔‘‘
’’اب زندگی رہی کہاں انکل…!‘‘
’’تمہاری زندگی دوبارہ شروع ہوگی اور یہ زندگی ہم شروع کرائیں گے۔ اب انکار مت کرنا، یہ ہمارا فیصلہ ہے، اسے تمہیں قبول کرنا ہوگا۔‘‘ وجاہت حسین نے اسے بولنے سے روک دیا۔ زمان بھی چپ ہوگیا۔ وہ اس انکار کو طول دے کر اپنے پیر پر کلہاڑی نہیں مارنا چاہتا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد زمان چلا گیا۔ وہ سیدھا اپنے گھر پہنچا۔ اس نے کمرا بند کیا اور خوشی سے ناچنے لگا۔ ناچتے ناچتے جب وہ تھک گیا تو بستر پر گر کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ وہ بہت خوش تھا۔
٭…٭…٭
اس بات کے بعد زمان، وجاہت کے گھر نہیں گیا۔ وہ الماس بوتیک میں جاتا، وہاں کام دیکھتا اور فارغ ہوکر واپس اپنے گھر آجاتا۔ ایک کھٹکا اس کے دل میں ہر وقت موجود رہتا تھا کہ کہیں اچانک الماس نمودار نہ ہوجائے کیونکہ وہ پراسرار انداز میں غائب تھی اور زمان چاہتا تھا کہ ایسا ہونے سے قبل اس کا نکاح رمشا سے ہوجائے۔ ابھی اس کے اکائونٹ میں وجاہت حسین کی تجوری سے ایک سکہ بھی نہیں گیا تھا۔
اس شام جونہی وہ الماس بوتیک سے نکل کر گاڑی میں بیٹھا، برق رفتاری سے ایک نوجوان آکر اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ زمان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’تم کون ہو…؟‘‘
’’تمہارا دوست!‘‘ اس نے بے تکلفی سے جواب دیا۔
’’میرا دوست…؟ تم میرے دوست نہیں ہو۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’تم گاڑی چلائو، میں بتاتا ہوں۔‘‘ وہ نوجوان بولا۔
’’تم گاڑی سے باہر نکلو ابھی!‘‘ زمان نے اپنا لہجہ درشت کرلیا۔
’’دیکھ لو دوست! اگر میں گاڑی سے نیچے اتر گیا تو تم اس گاڑی کو نہیں پکڑ پائو گے، جس کے انتظار میں پلیٹ فارم پر کھڑے ہو۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ زمان کو اس کی بات سن کر حیرت ہوئی۔
’’تم گاڑی چلائو… میں بتاتا ہوں۔ میری بات سنو گے تو یقین ہے کہ تم مجھے دوست کہہ کر ہاتھ ملانے پر مجبور ہوجائو گے۔‘‘ نوجوان نے اطمینان سے کہا۔ زمان نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ کچھ دیر خاموشی حائل رہی، پھر نوجوان نے خاموشی توڑی۔ ’’میرا نام ارسلان ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارا نام زمان ہے اور تمہاری بیوی الماس تھی۔‘‘
’’تم مجھے اور الماس کو کیسے جانتے ہو؟‘‘
’’میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ وہ سامنے ایک ہوٹل آرہا ہے، اس کی چائے بہت مزیدار ہوتی ہے۔ وہاں گاڑی روک دو۔‘‘ ارسلان نے سامنے اشارہ کیا۔
سڑک سے نیچے اتر کر ایک طرف چائے کا ہوٹل تھا، جس کے اردگرد کرسیاں اور بینچ موجود تھیں، جہاں لوگ بیٹھے گپ شپ کررہے تھے۔ گاڑی ایک طرف کھڑی کرکے دونوں باہر نکلے اور کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
ارسلان نے چائے کا آرڈر دیا۔ زمان اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ ارسلان بولا۔ ’’تم نے بڑی پلاننگ سے الماس سے شادی کی، لیکن تمہاری پلاننگ کچا دھاگا ثابت ہوئی۔ الماس کو تمہارے بارے میں سب علم ہوگیا۔‘‘
’’تم کیا اول فول بک رہے ہو؟‘‘ زمان نے آواز دھیمی رکھتے ہوئے درشت لہجے میں کہا۔
ارسلان مسکرایا۔ ’’کام کی باتوں کو ایسے الفاظ سے منسوب نہیں کرنا چاہئے… آگے سنو۔ تم نے الماس کو ایک مکان میں باندھ کر چھوڑ دیا کہ وہ خوف سے مر جائے گی اور تم اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دو گے، لیکن یہاں بھی تمہارے ساتھ کچھ ایسا ہوا جس کے بارے میں تم نے سوچا نہیں تھا۔ تمہاری گاڑی نہر میں جاگری اور الماس اس ویران مکان سے غائب ہوگئی جو ابھی تک غائب ہے۔‘‘
اس دوران لڑکا دو کپ چائے رکھ کر چلا گیا۔ ارسلان نے ایک کپ زمان کے آگے بڑھا دیا اور دوسرے کپ سے اس نے ایک گھونٹ بھرا پھر کپ رکھ کر زمان کی طرف دیکھا، جس نے چائے کے کپ کو چھوا بھی نہیں تھا۔ وہ مسلسل ارسلان کو گھور رہا تھا۔
وہ بولا۔ ’’آگے سنو…! وہ زیرتعمیر مکان میرا ہے۔ اس رات میں اپنے دوست کے ساتھ اس مکان میں موجود تھا۔ پہلے تو ہمیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ چھوٹے گیٹ کا کنڈا اندر سے کس نے کھولا۔ ہم نے سوچا ہوسکتا ہے کہ یہ کسی نشئی کا کام ہو اور ابھی ہم روشنی کا انتظام کررہے تھے کہ ہمیں گیٹ کھلنے کی آواز آئی اور پھر تم لڑکی
لئے اندر آئے۔ تم نے اسے باندھا، اس سے بات کی اور دروازہ بند کرکے چلے گئے۔‘‘
اس انکشاف پر زمان کی آنکھیں حیرت سے ارسلان کے چہرے پر منجمد ہوگئیں۔ اس نے جلدی سے پوچھا۔ ’’الماس کہاں ہے؟‘‘
’’الماس زندہ ہے اور ہمارے پاس محفوظ ہے۔ تم آگے سنو! ہم کیونکہ خود جرائم کی دنیا کے چھوٹے سے باسی ہیں، اس لئے ہم نے تمہارا پیچھا کیا اور بہت کچھ جاننے میں کامیاب ہوگئے۔ اس نشئی لیاقت کو تم سے باتیں کرتے دیکھا تو اسے اٹھا لیا۔ اس سے تمہارے بارے میں پتا کیا اور ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ تم ایک ایسے مہرے ہو جسے ہم استعمال کرکے گھر بیٹھے بہت سا پیسہ حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘ ارسلان نے کہہ کر پھر چائے کا گھونٹ بھرا۔
’’اب تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ زمان نے پوچھا اور چائے کا کپ اٹھا لیا۔ اب اسے اطمینان تھا کہ الماس زندہ ہے اور اس کے پاس ہے۔ کم ازکم اب اس کے اچانک آنے کا خطرہ نہیں رہا تھا۔
’’ایک حقیقت اور سنو…! الماس کی چھوٹی بہن رمشا دراصل اس کے چچا کی بیٹی ہے۔ رمشا کے والدین میں شادی کے بعد اختلاف ہی رہا تھا۔ جب رمشا پیدا ہوئی تو میاں، بیوی میں علیحدگی ہوگئی۔ رمشا کی ماں کے اپنے خواب تھے، وہ سائوتھ افریقہ چلی گئی، جبکہ اس کا باپ امریکا میں گم ہوگیا۔ رمشا کی پرورش وجاہت حسین نے بالکل اپنی بیٹی کی طرح کی ہے اور یہ بات وہ کہنا پسند کرتے ہیں اور نہ سننا کہ رمشا ان کی بیٹی نہیں ہے۔‘‘
’’ہوں…!‘‘ زمان نے چائے پیتے ہوئے سر ہلا کر کہا۔
’’اب سنا ہے کہ تمہاری شادی رمشا سے کرنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے؟‘‘ ارسلان نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
’’یہ بات تم کیسے جانتے ہو…؟‘‘
’’کوئی گھر کا بھیدی ہوگا جو ہمارے نمک پر پل رہا ہوگا۔‘‘ اس بار اس کا لہجہ مزید معنی خیز ہوگیا تھا۔
’’مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ تمہارا کون بھیدی ہے، کون نہیں…! مجھے بس یہ بتائو کہ تمہارا منصوبہ کیا ہے؟‘‘
’’الماس کے بیگ میں اس کی چیک بکس ہیں۔ پہلے ہم اس کے اکائونٹ سے پیسہ نکالتے ہیں۔ بتائو وہ بیگ کہاں ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
زمان نے یاد کرنے کے بعد بتایا۔ ’’وہ میں نے ایک کوڑے دان میں پھینک دیا تھا۔ میں نے اس بیگ کی اچھی طرح سے تلاشی لی تھی، اس میں چیک بکس نہیں تھیں۔‘‘
’’اس بیگ میں ایک خفیہ جیب تھی، اس میں اس کا سامان موجود تھا۔ کیا واقعی تم نے وہ بیگ پھینک دیا تھا؟‘‘
’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘
’’اب تمہیں رمشا سے نکاح کرنا ہوگا۔ اس کے بعد مال کیسے بنانا ہے، وہ میں تمہیں بتائوں گا۔ یاد رکھنا اگر تم نے میری بات ماننے سے انکار کیا تو میں الماس کو سامنے لے آئوں گا اور تمہارا راز کھل جائے گا۔ اس کے بعد تم جانتے ہو کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔‘‘ ارسلان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اب جب تم میرے بارے میں اتنا کچھ جان چکے ہو تو مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی کم بختی کو آواز دوں۔‘‘
’’سمجھدار ہو۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’میں ایک نظر الماس کو دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ مجھے تسلی ہوجائے کہ تم سچ کہہ رہے ہو۔‘‘ زمان نے شرط رکھی۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اس کے لئے تمہیں سات بجے یہاں آنا ہوگا۔ ہم تمہیں اپنی گاڑی میں لے کر جائیں گے اور تمہاری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوگی تاکہ تمہیں پتا نہ چل سکے کہ ہم تمہیں کہاں لے کر گئے ہیں۔‘‘
’’مجھے منظور ہے۔‘‘ زمان بولا۔
’’ٹھیک ہے، پھر سات بجے یہاں آجانا۔‘‘ ارسلان اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک طرف چلا گیا۔
زمان چائے کا بل دے کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اسی وقت لیاقت سامنے آگیا۔ زمان اسے دیکھ کر رک گیا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر آہستہ سے بولا۔ ’’چپ چاپ میری گاڑی میں بیٹھ جائو۔‘‘ زمان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور لیاقت پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ زمان نے تیزی سے کار آگے بڑھائی۔ زمان کار کو سڑکوں پر دوڑاتا شہر کے ہجوم سے باہر نکل گیا۔ اس نے کار کی رفتار بدستور تیز رکھی تھی۔ لیاقت کو اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی کہ وہ اسے کہاں لے جارہا ہے۔ لیاقت نے گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔ ’’تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟‘‘
’’چپ چاپ بیٹھے رہو۔‘‘ زمان غصے سے بولا۔
’’گاڑی روکو… مجھے یہیں اترنا ہے… گاڑی روکو!‘‘ لیاقت چلانے لگا۔ اس سڑک کے دائیں بائیں کھیت تھے۔ زمان نے ایک دم کار روک دی اور دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اس نے کار کا پچھلا دروازہ


کھولا اور لیاقت کو گریبان سے پکڑ کر باہر کھینچا۔ وہ بے جان جسم کے ساتھ کار سے باہر آگیا۔
زمان نے اپنے پیر کی ٹھوکر سے کار کا دروازہ بند کیا اور اسے کھیت میں لے جاکر دھکادیا اور اس کے گلے پر ہاتھ رکھ کر دبانا شروع کردیا۔ لیاقت نے مزاحمت کی کوشش کی۔
زمان اس کا گلا دباتے ہوئے بولا۔ ’’تم نے میرا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ مجھے پھر سڑک پر لے آئے۔ تمہیں میں نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
لیاقت کی مزاحمت کمزور ہوگئی۔ اچانک زمان کو لگا کوئی کھیت میں موجود ہے۔ زمان نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا۔ اسے کچھ فاصلے پر کسی کے چلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس کی گرفت یکدم ڈھیلی ہوگئی تھی۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ لیاقت کا جسم ساکت تھا۔
زمان تیزی سے اپنی کار کی طرف چلا گیا۔ اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور کار کو وہاں سے نکال کر لے گیا۔
وہاں ایک کتا تھا جس کے چلنے کی وجہ سے کھیت میں آواز پیدا ہورہی تھی۔ لیاقت اداکاری کرتے ہوئے ساکت ہوگیا تھا۔ اس میں شک نہیں تھا کہ اس کا گلا دبنے سے سانس رک رہی تھی اور وہ موت کی طرف جارہا تھا لیکن اس آواز کی وجہ سے جیسے ہی اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی، لیاقت نے آہستہ سے گہری سانس لی اور پھر سانس روک کر یوں ظاہر کیا جیسے اس کا دم نکل گیا ہو۔ جونہی زمان اسے چھوڑ کر گیا، وہ فوراً اٹھا اور اپنی سانس درست کرنے لگا۔ وہ زندہ بچ گیا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ زمان سے سیدھے انداز میں نہیں ملے گا۔
لیاقت تیزی سے کھیتوں سے نکل کر سڑک پر آگیا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا۔ دور تک ویرانی تھی۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا آگے بڑھا۔ جونہی اس نے چھوٹی سڑک سے نکل کر بڑی سڑک پر قدم رکھا، ایک کار آئی اور اس نے لیاقت کو ٹکر مار دی۔ لیاقت ایک طرف جاگرا۔
کار پہلے تو آگے چلی گئی، پھر یکدم وہ رک گئی۔ کار کا دروازہ کھلا اور اندر سے اویس باہر نکلا۔ وہ دوڑتا ہوا لیاقت کی طرف بڑھا۔ لیاقت زخمی اور بے ہوش تھا۔ اویس نے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے جو اس دن نہر کے پاس کھڑا زمان سے باتیں کررہا تھا۔ اس نے فوراً اسے اٹھایا اور اپنی کار میں ڈال کر سیدھا اسپتال لے گیا۔ وہاں اس کا ایک دوست ڈاکٹر تھا۔ اویس نے اسے بتایا۔ ’’اس غریب آدمی کو کوئی ٹکر مار گیا تھا، میں اٹھا لایا ہوں، اس کی مرہم پٹی کردو تاکہ اس کی جان بچ جائے۔‘‘
اسپتال میں لیاقت جلد ہی ہوش میں آگیا۔ چوٹیں گہری نہیں تھیں۔ مرہم پٹی کے بعد اویس اسے ساتھ لے کر آگیا۔ اویس نے پرس سے کچھ پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھا کر کہا۔ ’’یہ پیسے رکھ لو۔‘‘
لیاقت نے للچائی نظروں سے پیسوں کی طرف دیکھا اور جونہی اس نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا، اویس نے ایک دم نوٹ پیچھے کرکے کہا۔ ’’یہ پیسے تمہارے ہیں۔ بس مجھے اتنا بتا دو کہ تم اس دن نہر کے پاس زمان سے کیا باتیں کررہے تھے؟‘‘
لیاقت نے زمان کا نام سنا تو چونک کر اس نے اویس کی طرف دیکھا۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ وہ کون ہے۔ کہیں پولیس والا تو نہیں جو اس کی تلاش میں اس تک پہنچ گیا ہو؟
’’کون زمان…؟‘‘ لیاقت نے انجان بن کر پوچھا۔
’’چند دن پہلے تم نہر کے پاس کھڑے باتیں کررہے تھے۔‘‘ اویس نے یاد دلانے کی کوشش کی۔
لیاقت نے یاد کرنے کی اداکاری کی اور پھر بولا۔ ’’بس جی! نشہ کرنے کی عادت ہے۔ کسی کے پاس جاکر کچھ مانگ لیتا ہوں۔‘‘
لیاقت کا جواب سن کر اویس اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ اسے اپنی احمقانہ سوچ پر غصہ آگیا کہ اس نے خواہ مخواہ اس کی اتنی مدد کی یہ بات تو اسے فوراً ہی سمجھ جانی چاہئے تھی۔
اویس نے پیسے اسے دے دیئے۔ ایک چوک پر اس نے کار روک دی اور بولا۔ ’’اتر جائو۔‘‘
لیاقت نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور باہر نکلنے سے قبل اس سے پوچھا۔ ’’ایک بات پوچھوں صاحب…؟‘‘
’’پوچھو…!‘‘
’’آپ پولیس والے ہیں؟‘‘ لیاقت نے پوچھا۔
’’میں پولیس والا نہیں ہوں، تم کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘ اویس نے کہا۔
’’اس دن جس سے میں باتیں کررہا تھا، آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘
’’ہاں! میں جانتا ہوں۔‘‘ اویس بولا۔
’’آپ کا وہ دوست ہے؟‘‘
’’وہ میرا دشمن ہے۔ تم بتائو اس دن کیا بات کررہا تھا وہ…؟‘‘
’’وہ ایک نمبر کا کمینہ ہے، فراڈیہ ہے۔ اس نے آج مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔‘‘ لیاقت بولا۔
’’تم اس کے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ اویس نے پوچھا۔
’’میں اس کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ میں
چاہتا ہوں کہ اس کا پردہ فاش کردوں۔‘‘ لیاقت کے لہجے میں غصہ تھا۔
’’لیکن تمہاری بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ سب یہی کہیں گے کہ تم ایک نشئی ہو، جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘ اویس یہ کہہ کر سوچ میں پڑ گیا۔ اسے وجاہت حسین کی وہ بات یاد آگئی جب اس نے الماس کے بارے میں بات کی تھی تو وجاہت حسین نے اسے ڈانٹ کر کہا تھا کہ آئندہ اس بارے میں سوچنا بھی نہیں اور میرے گھر بھی اس وقت آیا کرو جب کوئی بہت ضروری کام ہو۔
اویس کو اپنی حیثیت کا اچھی طرح علم تھا۔ اگر وہ لیاقت کو وجاہت حسین کے سامنے لے جاتا تو وہ شاید ہی اس کی بات پر یقین کرتا۔
’’آپ ایک کام کریں، مجھے زمان کے پاس لے جائیں اور ہماری باتیں چھپ کر سن لیں اور ساتھ ویڈیو بھی بنا لیں اور یہ ویڈیو اس کے سسرال والوں کو دکھا دیں۔‘‘ لیاقت نے تجویز پیش کی۔
’’ہاں! یہ ٹھیک ہے۔ میں کسی طرح تمہیں اس کے سامنے لے جاسکتا ہوں اور چھپ کر اس کی وہ باتیں ریکارڈ کرسکتا ہوں جو وہ تم سے کرے گا۔ بتائو کب چلیں اس کے پاس…؟‘‘ اویس رضامند ہوگیا۔
’’آپ کہتے ہیں کہ وہ آپ کا دشمن ہے پھر آپ مجھے اس کے پاس کیسے لے کر جائیں گے؟‘‘
’’ہماری دشمنی اور طرح کی ہے۔ میں تمہیں اس کے پاس لے جاسکتا ہوں، یہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ تم بتائو کہ اس کے پاس کب چلو گے؟‘‘
’’کل اسی وقت آپ مجھے نہر کے پاس مل جائیں لیکن یاد رکھیں، میں اس کے پیسے الگ لوں گا۔‘‘
’’تم فکر مت کرو، پیسے مل جائیں گے۔ کل تک میں اس کے پاس جانے کا کوئی بہانہ سوچ لیتا ہوں۔ چلو آئو میں وہاں چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اویس نے کچھ سوچتے ہوئے ہامی بھر لی۔
٭…٭…٭
شام کو زمان اس ہوٹل میں موجود تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ارسلان آگیا۔ اس نے اس کے پاس آکر کہا۔ ’’میرے ساتھ آجائو۔‘‘
زمان اس کے ساتھ چلنے لگا۔ کچھ فاصلے پر ایک کار کھڑی تھی۔ ارسلان نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور وہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے کار آگے بڑھا دی۔
کچھ دور جاکر ارسلان نے کار روک دی اور ایک آدمی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ارسلان نے کار آگے بڑھا دی اور بولا۔ ’’ہم تمہاری آنکھوں پر پٹی باندھنے لگے ہیں۔‘‘
پچھلی سیٹ پر براجمان آدمی نے زمان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ ارسلان نے کار چلا دی اور بائیں طرف موڑ دی۔ وہ ویران سڑک تھی۔ ارسلان نے کار کی رفتار آہستہ رکھی تھی۔ زمان کو اندازہ نہیں تھا کہ کار کی رفتار کتنی ہے، اس لئے بیس منٹ کا راستہ طے کرنے میں وقت لگ گیا اور زمان کو یہ گمان ہورہا تھا کہ وہ کافی فاصلہ طے کرچکے ہیں۔
اچانک ارسلان نے کار روکی اور کار کا اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے کہا۔ ’’آج پھر سڑک پر ٹریلر الٹ گیا ہے۔‘‘
اب کار کالونی کی طرف جانے والی سڑک پر دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ کار ایک مکان کے سامنے رکی اور ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے جلدی سے اتر کر گیٹ کھول دیا۔ ارسلان نے کار اس مکان کے گیراج میں کھڑی کردی اور گیٹ بند ہوگیا۔ اس آدمی نے زمان کو باہر نکالا۔ زمان نے کار سے باہر نکلتے ہی جو آواز سنی، وہ ایسی تھی جیسے کوئی لوہے کی چیز جھول رہی ہو اور وہ کسی دوسری لوہے کی چیز سے ٹکرا رہی ہو۔ زمان آواز سنتا ہوا اس آدمی کے ساتھ اندر چلا گیا۔ زمان کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے اس آدمی کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
وہ اسے لائونج میں لے گئے۔ ارسلان کے اشارہ کرنے پر اس آدمی نے اس کی آنکھوں سے پٹی کھول دی۔ وہ لائونج سے کمرے میں چلے گئے۔ کمرے میں سامنے دیوار میں شیشہ لگا ہوا تھا۔ وہ شیشہ ایسا تھا کہ اس کمرے میں بیٹھ کر دوسرے کمرے میں دیکھا جاسکتا تھا، لیکن دوسرے کمرے والا اس کمرے میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سامنے الماس اداس بیٹھی تھی۔
جونہی اس آدمی نے زمان کی آنکھوں کے آگے سے سیاہ پٹی ہٹائی تو زمان نے کئی بار آنکھیں جھپک کر سامنے دیکھا۔ وہ الماس کو دیکھ کر چونک پڑا۔ الماس کو زندہ دیکھ کر اسے تسلی ہوگئی تھی۔
’’اب تو کوئی شک نہیں کہ الماس زندہ ہے؟‘‘ ارسلان نے اس کے کان میں آہستہ سے کہا۔
’’نہیں…!‘‘ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔
’’اب ہم اپنا کام شروع کریں؟‘‘
’’میں راضی ہوں۔ وہ لوگ میرا نکاح رمشا سے کریں گے تو کام شروع ہوگا۔‘‘ زمان بولا۔
’’ہفتہ دس دن میں وہ تمہارا نکاح رمشا سے کردیں گے، کیونکہ وجاہت حسین ایک کاروباری آدمی ہے۔ وہ ایک ایسا ملازم ہاتھ سے جانے نہیں
چاہتا جو اس کی نظر میں ایماندار اور مخلص ہے۔ الماس بوتیک کی چین کو تم ہی سنبھال سکتے ہو، یہ وجاہت کا خیال ہے۔ اسے تم پر بہت بھروسہ ہے۔‘‘ ارسلان مسکرایا۔
’’اب جیسے ہی میرا نکاح رمشا سے ہوگا، میں وہ کروں گا جو تم کہو گے۔‘‘ زمان بولا۔
’’اب چلیں…؟‘‘ ارسلان نے پوچھا۔
’’چلو…!‘‘ زمان اپنی جگہ سے اٹھا اور اس آدمی نے پھر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ وہ کار میں بیٹھ گیا۔ اس بار ارسلان کی بجائے وہ آدمی کار چلا رہا تھا۔
وہ کار اس علاقے سے نکال کر بہت دیر تک سڑکوں پر کار دوڑاتا رہا، پھر ایک جگہ کار روک کر اس نے زمان کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی۔
زمان نے پہلے اس آدمی کی طرف دیکھا اور پھر دائیں بائیں دیکھا۔ زمان کچھ کہے بغیر باہر نکلا تو وہ آدمی کار لے گیا۔ زمان کچھ دیر کھڑا دیکھتا رہا کہ یہ علاقہ کون سا ہے۔ اس نے غور کیا تو سمجھ گیا کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں وجاہت حسین رہائش پذیر ہے۔ چار گلیاں چھوڑ کر وجاہت حسین کا بنگلہ تھا۔ وہ اس جانب چل پڑا۔
٭…٭…٭
غزالہ نے رمشا سے زمان کے ساتھ نکاح کی بات کی تو رمشا یکدم چونکی، لیکن اس نے یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ اسے یہ بات سن کر حیرت ہوئی ہے۔
الماس کے گم ہونے کے ایک ماہ کے بعد اس کا نکاح زمان کے ساتھ ہونا حیرت کا باعث تھا۔ وہ اپنی بیٹی کو اتنی جلدی بھول جائیں گے، یہ اس کے گمان میں نہیں تھا۔ وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ ایسی کیا مجبوری ہے کہ الماس کا مزید انتظار کرنے کی بجائے اس کا نکاح رمشا سے کرنے پر رضامند ہیں۔
’’کیا سوچ رہی ہو رمشا…؟‘‘ غزالہ نے رمشا کو خاموش دیکھ کر پوچھا۔
رمشا پر ان کے احسانات کا اتنا بوجھ تھا کہ اسے اپنا سر اٹھانا دوبھر تھا۔ پھر بھی اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ ’’مما…! کیا آپ نے الماس کا انتظار چھوڑ دیا ہے؟‘‘
اس کی بات سن کر غزالہ کے چہرے پر اداسی عیاں ہوگئی۔ ’’ہم نے الماس کا انتظار نہیں چھوڑا، لیکن تمہارے ڈیڈی کا کہنا ہے کہ زمان جیسا ایماندار اور مخلص لڑکا اس دور میں ملنا مشکل ہے۔ الماس بوتیک کی چین کو زمان سے بہتر کوئی اور نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ اس میں لالچ اور بے ایمانی نہیں ہے۔‘‘
غزالہ کا جواب سن کر رمشا کی سمجھ میں آگیا کہ وجاہت حسین کو اپنے کروڑوں کے اس بزنس کے تحفظ کے لئے زمان جیسے چوکیدار کی ضرورت ہے۔ انہیں فکر تھی کہ وہ زمان کو کہیں کھو نہ دیں۔
’’تم کیا کہتی ہو…؟‘‘ غزالہ نے پوچھا۔
رمشا کے لئے انکار کرنا مشکل تھا، جس دودھ پیتی بچی کو انہوں نے پال پوس کر بڑا کیا تھا اور اپنی اولاد کی طرح رکھا تھا، وہ انکار کیسے کرسکتی تھی۔ چنانچہ وہ بولی۔ ’’جیسا آپ چاہیں۔‘‘
غزالہ نے اسے پیار سے گلے لگا لیا اور اپنا موبائل فون اٹھا کر وجاہت حسین کا نمبر ملا کر ایک طرف چلی گئی۔ اسی دوران رمشا نے تیزی سے ایک میسج کیا اور کچھ دیر کے بعد اس میسج کا جواب پڑھ کر وہ اٹھی اور غزالہ کے قریب جاکر بولی۔ ’’مما! میں دوست کی طرف جارہی ہوں۔‘‘
’’اس وقت شام ہوگئی ہے، چلی جائو لیکن جلدی آجانا۔‘‘ غزالہ نے وقت دیکھ کر مسکراتے ہوئے اجازت دے دی۔
رمشا نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور تیزی سے کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گئی۔ اس کی کار شہر کے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے رکی اور وہ اندر چلی گئی اور ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جاتے ہی بولی۔ ’’اب سکون سے بیٹھنے کا وقت نہیں، اپنا پیار بچانا ہے تو کچھ کرنا پڑے گا۔‘‘
’’کیا ہوا… خیریت تو ہے؟‘‘ بڑی سی میز کے پیچھے بیٹھا خوبصورت نوجوان عاشر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔ رمشا اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی اور اس نے اختصار سے اپنی شادی کی روداد اس کے گوش گزار کردی۔
’’وہ الماس کو بھول کر اتنی جلدی تمہارے نکاح کے چکر میں پڑ گئے؟‘‘ عاشر بولا۔ وہ اس ریسٹورنٹ کا مالک تھا۔
’’میرے ڈیڈی اب باپ بن کر نہیں بلکہ ایک بزنس مین بن کر سوچ رہے ہیں۔ الماس بوتیک پر لگی کروڑوں کی سرمایہ کاری کی دیکھ بھال کے لئے زمان سے بہتر لڑکا ان کی نظر میں کوئی اور نہیں ہے۔ اب وہ دل سے نہیں، دماغ سے سوچ رہے ہیں۔ اس دماغ سے جو ایک کاروباری شخص کا ہے جسے صرف نفع سے پیار ہے۔‘‘ رمشا بولی۔
’’تم نے انکار نہیں کیا؟‘‘ عاشر نے پوچھا۔
’’جس کے سر پر احسانوں کا پہاڑ کھڑا ہو، وہ انکار نہیں کیا کرتے بلکہ کسی غلام کی طرح اقرار میں سر ہلاتے ہیں اور میں نے
اقرار میں سر ہلا دیا ہے۔‘‘ رمشا بولی۔
’’غلام بغاوت پر بھی تو اتر آتے ہیں اور پھر تمہاری محبت جو دائو پر لگ رہی ہے۔‘‘ عاشر نے کہا۔
’’ میں بغاوت پر اتر آئوں اور احسان فراموشی کا تمغہ لے کر ایک طرف ہوجانے سے بہتر میں نے یہ سمجھا کہ سعادت مندی کا دامن بھی نہ چھوڑوں اور ان کو ان کے ارادوں میں کامیاب بھی نہ ہونے دوں۔‘‘ رمشا کا لہجہ معنی خیز ہوگیا تھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا…؟‘‘
’’اب تم ایسا سوچو کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، کوئی ایسی چال چلو کہ ان کو مات ہوجائے اور انہیں پتا بھی نہ چلے کہ ہمیں مات دینے والی رمشا ہے۔‘‘
عاشر سوچنے لگا۔ کچھ لمحے توقف کے بعد اس نے کہا۔ ’’جب بساط بچھا دی جاتی ہے تو پھر فتح کی کوشش میں مہروں کو چلانے کے لئے دماغ اور انگلیوں کا استعمال ہوتا ہے۔‘‘
’’میں بھی یہی چاہتی ہوں۔ کچھ بھی کرو بس زمان کو راستے سے ہٹا دو لیکن اتنا یاد رہے کہ کسی کو شک محسوس نہ ہو کہ اس کے پیچھے کون ہے اور پھر ہم دونوں کی شادی ہوجائے۔‘‘ رمشا بولی۔
عاشر کی عمر زیادہ نہیں تھی لیکن وہ ریسٹورنٹ کے کاروبار کے سلسلے میں دنیا گھوما تھا۔ اس نے بہت کچھ دیکھا تھا۔ اس کا دماغ غیر معمولی سوچ کا حامل تھا۔ اس نے ریسٹورنٹ کے کاروبار میں کامیابی پانے کے بعد اپنے باپ کے شراکت دار کو یوں نکال باہر کیا تھا جیسے دودھ میں پڑی مکھی نکال دی جاتی ہے اور اس شرکت دار کو آج تک علم نہیں ہوسکا تھا کہ اس کے خلاف سازش کیسے تیار ہوئی اور کس طرح اسے کاروبار سے الگ کیا گیا۔ وہ تو اب بھی اسی اعتماد اور یقین سے ان سے ملتا تھا۔
’’تم بے فکر ہوجائو۔ اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ اپنی محبت کیسے بچانی ہے۔ بس تم سعادت مند بیٹی کی طرح اس گھر میں رہو۔‘‘
رمشا اپنی جگہ سے اٹھی۔ ’’ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ جانے کب ڈیڈی نکاح خواں کو لے آئیں۔‘‘
’’زمان کے ساتھ اب میں سائے کی طرح چپک جائوں گا۔ مجھے امید ہے کہ کوئی ایسا سوراخ مل جائے گا جس سے اپنی سازش کا دھواں چھوڑنے کی آسانی ہوجائے گی اور اس دھویں میں کسی کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔‘‘ عاشر نے پریقین لہجے میں کہا۔
رمشا کو اس پر پورا یقین تھا۔ وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد کچھ دیر عاشر سوچتا رہا اور پھر اس نے فون اٹھا کر ایک نمبر ملایا۔
٭…٭…٭
زمان نے اپنی نظروں سے الماس کو زندہ دیکھ لیا تھا۔ اب اس کے سامنے دو مسئلے تھے۔ پہلا یہ کہ الماس زندہ تھی اور کسی بھی وقت وہ الماس کو منظرعام پر لا کر اس کا تختہ الٹ سکتے تھے۔ زمان ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ ان کی بات بلاچوں چرا مانتا رہا تو ہوسکتا تھا کہ وہ ان کا مطالبہ پورا کرتے کرتے دلدل میں دھنس جائے اور اس کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہوجائے۔
زمان نے ارسلان کے ساتھ کام کرنے کی ہامی اس لئے بھری تھی کہ وہ یہ دیکھ سکے کہ الماس زندہ ہے۔ اب ابہام دور ہوگیا تھا اور زمان یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ وہ کیسے الماس کو اس جگہ سے نکال کر اسے اپنے ہاتھوں سے مار کر اس لٹکتی تلوار کو ہمیشہ کے لئے توڑ دے اور ارسلان سے بھی پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہوجائے۔
اب زمان کے لئے سب سے بڑی الجھن یہ تھی کہ اس نے وہ جگہ نہیں دیکھی تھی جہاں الماس کو رکھا گیا تھا۔ اس کا الماس تک پہنچنا ناممکن تھا۔
وہ اس وقت اپنے گھر کے کمرے میں سوچتے ہوئے ٹہل رہا تھا۔ اس کے پاس کوئی حل نہیں تھا۔ اچانک اسے لیاقت کا خیال آیا۔ پہلی بار اسے تاسف ہوا کہ اس نے غصے میں لیاقت کو مار دیا، جبکہ وہ لیاقت کو کچھ پیسے دے کر یہ پوچھ سکتا تھا کہ ارسلان کون ہے، کیونکہ ارسلان نے خود بتایا تھا کہ وہ لیاقت سے ملا تھا۔ لیاقت یقینا یہ جانتا ہوگا کہ ارسلان کہاں رہتا ہے۔
زمان کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا۔ اسے اس بات کا بھی افسوس تھا کہ وہ امیر کبیر گھرانے کا داماد بننے کے باوجود ابھی تک تہی دست تھا۔ اب سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ارسلان سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔
اچانک زمان چونکا۔ اسے یاد آیا کہ اس سڑک پر ٹریلر الٹا ہوا تھا اور راستہ بند تھا۔ زمان نے گاڑی نکالی اور چائے کے ہوٹل کے پاس جہاں ٹرک اور ٹریلر کھڑے ہوتے تھے، وہاں چلا گیا۔ ایک چارپائی پر تین ڈرائیور بیٹھے تھے۔ ان کے پاس جاکر اس نے پہلے سلام کیا اور پھر پوچھا۔ ’’ایک بات پوچھنی تھی۔ آج کہیں


نزدیک کوئی ٹریلر الٹا ہے؟‘‘
ان میں سے ایک نے فوراً کہا۔ ’’ہاں! ایک ٹریلر الٹ گیا ہے۔ گل جان کا ٹریلر ہے۔ کیا آپ کا بھی مال تھا اس میں…؟‘‘
’’بس! کچھ معلومات لینی تھی، مجھے بتا دیں کہ وہ کہاں الٹا ہے۔‘‘ زمان نے پوچھا تو اس نے تفصیل سے اس جگہ کے بارے میں بتا دیا۔
زمان گاڑی میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گیا۔ وہ ایک مصروف سڑک تھی جو بائی پاس سے ملتی تھی۔ اس سڑک سے ملحق ایک کالونی تھی۔ اس سڑک پر ایک ٹریلر الٹا ہوا تھا۔ اس کے گرد کچھ لوگ اب بھی جمع تھے اور کچھ دیر قبل ہی کرین وہاں پہنچی تھی۔ زمان نے دائیں طرف دیکھا تو ایک سڑک نظر آئی۔ زمان نے اس سڑک پر گاڑی ڈال دی۔ وہ سڑک کالونی کے اندر چلی گئی تھی۔
زمان نے ایک طرف کار کھڑی کرکے سوچا کہ یہاں تک آنے میں اسے اتنا ہی وقت لگا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ارسلان کی کار یہیں کہیں کھڑی ہوئی تھی۔ زمان دائیں بائیں بنے گھروں کو دیکھنے لگا۔ اچانک اس کی نظر سامنے ایک کرسی پر بیٹھے چوکیدار پر پڑی۔ وہ گاڑی اس کے پاس لے گیا اور چوکیدار سے پوچھا۔ ’’یہاں ارسلان صاحب رہتے ہیں۔ بتا سکتے ہیں کہ ان کا گھر کہاں ہے؟‘‘
چوکیدار نے کچھ سوچا پھر بولا۔ ’’اس پوری لائن میں ارسلان نام کا کوئی آدمی نہیں رہتا۔‘‘
ایک بار زمان پھر اسی جگہ کھڑا تھا جہاں سے کچھ فاصلے پر ٹریلر الٹا پڑا تھا۔ کچھ دیر کے بعد اس نے پھر کالونی کا چکر لگایا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیسے پتا کرے کہ ارسلان کہاں رہتا ہے۔ اچانک اس کی سماعت میں ایک آواز گونجی جو اس نے بندھی آنکھوں کے ساتھ کار سے اترتے ہوئے سنی تھی۔ کوئی لوہے کی چیز کسی دوسری چیز سے ٹکرا رہی تھی۔ زمان نے دائیں بائیں دیکھا۔ ایک مکان کے گیٹ کے ساتھ ایستادہ کھمبے کے ساتھ لگی لائٹ کا پائپ ٹوٹ کر جھول رہا تھا۔ جونہی ہوا چلتی تھی، وہ خالی پائپ کھمبے سے ٹکرانے لگتا اور آواز پیدا ہوتی۔
زمان نے اس کھمبے کے سامنے والے مکان کی طرف دیکھا۔ اس مکان کا گیراج اوپن تھا اور یہی وہ آواز تھی جو اس نے سنی تھی۔ زمان فوراً کار میں بیٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔ اب وہ سوچ رہا تھا کہ اس مکان میں جا کر الماس کو کس طرح قتل کرے کہ کوئی سراغ بھی پیچھے نہ رہے۔
زمان نہر کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر لیاقت پر پڑی۔ وہ ایک کار سے باہر نکل رہا تھا۔ زمان کے لئے حیرت کی بات تھی کہ لیاقت زندہ کیسے بچ گیا۔ زمان نے اپنی کار ایک طرف روک دی۔ لیاقت کار سے نکل کر تیزی سے سڑک کی دوسری طرف چلنے لگا، پھر اس کی نظر کار میں بیٹھے اویس پر پڑی۔ زمان فوراً پلٹا اور اپنی کار میں بیٹھ گیا۔ اس کی نگاہیں اویس کی گاڑی اور لیاقت پر تھیں۔ لیاقت اس طرف بڑھا، جہاں زمان کی کار کھڑی تھی۔ اویس نے اپنی کار آگے بڑھا دی تھی۔ اس کی کار دور ہوتی جارہی تھی اور لیاقت چلتا ہوا اس کی کار کے قریب آرہا تھا۔
جونہی لیاقت اس کی کار کے سامنے سے گزرنے لگا، زمان بجلی کی سی تیزی سے باہر نکلا اور کار کا دروازہ کھولا اور لیاقت کو عقب سے پکڑ کر کار کے اندر ڈالا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اس نے کار کے دروازے لاک کردیئے۔ یہ سب اتنی سرعت سے ہوا کہ لیاقت کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔
لیاقت نے جب زمان کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔ وہ بولا۔ ’’میری قسمت ہی خراب ہے۔ گاڑی سے ٹکراتا ہوں تو تمہارے ہاتھ لگ جاتا ہوں۔ پھر گاڑی سے ٹکراتا ہوں، کسی اور کے ہاتھ لگ جاتا ہوں۔ وہ چھوڑتا ہے تو پھر تم سامنے آجاتے ہو۔ میں تو گیند بن کے رہ گیا ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اب مجھے جان سے مارنے کی کوشش مت کرنا۔ میں ابھی جینا چاہتا ہوں۔‘‘ لیاقت نے اس کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ دیئے۔
’’تم زندہ کیسے بچ گئے؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’اب بچ گیا ہوں تو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ لیاقت روہانسا ہوکر ایسے بولا جیسے ابھی رو دے گا۔
’’میں اب تمہیں کچھ نہیں کہوں گا، بے فکر ہوجائو بلکہ اب تم میرے دوست ہو۔‘‘ زمان نے اس سے نرم لہجے میں بات کی۔
’’مجھے مارنے کی کوئی نئی چال سوچی ہے تم نے…! میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی تمہارے سامنے نہیں آئوں گا۔ مجھے جانے دو۔‘‘ لیاقت بولا۔
’’میں نے کہا ہے کہ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔ یہ بتائو تم اس کے ساتھ کیا کررہے تھے؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’جب تم میرا گلا دبا کر چلے گئے تو میں اٹھا اور جونہی
آیا، اس کی کار نے مجھے ٹکر مار دی۔ شکر ہے اس کی کار کی رفتار زیادہ تیز نہیں تھی، تھوڑی چوٹیں آئیں۔ اس نے میری مرہم پٹی کرا دی۔‘‘
’’یہ سچ ہے یا تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو؟‘‘ زمان کے دیکھنے کا انداز کچھ ایسا تھا کہ لیاقت ایک بار پھر ڈر گیا اور ساری بات اس کے گوش گزار کردی۔ زمان اس کی بات سنتا رہا اور جیسے ہی لیاقت چپ ہوا، زمان بولا۔ ’’اس کا بھی علاج کرنا پڑے گا۔‘‘
’’تم اس کا جو چاہو علاج کرو لیکن مجھے جانے دو۔‘‘ لیاقت نے ایک بار پھر استدعا کی۔
زمان نے کار اسٹارٹ کرکے آگے بڑھا دی۔ ’’اب تم کہیں نہیں جائو گے۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ لیاقت اس کی بات سن کر پریشان ہوگیا۔
’’تم میرے ساتھ رہو گے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کہاں رہوں گا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ (جاری ہے)