Serhi | Last Episode 4

504
’’جہاں میں رہتا ہوں۔‘‘
’’مگر کیوں…؟‘‘ لیاقت اور مزید پریشان ہوگیا۔
’’یہ میں وہاں جاکر بتائوں گا۔ اب تم چپ چاپ بیٹھو۔‘‘ زمان نے اتنا کہہ کر کارکی رفتار تیز کردی۔
لیاقت کا دل خوف سے دھڑکنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید اب زمان اسے کسی ایسی جگہ لے جاکر مارے کہ وہ زندہ نہ بچ سکے۔
زمان اسے اپنے گھر لے گیا۔ اس نے پہلے اسے نہانے کو کہا، اچھا سوٹ پہننے کو دیا اور مزیدار کھانا کھلانے کے بعد اس کے دل میں جو ابہام تھا وہ دور کردیا۔ لیاقت کو یقین نہیں آرہا تھا کہ جو اسے جان سے مارنے کے درپے تھا، اب وہ اس کی اتنی خدمت کیوں کررہا ہے؟
٭…٭…٭
لیاقت مزے سے آرام دہ بستر پر سویا اور صبح اسے بہترین ناشتہ ملا۔ جب وہ ناشتے سے فارغ ہوا تو زمان اسے اوپر والے حصے میں لے گیا۔ وہ کمرا جس کی بڑی سی کھڑکی باہر کی طرف کھلتی تھی، اس کے زمان نے پردے ہٹا دیئے سامنے آسمان اور گھر دکھائی دینے لگے۔ زمان لیاقت کو ایک آرام دہ کرسی پر بٹھانے کے بعد خود بھی اس کے سامنے پڑی کرسی پر براجمان ہوگیا۔ لیاقت کو محسوس ہونے لگا کہ زمان نے جو اس کی خدمت کی ہے اب وہ اس کا حساب اپنے انداز میں لے گا۔
’’وقت ضائع کئے بغیر مجھے یہ بتائو کہ ارسلان کون ہے؟‘‘
زمان کا سوال سن کر لیاقت نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ پھر بولا۔ ’’آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘
’’جو میں نے پوچھا ہے پہلے اس کا جواب دو۔‘‘ زمان کے لہجے میں متانت تھی۔
’’بڑا خطرناک آدمی ہے۔ تین سال پہلے اس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے ایک کام کیا تھا اس کا، تب سے یہ مجھے اچھی نظروں سے دیکھتا ہے۔‘‘ لیاقت نے اپنا سینہ پھلا کر کہا۔
’’مجھے اس کے گھر کے اندرجانا ہے۔ تم میری مدد کرو۔ میں تمہاری جیبیں نوٹوں سے بھردوں گا۔‘‘ زمان اس کے قریب ہوکر بولا۔
لیاقت نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر مسکرا کر طنزیہ لہجے میں کہا۔ ’’جیسے پہلے میری جیبیں نوٹوں سے بھری تھیں؟‘‘
زمان بولا۔ ’’میں بالکل سنجیدہ ہوں۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس بعد میں ہوا تھا۔ اگر میں اسی وقت تمہارے ساتھ ہاتھ ملا لیتا تو مجھے ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔‘‘
’’اس بار تم نے میرے ساتھ سلوک تو اچھا کیا ہے مجھے لگ رہا ہے کہ تم مجھے دھوکا نہیں دو گے۔‘‘
’’تم صحیح سوچ رہے ہو۔ میں اب تمہیں بالکل دھوکا نہیں دوں گا۔ تم مجھے اس کے گھر کے اندر لے جائو۔‘‘
’’اس کے گھر میں اس کے دو پالتو کتے ہیں۔ ایک ہفتے کے بعد میں اس کے گھر کی صفائی کرنے جاتا ہوں۔ بدلے میں مجھے وہ ایک پڑیا دے دیتے ہیں، یہ وہ واحد محنت ہے جو میں پڑیا کے لئے کرتا ہوں۔ اس مکان کی صفائی میرے علاوہ کوئی نہیں کرتا، وہ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں۔ میں نے کل صفائی کرنے جانا ہے، آج چلا جاتا ہوں۔ تم بھی میرے ساتھ چلو۔‘‘
’’میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا۔ وہ مجھے جانتے ہیں۔ مجھے تم اس طرح اس گھرمیں داخل کروکہ کسی کو پتا نہ چلے۔‘‘
’’تم وہاں کیوں جانا چاہتے ہو؟‘‘ لیاقت نے پوچھا۔
’’یہ جاننا تمہارے لئے ضروری نہیں ہے۔‘‘ زمان نے کہا۔
’’نہیں بتانا چاہتے تو نہ بتائو۔ جب میں گھر کی صفائی شروع کرتا ہوں تو اس کے دونوں پالتو کتے ایک کمرے میں چلے جاتے ہیں اور تب تک اندر ہی رہتے ہیں جب تک میں گھر کی صفائی کرکے ان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر ان کو اطلاع نہ کردوں کہ میں نے گھر کی صفائی کردی ہے۔ اس دوران میں تمہیں اندر لے جائوں گا۔‘‘
لیاقت کی بات سن کر زمان مسکرایا۔ اٹھ کر اس نے الماس کی الماری کھولی اندر رکھے نوٹوں میں سے پانچ ہزار کا نوٹ نکالا اور لیاقت کے آگے لہرایا۔ لیاقت کی نگاہیں نوٹ کا طواف کرنے لگیں۔
زمان نے پوچھا۔ ’’گھر کی صفائی کرنے کب جانا ہے؟‘‘
’’ابھی چلتے ہیں۔‘‘ لیاقت نے نوٹ پکڑ کر اسے غور سے دیکھا اور مسکرا کر بولا۔ ’’اتنا بڑا نوٹ میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔‘‘
’’ایسے ہی کچھ اور نوٹ تمہاری جیب میں ہوں گے جب تم میرا کام کردو گے۔‘‘
لیاقت خوش ہوگیا۔ ’’چلو باس چلتے ہیں؟‘‘
دونوں باہر نکلے تو زمان نے چوکیدارسے کہا۔ ’’اس کا نام اسلم ہے۔ ایک زمانے میں یہ میرے ساتھ پڑھا کرتا تھا لیکن بری لت کی وجہ سے یہ نشئی ہوگیا۔ مجھے ملا تو اسے گھر لے آیا اور اس سے وعدہ لیا کہ آئندہ نشہ نہیں کرے گا۔ اب میں اسے
ڈاکٹر کے پاس لے کر جارہا ہوں میرا کوئی پوچھے تو بتادینا۔‘‘
زمان گاڑی میں لیاقت کو لے کر چلا گیا اور اس کی اس ’’نیکی‘‘ کو دونوں میاں بیوی بہت دیر تک اچھے الفاظ میں یاد کرتے رہے۔
٭…٭…٭
جس جگہ ارسلان کا مکان تھا، اس سے کچھ فاصلے پر کمرشل مارکیٹ تھی۔ اس کی پارکنگ میں زمان نے اپنی کار کھڑی کردی۔ دونوں کار سے باہر نکلے اور مکان کی طرف چل پڑے۔ گلی میں پہنچ کر لیاقت نے اشارے سے بتایا۔
’’وہ مکان جس کا گیٹ نیلا ہے اور اس کے سامنے کھمبا ہے وہ ارسلان کا ہے۔ میں اس مکان کے اندر جارہا ہوں تم دس، پندرہ منٹ تک مکان کے پاس آجانا، جونہی میں گیٹ کھولوں تم فوراً اندر آجانا۔‘‘
زمان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کا اندازہ بالکل صحیح نکلا تھا۔ وہی مکان تھا جس کے باہر کھمبے میں اسٹریٹ لائٹ کا ٹوٹا ہوا پائپ ہوا کے ساتھ جھول کر آواز پیدا کررہا تھا۔
لیاقت مکان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے بیل دی۔ تھوڑی دیر کے بعد گیٹ کھلا۔ وہ اندر چلا گیا۔ زمان نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھا۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر ٹہلتا رہا۔ ٹھیک دس منٹ کے بعد وہ مکان کے گیٹ کے پاس پہنچ گیا۔ اچانک گیٹ کھلا۔ لیاقت کا چہرہ نمودار ہوا۔ زمان جلدی سے مکان کے اندر چلا گیا۔
لیاقت نے گیٹ بند کرکے مین دروازے کے ساتھ والے ایک اور دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی کی۔ ’’اس کمرے میں جاکر ایک طرف بیٹھ جانا۔‘‘
زمان تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا اور اندر چلا گیا۔ وہ اس مکان کا ڈرائنگ روم تھا۔ زمان ایک صوفے کے پیچھے بیٹھ گیا۔ گھر میں داخل ہونے سے قبل زمان نے اپنا موبائل فون بند کردیا تھا۔
٭…٭…٭
وجاہت حسین متعدد بار کوشش کرچکا تھا کہ اس کا رابطہ زمان سے ہوجائے، لیکن اس کا موبائل فون مسلسل بند جارہا تھا۔ وجاہت حسین آفس جانے کے لئے تیار تھا۔ غزالہ اور رمشا ابھی ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھیں۔ رمشا کی نگاہیں بار بار وجاہت حسین کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
’’کیا پریشانی ہے؟ کسے فون کررہے ہیں؟‘‘ غزالہ نے پوچھا۔
’’زمان کو فون کررہا ہوں لیکن اس کا فون بند مل رہا ہے۔‘‘ وجاہت حسین نے بتایا۔
’’وہ آفس چلا گیا ہوگا۔‘‘ غزالہ بولی۔
’’یہ بات تو ٹھیک ہے کہ وہ آفس چلا گیا ہوگا لیکن اس کا موبائل فون بند ہونا غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ مجھے اس سے ضروری بات کرنی تھی۔‘‘
’’آپ اس کے آفس چلے جائیں۔‘‘ غزالہ نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے مشورہ دیا۔
’’ایسا ہی کرتا ہوں۔‘‘ وجاہت حسین نے کہا۔
جب وہ ’’الماس بوتیک‘‘ پہنچا وہاں پتا چلا کہ زمان ابھی تک نہیں آیا۔ وجاہت حسین نے ایک بار پھر اسے فون کیا، لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا۔ اسے تشویش ہونے لگی کہ کہیں وہ چلا تو نہیں گیا؟
٭…٭…٭
لیاقت گھر کی صفائی کرنے میں مصروف تھا اور ارسلان کے دونوں ساتھی ایک کمرے میں تھے۔ اس کمرے سے ملحق کمرے میں الماس قید تھی۔ الماس کی حالت غم اور پریشانی کی وجہ سے ابتر ہوگئی تھی۔ اس نے ایک دن بھی ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ وہ مسلسل ذہنی کوفت اور انتشار کا شکار رہی تھی۔ وہ کمرے میں موجود سنگل بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
زمان نے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا اور لائونج میں کسی کو نہ پاکر وہ تیزی سے اس کمرے کی طرف بڑھا، جہاں الماس قید تھی۔ جب وہ لوگ اسے اس گھر کے اندر لائے تھے تو انہوں نے اس کی آنکھوں سے پٹی کھول دی تھی، اس لئے وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ الماس کس کمرے میں قید ہے۔
زمان نے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھولنا چاہا لیکن دروازہ مقفل تھا۔ زمان نے دائیں بائیں دیکھا۔ پھر وہ دبے پائوں لیاقت کی تلاش میں لائونج کی طرف چلا گیا۔ عین اسی وقت ارسلان لائونج میں داخل ہورہا تھا، زمان ایک دم ستون کے پیچھے ہوگیا، ایک کمرے سے وائپر پکڑے لیاقت نکلا تو ارسلان اسے دیکھتے ہی بگڑ کر بولا۔ ’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘
’’میں صفائی کررہا ہوں۔‘‘ لیاقت نے جلدی سے بتایا۔
’’تمہیں ان لوگوں نے اندر کیسے آنے دیا؟ میری اجازت کے بغیر ان گدھوں نے صفائی کی اجازت کیسے دے دی؟‘‘ اس کے ساتھ ہی ارسلان نے کسی کا نام لے کر زور سے پکارا تو زمان کو اپنے عقب سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اگر زمان فوراً ستون کی دوسری طرف نہ ہوجاتا تو وہ اسے دیکھ لیتے اور وہ پکڑا جاتا۔
جونہی وہ دونوں آدمی ارسلان کے قریب گئے زمان کے ذہن میں
کہ کہیں اس کمرے کی چابی اس کمرے میں تو نہیں ہے جہاں وہ دونوں تھے۔ ارسلان ان کو ڈانٹنے لگا۔ زمان تیزی سے اس کمرے میں گیا اور متلاشی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ اچانک اس کی نظر سامنے شیلف پر پڑی، وہاں آٹھ، دس چابیوں کا گچھا پڑا تھا۔ زمان نے اس گچھے کو اٹھایا اور دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔ ارسلان کے ڈانٹنے کی آواز ابھی تک آرہی تھی۔
زمان الماس کے کمرے کی طرف گیا اور پھرتی سے چابیوں کے گچھے میں موجود چابیوں کو ایک ایک کرکے آزمانے لگا۔ ایک چابی لگ گئی۔ زمان نے دروازہ کھولا اور اندر چلا گیا۔ الماس نیم بے ہوشی کی حالت میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
زمان نے جلدی سے الماس کو اٹھایا، الماس نے خمار آلود نگاہوں سے ایک نظر زمان کی طرف دیکھا۔ پھر اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ زمان اسے سہارا دے کر کمرے سے باہر لایا ارسلان کے بولنے کی آواز آرہی تھی۔ وہ کسی سے موبائل فون پر بات کررہا تھا۔
الماس کو سہارا دئیے وہ ستون کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ ارسلان موبائل فون پر بات کرتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ارسلان کے اوپر جاتے ہی وہ الماس کو لئے باہر نکلا اور مین گیٹ کے پاس جاکر اس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔
زمان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ دونوں آدمی اور لیاقت کہاں ہیں۔ گیراج میں فی الحال کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ اچانک زمان کو عقب سے سیڑھیاں اترتے ہوئے ارسلان کی آواز سنائی دی۔ اس نے اپنے آدمی کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’اوپر والے حصے کی اچھی طرح صفائی کرالینا۔‘‘
زمان سمجھ گیا کہ وہ اوپر ہیں۔ زمان اسے لے کر باہر نکلا اور گیراج سے ہوتا ہوا گیٹ کھول کر باہر نکل گیا۔ الماس سے چلنا دوبھر ہورہا تھا۔ وہ لڑکھڑا رہی تھی۔ زمان اسے تیزی سے اس طرف لے جارہا تھا، جہاں اس نے اپنی کارکھڑی کی تھی۔
جیسے تیسے وہ الماس کو اپنی کار تک لے آیا۔ اس نے نیم بے ہوش الماس کو کار میں بٹھایا، اور اسے لے کر وہاں سے نکل گیا۔ زمان نہیں جانتا تھا کہ دو آنکھیں اس کے تعاقب میں ہیں۔
٭…٭…٭
زمان کے پیچھے عاشر نے اپنا خاص آدمی سائے کی طرح لگایا ہوا تھا۔ زمان کے پیچھے لگانے سے قبل عاشر نے اس کی شادی کی تصویریں بھی دکھائی تھیں۔ اس میں الماس کی بھی تصویر تھی، جس کے بارے میں اسے بتایا گیا تھا کہ وہ نہر میں ڈوب کر لاپتا ہوگئی ہے۔
جب اس آدمی نے زمان کے ساتھ لڑکھڑاتی ہوئی الماس کو دیکھا تو وہ چونکا۔ اس نے الماس کو ساتھ دیکھ کر اسی وقت عاشر کو فون کیا اور بولا۔ ’’الماس تو زندہ ہے۔‘‘
’’کیا… الماس زندہ ہے؟ یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘ دوسری طرف سے عاشر نے دریافت کیا۔
’’ایک مکان سے زمان، الماس کو نکال کر لایا ہے اور اس نے اسے اپنی کار میں بٹھایا ہے۔ اب وہ کار بیک کررہا ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’تم اس کا پیچھا کرو اور مجھے بتانا کہ وہ اسے کہاں لے کر گیا ہے۔‘‘ عاشر نے حکم دیا۔
’’آپ بے فکر رہیں، میں اس کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوں۔‘‘ اس آدمی نے اتنا کہہ کر فون بند کردیا۔ اس اثناء میں زمان اپنی کار وہاں سے نکال چکا تھا۔ اس کے پیچھے اس آدمی کی کار تھی۔
زمان کار کو پوری رفتار سے بھگا رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ الماس کو فی الحال کہاں رکھے؟ اس نے یہ سوچا کہ الماس کو اس نیم بے ہوشی کی حالت میں ختم کردے لیکن دن کے اجالے میں الماس کو اس طرح ختم کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا، اس لئے ضروری تھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں یہ کام سر انجام دے اور تب تک الماس کو کہیں نہ کہیں رکھنا تھا۔
کار چلاتے ہوئے اس نے سوچا کہ سب سے محفوظ جگہ وہی گھر ہے جہاں وہ رہتا ہے۔
وہاں کوئی نہیں آتا۔ وہ رات ہونے تک اسے وہاں رکھ سکتا ہے۔ اس نے کار کا رخ گھر کی طرف کرلیا تھا اور یہ بھی سوچ لیا تھا کہ گھر میں کام کرنے والے ملازم میاں بیوی کو وہاں سے کیسے ہٹانا ہے۔
زمان کی کار سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ ایک جگہ رش تھا۔ ٹریفک جام تھا۔ بیس منٹ تک اس کی کار رینگتی رہی، اور جب اسے نکلنے کا راستہ ملا تو تعاقب کرنے والا ٹریفک میں پھنسا رہا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح نکلنے میں کامیاب ہوجائے لیکن وہ اپنی کوشش میں ناکام رہا۔ زمان اس جگہ سے اپنی کار نکال کر لے گیا۔ تعاقب کرنے والا آدمی تاسف سے اپنے اردگرد ٹریفک کے اژدھام کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنا موبائل فون نکال کر عاشر کا نمبر
ملایا۔
جب زمان اپنی کالونی میں پہنچا تو اس نے کار ایک طرف کھڑی کرکے الماس کی طرف دیکھا جوسیٹ کی پشت سے سر ٹکائے بیٹھی تھی، شاید بے ہوش ہوچکی تھی۔ خوراک کی کمی نے اس کے جسم کو لاغر کردیا تھا۔
زمان نے موبائل فون سے چوکیدار کو کال کی اور جونہی رابطہ ہوا اس نے کہا۔ ’’جلدی سے تم اپنی بیوی کو لے کر ڈاکٹر ریاض کے کلینک کے پاس پہنچو۔ میری کار کا ایک ٹائر کھلے مین ہول میں چلا گیا ہے۔ ارد گرد کوئی نہیں ہے، زور لگا کر ٹائر نکالنا ہے۔ جلدی آجائو۔‘‘
’’ہم دونوں جی؟‘‘ چوکیدار نے تصدیق کرنے کے انداز میں پوچھا۔
’’ہاں ہاں تم دونوں جلدی آئو۔‘‘ زمان نے جلدی سے فون بند کردیا۔
ڈاکٹر ریاض کا کلینک اس کے گھر کے پاس ہی تھا۔ فون بند کرنے کے بعد زمان کار آگے لے گیا اور ایک دیوار کے پیچھے کھڑی کردی۔ باہر نکلا اور دیوارکے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں میاں بیوی جاتے ہوئے نظر آئے تو زمان اپنی کار میں بیٹھا اور کار کا رخ اپنے گھر کی طرف کردیا۔
وہ گیٹ کے پاس پہنچا اس نے گیٹ کھولا، کار اندر کھڑی کی اور گیٹ بند کرنے کے بعد الماس کو سہارا دے کر باہر نکالا اور اسے اوپر کمرے میں لے گیا۔ اس نے نیم بے ہوش الماس کو بیڈ پر لٹایا اور کمرے کا دروازہ لاک کرکے نیچے آگیا۔
اس نے گیٹ کھولا اور باہر دیکھنے لگا۔ اس نے اپنا موبائل فون آف کردیا تھا۔ کوئی آدھا گھنٹے کے بعد دونوں میاں بیوی واپس آئے تو ان کو دیکھتے ہی زمان نے کہا۔ ’’تم دونوں کہاں چلے گئے تھے…!‘‘
’’آپ نے ہمیں کال کرکے بلایا تھا کہ آپ کی کار کا ٹائر کھلے مین ہول میں پھنس گیا ہے، اسے نکالنا ہے۔‘‘ چوکیدار نے ڈرتے ہوئے بتایا۔
’’میں نے کب تمہیں فون کرکے بلایا تھا؟ دیکھو میری کار کا ٹائر کسی مین ہول میں پھنسا لگتا ہے۔ میں کب سے تم دونوں کا راستہ دیکھ رہا ہوں۔ تم دونوں کی یہ لاپروائی ناقابلِ برداشت ہے۔ تم دونوں ابھی چلے جائو۔ مجھے تم دونوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’صاحب جی۔‘‘ چوکیدار نے کچھ کہنا چاہا۔
’’میں نے کہا ابھی چلے جائو۔ ایسے لاپروا ہو کہ گھرکھلا چھوڑ کر چلے گئے۔ مجھے تم لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ زمان نے انہیں نکال کر گیٹ بند کردیا، دونوں میاں بیوی حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے۔ پھر ایک طرف چل دئیے۔
٭…٭…٭
دو لوگ ایسے تھے جن کے دل میں ہلچل برپا تھی۔
ایک عاشر تھا جسے،جب اس کے آدمی نے اطلاع دی کہ رش میں پھنسنے کی وجہ سے زمان کی گاڑی نکل گئی۔ وہ نہیں جان سکا کہ زمان الماس کو کہاں لے گیا، تو عاشر مضطرب ہوگیا۔
جس آدمی کو اس نے زمان کے تعاقب پر مامور کیا تھا، وہ بہت زیرک آدمی تھا۔ وہ کسی کو ایک بار دیکھ لیتا تو اس کی صورت اس کی نگاہوں سے محو نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے عاشر کو یقین تھا کہ اگر وہ یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے الماس کو دیکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے الماس کو ہی دیکھا ہے۔ عاشر نے رمشا کو فون کرنے کے بعد اس سے کہا۔ ’’میری بات اپنے تک محدود رکھنا۔ اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔‘‘
’’کیا بات ہے؟‘‘ رمشا نے پوچھا۔
’’الماس زندہ ہے اور زمان کے پاس ہے۔‘‘ عاشر کے انکشاف پر رمشا کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ عاشرسچ کہہ رہا ہے یا اس کے ساتھ کوئی سنگین مذاق کررہا ہے؟
’’یہ بات تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘ بمشکل رمشا بولی۔
’’یہ بالکل سچ ہے۔ میرے آدمی نے الماس کو دیکھا ہے۔ اب مجھے اس کی تلاش ہے کہ وہ الماس کو لے کر کہاں گیا ہے۔‘‘
’’اس نے الماس کو اسی گھر میں رکھا ہوگا جہاں وہ رہتا ہے۔‘‘
’’وہ ایسی غلطی نہیں کرسکتا کہ الماس کواس گھر میں رکھے جہاں چوبیس گھنٹے خطرہ ہے۔‘‘ عاشر بولا۔
’’میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ الماس نہر میں ڈوب گئی تھی۔ پھر وہ الماس کو کہاں سے نکال لایا اور اس نے الماس کو چھپا کر کیوں رکھا ہے۔ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟‘‘ رمشا حیرت زدہ تھی۔
’’تم اس راز کو ابھی اپنے تک ہی محدود رکھنا۔ تمہیں بتانے کا میرا مقصد یہ تھا کہ اگر زمان تمہارے ڈیڈی مما سے کوئی بات کرے تو تم وہ بات مجھ تک پہنچا دو، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔‘‘ عاشر نے کچھ اور باتیں کیں، پھر فون بند کردیا۔
ایک ہلچل اگر عاشر کے دل میں برپا تھی تو دوسری ہلچل نے اس وقت ارسلان کو ہلاکررکھ دیا، جب اس نے اچانک


الماس کے کمرے کا قفل کھلا ہوا ہے اور کمرے میں الماس نہیں ہے۔
ارسلان نے متحیر نگاہوں سے دیکھا اور چیخ کر اپنے آدمیوں کو آواز دی، وہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس پہنچ گئے۔
’’وہ لڑکی کہاں گئی…؟‘‘
دونوں آدمیوں نے خالی کمرے کو دیکھا اور حیران ہوکر بولے۔ ’’وہ تو اندر ہی تھی اور کمرے کا دروازہ لاک تھا۔‘‘
’’بھنگ پی کر پہرا دے رہے تھے؟ کمرے کے دروازے کو لاک لگا ہوا تھا تو پھر کہاں گئی وہ لڑکی…؟‘‘ ارسلان چیخا۔
’’ہم اس وقت ہی کمرے میں گئے تھے جب لیاقت صفائی کرنے آیا تھا۔‘‘ ایک نے کہا۔
’’اسے بلائو کہاں ہے وہ؟‘‘ ارسلان نے درشت لہجے میں کہا۔
ایک آدمی کمرے سے باہر نکل گیا۔ لیاقت نے ارسلان کی چیخ پکار سن لی تھی۔ وہ بھانپ گیا تھا کہ ارسلان اسے مار مار کر بے حال کردے گا اور اس سے پوچھنے کی کوشش کرے گا کہ کمرے میں بند لڑکی کو اس نے تو نہیں بھگایا۔ لیاقت کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ زمان اس مکان میں اس مقصد کے لئے داخل ہوا تھا کہ وہ لڑکی کو اپنے ساتھ لے جائے۔ اس لئے وہ اسی وقت گھر سے نکل گیا۔
اس آدمی نے سارا گھر چھان لیا۔ لیاقت کہیں نہیں ملا۔ جب اس نے ارسلان کو بتایا تو اس کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ اب اسے شک ہونے لگا کہ الماس کو اس گھر سے غائب کرنے میں لیاقت کا ہاتھ ہے۔ لیاقت سے غلطی ہوگئی تھی کہ وہ بھاگ گیا تھا۔ اس بات نے ارسلان کے شک کو مضبوط کردیا تھا۔
’’لیاقت کو تلاش کرو۔ وہ بتائے گا کہ لڑکی کہاں گئی؟‘‘ ارسلان نے چیخ کر کہا اور دونوں آدمی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔ لیکن وہ لیاقت کو تلاش نہ کرسکے۔
٭…٭…٭
اپنے دونوں ملازموں کو نکال کر زمان واپس آیا۔ اس نے فریج سے جوس کا ڈبہ نکالا اور گلاس لے کر وہ الماس کے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے جوس گلاس میں ڈال کر نیم بے ہوش الماس کے ہونٹوں سے لگایا تو الماس نے جوس پینا شروع کردیا۔ کچھ ہی دیر میں جوس کا گلاس خالی ہوگیا۔
’’مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ تم بھوکی مرجائو، یا جوس پی کر… میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس جگہ مرنے کی بجائے رات کے اندھیرے تک زندہ رہو۔ تمہاری لاش کو یہاں سے اٹھا کر کہیں اور لے کر جانا میرے لئے مشکل ہوگا۔‘‘ زمان نے کہتے ہوئے خالی گلاس ایک طرف رکھ دیا۔
زمان کی آواز نے اسے چونکا دیا تھا۔ تب ہی زمان کا موبائل فون بجنے لگا۔ اس نے موبائل فون کی اسکرین پر وجاہت حسین کا نام دیکھ کر برا سا منہ بنالیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس نے چوکیدارکو کال کرنے کے بعد فون بند کیوں نہیں کردیا تھا۔ اب وجاہت حسین کا فون نہ اٹھانا اس کے لئے مسئلہ کھڑا کر سکتا تھا، اس نے فون کان سے لگا لیا۔
زمان کی آواز سنتے ہی وجاہت حسین بولا۔ ’’ارے کہاں ہو تم؟ تمہارا فون مسلسل بند جارہا تھا۔‘‘
’’مجھے پتا نہیں چلا۔ فون کی بیٹری ختم ہوگئی تھی۔‘‘
’’اب تم جہاں بھی ہو فوراً آفس پہنچو، بہت اہم میٹنگ ہے۔ پرسوں الماس بوتیک کی اوپننگ ہے۔‘‘
’’میں پہنچ رہا ہوں۔‘‘ زمان نے اتنا کہہ کر فون بند کردیا۔ اس نے ایک نظر الماس کی طرف دیکھا جو نیم دراز تھی۔ زمان نے اس کے قریب ہوکر کہا۔ ’’تم بھی عجیب ہو۔ تمہیں مارنے کے لئے چھوڑا تو تم زندہ بچ گئیں۔ گاڑی نہر میں جاگری تو تمہارے مرنے کا ڈرامہ برپا ہوگیا اور اس کے باوجود تم میرے سر پر تلوار کی طرح لٹکتی رہیں، کتنا اچھا ہوتا کہ تم اپنی زبان بند کرنے کا وعدہ کر لیتیں تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ لیکن اب تمہیں ہر حال میں مرنا ہوگا، کیونکہ تمہاری موت کے بعد میری دوسری شادی ہوگی اور اس شادی کے بعد مجھے مالی فائدہ ہوگا۔ میں تمہارے باپ کے آفس جارہا ہوں۔ اہم میٹنگ ہے۔ تب تک تم یہیں رہوگی۔ اندھیرا ہوگا تو یہاں سے کہیں لے جا کرمار دوں گا۔ اس طرح تمہارا قصہ ختم ہوجائے گا۔‘‘ زمان بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا اور پہلی بار الماس نے اپنی آنکھیں کھول کر اس کی باتوں پر غورکیا۔
گاڑی نکالنے کے لئے جونہی زمان نے گیٹ کھولا تو وہ چونک گیا۔ سامنے لیاقت کھڑا تھا جو گیٹ کے سامنے پہنچ کرسوچ رہا تھا کہ وہ بیل دے، یا دیوار پھلانگ کر اندر چلا جائے۔
’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ زمان نے سوال کیا اور اس کا بازو پکڑ کر اندرکھینچ لیا۔
’’تم وہاں سے کوئی لڑکی لائے ہو؟ وہاں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ میری جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا اور میں بھاگ کر یہاں پہنچا ہوں۔‘‘ لیاقت
بولا۔
’’یہاں کیوں آئے ہو کہیں اور چلے جاتے۔‘‘
’’میں کہاں جاتا…؟ میرے پاس کون سا ٹھکانہ ہے۔ جانتے ہو ارسلان کتنا خطرناک شخص ہے، وہ مجھے مار دے گا۔ اور تمہارے بارے میں پوچھ کرہی دم لے گا۔‘‘
زمان نے سوچا کہ لیاقت ٹھیک کہہ رہا ہے۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ وہ یہاں آگیا، پہلی بار زمان کو احساس ہوا کہ اس نے لیاقت کو اس گھر میں لاکر غلطی کی تھی۔ اگر وہ ارسلان کے ہاتھ لگ جاتا تو وہ یقیناً اسے یہاں لے آتا۔ زمان اسے ایک کمرے میں لے گیا اور بولا۔ ’’میں ایک کام سے جارہا ہوں۔ جب تک میں نہیں آتا تم اسی کمرے میں رہنا۔ میں کمرا باہر سے لاک کرکے جارہا ہوں۔ بے فکر رہنا اس گھر میں کوئی نہیں ہے۔‘‘
’’میری طرف سے دروازہ اکھاڑ کر دیوار چن دو، بس وہ درندہ ارسلان یہاں نہ پہنچ پائے۔‘‘ لیاقت ایک طرف بیٹھ گیا۔ زمان کمرا لاک کرکے گاڑی لے کر چلا گیا۔
لیاقت تھوڑی دیر بیٹھا رہا اور پھر اس نے کمرے کا جائزہ لیا، اس نے پردہ ایک طرف ہٹا کر کھڑکی کھولی تو باہر کوئی گرل نہیں لگی تھی، وہ آسانی سے باہر نکل سکتا تھا۔ لیاقت نے سوچا کہ وہ کیوں نہ گھر کا جائزہ لے اور کچھ کھانے کو مل جائے تو اس پر ہاتھ صاف کرلے۔
لیاقت کھڑکی کے راستے سے باہر نکلا اور گھر کا ایک ایک کمرا دیکھتا ہوا کچن میں چلا گیا۔ فریج کھولا تو اس میں کچھ پھل موجود تھے۔ اس نے سیب اٹھایا اور اسے کھاتا ہوا اوپر چلا گیا۔
جس کمرے میں الماس تھی اس کا دروازہ لاک تھا اور اندر الماس کھڑی تھی۔ زمان کے جانے کے بعد اس نے مزید جوس پیا تھا۔ اسے اپنے جسم میں کچھ توانائی محسوس ہونے لگی تھی ویسے بھی وہ زمان کے ارادے کو جان چکی تھی، اسے اپنی جان بچانے کے لئے ہمت کرنی تھی۔
وہ دروازے کا ہینڈل گھما کر دیکھ چکی تھی وہ لاک تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کمرے سے کیسے باہر نکلے کہ اس دوران اسے ہینڈل گھومنے کی آواز آئی۔ اس نے چونک کر اس طرف دیکھا۔ باہر یہ کام لیاقت کررہا تھا۔
الماس کی دانست میں تھا کہ باہر زمان ہوگا لیکن جب مسلسل ہینڈل گھومتا رہا تو اس نے سوچا کہ یہ زمان نہیں ہوسکتا۔ باہر لیاقت کو بھی تجسس ہونے لگا کہ سارے کمرے مقفل نہیں تھے۔ یہی کمرا مقفل تھا، اندرکیا ہوسکتا ہے؟
الماس نے ہمت کرکے پوچھا۔ ’’کون ہے باہر؟‘‘
لڑکی کی آواز سن کر لیاقت چونکا۔ وہ دروازے سے کچھ قدم پیچھے ہٹ گیا۔ جب الماس نے دیکھا کہ کوئی نہیں بولا تو اس نے پھر کہا۔ ’’تم زمان ہو…؟ اگر زمان نہیں ہوتو کیا تم میری مدد کرسکتے ہو… مجھے مدد کی ضرورت ہے… میں اس کمرے سے باہر نکلنا چاہتی ہوں۔‘‘
لیاقت فوراً سمجھ گیا کہ اس کمرے میں وہ لڑکی بند ہے، جسے زمان اس گھر سے لے کر آیا ہے۔ اس نے پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں؟‘‘
الماس نے آواز سے اندازہ کرلیا کہ یہ آواز زمان کی نہیں ہے۔ وہ بولی۔ ’’تم کون ہو…؟ تم زمان کے ساتھی ہو…؟‘‘
’’میں اس کا ساتھی نہیں ہوں۔ آپ وہی تو نہیں جسے زمان اس گھر سے یہاں لے کر آیا ہے؟‘‘
’’میں وہی ہوں۔ کیا تم میری مدد کرسکتے ہو؟ میں تمہیں بہت سا پیسہ دوں گی۔ زمان مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے۔ پلیز دروازہ کھولو اور مجھے اس کمرے سے نکالو۔‘‘ الماس نے کہا۔
’’کیا آپ مجھے پیسہ دیں گی؟‘‘ لیاقت نے اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں میں تمہیں بہت سا پیسہ دوں گی۔ پلیز مجھے یہاں سے نکالو۔‘‘ الماس نے اسے یقین دلایا یہ سن کر لیاقت کے جسم میں پھرتی آگئی وہ متلاشی نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ پھر اس نے الماریوں کی دراز کھول کر دیکھنا شروع کردیا کہ شاید اسے کمرے کی چابی مل جائے۔ جب اسے چابی نہ ملی تو اسٹور روم میں اس کی نگاہ ہتھوڑے پر پڑی۔
٭…٭…٭
وجاہت حسین نے ’’الماس بوتیک‘‘ کے لئے میٹنگ کال کی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کاروبارکا مکمل اختیار زمان کے پاس ہوگا۔ جب اس اعلان پر لوگ تالیاں بجا رہے تھے تو زمان زیرلب مسکرا کر اپنی اس کامیابی پر فخرکر رہا تھا۔ میٹنگ ختم ہوئی تو وجاہت حسین نے زمان سے کہا۔ ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کل شام تمہارا اور رمشا کا نکاح کردیں، تاکہ وہ بھی تمہارے ساتھ اس کاروبار میں شامل ہوجائے۔‘‘
’’جو آپ مناسب سمجھیں۔‘‘ زمان نے سعادت مندی سے نظریں جھکا کر کہا۔
’’کتنا اچھا ہوتا کہ الماس ہمارے درمیان ہوتی۔‘‘ وجاہت حسین اسے یاد کرکے رنجیدہ ہوگیا۔
زمان نے اس کے کندھے
اسے حوصلہ دیا اور بولا۔ ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں چلا جائوں۔‘‘
’’کہاں جانا ہے؟‘‘ وجاہت حسین نے پوچھا۔
زمان نے اداس لہجے میں بتایا۔ ’’میں اس نہر کے کنارے بیٹھنا چاہتا ہوں۔ مجھے آج بھی الماس کا انتظار ہے۔‘‘
وجاہت حسین چپ ہوگیا۔ زمان چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد وجاہت حسین کھڑا سوچتا رہا کہ الماس کے لاپتا ہونے کی خبر ہے اور کئی ہفتوں کے بعد بھی اس کی لاش نہر سے نہیں ملی ہے۔ وہ اپنا کروڑوں کا سرمایہ زمان کی نگرانی میں دے کر کہیں کوئی غلطی تو نہیں کررہا؟ وجاہت حسین سوچتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔
٭…٭…٭
ارسلان کے آدمی، لیاقت کی تلاش میں جب ناکام لوٹے تو ارسلان کا غصہ عروج پر تھا۔ اسے شک تھا کہ لیاقت کے ساتھ زمان ہی اس گھر تک پہنچا ہوگا اور زمان ہی الماس کو یہاں سے نکال کر لے گیا ہوگا۔ اس کے علاوہ الماس کو کوئی اور نہیں لے جاسکتا۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ لیاقت کو کیسے پتا چلا کہ کوئی لڑکی اس جگہ موجود ہے، کیونکہ جب سے اس نے الماس کو کمرے میں بند کیا تھا، لیاقت اس دوران پہلی بار یہاں آیا تھا۔ دوسرے وہ زمان کی آنکھیں باندھ کر یہاں تک لایا تھا۔ پھر وہ کس طرح اس گھر میں آسکتا ہے؟
ایسے کئی سوالات تھے جو ارسلان کے دماغ میں گھوم رہے تھے۔ لیکن وہ کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے اس نے گیٹ کھول کر باہر قدم رکھا ہی تھا کہ چونک گیا، کیونکہ عاشر کا آدمی اس کے گیٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔ عاشر کے آدمی نے کیونکہ زمان اور الماس کو اس گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا، اس لئے عاشر کی ہدایت پر وہ یہ جاننے کے لئے آیا تھا کہ یہ مکان کس کا ہے اور یہاں کون رہائش پذیر ہے۔ اب اس کی قسمت کہ اسے پتا نہ چل سکا اور یک دم ارسلان نے گیٹ کھول دیا۔
ارسلان کو دیکھ کر وہ آدمی چونکا لیکن اس دوران ارسلان نے اسے پھرتی سے قابو کرکے گیٹ کے اندر دھکیل دیا۔ وہ آدمی گر پڑا۔ ارسلان نے اپنے آدمیوں کو آواز دی۔ وہ اسے کمرے میں لے گئے۔ ارسلان نے اس کے منہ پر دو، تین طمانچے مارے اور پھر غصے سے پوچھا۔ ’’کون ہو تم… یہاں کیا کررہے تھے؟‘‘
عاشر کے آدمی نے پہلے تو کچھ بتانے سے گریز کیا لیکن جب ارسلان نے اسے مسلسل مارا تو اس نے بہتری اسی میں سمجھی کہ وہ سچ سے پردہ اٹھا دے، ورنہ وہ اپنی جان سے جائے گا۔ اس نے جب حقیقت منکشف کی تو ارسلان کا ابہام دور ہوگیا۔ یہ بات صاف ہوگئی کہ الماس کو زمان ہی یہاں سے لے کر گیا تھا۔
ساری بات جاننے کے بعد ارسلان سوچنے لگا کہ وہ اب ایسا کیا کرے کہ اگر زمان نے اسے دھوکا دیا ہے تو وہ بھی کسی قابل نہ رہ سکے؟
٭…٭…٭
زمان سیدھا گھر چلا گیا۔ اس نے اچھی طرح گیٹ اندر سے مقفل کیا اور لائونج میں داخل ہوگیا۔ اس نے لائونج کا بھی دروازہ بند کردیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا لیکن اس کے قدم رک گئے۔ اس نے اس کمرے کی طرف دیکھا جہاں اس نے لیاقت کو بند کیا تھا۔
کمرے کی چابی لے کر اس نے جونہی دروازہ کھولا وہ چونک گیا۔ اندر لیاقت نہیں تھا۔ ابھی وہ متلاشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک اسے دروازے پر آہٹ محسوس ہوئی۔ زمان نے دروازے کی طرف دیکھا تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ دروازے میں رمشا کھڑی تھی اور اس کی نظریں زمان کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
’’تم یہاں…؟‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’میں یہاں نہیں آسکتی؟‘‘ رمشا بولی۔
’’میرا مطلب ہے کہ تم اندر کیسے آئیں۔ گیٹ تو لاک تھا اور دونوں ملازم بھی اچانک چلے گئے تھے۔‘‘ زمان بولا۔
’’وہ دونوں ملازم میرے پاس آگئے تھے۔ میں اس وقت باہر کہیں جانے کے لئے گاڑی میں نکل رہی تھی۔ میں نے ان کو گاڑی میں بٹھایا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ نے ان کو نکال دیا ہے۔‘‘
’’وہ دونوں جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ دونوں لاپروا ہیں، گھر کا گیٹ کھلا چھوڑ کر جانے کہاں چلے گئے تھے۔‘‘ زمان نے جلدی سے کہا۔
’’مجھے ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ میں نے چوکیدار سے گیٹ کی دوسری چابی لی اور اندر آگئی۔ اندر ایک لڑکا پھر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بھاگ گیا۔ شاید وہ چوری کے ارادے سے آیا تھا۔‘‘ رمشا بولی۔
’’وہ چلا گیا ہے یا کہیں اندر ہے؟‘‘
’’مجھے دیکھتے ہی بھاگ گیا تھا۔ دراصل میں آپ سے اہم بات کرنے آئی ہوں۔ کیا ہم بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں۔‘‘ رمشا یہ کہہ کر ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ زمان بھی دوسری


کرسی پر براجمان ہوگیا۔
رمشا بولی۔ ’’شاید آپ کو معلوم نہیں ہے کہ میں وجاہت حسین کی سگی اولاد نہیں ہوں۔ میں ایک یتیم لڑکی ہوں، جس کی پرورش انہوں نے کی ہے۔ مجھ میں اور الماس میں انہوں نے ہمیشہ فرق رکھا ہے۔ جو اہمیت اسے حاصل تھی وہ میں کبھی حاصل نہیں کرسکی۔ اس سلوک نے مجھے ہمیشہ بے چین رکھا ہے… اچھا ہوا کہ وہ ڈوب کر مر گئی اور اب وہ میرا نکاح آپ سے کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ رمشا کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا۔ ’’دیکھو زمان مجھے نہیں معلوم کہ تم واقعی ایماندار ہو یا اس ایمانداری کے پیچھے کوئی اداکار چھپا ہوا ہے۔ میں جو بات تم سے کرنے والی ہوں مان جائو گے تو ٹھیک ہے اور اگر تم میرے باپ کو بتا دو گے کہ رمشا ایسا کہہ رہی تھی جس کا کوئی ثبوت نہیں ہوگا تو میں تمہیں جھوٹا بنا دوں گی۔‘‘ رمشا اتنا کہہ کر چپ ہوگئی۔
زمان نے اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور پھر بولا۔ ’’تم کہنا کیا چاہتی ہو۔‘‘
’’الماس بوتیک پر کروڑوں کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ اس کاروبار کی باگ ڈور جیسے ہی ہمارے ہاتھ میں آئے گی تو کئی کروڑ ہمارے بینک اکائونٹ میں منتقل ہوجائیں گے۔ سب کی نظر میں ہمارا نکاح ہوگا اور ہم میاں بیوی کی طرح رہیں گے لیکن ہمارا میاں بیوی والا تعلق نہیں ہوگا۔ ہم الماس بوتیک سے پیسہ اپنے اپنے اکائونٹ میں ڈالیں گے اور ایک دن گڈ بائے کہہ کر چلے جائیں گے۔ تم مجھے طلاق دے دو گے۔ اور جتنا پیسہ ہم سمیٹیں گے اس پر ہمارا حق ہوگا۔ ہم اپنی اپنی زندگی جینے کے لئے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔ بولو منظور ہے؟‘‘
زمان اس کی بات غور سے سن رہا تھا۔ اسے رمشا کی بات سن کر حیرت ہوئی تھی۔ اس نے ایک نظر اس کے چہرے سے ہٹا کر اس کے عقب میں سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔ رمشا فوراً سمجھ گئی اور مسکرا کر بولی۔ ’’بے فکر رہو… الماس نہیں آئے گی۔ میں نے اسے مار دیا ہے۔‘‘ رمشا اتنا کہہ کر باہر چلی گئی، جب وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں خون آلود چھری تھی۔ ’’اس چھری سے مارا ہے۔ بس اب تم اس کی لاش ٹھکانے لگا دینا۔ اور دیکھو اس طرح ٹھکانے نہ لگانا جس طرح تم نے پہلے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی تھی۔‘‘
’’تم نے الماس کو قتل کردیا ہے؟‘‘ زمان حیران تھا۔
’’یقین نہیں آرہا تو اوپر جاکر دیکھ لو۔ میں جب اس گھر میں آئی اور وہ لڑکا مجھے دیکھ کر بھاگا تو میں نے سب سے پہلے گھرکی تلاشی لی۔ اوپر کا کمرا بند تھا۔ چوکیدار نے مجھے بتایا ہوا تھا کہ ڈپلی کیٹ چابیاں کہاں ہیں۔ میں نے وہ کمرا کھولا تو سامنے الماس تھی۔ اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے لپٹ گئی۔ میں نے اسے مار دیا۔ اس کا قصہ ختم ہوچکا ہے۔‘‘ رمشا نے کہہ کر چھری ایک طرف رکھ دی۔
زمان حیرت زدہ بیٹھا رہا۔ پھر وہ بولا۔ ’’کیا تم واقعی ایسا ہی چاہتی ہو جیسا تم نے ابھی کہا ہے؟‘‘
’’تم کیسے یقین کروگے۔‘‘ رمشا نے اس سے سوال کیا۔ ’’کیا یہ ثبوت کم ہے کہ میں نے الماس کو مار دیا ہے۔‘‘
’’تمہارے خیال میں وجاہت حسین ہمارے اکائونٹ میں کتنا پیسہ ڈالے گا۔‘‘ زمان نے پوچھا۔
’’کروڑوں ڈالے گا۔ مجھے معلوم ہے یہ کاروبار وسیع پیمانے پر ہورہا ہے۔‘‘ رمشا بولی۔
’’کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم اکائونٹ میں پیسہ آتے ہی رفو چکر ہوجائیں؟‘‘ زمان نے کہا۔
’’جو کروڑوں کی سرمایہ کاری اس کاروبار میں لگی ہے کیا وہ ایسے ہی چھوڑ جائیں۔ وہ بھی سمیٹ کر جائیں گے۔‘‘ رمشا نے کہا۔ زمان مسکرایا۔
’’تم بہت ہوشیار ہو۔‘‘
’’تم سے زیادہ ہوشیار نہیں تم نے تو کسی کو پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ تم ہو کیا اور نظر کیا آتے ہو۔‘‘ رمشا مسکرائی۔ ’’ویسے ایک بات بتائو جب الماس نہر میں گر گئی تھی اور پانی میں بہہ گئی تھی تو تم نے اسے زندہ کیسے بچا لیا؟ اسے پانی میں ڈوبنے کیوں نہیں دیا؟‘‘
’’نہر میں صرف میری کار گری تھی۔ وہ کار میں موجود نہیں تھی۔ اسے جہاں مارنے کے لئے میں نے چھوڑا تھا وہاں سے زندہ بچ گئی تھی۔‘‘ زمان نے بتایا۔
’’ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’ہاں پوچھو۔‘‘
’’کیا تم دوسروں پر جلدی اعتبار کرلیتے ہو؟‘‘ رمشا نے متانت سے کہا۔
’’جلدی نہیں کرتا۔‘‘
’’پھر تم نے مجھ پر کیسے اتنی جلدی اعتبار کرلیا۔‘‘ رمشا نے سوال کیا۔
’’اعتبار اس وقت آیا جب تم نے بتایا کہ تم نے اس چھری سے الماس کو مار دیا ہے۔‘‘ زمان بولا۔
’’تم نے دیکھا ہی نہیں کہ میں نے اسے مارا بھی ہے یا نہیں؟‘‘ رمشا کی بات نے
زمان کو چونکا دیا۔ ایک دم اسے جیسے ہوش آگیا۔ اس نے جلدی سے وہ چھری اٹھائی اور رمشا کو کھینچ کر اس کی گردن پر رکھ دی۔
’’کیا چال چل رہی ہو تم میرے ساتھ؟‘‘
’’میں چال چل نہیں رہی۔ بلکہ چل چکی ہوں۔‘‘ رمشا نے کہا۔
’’کھل کر بتائو یہ کیا ڈرامہ ہے۔‘‘ زمان نے درشت لہجے میں پوچھا۔
ایک دم الماس اندر آگئی۔ زمان کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ’’تم زندہ ہو؟‘‘
’’تم نے تو مجھے مار دیا تھا لیکن بچانے والا، مارنے والے سے زیادہ طاقتور ہے۔‘‘ الماس نے کہا۔
’’اب سمجھا… لیکن اب تم دونوں ہی نہیں رہوگی۔‘‘ زمان نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ایک دم عاشر اندر آگیا۔ اس کے ساتھ دو آدمی تھے۔ ان کو دیکھ کر زمان دم بخود رہ گیا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ سب اس کی باتیں سن رہے تھے۔
’’کوئی غلطی مت کرنا، ورنہ تمہارے ساتھ اتنا برا ہوگا کہ تم نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔‘‘ عاشر بولا۔
’’ایک طرف ہٹ جائو۔ مجھے جانے دو، ورنہ میں اس کی گردن پر چھری چلا دوں گا‘‘ زمان چلایا۔
’’چھری چلانا چاہتے ہو تو چلا دو۔ بس اتنا یاد رہے کہ ہم اتنے بے وقوف نہیں ہیں کہ اصلی ہتھیار تمہارے سامنے رکھتے تاکہ تم اسے اٹھا کر ہمارے خلاف استعمال کرسکو۔ یہ پلاسٹک کی چھری ہے۔ اس پر کیچپ لگا ہوا ہے۔ تمہارا راز کھل چکا ہے اور تم اب قانون کے ہاتھ سے بچ نہیں سکو گے۔‘‘ عاشر نے کہا۔
زمان نے جلدی سے رمشا کی گردن سے چھری اٹھا کر دیکھا، بس یہی ایک لمحہ تھا جب عاشر کے دونوں آدمیوں نے زمان کو دبوچ لیا اور رمشا کو چھڑالیا۔ اب وہ ان کی مضبوط گرفت میں تھا۔
عاشر اس کے پاس جاکر مسکرا کر بولا۔ ’’بس یہی ایک غلطی ہوگئی کہ ہم نے چھری اصلی رکھ لی تھی۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ تم نے میری بات پر یقین کرکے تصدیق کرنا چاہی رمشا کی گردن پر پھیرنا شروع نہیں کردی۔‘‘
زمان بے بس ہوکر سب کے چہرے دیکھ رہا تھا۔ اس نے جو سفر برائی کی راہ پر چلتے ہوئے کیا تھا وہ انجام کو پہنچ گیا تھا۔ جس سیڑھی پر چڑھ کر دولت کا انبار لگانا چاہتا تھا وہ سیڑھی ٹوٹ گئی تھی۔
الماس اس کے قریب جاکر نفرت بھرے لہجے میں بولی۔ ’’تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ تم جھوٹے تھے اور ایک جھوٹ چھپانے کے لئے کیا کچھ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یاد رکھنا میں تمہیں انجام تک پہنچا کر رہوں گی۔‘‘
زمان کے بارے میں جب ساری حقیقت وجاہت حسین کو معلوم ہوئی تو وہ غصے میں اس قدر آگ بگولا ہوگیا کہ اس نے الماس سے وعدہ کیا کہ وہ اسے جیل کی کوٹھری میں بھجوانے تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
زمان تہی دست آیا تھا اور تہی دست ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا۔ (ختم شد)