Shabana Azmi – Apni Misal Aap

157
انسان کی زندگی پر اس کے والدین کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ حیدرآباد دکن میں ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی اور تھیٹر اداکارہ شوکت اعظمی کے گھر جب 18 ؍ستمبر 1950ء کو شبانہ کا جنم ہوا تو انہیں مقصدیت کا سبق والدین سے گھٹی میں ملا۔ کیفی اعظمی کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ رہنما تھے جبکہ شوکت اعظمی اداکاری کرنے کے علاوہ ’’انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن‘‘ سے بھی منسلک تھیں۔ اصولوں کی پابندی اور انتھک محنت سیدہ شبانہ اعظمی نے اپنے والد سے سیکھی جبکہ اداکاری کا ہنر انہیں والدہ سے وراثت میں ملا۔ تین برس کی عمر سے وہ والدہ کے ساتھ تھیٹر جانے لگی تھیں۔ کوئین میری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سینٹ زیوئیرز کالج سے نفسیات میں گریجویشن کیا اور پھر پونے کے مشہور ’’فلم اینڈ ٹیلیویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا‘‘ سے اداکاری کی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ نفسیات کی تعلیم، گھر کے ماحول اور تھیٹر سے موروثی وابستگی نے شبانہ میں شائستگی اور زندگی کے نظرئیے کو اس قدر واضح کر دیا تھا کہ انہوں نے گلیمرس ہیروئن بن کر فلمی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ شیام بینیگل کی آرٹ فلم ’’انکور‘‘(1974ء) سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ متوازی سینما (Parallel Cinema) کی اس فلم میں شبانہ نے گاؤں کی لڑکی کا کردار نبھایا تھا۔ شبانہ کا یہ فیصلہ اس وقت درست ثابت ہوا جب انہیں اپنے پہلے ہی فلمی کردار کے لیے بہترین اداکارہ کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ ’’انکور‘‘ کے لیے شبانہ پہلی پسند نہیں تھیں بلکہ اس دور کی صف اول کی اداکاراؤں نے اس کردار کو ٹھکرا دیا تھا جو بعد میں بہت پچھتائیں۔ ’’انکور‘‘ سے پہلے 1973ء میں خواجہ احمد عباس کی فلم’’فاصلہ‘‘ اور کانتی لال راٹھور کی فلم’’پرینے‘‘ کو شبانہ سائن کر چکی تھیں لیکن ان کی ریلیز ہونے والی پہلی فلم’’انکور‘‘ ہی تھی۔ شبانہ اعظمی کی میٹھی آواز، دھیما اور صاف لب ولہجہ اور زبان پر عبور انہیں اداکاری کے فن پر غالب آنے کا موقع دے گیا۔ آرٹ فلموں میں تو انہوں نے خود کو منوایا ہی، ساتھ ساتھ کمرشل سینما میں بھی فلمساز انہیں کاسٹ کرنے میں دلچسپی لینے لگے۔1977ء ان کے کیریئر کا اہم ترین برس تھا جس میں ان کی 14 فلمیں ریلیز ہوئیں، ان میں متوازی سینما یا آرٹ فلموں کے علاوہ کمرشل فلمیں اور ایک کنڑ زبان کی فلم بھی شامل تھی۔ اسی برس کمرشل سینما میں’’امر اکبر، انتھونی‘‘ ’’پرورش‘‘ ’’ہیرا اور پتھر‘‘ ان کی کامیاب فلمیں رہیں جبکہ متوازی سینما (Parallel Cinema)میں ستیا جیت رے کی فلم ’’شطرنج کے کھلاڑی‘‘ سپر ہٹ رہی۔ آرٹ فلموں میں شبانہ اعظمی کو ہمیشہ پسند کیا گیا ہے۔ خصوصاً شیام بینیگل کی فلموں ’’نشانت‘‘ (1975ء)، ’’جنون‘‘ (1978ء) اور’’انترناد‘‘(1991ء)، سعید مرزا کی فلم ’’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے‘‘ (1980ء) اور ایسی ہی کئی فلموں میں شبانہ کی اداکاری قابل دید ہے۔ 1983ء سے 1985ء کا عرصہ ان کا دور عروج تھا جب انہیں مسلسل تین فلموں ’’ارتھ‘‘ (1982ء)، ’’کھنڈر‘‘ (1984ء) اور ’’پار‘‘ (1984ء) میں شاندار اداکاری پر بہترین اداکارہ کے نیشنل فلم ایوارڈز حاصل ہوئے۔ مجموعی طور پر انہوں نے پانچ نیشنل فلم ایوارڈز اپنے نام کئے اور یہ ریکارڈ آج تک کوئی فنکار نہیں توڑ سکا۔ انہیں آخری نیشنل فلم ایوارڈ فلم’’گاڈ مدر‘‘(1999ء) کے لیے ملا تھا۔ شبانہ اعظمی کو 12مرتبہ فلم فیئر ایوارڈز کے لیے نامزدگی ملی اور وہ اب تک بہترین اداکارہ کے تین اور بہترین معاون اداکارہ کا ایک ایوارڈ اپنے نام کرچکی ہیں۔ 2006ء میں فلم فیئر کی جانب سے انہیں لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی متعدد بار ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاچکا ہے۔ شبانہ کو ان کی فلمی خدمات کے اعتراف میں بھارت کے اعلیٰ سول اعزاز ’’پدم شری‘‘ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔
شبانہ اعظمی کی دیگر مقبول فلموں میں ’’عشق عشق عشق‘‘، ’’پرینے‘‘، ’’فاصلہ‘‘، ’’خون کی پکار‘‘، ’’امر دیپ‘‘، ’’بگولا بھگت‘‘، ’’اسپرش‘‘، ’’تھوڑی سی بے وفائی‘‘، ’’نشانت‘‘، ’’فقیرا‘‘، ’’سوامی‘‘، ’’معصوم‘‘، ’’منڈی‘‘، ’’جوالامکھی‘‘، ’’شرط‘‘، ’’فائر‘‘، ’’مکھی‘‘، ’’تہذیب‘‘، ’’امراؤ جان ادا‘‘، ’’ایک ہی بھول‘‘، ’’اپنے پرائے‘‘، ’’اتہاس‘‘، ’’میں آزاد ہوں‘‘، ’’امبا‘‘، ’’مرتیوڈنڈ‘‘، ’’ہری بھری‘‘، ’’مکڑی‘‘، ’’نیرجا‘‘، ’’میڈم سوسٹزکا‘‘ (Madame Sousatzka)، ’’سٹی آف جوائے‘‘ اور ’’دی ری لکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ‘‘(The Reluctant Fundamentalist) شامل ہیں، جن میں ان کی اداکاری اپنی مثال آپ تھی۔ شبانہ اپنے ہر فلمی کردار میں حقیقی رنگ بھرنے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔ فلم ’’منڈی‘‘(1983ء) کے لیے انہوں نے اپنا وزن بڑھایا، حالانکہ وہ زمانہ میتھڈ ایکٹنگ کے لیے موزوں نہیں تھا۔ فلم ’’فائر‘‘ (1996ء) میں انہوں نے ہم جنسیت کی قائل عورت کا کردار ادا کیا۔ ’’مکڑی‘‘ (2002ء) میں چڑیل کا کردار نبھایا۔ فلم’’واٹر‘‘ کے لیے وہ گنجی ہوگئی تھیں لیکن بعد میں سیاسی تنازع کی وجہ سے انہیں یہ فلم چھوڑنا پڑی تھی۔
شبانہ اعظمی نے ٹی وی پر ’’انوپما‘‘ ’’سفید کنڈلی‘‘ اور ’’تمہاری امریتا‘‘ جیسے ڈراموں میں بھی کام کیا۔ آخرالذکر ڈرامے میں وہ فاروق شیخ (مرحوم) کے مقابل تھیں اور یہ سیریل پانچ سال تک کامیابی سے چلتی رہی۔ اپنے 44سالہ فلمی کیریئر میں اب تک شبانہ اعظمی نے137فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جن میں بنگالی، انگریزی اور اردو زبانوں کی فلمیں شامل ہیں۔ ان کی آخری فلم ’’چاک اینڈ ڈسٹر‘‘(2016ء) تھی، جس میں انہوں نے استانی کا کردار نبھایا تھا۔ شبانہ اب زیادہ فلمیں سائن نہیں کرتیں بلکہ ان کی مکمل توجہ سماجی کاموں کی جانب رہتی ہے۔ اپنے والد کی طرح ان کی ترقی پسند سوچ ان کے عملی کاموں میں دکھائی دیتی ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے مشن برائے بہبود آبادی کی خیر سگالی سفیر ہیں اور مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر خواتین، بچوں اور دیگر مسائل کے حوالے سے کام کر رہی ہیں۔ وہ 1997ء سے 2003ء تک بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا ’’راجیہ سبھا‘‘ کی رکن بھی رہیں۔ انہیں اس وقت کے صدر نے فنی خدمات کے صلے میں’’راجیہ سبھا‘‘ کا بلامقابلہ رکن بنایا تھا۔
نجی زندگی کو شبانہ اعظمی اپنے پیشے سے ہمیشہ الگ رکھتی آئی ہیں۔ 70ء کی دہائی میں ان کی اداکار بینجمن گیلانی سے کچھ عرصے منگنی رہی۔ تاہم سچی محبت انہیں گیت کار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر سے ہوئی۔9 ؍دسمبر 1984ء کی رات ممبئی میں شبانہ اعظمی کے گھر خاموشی سے نکاح خواں کو بلایا گیا اور سادگی سے جاوید اختر نے انہیں اپنی منکوحہ بنالیا۔ شادی کی رازداری کی وجہ یہ تھی کہ جاوید اختر اپنی پہلی اہلیہ ہنی ایرانی کو اس بارے میں لا علم رکھنا چاہتے تھے۔ 1985ء میں ہنی ایرانی اور جاوید اختر کی طلاق ہوگئی۔ شبانہ اعظمی کی اپنی کوئی اولاد نہیں، البتہ جاوید اختر اور ہنی ایرانی کے بچے فرحان اور زویا اپنی دونوں ماؤں کی بہت عزت کرتے ہیں۔ فرحان اختر اداکاری، ہدایتکاری، فلم سازی اور گلوکاری کے لیے مقبول ہیں جبکہ زویا اختر ہدایتکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اداکارہ فرح اور تبو، شبانہ اعظمی کی بھانجیاں ہیں جبکہ ان کے بھائی بابا اعظمی مشہور سینماٹوگرافر ہیں۔
شبانہ اعظمی بھارت میں انتہاپسند اور بنیاد پرست طبقے کی سخت مخالف ہیں، اس لیے انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ 1993ء میں جنوبی افریقہ کے صدر نیلسن منڈیلا کے دورۂ بھارت کے موقع پر شبانہ اعظمی کو اس وجہ سے نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے نوبل انعام یافتہ رہنما کو اپنا بوسہ لینے کا موقع دیا تھا۔ ممبئی کے ایک علاقے میں انہیں محض ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے رہائش اختیار نہیں کرنے دی گئی۔ گزشتہ برسوں کے دوران وہ کئی بار پاکستان بھی آچکی ہیں اور پاک بھارت تعلقات میں محبت کے فروغ کی خواہاں ہیں۔ حال ہی میں ایک تقریب میں انہوں نے کہا کہ ’’جنگ کسی مسئلے کاحل نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ باہم مل بیٹھیں اور اپنے خیالات، ثقافت اور مفادات کو باہمی رضامندی سے بانٹنے کے لیے بات چیت کریں۔‘‘
SHARE