Shayad Woh Loot Aye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1237
والد صاحب اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے جبکہ ان کے تمام رشتہ دار بزنس کرتے تھے اور امیروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ہمارے سگے تایا، چچا محض اس وجہ سے والد کو اہمیت نہ دیتے تھے کہ وہ مالی لحاظ سے ان کی برابری نہ کر سکتے تھے۔
یہ دنیا بھی عجب رنگ کی ہے کہ جہاں دولت خون کے رشتوں کو بھی سفید کر دیتی ہے۔ مجھ میں کوئی کمی نہ تھی، خوبصورتی میں اول نمبر اور خوب سیرتی میں خاندان کی سبھی لڑکیوں سے بڑھ کر تھی۔ اسکول میں ہونہار طالبہ مانی جاتی تھی مگر افسوس کہ تمام برادری میں سے میرے لئے کوئی رشتہ نہ آیا۔ خاندان میں لڑکوں کی کمی نہ تھی لیکن والد اس وجہ سے اپنے اس برادری کے شجر سایہ دار سے کٹ رہے کہ ان کے پاس مجھے دینے کو ڈھیروں جہیز اور نمود و نمائش کیلئے وافر دولت نہ تھی۔
اس ترقی یافتہ دور میں بھی میرے والد بےچارے تپتی دھوپ اور لُو کے تھپیڑوں میں سائیکل پر آتے جاتے تھے جبکہ ان کے سب بھائیوں اور کزنزکے پاس اعلیٰ درجے کی قیمتی گاڑیاں تھیں۔ وہ ان سے ملنے سے گھبراتے اور ابو ان کے گھر آنے جانے سے کتراتے، البتہ کبھی کبھار کسی شادی یا پھر خاندان میں کسی کی وفات پر ملاقات ہو جاتی تھی۔
ایسے حالات میں میرے لئے اپنوں کے رشتے کہاں سے آتے۔بیٹیاں بڑی ہو جائیں توماں باپ کو انہیں بیاہنے کی فکرہوتی ہے۔ والد صاحب کو بھی میری فکر لاحق تھی۔ مجھے صرف مڈل تک پڑھا سکے تھے۔
آگے پڑھانے کی خواہش تھی لیکن ہمارے علاقے میں ان دنوں گرلز ہائی اسکول نہیں بنا تھا۔ کسی بڑے قریبی شہر میں بھیجنے کی استطاعت نہ تھی اور حوصلہ بھی نہ تھا تبھی میری تعلیم کا سلسلہ منقطع کرا دیا گیا۔
آٹھویں کا امتحان دیا تھا کہ والدہ ہم کو داغ مفارقت دے گئیں۔ ان کی جدائی سوہان روح تھی مگر یہ ایسی جدائی تھی کہ جس کا تدارک نہ تھا۔ میں گھر سنبھالتی اور ماں کو یاد کر کے آنسو پونچھتی رہتی تھی۔
اتوار کے دن اسکول کی چھٹی ہوا کرتی تھی تبھی اس دن ابا اپنے کچھ شاگردوں کو ٹیوشن پڑھا یا کرتے تھے۔ انہی میں ایک غریب لڑکا نادر بھی آیا کرتا تھا، جس کا باپ وفات پا چکا تھا اور ماں گائوں کی خوشحال عورتوں کے کپڑوں پر کڑھائی سے بیل بوٹے بنا کر گزارا کرتی تھی۔
اس کا نام مائی جنداں تھا۔ وہ کشیدہ کاری میں طاق تھی اور رنگین دھاگوں سے ایسی کشیدہ کاری کرتی کہ اس کے ہاتھ سے کڑھے پھولوں پر اصلی پھولوں کا گمان ہوتا تھا۔
میں بن ماں کی بچی تھی۔ جنداں کبھی کبھی ہمارے گھر اپنے بیٹے کی فیس دینے آتی تو والد کہتے، تمہارا لڑکا بہت نیک ہے میں تبھی اس کو دل سوزی سے پڑھاتا ہوں تاکہ یہ کسی لائق ہو جائے اور تمہارے دکھ ٹلیں، بدلے میں تم ہفتے میں ایک دو دن میری بیٹی کو کشیدہ کاری سکھا جایا کرو۔
یہ سچ ہے کہ بیٹیوں کے رشتے ماں ہی تلاش کرتی ہے۔ باپ تو رخصتی کے وقت سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کر دیتے ہیں اور رخصت کر دیتے ہیں۔ بیوی نہ رہی تو یہ فریضہ بھی میرے لئے ابا کو ہی ادا کرنا پڑا۔
وہ اپنے بہت سے شاگردوں کو جانتے تھے، ان میں نادر ان کی نظروں میں سب سے مناسب لڑکا تھا۔ انہوں نے نجانے کب سے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ غریب سہی ،داماد اسی کو بنائیں گے۔
غربت دائمی نہیں ہوتی اگر انسان کوشش کرے تو وہ اس اندھیرے کنویں سے نکل سکتا ہے لیکن با کردار ہونا ہی افضل ترین ہوتا ہے۔ والد صاحب کی جہاں دیدہ نگاہوں نے وہ صفات نادر میں دیکھ لی تھیں جو کسی آدمی کو اشرف انسان بناتی ہیں۔
ایک دن وہ اسکول سے لوٹے تو نادر ان کے ساتھ تھا۔ مجھ سے کہا کہ اس کی والدہ بھی اسے چھوڑ گئی ہیں تبھی نادر کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں ۔اکیلے گھر میں یہ نہیں رہ سکتا۔ اس کا استاد ہوں، ماں باپ نہ رہیں تو استاد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لاوارث شاگرد پر والدین کی طرح شفقت کا ہاتھ رکھے۔ آج سے یہ ہمارے گھر میں رہے گا۔
حیران تھی کہ پڑوسی اور رشتے داروں کی پروا کئے بغیر وہ اپنے گھر میں ایک غیر لڑکے کو کیسے جگہ دے سکتے ہیں جبکہ جوان بیٹی بھی گھر میں موجود ہے۔
چند دن ابا نے نادر کو رکھا۔ وہ خود اس کی خاطر بیٹھک میں سونے لگے۔ صبح ناشتہ کرکے دونوں اسکول چلے جاتے اور شام کو ساتھ لوٹتے۔ ایک ماہ نہ ہوا تھا کہ انہوں نے میرا اس کے ساتھ بیاہ کر دیا۔ نادر نے ابھی میٹرک کا امتحان ہی دیا تھا کہ وہ ابا کا داماد بن گیا۔ اس پر کسی کو زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوئی۔ کوئی اعتراض کیوں کرتا، وہ بطور گھر داماد ہمارے ساتھ رہتا تھا۔ والد چاہتے تھے کہ نادر کو مزید تعلیم دلوا دیں مگر ان کو زندگی نے مہلت نہ دی۔
ایک روز صبح سویرے چہل قدمی کو گھر سے نکلے تو چارپائی پر لوٹے۔ دریا کنارے سانپ نے انہیں ڈس لیا تھا۔ ماں تو پہلے ہی نہ تھی ،باپ کا صدمہ کم نہ تھا روتے روتے بے ہوش ہو گئی۔ ایسے میں نادر نے مجھےسہارا دیا، وہ نہ ہوتے تو شاید مر جاتی۔ والد بر وقت کتنا اچھا فیصلہ کر گئے تھے۔نادر بے روزگار اور بے آسرا تھے لیکن ان کا اور میرا غم مشترک تھا۔ ہم دونوں یتیم اور ایک جیسے دکھ سے آشنا تھے۔ ایک دوسرے کے رنج و غم کو سمجھ سکتے تھے۔
والد صاحب کے گزر جانے سے گھر کی ذمہ داری نادر پر آپڑی، وہ میٹرک پاس تھے،نوکری نہ مل سکتی تھی ،لائق تھے لڑکوں کو ٹیوشن پڑھانے لگے لیکن چھوٹے سے گائوں میں ٹیوشن کی فیس نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس سے گزاراممکن نہ تھا۔
والد کا مکان میرے نام تھا۔ میں نے نادرکو صلاح دی کہ یہ مکان بیچ دیتے ہیں اور شہر میں چل کر رہتے ہیں۔ وہاں تمہیں کوئی چھوٹی موٹی نوکری یا کچھ کام مل ہی جائے گا اور محنت میں عار نہ ہو گا۔ یہاں ہماری امیر برادری ہے۔ یہ لوگ ہماری مدد تو نہیں کریں گے مگر محنت مزدوری کرنے پر اعتراض کر کے ہمارا جینا ضرور دوبھر کر دیں گے۔ نادر نے میری صلاح مان لی اور میں اپنے والد کے ایک کزن کے پاس گئی۔ ان سے استدعا کی کہ چچا آپ ہمارا مکان بکوانے میں مدد کریں ورنہ میرے تایا چچا اسے بیچنے نہ دیں گے۔ ہر طرح سے روڑے اٹکانے کی کوشش کریں گے۔ ان سے اپنی مجبوری بیان کی تو ان کی سمجھ میں میری بات آ گئی اور میرا مکان کچھ سستے میں خرید لیا۔
میرے لئے یہی ان کی مہربانی کافی تھی ورنہ عمر بھر بھی گھر فروخت نہ کر سکتی تھی۔ رقم لے کر ہم ایک چھوٹے گائوں سے ملتان آ گئے۔ کرایےکا سستا مکان ایک غریب علاقے میں لے لیا اور نادر نے کام کی تلاش شروع کر دی۔ کسی سیٹھ کے پاس منشی کے طور پر ملازمت ملی۔ تنخواہ اتنی کم تھی کہ ہم دو افراد بھی پیٹ بھر روٹی نہ کھا سکتے تھے۔
میں امید سے تھی کہ آنے والے بچے کا بھی کچھ سوچنا تھا ۔ نادر کا ایک دوست ملتان میں رہتا تھا۔ اس سے مسئلہ بیان کیا۔وہ کہنے لگا کہ اگر تم راولپنڈی یا اسلام آباد شفٹ ہو جائو تو وہاں میرے بہت سے جاننے والے ہیں، تم کو کام پر رکھوا سکتا ہوں۔ نادر نے مجھ سے مشورہ لیا۔ یہ مشورہ مانے بغیر چارہ نہ تھا۔ ظاہر ہے آگے زندگی پڑ ی تھی۔ ابھی سے کچھ کرنا تھا، ورنہ کیونکر ہماری تقدیر سدھر سکتی تھی۔
ہم دونوں قاسم بھائی کے ہمراہ راولپنڈی آ گئے جہاں ان کا آبائی گھر تھا۔ پھر انہوں نے نادر کو اپنے بڑے بھائی سے کہہ کر ایک وکیل کے پاس کلرک رکھوا دیا۔ ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ کچھ روپیہ جو مکان فروخت کر کے ملا تھا اس سے ہم نے اسلام آباد کے قریب مضافات میں پلاٹ خرید لیا۔ دو کمروں اور ایک چار دیواری کی تعمیر کے لئے رقم اکٹھی کرنے لگے تاکہ کرائے کے گھر سے نجات مل جائے۔
پانچ برس گزر گئے میرے تین بچے ہو گئے، لیکن ہم دو کمروں کے کچے مکان کی تعمیر جتنے پیسے بھی
جمع نہ کر سکے۔ چھوٹے بچوں کے اخراجات بہت ہوتے ہیں۔ نادر کی تنخواہ کافی نہ تھی، مکان کا کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہو گئی۔ تب ہی ایک دن میں نے اپنے شوہر سے کہا۔ اجازت دو تو کیوں نہ میں نزدیکی گھروں میں کام ڈھونڈوں، محنت میں تو کچھ عار نہیں ہے۔ وہ بولے۔ تم ایک ہیڈ ماسٹر کی دختر ہو، لوگوں کے جھوٹے برتن دھونا تم کو زیب نہیں دیتا ہے۔ بچوں کے بھوکے مر جانے سے بہتر ہے کہ میں اپنی انا کو سرنگوں کر لوں، آپ مجھے مت روکئے۔ اپنے گائوں میں رشتہ داروں کا لحاظ تھا لیکن یہاں ہم کو کون جانتا ہے۔ ہمیں تو بس اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہیں۔ بہت کہہ سن کر نادر سے اجازت لے لی اور قریبی کوٹھیوں میں کام تلاش کر لیا۔
صبح بچوں کو ناشتہ کرا کے بڑی بچی جو چھ سال کی تھی، اسے گھر سونپ کر خود کام کے لئے نکل جاتی۔ شام کو تھکی ہاری واپس آتی تو لوگوں کے گھروں سے بچا کھچا کھانا بھی ساتھ لے آتی۔ بچوں کو پیٹ بھر اچھا کھانا میسر آنے لگا لیکن میرے آنسو بہ نکلتے کہ گائوں میں ہم غریب ضرور تھے مگر کھانا میسر تھا، مکان بھی اپنا تھا۔ والد کی عزت تھی ،شاگردوں کے ماں باپ ان کو جھک کر سلام کرتے تھے۔ پردیس میں آ کر کیا ملا، ٹھکانے سے گئے اور دربدری کا عذاب الگ مول لے لیا۔
نادر جب کبھی مجھے افسردہ دیکھتے توکہتے۔کوثرکاش تمہاری شادی مجھ کنگال سے نہ ہوئی ہوتی تو آج تم اس قدر عسرت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور نہ ہوتیں ۔اب تو اکثر سوچتا ہوں کہ کسی دن حالات سے تنگ آ کر تم مجھے چھوڑ کر نہ چلی جائو۔ ایسا کیوں سوچتے ہیں، میرے تین بچے ہیں بھلا میں ان کو آپ کو چھوڑ کر جا سکتی ہوں؟
ہاں،یہی بچے تو عورت کی بیڑیاں بن جاتے ہیں۔ سخت ترین حالات میں کبھی وہ اپنا گھر نہیں تج سکتی۔ تاہم اگر تمہیں کوئی خوشحال بہتر زندگی کی نوید دے تو اپنی خوشیوں کو آگ مت لگانا۔ مجھے آگاہ کردینا ،خود تمہارے راستے سے ہٹ جائوں گا لیکن مجھے بتائے بغیر کہیں غائب نہ ہو جانا ۔
حیرانی ہوئی کہ ایسی باتیں میرے شوہر کے دماغ میں کیوں آ جاتی ہیں۔ وہ کہتے ۔میں باہر کی دنیا میں چلتا پھرتا ہوں۔ زمانے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کئی ایسے واقعات روز وقوع پذیر ہوتے ہیں جن پر یقین کرنے کو دل نہیں کرتا کیونکہ ظالم غربت ایسے ہی واقعات کو جنم دیتی ہے کہ جن کو سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ روز اخبارات میں کیسی کیسی خبریں چھپتی ہیں، معصوم بچوں کی فروخت، مرد و عورتوں کے معاشقوں میں گھروں کی بربادی ،شوہر کا تیزاب سے چہرہ بگاڑ دینا،بیوی کو قتل کر کے خود تھانے پیش ہو جانا، آخر ان واقعات کے پیچھے بھی تو اسی غربت کا ہاتھ ہوتا ہے۔
آپ زمانے کو کس نظر سے دیکھنے لگے ہیں؟ کیا ابھی تک آپ نے مجھے نہیں پہچانا!میں ان عورتوں میں سے نہیں ہوں جو غربت سے گھبرا کر رستے بدل لیتی ہیں۔ مجھے میرا جیون ساتھی اور گھر بہت عزیز ہے،ایسا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی۔
بیگمات مجھے خوبصورت سوٹ دے دیتی ہیں تو اس وجہ سے کہ وہ بہت امیر ہیں۔ ایک سوٹ ایک بار پہنتی ہیں تو ان کے دل سے اتر جاتا ہے۔ یہاں اسلام آباد میں تو ارب پتی لوگ رہتے ہیں، ان کی نگاہوں میں ایسی چیزیں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ آپ کو اندیشے ڈراتے ہیںتو آئندہ میں اچھے کپڑے نہیں پہنوں گی۔میلے اور پرانے کپڑوں میں ہی گھر سے نکلا کروں گی۔
جانے کیوں ان دنوں نادر کو ہول آنے لگے تھے۔ اس کی کیا وجہ تھی ،میں نہیں جانتی تاہم دعا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ روزی کی کوئی اور بہتر سبیل نکال دے گا تو بنگلوں پر کام کرنا چھوڑ دوں گی۔ میرا مطمع نظر تو یہ تھا کہ کچھ رقم ہم پس انداز کر سکیں تاکہ کرائے کے مکان سے جان چھوٹ جائے ،تبھی کام کرتی تھی۔
اس روز میری کچھ نادر سے تکرار ہوئی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ جب تک تم کام نہیں چھوڑو گی یا پھر مجھے کوئی دوسرا کام نہیں ملے گا جس میں زیادہ آمدنی ہو۔ میرا جی ڈرتا ہے کہیں کوئی ہم تم کو جدا نہ کردے، تم اپنے بچوں کے ہمراہ گھر پر ہی رہا کرو تاکہ میں زیادہ کمانے کی سعی سکون سے کر سکوں۔ جب تین بجے گھر لوٹتا ہوں تو بچے بھوکے بیٹھے ہوتے ہیں۔ بےچارے پریشان ہوتے ہیں۔ مجھ سے یہ صورت حال برداشت نہیں ہوتی۔
اپنے شوہر کو اس قدر پراگندہ ذہن دیکھ کر سوچا کہ جو بھی ہو، اب کام پر نہیں جائوں گی۔ میں نے نادر سے کہا ۔بس آخری دن آج جا رہی ہوں تاکہ بیگمات کو بتا دوں کہ کل سے نہیں آئوں گی۔ ان سے گزشتہ دنوں کی تنخواہ بھی لینی ہے، وہ آج لے آئوں گی۔ شوہر کو اطمیان دلا کر میں گھر سے نکل آئی۔
میرے بعد نادر نکلے اور دروازے کو باہر سے تالا لگا دیا کیونکہ بچے اکیلے گھر میںہوتے تھے۔ تالے کی ایک چابی میرے پاس دوسری ان کے پاس رہتی تھی۔ وہ مجھ سے پہلے گھر آجاتے تھے۔
یہ اسی شام کی بات ہے سب گھروں کی بیگمات کو جواب دے کر گھر لوٹ رہی تھی کہ رستے میں دو آدمی ملے اور مجھ سے ایک محلے دار کا پتہ دریافت کیا۔ میں نے بتا دیا کہ پچھلی گلی میں ان کا گھر ہے۔ بولے کس کس در پر دستک دیں گے، ذرا آگے چل کر ہم کو وہاں پہنچا دو۔ کہا کہ وہ بڑی دیر سے ڈھونڈ رہے تھے، دوسرے شہر سے آئے تھے۔ روزہ دار تھے اور روزہ کھولنے کا وقت ہونے والا تھا۔ بہن تم کو اس نیکی کا اجر ملے گا۔
میں جاتے جاتے مڑ کر ان کے آگے آگے چلنے لگی اور وہ میرے پیچھے پیچھے آنے لگے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کیا تو پچھلی گلی کا موڑ آ گیا، موڑ مڑ کر گلی کے سرے پر ٹھہر گئی اور بتانے لگی کہ دیکھو بھائی وہ سامنے والا گیٹ ہے کالے رنگ کا، اس میں رہتے ہیں جن کا نام لے رہے ہو ،یہ بتا کر جونہی پلٹ کر واپس جانا چاہا ایک نے بجلی کی سی تیزی سے لپک کر مجھے پکڑا اور دوسرے نے ایک رومال کے ساتھ زور سے میری ناک کو اس طرح دبادیا کہ سانس رک گیا اور آنکھوں میں اندھیرا آ گیا۔ اسکے بعد نہیں معلوم کیا ہوا۔ گاڑی وہاں ہی کھڑی تھی، شاید اسی میں مجھ کو ڈال کر وہاں سے فرار ہو گئے۔
ہوش آیا تو پتہ چلا کہ ایک انجان علاقے میں یہ بردہ فروشوں کا کوئی خفیہ اڈہ تھا، جہاں میری طرح کی عورتیں، لڑکیاں بچے اور بچیاں تھیں۔
ان پر دو قوی جثہ مردانہ ڈیل ڈول کی عورتیں پہرہ دیتی تھیں۔ میں تو اپنا غم بھی بھول گئی کہ ان قیدی، حرماں نصیب لڑکیوں اور بچوں کی بے بسی دیکھ کر رونا آتا تھا۔ کچھ چھوٹے بچوں کو میں نے ایک ماں کی طرح سینے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ خدا جانے یہ ظالم ان کو کس مقصد کے لئے پکڑ کر لائے تھے۔ ان کو دیکھ کر اپنے بچے یاد آ رہے تھے کہ جن سے ناگہانی بچھڑ گئی تھی۔


چند دنوں بعد ہم سب کو چھانٹی کے لئے ایک اور احاطے میں بھیج دیا گیا جہاں ارد گرد پہاڑ تھے،آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔
یہاں کے منتظمین اتنے سخت تھے کہ ان کے آگے سانس لینے سے بھی ہماری جان جاتی تھی۔ کڑی نگرانی کے باوجود اگر کوئی بھاگنے کی کوشش کرتا تھا تو اس کے ہاتھ پائوں توڑ دیئے جاتے تھے۔
شاید میری قسمت اچھی تھی جو ایک روز گروہ کے ایک شخص نے مجھے کہا کہ تم نے میرے ساتھ چلنا ہے۔ میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے، اسے خدمت گار چاہئے۔ یاد رکھنا اگر تم نے وہاں گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو جان سے ماری جائو گی۔
وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے آیا، واقعی اس کی بیوی ایک نوزائیدہ کو پہلو میں لئے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے مہربان لہجے میں بات کی اور مجھے سمجھایا کہ اس کمرے اور ساتھ والے کمرے تک تم کو جانے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ قدم نہیں رکھنا۔ ورنہ ہمارے محافظ تم کو گولی مار دیں گے۔ مجھے لگا کہ یہ جگہ اس احاطہ سے کہیں بہتر ہے جہاں ہم کو ایک پہاڑی ویرانے میں قید رکھا گیا تھا۔ یہ شہر لگتا تھا
تاہم گھر کی کھڑکیاں اتنی اوپر نصب تھیں کہ کسی اونچی میز یا سیڑھی پر چڑھے بغیر ہم ان سے نہیں جھانک سکتے تھے۔ یہ صرف روشنی اور ہوا کے لئے تھیں ،جھانکنے کے لئے ہرگز نہیں۔
میں اپنے دکھ کو دل میں دبائے تندہی اور پورے خلوص سے اس عورت کی خدمت میں لگ گئی جس کی زبان میں نہیں جانتی اور نہ سمجھتی تھی۔وہ اردو میں ٹوٹی پھوٹی گفتگو کر سکتی تھی جس کے دوران زیادہ تر اشاروں سے کام لینا پڑتا تھا۔ عورت کی خدمت کرتے ڈیڑھ ماہ ہو گیا۔ اب وہ اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے کے قابل تھی۔ میرے سوا وہاں کوئی عورت ایسی کبھی نہ آئی جو اردو یاپنجابی، وغیرہ جانتی ہو، سبھی انکی مادری زبان میں گفتگو کرتے ،جس کو سمجھنے سے میں قاصر تھی۔
اب میرے واپس جانے کا وقت آ چکا تھا۔ رو رو کر اللہ سے دعا گو تھی کہ وہ مجھے واپس قید خانے میں نہ لے جائیں بس یہیں رہنے دیں۔ خدا کی کرنی جس دن مجھ کو جانا تھا اسی دن اس عورت کے ننھے منے بچے کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے بچے کو ایسا تپ چڑھا کہ وہ بلکنے لگا۔ خدا جانے اس کو کیا تکلیف تھی کہ روتے روتے نڈھال تھا، ایک پل وہ چپ نہ ہوتا تھا۔
اس کی ماں اور میں نے بہت کوشش کی، پھر اس نے بچے کے باپ کو بلوایا اور فیصلہ ہوا کہ اس کو ہسپتال لے جانا ہے۔ بچے کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ عورت نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ عورت ٹھیک ہے، سمجھدار ہے۔ میں نے اسے سمجھا دیا ہے کہیں بھاگنے والی نہیں ہے۔ یہ اپنے لب بند رکھے گی اس کو بھی ساتھ لے چلو ۔بچہ اس کے پاس جاتا ہے تو سکون محسوس کرتا ہے تھوڑی دیر چپ ہو جاتا ہے۔ شاید کہ اس کے ہاتھوں کی عادت پڑ گئی ہے، اس کے ہاتھ پہچاننے لگا ہے۔
مرد مجھے ساتھ لے جانے پر راضی نہ تھا پھر ڈرا دھمکا کر لے لیا کہ خبردار اگر کسی سے بات کرتے دیکھا تو تیرا برا حشر ہو گا۔
ہسپتال میں ہم دس دن رہے ۔میں بالکل خاموش رہی جیسے گونگی تھی۔ واپس لوٹے تو عورت نے اپنے مرد سے کہا۔ جب تک ہمارا بچہ بالکل ٹھیک نہیں ہوتا اس کو یہاں رہنے دو ،بچے کو رات بھر گود میں لئے بیٹھی رہتی ہے تو میں سو لیتی ہوں۔ ایسے کرتے کرتے چھ ماہ بیت گئے۔
ایک دن پھر اچانک بچے کی طبیعت خراب ہو گئی اور اس کی بیماری عود کر آئی۔ یہ کوئی سمجھ میں نہ آنے والی بیماری تھی۔بچہ تو پہلے ہی نحیف و نزار ہو چکا تھا اور نڈھال ہو گیا۔ اس کی ماں رو رو کر پاگل ہونے لگی۔ میں نے اسے تسلی دی کہ اللہ کرم کرے گا، ٹھیک ہو جائے گا۔
کہنے لگی۔ ایسے ہی چار بچے کھو چکی ہوں۔ چھ ماہ کے ہو کر اللہ کے پاس لوٹ جاتے ہیں۔ میں کہنا چاہتی تھی کہ دوسروں کے بچے اغوا کرنے والے، مائوں کے کلیجے نوچ کر ان کو تڑپانے والے ظالموں کے ساتھ قدرت ایسے ہی انتقام لیتی ہے مگر کہہ نہ سکتی تھی۔
اس کے بیمار بچے کو گود میں لئے زارو قطار رو رہی تھی۔ میرے آنسوؤں کا اس دن اس عورت کے دل پر اثر ہوا،شاید کہ اس کا اپنا دل دکھی ہو رہا تھا۔ اپنا احوال بتا کر کہا۔میرے بھی چھوٹے چھوٹے تین بچے ہیں جو میری جدائی میں بلکتے ہوں گے اور میں ان کے لئے دن رات تڑپتی رہتی ہوں۔ خدارا مجھ پر رحم کرو، تمہارا بچہ ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔ میری دعائیں لو، میں بھی ایک دکھی ماں ہوں۔
اور سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا۔ آئندہ ایسی بات زبان پر نہ لانا ورنہ میرا شوہر تمہارے ساتھ مجھے بھی شوٹ کر دے گا۔
وہ جب چاہے گا تم کو یہاں سے واپس جانا ہی ہو گا اور اب تم کو وہ اس ملک میں بھی نہ رکھے گا کیونکہ تم نے ہمارا گھر دیکھ لیا ہے۔ وہ تم کو کسی اور ملک میں بیچے گا۔ اس بھیانک راز کے انکشاف پر میرے دل میں امید کا آخری چراغ بھی بجھ گیا۔ یہ خاتون جب کبھی مجھ پر مہربان نگاہ ڈالتی تو میرے دل کے دکھ ذرا دیر کو آنکھیں موند کر سو جاتے تھے۔ دن رات نادر اور بچوں کا غم کھا رہا تھا اور میری صحت روز بہ روز گرتی جا رہی تھی۔ رات کو روز سونے سے قبل دعا کرتی۔ اے مالک صرف ایک بار مجھے بچھڑے ہوئے بچوں سے ملا دے۔ خدا سب کی سنتا ہے اس نے میری سن لی۔
بچہ آٹھ ماہ کا تھا پھر اسے دورے پڑنے لگے۔ اس بار پشاور کے ڈاکٹر نے کہا۔اسے لاہور یا اسلام آباد لے جائو اور فلاں ڈاکٹر کو دکھائو۔ بچہ تو مجھ سے ہل چکا تھا، مالکن کے اصرار پر مالک مجھے بھی ساتھ لے آیا۔ اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال میں چند خصوصی معالجین نے بچے کا معائنہ کیا۔ ماہر ڈاکٹروں کا بورڈ اس کی بیماری کے بارے میںتحقیق و تشخیص میں ڈوبا ہوا تھا۔
یہاں بار بار مالکہ کہتی تھی کہ دیکھو مجھ سے بددیانتی مت کرنا، سنبھل کر رہنا۔ مالک نے میری بات مانی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی سے اپنے معاملے کا ذکر کرو یا یہاں سے بھاگنے کی کوشش کرو۔ میرا شوہر مجھے مار ڈالے گا۔
میںنے اسے یقین دلایا کہ میں آپ کو اپنی خاطر مصیبت میں نہ ڈالوں گی۔ آپ میرے ساتھ مہربان ہیں، اللہ سے کسی اور وسیلہ سے دعا کروں گی کہ وہ میرے بچوں کو مجھ سے ملانے کی سبیل پیدا کر دے۔
عورت یہ احساس تو کر چکی تھی کہ جیسے وہ اپنے بیمار بچے کے لئے دکھی ہے، ویسے ہی میں اپنے بچوں کی جدائی سے دکھی ہوں لیکن مجھے آزاد کرانا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ یہاں بھی ان کے لوگ میری سخت نگرانی کرتے تھے۔ مالکن بھی مجھ پر نظر رکھتی تھی۔ کتنی بڑی بدنصیبی تھی کہ میرا گھر بھی اسی شہر میں تھا اور میں اپنے گھر نہیں جا سکتی تھی۔ کمرے سے باہرتک جانے کی بھی اجازت نہ تھی۔
ہسپتال میں ایک رات میں غیر کے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی کہ اپنے بچوں کی یاد آ گئی اور کانوں میں ان کی سسکیاں سنائی دینے لگیں، جیسے کہ وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر مجھے ڈھونڈتے اور روتے ہوں یا میری ممتا مجھ پر خنجر کی طرح وار کرنے لگی۔ جی چاہا ان کا بچہ فرش پر پھینک دوں اور دروازہ کھول کر نکل بھاگوں۔ میں نے بچے کو جونہی بستر پر لٹایا، وہ اٹھ گیا اور رو نے لگا۔ مالکن کی آنکھ کھل گئی اس نے کہا۔کیا بات ہے، اسے اٹھاتی کیوں نہیں ہو؟ یہ رو رہا ہے۔ میں نے بچے کو اٹھایا اور سسک کر رہ گئی، مالکن پھر سو گئی۔
صبح اٹھی تو اس نے کہا ۔کوثر میں نے رات ایک عجیب خواب دیکھا کہ کسی نے مجھ سے کہا ہے اگر تم اس عورت کو جانے دو تو تمہارا بچہ تندرست ہو جائے گا ورنہ… یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔
تو خدا کے لئے مجھے جانے دیں، آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں کہ مجھے یہاں سے بھاگ جانے کا موقع دیں۔دعا کرتی ہوں آپ کا بچہ صحت یاب ہو گا۔ تم بھی ماں ہو اور میرے بچے بھی مجھ سے جدا ہیں۔ عورت نے کچھ سوچا اور کہا اچھا آج رات اوپر کی منزل سے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا اور نکل جانا۔ اگر پکڑی جائو تو میرا نام ہرگز مت لینا۔ میں نے وعدہ کر لیا۔
یہ ہسپتال تین منزلہ تھا ۔آدھی رات کو جونہی دروازہ کھول کر جھانکا، کوریڈور خالی اور سنسان پایا۔ دروازے سے نکل کر نرسنگ روم میں گھس گئی۔ سوچا ،کسی نے دیکھا تو یہ جانے گا کہ یہ نرس کو بلانے گئی تھی۔
وہاں کوئی نہ تھا مگر ایک سفید گائون رکھا ہوا تھا اور اسکارف بھی تھا۔ گائون پہن لیا اور اسکارف کو سر پر لپیٹ کر میں تیزی سے اوپر کی منزل پر چلی گئی۔ وہاں سے دوسری جانب اترتی سیڑھیوں سے لفٹ میں داخل ہو گئی۔ جونہی لفٹ چلی، میں گرائونڈ فلور پر تھی۔
اللہ نے مدد کرنی تھی کہ ایک ایمبولینس سے مریض کو نکال رہے تھے۔ ڈرائیور نے اسے تھوڑا سا آگے لے جا کر لائن میں کھڑی گاڑیوں کے ساتھ کھڑا کر دیا۔ صبح تک اسی میں بیٹھی رہی اور جب کوئی سویرے آیا تو میں اس میں سے اتر کر سڑک کی طرف چل دی۔ ڈرائیور نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور وہ گاڑی لے گیا۔ سڑک کراس کرتے ہی رکشہ کو ہاتھ دیا اور اپنے محلے کا نام لیا۔ اس نے مجھے آدھ گھنٹے میں وہاں پہنچا دیا ۔
میں نے ایک
بنگلے کی بیل بجائی، جہاں پہلے کام تھا اور مالکن کو تمام احوال سنایا۔ اس نے بتایا کہ تمہارا شوہر اور بچے کئی بار آئے تھے، تمہارا پوچھتے تھے۔ اب وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ یقین کرنے کو گھر گئی۔ اس کی اجڑی دہلیز کو پار کیا مگر وہاں دھول اڑ رہی تھی، نہ نادر تھے اور نہ بچے تھے۔مکڑیوں نے دروازے پر جالے بن رکھے تھے۔ میں وہاں کلیجہ تھام کر بیٹھ گئی۔ بیگم نے ہی آ کر شام کو حال جانا اور اپنے گھر لے گئی۔ نادر اور لوگ یہی سمجھے کہ میں کسی کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہوں ،مایوس ہو کر کہیں چلے گئے اور میں بدنصیب ان کی صورتیں بھی نہ دیکھ سکی۔ آج بھی بیگم کے پاس رہتی ہوں، ان کے برتن دھوتی ہوں، شاید نادر لوٹ آئیں۔
(ک۔ اسلام آباد)