Shikar | Episode 1

577
آج صبح سے ہی سخت گرمی پڑنا شروع ہوگئی تھی۔ پسینہ تھا کہ بہے چلا جارہا تھا۔ وسیم تولیے سے پسینہ پونچھتا اور پھر کھیلنا شروع کردیتا۔ کھیل پورا کرنے کے بعد وہ ہانپتا ہوا کورٹ سے نکل گیا اور ٹینس کا ریکٹ اس نے عارف کے حوالے کیا اور کلب سے باہر آگیا۔
شام ڈھلنے لگی تھی اور رات پڑائو کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ مین شارع کی دکانیں جگمگا اٹھی تھیں۔ وہ کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ پیدل چلا جائے یا ٹیکسی، رکشہ وغیرہ کرلے۔ اس کا فلیٹ قریب ہی تھا۔
اس سے کچھ فاصلے پر ایک مرد اور عورت بھی ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ سڑک کے پار مخالف سمت میں ایک کار کھڑی ہوئی تھی جس میں دو افراد اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔
وہ ابھی مشکل سے دس پندرہ قدم آگے گیا تھا کہ ایک نسوانی آواز نے چیخ کر کہا۔ ’’خبردار… تمہارے پیچھے…‘‘
وہ فوراً رک گیا اور خطرے کے احساس کے ساتھ ہی پھرتی سے گھوما اور بائیں جانب ہٹ گیا۔ اس حرکت نے اسے بچا لیا۔ حملہ آور اپنی جھونک میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ وہ گٹھے ہوئے مضبوط بدن مگر پستہ قامت شخص تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک موٹا سا ڈنڈا تھا جس کی لمبائی ایک فٹ سے زیادہ نہ ہوگی۔ اس ڈنڈے سے اس نے بھرپور وار کیا تھا جو خالی گیا تھا۔ بھاری جسامت کے باوجود وہ بلا کا پھرتیلا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فوراً ہی سنبھل کر پلٹا اور ایک بار پھر پوری قوت سے وسیم پر ڈنڈے کا وار کیا مگر اب وہ بھی اس حملہ آور کو جواب دینے کے لیے تیار تھا۔ اس نے انتہائی چابک دستی کا مظاہرہ کیا اور بائیں ہاتھ سے اس کی کلائی پکڑ لی اور دائیں ہاتھ کا زوردار گھونسا اس کے جبڑے پر رسید کردیا۔ حملہ آور کے حلق سے کراہتی ہوئی آواز خارج ہوئی۔ اس نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، جیسے میدان چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ہو مگر وسیم نے حملہ آور کی کلائی نہ چھوڑی اور نہایت پھرتی سے اس کی گردن دبوچنے کی کوشش کی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا۔ کلائی ہنوز وسیم نے دبوچے رکھی تھی۔ حملہ آور نے مکا رسید کیا جو اس کے شانے پر لگا۔ جواب میں اس نے لات چلا دی اور ساتھ ہی اس کی کلائی چھوڑ دی۔ حملہ آور چیخ مار کر فٹ پاتھ پر گرا اور پھر وسیم نے اس کے اٹھنے کا انتظار کئے بغیر ہی بھاگنا شروع کردیا۔
موڑ سے پہلے وسیم نے گھوم کر دیکھا۔ کلب کے سامنے مخالف سمت میں کھڑی کار تیزی سے روانہ ہوگئی۔ کلب کے سامنے کھڑا جوڑا حیرت سے آنکھیں پھاڑے وسیم کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ فاصلے پر کھڑے لوگ زور زور سے چلاّ رہے تھے۔ دوسرے ہی لمحے وسیم منہ کے بل فٹ پاتھ پر پڑا تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔ اسی دوران اس کے دونوں ہاتھ سامنے ٹٹولتے ہوئے کسی سڈول اور گداز چیز سے ٹکرائے اور چند لمحے بعد جب وہ کچھ دیکھنے کے قابل ہوا تو گھبرا کر اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ اس نے کسی سڈول پنڈلیوں کو پکڑ رکھا تھا اور پھر اسے گرتی ہوئی وہ خوبصورت لڑکی بھی نظر آگئی۔
’’اگر آپ گھور چکے ہوں تو اٹھ جائیں… میں آپ کے بوجھ سے دبی بلکہ مری جارہی ہوں۔‘‘ لڑکی نے قدرے چِڑ کر کہا۔
وسیم بدحواسی کے عالم میں سنبھل کر اٹھا اور شرمسار سے لہجے میں اس خوبصورت لڑکی سے بولا۔ ’’مجھے بے حد افسوس ہے۔ آپ کو چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘ کہتے ہوئے اس نے اسے سہارا دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا مگر لڑکی نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کھڑی ہوکر اپنے کپڑے جھاڑنے لگی۔ یہی وہ وقت تھا جب وسیم کو حملہ آور کا خیال آیا۔ پھر وہ اس لڑکی سے بولا۔ ’’مجھے افسوس ہے۔ دراصل کسی نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کرنا چاہی تھی۔ میں جان بچا کر بھاگ رہا تھا کہ آپ سے ٹکرا گیا۔‘‘
’’میں جانتی ہوں۔ میں نے ہی چلاّ کر آپ کو خبردار کیا تھا۔ آپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں آئی ڈاکٹر؟‘‘
’’ڈاکٹر؟‘‘ وہ یکدم چونکا۔ ’’نن… نہیں میرا خیال ہے کہ نہیں۔‘‘ وسیم نے کہا اور اسی لمحے گزرتی ہوئی ایک ٹیکسی کو ہاتھ دیا۔ ٹیکسی ان کے برابر آکر رک گئی۔
’’یہاں رکنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ آئو جلدی کرو۔‘‘ وسیم نے لڑکی سے کہا لیکن جیسے ہی وسیم نے قدم آگے بڑھایا، اس کے گھٹنے میں اتنی زور کی ٹیس اٹھی کہ اگر لڑکی پکڑ نہ لیتی تو وہ وہیں گر پڑتا۔ پھر اس نے ہی اسے سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھایا۔
وہ جلد ہی
گھر پہنچ گئے۔ لڑکی کچھ بولڈ اور ہمت والی تھی یا پھر اس میں وسیم کی ’’صورت‘‘ کا بھی دخل تھا کہ وہ خوبصورت لڑکی اسے سہارا دے کر اندر فلیٹ میں لے گئی۔ وسیم کو یوں تو زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی۔ بس اس کا ٹخنہ معمولی سا چھل گیا تھا تاہم وہ بہت شرمندہ تھا کہ اس شریف لڑکی کو اس کی وجہ سے اتنی پریشانی ہوئی لہٰذا وہ ایک بار پھر اس سے معذرت خواہانہ انداز میں بولا۔ ’’تمہارا بہت بہت شکریہ، میری وجہ سے تمہیں جو زحمت ہوئی، اس کی میں تلافی تو نہیں کرسکتا لیکن کافی ضرور پیش کرسکتا ہوں۔‘‘
’’آپ باتھ روم جاکر فرسٹ ایڈ لے لیں۔ کافی میں بنا لیتی ہوں۔‘‘ لڑکی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا اور وسیم کے اندر ایک دوسرا جھماکا ہوا۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ اسے منع کرتا، لڑکی کچن میں داخل ہوچکی تھی۔
وسیم کے ٹخنے اور شانے پر معمولی سی خراشیں آئی تھیں۔ اس نے ان خراشوں کی اینٹی سیپٹک سولیوشن سے صفائی کی اور ٹنکچر آیوڈین لگایا۔ منہ دھو کر لباس اور بال درست کیے اور پھر جب کمرے میں واپس آیا تو وہ پیالی میں کافی انڈیل رہی تھی۔ اس نے بھی اب اپنا حلیہ درست کرلیا تھا۔ وہ بلاکی خوبصورت تھی۔ سیاہ گھنے بال، غزالی آنکھیں، دلکش خدوخال اور متناسب جسم، گویا ہر لحاظ سے وہ دلفریب تھی۔
’’تم نے مجھے ڈاکٹر کہہ کر کیوں مخاطب کیا تھا؟‘‘ وسیم نے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’مجھے پہچاننے میں غلطی ہوگئی تھی۔ میں سمجھی آپ ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر نصیر شاہ…‘‘ لڑکی نے جواب دیا۔
’’اوہ… وہ تو بڑے نامور سائنسدان ہیں۔‘‘ وسیم نے کہا۔ ’’لیکن ان سے کبھی ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔‘‘
’’آپ ان سے بہت مشابہ ہیں۔ وہی قد، وہی شکل و صورت اور وہی جسم… بالوں میں تھوڑا فرق ضرور ہے ورنہ آپ ہوبہو ڈاکٹر نصیر شاہ ہیں۔‘‘ لڑکی نے دلنشیں مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’ویسے آپ اپنا تعارف نہیں کرائیں گے؟‘‘
’’کیوں نہیں، میرا نام وسیم ہے۔ پہلے میرین میں تھا، اب وہ ملازمت چھوڑ چکا ہوں اور آج کل ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتا ہوں۔‘‘
’’کافی کا شکریہ۔‘‘ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا اور کھڑی ہوگئی۔
وسیم کو اچنبھا ہوا کہ لڑکی نے ابھی تک اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟ اخلاقاً اسے اپنا بھی تعارف کرانا چاہیے تھا۔ ابھی وہ اس سے کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ لڑکی دوبارہ مسکرا کر بولی۔ ’’امید ہے کہ دوبارہ ملاقات ہوگی۔‘‘
’’لیکن کیسے؟ میں تو تمہارا نام بھی نہیں جانتا؟‘‘ بالآخر وسیم کو پوچھنے کا بہانہ مل گیا۔
’’مگر میں آپ کا نام اور پتا دونوں ہی جانتی ہوں۔ اللہ حافظ…‘‘ لڑکی نے ایک شوخ سی مسکراہٹ سے کہا اور باہر نکل گئی۔
اس خوبصورت لڑکی کی شوخ سی مسکراہٹ دیر تک اس کے دل میں گدگدیاں کرتی رہی۔ وسیم کو وہ بڑی عجیب لگی تھی۔ خوبصورت، شوخ اور بیباک، لیکن پھر اسے خیال آیا کہ آخر اس پر حملہ کیوں کیا گیا اور حملہ آور کون تھے؟ لڑکی نے کہا تھا کہ اس کی شکل ڈاکٹر نصیر شاہ سے ملتی ہے۔ یقیناً انہوں نے اسے ڈاکٹر نصیر سمجھ کر ہی حملہ کیا تھا لیکن کیوں؟ کیا وہ نصیر شاہ کو اغوا کرنا چاہتے تھے؟ وسیم کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا لہٰذا وہ اب اپنے کام کے بارے میں سوچنے لگا۔
اس شہر میں وسیم کا ایک پرانا دوست اور کلاس فیلو افتخار کافی عرصے سے قیام پذیر تھا۔ یہاں اس نے کنسٹرکشن کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔ کام اور بڑھا تو اس نے اصرار کرکے وسیم کو بھی بلا لیا۔ وہ دونوں شمائل کنسٹرکشن کمپنی کے پارٹنر تھے۔ بزنس افتخار دیکھتا تھا، انجینئرنگ سائڈ وسیم کی ذمے داری تھی۔ افتخار نے ایک عالیہ نامی لڑکی سے شادی کر رکھی تھی جو پہلے اس کی سیکرٹری تھی۔ وہ گھریلو قسم کی عورت تھی اور افتخار جیسے شخص کے لیے بہترین رفیق حیات ثابت ہوئی تھی۔
ان کا دفتر غازی اسٹریٹ پر واقع تھا۔
٭…٭…٭
وسیم دوسری صبح دفتر پہنچا تو افتخار کسی کام کے سلسلے میں باہر جاچکا تھا۔ اس کی عدم موجودگی میں حسب معمول عالیہ نے اس کی میز سنبھال رکھی تھی۔ انہیں پہاڑ گنج کے اس علاقے میں ایک نیا کام ملا تھا، اس لیے سب ہی مصروف تھے۔ افتخار اور وسیم ایک ہی کمرے میں بیٹھتے تھے۔ عالیہ نے مسکرا کر اس کا خیرمقدم کیا اور ایک فائل وسیم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’افتخار نے کہا ہے کہ تم اسٹرکچر کے ڈیزائن آج ہی مکمل کرلینا۔ کل
; وزارت داخلہ کو پیش کرنا ہے۔ اور ہاں کسی جمیل صاحب کا فون آیا تھا۔ انہوں نے ٹھیک گیارہ بجے تمہیں بلایا ہے۔ یہ رہا ان کا پتا۔‘‘
’’لیکن میں تو کسی جمیل کو نہیں جانتا۔ انہوں نے کچھ اور بتایا تھا؟‘‘
’’نہیں! بس یہی کہا تھا کہ کل رات والے معاملے سے متعلق بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ملاقات کے لیے بڑی تاکید کی تھی۔‘‘ عالیہ نے بتایا۔
وسیم تجسس سے مجبور ہوکر ٹھیک گیارہ بجے جمیل کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ گیا۔ دوسری منزل پر اس کا شاندار دفتر تھا۔ ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھی ہوئی ایک پُرکشش لڑکی نے اس کا استقبال کیا اور نام سنتے ہی اسے جمیل کے کمرے میں پہنچا دیا۔
اس کا آفس اس قدر شاندار تھا کہ وہ جمیل کی امارت کا بخوبی اندازہ کرسکتا تھا۔ مہاگنی کی ایک بیضوی میز کے گرد ایک بھاری بھرکم اور پختہ العمر آدمی دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ اس نے اٹھے بغیر مصافحہ کے لیے وسیم کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔
’’بہت اچھا ہوا کہ تم آگئے وسیم۔ میں تمہارا ہی منتظر تھا۔‘‘ اس نے مشفقانہ لہجے میں خاصی بے تکلفی سے کہا جیسے دونوں ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے ہوں۔
’’آپ کی بڑی مہربانی۔‘‘ وسیم نے حیران ہوتے ہوئے جواب دیا۔
وہ اب خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ اس طرح وسیم کا جائزہ لے رہا تھا جیسے اطمینان کرنا چاہتا ہو کہ وہ واقعی وسیم ہی تھا یا کوئی اور۔ کئی بار اسے سرتاپا دیکھنے کے بعد اس نے کہا۔ ’’حیرت انگیز… تم بلاشبہ کام کے آدمی ہو۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں، آپ کس کام کے بارے میں بات کررہے ہیں؟‘‘ وسیم نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’بڑا اہم کام ہے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’یقین نہیں آتا کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، وہ واقعی حقیقت ہے۔ بس ذرا بالوں کا انداز بدلنا ہوگا، پھر کام بن جائے گا۔‘‘ وہ جیسے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔
’’دیکھئے جناب! میرا بھی یہاں چھوٹا سا کاروبار ہے اور میں بہت مصروف آدمی ہوں۔‘‘ وسیم نے بالآخر جھلا کر کہا۔ ’’آپ کو مجھ سے جو کام ہے، وہ آپ بغیر وقت ضائع کئے بغیر مجھے بتا دیں تو بہتر ہوگا ورنہ میں اپنی راہ لیتا ہوں۔‘‘
اس کی بات سن کر جمیل نے ایک بے ہنگم سا قہقہہ لگایا۔ وسیم کو اب کوفت کے ساتھ غصہ بھی آنے لگا اور اسے اپنے فضول کے تجسس پر افسوس بھی ہوا جس سے مجبور ہوکر وہ یہاں اپنا وقت ضائع کرنے چلا آیا تھا۔
’’معافی چاہتا ہوں۔ دراصل میں تمہیں دیکھ کر اتنا حیرت زدہ ہوگیا تھا کہ یہ بداخلاقی ہوگئی لیکن کام اس قدر اہم ہے کہ تم اندازہ نہیں کرسکتے۔‘‘
وسیم کے لیے جمیل کی شخصیت اسرار بھری اور حیرت انگیز ثابت ہورہی تھی۔ وہ بتا رہے تھے۔ ’’حکومت کو اپنے ایٹمی منصوبے کے لیے سائنسدانوں اور ماہر حساب دانوں کی سخت ضرورت تھی اور اس مقصد کے لیے دوست ممالک کے بہت سے سائنسدانوں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ اسی سلسلے میں ایک دوست ملک کے پروفیسر ارشد زیبی بھی ایٹمی مرکز میں کام کررہے تھے۔ وہ عالمی شہرت کے حساب داں اور سائنسدان تھے۔ ان کو یہاں کام کرتے ہوئے بمشکل ایک سال کا عرصہ گزرا تھا۔ وہ بڑے گوشہ نشین اور کم گو انسان تھے۔ یہاں قیام کے دوران ان کے واحد دوست ڈاکٹر نصیر شاہ ہی تھے۔ یہ بھی ایک دوست ملک سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر ریاضی تھے۔ گزشتہ چند برس سے ایٹمی ریسرچ کے مرکز میں کمپیوٹر کے انچارج تھے۔
پروفیسر ارشد زیبی ان کو بہت پسند کرتے تھے مگر پھر اچانک پروفیسر زیبی کا انتقال ہوگیا۔ دنیا یہی جانتی تھی کہ ان کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی تھی لیکن درحقیقت انہیں قتل کیا گیا تھا۔ قاتل نے ان کے کمرے کی اچھی طرح تلاشی لی تھی۔ اسے کس چیز کی تلاش تھی، یہ کسی کو نہیں معلوم ہوسکا۔ یقیناً کوئی اہم دستاویز یا سائنسی فارمولا درکار ہوگا لیکن اس کے متعلق کچھ نہیں معلوم ہوسکا اور نہ ہی اب تک ان کے قاتل کا کوئی سراغ لگ سکا ہے۔
پروفیسر زیبی کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اچانک ڈاکٹر نصیر شاہ کو ایک گمنام خط ملا جس میں انہیں ایک بہت بھاری رقم کے عوض کسی نامعلوم ملک میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ پھر انہیں ایک گمنام فون ملا۔ اگر انہوں نے انکار کیا تو انجام کے لیے تیار رہیں۔ اس دھمکی سے یہ اندازہ ہوا کہ قاتل کو پروفیسر زیبی کے کمرے سے مطلوبہ دستاویز نہیں ملی اور اس کے خیال میں
نصیر شاہ اس راز سے واقف ہیں۔ بلاشبہ پروفیسر ارشد زیبی کو ڈاکٹر نصیر پر بڑا اعتماد تھا اور وہ ان کے واحد دوست تھے لیکن ڈاکٹر نصیر کا کہنا ہے کہ پروفیسر نے انہیں کوئی خفیہ معلومات یا دستاویز نہیں دی اور ہمیں ان کی بات پر اعتماد نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے بعد کل شام ڈاکٹر نصیر کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ محض ایک خوش قسمت اتفاق تھا کہ وہ تمہیں ڈاکٹر نصیر شاہ سمجھ بیٹھے۔‘‘
’’بلاشبہ زبردست اور سنسنی خیز داستان ہے۔‘‘ وسیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن آپ نے صرف یہ سنانے کے لیے مجھے نہیں بلایا ہوگا، آپ اب مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’تمہاری صاف گوئی مجھے پسند آئی۔ تم یوں بھی اپنی جرأت مندی کا ثبوت دے چکے ہو۔‘‘ انہوں نے سنجیدگی کے ساتھ کہا اور پھر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے گھورتے ہوئے آہستہ سے بولے۔ ’’میں اختصار سے کام لوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم نصیر شاہ بن جائو۔ انجانے دشمنوں کو نصیر شاہ بن کر جواب دو کہ تمہیں ان کی پیشکش منظور ہے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ مل جائو تاکہ یہ معلوم کرسکو کہ وہ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ ان کے نام، پتے اور ٹھکانے معلوم کرکے مجھے مطلع کرنا تمہاری ذمے داری ہوگی۔‘‘
’’خود ڈاکٹر نصیر شاہ یہ کام کیوں نہیں انجام دے سکے؟‘‘ وسیم نے پوچھا۔
’’اس لیے کہ وہ بہت قیمتی ہیں اور ہم ان کو ہاتھ سے کھو دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔‘‘
’’خوب! لیکن اگر آپ کو ڈاکٹر نصیر شاہ کی جان بہت عزیز ہے تو مجھے اپنی جان کچھ کم پیاری نہیں ہے۔‘‘ وسیم نے اس بار طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔ ’’جبکہ میرا چھوٹا سا کاروبار ہے اور ایک بڑا اچھا دوست بھی ہے۔‘‘
’’جانتا ہوں۔‘‘ جمیل نے باٹ کاٹ کر کہا۔ ’’افتخار اور اس کی بیوی عالیہ اس دوران کام چلا سکتے ہیں۔‘‘ وہ مسکرا کر اسرار بھرے لہجے میں بولا۔ ’’تمہارے بارے میں مجھے ساری معلومات ہیں۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔ اگر میں انکار کروں تو شاید آپ مجھے حب الوطنی اور فرض شناسی کا واسطہ دیں گے۔‘‘
’’نہیں، میں نے تمہارے مزاج کو خوب سمجھ لیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم غور کرنے کے بعد جو فیصلہ کرو گے، وہ درست ہوگا۔ لیکن مہربانی کرکے دیر نہ کرنا۔ میں تمہارا انتظار کروں گا۔‘‘
’’آپ نے مجھے ابھی سے متاثر کرلیا ہے جناب۔‘‘ وسیم نے بھی معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔ ’’کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ وہ لڑکی کون تھی جس نے کل رات میری مدد کی تھی؟‘‘
وہ مسکرا کر رہ گیا مگر جواب نہیں دیا۔
’’جانے سے پہلے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے۔‘‘
’’ہاں… کہو؟‘‘
’’آپ ہیں کون اور کس حیثیت میں مجھ سے بات کررہے ہیں؟‘‘ وسیم کے اس سوال کا جمیل جواب نہ دے سکا البتہ اس نے اپنی میز کی دراز سے ایک فائل نکال کر سامنے رکھ دی۔ فائل پر بنے ہوئے مخصوص مونوگرام کے نیچے سیکریٹ سروس چھپا ہوا تھا۔
’’تم یہ فائل پڑھ کر اپنا اطمینان کرسکتے ہو۔ میں اٹامک سیکورٹی کا ڈائریکٹر ہوں، نام تم جانتے ہو، کام اتنا خفیہ ہے کہ اس بزنس آفس کی آڑ میں بیٹھ کر کررہا ہوں۔ اب تم ان چند افراد میں سے ایک ہو جن کو میری اس حقیقت کا علم ہے۔‘‘
’’شکریہ جناب! آپ نے مجھ پر اعتماد کیا ہے تو اسے ٹھیس نہ پہنچے گی۔‘‘
اسی لمحے وہ کافر ادا مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ دن میں اس کا مسحورکن حسن مزید نکھرا نظر آرہا تھا۔
’’آئو ان سے ملو… یہ وسیم ہیں اور یہ یاسمین ہیں۔ امید ہے تم غور کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائو گے۔‘‘ جمیل نے کہا۔
وسیم ایک لمحہ سوچتا رہا۔ پھر مسکرا کر جواب دیا۔ ’’میں نے غور کرلیا ہے۔ آپ کی پیشکش مجھے منظور ہے۔‘‘
’’مجھے معلوم تھا تم یہی جواب دو گے۔ یاسمین! تم انہیں اپنے ساتھ لے جائو اور میری ہدایت کے مطابق عمل کرو۔‘‘ جمیل نے بڑی شفقت بھری مسکراہٹ سے کہا۔
آئندہ چند گھنٹوں کا وقت وسیم کی زندگی کے لیے بڑا ہیجان خیز تھا۔
یاسمین اسے اپنے آفس میں لے گئی۔ ایک چھوٹا سا کمرا جس کی ہر چیز سے سادگی ٹپکتی تھی۔ وسیم اس کے لباس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ آج بھی ہلکے پنک کلر کے فراک میں تھی۔ یاسمین نے کافی اور سینڈوچ کا آرڈر دیا اور بڑی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ ’’تم شاید میرے لباس پر حیران ہورہے ہو؟ میں وسطی ایشین ہوں۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، کوئی میرا نہیں اس دنیا میں، وہ سب


ایک بم دھماکے میں شہید ہوگئے تھے۔ جمیل صاحب میرے والد کے قریبی دوست تھے، انہوں نے مجھے یہاں بلوا لیا۔ اب ان کے زیرسایہ ہوں میں…‘‘ کہتے کہتے حزن وملال نے اسے اس قدر حسین بنا دیا تھا کہ وسیم مبہوت سا ہوکر رہ گیا۔ وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر کافی بنا کر وسیم کے سامنے رکھتے ہوئے بولی۔ ’’تعارف ہوگیا۔ اب کام کی بات سنو…‘‘
اس نے بتایا کہ وسیم کو چند روز کے لیے ڈاکٹر نصیر شاہ کے ساتھ رہنا ہوگا تاکہ وہ ان کے بارے میں سب جان لے۔ ان کا رہن سہن، اندازِ گفتگو، مخصوص عادتیں، چلنے کا انداز، انداز تحریر، غرضیکہ ہر بات کا اچھی طرح مطالعہ کرلے کیونکہ اسے ڈاکٹر نصیر شاہ بن کر اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ معمولی سا فرق بھی کسی کو شک میں مبتلا کرسکتا تھا۔
وہ بولتی رہی اور وسیم اسے پرستش کے انداز میں دیکھتا رہا۔ وسیم کو پہلی بار احساس ہوا کہ یہ لڑکی جو مشین کی طرح بولے چلی جارہی تھی، اندر سے بڑی دکھی تھی۔ اس کی بے تکلفی تھی یا اس کا سحر خیز حسن، جس نے اس کا دل موہ لیا تھا۔ جب پہلی بار اس نے اسے دیکھا تھا۔
وہ چپ ہوگئی تو وسیم اپنی محویت سے چونکا۔ اس نے پوچھا۔ ’’وہ… میرا مطلب ہے ڈاکٹر نصیر شاہ شادی شدہ ہیں؟‘‘
وسیم کے اس اچانک سوال پر یاسمین کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’نہیں، وہ شادی شدہ نہیں ہیں لیکن اپنے متعلق کیا خیال ہے؟‘‘
’’مم… میں۔ میں نے تو ابھی تک شادی کا سوچا بھی نہیں۔‘‘
’’کسی سے محبت وغیرہ؟‘‘
’’ہاں! محبت تو ہے اتنی کہ بس دیوانہ نہیں ہوا میں…‘‘
’’دیکھیں، میں آپ کے ذاتی معاملات میں دخل نہیں دیتا چاہتی مگر یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ…‘‘
’’تم بلاتکلف مداخلت کرسکتی ہو… کوئی حرج نہیں۔ ویسے بھی وہ لڑکی اتنی قابل اعتماد ہے کہ میں اس پر اندھا اعتماد کرتا ہوں اور خوبصورت اتنی ہے کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں اس سے شادی کرنے والا ہوں، بشرطیکہ وہ مان جائے۔‘‘
’’اس کا نام بتا سکتے ہیں آپ؟‘‘ یاسمین نے گھنیری پلکیں اٹھا کر سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ہاں! کیوں نہیں۔ بڑا پیارا سا نام ہے اس کا… یاسمین۔‘‘
اس کے رخسار گلنار ہوگئے۔ پنسل رکھ کر اس نے بظاہر غصے میں گھورا۔ ’’آپ مذاق اچھا کرلیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں یاسمین، میں زندگی میں پہلے کبھی اتنا سنجیدہ نہیں ہوا۔ کیا تم میری بات پر یقین کرو گی؟‘‘ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نگاہیں جھکی رہی تھیں اس کی۔ وہ اسی لہجے میں بولا۔ ’’میں صرف حقیقت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں لہٰذا اب تم جو بھی ضروری باتیں کرنا چاہتی ہو، وہ کرلو مگر میری اس بات کو بھی یاد رکھنا اور جب مناسب سمجھو، جواب دے دینا۔‘‘
وہ وسیم کو بتاتی رہی کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ اس سے فارغ ہوکر وسیم نے دفتر فون کیا تو معلوم ہوا کہ افتخار اور عالیہ لنچ کے لیے گھر جا چکے ہیں۔ جانے سے پہلے وسیم نے اس سے وعدہ لے لیا کہ وہ شام کو افتخار اور عالیہ سے ملنے اس کے ساتھ چلے گی۔
٭…٭…٭
افتخار اور عالیہ اسی بلڈنگ کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے جس میں ان کا دفتر واقع تھا۔ وسیم جب یاسمین کو لے کر پہنچا تو عالیہ ان کی منتظر تھی۔ انہوں نے یاسمین کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ باتوں میں خاصی دیر ہوگئی۔ یاسمین نے اجازت چاہی تو افتخار نے آنکھیں نکالیں۔
’’کیا مطلب؟ میں نے اتنی محنت کی، عالیہ نے ڈنر تیار کیا اور تم جانے کی بات کررہی ہو؟ نہ بابا۔ میں پکا بزنس مین ہوں، گھاٹے کا سودا نہیں کروں گا۔‘‘
’’لل… لیکن وسیم نے تو مجھے…‘‘
’’یہ وسیم ہمیشہ کا نالائق ہے۔‘‘ اس نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’تم کبھی اس پر اعتبار نہ کرنا۔‘‘
’’جی نہیں جناب! وسیم اتنا مخلص، محبت کرنے والا اور ذہین ہے کہ اس پر اعتبار نہ کرنا نالائقی ہوگی۔‘‘ عالیہ نے کہا۔ ’’اچھا تم لوگ باتیں کرو، میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘
کھانے کے بعد جب وہ رخصت ہوئے تو یاسمین چپ چپ سی تھی۔ کچھ دیر کے بعد بولی۔ ’’وسیم! تمہارے دوست اور ان کی بیوی بڑے خوش قسمت ہیں اور تم بھی، کیونکہ وہ تم سے بڑی محبت کرتے ہیں، عالیہ تو تم سے اس طرح پیار کرتی ہے جیسے تمہاری ماں ہو… تم نے اچھا کیا جو انہیں سب کچھ بتا دیا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ عالیہ تمہارے لیے بڑی فکرمند ہیں۔‘‘
’’اور تم؟‘‘ وسیم نے آہستہ سے کہا۔
’’میں بھی وسیم۔ کاش میں اس مہم میں تمہارا ساتھ دے سکتی۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی اور وسیم نے چونک کر
دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔
’’تم فکر مت کرو یاسمین! اِن شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ ٹہلتے ہوئے کلب روڈ کی طرف نکل آئے۔ یاسمین رک کر وسیم سے بولی۔ ’’ڈاکٹر نصیر شاہ تمہارے منتظر ہوں گے۔ ان کے برابر والا کمرا تمہارے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ وہ تمہیں سب سمجھا دیں گے اور اس کلب کی ہر لمحہ نگرانی ہورہی ہے۔ محتاط رہنا۔ اب تم جائو۔ اللہ حافظ۔‘‘
وہ وسیم کو گیٹ پر چھوڑ کر چلی گئی۔ وہ وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی۔ ایک عجیب سے خمار کی کیفیت ذہن پر طاری تھی کہ ایسی مسرت کا احساس جس کو زبان عطا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس نے اسی عالم بے خودی میں دروازے پر دستک دی۔ ڈاکٹر نصیر شاہ نے ہی دروازہ کھولا۔ وہ دونوں چند ثانیوں کے لیے دم بہ خود سے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے آئینے کے سامنے کھڑے ہوں۔
’’اندر آجائو ڈاکٹر نصیر شاہ۔‘‘ نصیر شاہ نے مسکراتے ہوئے وسیم کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’بھئی یقین نہیں آتا لیکن جمیل نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ بس ذرا بالوں کی تراش ٹھیک کردی جائے تو پھر کوئی نہیں پہچان سکتا کہ نصیر شاہ تم ہو یا میں… حیرت انگیز مشابہت ہے اور پھر اس طرح تمہارا مل جانا بھی کم حیرت انگیز نہیں۔ آئو اطمینان سے بیٹھ جائو، ہمیں ابھی بہت ساری باتیں کرنا ہیں۔‘‘ وہ بولتے رہے اور وسیم ایک صوفے پر بیٹھا سنتا رہا۔
وسیم کو معلوم تھا کہ برابر والا کمرا اس کے لیے مخصوص تھا۔ دونوں کے درمیان ایک دروازہ تھا۔ دونوں کسی کی نظروں میں آئے بغیر ایک دوسرے کے کمرے میں آجاسکتے تھے۔
حیرت انگیز انکشافات کا سلسلہ جاری رہا۔ ڈاکٹر کا لباس، جوتا، جیکٹ اور ہر چیز اسے فٹ آرہی تھی، جیسے وسیم کے لیے ہی بنائی گئی ہو۔ کافی کے بعد انہوں نے وسیم کو سائنسی معلومات کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ وسیم سائنس گریجویٹ تھا لیکن بہت ساری باتیں اس کے لیے عجیب اور نئی تھی۔ بعض ناقابل فہم لیکن ہر چیز کے بارے میں معلوم ہونا ضروری تھا اس لیے وہ پوری توجہ سے سن رہا تھا۔
ڈاکٹر نصیر شاہ عمر میں وسیم سے دوچار سال بڑے تھے لیکن مشابہت اس فرق کو باآسانی چھپا لیتی تھی۔ وسیم نے میز پر رکھے ہوئے پیکٹ سے سگریٹ نکالا تو ڈاکٹر نے فوراً جیب سے لائٹر نکال کر جلایا۔ وسیم لائٹر کو غور سے دیکھنے لگا۔
’’یہ لائٹر تم رکھ لو۔ یہ پروفیسر زیبی کا دیا ہوا یادگار تحفہ ہے اور میرے پاس ان کی واحد نشانی، سب جانتے ہیں کہ میں ہمیشہ یہی لائٹر استعمال کرتا ہوں اور آئندہ سگریٹ بھی تمہیں اسی برانڈ کی پینا ہوگی۔‘‘
’’میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ میری عادت ہے کہ دوچار ماہ میں برانڈ تبدیل کردیتا ہوں۔‘‘ وسیم نے جواب دیا۔
پھر وہ اسے اپنے حالات زندگی سنانے لگے۔ ان کا تعلق مصر کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ باپ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے جرمنی میں ریاضی اور ایٹمی توانائی کے مضامین میں ڈاکٹریٹ کیا تھا۔ وہ وسیم کو اپنی زندگی کی تفصیلات بتاتے رہے۔ پھر گھڑی دیکھ کر بولے۔ ’’آج کے لیے اتنا کافی ہے، کل ہم دوسرے پہلوئوں پر بات کریں گے۔ صبح درزی آکر تمہارا ناپ لے جائے گا۔ باربر تمہارے بال درست کردے گا اور دیگر تیاریاں بھی مکمل ہوجائیں گی۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد بولے۔ ’’ویسے میں خود بھی نہیں چاہتا تھا کہ میری خاطر تم اپنی جان کا خطرہ مول لو۔ جو بھی ہو، مجھے خود ہی حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے لیکن جمیل کی ضد کے آگے مجبور ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اس بات کو بہ خوبی ذہن نشین کرلو۔‘‘
’’شکریہ ڈاکٹر۔‘‘ وسیم نے جواب دیا۔ ’’لیکن آپ ذہن سے یہ بوجھ ہٹا دیں۔ میں نے یہ خطرہ کسی مجبوری یا لالچ میں نہیں بلکہ اپنی مرضی سے قبول کیا ہے۔ ویسے آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا پروفیسر زیبی نے کبھی اپنے کام کے بارے میں آپ کو کچھ بتایا، کوئی ایسی چیز جو ان کے راز پر روشنی ڈال سکے؟‘‘
’’ذرّہ برابر نہیں۔‘‘ ڈاکٹر نصیر شاہ نے فوراً اپنا سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’اگر انہوں نے اشارتاً بھی کچھ بتایا ہوتا تو ہم سب کو اتنی الجھن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور شاید پروفیسر زیبی بھی آج زندہ ہوتا۔‘‘
٭…٭…٭
دوسرے دن وسیم مکمل طور پر
نصیر شاہ بن چکا تھا۔ وہی لباس، وہی بال اور یہاں تک کہ پرس بھی انہی کا اس کی جیب میں پہنچ چکا تھا۔ اور جب حلیہ تبدیل کرنے والے مطمئن ہوکر چلے گئے تو ڈاکٹر نے فون کرکے جمیل کو خوشخبری سنائی۔ فیصلے کے مطابق ان کو کلب کے ملازمین کا لباس پہنا کر عقبی دروازے سے خفیہ طور پر غائب کردیا گیا اور وسیم ان کے کمرے میں منتقل ہوگیا۔ جانے سے پہلے انہوں نے بڑی محبت سے وسیم کو گلے لگایا اور سنجیدہ لہجے میں کہا۔ ’’میں ہمیشہ تمہارا ممنون رہوں گا وسیم! تم میری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہو۔‘‘
شام میں وسیم کو یاسمین کے ساتھ سندباد ہوٹل میں ڈنر کے لیے جانا تھا جو کلب کے قریب ہی واقع تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آئندہ کے لیے اسے نئی ہدایات اسی سے ملیں گی۔ وہ ٹھیک ساڑھے چھ بجے پہنچ گیا۔ یاسمین لائونج میں اس کی منتظر تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کے پاس پہنچتا، ایک ادھیڑ عمر شخص اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔ ’’او پلیز… ڈاکٹر! یہ تم اندھوں کی طرح کدھر چلے جارہے ہو؟‘‘ اس نے زبردستی وسیم کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا خیال ہے، پھر ایک کپ کافی ہوجائے؟‘‘
’’میں ڈنر بھی ساتھ کرتا مگر اس وقت میں کسی اور کی دعوت قبول کرچکا ہوں۔‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’شکریہ! اتفاق سے میں بھی کسی کا مہمان ہوں۔ وہ سامنے میرا انتظار کررہی ہے۔‘‘ کہتے ہوئے وسیم نے یاسمین کی طرف اشارہ کیا اور معنی خیز انداز میں مسکراتا ہوا چلا گیا۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ پہلے امتحان میں کامیاب ہوگیا تھا۔ وہ جیسے ہی یاسمین کے قریب پہنچا تو وہ بھی مسکرا کر بولی۔ ’’تم نے پہلا مرحلہ کامیابی سے سر کیا۔‘‘
’’ایک لمحے کو تو میں بھی بھول گیا تھا کہ میں کون ہوں لیکن پھر فوراً یاد آگیا۔ ویسے کون تھا منحوس جو اس طرح مجھ سے چمٹ گیا تھا؟‘‘
’’ارے… تم ڈاکٹر سورت جیسے مشہور آدمی کو نہیں جانتے؟‘‘
’’اوہ… لیکن تم یہ بھول جاتی ہو کہ میں ایک سیدھا سادہ انجینئر ہوں، سائنسدان نہیں۔‘‘
’’شش… آہستہ بولو۔ تم اب ڈاکٹر نصیر شاہ ہو، ایک مشہور سائنسدان۔‘‘ یاسمین نے آہستہ سے اسے ٹوکا۔ ’’اور آئندہ ڈاکٹر نصیر شاہ ہی کی طرح سوچا کرو۔‘‘
’’لیکن ایسی صورت میں بڑی مشکل ہوجائے گی۔ میں تم سے شادی کی درخواست کیسے کروں گا؟‘‘
یاسمین کے رخسار تمتما اٹھے لیکن پھر فوراً ہی سنجیدہ ہوکر بولی۔ ’’ڈاکٹر نصیر شاہ! ایسی باتیں تمہاری عادت کے خلاف ہیں۔ آئندہ احتیاط کرنا۔‘‘
’’خدا غارت کرے اس سارے چکر کو، کیا مجھے تم سے بھی اسی کے انداز میں بولنا ہوگا؟‘‘ وسیم نے زچ ہوکر کہا۔
’’ہاں! جب تک تم اس کا کردار ادا کررہے ہو۔‘‘ یاسمین نے لطف لیتے ہوئے کہا اور پھر ڈنر کا آرڈر دے کر وسیم کو بتانے لگی۔ ’’صبح تم اپنے بنگلے میں منتقل ہوجائو گے جو شہر سے باہر ایک خوبصورت جگہ پر واقع ہے۔ تم ایک ہفتے کے لیے کلب میں آرام کرنے کے لیے مقیم تھے جبکہ ڈاکٹر نصیر شاہ کو کسی اور جگہ روانہ کردیا گیا ہے۔ کہاں، یہ مجھے بھی نہیں معلوم لیکن تم دونوں کا یہاں رہنا مناسب نہیں تھا۔ ویسے ڈاکٹر شاہ ان دنوں رخصت کے ایام اپنے بنگلے میں گزار رہے ہیں۔‘‘
جب وہ دونوں کھانے سے فارغ ہوگئے تو اس نے پرس سے ایک موٹا سا لفافہ نکال کر وسیم کی طرف بڑھایا۔
’’یہ کیا ہے، پہلا محبت نامہ؟‘‘ وسیم نے مسکرا کر پوچھا۔
’’جی نہیں! اتنا موٹا محبت نامہ تو میں سال بھر میں بھی نہیں لکھ سکتی۔ اس میں نقد رقم ہے تاکہ تمہیں چیک کیش کرانے کی زحمت نہ ہو۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’صبح تم اپنے بنگلے پر پہنچ جائو گے۔ تم کو لینے کے لیے گاڑی کلب آجائے گی۔‘‘
’’اور تم؟ تم سے ملاقات کب ہوگی؟‘‘
’’ایک ہفتے بعد۔‘‘ یاسمین نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ’’تمہیں اب اپنے کام پر توجہ دینا ہے۔‘‘
’’ایک ہفتے کی جدائی… میں تو مر جائوں گا۔‘‘
’’نہیں ڈاکٹر! تمہیں زندہ رہنا ہے۔ اپنے لیے نہیں تو دوسروں کے لیے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اتنی تیزی سے نکل گئی کہ وسیم کا سوال اس کے لبوں پر ہی دم توڑ گیا۔
٭…٭…٭
ڈاکٹر نصیر شاہ کے روپ میں رہتے ہوئے وسیم کو کئی دن گزر گئے اور اس دوران کوئی غیر معمولی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ وسیم اب اس تنہائی کی زندگی سے بور ہونے لگا تھا۔ نصیر شاہ کا چھوٹا سا یہ بنگلہ سادگی اور نفاست کا نمونہ تھا۔ ضرورت کی ہر چیز


موجود تھی۔ کتابوں کا بڑا قیمتی ذخیرہ تھا جس میں ہر موضوع پر کتابیں موجود تھیں۔ ایک ملازمہ روز صفائی کرنے آجایا کرتی تھی۔ وسیم ڈاکٹر کی کار پر کھانا کھانے شہر جاتا اور کچھ دیر ہوٹلوں میں گزار کر واپس آجاتا۔ ڈاکٹر نصیر شاہ کی زندگی بڑی تنہا تھی کیونکہ اس دوران کسی کا فون آیا اور نہ ہی کوئی پیغام۔
وسیم زیادہ تر وقت لائبریری میں گزارتا یا پھر چھوٹے سے باغیچے میں۔ یاسمین سے ملنے کی خواہش اضطراب کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی۔ وہ شہر جاتا تو نگاہیں اس کو تلاش کرتی رہتی تھیں لیکن وہ ظالم لڑکی کہیں نظر نہیں آئی۔ ابھی اس کے آنے میں کئی دن باقی تھے۔ پھر ایک دن اچانک فون کی گھنٹی بجی تو وہ اچھل پڑا۔ چند لمحوں تک ریسیور کو دیکھتا رہا۔ گھنٹی جب مسلسل بجنے لگی تو آہستہ سے اس نے ریسیور اٹھا کر کہا۔ ’’نصیر شاہ اسپیکنگ…‘‘
’’ہیلو ڈاکٹر۔‘‘ ایک بھاری آواز دوسری جانب سے ابھری تھی۔ ’’تم نے کیا فیصلہ کیا؟‘‘
وسیم ایک لمحہ خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے کہا۔ ’’میں تیار ہوں… لیکن میری چند شرائط ہوں گی۔‘‘
’’کیا شرائط ہیں؟‘‘ فوراً سوال کیا گیا۔
’’فون پر نہیں، زبانی بات کروں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ ہم جلد تم سے رابطہ کریں گے۔‘‘ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا، سلسلہ منقطع کردیا گیا۔
دوسرا دن بڑا صبرآزما تھا کیونکہ یاسمین آنے والی تھی۔ وسیم کی بے قراری کا یہ عالم تھا کہ بار بار وہ باہر نکل کر دیکھتا۔ اَن گنت سگریٹیں پھونک ڈالی تھیں۔ کبھی غصہ آتا، کبھی اسے اپنی حماقت پر ہنسی آجاتی۔ ان کی ملاقات اتنی مختصر تھی اور وہ اس قدر فریفتہ ہوچکا تھا جیسے کب سے اسے جانتا ہو۔ اظہار محبت کی منزل گزر چکی تھی۔ لیکن ضروری تو نہیں کہ وہ بھی اسے چاہتی ہو۔ اسی تڑپ کے عالم میں ایک ٹیکسی بنگلے کے سامنے رکی۔ وہ بے اختیار باہر نکلا۔ یاسمین آگئی تھی۔ وہ ٹیکسی سے اتر کر اس کی سمت بڑھ رہی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ دوڑ کر اسے بازوئوں میں بھر لے لیکن مجبوری مانع تھی۔ وہ اس وقت وسیم نہیں ڈاکٹر نصیر تھا اور اسے معلوم تھا کہ قریب ہی کہیں جمیل کا آدمی موجود ہوگا جو بنگلے کی نگرانی پر مامور تھا۔
’’ہیلو ڈاکٹر۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئی۔
’’ڈاکٹر نہیں، مجھے مریض کہو، جس کے درد کا درماں تمہارے پاس ہے۔‘‘ وسیم نے والہانہ انداز میں کہا۔
اس نے وسیم کو غصے بھری نگاہوں سے گھورا اور پھر مسکرا دی۔ ’’اب تک تو یہی سنا تھا کہ سائنسدان محبت سے بے نیاز ہوتے ہیں ڈاکٹر…‘‘
’’اصلی ڈاکٹر ہوتے ہوں گے، میں تو نقلی ہوں۔‘‘ وسیم نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’یاسمین! کیا تم یقین کرو گی کہ میرا ہر لمحہ تمہاری یاد میں گزرا ہے۔‘‘
’’میں واقعی اتنی خوش قسمت ہوں وسیم؟‘‘
’’اس سے بھی کہیں زیادہ یاسمین! تم آزما کر دیکھو۔‘‘ وسیم نے جیسے دل کی عمیق گہرائیوں سے کہا۔
باتوں میں وقت ہوا کی طرح گزر گیا۔ شام ہونے لگی تھی۔ یاسمین نے کافی بنائی اور دونوں صورت حال پر غور کرنے لگے۔ وسیم نے اسے فون کے بارے میں بتایا۔
’’اوہ! تو اس کا مطلب ہے کہ سلسلہ شروع ہوگیا۔‘‘ اس نے ہونٹ سکیڑ کر کہا۔
’’لگتا تو مجھے بھی کچھ ایسا ہی ہے۔‘‘ وسیم نے کہا۔ ’’لیکن اس کے بعد پھر کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘
اسی لمحہ اطلاعی گھنٹی بجی۔ وسیم نے چونک کر یاسمین کو دیکھا۔
’’ٹھہرو! میں دیکھتا ہوں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور ایک بھاری بھرکم شخص اندر داخل ہوا۔ اس نے قیمتی لباس پہنا ہوا تھا اور صورت و شکل سے بھلا آدمی دکھائی دیتا تھا۔
’’گڈ ایوننگ ڈاکٹر اینڈ ہیلو مس یاسمین۔‘‘ اس نے بڑی متانت کے ساتھ کہا۔
’’گڈ ایوننگ۔‘‘ وسیم نے بھی انگریزی میں جواب دیا۔ ’’میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔‘‘
’’ہم نے ٹیلیفون پر بات کی تھی اور آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔‘‘
’’اوہ… تو آپ ہیں وہ…‘‘ وسیم نے چونک کر کہا۔
’’مجھے تورک کہتے ہیں اور…‘‘
’’مسٹر تورک!‘‘ وسیم نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’آپ کسی اور دن آجائیں۔ اس وقت میں بہت مصروف ہوں۔‘‘
’’یہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں۔‘‘ وہ یاسمین کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ ’’لیکن ابھی بات کرنا ضروری ہے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وسیم نے قدرے برہمی سے کہا۔ ’’میں ضروری نہیں سمجھتا، آپ کسی اور دن آجائیں۔‘‘
’’نہیں ڈاکٹر، میرے
اتنا وقت نہیں ہے۔ آپ کو آج ہی چلنا ہے بلکہ ابھی…‘‘
’’واٹ نان سینس۔‘‘ وسیم کو غصہ آگیا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھولتے ہوئے بولا۔ ’’آپ ابھی اور اسی وقت باہر نکل جایئے ورنہ…‘‘ یہ کہتے ہوئے وسیم نے دانستہ تہدیدی انداز میں اپنا جملہ ادھورا چھوڑا۔
یاسمین گھبرا کر آگے بڑھی لیکن اجنبی اس سے پہلے ہی دروازے کی طرف روانہ ہوچکا تھا جسے وسیم کھولے کھڑا تھا۔ اس کے پاس پہنچ کر وہ رکا۔ اس کی آنکھیں سرد تھیں۔ سرد لہجے میں وہ وسیم سے بولا۔ ’’ڈاکٹر! میں تمہیں اتنا احمق نہیں سمجھتا تھا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے بڑے اطمینان سے جیب سے ریوالور نکالا اور نال اس کے سینے پر رکھ دی۔
’’اندر چلو… اور خبردار کوئی حرکت نہ کرنا۔‘‘ اس نے دروازے سے وسیم کا ہاتھ ہٹا دیا اور آواز دی۔ ’’سلاسکو! اندر آجائو۔‘‘
ایک دیوقامت خطرناک صورت والا شخص اندر داخل ہوا۔ اس کا رنگ ٹماٹر کی طرح سرخ تھا، جسم فولاد کی طرح گٹھا ہوا۔ اس نے چمکدار کپڑے کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ انہیں دیکھ کر اس نے اپنی کیپ اتاری تو وسیم نے دیکھا کہ اس کی تربوز جیسی کھوپڑی گنجی تھی۔ وہ اتنا تنومند اور طاقتور آدمی تھا کہ دیکھ کر ہی خوف آتا تھا۔
نووارد نے مسکرا کر کہا۔ ’’آپ ضد نہ کرتے تو اس کی ضرورت پیش نہ آتی۔‘‘ اس نے ریوالور کی سمت دیکھ کر کہا۔ ’’اب آپ چلنے کی تیاری کیجئے۔‘‘
’’تم پاگل ہوگئے ہو۔ اتنی جلدی چلنا کیسے ممکن ہے؟ میرا پاسپورٹ یہاں ہے، نہ میں نے بینک سے رقم نکالی ہے اور… نا…‘‘
’’ساری فکر چھوڑو۔‘‘ اس نے بات کاٹی۔ ’’بس پانچ منٹ میں تیار ہوجائو ڈاکٹر! وقت بالکل نہیں ہے۔ تم جہاں چل رہے ہو، وہاں کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہے نہ ہی رقم کی۔‘‘
’’تم سچ مچ پاگل ہوگئے ہو۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ فرض کرو میں انکار کردوں تو؟‘‘
اس نے بڑی سفاک نظروں سے وسیم کی طرف دیکھا۔ ’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہم تمہیں زبردستی لے جائیں گے۔ تم اگر یہی چاہتے ہو تو…‘‘ تورک نے کہتے ہوئے سلاسکو کی طرف دیکھا۔ ’’اگر یہ اب بھی راضی نہ ہو تو تم جانتے ہو کہ تم نے کیا کرنا ہے؟‘‘
’’یس ماسٹر!‘‘ سلاسکو نے تفہیمی انداز میں سر ہلایا۔
’’میں سمجھ گیا، بحث بیکار ہے۔ اوکے! میں سوٹ کیس میں اپنے کپڑے اور کاغذات وغیرہ رکھ لوں۔‘‘
’’اس کی بھی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر اپنے کام سے متعلق کوئی خفیہ ڈائری ہے تو وہ ضرور لے لو۔‘‘ اس نے ریوالور کی نال لہراتے ہوئے کہا۔
’’میری تمام معلومات کا ذخیرہ صرف یہاں ہے۔‘‘ وسیم نے سر کو انگلی لگاتے ہوئے کہا۔
’’خوب سوچ لو ڈاکٹر! اگر تم نے ہمیں دھوکا دینے کی کوشش کی تو بہت پچھتائو گے۔‘‘ وسیم خاموش رہا تو وہ آگے بڑھا۔ ’’ٹھیک ہے پھر دیر نہ کرو، چلو۔‘‘
’’ٹھہرو۔‘‘ وسیم نے جیب سے کار کی چابی نکال کر یاسمین کی طرف بڑھائی اور اس سے بولا۔ ’’تم واپسی میں میری کار لے کر چلی جانا یاسمین۔‘‘
تورک نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ ’’بڑے معصوم ہو ڈاکٹر! مس یاسمین اب کہیں نہیں جائیں گی۔ یہ بھی ہمارے ساتھ چل رہی ہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وسیم غصے میں اس کی سمت بڑھا۔ تورک نے ریوالور والا ہاتھ بلند کیا لیکن یاسمین نے بجلی کی سی پھرتی سے اس کا بلند بازو پکڑ لیا۔ تورک نے ہاتھ چھڑانے کے لیے اسے دھکا دیا لیکن یاسمین نے اس کا بازو نہیں چھوڑا۔ ایک لمحے کے لیے وسیم نے حیرت زدہ نظروں سے یہ منظر دیکھا، پھر غصے سے آگے بڑھا۔ لیکن وہ شاید اس بھاری بھرکم آدمی سلاسکو کو بھول گیا تھا کیونکہ اسی وقت وسیم کی کنپٹی پر اتنی زور کا گھونسہ لگا کہ آنکھوں کے آگے تاریکی چھا گئی۔ وہ ایک دھماکے کے ساتھ فرش پر گرا اور کچھ دیر کے لیے ہر چیز سے بے خبر ہوگیا۔ جب حواس بحال ہوئے تو اس نے دیکھا کہ یاسمین بے بسی کے عالم میں کھڑی تھی اور اشک آلود نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ سلاسکو نے ایک ہاتھ پکڑ کر وسیم کو کھڑا کردیا۔
’’غور سے سنو ڈاکٹر۔‘‘ تورک نے پھنکارتے ہوئے کہا۔ ’’اگر تم کو مس یاسمین کی زندگی عزیز ہے تو اب کوئی ایسی ویسی حرکت کرنے کی کوشش مت کرنا۔ ہم یہاں مذاق کرنے نہیں آئے۔ ہماری ہدایات پر خاموشی سے عمل کرتے رہو۔‘‘
وسیم نے بھی یہ بات محسوس کرلی تھی کہ مزاحمت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ وہ اسے گزند نہیں پہنچائیں گے کیونکہ اس کی انہیں ضرورت تھی مگر یاسمین کو بلاتامل جانی نقصان سے دوچار
کرسکتے تھے۔
اگلے چند سیکنڈوں بعد تورک اور سلاسکو، ان دونوں کو لے کر باہر نکل رہے تھے۔ ہر سمت سناٹے کا راج تھا۔ یہ بنگلہ ایسی جگہ واقع تھا کہ اس طرف آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاریکی پھیل چکی تھی، اس لیے انہیں کار میں سوار ہوتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ کار نے جیسے ہی ایک قریبی پہاڑی بستی سے نکلنے والے دریا کا پل پار کیا تو وسیم بری طرح چونک پڑا۔ (جاری ہے)