Shikar | Episode 2

109
وسیم کے چونکنے کی وجہ یہ تھی کہ دریا کا پل پار کرتے ہی کار نے جس سڑک کا رخ کیا تھا، وہ ایئرپورٹ کی طرف جاتی تھی جس سے اسے یہ اندازہ لگانے میں مطلق دیر نہ لگی کہ یہ لوگ انہیں اس شہر یا ملک سے باہر لے جانا چاہتے ہیں۔ کار کو سلاسکو ڈرائیو کررہا تھا۔ اس کے برابر بیٹھے تورک نے وسیم اور یاسمین کو ریوالور کی زد میں لے رکھا تھا۔ وسیم نے ایک دو مرتبہ یاسمین سے بات کرنا چاہی تو سلاسکو نے غراتے ہوئے روک دیا تھا۔ تاہم یاسمین نے اس کا ہاتھ دبا کر تسلی دی۔ وسیم اس کی ہمت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا تھا کیونکہ وہ ذرّہ بھر بھی خوف زدہ نہیں تھی۔
ایئرپورٹ پہنچ کر انہوں نے ٹرمینل بلڈنگ کی بجائے اس گیٹ کا رخ کیا جو رن وے پر کھلتا تھا۔ گیٹ پر تورک نے جیب سے کارڈ نکال کر دکھایا اور گاڑی اندر داخل ہوگئی۔ انہوں نے ہر چیز کا پہلے سے بندوبست کررکھا تھا۔ وسیم اور یاسمین ہنوز ریوالور کی زد میں تھے، اس لیے خاموش رہے۔ کار نیم تاریک رن وے پر دور کھڑے طیارے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ سب بغیر کسی کی نظر میں آئے ہوئے طیارے کے اندر داخل ہوئے۔ ان کی سیٹ سے کاک پٹ میں بیٹھ ہوا پائلٹ صاف نظر آرہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ایک شخص اندر داخل ہوا اور تورک کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’کار کا بندوبست بھی ہوگیا ہے۔ کسی کو ہمارے بارے میں اب تک شبہ نہیں ہوسکا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، دروازہ بند کردو ڈیوڈ اور پائلٹ سے کہو فوراً پرواز کرے۔‘‘ یہ ہدایت دینے کے بعد وہ یاسمین کی طرف مڑا جو کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی۔ اس نے یاسمین سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’تم کیوں اپنا وقت ضائع کررہی ہو۔ تمہاری سیکریٹ سروس کا جو آدمی بنگلے کی نگرانی کررہا تھا، وہ کسی کو خبر نہ کرسکے گا… کیوں سلاسکو؟‘‘
’’یس باس! اب وہ کبھی نہ بول سکے گا۔‘‘ سلاسکو نے جواب دیا۔
چند منٹ بعد ہی ان کا طیارہ فضا میں پرواز کرچکا تھا۔ وسیم کو صرف یاسمین کی فکر تھی کیونکہ ان کی گفتگو سے ظاہر ہوچکا تھا کہ وہ سیکریٹ سروس سے اس کے تعلق کو جانتے تھے جبکہ یاسمین، وسیم کے برابر خاموش اور مطمئن بیٹھی تھی۔ طیارہ نامعلوم منزل کی طرف سفر کررہا تھا۔ وسیم کو نیند آنے لگی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ وہ شاید سو گیا تھا کیونکہ جب دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تو طیارہ لینڈ کررہا تھا۔
وہ جس جگہ اترے تھے، یہ کوئی عارضی ایئر اسٹرپ تھی۔ مختصر سے رن وے کے گرد ہر سمت ریگستان پھیلا ہوا تھا۔ کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا کنٹرول ٹاور اور دور ایک ہینگر نظر آرہا تھا۔ یہ اسی ہینگر کی سمت روانہ ہوئے۔ اندر روشنی میں ایک پائلٹ طیارے کے انجن میں جھکا ہوا تھا۔ انہیں دیکھ کر وہ مسکرایا لیکن کچھ بولا نہیں۔ تورک نے اس کے پاس جاکر دبی آواز میں چند لمحے باتیں کیں۔ پائلٹ گردن ہلاتا رہا۔ ذرا دیر بعد پائلٹ نے اشارہ کیا اور یہ اس میں سوار ہوگئے۔
آدھے پون گھنٹے کے وقفے کے بعد یہ پھر پرواز کررہے تھے۔ اس مرتبہ ان کا پائلٹ کوئی سیاہ فام تھا۔ جب طیارہ ایئرپورٹ سے کچھ دور نکل گیا تو سلاسکو نے انہیں کافی اور سینڈوچز لاکر دیئے۔ تورک نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’ہم جس طیارے سے روانہ ہوئے تھے، وہ ایک بڑے ملک کے سفارتی عملے کا تھا۔ ممکن ہے وہ اسے تلاش کریں لیکن اب انہیں اس ریگستان میں اس کا جلا ہوا ملبہ ملے گا۔ کیونکہ…‘‘ اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اب تک وہ تباہ ہوچکا ہوگا۔ اس لیے اب ہماری منزل کا سراغ کوئی نہیں لگا سکے گا۔‘‘
’’تمہاری منصوبہ بندی بلاشبہ قابل تعریف ہے۔‘‘ وسیم نے سرد لہجے میں کہا۔
سلاسکو نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا۔ ’’اگر تم دونوں تعاون کرتے رہے تو ہمارا رویہ بھی قابل تعریف ہوگا۔‘‘
کافی میں یقینا خواب آور دوا ملی ہوئی تھی کیونکہ اس کے پیتے ہی وسیم اور یاسمین بے خبر سو گئے۔ جب کسی نے ان کے شانے ہلا کر بیدار کیا تو ہر سمت سناٹا طاری تھا۔ طیارہ شاید لینڈ کرچکا تھا کیونکہ اب انجن کی آواز نہیں آرہی تھی۔ پھر جلد ہی انہیں ہچکولوں کا احساس ہوا۔ وسیم نے باہر جھانکا۔ ہر سمت پھیلی ہوئی چاندنی میں حد نگاہ تک پھیلا ہوا پانی نظر آیا اور تب اس کی نظر سامنے پڑی۔ وہ کسی جزیرے کے ساحل پر تھے۔ سلاسکو دروازہ کھول کر
باہر کودا۔ پانی اس کے گھٹنوں سے زیادہ نہیں تھا۔ اس نے طیارے کی دُم کی سمت رسی باندھی اور اسے گھسیٹتا ہوا ساحل تک لے آیا۔ وہ سب ساحل پر اُتر گئے۔
’’آپ چلیں، میں بوٹ لے کر آتا ہوں تاکہ طیارے کو چھپا دوں۔‘‘ سیاہ فام پائلٹ نے کہا۔
تورک اور سلاسکو آگے چل رہے تھے۔ وسیم اور یاسمین ان کے پیچھے چلتے ہوئے ساحل کے اوپر پہنچے تو کچھ فاصلے پر پتھروں کا بنا ہوا ایک مکان نظر آیا۔ یہ لوگ مکان کے باہر رک گئے۔ سلاسکو اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جنریٹر کی آواز ابھری اور پھر مکان میں روشنی ہوگئی۔ یہ لوگ اندر داخل ہوگئے۔ یہ ایک کشادہ ڈرائنگ روم تھا۔ فرنیچر مختصر لیکن صاف ستھرا تھا۔ تورک کے اشارے پر یہ دونوں بیٹھ گئے۔ سلاسکو باہر چلا گیا۔ تورک نے آرام سے بیٹھ کر سگار جلایا اور کش لینے لگا۔
’’اب تم دونوں جی بھر کر باتیں کرو۔ تم دونوں نے یہ اندازہ تو کرلیا ہوگا کہ ہم ایک جزیرے پر ہیں۔ یہ تقریباً دو میل کی لمبائی کے رقبے میں ہے۔ غیر آباد اور گمنام ہے، ادھر کوئی بحری جہاز آتا ہے اور نہ ہی کوئی ہوائی روٹ ادھر سے گزرتا ہے، اس لیے تم فرار کی آس دل میں مت لگانا۔ اب تم جی بھر کے تنہائی سے لطف اندوز ہوسکتے ہو۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ مسکرایا۔ وسیم اور یاسمین کو اس کی مسکراہٹ زہریلی لگی۔
’’تم سمجھتے ہو یہاں بالکل محفوظ ہو؟‘‘ وسیم نے پوچھا۔
’’ہاں! جلد ہی تمہیں بھی اس بات کا یقین آجائے گا۔ ویسے ہم مسلح ہیں، یہ نہ بھولنا۔‘‘
کچھ دیر بعد وہ انہیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں صرف ایک دروازہ اور ایک دریچہ تھا۔ دریچے میں موٹی اور مضبوط آہنی سلاخیں لگی ہوئی تھیں جبکہ دروازہ باہر سے مقفل کردیا گیا تھا۔
٭…٭…٭
صبح کو وسیم نے غسل کرکے کپڑے پہنے۔ کمرے کا دروازہ کھلا ملا، اس لیے اس نے باہر نکل کر دیکھا تو وہ سیاہ فام پائلٹ رابرٹ کچن میں ناشتہ تیار کررہا تھا۔
’’ہیلو ڈاکٹر!‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔ ’’آئو میں نے ناشتہ تیار کرلیا ہے۔‘‘
’’شکریہ رابرٹ۔‘‘ وسیم نے بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’میں حیران ہوں کہ تم ان مجرموں کے گروہ میں کیا کررہے ہو؟‘‘
رابرٹ مسکرایا۔ ’’ڈاکٹر! مجھے اس سے کیا غرض کہ وہ کون ہیں اور کیا کررہے ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’مجھے اپنی تنخواہ سے غرض ہے جو بہت معقول ہے۔‘‘
’’لیکن رابرٹ! تم اچھے پائلٹ ہو، تمہیں کہیں بھی اچھی ملازمت مل سکتی تھی۔‘‘
’’تم بھول گئے ڈاکٹر کہ آج کل پوری دنیا جاب کرائسس کی لپیٹ میں ہے۔ کم تنخواہوں پر مجھے جاب ملتی رہی ہیں مگر حادثوں بھری۔ یہ آرام دہ جاب ہے اور پُرسکون بھی، تنخواہ بھی معقول ہے اور کیا چاہیے؟ تم ناشتہ کرو ڈاکٹر! میری ہمدردی کرکے تمہیں کچھ حاصل نہ ہوگا۔‘‘
’’تم جانتے ہو کہ میری اور میری ساتھی مس یاسمین کی زندگی خطرے میں ہے۔ تمہارے خیال میں ان کا یہ عمل درست ہے؟‘‘
’’ڈاکٹر! میں ان کا ملازم ہوں اور بس!‘‘
’’لیکن کیا تم یہ گوارا کرلو گے کہ یہ لوگ مس یاسمین پر تشدد کریں؟ کیا تمہاری شرافت اس کو نظرانداز کردے گی؟‘‘
’’پلیز ڈاکٹر! میں کچھ نہیں جانتا۔ میں ایک بہت مظلوم اور غلام قوم سے تعلق رکھتا ہوں۔ صدیوں کی غلامی نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی چھین لی ہیں۔‘‘
’’اس کے باوجود رابرٹ مجھے یقین ہے کہ وقت آنے پر تم ظالم کا نہیں بلکہ مظلوم کا ساتھ دو گے۔‘‘
یہی وہ لمحہ تھا جب دروازہ کھلا اور یاسمین باہر آئی۔ وسیم کو دیکھ کر وہ بھی کچن میں آگئی۔ اس نے رابرٹ کے سلام کا جواب ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ دیا۔ رابرٹ نے فوراً ہی اس کے لئے بھی ناشتہ لگا دیا۔
’’بڑی لذیذ کافی بنائی ہے رابرٹ۔‘‘ یاسمین نے اسے اپنی مسکراہٹ سے اسیر کرتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ مس! یہ آملیٹ اور لیجئے۔‘‘
یہ لوگ ابھی ناشتہ کررہے تھے کہ وسیم نے کھڑکی سے تورک کو آتے دیکھا۔ سلاسکو اور ڈیوڈ اس کے پیچھے آرہے تھے۔ یاسمین اٹھ کر ہاتھ دھونے واش بیسن کی طرف چلی گئی۔ رابرٹ نے آہستہ سے کہا۔ ’’مس یاسمین بڑی اچھی خاتون ہیں، ڈاکٹر! آپ واقعی بڑے خوش قسمت انسان ہیں۔‘‘
اتنے میں دروازہ کھلا اور تورک اندر داخل ہوا۔ یاسمین کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔ ’’گڈ مارننگ مس یاسمین! مجھے ڈاکٹر سے کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں، تنہائی میں۔ آپ کمرے میں آرام کریں۔‘‘
’’ٹھیک ہے یاسمین! تم فکر نہ کرو۔‘‘ وسیم نے اٹھتے
کہا اور پھر اٹھ کر تورک کے ساتھ باہر آگیا۔ ساحل کے قریب ایک چٹان پر وہ بیٹھ گئے۔
’’ڈاکٹر! تم یہ تو سمجھ گئے ہو گے کہ ہم تمہیں اس جگہ کیوں لائے ہیں؟‘‘ تورک نے کہا۔
’’نہیں! میرا خیال تھا کہ تم مجھ سے کسی سائنسی تحقیق پر کام لینا چاہتے ہو لیکن یہاں تو یہ ممکن نہیں۔‘‘ وسیم نے جواب دیا۔
’’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پروفیسر زیبی کا فارمولا کہاں ہے؟ میں جانتا ہوں کہ تم واحد شخص ہو جس پر وہ اعتماد کرتے تھے۔ تمہیں ضرور اس کے بارے میں علم ہوگا۔‘‘
’’تورک! یقین کرو پروفیسر زیبی نے مجھے کوئی فارمولا دیا اور نہ اس بارے میں کچھ بتایا۔ یہی حقیقت ہے۔‘‘
’’تم خود سوچو ڈاکٹر! اس بات پر کون یقین کرے گا؟‘‘ اس نے کہا۔ ’’اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمیں دھوکا دے کر یہ راز چھپا لو گے تو غلطی کررہے ہو۔ ہم حقیقت اگلوانے کے طریقے جانتے ہیں اور پھر خوش قسمتی سے مس یاسمین بھی ہمارے قبضے میں ہیں۔‘‘
وسیم کو اس کی اس بات پر طیش آگیا اور وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا۔ ’’تورک! میں تمہیں…‘‘
’’بس ڈاکٹر! بس… میں یہی جاننا چاہتا تھا کہ وہ لڑکی تمہیں کتنی عزیز ہے۔‘‘ تورک نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’اور یہ نہ بھولو کہ ہم چھ افراد ہیں اور مسلح بھی۔ اس طرح غصہ کرو گے تو تکلیف تمہیں ہوگی۔ مجھے صرف پروفیسر زیبی کا فارمولا چاہیے۔ اتنا تو ہم جانتے ہیں کہ اس کا تعلق ایٹم سے تھا اور اس پر عمل کرکے ایٹم توڑنے کے طویل پروسیس کے بغیر جلد از جلد ایٹم اور ہائیڈروجن بم بنایا جاسکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ فارمولا اب تک انہوں نے کسی ملک کے حوالے نہیں کیا تھا۔ ان کے کمرے اور کاغذات میں بھی وہ نہیں تھا۔ پھر کہاں گیا؟ وہ اس قیمتی فارمولے کو تمہارے علاوہ اور کسی کے حوالے نہیں کرسکتے تھے۔‘‘
’’میں جھوٹ بولنے کا عادی نہیں ہوں۔‘‘ وسیم نے جواب دیا۔
’’اور میں وقت برباد کرنے کا عادی نہیں ہوں۔‘‘ اس نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’جتنی جلدی تم یہ راز مجھے بتا دو گے، اتنی ہی جلدی رہائی ممکن ہوگی۔‘‘
وسیم کو بھی اس بات کا اچھی طرح ادراک تھا کہ جس لمحے تورک کو یقین آگیا کہ پروفیسر زیبی کا فارمولا اس کے پاس واقعی نہیں ہے، وہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ ہوگا۔ وہ انہیں بے دریغ ہلاک کردے گا، اسی لیے وہ خاموش رہا۔
’’خوب اچھی طرح غور کرلو پروفیسر، میں تمہیں وقت دے رہا ہوں۔ فیصلہ کرلو تو مجھے بتا دینا۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’تنہائی میں تم آرام سے غور کرسکتے ہو۔‘‘
وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ اسے معلوم تھا کہ فرار کی کوئی راہ نہیں ہے اور وہ یاسمین کو ان کے قبضے میں چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتا جبکہ ان دونوں کا فرار صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ رابرٹ کے علاوہ بقیہ تمام لوگوں کا خاتمہ کردیا جائے اور یہ کام وسیم تنہا کیسے کرسکتا تھا۔ پھر بھی اسے کوئی ترکیب سوچنا تھی۔ اس نے آزادی کے ان لمحات کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور جزیرے کے گردوپیش کا جائزہ لینے نکل کھڑا ہوا۔
جزیرے کے عین درمیان ایک پہاڑی تھی جس کی چوٹی سے وہ ہر سمت دیکھ سکتا تھا۔ وہ اس طرف بڑھنے لگا۔ ڈھلوان پر گھنی جھاڑیاں تھیں جو کمر تک اونچی تھیں۔ ان کے درمیان سے ہوکر جلد ہی وہ بلندی پر جا پہنچا۔ یہاں سے جزیرے کا ہر منظر وسیم کو صاف نظر آرہا تھا۔
جس مکان میں وہ مقیم تھے، وہ مغربی کنارے سے تقریباً نصف میل دور تھا۔ دوسرے سرے پر ناریل کے درختوں کے جھنڈ نظر آرہے تھے۔ جزیرہ اتنا چھوٹا تھا کہ پہاڑی کی چوٹی سے دوربین کے ذریعے اس کے ہر کونے پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔ یہ جزیرہ تقریباً دو میل لمبا اور آدھا میل چوڑا نظر آتا تھا لیکن یہ بالکل ویران تھا۔ حدنگاہ تک کسی جاندار شے کا نام و نشان نہ تھا۔
وسیم حیران تھا کہ اس ویرانے میں یہ مکان کس نے بنایا ہوگا اور کیوں؟ انہی خیالات میں محو جب وہ نیچے اترا تو دیکھا کہ ایک چٹان پر یاسمین اور رابرٹ بیٹھے ہوئے تھے۔ اُسے دیکھ کر رابرٹ کھڑا ہوگیا۔ وسیم گرمی کی شدت سے پسینے میں نہا گیا تھا۔
’’آپ لوگوں کو گرمی لگ رہی ہو تو اطمینان سے نہایئے، میں یہ دو سوئمنگ سوٹ لے کر آیا تھا۔‘‘ اس نے سوئمنگ سوٹ نکال کر وسیم کو دیتے ہوئے کہا۔ ’’یہ تولیہ بھی ہے۔‘‘
’’شکریہ رابرٹ! گرمی نے واقعی برا حال کردیا ہے۔‘‘ وسیم نے مسکراتے ہوئے کہا اور یاسمین کی طرف دیکھا۔ ’’کیا ارادہ
کو پس و پیش میں دیکھ کر رابرٹ مسکرایا۔ ’’مجھے کچھ کام ہے اس لیے جارہا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘
یاسمین نے چٹان کی آڑ میں لباس تبدیل کیا جبکہ وسیم پہلے ہی پانی میں اتر چکا تھا۔ وہ سامنے آئی تو وسیم مبہوت رہ گیا۔ اس نے فوراً پانی میں چھلانگ لگا دی۔ وہ دونوں دیر تک نہاتے رہے۔ پھر وسیم نے بتایا کہ اس نے اس مصیبت سے نجات کا کیا منصوبہ بنایا ہے۔ اس نے خوف زدہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور بولی۔ ’’وسیم! مجھے بے حد افسوس ہے کہ میری وجہ سے تم اس مصیبت میں گرفتار ہوگئے۔ اب اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ جمیل ہماری کوئی مدد کرسکیں۔ ہمارا سراغ لگانا ممکن نہ ہوگا لیکن میں تمہیں اس طرح جان پر کھیلنے کی اجازت نہیں دوں گی۔‘‘
’’تم خود کو الزام نہ دو یاسمین اور نہ ہی میری فکر کرو۔‘‘ وسیم نے اسے تسلی دی۔ ’’لیکن ہمیں یہاں سے فرار ہونے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہوگا۔‘‘
’’میں رابرٹ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کررہی ہوں کیونکہ تنہا تم اتنے آدمیوں کا مقابلہ نہیں کرسکو گے۔‘‘
یہ دونوں باتیں کررہے تھے کہ اچانک ڈیوڈ کو اپنی سمت بڑھتے دیکھا۔ یاسمین نے جلدی سے تولیہ اپنے شانوں کے گرد لپیٹ لیا۔
’’نہ جانے کیوں مجھے اس شخص کی شکل سے ہی نفرت محسوس ہوتی ہے۔‘‘ وسیم نے کہا۔
’’مجھے بھی… یہ خاموش شخص بہت خطرناک لگتا ہے۔ تم اس سے الجھنے کی کوشش مت کرنا۔‘‘
ڈیوڈ قریب پہنچا تو یاسمین کو دیکھتے ہوئے مسکرایا۔ ’’خوب! تو اکیلے اکیلے تفریح ہورہی ہے؟ آئو میرے ساتھ بھی کچھ دیر سوئمنگ کرو۔‘‘
’’نہیں، اب میں واپس جائوں گی۔‘‘ یاسمین کھڑی ہوگئی۔
’’یہ کیسے ممکن ہے۔ ایسی حسین خاتون اور اتنا رومینٹک جزیرہ اور یہ کھلا سمندر… آئو نا…‘‘ ڈیوڈ نے ہاتھ بڑھا کر اس کا تولیہ کھینچ لیا اور زبردستی اس کا بازو پکڑ کر کھینچنے لگا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ یہ حرکت دانستہ کررہا تھا۔ وسیم کے تن بدن میں پہلے ہی آگ لگ چکی تھی۔ اس نے ڈیوڈ کو ایک زوردار دھکا دیا۔ یاسمین بازو چھوٹتے ہی تیزی سے پیچھے ہٹی۔
’’اوہ! تمہاری یہ جرأت؟‘‘ ڈیوڈ غرّایا۔ ’’اس لڑکی کی خاطر مجھ سے مقابلہ کرو گے؟‘‘ اس نے غصے اور طیش کے مارے اپنا گھونسہ لہرایا جو وسیم کی کنپٹی پر پڑا۔ ضرب زوردار تھی۔ اس کی آنکھوں میں تارے ناچنے لگے۔ وہ لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا۔ وسیم کو اب پورا یقین آگیا تھا کہ یہ سب وہ جان بوجھ کے کررہا تھا تاکہ بتا سکے کہ اس کے اور اس کی ساتھی یاسمین کے ساتھ ایسا سلوک بھی ہوسکتا ہے۔ یہ غالباً اس کی طرف سے پہلا سبق تھا کہ وسیم اپنی ضد چھوڑ کر اس کی بات مان لے۔ اس خیال کے ساتھ ہی وسیم کو مزید طیش آگیا۔ وہ ایک اسپورٹس مین جیسا تھا اور اسپورٹس کلب کے ساتھ اس نے کئی فائٹنگ کلب بھی جوائن کیے تھے مگر زیادہ تر وہ اسکوائش ہی کھیلا کرتا تھا لہٰذا اس کے اندر کا جری آدمی یکایک بیدار ہوگیا۔ اس نے چند قدم پیچھے ہٹ کر سنبھالا لیا اور پھر ایک گھونسہ اس نے چلا دیا۔ ہدف ڈیوڈ کا پیٹ تھا۔ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ دوسرا مُکا بھی چلایا جو ڈیوڈ کی آنکھ کے قریب لگا مگر اس پر صرف اسی قدر اثر ہوا کہ وہ تھوڑا لہرایا اور پھر اسی طرح کھڑے کھڑے مسکرانے لگا۔ وسیم کی ضربات شاید زوردار ثابت نہیں ہوئی تھیں۔ پھر اس نے وسیم کے وجود کو اپنے دونوں بازوئوں میں جکڑ لیا اور دبانے لگا۔ وسیم کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ ایسا لگا کہ ہڈیوں کا کچومر نکل جائے گا، مگر وسیم نے بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے دائیں بازو کی کہنی ڈیوڈ کے پیٹ میں رسید کردی۔ اس کے منہ سے ’’اوغ‘‘ کی آواز نکلی اور گرفت کو ڈھیلی پڑتے محسوس کرتے ہی وسیم نے پلٹا کھایا اور اس بار اپنے سر کی بھرپور ٹکر ڈیوڈ کی ناک پر رسید کردی۔ پھر جیسے ہی اس نے بازو ہٹائے، وسیم پھرتی سے ہٹا۔ اسے اب احساس ہو چلا تھا کہ اس بار وہ اس مردود کے بازوئوں کے شکنجے میں آیا تو برا پھنسے گا لیکن زیادہ پیچھے ہٹنے کی جگہ نہ تھی۔ بمشکل چند قدم کے فاصلے پر ریلنگ تھی۔ وہ کسی غضبناک سانڈ کی طرح وسیم پر جھپٹا۔ وسیم نے دوبارہ گھونسہ رسید کرنے کی کوشش کی۔ وہ ڈیوڈ کے کہیں لگا بھی تھا مگر اب زور نہ رہا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لیتا ہوا ریلنگ سے جا ٹکرایا۔ کمزور سی ریلنگ ان دونوں کا بوجھ نہ سہار سکی اور نتیجتاً دونوں ہی نیچے پانی کی طرف لڑھکتے چلے


اور ایک زوردار چھپاکے سے سمندر میں گرے۔ وسیم پانی میں تڑپا اور اس کی کمر پر سوار ہوگیا اور اپنے دونوں بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹ کر پوری قوت سے جھٹکا دیا۔
ڈیوڈ کے حلق سے جیسے ہی خرخراہٹ نکلی، اسی وقت سمندر کا کھارا پانی اس کے حلق میں اتر کر پھیپھڑوں میں چلا گیا۔ وہ تڑپنے لگا مگر وسیم نے اپنی گرفت ڈھیلی نہ ہونے دی اور تھوڑی دیر بعد ہی ڈیوڈ کا خاتمہ ہوگیا۔ وسیم اس کی لاش کو چھوڑ کر تیزی سے ہاتھ پائوں چلا کر کنارے کی طرف آگیا۔ یاسمین دوڑتی ہوئی اس طرف آگئی تھی۔ وہ اسے کھینچ کر ساحل کی ریت پر لے آئی۔ وسیم بری طرح ہانپ رہا تھا۔
جب حواس بحال ہوئے تو یاسمین کو اس نے پریشان نگاہوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا۔ اس کا چہرہ سپید پڑتا جارہا تھا، ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ’’تت… تم ٹھیک تو ہو نا وسیم؟‘‘
’’میں… ٹھیک ہوں یاسمین، تم پریشان مت ہو۔‘‘
’’اوہ میرے خدا… وسیم! اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں کیا کرتی؟‘‘ اس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں بھی تم سے اتنی محبت کرنے لگوں گی جتنی تمہیں مجھ سے ہے۔‘‘
یاسمین کے اقرار کی دیر تھی کہ وسیم کے جسم میں ایک نئی زندگی دوڑ گئی۔ وہ اس کے بازوئوں کا سہارا لے کر اٹھا۔ یہی وہ وقت تھا جب یاسمین کے حلق سے ایک سراسیمہ سی چیخ برآمد ہوئی۔ وسیم چونک پڑا۔ یاسمین جس سمت میں دیکھ رہی تھی، لامحالہ اس کی بھی نظریں اس طرف گھومیں تو اس کا بھی دل اچھل کر حلق میں آ اٹکا۔ وہ تورک تھا جو وحشیانہ غراہٹیں بلند کرتا ہوا ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے شاید اپنے ساتھی ڈیوڈ کی لاش دیکھ لی تھی جبکہ دیو قامت سلاسکو بھی اس کے پیچھے تھا۔
’’اوہ… سلاسکو! اس کو اٹھائو۔‘‘ وہ چیخا۔ دوسرے ہی لمحے وسیم کے سینے میں ایک زوردار ٹھوکر پڑی کہ اسے اپنی پسلیاں چکنا چور ہوتی محسوس ہونے لگیں۔
سلاسکو نے وسیم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اس طرح اٹھا لیا جیسے وہ کوئی کھلونا ہو۔ وسیم کی کلائی موڑ کر وہ اسے دھکے دیتا ہوا مکان کی سمت لے چلا۔ درد سے اس کا جسم چور چور ہو رہا تھا۔
’’خدا کے لیے کچھ تو رحم کرو۔ دیکھتے نہیں کہ وہ کتنے زخمی ہیں؟‘‘ یاسمین نے التجا کی۔
’’شٹ اَپ لڑکی!‘‘ تورک دھاڑا۔ ’’تو اپنی فکر کر، اس کے بعد تیرا نمبر ہے۔‘‘
مکان میں پہنچ کر انہوں نے وسیم کو ایک کرسی پر دھکیل دیا۔ وسیم نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ رکھا تھا۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہورہی تھی لیکن حواس آہستہ آہستہ بحال ہورہے تھے۔ چند لمحے بعد اس نے اپنا سر اٹھایا اور آنکھیں کھولیں۔ سامنے لہریں لیتا ہوا سمندر تھا۔ سامنے یاسمین کھڑی تھی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ محبت اور مایوسی کے عالم میں وسیم کی طرف دیکھ رہی تھی۔ تورک اور سلاسکو کو ہلاک کرنا ضروری ہوگیا تھا ورنہ وہ انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔
اسی وقت وسیم کے کانوں سے تورک کی آواز ٹکرائی۔ وہ خونخوار لہجے میں اس سے کہہ رہا تھا۔ ’’ڈاکٹر! تم نے خود اپنی موت کو آواز دی ہے۔ جو کچھ میں پوچھ رہا ہوں، تم ابھی بتائو گے ورنہ تم دونوں زندہ نہیں رہو گے۔ میری بات سن رہے ہو نا تم…؟‘‘
وسیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اچانک اس کا بھرپور گھونسہ وسیم کے منہ پر پڑا۔ اس کا سر کرسی کی پشت سے ٹکرایا اور خون کا نمکین ذائقہ اسے زبان پر محسوس ہونے لگا۔
’’ٹھیک ہے ڈاکٹر! تم ایسے نہیں مانو گے۔ ممکن ہے یہ لڑکی تمہاری زبان آسانی سے کھلوا سکے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ سلاسکو کی طرف پلٹا۔ ’’دیکھ کیا رہے ہو۔ اس سے قبل کہ میں اس کی موت کا فیصلہ کروں، تم لڑکی پر کام شروع کردو۔‘‘ اس نے یہ کہتے ہوئے ریوالور کی نال وسیم کی کنپٹی سے لگا دی۔ سلاسکو فاتحانہ انداز میں یاسمین کی طرف بڑھا۔
’’ٹھہرو! میں بتاتا ہوں۔‘‘ وسیم نے جلدی سے کہا۔ ’’بتانے کے سوا اب کوئی چارہ بھی نہیں۔ بولو کیا جاننا چاہتے ہو تورک؟‘‘
’’پروفیسر زیبی نے تمہیں کیا دیا تھا؟‘‘
’’مائیکرو فلم، جس میں کسی فارمولے کے اعدادوشمار لکھے ہوئے ہیں۔‘‘
’’ایکسیلنٹ! وہ فلم کہاں ہے؟‘‘
’’میرے بینک کے سیف ڈپازٹ باکس میں۔‘‘ وسیم نے جواب دیا۔ ’’جس کی چابی میری لائبریری میں ایک کتاب کے اندر رکھی ہے۔‘‘
تورک خوشی اور بے چینی سے ہاتھ مل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں یکایک چمک عود کر آئی تھی۔ کامیابی اسے لب بام محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ
’’لیکن ہمیں چابی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ڈاکٹر! تم نے خود کہا تھا کہ معلومات کا سارا ذخیرہ تمہارے ذہن میں محفوظ ہے۔ غلط تو نہیں کہا میں نے؟‘‘
’’ہاں! تم نے غلط کہا ہے۔‘‘ وسیم بولا۔ ’’کیونکہ میں نے یہ بات پروفیسر زیبی کے خفیہ فارمولے کے بارے میں نہیں کہی تھی۔ وہ بہت طویل اور اتنا الجھا ہوا تھا کہ میں خود ٹھیک سے نہیں سمجھ سکا۔ اس کو سمجھنے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔‘‘
’’نہیں ڈاکٹر! ابھی سمجھ میں آجائے گا۔‘‘ تورک مکروہ انداز سے بولا اور ایک بار پھر قریب کھڑے سلاسکو کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’تم کیا کھڑے منہ تک رہے ہو؟ اپنا کام شروع کرو۔‘‘
سلاسکو کا چوڑا ہاتھ یاسمین کی طرف بڑھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی اور دوسرا ہاتھ اس کے گریبان کی طرف بڑھایا۔ یاسمین کے حلق سے گھٹی گھٹی کراہیں خارج ہونے لگیں۔ وسیم چیخنے لگا اور تورک کی شان میں اس کے منہ سے مغلظات کا طوفان امڈ پڑا۔ حقیقت یہ تھی وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ اصلیت بتاتا تو بھی مصیبت تھی۔ گویا وہ دونوں طرف سے ہی مصیبت کا شکار تھے۔
اچانک ایک دھماکا ہوا اور وسیم کی پھٹی پھٹی آنکھوں نے سلاسکو کو الٹ کر دور دیوار سے ٹکراتے اور پھر فرش پر گرتے ہوئے دیکھا۔ اس کے سینے سے خون کا فوارہ ابل رہا تھا۔ رابرٹ اپنے پستول کی نال دیکھ رہا تھا جس سے اب تک دھویں کی لکیر بلند ہورہی تھی۔
’’تم…‘‘ تورک زخمی شیر کی طرح اس کی طرف بڑھا۔
’’ادھر ہی رک جائو تورک۔‘‘ رابرٹ نے اس بار پستول کی نال کا رخ اس کی طرف کردیا۔ ’’میں یہ سب برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے طیارہ اُڑانے کی ملازمت کی ہے مگر میں ایسے گھنائونے کھیل میں ساتھ نہیں دے سکتا تمہارا۔‘‘ رابرٹ نے سنجیدگی سے کہا۔
’’شاید تم ٹھیک کہتے ہو رابرٹ!‘‘ تورک شکست خوردہ سے انداز میں بولا۔ ’’مجھ سے واقعی غلطی ہوگئی۔‘‘ کہتے ہوئے اس نے گردن جھکا لی۔ وسیم کو وہ بلا کا مکار محسوس ہونے لگا۔
رابرٹ نے اپنا پستول والا ہاتھ نیچے گرا لیا اور پستول کو کمر سے لگانے لگا لیکن اسی وقت تورک نے بلاکی پھرتی سے اپنا پستول نکال کر رابرٹ پر فائر کردیا۔ گولی اس کی گردن کے آرپار ہوگئی۔ وہ چیخ مار کر گرا۔
ادھر وسیم ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اچھل کر کھڑا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں کرسی اٹھا کر تورک کے سر پر دے ماری اور ساتھ ہی چلّا کر یاسمین سے بولا۔ ’’بھاگو یاسمین…! کچن کے دروازے سے باہر پہاڑی کی طرف دوڑو۔‘‘
یاسمین نے دروازے کی سمت جست لگائی۔ وسیم نے پلٹ کر دیکھا تورک فرش پر پڑا تھا۔ اس کا چہرہ خون سے تر ہورہا تھا لیکن ریوالور ہنوز اس کے ہاتھ میں دبا ہوا تھا اور وہ اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔ وقت نہیں تھا کہ وہ رابرٹ کا پستول اٹھا سکتا۔ یاسمین کے بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی۔ اس نے بھی دروازے کی طرف چھلانگ لگا دی۔
پیچھے سے فائر کی آواز ابھری اور گولی وسیم کو بالکل اپنے پاس سے گزرتی محسوس ہوئی لیکن اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ کچن میں میز پر کھانا لگا ہوا تھا۔ گویا کچھ دیر پہلے یہ لوگ لنچ کی تیاری کررہے تھے۔ بھاگتے ہوئے وسیم میز سے جو کچھ بھی اٹھا سکا، اپنی جیب میں ڈالتا گیا۔ پھر کانپتے ہوئے قدموں سے کچن کے دروازے سے باہر چھلانگ لگا دی۔ اسی لمحہ دوسرا فائر ہوا۔ گولی دروازے کی چوکھٹ میں لگی مگر وسیم باہر نکل چکا تھا۔ اس نے بے تحاشا بھاگنا شروع کردیا۔ یاسمین اس سے تیس چالیس قدم آگے تھی اور پوری رفتار سے بھاگ رہی تھی۔ اچانک ایک اور فائر ہوا۔ گولی سنسناتی ہوئی اس بار وسیم کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ گولی کی آواز سن کر یاسمین نے گھوم کر دیکھا اور پھر ایک جھاڑی سے ٹکرا کر گر پڑی۔ وسیم نے چلاّ کر کہا۔ ’’رکنے کی ضرورت نہیں… بھاگتی رہو۔‘‘
وہ اٹھی اور پھر بھاگنے لگی۔ دو فائر اور ہوئے لیکن وہ گولی کی زد سے دور نکل چکے تھے مگر وہ پھر بھی اس وقت تک بھاگتے رہے جب تک کہ پہاڑی کی دوسری جانب نہیں پہنچ گئے۔ یاسمین بری طرح ہانپ رہی تھی۔ وہ ایک چٹان کے سہارے بیٹھ کر سانس درست کرنے لگی۔ ایک ہاتھ سے وہ اپنا چہرہ بھی صاف کرتی جاتی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں کچن کا لمبا سا چاقو تھا۔
وسیم بھی وہاں آگیا اور پہاڑی کی اوٹ سے جھانک کر اس طرف دیکھا۔ تورک اب تک پہاڑی نالے کے اوپر دیکھ رہا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں خون آلود تولیہ تھا
جس سے وہ اپنے سر سے بہنے والے خون کو روکنے کی کوشش کررہا تھا۔ وسیم بھی بری طرح تھک چکا تھا۔ وہ یاسمین کے قریب نڈھال سا ہوکر گر پڑا۔ اس کی آنکھوں سے خوف عیاں تھا۔
’’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یاسمین! اب صرف تورک باقی بچا ہے۔ اس سے بھی نمٹ لیں گے۔‘‘
’’لیکن وہ مسلح ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔ ہمارا حوصلہ ہمارا امتحان ہے یاسمین! اور پھر تمہارے پاس یہ چاقو بھی تو ہے۔‘‘ وسیم نے اسے تسلی دیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
وہ بے اختیار مسکرا کر بولی۔ ’’میری کچھ سمجھ میں نہ آیا تو میں نے اسے کچن سے اٹھا لیا۔ بھاگتے ہوئے اچانک میری نگاہ اس چاقو پر پڑی تھی۔‘‘
وسیم نے فوراً اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ساری چیزیں باہر نکالیں۔ سگریٹ کا پیکٹ، پروفیسر زیبی کا لائٹر، رقم کی ایک موٹی گڈی، چابی کا گچھا اور ایک رومال۔ دوسری جیب سے ایک ڈبل روٹی اور جیلی کا ایک ڈبہ نکالا۔
یاسمین ان چیزوں کو دیکھ کر ہنس پڑی۔ اس نے کہا۔ ’’تمہیں بہت بھوک لگی تھی کیا؟‘‘
’’شاید… اور اب یہی ہماری کل کائنات ہے۔‘‘ وسیم بولا۔ ’’یہ صحیح ہے کہ تورک مسلح ہے لیکن اب ہم اس کے مقابلے میں دو ہیں۔ اس کے پاس کھانے پینے اور ضرورت کی ہر چیز ہے لیکن پھر بھی اسے ہر وقت جاگتے رہنا پڑے گا جو ممکن نہیں ہے جبکہ ہم باری باری سو بھی سکتے ہیں۔ اب ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ مکان کے قریب ہی کہیں پوشیدہ رہیں اور اس پر نظر رکھیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جس لمحے بھی وہ غافل ہو، ہم اس کو ٹھکانے لگا دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جزیرے کے دوسرے حصے میں چھپ کر انتظار کریں اور جب وہ ہمیں تلاش کرتا ہوا آئے تو اسے ٹھکانے لگا دیں لیکن اگر وہ نہیں آیا تو ہمیں اس کے پاس جانا پڑے گا کیونکہ ہمارے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں ہے لہٰذا پہلے راستے پر چلنا بہتر ہوگا۔ یعنی ہمیں مکان کے قریب رہنا ہوگا۔‘‘
یاسمین نے اپنے سر کو ہولے سے اثباتی جنبش دیتے ہوئے اس کی بات پر صاد کیا تھا۔
اس کے بعد یہ دونوں جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں باہر نکلی ہوئی چٹان نے سایہ سا کررکھا تھا۔ زمین پر نرم ٹھنڈی ریت تھی۔ یہاں سے وہ ہر لمحہ تورک کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھ سکتے تھے۔ یاسمین کے اصرار پر پہلے وسیم نے آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ لیٹتے ہی گہری نیند سو گیا۔ یاسمین نے جب اسے بیدار کیا تو شام ہوچلی تھی۔ وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس سے پوچھا۔ ’’سب خیر تو ہے نا؟‘‘
’’ہاں! ایسا لگتا ہے کہ تورک کہیں جانے کی تیاری کررہا ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔ ’’وہ کافی دیر سے سامان اٹھا کر مکان کی ایک سمت لے جارہا ہے، جدھر میں نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ یاسمین نے اپنی بات مکمل کی تو وسیم نے پُرسوچ انداز میں اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے سر کو ہلکی سی تفہیمی جنبش دی۔
کچھ دیر بعد دونوں رینگتے ہوئے چٹان کے کنارے پہنچے۔ اسی لمحے تورک مکان سے برآمد ہوا۔ اس نے ایک ہاتھ میں گٹھرا اٹھا رکھا تھا اور دوسرے میں پستول پکڑ کر اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ ظاہر ہے اسے اپنے شکار کی فکر تھی۔ اس کے بعد وہ مکان کی آڑ میں غائب ہوگیا۔ اس نے دو چکر اور لگائے۔ کچھ دیر بعد موٹر بوٹ اسٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی۔ بوٹ جب آڑ سے نکل کر سامنے آئی تو یاسمین نے وسیم کا بازو دبا کر کہا۔ ’’کہیں وہ ہمیں اس ویران جزیرے میں چھوڑ کر فرار تو نہیں ہورہا وسیم؟‘‘
’’میرا خیال ہے وہ ابھی ایسا نہیں کرے گا۔ تھوڑا انتظار کرلو، ابھی اندازہ ہوجائے گا۔‘‘
وہ باربار پہاڑی کی سمت دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے موٹر بوٹ گھمائی اور اس کنارے کی طرف بڑھنے لگا جہاں طیارہ کھڑا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے موٹر بوٹ روک دی اور اتر کر طیارے میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد باہر نکلا۔ موٹر بوٹ اب کھلے سمندر کی طرف روانہ ہوگئی۔ تقریباً ایک میل کے فاصلے پر اس نے بوٹ روک دی۔ انہوں نے اسے لنگر ڈالتے ہوئے دیکھا۔
’’کم بخت بلاکا چالاک ہے۔‘‘ وسیم نے دانت بھینچ کر کہا۔ ’’مجھے یقین ہے کہ وہ کھانے پینے کا سارا سامان اپنے ساتھ لے گیا ہے اور اب سمندر میں اپنی بوٹ پر آرام سے سوئے گا کیونکہ ہم اس تک تیر کر بھی نہیں پہنچ سکتے۔‘‘
’’چلو… مکان میں چل کر دیکھیں شاید کوئی چیز چھوڑ گیا ہو؟‘‘
اندھیرا پھیل چکا تھا۔ وہ ایک بڑا چکر کاٹ کر مکان میں داخل ہوئے۔ وسیم کا اندیشہ غلط نہیں


وہ خبیث نہ صرف کھانے پینے کی ہر چیز لے گیا تھا بلکہ پانی کی ٹنکی خالی کرکے جنریٹر کے پلگ بھی نکال کر لے گیا تھا تاکہ یہ لوگ مشین چلا کر پانی بھی نہ بھر سکیں۔ پمپ کے پاس پڑے ہوئے پانے سے وسیم نے پمپ کھولا اور اس کے کئی پرزے نکال کر ایک کپڑے میں لپیٹے اور پھر کچھ فاصلے پر ریت میں دفن کردیئے۔ اب وہ پانی بھی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ یاسمین کو اس نے دروازے کے باہر کھڑا کردیا تھا تاکہ وہ سمندر کی سمت نظر رکھ سکے۔ تورک سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ اچانک آپہنچتا۔ وسیم نے ایک بار پھر کچن میں جاکر تلاشی لی لیکن الماری میں مچھلی کے ایک ٹن کے سوا کچھ نہیں ملا۔
چاند نکل آیا تھا، اس لیے ہلکی روشنی میں چیزیں نظر آنے لگی تھیں۔ کچھ دیر بعد یاسمین بھی اندر آگئی۔ ان دونوں نے مل کر تلاشی شروع کی۔ رابرٹ کی جیکٹ سے چاکلیٹ کی بار برآمد ہوئی۔ یاسمین نے اسے آواز دی۔ وہ کچن میں پہنچا تو اس نے فریج کے اندر سے برف کی ٹرے نکال کر رکھ دی۔
’’لگتا ہے جلدی میں اسے برف کا خیال نہیں رہا۔‘‘ یاسمین نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اسے تھرماس میں بھر لیتے ہیں۔ کم ازکم دو دن تو کام چل جائے گا لیکن بھوک بڑے زور کی لگی ہے۔‘‘
وسیم نے فوراً چاکلیٹ بار اُسے دے دی۔ اس نے حیرت آمیز سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ وسیم نے بتایا۔ ’’یہ مجھے رابرٹ کی جیب سے ملی تھی۔‘‘
’’اوہ… وسیم!‘‘ اس نے اچانک کہا۔ ’’ممکن ہے طیارے میں کچھ مل جائے؟ ٹھہرو! میں جاکر دیکھتی ہوں۔‘‘
’’ایک منٹ…‘‘ وسیم نے اسے روکتے ہوئے کہا۔ ’’وارڈروب میں کپڑے موجود ہیں۔ تم ایسا کرو کہ نہا کر کپڑے بدل لو، شاید آئینے میں تم نے اپنا حلیہ نہیں دیکھا۔‘‘
’’بہت بری لگ رہی ہوں؟‘‘ اس نے وسیم کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’تم جس حلیے میں رہو، مجھے ہمیشہ اچھی لگو گی۔‘‘ وسیم نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’لیکن یہ پینٹ، شرٹ پہن کر مزید اچھی لگو گی۔‘‘
’’وسیم!‘‘ اس نے قریب آتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں اچانک کسی سے پیار کرنے لگوں گی لیکن…‘‘ وہ اپنا جملہ مکمل کئے بغیر طیارے کی طرف مڑ گئی۔
طیارے میں چاکلیٹ کے چار بار اور ملے۔ یاسمین نے بتایا کہ تورک نے طیارے کا ریڈیو بیکار کردیا تھا۔ تورک کے سامان سے وسیم کو سگریٹ کا ایک پورا کارٹن، لائٹر کی گیس اور کپڑے مل گئے تھے۔ اس نے سارا اثاثہ یکجا کرلیا۔ اتنے میں یاسمین بھی سمندر سے غسل کرکے واپس آگئی۔
٭…٭…٭
تورک کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں نے رات مکان میں آرام دہ بستر پر بسر کی۔ صبح سویرے دونوں نے اپنا مختصر اثاثہ لیا اور بچھانے کے لیے کمبل ساتھ لے کر ٹیلے پر پہنچ گئے جو مکان سے تھوڑے فاصلے پر واقع تھا۔ انہوں نے دھوپ کی تمازت سے بچنے کے لیے ایک چھوٹے سے درخت پر کمبل تان دیا تاکہ اس کے سائے میں بیٹھ سکیں۔
سورج نکلنے سے پہلے ہی انہوں نے موٹر بوٹ کو کنارے پر رکتے دیکھا۔ تورک ایک پیکٹ بغل میں دبائے ہوئے مکان کی سمت بڑھا۔ اس میں کھانے پینے کا سامان ہوسکتا تھا۔ ساحل پر رک کر اس نے دوربین سے پہلے ہر سمت کا جائزہ لیا۔ پھر پہاڑی کے ادھر دیکھتا رہا جہاں ان دونوں نے گزشتہ دنوں قیام کیا تھا۔ تورک کو یہ خبر نہ تھی کہ ان کا شکار مکان سے بہت قریب آچکا تھا۔ اس کے بعد وہ مکان کا دیر تک جائزہ لیتا رہا۔
ممکن تھا کہ اسے مکان میں شب گزشتہ کو کسی کے فروکش ہونے کا شبہ ہو چلا ہو تاہم اس بات سے وہ کچھ مطمئن نظر آرہا تھا کہ ان دونوں کی قریب موجودگی عنقا تھی۔ یہ وسیم کا اندازہ تھا۔ یاسمین کا خیال کچھ اور تھا۔ اس کے مطابق تورک ان کے ساتھ انجان پن کا کھیل کھیل رہا تھا تاکہ بے خبری میں وہ ان پر ٹوٹ پڑے۔
یہ دونوں ناشتہ کرنے لگے۔ ناشتہ کیا تھا۔ بچے ہوئے سلائس، مچھلی اور چاکلیٹ سے ناشتہ کرکے پانی پیا اور آرام سے لیٹ کر تورک کی نقل و حرکت کی نگرانی شروع کردی۔
کچھ دیر بعد جب وسیم کو نیند آنے لگی تو یاسمین نے یہ ذمہ داری سنبھال لی اور وسیم کچھ فاصلے پر ایک پیڑ کے سائے تلے لیٹ کر سو گیا۔ وہ گہری نیند سویا رہا اور جب بیدار ہوا تو دوپہر ہوچکی تھی۔ یاسمین اسے تھکی تھکی نظر آرہی تھی۔ وسیم نے اس سے کہا کہ وہ پہلے پہاڑی کے دوسری جانب والے ساحل پر غسل کرلے۔ جب وہ تازہ دم ہوکر آئی تو وسیم نے بھی وہیں غسل کیا اور واپس آکر اپنی ڈیوٹی سنبھال
لی۔
شام کو وسیم نے یاسمین کو بیدار کیا تو وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔ حالات ہی ایسے تھے کہ جو بھی نیند سے بیدار ہوتا، چونک پڑتا تھا۔ اس کی آنکھوں سے خوف جھلک رہا تھا۔ یہ دیکھ کر وسیم نے اسے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے۔ سردست کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔
دونوں نے ایک بار پھر اسی طرح باری باری غسل کیا اور باقی ماندہ مچھلی اور چاکلیٹ سے ڈنر کیا۔ پانی بھی تھوڑا سا ہی بچا تھا۔ یاسمین نے تفکر آمیز نگاہوں سے وسیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’وسیم! اب کیا ہوگا؟ کھائے پیئے بغیر ہم کتنے دن گزار سکیں گے؟‘‘
’’ایک دن بھی نہیں۔‘‘ وسیم نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’کل ہم تورک سے نمٹ لیں گے۔‘‘
’’کیسے؟‘‘ اس نے چونک کر پوچھا۔
’’ابھی نہیں…‘‘ وسیم نے جواب دیا۔ ’’لیکن جو منصوبہ ذہن میں آرہا ہے، وہ تمہیں جلد بتا دوں گا۔‘‘
انہوں نے باہر نکل کر تورک کو دیکھا۔ تاریکی پھیلنے لگی تھی۔ گزشتہ روز کی طرح وہ پھر موٹر بوٹ لے کر کھلے سمندر میں جاکر لنگرانداز ہوگیا تھا۔ جب تاریکی گہری ہوگئی تو یہ دونوں اپنی پناہ گاہ سے نکل کر مکان میں داخل ہوئے۔ میز پر سامنے ہی ایک پرچہ رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے لائٹر کی روشنی میں اسے پڑھا۔ ’’ڈاکٹر! مبارک ہو تم واقعی بڑے حوصلہ مند ہو لیکن اس طرح ایک دو دن اور زندہ رہ سکتے ہو، بالآخر تمہیں ہار ماننی پڑے گی، تو پھر کیوں نہ مزید تکلیف کے بغیر صبح تک خود کو میرے حوالے کردو… تورک۔‘‘
وسیم نے یاسمین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا خیال ہے؟‘‘
’’اس کے قبضے میں جانے کی بجائے مر جانا پسند کروں گی۔‘‘ اس نے غصے میں جواب دیا۔
’’غصہ نہ کرو یاسمین! جب تک میں زندہ ہوں، وہ شیطان تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ تمہیں ایک کٹھن کردار ادا کرنا ہوگا بلکہ یوں سمجھو ایک ڈرامہ رچانا ہوگا مگر اس طرح کہ تورک کی نظریں بھی اس ڈرامے کو دیکھ رہی ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کل تم تورک کے سامنے مجھے خبیث اور درندہ کہو گی جس نے محبت کا فریب دے کر تمہارے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کیا۔‘‘ وسیم نے اسے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔
یاسمین کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں اور جب وسیم اپنی بات ختم کرچکا تو اس نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔ ’’لیکن وسیم! اگر مجھ سے ذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو…؟‘‘
’’غلطی نہیں ہوگی یاسمین۔ غلطی کا مطلب ویسے موت ہی ہوگا۔‘‘
صبح دونوں بیدار ہوئے تو ناشتہ کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ غسل کرکے تازہ دم ہونے کے بعد دونوں اپنی پناہ گاہ میں پہنچ گئے۔ منصوبے کے مطابق یاسمین نے اپنی قمیض کو کئی جگہ سے پھاڑ لیا، بال بکھرا لئے اور لباس کو خوب گرد آلود کرلیا اور جب وہ اپنے اس حلیے سے مطمئن ہوکر وسیم کی طرف مڑی تو وہ بے ساختہ ہنس دیا۔
’’اے مسٹر! منصوبے میں مذاق اڑانا شامل نہیں ہے۔‘‘ یاسمین نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’چلو نہیں اُڑائوں گا مذاق۔‘‘ وہ رینگتا ہوا اس کنارے پر پہنچ گیا جہاں سے مکان صاف نظر آتا تھا۔ تورک برآمدے میں ایک کرسی پر دراز اطمینان سے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ وہ دونوں جس جگہ چھپے ہوئے تھے، وہاں سے ٹیلے کی ڈھلوان نیچے تک چلی گئی تھی۔ تب ہی وسیم نے یاسمین کو اشارہ کیا۔
فضا میں اچانک ایک دلخراش چیخ ابھری۔ باوجود اس کے کہ یہ منصوبہ وسیم کا بنایا ہوا تھا لیکن یاسمین اتنے حقیقی انداز میں چیخی کہ وہ خود بھی اچھل پڑا تھا۔
تورک نے سگریٹ پھینک کر پھرتی سے پستول نکال لیا تھا۔ یاسمین نے دوسری چیخ ماری اور ڈھلوان پر بھاگنا شروع کردیا۔ وہ اس طرح لڑکھڑاتی ہوئی بھاگ رہی تھی جیسے سکت نہ رہی ہو لیکن جان بچانے کے لیے دوڑنے پر مجبور ہو۔ اس کے منہ سے مسلسل دردناک چیخیں بلند ہورہی تھیں۔
وسیم ایک لمحے کے لیے بھول گیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ تورک اپنی جگہ ساکت کھڑا رہا اور تب وسیم چونک کر کھڑا ہوا اور غصے میں دھاڑ کر یاسمین کے تعاقب میں دوڑنے لگا۔
یاسمین نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔ لڑکھڑائی اور گر پڑی لیکن فوراً ہی اٹھ کر پھر بھاگنے لگی، جیسے وہ ہر قیمت پر وسیم سے بچ نکلنا چاہتی ہو۔ ایک بار پھر وہ لڑکھڑا کر گری اور اس سے پہلے کہ اٹھ سکتی، وسیم اس کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اس نے اسے گھسیٹ کر اٹھایا۔ وہ اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے بھرپور جدوجہد کررہی تھی۔ کبھی مکے مارتی، کبھی اس کا منہ نوچنے کی کوشش کرتی۔ وسیم نے اچانک اس کے بال پکڑ
جھٹکا دیا۔ (جاری ہے)