Shikar | Last Episode 4

557
وسیم کو غصہ آ گیا۔ وہ غصیلے لہجے میں جمیل عمر سے بولا۔ ’’مگر میں یہاں بیٹھ کر انتظار نہیں کر سکتا، وہ خواہ مجھے جان سے ہی کیوں نہ مار دیں، لیکن میں آج انہیں وہیں جا کر سبق دوں گا۔‘‘
’’نہیں! میں تمہیں اس طرح کھونے کو تیار نہیں ہوں۔‘‘
’’میں ڈاکٹر نصیر شاہ نہیں ہوں سر کہ آپ میری فکر کریں، میں وسیم ہوں، ایک عام آدمی۔ آپ میری اتنی فکر نہ کریں۔‘‘
’’احمق ہو تم، میں تم پر دس ڈاکٹر نصیر شاہ قربان کر سکتا ہوں، تم میرے لیے اب سب سے زیادہ اہم ہو۔ لیکن فکر نہ کرو، یاسمین کو رہا کرانے کے لیے تم بھی ضرور جائو گے۔‘‘
دروازے کی گھنٹی بجی، اگلے ہی لمحے حبیب اندر داخل ہوا۔ سب ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گئے۔ جمیل نے اسے صورت حال بتاتے ہوئے کہا۔ ’’سفارت خانے کی نگرانی پر کافی افراد لگا دیئے ہیں۔ صالح نے مجھے بتایا ہے کہ آج رات استقبالیہ ہے جس میں سفارت کاروں کے علاوہ اعلیٰ حکام اور دُوسرے معزز افراد مدعو ہیں۔ ہمیں اسی موقع سے فائدہ اُٹھانا ہے، میرا منصوبہ پہلے ذہن نشین کر لو۔‘‘
جمیل نے انہیں بتانا شروع کیا۔ حبیب نے درمیان میں کئی سوالات کیے۔ جمیل عمر اسے ہر پہلو سے سمجھاتے رہے، وسیم کا دل اس ایڈونچر کے تصور سے اُچھلنے لگا۔
یہ جس وقت روانہ ہوئے، تاریکی پھیل چکی تھی۔ ان کے جسموں پر قیمتی لباس موجود تھے۔ روانگی سے قبل جمیل عمر نے پوچھا۔ ’’تمہاری تیاریاں مکمل ہیں؟‘‘
’’جی سر!‘‘ اس نے سامنے رکھے بنڈلوں کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اس میں فائرمینوں کی وردیاں اور دیگر سامان موجود ہے۔ ہم نے فائر بریگیڈ والوں سے ہر چیز حاصل کرلی ہے، اس کے علاوہ فائر بم، اسموک بم اور دیگر چیزیں بھی موجود ہیں۔‘‘
اس نے انہیں سیاہ دستانے، نقاب اور رین کوٹ دیتے ہوئے کہا۔ ’’اپنے چہرے اور لباس کو اچھی طرح چھپا لینا۔‘‘
’’ٹھیک ہے حبیب۔ شکریہ۔‘‘ جمیل نے جواب دیا۔ ’’میں تم سب کی کامیابی کے لیے دُعاگو رہوں گا۔‘‘
یہ سب سنسان سڑکوں سے گزرتے ہوئے دریا کے پُل کو پار کر کے دُوسرے کنارے پہنچے جہاں دو لانچیں اورکئی کشتیاں لنگرانداز تھیں۔ سامنے ایک بلند ٹیلہ پہاڑی کی طرح نظر آ رہا تھا جس پر ایک شاندار محل نما عمارت تھی۔ دریا سے عمارت تک ایک سپاٹ ڈھلوان نظر آ رہی تھی، جس پر گھنی جھاڑیاں تھیں، بلندی پر خاردار تاروں کی قدِ آدم باڑ صاف نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے لانچ کی بجائے کشتیوں کے ذریعے دریا پار کیا اور پھر اس ڈھلان تک پہنچ گئے جو سفارت خانے تک چلی گئی تھی۔
دو نقاب پوش وہاں ان کے منتظر تھے۔ ’’کوئی شخص بات نہ کرے نہ سگریٹ پیئے۔ بس خاموشی سے میرے پیچھے چلے آئو۔‘‘ ان میں سے ایک نے سرگوشی کی۔
گھنی جھاڑیوں کے درمیان سے یہ لوگ اُوپر چڑھنے لگے، انہیں کافی بلندی پر جانا تھا۔ چڑھائی بڑی صبرآزما تھی، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری، آگے بڑھتے رہے۔
اچانک ان کے رہبر نے سرگوشی کی۔ ’’خاردار باڑ صرف دس گز کے فاصلے پر ہے، مسلح گارڈ ٹھیک چھ منٹ بعد یہاں سے گزرے گا، اس کے جاتے ہی تم کو باڑ پار کر لینا ہے۔‘‘
ذرا دیر بعد گارڈ کے قدموں کی چاپ اُبھری۔ اس کے گزرتے ہی ان کے نقاب پوش رہنما نے اشارہ کیا۔ پہلے حبیب نے اس کے کاندھے پر سوار ہو کر خاردار باڑ کے اُوپر سے چھلانگ لگائی، اس کے بعد وسیم نے تقلید کی۔ وہ نرم زمین پر گرا اور فوراً ہی اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ ان کے سامان کا بنڈل ان کے ساتھ تھا۔ حبیب کسی سائے کی طرح جھاڑیوں کی آڑ لیتا ہوا آگے بڑھا۔
یہ سب بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ احاطے میں ہر طرف تیز روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ جلد ہی گیراج میں کھڑی کاریں نظر آنے لگیں۔ عمارت کے گرد بنی ہوئی روش کے کنارے گارڈینا کی باڑ لگی ہوئی تھی جو اتنی اُونچی تھی کہ یہ لوگ اس کی آڑ میں جھکے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔
گیراج کے عقبی حصے کے قریب پہنچ کر رُک گئے۔ اندر سے ریڈیو پر نشر ہونے والے نغمے کی آواز آ رہی تھی۔ حبیب نے تھیلے سے ایک فائر بم نکالا اور سرگوشی میں کہا۔ ’’تم یہیں ٹھہرو، میں اسے رکھ کر آتا ہوں۔ چند منٹ بعد گیراج شعلوں کی لپیٹ میں ہوگا۔‘‘
وہ عقبی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ وہاں کھڑی کاروں نے اسے ڈرائیوروں کی نظروں سے محفوظ رکھا جو گیراج کے سامنے
بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔ حبیب پانچ منٹ بعد واپس آکر بولا۔ ’’کام ہوگیا، دس منٹ بعد تماشا شروع ہو جائے گا۔‘‘
یہ لوگ گیراج کے عقب سے آگے بڑھنے لگے۔ حبیب کی آنکھیں کسی بلّی کی طرح تاریکی میں بھی راستہ دیکھ رہی تھیں۔ ایک جگہ خوف سے وسیم کا حلق خشک ہوگیا۔ وہ بڑھتے جا رہے تھے کہ بمشکل بیس قدموں کے فاصلے پر کوئی زور سے کھانسا۔ حبیب نے جلدی سے وسیم کو جھاڑی کے اندر گھسیٹ لیا۔ چند لمحوں میں قدموں کی دُور ہوتی ہوئی چاپ سنائی دی۔
’’ہر سمت زبردست پہرہ ہے۔ مسلح گارڈ گشت کر رہے ہیں۔‘‘ اس نے سرگوشی کی۔ ’’آنکھیں اور کان کھلے رکھ کر بڑھنا۔‘‘
اچانک سامنے سے کسی نے آرڈر دیا۔ ’’ہالٹ…!‘‘
وسیم پھرتی سے جھاڑی کے پیچھے ہوگیا۔ لیکن حبیب اور گارڈ بالکل ایک دُوسرے کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ وسیم تیزی سے جھاڑی کی آڑ میں آگے بڑھنے لگا کہ گارڈ کے عقب میں پہنچ جائے۔ دِل ہی دِل میں وہ دُعا مانگ رہا تھا کہ حبیب اسے باتوں میں لگائے رکھے۔ پھر ایسا ہی ہوا، حبیب نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ’’شاباش! میں یہی چیک کر رہا تھا کہ تم سب پہرے پر ہو یا نہیں، تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’خاموش رہو!‘‘ گارڈ نے اسے ڈانٹ کر کہا۔ ’’ہاتھ اپنے اُوپر اُٹھا لو، جلدی کرو ورنہ گولی مار دوں گا۔‘‘
حبیب نے فوراً تعمیل کی۔ اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ گارڈ نے خالی دھمکی نہیں دی تھی، وہ واقعی گولی چلا دیتا۔ لیکن اتنی دیر میں وسیم گارڈ کے عقب میں پہنچ چکا تھا۔ گارڈ نے جیسے ہی حبیب کی سمت قدم بڑھایا، وسیم نے ریوالور کا دستہ پوری قوت سے اس کے سر پر رسید کر دیا۔ وہ آواز نکالے بغیر حبیب کے بازوئوں میں جھول گیا۔
’’شکریہ۔‘‘ حبیب نے آہستہ سے کہا اور پھر ان دونوں نے مل کر اسے باندھا اور منہ میں رُومال ٹھونس کر گھنی جھاڑیوں میں چھپا دیا۔ اس پوری کارروائی میں مشکل سے پانچ، چھ منٹ لگے۔
اس کے بعد یہ لوگ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے عمارت کے اس حصے کی سمت آ گئے جہاں سوئمنگ پول تھا۔ حبیب نے سرگوشی کی۔ ’’شکر ہے یہاں پہرا نہیں ہے۔ تم یہ نقاب اور دستانے اُتار کر جلدی سے اپنے کپڑے اور حلیہ دُرست کرلو۔‘‘
انہوں نے اس کام میں مطلق دیر نہیں لگائی۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ لوگ معزز مہمانوں کا رُوپ دھار چکے تھے۔
’’ہم فائرمینوں والا تھیلا یہیں چھپائے دیتے ہیں، لیکن تم یہ دھویں کے بم اپنے پاس بھی رکھ لو۔‘‘ حبیب نے کئی بم نکال کر وسیم کو دیئے۔ اس نے جلدی سے اپنی جیب میں رکھ لیے۔ اب وہ اطمینان سے کھڑے تھے، کوئی دیکھتا بھی تو مہمان سمجھ کر نظرانداز کر دیتا۔ فائرمینوں کے سامان والا تھیلا انہوں نے ایک بینچ کے نیچے رکھ دیا تھا اور اب ان کی نگاہیں گیراج کی سمت لگی ہوئی تھیں۔
چند منٹ گزرے تھے کہ اچانک گیراج کی عمارت سے دھویں کے بادل نمودار ہوئے اور پھر ایک سمت سے آگ کا شعلہ بلند ہوا جو بڑھتا چلا گیا۔ دُوسرے ہی لمحے کوئی چیخا اور پھر بھاگ دوڑ اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔ کسی نے تحکمانہ لہجے میں چیخ کر کہا۔ ’’احمقو…! پہلے گاڑیوں کو جلدی سے باہر نکالو۔ بھاگ کر جائو اور فائربریگیڈ کو فون کرو۔ جلدی، ورنہ پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔‘‘
ہر سمت افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ زور زور سے بول رہے تھے، ہال میں بینڈ نے موسیقی روک دی تھی۔ عورتوں نے چیخنا شروع کر دیا تھا۔ حبیب نے وسیم کا ہاتھ پکڑا اور سرگوشی میں بولا۔ ’’یہی موقع ہے، آئو۔‘‘
دونوں بھاگتے ہوئے ٹیرس کی سمت گئے۔ اس ہنگامہ خیزی میں کسی نے ان کی طرف توجہ نہیں دی۔ وسیم کو اپنی جیب میں رکھا ہوا پستول چبھ رہا تھا۔ وہ ہال میں پہنچے تو آرکسٹرا کا اسٹیج خالی پڑا تھا۔ موسیقار اور مہمان سب آگے دیکھنے میں منہمک تھے۔ ہال کے دُوسرے سرے پر جمع بہت سے افراد بیک وقت زور زور سے بول رہے تھے اور ان سے تھوڑے ہی فاصلے پر واکر کھڑا تھا۔ وسیم نے اسے پہچان لیا۔
حبیب نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا اور آہستہ سے کہا۔ ’’یہاں ٹھہرنا خطرناک ہوگا، میرے ساتھ آئو۔ اگر واکر کی نظر پڑ جاتی تو غضب ہو جاتا۔‘‘
یہ دُوسرے کمرے میں آ گئے، جہاں بیرے مشروبات کی ٹرے لیے گردش کر رہے تھے۔ وسیم نے آہستہ سے ایک اسموک بم گرا دیا، حبیب اس کی احتیاط پر ہنس پڑا، وہ بھی مسکرا دیا۔ بولا۔ ’’ایسا لگتا ہے ہمارا منصوبہ بہت کامیاب رہے گا۔‘‘
’’ہاں! اُمید تو یہی
اب آئو کسی محفوظ جگہ کھڑے ہو جائیں اور فائربریگیڈ والوں کا انتظار کریں۔‘‘ ابھی اس کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے ہی تھے کہ سائرن کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے دریچے سے جھانک کر دیکھا۔ گیراج میں لگی آگ کے شعلے فضا میں پچاس فٹ تک بلند تھے۔ لگتا تھا سفارت خانے کی پوری عمارت جل رہی ہے۔ اسی لمحے ایک فائرانجن تیزی کے ساتھ اندر داخل ہو کر عمارت کے عقبی حصے کی سمت گیا۔ اس کے فوراً بعد ہی دُوسرا انجن اندر داخل ہوا۔ ان کے سائرن خاموش ہو گئے لیکن دُور سے سائرن کی آتی ہوئی آواز سے ظاہر تھا کہ ابھی اور انجن بھی آ رہے ہیں۔ کسی نے چلّا کر کہا۔ ’’سوئمنگ پول سے پانی بھر لو… سوئمنگ پول سے۔‘‘
بہت سے فائرمین پائپ لیے دوڑ رہے تھے۔ شور اور زیادہ ہوگیا تھا۔ پمپ کے اسٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی۔ ربر کے کوٹ پہنے ہوئے فائرمین ہر سمت دوڑ رہے تھے، حبیب نے ٹہوکا دیا۔ ’’اب اپنی کارروائی شروع کرو۔‘‘
دونوں بڑے زینے سے چڑھتے ہوئے اُوپر پہنچے۔ پہلی منزل پر دو سمتوں میں کوریڈور پھیلا ہوا تھا۔ ایک آدمی ان کے سامنے کھڑا تھا اور انہوں نے اسے فوراً پہچان لیا کہ وہ گارڈ ہے، انہیں دیکھتے ہی اس نے جلدی سے کہا۔ ’’اُوپر داخلہ ممنوع ہے۔‘‘ اور پھر اس نے حبیب کو پہچان لیا۔ اس کا ہاتھ پھرتی کے ساتھ کمر سے بندھے ہوئے پستول پر گیا لیکن حبیب نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے دھویں کے بم سے اس کے جبڑے پر بڑی برق رفتاری کے ساتھ ضرب لگائی۔ گارڈ کے گرنے سے پہلے اس نے اسے ہاتھوں پر سنبھال کر کہا۔ ’’جلدی کسی کمرے کا دروازہ کھولو۔‘‘
وسیم نے قریبی دروازے کا ہینڈل گھمایا، دروازہ کھل گیا۔ گارڈ کو یہ لوگ گھسیٹ کر اندر لے گئے اور اسے الماری کے اندر ڈال کر پھر باہر آئے۔ انہوں نے باہمی مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ کوریڈور کے ایک سمت میں وسیم جائے اور دُوسری طرف حبیب۔
چنانچہ وسیم نے ہدایت کے مطابق عمل کرتے ہوئے دھویں کے بموں کے پن نکال کر کمروں میں پھینکنا شروع کر دیئے۔ دو بم اس نے ہال میں بھی اُچھال دیئے۔ اس کے بعد وہ دونوں پھر اُس چھوٹے کمرے میں آ گئے جہاں مشروبات کا دور چل رہا تھا۔
’’آئو… یہاں رُکنا بے کار ہے۔ ہمیں چل کر دُوسرے ایکٹ کی تیاری کرنا چاہیے۔‘‘
وہ کوریڈور سے گزرتے ہوئے باہر نکلے۔ گیراج اب ہر سمت سے شعلوں میں گھر چکا تھا۔ پرانی لکڑی کوئلہ بن چکی تھی اور فائرمین مایوس نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے بنچ کے نیچے سے اپنے تھیلے نکالے اور ابھی اپنی وردیاں پہننا شروع ہی کی تھیں کہ اندر سے کسی عورت کی چیخ فضا میں گونجی۔ ’’آگ… آگ۔‘‘
پھر کسی مرد کی آواز سنائی دی۔ ’’پہلی منزل پر بھی آگ لگ گئی ہے، سب لوگ باہر نکل جائیں۔‘‘
کئی فائرمین بھاگتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوئے، بیشتر کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں تھیں۔ وسیم اور حبیب فائرمین کی وردیاں پہن چکے تھے، اس لیے وہ بھاگتے ہوئے اندر پہنچ گئے۔ ان کے پیروں میں پڑے بھاری بوٹ پیروں کو بوجھل بنا رہے تھے۔ ان کے پھینکے ہوئے دھویں کے بم کام دکھا رہے تھے۔ پہلی منزل پر ہر سمت گاڑھا دُھواں پھیلا ہوا تھا۔
اُوپر پہنچتے ہی آنکھوں میں مرچیں لگنے لگیں اور کھانسی آگئی۔ وسیم سے کچھ فاصلے پر وہ گھٹے بدن والا پستہ شخص تھا جسے وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر ہدایات دے رہا تھا۔
حبیب نے وسیم کے قریب آ کر کہا۔ ’’اس کے پیچھے چلو اور اپنا پستول تیار رکھنا۔‘‘
وسیم نے پستول ہاتھ میں لے لیا اور اسے اپنے فائر پروف لباس کے نیچے چھپا لیا۔ کھانستے اور آنسو بہاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ واکر ان سے آگے آگے چل رہا تھا۔ وہ ایک دروازے کے سامنے رُکا۔ جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ اس نے جیسے ہی اندر جانے کے لیے قدم اُٹھایا، وسیم اور حبیب نے مل کر ایک ساتھ اس پر حملہ کر دیا۔ واکر لڑکھڑا کر کمرے کے اندر گیا۔ یہ حملہ اتنا اچانک تھا کہ وہ بوکھلا گیا تھا مگر پھر بھی وسیم نے اس کا ہاتھ پستول کی سمت بڑھتے دیکھا۔ کمرے میں دُھواں نہیں تھا، اس لیے وسیم نے کن اَنکھیوں سے یاسمین کو دیکھا جو دریچے کے سلاخوں سے باہر جھانک رہی تھی۔
وسیم نے پستول کے دستے سے واکر کی کنپٹی پر ایک بھرپور ضرب لگائی، لیکن اس نے بلا کی پھرتی کے ساتھ ایسا زوردار گھونسہ اس کے سینے پر رسید کیا کہ وہ لڑکھڑاتا ہوا دُور چلا گیا اور اتنی
میں اس نے پستول نکال لیا تھا جس کی نال کا رُخ وسیم کے سینے کی طرف تھا۔ سینے پر پڑنے والی ضرب سے وسیم کا دماغ چکرا رہا تھا اور ایک لمحہ کے لیے وہ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ اسی وقت اس کے کانوں میں یاسمین کی دہشت ناک چیخ گونج اُٹھی۔ یاسمین کی چیخ پر وہ بری طرح ٹھٹھکا۔ ٹھیک اسی وقت واکر حلق کے بل چلاّیا۔ ’’ڈزنی! شکار لے کر بھاگو جائو۔‘‘
اسی وقت گولی چلی۔ واکر چیخ کر گرا اور ڈھیر ہوگیا۔ وسیم نے آہستہ سے سر گھما کر دیکھا۔ حبیب کے ہاتھ میں ریوالور اب تک تنا ہوا تھا۔ اس کی نال سے دُھواں اُٹھ رہا تھا۔
’’حبیب! واکر کا ایک ساتھی زندہ ہے۔ وہ یاسمین کو یہاں سے نکال کر لے جانا چاہتا ہے۔ جلدی کرو۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے آجائو۔‘‘ حبیب نے کہا اور ایک طرف دوڑا۔ وسیم اس کے پیچھے تھا۔ اسی وقت یاسمین کی دُوسری چیخ اُبھری۔ وسیم پریشان ہوگیا۔
حبیب دوڑتا ہوا ایک مختصر سا زینہ طے کرتا ہوا اُوپر پہنچا۔ وسیم پستول لیے اس کے پیچھے تھا۔ اچانک وہ ٹھٹھکا۔ ایک ٹھگنے قد کا شخص یاسمین کو کاندھوں پر ڈالے بھاگنے کی کوشش میں تھا کہ حبیب نے اس کی ٹانگ پر گولی ماری، وہ گرا، یاسمین بھی گری مگر وسیم نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا۔ حبیب اتنے میں ڈزنی کو گولی مار کر ڈھیر کر چکا تھا۔
اسی وقت یاسمین بھاگتی ہوئی آئی اور بولی۔ ’’خدا نے بڑی خیر کی، اوہ… وسیم! میں بیان نہیں کر سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں کیونکہ تم نے یہ سب میرے لیے کیا ہے۔ تم مجھے بچانے آئے، لیکن یہاں سے اب جلدی نکل چلو، عمارت میں آگ لگ گئی ہے۔‘‘
حبیب نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولا۔ ’’آگ نہیں لگی ہے یاسمین، صرف دُھواں نکل رہا ہے، لیکن یہ تم نے ٹھیک کہا کہ ہمیں جلد نکل جانا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ انہیں حقیقت معلوم ہو جائے، لو یہ پہن لو۔‘‘ اس نے فائرمینوں والا لباس جلدی سے اسے پہنایا، اس کے جوتوں کے اُوپر بھاری بوٹ پہنا دیئے اور سر پر پلاسٹک کی ہیلمٹ چڑھا دی۔
’’دُھویں سے تمہارا دَم گھٹ گیا ہے۔ میں اور وسیم تمہیں بے ہوشی کی حالت میں اُٹھا کر لے جا رہے ہیں۔‘‘ اس نے سمجھایا اور وہ چابی اُٹھائی جو واکر کے ہاتھ سے فرش پر گر گئی تھی۔ باہر نکل کر دروازہ مقفل کیا اور پھر دونوں یاسمین کو اُٹھا کر اس طرح زینے کی طرف بڑھے جیسے فائرمین کسی زخمی کو اُٹھا کر لے جا رہے ہوں۔ فائرمین ہر طرف دوڑتے پھر رہے تھے، لیکن انہیں پتا نہیں چل رہا تھا کہ آگ کدھر لگی ہے، وہ زینے پر پہنچے تھے کہ ان میں ایک لپک کر قریب آیا۔ حبیب نے اسے پہچان لیا۔ ’’تم وہی ہونا جو ہمیں یہاں لائے تھے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
حبیب نے جیب سے چابی نکال کر اسے دی۔ اس کے بعد یاسمین کو اُٹھائے تیزی کے ساتھ زینے سے نیچے اُترے۔
واکر کے آدمی ہر جگہ موجود تھے۔ لیکن افراتفری میں اُنہوں نے ان کی طرف توجہ نہ کی۔ باہر کھڑی ایمبولینس کے آدمیوں نے جلدی سے یاسمین کو اندر رکھے ہوئے اسٹریچر پر لٹا دیا۔ وہ دونوں بھی اُچھل کر اندر بیٹھ گئے۔ ایمبولینس چل پڑی۔ سائرن کی تیز آواز میں وہ پوری رفتار کے ساتھ شہر کی سمت جا رہے تھے۔ اچانک اندر بیٹھے ہوئے جمیل عمر نے بازو پھیلائے اور یاسمین اس کے قریب آ کر بولی۔ ’’خدایا! میں نے آپ کو پہچانا ہی نہیں تھا۔‘‘
وسیم نے جمیل کی طرف حیرت سے دیکھا۔ وہ اٹنڈنٹ کے لباس میں تھے۔
حبیب کے دفتر پہنچ کر انہوں نے ایمبولینس چھوڑ دی، اپنے حلیے تبدیل کیے اور جمیل کی کار میں گھر روانہ ہوگئے۔ وسیم نے ان کو اتنا خوش پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اپنے فلیٹ میں پہنچ کر پہلے انہوں نے ان کی مہم کی تفصیل سنی۔ ان کا خیال دُرست تھا، یاسمین کو واکر نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی تھی۔
’’تم لوگوں نے واقعی کارنامہ انجام دیا ہے۔ دُشمن سر پیٹتا رہ جائے گا۔‘‘ انہوں نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔ ’’بس ایک گڑبڑ ہوگئی، واکر کی لاش ملنے پر ہنگامہ ہوگا۔‘‘
’’نہیں جناب!‘‘ حبیب نے کہا۔ ’’میں بتانا بھول گیا تھا کہ انہیں واکر کی لاش نہیں ملے گی۔ صالح کے آدمی فائرمینوں کے بھیس میں وہاں موجود تھے۔ میں انہیں تاکید کر آیا تھا، وہ لاش لے گئے ہوں گے۔‘‘
یہ سن کر جمیل عمر نے قہقہہ لگایا۔ ’’اب میں بالکل مطمئن ہوں، اچھا تم دونوں آرام کرو اور خبردار فلیٹ چھوڑ کر نہ جانا، میں صورت حال معلوم کرتا ہوں۔ آئو حبیب۔‘‘
انہوں نے
ان کے حکم کی تعمیل کی، دُوسرے روز تمام دن وہ گھر نہیں آئے۔ سہ پہر کو انہوں نے فون پر ان سے بات کی اور پھر ڈنر پر وہ ان کے ساتھ، کھانے کے دوران اب تک کی ساری تفصیل بتاتے رہے۔ اس کے بعد جمیل عمر نے وسیم کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’تم اب اپنا اَصل رُوپ اختیار کر سکتے ہو۔ لیکن سرِدست اپنے فلیٹ پر نہیں جائو گے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ تمہارے قیام کا کہاں بندوبست کروں۔‘‘
’’فکر کی ضرورت نہیں، میں اپنے دوست اور پارٹنر افتخار کے گھر پر چند روز گزار سکتا ہوں۔‘‘
’’ہاں! یہ ٹھیک ہے، لیکن ان دونوں کے علاوہ کسی کو خبر نہ ہو کہ تم وہاں مقیم ہو، یہ بہت ضروری ہے۔‘‘
’’آپ اطمینان رکھیں۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔ وہ دونوں میری اب تک کی سرگزشت ضرور پوچھیں گے۔‘‘
’’اگر وہ راز میں رکھ سکیں تو بتا سکتے ہو۔ ایک دو دن کی بات ہے۔ ڈاکٹر نصیر شاہ تنہائی سے گھبرا گئے تھے۔ ان کی طبیعت بھی خراب ہے۔ وہ آج یہاں پہنچ رہے ہیں، اس لیے تم اب وسیم بن سکتے ہو۔‘‘
’’اوہ… لیکن جب وہ منظرعام پر آہی رہے ہیں تو پھر رازداری کی پابندی کیوں؟‘‘
جمیل عمر نے گھڑی دیکھی، پھر بولے۔ ’’کچھ دیر بعد ڈاکٹر نصیر شاہ کا طیارہ پہنچنے والا ہے۔ ہم نے انہیں خفیہ جگہ رکھا تھا۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ تورک اور واکر صرف آلۂ کار کی حیثیت رکھتے تھے۔ اصل سرغنہ کوئی اور ہے، وہ اب تک سات پردوں میں چھپا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اب تک اس کا پتا نہیں لگا سکے۔ ہمیں پروفیسر ارشد زیبی کے قاتل کی تلاش ہے اور یہ کام تورک یا واکر کا نہیں تھا۔‘‘
’’لیکن اس واردات سے میرا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟‘‘ وسیم نے سوالیہ نظروں سے جمیل عمر کی طرف دیکھا تھا۔
’’تم نہیں جانتے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’بہت سی باتیں تم نہیں جانتے اور میں بتا بھی نہیں سکتا، اس لیے جو کہتا ہوں اس پر عمل کرو۔‘‘
’’اوہ… اس صورت میں اگر آپ چاہیں تو میں ڈاکٹر نصیر شاہ ہی بنا رہتا ہوں۔‘‘
’’نہیں، اب میں یہ نہیں چاہتا، بس تم سے جو کہا ہے اس پر عمل کرو۔‘‘
افتخار اور عالیہ نے اس کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ ان کو اپنی داستان سناتے ہوئے کافی رات گزر گئی۔ وسیم نے سگریٹ جلانے کے لیے لائٹر نکالا، اس کی گیس ختم ہوگئی تھی۔ عالیہ نے اسے ماچس لا کر دی اور کہا۔ ’’لائو، یہ لائٹر مجھے دے دو، میں اس میں گیس ڈال کر صبح تم کو دے دوں گی۔ اب تم سو جائو، تم بہت تھکے ہوئے ہو۔‘‘
٭…٭…٭
افتخار کی محبت کرنے کی صلاحیت اور سب کو خوش رکھنے کی آرزو نے اسے خوش مزاج اور نرم دل بنا دیا تھا۔ وسیم کی واپسی پر وہ اس طرح خوش تھا جیسے بچے ٹارزن کی واپسی پر خوش ہوتے ہیں۔
وہ عالیہ کی محبت، شفقت اور نازبرداریوں کا بوجھ اُٹھانے کا عادی ہو چکا تھا۔ وہ سب میز پر بیٹھے ہوئے تھے اور عالیہ سامنے کچن میں آملیٹ تیار کرتے ہوئے باتیں کرتی جارہی تھی۔ جمیل عمر نے بعد میں فون کر کے بتایا کہ یاسمین شام کا کھانا ان کے ساتھ کھائے گی۔ عالیہ، وسیم کا چہرہ دیکھتے ہوئے مسکرائی تو وہ شرما گیا۔
یاسمین آئی تو افتخار اور عالیہ کو دیکھ کر اس کے رُخساروں پر حیا کی شفق پھوٹ پڑی۔ کھانے کے دوران ایک بار پھر ان کی داستان، یاسمین کی زبانی سنی گئی۔ قہقہوں اور گہری سانسوں کے درمیان ڈنر ختم ہوا۔ جمیل کے ڈرائیور نے سختی کے ساتھ تاکید کی تھی کہ وہ باہر نہ نکلے۔ وہ یاسمین کو خود لینے آئے گا۔ اس لیے وہ لائونج میں بیٹھے اطمینان سے باتیں کرتے رہے۔ عالیہ کافی بنا کر انہیں دیتی رہی۔ افتخار کو ضروری کام تھا، اس لیے وہ معذرت کر کے چلا گیا۔
اچانک اطلاعی گھنٹی بجی۔ عالیہ نے چونک کر وسیم کی طرف دیکھا۔ ’’کون ہو سکتا ہے؟‘‘
’’میں کچن میں چلا جاتا ہوں، آپ دیکھ لیں۔‘‘ وسیم نے جلدی سے اُٹھتے ہوئے کہا۔
وسیم کچن میں جا کر ریفریجریٹر کی آڑ میں کھڑا ہو گیا۔ عالیہ نے دروازہ کھولا۔ ’’آپ شاید مسز افتخار ہیں؟ میں ڈاکٹر نصیر شاہ ہوں، جمیل عمر نے کہا تھا کہ وسیم یہیں ملیں گے۔‘‘
وسیم اپنی جگہ سے نکل کر کمرے میں آگیا اور مسکراتا ہوا آگے بڑھا۔ اُس نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’ڈاکٹر کیسے مزاج ہیں؟‘‘
’’قید تنہائی سے گھبرا گیا تھا۔‘‘ اُنہوں نے بیٹھتے ہوئے جواب دیا اور آگے بولے۔ ’’اور پھر چند ضروری کاغذات لینا تھے اس لیے واپس آ گیا لیکن تم سنائو، میرا رُوپ دھار
کر کیا گزری؟ سنا ہے بہت سنسنی خیز واقعات پیش آئے۔‘‘
’’ہاں، سنسنی خیز کہہ لیجئے۔‘‘ وسیم نے جمیل عمر کی وارننگ یاد کرتے ہوئے کچھ بتانے سے گریز کیا۔
’’کیا مجھے تفصیل نہیں بتائو گے؟ مجھ سے راز میں رکھنے کی ضرورت نہیں تمہیں۔‘‘ وہ مسکرائے۔
’’مجھے افسوس ہے ڈاکٹر صاحب! میں زبان بندی کے حکم کا پابند ہوں۔‘‘
’’اوہ… تم واقعی اُصول کے پابند ہو، اچھی بات ہے۔‘‘ اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور جیب سے سگریٹ نکال کر جیبیں ٹٹولنے لگا تو وسیم نے عالیہ کی دی ہوئی ماچس اُٹھا کر ان کی طرف پھینکی۔
’’کیوں؟ پروفیسر ارشد زیبی کا لائٹر گم کر دیا؟‘‘
چند لمحے خاموشی رہی، پھر وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ پھر ڈاکٹر چونک کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ بولا۔ ’’اچھا اب مجھے اجازت دو۔ اور … ہاں میرا لائٹر واپس کر دو تو مناسب ہوگا۔‘‘
اس کی بات سن کر وسیم کو حیرت ہوئی اور ساتھ ہی وہ متعجب بھی ہوا کہ ڈاکٹر نصیر شاہ یہ بھول گئے کہ لائٹر انہوں نے تحفے میں وسیم کو دے دیا تھا۔
’’پلیز! مجھے جلدی ہے۔‘‘ ڈاکٹر نصیر شاہ نے پھر کہا۔ ’’جلدی یاد کریں، میرے پاس وقت نہیں ہے۔‘‘
’’اوہ، دراصل مجھے یاد نہیں آ رہا ہے کہ لائٹر کہاں رکھ دیا ہے۔‘‘ عالیہ نے کہا۔ ’’رات کو یہاں سے لے گئی تھی، گیس بھروانی تھی، پھر یاد نہیں آ رہا ہے کہ کہاں رکھ دیا۔‘‘ وسیم نے دیکھا کہ عالیہ کی بات پر ڈاکٹر نصیر شاہ کا چہرہ سخت ہو رہا تھا۔
عالیہ چند لمحے سوچتی رہی۔ پھر یک دم جیسے اُسے یاد آیا، بولی۔ ’’ہاں! آ گیا یاد… میں نے پرس میں رکھا تھا لیکن پھر دفتر گئی تو میز کی دراز میں رکھ کر بھول آئی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ڈاکٹر! میں کل آپ کو پہنچا دوں گا۔‘‘ وسیم نے ڈاکٹر کے چہرے کے تاثرات بھانپتے ہوئے قدرے ناگواری سے کہا۔ اسے ڈاکٹر کا لہجہ اچھا نہیں لگا تھا۔
’’تم خاموش رہو۔‘‘ ڈاکٹر نے بڑے غیرمہذبانہ انداز میں وسیم کو ٹوکا اور تب ہی اس کی نظر ڈاکٹر کے ہاتھ پر پڑی۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اُس نے پستول نکال لیا تھا۔ ادھر پستول دیکھ کر یاسمین کی آنکھوں میں خوف اُتر آیا۔ وہ چلّا کر وسیم سے بولی۔ ’’وسیم! یہی وہ غدّار ہے جس کی جمیل عمر کو تلاش تھی۔‘‘
’’یاسمین ٹھیک کہتی ہے ڈاکٹر! تمہیں شرم آنی چاہیے۔ مسلمان ہو کر اسلام دُشمنوں کی جاسوسی کرتے ہو؟‘‘
ڈاکٹر نصیر شاہ نے زوردار قہقہہ لگایا۔ ’’مسلمان…؟‘‘ اس نے شدید نفرت کے ساتھ کہا۔ ’’ہاں! دُنیا یہی سمجھتی ہے کیونکہ میرا باپ اتفاق سے مسلمان تھا، میری ماں جو یہودن تھی، اس سے دانستہ شادی کی تھی۔ کسی طرح میرے باپ کو یہ حقیقت معلوم ہوگئی۔ پھر ساری عمر وہ مسلمانوں کی نفرت کا شکار رہی۔ میرے باپ نے بھی اس پرکبھی اعتماد نہیں کیا اور اس نے مرتے وقت مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں اس رویّے کا انتقام لوں۔‘‘
’’ڈاکٹر! تمہاری طبیعت ٹھیک معلوم نہیں ہوتی۔ آرام سے بیٹھ جائو اور عقل سے کام لو۔‘‘ وسیم نے دیوارگیر کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جمیل کا ڈرائیور گیارہ بجے یاسمین کو لینے آئے گا۔ میرے پاس بہت وقت ہے، تب تک میں تم سب سے نمٹ لوں گا۔‘‘ ڈاکٹر کے لہجے میں بڑا اعتماد تھا۔
’’تم جھوٹ بولتے ہو ڈاکٹر۔ جمیل نے تمہیں ہرگز یہ نہیں بتایا ہوگا کہ وسیم اور میں یہاں ہیں اور ڈرائیور کب آئے گا۔‘‘
’’چلو یہی سہی، میں نے اپنے ذرائع سے معلوم کر لیا، لیکن میں تمہاری بکواس سننے نہیں آیا تھا۔ عالیہ میرے ساتھ چل کر لائٹر تلاش کرے گی لیکن میں تم دونوں کو یہاں زندہ چھوڑ کر نہیں جا سکتا کہ تم جمیل عمر سے رابطہ کر سکو اور پھر وسیم سے تو مجھے تورک اور واکر کا بھی انتقام لینا ہے۔ میں تم دونوں کو انہی کے پاس بھیج دیتا ہوں۔‘‘ اس نے پستول کا رُخ وسیم کی طرف کرتے ہوئے سفاکی سے کہا۔
’’تم پاگل ہوگئے ہو ڈاکٹر! تم اس کے باوجود نہیں بچ سکو گے۔‘‘ وسیم نے کہا۔ لیکن خوف سے اس کا جسم پسینے سے تر ہوچکا تھا۔
’’پاگل میں نہیں ہوں، تم ہو… کون ڈاکٹر نصیر شاہ پر شبہ کر سکتا ہے؟ جمیل عمر تو کبھی نہیں، کیونکہ وہ مجھ پر اندھا اعتماد کرتا ہے۔‘‘ اس نے دیوانوں کی طرح قہقہہ لگایا۔ اس نے پھر پستول کی نال بلند کی۔
’’تم سب دیوانے ہوگئے ہو۔ مجھے یاد آیا کہ لائٹر تو میں واپس لے آئی تھی۔ وہ سامنے والی چھوٹی میز کی دراز میں رکھا ہے۔‘‘ عالیہ نے صوفے کے

رکھی چھوٹی میز کی سمت اشارہ کیا۔ ’’ٹھہرو، میں تمہیں ابھی نکال کر دیتی ہوں۔‘‘
سب دم بہ خود رہ گئے۔ عالیہ نے میز کی دراز کھولی۔ لائٹر واقعی اس میں موجود تھا۔
’’جلدی کرو، یہ لائٹر مجھے دے دو۔‘‘ ڈاکٹر نصیر شاہ نے بے تابی کے ساتھ کہا۔ عالیہ نے لائٹر اُسے دے دیا۔
’’اب تم تینوں سامنے صوفے پر بیٹھ جائو اور اپنے ہاتھ سر کے پیچھے کر لو اور ہاں خبردار! کوئی غلط حرکت مت کرنا ورنہ بے دریغ گولی مار دوں گا۔‘‘ وہ غرّا کر دھمکی دیتے ہوئے بولا اور پھر چھوٹی میز اپنی سمت گھسیٹ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ پستول سامنے رکھ کر اس نے جیب سے چابیوں کا ایک گچھا نکالا جس میں چھوٹا سا چاقو لگا ہوا تھا۔ اس نے لائٹر کا کور الگ کیا۔ اس کے بعد اس کی نلکی کا اسکریو کھولا جس میں پتھر لگایا جاتا ہے۔ اسپرنگ نکل کر میز پر گرا۔
’’وہ یقیناً اسی میں ہوگی۔ پروفیسر ارشد زیبی نے یقینا فارمولے کی مائیکرو فلم اسی میں چھپائی ہوگی۔ اس کے علاوہ کہیں اور نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ جیسے اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ لائٹر اُوپر اُٹھا کر اس نے نلکی کے اندر جھانکا، اس کے چہرے پر اچانک مایوسی چھا گئی۔ ’’نہیں ہے، تعجب ہے، لیکن نہیں… وہ فلم اسی میں ہونی چاہیے، ٹھہرو۔‘‘ اس نے ماچس سے ایک تیلی نکال کر نلکی میں ڈالنا چاہی لیکن وہ بہت موٹی تھی۔ اس نے چاقو سے اسے تراش کر اندر ڈالا، ننھا سا چقماق پتھر نیچے گرا لیکن اندر کوئی مائیکرو فلم نہیں تھی۔ عالیہ نے ایک گہری سانس لی۔ ڈاکٹر نے سر اُٹھایا، اس کی آنکھوں میں شدید مایوسی جھلک رہی تھی۔ ’’میرا خیال غلط تھا۔ وہ بدمعاش فارمولا اپنے دماغ میں ہی لے کر مرگیا۔‘‘ ڈاکٹر نے غصے سے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں، اب تمہارا کام تمام کرنا باقی ہے۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے پستول کی سمت ہاتھ بڑھایا۔
’’خبردار، ڈاکٹر نصیر بالکل جنبش مت کرنا ورنہ تمہاری کھوپڑی میں سوراخ کردوں گا۔‘‘ اچانک کچن کے اندر سے آواز آئی۔
ڈاکٹر دم بہ خود رہ گیا۔ دُوسرے ہی لمحے حبیب اندر داخل ہوا۔ وسیم، یاسمین اور عالیہ تینوں حیرت زدہ نظروں سے اسے یوں گھورنے لگے جیسے وہ کسی دُوسرے سیّارے کی مخلوق ہو۔ یہ ناممکن تھا لیکن پھر بھی وہ ان کے سامنے کھڑا تھا اور اس کے خوفناک ریوالور کی لمبی نال سے ڈاکٹر نصیر کے سر کو زد میں لے رکھا تھا۔ حبیب نے آگے بڑھ کر ڈاکٹر کا پستول میز سے اُٹھایا اور وسیم کو دے کر کہا۔ ’’دروازہ کھولو وسیم! تمہارے دوست دروازے پر منتظر ہیں۔‘‘
وسیم نے اُٹھ کر دروازہ کھولا تو جمیل عمر مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔
’’جمیل عمر تم پر اندھا اعتماد کرتا تھا ڈاکٹر نصیر شاہ۔‘‘ انہوں نے نفرت خیز لہجے میں کہا۔ ’’بے شک یہ صحیح تھا، کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ تمہارے خون میں یہودی خون کی آمیزش ہے جس میں مسلمانوں سے نفرت کے جراثیم پل رہے ہوں گے۔ لے جائو اس کتّے کو۔‘‘
دو آدمیوں نے اندر داخل ہو کر نصیر کے بازو پکڑے۔ وہ بلا کسی مزاحمت کے اس طرح چل رہا تھا جیسے نیند کے عالم میں ہو۔ عالیہ نے اس کے جانے کے بعد بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
’’معذرت قبول کرو عالیہ! ہم یہ ڈرامائی انداز اختیار نہیں کرتے، لیکن اپنے شبہ کی تصدیق ضروری تھی۔‘‘ جمیل عمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’لل… لیکن انکل عمر! یہ حبیب…!‘‘
’’مجھے بھی معاف کر دیں، پائپ کے ذریعے بالکونی پر چڑھنا اور کچن کی کھڑکی کھولنا دُشوار ضرور تھا لیکن اس کام میں خاصی مہارت رکھتا ہوں۔‘‘
’’ایسا لگتا ہے کہ ہم کوئی جاسوسی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
’’ڈرامہ ختم ہو چکا، یہ اس کا ڈراپ سین تھا۔‘‘ جمیل عمر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔ وہ بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ ’’سُنا ہے عالیہ کافی بڑی عمدہ بناتی ہے؟‘‘
’’جی ابھی لیجئے۔‘‘ عالیہ نے جلدی سے اُٹھتے ہوئے کہا۔
کافی آ گئی تو یاسمین نے پوچھا۔ ’’انکل! آپ کو کیسے علم ہوا کہ ڈاکٹر نصیر یہاں پہنچ گیا ہے؟‘‘
’’تفصیل بڑی طویل ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ بہت دنوں سے میں اس کی نگرانی کر رہا تھا۔ پروفیسر زیبی کی موت کے بعد سے میرا شک پختہ ہوگیا تھا اور اچانک جب اس نے واپس لوٹنے پر اصرار کیا تو میرا شبہ یقین کی حد تک بدلنے لگا تھا کہ اصل سرغنہ یہی ہے۔ کیونکہ اسے یہ معلوم کرنے کی بے چینی تھی کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ دراصل میں نے اس کو ایسی جگہ رکھا تھا جہاں سے براہ راست
فون پر کسی سے باتیں نہیں کر سکتا تھا؟‘‘
’’لیکن اگر سرغنہ وہ خود تھا تو پھر اپنے ہی آدمیوں کے حملے کا نشانہ کیوں بنا؟‘‘
’’کمبخت یہ بلا کا چالاک ہے۔ اس کے کسی آدمی کو یہ علم نہ تھا کہ سرغنہ ڈاکٹر نصیر ہے۔ وہ کبھی ان کے سامنے نہیں آیا۔ ساری ہدایات فون کے ذریعے دیتا تھا۔ اس لیے وہ ڈاکٹر نصیر کو ہمارا آدمی تصور کرتے تھے۔ ڈاکٹر نصیر نے خود اپنے اغوا کا حکم دیا تھا، مقصد اس کا یہ تھا کہ ہمیں اس پر پختہ یقین اور اعتماد ہو جائے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ ہم شکل ہونے کی بنا پر وسیم اس کے حملہ آوروں کی زد میں آ گیا۔ اس نے حکم دیا تھا کہ ڈاکٹر نصیر شاہ کی بھرپور پٹائی کی جائے، لیکن خوش قسمتی سے وسیم بچ گیا۔‘‘ جمیل عمر نے کافی کا ایک گھونٹ لے کر مسکراتے ہوئے بتایا اور وسیم کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بولے۔ ’’یاسمین سے بھی تمہاری ملاقات محض اتفاقی ہوگئی تھی۔ یاسمین نے جب مجھے تمہاری اور نصیر شاہ کی مشابہت کے بارے میں بتایا تو ایک منصوبے نے میرے ذہن میں جنم لیا۔ انجام تمہارے سامنے ہے۔‘‘
’’لیکن… تورک کا کردار سمجھ میں نہیں آیا؟‘‘ وسیم نے کہا۔
’’وہ ایک پیشہ ور قاتل تھا۔ وہ نصیر شاہ کا آلۂ کار ضرور تھا لیکن جب اسے پروفیسر ارشد زیبی کے فارمولے کا سراغ ملا تو اس نے سوچا کہ وہ یہ فارمولا خود حاصل کرلے۔ اس لیے اپنے سرغنہ کو اطلاع دیئے بغیر تم دونوں کو لے کر اس ویران جزیرے میں جا پہنچا۔ ہماری خوش بختی ہے کہ اسے کامیابی نہیں ہوئی۔‘‘
’’کیا واکر کا سفارت خانہ بھی اس سازش میں شریک تھا؟‘‘
’’ہم اس الزام کو ثابت نہیں کر سکتے اور انہوں نے قطعی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واکر نے جو کچھ کیا، ذاتی حیثیت میں کیا۔ ہم بھی اس مسئلے کو سفارتی پیچیدگیوں کی وجہ سے اُٹھانا نہیں چاہتے، اب اس کی ضرورت بھی نہیں رہی، البتہ…‘‘ وہ سانس لینے کے لیے رُکے۔ چند لمحوں کے بعد انہوں نے دوبارہ کہا۔ ’’یہ بات ہم ثابت کر دیں گے کہ نصیر شاہ کا تعلق اسرائیل کی جاسوس تنظیم سے تھا۔ اس کا اصل نام میکس راتھ تھا اور اسی نے پروفیسر زیبی کو زہر دے کر قتل کیا تاکہ اس کے فارمولے پر قبضہ کر سکے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ زیبی کے ساتھ اس کا فارمولا بھی ختم ہوگیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ پھر عالیہ سے مخاطب ہوکر بولے۔ ’’عالیہ! تم لوگوں کو جو زحمت ہوئی، اس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔‘‘
’’ٹھہریئے جناب! ابھی ڈراپ سین باقی ہے۔‘‘ عالیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’میں ابھی آئی۔‘‘
سب حیران ہو کر ایک دُوسرے کا منہ تکنے لگے۔ عالیہ چند منٹوں بعد لوٹ آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لفافہ تھا۔ وہ جمیل عمر سے بولی۔ ’’ذرا ہاتھ اِدھر لایئے…‘‘
جمیل نے حیرت کے عالم میں ہاتھ پھیلائے تو عالیہ نے لفافہ اُلٹ دیا۔ ایک ننھی سے چمکتی ہوئی سیاہ چیز ان کی ہتھیلی پر گری۔ سب کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’مائیکرو فلم! میرے خدا…! یہ کہاں سے آئی؟‘‘ جمیل نے پوچھا۔
’’رات جب میں نے اس لائٹر کو گیس بھرنے کے لیے کھولا تو اچانک خیال آیا کہ پروفیسر زیبی نے آخر یہ لائٹر کیوں نصیر کو تحفے میں دیا۔ محض تجسس کی بنا پر میں نے وہ اسکریو کھولا جو نیچے لگا ہوا تھا۔ یہ فلم نیچے گر پڑی۔ میں نے فوراً سمجھ لیا کہ یہی پروفیسر ارشد زیبی کا فارمولا ہے لیکن وسیم کو یہ بتانا بھول گئی۔‘‘
’’خدا خوش رکھے تمہیں، تم نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔‘‘ جمیل خوشی سے بے قابو ہو کر بولے۔
’’میرے لیے کیا حکم ہے جناب؟‘‘ کچھ دیر بعد وسیم نے پوچھا۔
’’آج سے تم آزاد ہو۔‘‘ اُنہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’لیکن سر! میں آزاد رہنا نہیں چاہتا… مجھے مستقل غلامی میں لے لیجئے۔‘‘ وسیم بولا۔
کمرہ قہقہوں سے گونج اُٹھا۔ یاسمین کا چہرہ شرم سے سرخ ہو رہا تھا۔ (ختم شد)