Mr Shikari – Episode 1

405
مسٹر شکاری۔تحریر:سید علی حسن گیلانی۔ملتان
محبت کی پاکیزہ خوشبو میں گوندھی ہوئی ایک انمول اور یادگار ایڈونچر آپ بیتی
اس کائنات میںکئی رنگ بکھرے ہوئے ہیں اور دنیا میں رنگ رنگ کے لوگ رہتے ہیں اور ہر انسان کی سوچ مختلف ہے اسی طرح کائنات میں ہر رنگ کے نظارے مختلف ہیں اور قدرت نے اس کائنات میں ہر طرح کے مقامات بنائے ہیں جن میں بعض مقامات تو بے حد گرم ہیں جہاں شدید اور آگ برساتی گرمی سے سانس لینا دو بھر ہوجائے اور بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ہر طرف برف ہی برف اور شدید ترین ٹھنڈے علاقے ہیں جہاں سردی سے اعضاء ہی سکڑ جائیں لیکن قدرت کے کرشمے دیکھو کہ انسان اشرف المخلوقات ہر جگہ بسیراڈالے ہوئے ہیں۔
دراصل انسان کو جہاں جگہ ملتی ہے وہاں انسان پرائو ڈال دیتا ہے اور اس کائنات میں قدرت نے ایسے رنگ بکھیڑے ہیں کہ بعض مقامات سے گزرنے کے بعد وہاں جانے سے بھی دل ہولتا ہے اور بعض ایسے بھی مقامات ہیں جہاں انسا ن بار بار جانے کو پسند کرتے ہیں اور ایسے علاقے جنت نظیر کہلا تے ہیں۔
میرانام شہباز جان ہے اور میرا تعلق ہندوستا ن کے معروف شہر حیدر آباد دکن سے ہے۔میں ایک مشہور شکاری اور معروف سیاح ہوں۔ میری عمر ستائیس سال ہے اور ابھی تک میں نے شادی نہیں کی البتہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ دس بارہ زبانوں پر مجھے عبور حاصل ہے کیونکہ اپنے شکار ی سفر اور مہماتی سفر میں میر اوا سطہ مختلف ملکوں کے شکاریوں اور سیاحوں سے ہواتھا جن سے میں نے ان کے ملک کی زبا ن سیکھ لی تھی ۔
قدرت نے مجھے بہت ہی پرکشش اور سحر انگیز اور پروقار شخصیت سے نوازاتھا۔ میرا لمبا قد کھلتا ہواسر خ وسفید رنگ چورا چکلہ سینہ طاقت ور اور کسرتی جسم جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں بے شمار لڑکیاں مجھ سے دوستی کرنے کی کو شش کرتی تھیں جن میں امیر ترین گھرانوں کی لڑکیاں بھی شامل تھیں اور بہت حسین لڑکیاں جو کسی کولفٹ تک نہیں کراتی تھیں مگر مجھ سے دوستی کرنے کی متلاشی رہتی تھیں لیکن عورت ذات کے معاملے میں ،میں کورا ہی تھا اور لڑکیوں سے دوستی کرنے سے کتراتا ہی تھا ۔
مجھے اپنی ہندو ستانی زبان کے علاوہ عربی،انگلش،جاپانی،چائنی،برمن، ،فارسی، فرنچن، افر یقہ کے چند ملکوں کی زبان اور براز یلین زبان پر مکمل عبور حاصل ہوچکاتھا کیونکہ مجھے اٹھارہ سا ل کی عمرسے ہی شکار کا شدید شوق پیدا ہوچکا تھا اور چونکہ میں بہت امیر ترین گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس لیے میر ے والد ین نے مجھے کبھی اپنے شوق سے نہیں روکا تھا ۔
ہم پانچ بہن بھائی ہیں جن میں مجھ سے دو بڑے بھائی اور بڑی بہنیں ہیں اور میں سب سے چھوٹا ہوں ۔سترہ سال کی عمر سے مجھے شکار اور دنیا کے مختلف حصوں کی سیاحت کے شوق کا جنون سوار ہوگیاتھا اور اب ان دس گیارہ سالوں میں ،میں نے دنیاکے تقریباًَہر اہم جگہوں جنگلوں اور پہاڑو ں کی سیر وسیا حت کر لی تھی جن میں تاریک براعظم افریقہ کے جنگلات ،بنگلہ دیش کے سندر بن کے جنگلات ،برازیل کے ایمزن کے جنگلات اور روس کے یخ بستہ ٹھنڈ ے علاقے سائبریا کے برفانی علاقو ں اور برف سے ڈھکے برفانی درندوں سے پر خطرناک اور گھنے جنگلوں کا بھی سفر کیا ہے۔
اس سفر میں میرے پانچ خاص ساتھی بھی میرے ساتھ ہی شریک سفر رہتے تھے جن میں ملک شام کاعزیزجس کا پورا نام عزیز الباسط ہے،جنوبی افریقہ کا رچرڈ،برازیل کا باشندہ جیکب ،برطانیہ کا سمتھ اور مصر کا صالح شامل ہیں جن کی سیا حت کے دوران مجھ سے دوستی ہوئی تھی اور میں نے ہی یہ گروپ ترتیب دیاتھااور سب کو ایک ساتھ ملایاتھا کیونکہ یہ میرے پانچو ںساتھیوں کا علیحدہ علیحدہ گروپ تھا جو اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شکار اور سیاحت پر نکلتے تھے لیکن ہم چھ افراد کا گرو پ بننے کے بعد ہم سب میں گہری دوستی ہوگئی تھی ۔ مزے کی بات یہ کہ میرے پانچوں دوستو ں کی شادیا ں ابھی حال ہی میں ہوچکی تھیں اور صرف میں ہی کنوارہ تھا۔میر ے دوست اپنے اپنے ملکوں میں گرینڈ پارٹیاں کر تے رہتے تھے جن میں مجھے میرے دوستوں نے اپنی اپنی بیگما ت سے ملوا رکھاتھا اور سب ہی ماشااللہ نوجوان اور بہت خوبصو رت ہیں اور حیرت یہ کہ سب کو ہی شکار اور سیاحت کا بھر پور شوق تھا اور وہ سب بھی شکار اور سیاحت میں حصہ لے چکی تھیں اور خطرناک سفر بھی کر چکی تھیں۔ تمام پانچوں بھابیا ں کی طرف سے مجھے شادی کرنے کا زور دیا جارہاتھالیکن فی الحال ایسی کوئی لڑکی نہیں آئی تھی جو میرے عورت ذات سے دور بھاگنے والے دل کو بھاسکے۔
خیراس دفعہ ہم سب دوستوں نے پروگرام بنایا کہ اس بار براز یل کے دریائے ایمزون کے بالائی طاس کے طویل ترین گھنے اور خطرناک جنگلوں میں سیاحت کی جائے ۔پرو گرام کے مطابق ہم سب دوست جیکب کے ملک برازیل پہنچ گئے۔اس وقت ہم سب پانچوں دوست اور ان کی بیگمات جیکب کے گھر بیٹھے ہوئے تھے جہاں ہم سب کو ایک ساتھ دیکھ کر جیکب اور اس کی بیوی روزی ہم سب کی خاطر مدارت میں لگے ہوئے تھے۔ گو کہ ہم چھ دوستوں میں تین مسلمان ہیں اور تین کرسچن ہیں لیکن ہماری دوستی ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہری بن چکی تھی اور یہ سب شکار اور سیاحت کے شوق نے ہمیں دوست بنایاتھااور میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حیرت انگیز طور ہر میرے پانچوں دوستوں کی بیویاں بھی نوجوان اور بہت خوبصورت ہونے کے ساتھ مکمل طور پر شکار اور سیاحت کا شوق رکھتی تھیں اس لیے سب ہی اپنی بیگمات کے ساتھ یہاں برازیل جیکب کے گھرآئے تھے۔
’’یار شہباز! یہاں ہم کل گیارہ افراد ہیں جن میں چھ تو ہم ہیں اور بقیہ پانچ افراد ہم دوستوں کی بیگمات ہیں مگر تم ابھی تک کنوارے ہو اس لیے اب تم بھی شادی کر ہی لو۔‘‘سمتھ نے میری طرف دیکھتے ہوئے مجھے مشوردیا۔
’’ہاں شہبازبھائی اب آپ ہماری بھابی لے ہی آئیں۔‘‘سمتھ کی بیوی ماریا نے مسکراتے ہوئے کہا۔چونکہ میرے پانچوں دوستوں کی شادیا ں حال ہی میں ہوئی تھیں اس لیے ابھی بچوںوالا کوئی نہیں تھا۔
’’ لگتا ہے جس طرح آپ سب دوست اور بھابیاں مجھے فورس کر رہی ہیں اس مہم کے دوران میری شادی کرواکر ہی چھوڑیں گی۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب ہنس پڑے۔ہم سب دوست ایک دوسرے کے ملک کی زبان اچھی طرح جانتے تھے اس لیے یہ سب اردو بھی جانتے تھے اس لیے مجھے اردو میں ہی کہا اور ہم ایک دوسرے کی بیویوں کو بھابی کہہ کر ہی پکارتے تھے۔وہ ہمیں نام کے ساتھ بھائی کہتی تھیں اور یہ سب باتیں میں نے ہی ان کو سکھائی تھیں۔
دراصل امیر ہونے کے باوجود مشرقی شرم وحیا اور رسم ریت شروع سے ہی ہمارے خاندان میں تھی اور بے حد امیر ہونے کے باوجود میرے گھر والے اور بہن بھائی نماز قرآن کی پابندی کرتے تھے اور زکوٰۃ صدقات وغیرہ کھلے دل سے غریبوں مسکینوں کو دیتے رہتے تھے۔ میں کوئی پکا نمازی تو نہیں تھا لیکن کبھی کبھار بہت اہتمام اور محبت سے نماز، قرآنی آیات اور دیگر مقدس کلمات پرھتاتھااور یہ اللہ کا کرم تھا کہ اس نے مجھے ہر چیز سے نوازا ہواتھا۔
’’شہباز بھائی آپ کی جس طرح سحر انگیز اور پروقار شخصیت ہے ہماری ہونے والی بھابی بھی حسن اور نفا ست ونزاکت میں یکتا ہونی چاہیے۔‘‘میرے شامی دوست عزیز کی بیوی لیلیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ لیلیٰ ہم مانتی ہیں کہ شہباز بھائی کی پرسنیلٹی بہت ونڈر فل ہے مگر شہباز بھائی حسن اور نفاست کے چکروں میں ہی نہ رہ جائیں اس لیے بس ان کو کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کر لینی چاہیے۔‘‘میرے جنوبی افریقن دوست رچرڈ کی بیوی مارتھا نے مسکراتے ہوئے کہاتو سب اس کی بات سن کر پھر ہنس پڑے اور میں بھی مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
’’لیکن مارتھا پھر بھی ہمارے شہباز بھائی کے لیے کوئی بہت ہی حسین سی لڑکی ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے شہباز بھائی تو پرنس ہیں پرنس اور اگر کوئی عام سی لڑکی شہباز بھائی کی زندگی میں آئی تو حور زادے کے پہلو میں لنگورنی کی مثال بن جائے گی۔‘‘میرے برطانوی دوست سمتھ کی بیوی ماریا نے مسکراتے ہوئے کہاتو سب ایک دفعہ زور سے ہنس پڑے ۔
دراصل جس طرح میرے پانچوں دوستوں کی بیگمات بھی ہماری طرح تجربہ کار شکاری اور معروف سیاح تھیں اسی طرح سب ہی ہنس مکھ اور زندہ دل بھی تھیں اس لیے تو سب شغل میں لگے ہوئے تھے۔
’’لیکن اب شہباز بھائی کو شادی کر ہی لینی چاہیے ورنہ کسی جنگل کے مشن میں کوئی نیگرو حسینہ ہمارے شہباز بھائی پر عاشق ہوگئی تو ہمیں کالی بھابی ہی ملے گی۔‘‘اس بار میرے مصری دوست صالح کی بیوی شائستہ نے شرارت سے کہاتو سب پھر زور سے ہنس پڑے اور کھانے کے دوران یہ شغل جاری رہا۔
’’مجھے لگتا ہے جلدی ہی مجھے اپنی بیگم تلاش کرنی پڑے گی ورنہ میری بھابیاں خود ہی کسی نیگرو شکارن لڑکی کو میرے پلے باندھ دیں گی تاکہ ان کو ان کی من پسند بھابی مل سکے ۔‘‘میں نے بھی شرارت کے انداز میں کہاتو میرے سب دوست اور ان کی بیگمات اونچی آواز میں ہنس پڑے۔
اسی طرح ہنستے مسکراتے ہم سب نے برازیل کے دریائے ایمزون کے بالائی طاس کے مغربی جنگلو ں جو بہت ہی گھنے درندوں اور دیگر تمام خطرات سے پر خطرناک ترین جنگلوں میں سے ایک ہیں وہاں جاکر شکار اور سیاحت کا پروگرام بنایا۔
’’جیکب کیا تمام سامان ہمیں یہاں بازار سے مل جائے گا۔‘‘صالح نے جیکب سے پوچھا۔
’’ہاں یار تم اس وقت جنگل میں نہیں بلکہ مہذب دنیا اور برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں ہو اور یہاں دنیا کی ہر چیز مل جاتی ہے۔‘‘جیکب نے کہا۔ہم سب جیکب کے ہمراہ بازار گئے ۔یہاں میں آپ کو بتا تا چلوں کہ ہم نے بعض ایسے سفر اور مہمات بھی طے کیے تھے جس میں ہمیں خزانے بھی حاصل ہوئے تھے جسے ہم سب دوستوں نے مساوی تقسیم کیاتھا اور اس سے ہمارے پاس بے شمار دولت آچکی تھی اور میرے سب دوستوں کی طرح جیکب بھی بہت امیر تھا اور اس کی بیوی روزی بھی اچھے اور امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے جیکب کی کوٹھی میں اس کی تین بڑی اور شاندار طا قت ور شکاری جیپیں موجو د تھیں ۔
ہم کل گیارہ افراد تھے اور ایک جیپ میں چھ افراد آرام سے بیٹھ سکتے تھے اس لیے ہم بازار گئے اور جنگل میں شکار اور درندوں سے لڑنے اورجنگل میں دیگر مصائب سے نمٹنے والا تمام سامان خریدا اور اسے گھر آکر ترتیب دیا۔ اگلے دن صبح کو ہم سب دو جیپوں میں ہی ایمزون کے مغربی جنگلوں میں جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ایک گاڑی میں صالح اس کی بیوی شائستہ فرنٹ سیٹوں پر بیٹھ گئے اور صالح اسے ڈرائیو کرنے لگا اور پچھلی سیٹ پر رچڑڈاور اس کی بیوی مارتھا بیٹھے ہوئے تھے اور اس سے پچھلی سیٹ پر میں اکیلا ہی بیٹھا ہواتھا اور پچھلی گاڑی میں پر فرنٹ سیٹ پر جیکب اور اس کی بیوی روزی براجمان تھے اور سیکنڈ سیٹ پر عزیز اور اس کی بیوی لیلیٰ موجو د تھے اور ان سے پیچھے سمتھ اور اس کی بیوی ماریا بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم سب نے سامانوں کو جیپ کے اوپر ہی باندھاہواتھا البتہ ہم سب نے پسٹل اور کچھ کھانے کا سامان سا تھ ہی بیگوں میں رکھاہواتھا۔
’’لگتا ہے صالح تمہیں یہاں برازیل کے جنگلوں کا بھرپور تجربہ ہے جو تم جیکب و روزی کی گاڑی سے بھی آگے ہو جو اس ایڈونچر سفر میں ہمارے میزبان ہیں ۔‘‘رچرڈ نے کہا۔
’’ہاں رچرڈ میں پہلے بھی برازیل کے مغربی جنگلوں میں سفر کر چکا ہوں لیکن اس وقت میری آپ سب دوستوں سے دوستی نہیں ہوئی تھی اوردوستی کے بعد بھی میں کبھی اپنے گروپ کے ساتھ اور پھر دو بار ہم سب دوست بھی ایمزون کے مغربی جنگلوں میں جاچکے ہیں ۔‘‘
’’مگر اس وقت ہم صرف دریا ئے ایمزون کے ساتھ ساتھ جنگل میں کچھ حد تک ہی اند ر داخل ہوئے تھے لیکن اس بار ہم سب کا پروگرام جنگل میں کافی حد تک اندر جانے کا ہے اور ایمزون کے جنگلات کا رقبہ بے حد طویل ہے ۔‘‘اس بار مارتھا نے کہا۔
’’ ہاں مارتھا بھابی تم درست کہہ رہی ہو لیکن میں بھی دو مرتبہ شکار کے لیے ایمزون کے مغربی جنگلات کا رخ کر چکی ہوں اور واقعی وہاں جنگل اتنے طویل ہیں کہ اس میں بھٹک جانے کے بعد دن تو کیا کئی ماہ تک بھی بھٹک جانے میں لگ سکتے ہیں اور ایمزن کے جنگل سینکرو ں میل تک پھیلے ہوئے ہیں۔‘‘ شائستہ نے کہا۔
’’اور قدرت کے رنگ دیکھو کہ ان گھنے اور درندوں سے پر خطرناک جنگلات جہاں سانپوں کی کثرت بھی ہے ندی نالوں کی بہتات بھی ہے اور خطرناک دلدلیں بھی ہیں اور زہریلی خون چوس مکھیاں بھی ہیں اور خون چوسنے والے درختوں کا سلسلہ بھی ان ایمزون کے مغربی جنگلوں میں ہے لیکن پھر بھی ان طویل المیعاد جنگلوں میں انسان بھی موجود ہیں جو مہذب دنیا سے کٹے ہوئے ہیں اور قبیلوں کی صورت میں رہتے ہیں۔‘‘مارتھا نے کہا۔
’’لیکن مارتھا بھابی یہ سب وحشی ہی کہلاتے ہیں اور مہذب دنیا سے آنے والوں کے دشمن ہیں یا دشمن سمجھتے ہیں اور آدم خور بھی ہیں اور مہذب دنیا سے کٹے ہونے کی وجہ سے جنگلی اور وحشی ہی کہلاتے ہیں۔‘‘اس بار میں نے کہاتو سب نے اثبات میں سر ہلادیے کیونکہ یہ سب کامیاب اور تجربہ کار شکاری تھے اور یہ معلو مات رکھتے تھے۔ اس طرح ہمارا یہ جیب کا سفر جاری رہا اور رات کو ہم نے ایک چھوٹے شہر میںایک ہوٹل میں قیام کیا اور اگلے دن پھر جیپوں پراگے کی طرف روانہ ہوگئے۔ اسی طرح ہم مزید دو دن تک چھوٹے شہروں کے ہوٹلوں میں رات کو قیام کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوئے اور راستے میں بھی دونوں اطراف گو کہ گھنا جنگل تھا لیکن ہماری منزل یہاں سے دور مغربی اندونی جنگلات تھے جہاں ہم کافی اندر کی طرف پہلے کبھی نہیں گئے تھے۔ویسے بھی رقبے کے لحاظ سے برازیل کارقبہ ہندوستان سے بھی تین گنازائد ہے اور اس کے ایمزون کے جنگلات دنیا کا طویل ترین جنگل مانا جاتا ہے اور برازیل کے جنگلات کا ساٹھ فیصد رقبہ جنگلات پر ہی پھیلا ہوا ہے اور اس لحاظ سے اگر دو ہندوستان جتنا رقبہ ملا دو تو اتنا بڑاتو بس جنگل ہی جنگل ہے اس سے آپ خود براز یل کے طویل ترین اور گھنے جنگلات کی طوالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
’’شہباز بھائی ہم اتنے دور مغربی جنگلات میں جاتو رہے ہیں لیکن ہم بے شک سب ہی مایہ ناز شکاری اور سیاح ہیں لیکن اتنے طویل جنگلا ت میں بھٹک جانے کا اندیشہ ضرور ہوسکتا ہے۔‘‘مارتھا نے قدرے تشویش سے کہا۔
’’ ہاں مارتھابھابی آپ درست کہہ رہی ہیں ہم بے شک سب شکار اور سیاحت کا تجربہ تو رکھتے ہیں لیکن ایمزون جیسے دنیا کے طویل ترین اور گھنے اور انتہائی خطرناک جنگلوں میں بہت زیادہ احتیاط کرنی پڑے گی ورنہ واقعی مشکل میں پر ہی سکتے ہیں۔‘‘اس بار صالح جو محتاط انداز میں بدستور ڈرائیو نگ کر رہاتھا ،نے سر پیچھے کر کے مارتھاسے کہا۔
’’ہاں خطرات تو ہر جگہ ہی ہوتے ہیں اور بے شک سندر بن کے جنگلات ایمزون جنگلات سے بہت زیادہ چھوٹے ہیں لیکن دنیا کا ہر خطرہ اس جنگل میں بھی موجود ہے اور براعظم افریقہ کے کئی جنگلات تو اب بھی ایسے ہیں جہاں انسانی قدم ابھی تک نہیں پہنچے لیکن اگر شکاری تجربہ کار اور محتاط ہو تو پھر مشکلات خود ہی حل ہوجاتے ہیں۔‘‘شائستہ نے کہا۔
’’ہاں شائستہ بھابی اس لیے تو افریقہ کو تاریک براعظم کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے گوشے ابھی تک تاریکی اور پراسراریت میں بھی ڈوبے ہوئے ہیں لیکن بے شک اب بھی کئی گوشے افریقہ کے ایسے ضرور ہیں جہاں انسانی قدم نہیں پہنچے لیکن مہذب دنیا کے لوگوں کے قدم کیونکہ وہاں اجڈ اور وحشی قوم یعنی انسان ضرور پائے جاتے ہیں لیکن وہ سب دنیا سے کٹے ہوئے ایک مخصوص دائرے میں رہنے والے اجڈ قبائلی انسان ہی ہیں۔‘‘میں نے کہا۔
’’خیر شہباز وہ تو یہاں برازیل کے ایمزون کے طویل جنگلات میں بھی کئی ایسے اجڈ اور آدم خور اور وحشی قبائل بے شمار پائے جاتے ہیں کیونکہ ایمزون کے اتنے طویل ترین جنگلات میں بھی شکاری وسیاح اور سروے کرنے والی ٹیمیں نہیں پہنچیں۔‘‘رچرڈ نے اپنی معلومات دیتے ہوئے کہاتو ہم سب نے اثبات میں سر ہلادئیے۔
چار دن بعد ہم روڈ پال شہر میں پہنچے جہاں سے ہمارا اصل ایڈونچر سفر شروع ہونا تھا کیونکہ یہاں سے ایمزون کے مغربی اور سب سے گھنے اور خطرناک جنگلات کا آغاز ہوتا تھا جہاں طویل دریا کے ساتھ ندی نالوں جھیلوں کا وسیع سلسلہ بھی پھیلا ہوا تھااور ایمزون کے جنگلات کے بعض حصے ایسے تھے جہاں سانپوں کی کثرت اور بعض جگہ ہر وقت بارش بھی ہوتی رہتی تھی اور انہیں علاقوں میں چند جگہ گوشت کھانے اور خون چوسنے والے انتہائی خطرناک درختوں کا بھی سلسلہ بھی موجود تھالیکن ہم سب چونکہ مکمل تیاری کے ساتھ یہاں آئے ہوئے تھے اس لیے ہمیں کوئی زیادہ فکر نہیں تھی ویسے بھی ہم سب مرد وخوا تین مکمل طور پر تجربہ کار شکاری اور سیاح تھے۔
روڈ پال سے دریائے ایمزون کا وسیع دریائی سلسلہ اندر جنگل کے رخ بہہ رہاتھا جہاں اس کے دونوں اطراف انتہائی گھنے اور خطرناک وسیع جنگلات کا سلسلہ پھیلا ہواتھا۔یہاں سے ہم نے ایک ہوٹل میں اپنی جیپیں کھڑی کردیں۔ ہوٹل کا مالک جیکب کا اچھا دوست تھا اور اس نے ہمارے لیے ایک بڑی بحری بوٹ کا انتظام کر دیا جس میں ایک کیبن بھی تھا اور چھوٹا کمرہ اور بھی تھا جس میں سامان رکھا جاسکے اور اس بحری بوٹ میں ہم سب نے ڈیرہ ڈال دیا اور اگلے دن صبح کو ناشتہ کرنے کے بعد ہم سب بحری بوٹ میں بیٹھ کر دریا میں بوٹ کو آپڑیٹ کر دیاتو بوٹ آگے کی طرف روانہ ہوگئی گو کہ پانی کا رخ مخالف بہائو پر تھا لیکن اس بڑی بحری بوٹ کے طاقت ور انجن نے دریا کے مخالف بہائو کو بھی چیر کر رکھ دیا اور اپنا سفر آگے کی طرف شروع کر دیا۔ میں بہت دلچسپی سے دریا کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے وسیع جنگلات کے سلسلے کو دیکھنے لگا ۔اچانک آسمان کو گہرے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’اوہ لگتا ہے ایمزون میں شدید طوفان آنے والا ہے۔‘‘لیلیٰ نے شرارت سے کہاتو سب ہنس پڑے۔
’’لیلیٰ بھابی طوفان سمندروں میں آتے ہیں دریاوں میں بس طغیانی آتی ہے طوفان نہیں آتے۔‘‘ جیکب نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔
’’جی جیکب بھائی مجھے معلوم ہے میں تو بس مزاق ہی کر رہی تھی۔‘‘لیلیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں بھابی ہنستے ہوئے ایڈونچر کو انجوائے کیا جائے تو سفر کا مزہ دوبالاہ ہوجاتا ہے۔‘‘میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
ہمارا سفر تقریبا تین دن مزید ایمزون کے دریا میں رہا اور ہم یہاں بڑی بحری بوٹ میں سفر کرتے ہوئے بہت اندر تک داخل ہوچکے تھے اور اس سفر کے دوران ہم میں سے کچھ دن کو سوتے ہو ئے اور کچھ رات کو سوتے ہوئے اپنا سفر جاری ہی رکھاتھا اور چوتھے روزہم نے ایک جگہ دریا کے بڑے پاٹ کو دیکھاتو وہاں بوٹ کے انجن کو بند کر دیا اور کنارے پر اتر گئے اور اپنے ہاتھوں میں ہوشیاری سے لوڈ گنوں کو تھام لیا کیونکہ ہم اس وقت ایمزون کے انتہائی خطرناک ترین حصے پر قدم رکھ چکے تھے جہاں انتہائی گھنے جنگلات کے اندر خطرناک درندے چھپے ہوسکتے تھے اور اچانک ہم پر ہلہ بو ل کر ہمیں شکار یوں کو ہی اپنا شکار بناسکتے تھے۔
جیکب اور عزیز نیچے اترے اور دونوں کی بیویاں لیلیٰ اور روزی بھی نیچے اترے اور بوٹ سے بندھی بڑی رسی کو پکڑ لیااس دوران ہم دیگر بھی ہاتھوں میں گنیں لیے بوٹ سے اتر گئے اور سب نے اپنا اپنا سفری شکاری بیگ اپنے اپنے کندھوں سے لٹکا لیے اور ہم سب نے رسی کی مدد سے بوٹ کو دریا کے کنارے سے کھینچ کر گھنے درختوں کے نیچے لے آئے جس سے ایمزون میں سفر کرنے والے کسی اور گروپ کو ہماری بوٹ آسانی سے نظر نہیں آسکتی تھی ورنہ ہوسکتا ہے کہ کوئی چور شکاری گروپ ہماری کشتی پر ہی ہاتھ صاف کر جائے اور ہم اتنے خطرناک جنگل میں پھنس کر رہ جائیں۔
گو کہ اس میں بھی خطرہ ہی تھا کیونکہ اب ہم سب نے اپنے شوق کی تکمیل کے لیے جنگل کے اندر ہی جانا تھا اور راستہ بھٹک جانے کی صورت میں اپنے بوٹ کو نہیں پاسکتے تھے لیکن جیکب اور روزی نے انڈیکیٹر چیکر بوٹ میں خفیہ جگہ لگا دیاتھا اور گھنے جنگلات کی بھول بھلیوں میں ظاہری بات ہے راستہ بھٹک ہی جانا تھا لیکن انڈیکیر چیکر کا میٹر جیکب کے پاس تھا جس کی بدولت ہم میٹر کی مدد سے اپنی بوٹ تک دوبارہ پہنچ سکتے تھے لیکن یہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس سفر میں میر ی زندگی کا ایک نیا باب شرو ع ہوگا اور واپسی کے سفر میں ، میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل نہیں ہوسکوں گااور ایک انقلاب میری زندگی میں رونما ہوگاجسے روکناں میرے بس سے باہرہوگا ۔
رچرڈ چونکہ سائوتھ افریقہ کا باشندہ تھا اور اسے اور اس کی بیوی مارتھا کو بھی سائوتھ افریقہ کے بڑے اور خطرناک جنگلوں کا بھر پور تجربہ تھا اس لیے رچرڈ اور اس کی بیوی مارتھا نے دو بوتلیں نکال لیں۔ ایک میں سرخ محلول تھا اور دوسرے میں سیاہ قسم کا محلول تھا۔ پہلے دونوں نے ان دونوں بوتلوں کے شربت یا محلول کو ہلا جلاکر ہم سب کو ایک ایک گھونٹ پینے کو دیا اور سرخ محلول کا ذائقہ تو نیم کڑواتھا لیکن سیاہ بوتل کے محلول کا شربت تو اتنا زیادہ کڑواتھا کہ اس کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے شدید کڑواہٹ سے میری آنکھو ں سے آنسو نکل آئے لیکن ہم سے سے کسی نے بھی ان دنوں بوتلوں کے محلول کو تھوک کر ضائع نہیں کیا بلکہ جی کرا کے پی ہی گئے۔
’’بہت خوب لگتا ہے سب کو ہی ان دونوں بدذائقہ محلول کے بارے میں اب اچھی طرح معلوم ہے۔‘‘جیکب نے دونوں محلول کو ہم سب کی طرح مجبوراًپیتے ہوئے کہا۔
’’ظاہری بات ہے جیکب یہ ہم سب کی مجبوری بھی ہے کیونکہ ہم ایڈونچر کے لیے جن جنگلوں میں قدم رکھ چکے ہیں یہاں درندوں کی بہتا ت ہے اور درندے اپنی بھوک مٹانے کے لیے دیگر جانورں کا شکار کر تے رہتے ہیں اور جنگل میں بچی کھچی ہڈیوں اور سرے ہوئے ماس کی بو رچی ہوتی ہے جس سے درندوں اور دیگر جانوروں کو تو کچھ نہیں ہوتا لیکن اس بو سے یہاں قدم رکھنے والے نئے انسانوں کو شدید بیماری لاحق ہوسکتی ہے اور یہ دونوں کڑوے مشروب پینے سے ہمارے وجود یہاں کی رچی بو سے ہمیں بیمار ہونے سے بچائے رکھیں گی اور یہاں تک کہ بظاہر ان بدضائقہ اور شدید کڑوے مشرو ب سے ہم یہاں زہریلے کیروں اور مکھیوں کے کاٹنے سے بھی ہم محفوظ رہ سکیںگے۔‘‘اس بار سمتھ کی بیوی ماریا نے کہا۔
’’ہاں ماریا تجربہ کار شکاریوں کو یہ سب کچھ کرنا ہی پرتا ہے۔’’مارتھا نے کہااور سب ساتھیوں کے یہ کڑوا مشروب پینے کے بعد خود بھی گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
اب ہم چونکہ اپنی طرف سے مکمل طور پر تیار ہوچکے تھے اس لیے ہم سب دوست اوران کی بیگمات ایک ساتھ جنگل میں آگے بڑھنے لگے اور چونکہ ایک تو آسمان پر بادل تھے اور دوسرا جنگل بے حد گھناتھا اس لیے یہاں تاریکی ہورہی تھی اس لیے ہم سب نے اپنی واٹر پروف اور جدید ٹارچوں کو نکال لیا جو پٹیوں میں اڑسے ہوئے تھے اور ان کو ہم سب نے اپنے ماتھے پر باندھ لیا اور آگے بڑھنے لگے۔
رچرڈ ،سمتھ اور میں تیز دھار چھڑوں سے گھنی شاخوں کو کاٹنے لگے اور گنوں کو کندھوں پر لٹکا لیا پیچھے ماریا اور مارتھا چوکنے ہوکر اپنے ہاتھوں میں گنوں کو تھاما ہواتھا کیونکہ ہمیں جنگلات کے خطرات کا بھرپور تجربہ تھا اور اناڑی شکاری اگر زیادہ خود اعتمادی کا شکار کرے تو خود ہی درندوں کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ جنگل میں چھپے درند ے خاص کر چیتے اور تیندوے چھپ کر اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہیں اور پھر موقع دیکھتے ہوئے تھوری سی بے احتیاطی پر حملہ کر کے اپنے شکار چند سکینڈ کے اندر ہی چیر پھار کر رکھ دیتے ہیں اور عام فرد تو دور کی بات شکاری بھی خود شکار ہوجاتے ہیں لیکن یہاں واقعی کسی منجھے ہوئے شکاریوں کی طرح میرے پانچوں دوستوں کی بیگمات بہت احتیاط اور ماہر شکاری کی طرح ہر طرف نظریں دوڑائے ہوئے تھیں جس سے صاف لگتاتھا کہ خواتین کے ہونے کے باوجود ہم اتنے خطرناک اور گھنے جنگل میں آسانی سے کسی مشکل کا شکار نہیں ہوسکتے ۔
سہ پہر تک ہم گھنے جنگل میں اندر کی طرف کافی حد تک بڑھ آئے اور آگے ایک بڑی جھیل کا پاٹ ہمارا منہ چڑا رہاتھا جہاں جنگل کے معصوم جانور اور خطرناک درندے پانی پینے کے لیے آیاکرتے ہیں لیکن چونکہ جھیل کا پاٹ بہت وسیع تھا اس لیے ہمیں اس وقت یہاں سوائے ہرنوں اور چند جنگلی بھینسوں کے اور کوئی خطرناک جانور یعنی درندہ نظر نہ آیا لیکن اس جنگل میں دیگر جانوروں کے ساتھ درندوں کی بھی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
’’میرے خیال میں کچھ دیر یہاں پرائو کر لیا جائے پھر اس جھیل کو پار کرنے کے بارے میں غور کیا جائے۔‘‘ لیلیٰ نے مشورہ دیا۔
’’ٹھیک ہے
بھابی ہمارا کونسا یہا ں کوئی ٹارگٹ یا مقصد ہے جو ہم جلد بازی کریں ہم سب اپنے دل کی تسکین کے لیے اتنے دور تک اندر اپنے دل کی تسکین اور شکار کے لیے داخل ہوئے ۔‘‘جیکب نے لیلیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے کہاتو سب نے اثبات میں سر ہلا دیے اور ہم جھیل کے کچھ اور قریب ہوگئے کیونکہ یہاں جنگل کے درخت کم تھے اور یہاں کسی درندے یا مگرمچھوں کے آنے سے ہم ان کا مقابلہ بہتر انداز میں اور تیزی سے کر سکتے تھے۔
’’آپ سب لوگ بیٹھیں اور کھانا کھالیں ہم لوگ بعد میں کھائیں گے۔‘‘عزیز نے کہاتو اس کی بیوی لیلیٰ نے بھی سر ہلادیااور دونوں بدستور کھڑے رہے اور چونکنے ہو کر جنگل اور جھیل کی طرف دیکھنے لگے پہرے داری کرنے لگے۔
’’ٹھیک ہے عزیز اگر بھابی بھی اس بات پ تیار ہیں تو ایسا ہی کر لیتے ہیں ۔‘‘سمتھ نے کہااورہم نے نیچے پیرا شوٹ کی چادر بچھا دی عزیز اور لیلیٰ کے سوا ہم بقیہ سب اپنے بیگوں سے پانی کی بوتل اور کھانے کا سامان نکالنے لگے اور کھانے میں مصرو ف ہوگئے اور کھانے کے بعد عزیز اور لیلیٰ کھا نے کے لیے نیچے بیٹھ گئے اور سمتھ، ماریا اور میں اٹھ کر ہاتھوں میں گنوں کو تھام لیا البتہ جیکب ،روزی ،رچرڈ،مارتھا،صالح اور شائستہ ہمارے کہنے پر چادر پر بیٹھے ہی رہے ۔جب عزیز اور لیلیٰ نے کھانا کھالیا تو اس دوران ہم نے آرام بھی کر لیاتھا اس لیے اب اٹھ کھڑے ہوئے اور جھیل کو پار کرنے کے بارے میں غور کرنے لگے۔
’’ میر ے خیال میں اس جھیل کے اندر خونی مگر مچھ ضرور ہونگے ۔‘‘ماریا نے کہا۔
’’ ہاں ماریا تمہارا اندازہ درست بھی ہوسکتا ہے لیکن ہم سب نے بلٹ پروف لباس پائوں سے گردن تک پہن رکھے ہیں اور اگر مگر مچھوں سے واسطہ پرتا بھی ہے تو ان سے بلٹ پروف لباس مکمل طور پر زیب تن ہونے کی وجہ سے ہم ان کے آری نما دانتوں سے بچ سکتے ہیں اور ہماری ٹارچیں واٹر پروف ہی ہیں جو بہت پاور فل ہیں اور جھیل کے اندر ہمیں مگر مچھ نظر آسکتے ہیں ۔‘‘شا ئستہ نے کہا۔
’’ہاں ہم سیلانی قسم کے شکاری ہیں جو بغیر کسی مقصد کے بس ایڈونچر کے لیے مہذب دنیا سے اتنی دور ان دور دراز جنگلوں کے تاریک گوشوں میں آئے ہوئے ہیں تو ہمیں بغیر کسی جھجھک کے اس جھیل کو عبور کرنا چاہیے۔‘‘صالح نے کہا۔
’’ہاں وہ تو ظاہری بات ہے ہم سب ایڈونچر کے لیے نکلے ہیں تو خطرات میں گھر کر ہی اس کا مقابلہ کرتے ہوئے ہی شکاریوں کو اصل شکار کا مزہ آتا ہے ورنہ پھر ایڈونچر تو نہ ہوا۔‘‘اس بار ماریا نے مسکراتے ہوئے کہااور ہم سب کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔
اب ہم سب نے سامان سمیٹا اور بیگوں کو پھر سے اپنے کندھوں پر ڈالا اور چونکہ ہمارے بیگ سپیشل پیرا شوٹ کے تھے اور پانی میں اتارنے سے بیگو ں کے اندر سامان کو کچھ فرق نہیں پرنا تھا۔ہم سب نے اپنے ہاتھوں میں بڑے چھڑے پکڑے اور گنوں کو بیگوں کے اندر ہی رکھ کر زپ چڑھا دی اور محتاط ہو کر ایک ساتھ جھیل میں اتر گئے اور چونکہ ہم سب معروف شکاری تھے اس لیے سب کو ہی تیرنے کا مکمل تجربہ تھا اور ہم ماہر تیراک کی طرح تیزی سے آگے کی طرف بڑھنے لگے اور کامیابی سے جھیل کو پار کر گئے ۔ جھیل کے دوسری طرف ہمیں کسی جانور کی آواز یہاں تک کہ کسی درندے کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی جس پر ہم سب حیرا ن ہوگئے۔
’’شکر ہے ہم کامیابی سے جھیل تو پار کر گئے ورنہ مگرمچھوں سے واسطہ پرتاتو بہت مشکل کا شکار ہوسکتے تھے ۔‘‘ سمتھ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں لیکن یہ بس اتفاق ہے ورنہ ایمزون کے جنگلات کے ندی نالوں خاص کر دریائوں اور جھیلوں مگر مچھ پائے جاتے ہیں جو بھوک ہونے پر بے تابی سے اپنے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں اور پانی کے اندر سے ہی سفر کرتے ہوئے پانی پیتے جانورں اور بعض دفعہ بھوک سے بے تاب ہونے کی وجہ سے پانی پیتے درندوں کو بھی پلک جھپکتے پانی کے اندر لے جاتے ہیں اور ان کو غوطہ دے دے کر نڈھال کر کے ان کا خاتمہ کر دیتے ہیں اور پھر اپنی خوراک بنالیتے ہیں۔جیکب نے کہا۔ چلو اب آگے بڑھیں ہم ساری عمر یہاں ڈیرہ ڈالنے کے لیے تو نہیں آئے۔‘‘عزیز نے کہاتو سب مسکرا تے ہوئے اسے دیکھنے لگے اور ہم ایک دفعہ پھر آگے بڑھنے لگے۔
’’کیا آپ سب نے ایک بات محسوس کی ہے ۔‘‘ماریا نے کہا۔
’’ہاں ماریا جھیل پار کرنے کے بعد ہمیں یہاں کسی جانور اور کسی درندے کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگل کے اس جگہ کوئی جانور نہیں ہیں ۔روزی نے کہا۔اگر ایسا ہے تو پھر ہم یا تو جنگل کے کسی عام اور سیف حصے پر سفر کر رہے ہیں یا پھر بہت ہی خطرنا ک ترین حصے میں پہنچ چکے ہیں۔‘‘مارتھا نے اس بار ہونٹ کاٹتے ہوئے قدرے تشویش سے کہا۔
’’مارتھا ڈئیرہم سب مایہ ناز شکاری اور سیاح ہیں ان مشکلوں سے نمٹ ہی لیں گے۔‘‘رچرڈ نے اپنی بیوی مارتھا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ارے نہیں رچرڈ ڈئیر میں خوفزدہ نہیں ہوں کیونکہ میں پہلے بھی کئی بار تاریک اور خطرناک جنگلو ں میں کئی سفر کر چکی ہوں یہ تو بس میں نے سب کو احتیاط کرنے کے لیے کہا ہے۔‘‘مارتھا نے اس بار مسکراتے ہوئے اپنے خاوند رچرڈ کی طرف دیکھ کر کہا۔
ویسے تو ہم سبھی دوست اور ان کی بیگمات ماہر شکاری اور سیاح ہونے کی بناپر مختلف ملکوں کے خطرناک جنگلوں کا تجربہ رکھتے تھے لیکن خاص کر جیکب وروزی اور رچرڈ و مارتھا کا تجربہ دیگر دستوں سے زیادہ تھاکیونکہ جس طرح جیکب اور روزی برازیل کے مقامی تھے اور یہاں کے وسیع جنگلوں کا ان دونوں کو تجربہ تھا ایسے ہی رچرڈ اور مارتھا بھی سائوتھ افریقہ جیسے ملک کے باسی تھے اور وہاں کے خطرناک اور گھنے جنگلات کا بھرپور تجربہ رکھتے تھے۔ گو کہ ہم سب ہنستے ہوئے اور ایک دوسرے سے مذاق کرتے ہوئے جنگل کے اس سنسان حصے میں آگے بڑھ رہے تھے لیکن پھر بھی ہم سب بہت محتاط اور چوکنے ہو کر چل رہے تھے اور تیز دھار چھڑوں سے درختوں کی گھنی شاخوں کو کاٹ کر راستہ بنا رہے تھے ۔ہم سب نے دیکھا کہ آگے قد آور گھنی جھاڑیو ں کا سلسلہ پھیلا ہواتھا جسے دیکھ کر ہم سب کے منہ سے طویل سانس خارج ہوگئے۔
’’اب کیا کریں کیا جھاڑیوں میں گھسیں یا راستہ بدلیں۔‘‘ماریا نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے مشورہ لیا۔
’’ میرے خیال میں اگر ہم راستہ بدلتے ہیں تو مشکل میں پر جائیں گے معلوم نہیں یہ قدآور جھاڑیوں کا سلسلہ کہاں تک پھیلا ہوا ہو ہمیں بدستور محتاط انداز سے ان جھاڑیوں میں ہی گھسنا کیونکہ میرے اندازے کے مطابق آگے کی طرف جانے سے پھروہی گھنے جنگلات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔‘‘روزی نے کہا ۔
’’ٹھیک ہے بھابی یہ آپ کے ملک کے جنگلات ہیں اور آپ ہم سے بہتر جانتی ہیں چلو ایسا ہی کر لیتے ہیں ہم نے تو بس بھرپور ایڈونچر ہی کرنا ہے یہی ایڈونچر ہی سہی۔‘‘اس بار سمتھ نے مسکراتے ہوئے کہاتو ہم سب نے بھی اثبات میں سر ہلادیا۔
اب ہم بے جھجھک ان قدآ ور جھاڑیوں میں گھس گئے اور آگے کی طرف بڑھنے لگے اورجھاڑیوں اور شا خوں کو ہٹاتے اور بعض جگہ ان کو کاٹتے آگے بڑھتے ہی رہے اور مسلسل چلنے کے سیاح اور سیلانی شکاری ہونے کی وجہ سے ہماری ٹانگیں گویا پتھر کی ہوچکی تھیں اور ہمیں اتنی تھکاوٹ نہیں ہوئی تھی۔یہاں لگاتار سفرکرنے کے بعد دو گھنٹے کے بعد ہم جھاڑیوں سے نکل ہی آئے اور ایک دفعہ پھر گھنے درختوں کا وسیع عریض سلسلہ پھیلا ہواتھا۔
ہم نے جھاڑیوں سے نکلنے کے بعد کچھ دیر کے لیے آرام کیا اور پھر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوگئے ۔اب شام کے دھندلکے پھیلنے لگے تھے اور جنگل مزید تاریک ہوگیاتھا لیکن ہمارے پاس جدید اور پاور فل ٹارچیں تھیں اس لیے ہمیں اندھیرا ہونے یا رات ہونے کی کوئی فکر نہیں تھی۔کچھ دیر آرام کے بعد ہم پھر سے اٹھے اور جنگل میں آگے بڑھنے لگے ۔حیرت انگیز طور پر جنگل کے اس حصے میں ابھی تک تو ہمارا کسی جانور سے سامنا نہیں ہواتھا بلکہ کسی جانور کی آواز تک سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن اب ہم ایمزون کے جنگلات کے انتہائی خطرناک ترین حصے میں پہنچ چکے تھے جہاں ہمیں مشکلات کا سامناں کرنا پراتھا ۔
’’شکر ہے ابھی تک تو ہم سب دوست سیف ہیں اور گاڈ کرے اسی طرح پورے سفر کے دوران سیف ہی رہیں۔‘‘سمتھ نے کہا۔
’’ہاں سمتھ ڈئیر ہم سب دوست بہت انجوائے تو کر رہے ہیں لیکن ہم ایمزون کے خطرناک جنگلات میں کسی آوارہ بدوحوں کی طرح ہی پھر رہے ہیںاور دعا ہے کہ ایسے ہی کامیابی سے واپس بھی اپنے اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔‘‘ماریا نے کہاتو اس کی آوارہ بدروحوں والی بات پر ہم سب زور س ہنس پڑے۔
’’ ماریہ معروف شکاری واقعی جنگلات میں کسی بدروحوں سے کم نہیں ہوتے ۔‘‘ لیلیٰ نے اس بار کہاتو سب پھر ہنس پڑے۔
’’بھابی اب رات ہونے والی ہے اور اب ہم بدروحوں کو سونے کی تیاری بھی کرنے پڑے گی اور اب زندہ بدروحیں آرام بھی کریں گی۔‘‘میں نے مسکراتے ہوئے کہاتو پھر سب کے چہروں پر مسکرا ہٹ رینگ گئی۔
اسی طر ح ہم بے دھڑک آگے بڑھے توایک لخت جیکب،روزی ،رچرڈ اور مارتھا رک گئے اور ان کے چہروں پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ہاں جیکب میں تمہارے اور مارتھا بھابی کے چہروں کو دیکھ کر سمجھ چکا ہوں کہ ہم انجانے میںجنگل کے کتنے خطرناک ترین حصے میں داخل ہوچکے ہیں۔ہم دیگر دوست چونک کر ان چاروں کی طرف دیکھنے لگے کہ اچانک مجھ سمیت باقی سبھی دوستوں نے بھی چونک کر ہونٹ بھینچ لیے کیونکہ ہمیں سانپوں کی تیز کلبلاہٹ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ہمارے دیکھا دیکھی کئی سانپ کلبلاتے ہوئے یہاں نمودار ہوچکے تھے اور ٹارچ کی تیز روشنی میں یہ دیکھ کر میں کانپ گیاکہ یہاں ہر طرف درختوں پر سانپ ہی سانپ پھیلے ہوئے تھے اور نیچے بھی سانپ کلبلاتے ہوئے پھر رہے تھے ۔
’’اگر ہم نے وہ سیاہ تریاق نہ پیا ہوتا تو یہاں ہر طرف سانپوں کے زہر کی بو پھیلی ہوئی ہے اس کی وجہ سے ہم شدید بخار میں مبتلا ہو سکتے تھے۔‘‘شائستہ نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا اور ان بے شمار کلبلاتے سانپوں کو دیکھ کر ہم سب میں ابتری اور قدرے بیچانی پھیل چکی تھی اور سب کے چہروں پر تشویش دور چکی تھی۔
ہم سب نے گنوں کو مضبوطی سے تھام لیا اور اسی دوران بے شمار سانپ کلبلاتے ہوئے ہمارے قریب پہنچ گئے تو ہم نے ان پر فائر کیے جس سے کئی سانٹ جل کر مرنے لگے لیکن یہاں تو بے شمار سانپ تھے اور میں نے غور سے دیکھاتو ہر درخت پر کئی کئی سانپ لٹکے ہوئے تھے اور گو کہ ہمارے وجود بلٹ پروف لبادوں سے ڈھکے ہوئے تھے لیکن اگر کوئی سانپ درخت سے گرکر ہمارے منہ پر آگراتو ہمیں کاٹ سکتاتھا اور یہاں تو ہر طرف سانپ ہی سانپ بکھرے ہوئے تھے۔
’’یہ اس طرح نہیں مریں گے جلدی سے بیگ سے لیس والی مشعلیں نکالو اور آگ کو پھیلانے سے یہ سا نپ ہم سے دور ہوسکتے ہیں۔‘‘عزیز نے چیختے ہوئے کہاتو سب چونک گئے اور ہم سب نے تیزی سے کمر سے لٹکے بیگ کو اگے کیا اور کھول کر اس میں سے ہر کسی نے اپنے بیگ سے ایک مشعل نکال لی اور لائیٹر نکال کر اسے روشن کر دیا اور ایک چند ہی لمحوں میں ایک ساتھ گیارہ مشعلیں جل اٹھیں اور ان کی روشنی بہت تیز تھی اور ساتھ ہی ہمارے ماتھوں سے ارسی ہوئی ٹارچوں کی روشنی بھی بہت تیز تھی۔
میں نے دیکھا کہ واقعی ٹارچوں کی تیزآگ سے سانپوں میں کھلبلی مچ گئی تھی اور وہ ہمارے ہاتھوں میں بھرکتی آگ کے مشعلوں کی وجہ سے ہم سے دور ہونے لگے تھے اور ہم سب ایک ساتھ ہوکر راستہ بنا کر آگے بڑھنے لگے ۔ دراصل یہ وجہ تھی کہ یہاں ہر طرف کثرت سے سانپ ہونے کی وجہ سے دیگر جانور اور درندے یہاں جنگل کے اس حصے میں نہیں تھے کیونکہ یہ ایمزون کے جنگلات میں سانپوں کا علاقہ تھا جو کلبلاتے ہوئے ہر طرف پھر رہے تھے اور جنگل کے گھنے درختوں میں لٹکے ہوئے تھے۔ہمارا ارادہ کچھ دیر پہلے یہاں سونے اور رات کو آرام کرنے کاتھا لیکن اب تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا کیونکہ یہ تو بہت ہی خطرناک اور زہریلا علاقہ تھا۔
’’ہر کوئی کوشش کرے کہ وہ کسی صورت سلپ نہ ہو کیونکہ یہاں ہر طرف نیچے سانپوں کا زہر پھیلا ہوا ہے اور سانپوں کے زہر کی بو بھی یہاں اس ماحول میں رچی ہوئی ہے۔‘‘رچرڈ نے تیز لہجے میں سب سے کہا۔
’’یار بھائی سانپومیرے سبھی دوست تو شادی شدہ ہیں لیکن میں تو ابھی کنوارہ ہوں مجھ بیچارے کو کیوں کا ٹنے کو دوڑتے ہو۔‘‘گو کہ ہم سب مشکل میں تھے لیکن میں نے اونچی آوا ز میں کہاتو مشکل کے باوجود سب کے چہروں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔
’’بہت خوب شہباز تم واقعی زندہ دل شکاری ہو جو مشکل میں بھی مسکرانا جانتے ہو۔‘‘
اب ہم مشعلوں کی آگ میں آگے بڑھنے لگے اور جو سانپ ہمارے طرف آنے کی کوشش کرتے اس کی طرف مشعل کی آگ کرتے تو سانپ پیچھے ہٹ جاتے لیکن یہاں ہزاروں کی تعداد میں سانپ تھے اور ان کے زہر سے جنگل کی زمیں زہر آلود ہوچکی تھی کیونکہ سانپ زہر بھی اگلتے ہیں اس لیے یہاں ہر ف شدید ناگوار بو اور جسم میں سوزش ہونے لگی تھی۔
یہ تو اچھاتھا کہ جنگل کے آغاز میں ہی ہم سب (جاری ہے)