Shobday | Episode 2

426
’’میں فی الحال یہیں ٹھہرا ہوا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ آپ کے لئے بہت اہم فیصلہ ہے لیکن اس میں جناب صدر اور ہمارے ملک کی امیدیں وابستہ ہیں۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس پر ضرور غور کریں۔ جتنا وقت آپ لینا چاہتی ہیں، لے لیں۔‘‘
راجر کے جانے کے بعد جب ایشلے اوپر اپنے بیڈ روم میں پہنچی تو دونوں بچے جاگ رہے تھے۔
روتھ نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔ ’’ممی…! کیا آپ نے پیشکش قبول کرلی؟‘‘
’’بچو…! پیشکش یونہی قبول نہیں کرلی جاتی، اس پر سوچنا پڑتا ہے۔ فرض کرو اگر میں اس پیشکش کو قبول کرلیتی ہوں تو ہمیں اپنا یہ شہر چھوڑنا پڑے گا، تم لوگوں کو اپنا اسکول اور اپنے دوستوں کو چھوڑنا پڑے گا۔ ہم ایک غیر ملک میں رہیں گے جہاں نہ ہم اپنی زبان بول سکیں گے، نہ اپنے لوگ ہوں گے اور تمہیں ایک اجنبی اسکول میں تعلیم حاصل کرنی پڑے گی۔‘‘
’’میں نے اور ٹام نے ان پہلوئوں پر بات کی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ یہ اس ملک کی خوش قسمتی ہوگی جہاں آپ سفیر بن کر جائیں گی۔‘‘
اسی رات اپنے بیڈ روم کی تنہائی میں ایشلے نے اس بارے میں ایڈورڈ سے گفتگو کی۔ ’’ایڈورڈ…! صدر مملکت نے ایک بار پھر مجھے سفارت کی پیشکش کی ہے۔ ہمارے ملک میں لاکھوں لوگ ہیں جو مجھ سے زیادہ قابلیت رکھتے ہیں مگر انہوں نے مجھے چنا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں؟ بچے خوش ہیں، مگر میں خوف زدہ ہوں۔ یہ گھر چھوڑنا بہت مشکل ہے، جہاں ہر طرف تمہاری یادیں بکھری ہیں۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ ’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا پلیز… میری مدد کرو۔ میں تمہاری یادوں کو یہاں چھوڑ کر کیسے چلی جائوں؟‘‘
وہ کھڑکی کے قریب بیٹھی باہر پاگلوں کی طرح گھومتی ہوا کی درختوں کی شاخوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ دیکھتی رہی۔ پھر صبح کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے فیصلہ کرلیا۔ صبح نو بجے اس نے صدر کے نمائندے کو اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ’’مسٹر راجر…! پلیز آپ صدر مملکت کو بتا دیں کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ میں نے ان کی پیشکش قبول کرلی ہے۔‘‘
اور پھر سامان باندھنے کی باری آئی۔ یہ پورے گھر کا سامان باندھنا نہیں تھا۔ یہ ایک زندگی کو الوداع کہہ کر ایک نئی زندگی کی ابتدا کرنا تھا۔ یہ تیرہ سال کے خوابوں، یادوں اور محبتوں سے رخصت ہونا تھا۔ یہ ایڈورڈ سے بچھڑنے کی گھڑی تھی۔ یہ گھر ان دونوں نے ہزاروں ارمانوں اور تمنائوں کے ساتھ بسایا تھا لیکن اب یہ پھر اینٹوں اور گارے سے بنا ایک مکان رہ گیا تھا جہاں وہ اجنبی لوگ رہنے کے لئے آرہے تھے، جنہیں اس غم، خوشی، ان آنسوئوں اور قہقہوں کا کوئی شعور نہیں تھا، جو کبھی ان دیواروں کے اندر گونجا کرتے تھے۔ جو کسی کے لئے زندگی بھر کا سرمایہ تھے۔
ایشلے کے لئے تنہا اتنے سارے کاموں کو نمٹانا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔ اس نے اپنی ڈائری میں ان کاموں کی ایک فہرست بنا لی تھی جو ضروری کرنے والے تھے۔ مثلاً کسی اچھی کمپنی کی تلاش جو سامان باندھے، دودھ والے، اخبار والے، پوسٹ مین کو منع کرنا، بلوں کی ادائیگی، انشورنس کی اقساط اور بہت کچھ! جس نے ایشلے کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔
بچوں کے اسکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ لینے، ان کے ہوائی ٹکٹ کا انتظام اور دوسرے مالیات کا حساب! ایسی تمام چیزوں سے وہ ہمیشہ دور رہی تھی۔ یہ ایڈورڈ کا شعبہ تھا، مگر اب ایڈورڈ کہیں نہیں تھا۔ وہ صرف اس کے ذہن میں تھا، اس کے دل میں تھا جہاں اسے ہمیشہ رہنا تھا، اس کے ساتھ، اس کی زندگی میں… اس کے اندر سما کر!
ایشلے کو بچوں کی طرف سے فکر لاحق تھی۔ شروع شروع میں وہ بہت پرجوش تھے کہ بیرون ملک جارہے ہیں لیکن جیسے جیسے رخصت ہونے کے دن قریب آرہے تھے اور انہیں حقیقت کا ادراک ہوا تھا، اب انہیں احساس ہوا کہ اپنی وابستگیوں کو چھوڑنا کتنا مشکل اور اذیت ناک ہے۔ وہ دونوں اس کے پاس آئے۔
روتھ نے کہا۔ ’’ممی…! میرے لئے اپنے دوستوں کو چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ کیا میں ورجل سے کبھی نہیں مل سکوں گی؟ کیا میں اس سمسٹر کے لئے یہاں ٹھہر سکتی ہوں؟‘‘
ٹام بولا۔ ’’مام…! ابھی تو ہماری بیس بال ٹیم بنی تھی۔ ہم میچ کے لئے دوسرے اسکول جانے والے ہیں۔ پلیز مام! کیا میں ان گرمیوں میں یہاں ٹھہر سکتا ہوں؟‘‘
ایشلے سوچ رہی تھی کہ دونوں بچے بھی اپنی ماں کی طرح خوف زدہ تھے جس طرح یہ خوف اس کے ساتھ ساتھ لگا ہوا تھا کہ اسے سفارت کا کوئی تجربہ نہیں، وہ تو ایک گھریلو خاتون تھی۔ اسے اتنی بڑی ذمے داری کو قبول نہیں کرنا چاہئے تھا۔ نہ جانے اس کا انجام کیا ہونے والا تھا۔
اس خوف اور جھجک کے باوجود دوستوں کی مدد سے سارے کام وقت پر ہوگئے۔ مکان بھی کرائے پر اٹھا دیا گیا اور پھر رخصت کا لمحہ آپہنچا۔ فلورنس اس کے ساتھ تھی۔ اس نے کہا۔ ’’ایشلے! میں اور ڈگلس تمہیں ایئرپورٹ چھوڑنے جائیں گے۔‘‘
’’بس…! میں ابھی آئی۔‘‘ ایشلے یہ کہہ کر اوپر چلی گئی۔ اس بیڈ روم پر الوداعی نگاہ ڈالنے کے لئے جہاں اس نے ایڈورڈ کے ساتھ بہار بھرے دن گزارے تھے۔ وہ بہت دیر تک وہاں کھڑی رہی اور دل ہی دل میں ایڈورڈ سے دل کی باتیں کہتی رہی۔ ’’ایڈورڈ! اب رخصت کی گھڑی آپہنچی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمہیں میرے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ نہ جانے میرے دل میں یہ خیال باربار کیوں آتا ہے کہ شاید ہم پھر یہاں کبھی لوٹ کر نہیں آسکیں گے لیکن میں تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گی۔ میں جہاں بھی جائوں گی، تم میرے ساتھ رہو گے۔ اب تو مجھے تمہاری اتنی زیادہ ضرورت ہے جتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ اوہ… ایڈورڈ! پلیز میرے ساتھ رہنا، میرا ساتھ کبھی نہ چھوڑنا، میری مدد کرنا۔ یقین رکھو میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں، بہت…! میں تمہارے بغیر کچھ بھی نہیں۔ کیا تم میری باتیں سن رہے ہو ایڈورڈ…! کیا تم میرے آس پاس موجود ہو؟‘‘
ان کی فلائٹ ایئرپورٹ پر اتری تو ایک نوجوان نے ان کا استقبال کیا، جس کا نام جان برن تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ شاندار لیموزین میں بیٹھے ہوٹل کی طرف جارہے تھے۔ بچے گاڑی کے شیشوں سے شہر کی مشہور عمارتوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے۔ ان کی آپس کی بے تکلف گفتگو سے ایشلے کچھ عجیب سا محسوس کررہی تھی۔ بالآخر اس نے جان برن سے معذرت کرلی۔ اس نے کہا۔ ’’مسٹر جان! بچے پہلی بار اپنے شہر سے باہر نکلے ہیں اس لئے بہت پرجوش ہیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں مسز ایشلے…! یہ فطری امر ہے۔‘‘
وہ جس ہوٹل میں اترے، وہ آرام دہ اور پرسکون تھا۔ ایشلے ابھی سامان کھول رہی تھی کہ ایک رپورٹر نے فون کیا کہ وہ آنا چاہتا ہے۔ ایشلے کچھ جھجکی کہ اسے وقت دے یا نہ دے لیکن اس نے سوچنے کا موقع ہی نہ دیا اور اسے اجازت دینی پڑی۔ تھوڑی دیر میں وہ ہوٹل میں موجود تھا۔ وہ زیادہ تر اس سے خاندانی پس منظر کے بارے میں پوچھتا رہا۔
پھر مسٹر راجر کا فون آیا۔ ’’مسز ایشلے! میرا خیال ہے کہ ہم لنچ پر ملاقات کرلیں، تاکہ میں آپ کو بتا سکوں کہ آئندہ آپ کو کن مراحل سے گزرنا ہوگا۔‘‘
’’ضرور…! جیسا آپ کہیں۔‘‘
’’میں نیچے آپ کو ڈائننگ روم کے پاس ملوں گا۔‘‘
ایشلے نے بچوں کے لئے روم سروس کا انتظام کیا اور خود ٹیکسی کے ذریعے اس ہوٹل میں پہنچی جو سفارتی سرگرمیوں کے لئے مشہور تھا۔ یہ ایک خوبصورت ہوٹل تھا، جس کی سنگ مرمر کی سیڑھیوں کے نیچے راجر اس کا انتظار کررہا تھا۔ وہ ڈائننگ ہال میں اس میز پر آگئے جو پہلے سے مخصوص تھی۔ راجر کا انداز دوستانہ تھا۔ ایشلے کے دل میں جو بات کھٹک رہی تھی، وہ اس کی زبان پر آگئی۔ ’’مسٹر راجر! معذرت کے ساتھ ،کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ ایک سفیر
کو کیا تنخواہ ملتی ہے؟‘‘
وہ ہنس پڑا۔ ’’معذرت کی ضرورت نہیں… یہ ایک فطری سوال ہے۔ گھر کے کرائے کے علاوہ تمہیں اتنی تنخواہ ملے گی۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’اور یہ کب ملنا شروع ہوگی؟‘‘
’’جس وقت تم اس عہدے پر آجائو گی۔‘‘
’’اور تب تک کیا ہوگا؟‘‘
’’تب تک روزانہ الائونس دیا جائے گا۔‘‘ اس نے بتایا۔
ایشلے پریشان ہوگئی۔ اتنے مہنگے ہوٹل میں دو بچوں کے ساتھ اتنی رقم میں گزارہ کرنا مشکل تھا لیکن اس نے اس کا اظہار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ’’مجھے یہاں کتنا عرصہ رہنا ہے؟‘‘
’’تقریباً ایک مہینہ…! بلکہ ہم کوشش کریں گے کہ تم جلد سے جلد اپنا عہدہ سنبھال لو… البتہ ابھی دوسرے ملک کی طرف سے تمہاری شخصیت پر اتفاق ہونا باقی ہے مگر راز کی بات یہ ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان اس پر غیر رسمی اتفاق ہوچکا ہے۔‘‘
ایشلے نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔ ’’اور اس کے علاوہ…؟‘‘
’’ابھی اس پر سینیٹ کی منظوری باقی ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی کے ارکان تمہارا انٹرویو کریں گے جس میں زیادہ تر خاندانی پس منظر، وفاداریوں اور تمہاری جانب سے تجاویز کے بارے میں بات ہوگی۔‘‘
’’اس کے بعد کیا ہوگا…؟‘‘
’’سینیٹ کمیٹی رپورٹ مرتب کرے گی اور پھر اس پر ووٹنگ ہوگی۔‘‘
’’کیا یہ نامزدگی ہمیشہ سے اسی طرح ہوتی ہے؟‘‘
’’تمہیں صدر مملکت اور حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ صدر مملکت چاہتے ہیں کہ تمہاری نامزدگی کو جلد سے جلد سب کی حمایت حاصل ہوجائے۔ اس دوران میں تمہارے اور بچوں کے لئے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کردوں گا تاکہ تم لوگ شہر کے قابل دید مقامات کی سیر کرسکو۔ اس کے علاوہ تمہیں ایوان صدر کا دورہ بھی کروایا جائے گا۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’اوہ شکریہ…! بچے اس کو بہت پسند کریں گے۔‘‘
اگلے روز سب سے پہلے انہیں ایوان صدر کی سیر کے لئے لے جایا گیا۔ بچے بہت خوش اور پرجوش تھے لیکن جب یہ سیر ختم ہوئی تو تینوں تھک چکے تھے۔ ایک سو بتیس کمروں، انہتر مہمان خانوں، آفس، لان، باغیچے، کچن، گارڈن اور کیا کچھ نہیں تھا۔ گائیڈ ایک صدر کے بارے میں بتا رہا تھا کہ وہ یہاں کبھی نہیں رہا۔ اس کی رہائش الگ تھی۔
’’یہ رہنے کے لئے بہت بڑا ہے۔‘‘ ٹام نے اظہار خیال کیا۔ ایشلے نے اسے کہنی ماری کہ کہیں کچھ اور نہ کہہ دے۔
آج کے لئے اتنا ہی بہت تھا جس نے انہیں تھکا دیا تھا۔ انہوں نے واپس ہوٹل جانا بہتر سمجھا لیکن شام کو ایشلے کو بتایا گیا کہ اسے صدر مملکت نے ملاقات کے لئے بلایا ہے۔ ایشلے کچھ گھبرائی لیکن پھر اس نے خود کو مضبوط بنایا۔ اس ملاقات میں اسے ثابت کرنا تھا کہ صدر مملکت کا انتخاب درست تھا۔
ٹھیک پانچ بجے وہ صدر مملکت کے آفس میں تھی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا اور اسے صوفے پر بیٹھنے کے لئے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ گزشتہ ماہ تمہارا جو آرٹیکل چھپا تھا، اسے پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے وہ میرے ہی خیالات ہیں بلکہ جیسے میں نے ہی اسے لکھا ہے۔ گویا ہم لوگ مل کر کام کرسکتے ہیں۔‘‘
’’یقیناً میں کوشش کروں گی کہ اپنی بہترین قابلیت کو بروئے کار لائوں۔‘‘ ایشلے بولی۔
’’مجھے تم سے یہی توقع ہے۔ جس ملک میں تمہیں بھیجا جارہا ہے، گزشتہ دنوں ان کے ایک اہم لیڈر کا قتل بھی ہوچکا ہے۔ وہاں حالات میں کچھ مشکلات آرہی ہیں اس لئے ہمیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہوگی۔‘‘
پھر آدھے گھنٹے انہوں نے اس ملک کی سفارت کاری میں پیش آنے والی مشکلات اور اس کے حالات پر گفتگو کی اور چند لمحے توقف کے بعد بولے۔ ’’راجر تم سے رابطہ رکھے گا۔ ویسے بھی وہ تمہارا پرستار بن چکا ہے۔‘‘ انہوں نے ہاتھ ملایا اور ملاقات ختم ہوگئی۔
چیئرمین سینیٹ سے انٹرویو بھی اچھا رہا۔ اگلے روز خارجہ امور کے کمیٹی روم میں پندرہ ارکان موجود تھے۔ سامنے ایک ڈائس تھا اور پچھلی دیوار پر دنیا کا بڑا سا نقشہ لگا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پریس گیلری صحافیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ دوسری طرف دو سو حاضرین موجود تھے۔ ایک گوشے میں ٹی وی کیمرے اور چکاچوند روشنیاں تھیں۔ جب ایشلے اندر داخل ہوئی تو یکدم خاموشی چھا گئی۔ سیکڑوں نگاہیں اس کی جانب متوجہ ہوگئیں۔
ایشلے نے سیاہ سوٹ اور سفید بلائوز پہن رکھا تھا جو اس پر بہت جچ رہا تھا۔ بچے بھی اپنے بہترین لباس میں تھے۔ ایشلے اپنی گھبراہٹ اور جھجک چھپا کر بڑے وقار سے قدم رکھ رہی تھی۔ حاضرین ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
بچوں کو اگلی قطار میں بٹھانے کے بعد ایشلے کو مرکزی نشست پر بٹھا دیا گیا۔ سوالات شروع ہوئے۔ یہ بے ضرر سے سوالات تھے۔ اس کے خاندان، خاندانی پس منظر، پیشے اور یونیورسٹی میں پروفیسر شپ کے بارے میں پوچھا گیا۔ ایشلے ان کا جواب بظاہر سکون سے دے رہی تھی لیکن وہ اندر سے گھبرائی ہوئی تھی۔
پھر سوالات اس کے حالیہ شائع ہونے والے آرٹیکل اور کتاب پر کئے گئے۔ ایشلے نے محسوس کیا کہ اس کی گھبراہٹ یکلخت کم ہوگئی ہے، اس لئے اسے وضاحت میں کوئی دشواری پیش نہیں آرہی تھی۔ وہ اسی طرح بے تکلفی سے گفتگو کررہی تھی جس طرح وہ یونیورسٹی کے سیمینار میں کیا کرتی تھی۔ اس کی علمی گفتگو اور استدلال سے سب متاثر نظر آرہے تھے۔
سوالات کا سلسلہ ایک گھنٹے جاری رہا۔ ایشلے تحمل اور وقار سے سوالات کے جوابات دیتی رہی۔ بالآخر چیئرمین نے اس میٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے ساتھ ہی صحافیوں نے اس کو گھیر لیا۔ وہ ان کے تیز سوالات کی زد میں تھی، مگر اب اس کا اعتماد بحال ہوچکا تھا۔ وہ ان کے سوالات کے جوابات بخوبی دے رہی تھی۔
وہ ہوٹل واپس آئی تو بہت تھک چکی تھی۔ اسی وقت راجر کا فون آیا۔ ’’ہیلو میڈم ایمبیسڈر…!‘‘
ایشلے نے اطمینان کا سانس لیا۔ ’’اس کا مطلب ہے میں کامیاب رہی ہوں… بہت شکریہ راجر! یہ خبر میرے لئے بہت آسودہ کرنے والی ہے۔‘‘
’’مجھے بھی خوشی ہے ایشلے!‘‘ اس کے لہجے میں حقیقی خوشی تھی۔
بچوں نے یہ خبر سنی تو خوشی سے چیخ اٹھے۔ وہ اس سے لپٹ گئے۔ ٹام بولا۔ ’’اوہ ممی…! مجھے یقین تھا کہ آپ کامیاب ہوجائیں گی۔‘‘
روتھ نے آہستگی سے کہا۔ ’’ممی…! کیا یہ سب ڈیڈی کو بھی پتا چل گیا ہوگا؟‘‘
’’ہاں… ہاں! کیوں نہیں، انہیں سب پتا ہے۔ میں نے رات انہیں سب بتا دیا تھا۔‘‘
ایشلے نے یہ خبر سب سے پہلے فلورنس کو سنائی۔
’’زبردست! میں ابھی یہ خوشخبری سارے شہر میں پھیلا دوں گی۔‘‘ وہ خوشی کے آنسوئوں کے درمیان بولی۔
’’میں تمہارے لئے یہاں ایک کمرہ تیار رکھوں گی۔ اس سے پہلے کہ میں بیرون ملک روانہ ہوجائوں، تم یہاں کا چکر لگا لو۔‘‘
’’اس وقت تو میں خوشی کے مارے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ میں کل تمہیں فون کرکے بتائوں گی۔‘‘
’’ضرور…!‘‘ ایشلے نے گرمجوشی سے کہا۔
سینیٹ کے تمام ممبران کے ووٹ اس کے حق میں تھے۔ پھر اسے ایوان صدر میں بلایا گیا۔ روتھ اور ٹام بھی ساتھ تھے۔ صدر مملکت نے اس کا استقبال خوشدلی سے کیا۔ ایوان صدر کا، کانفرنس ہال صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب وہ بچوں اور صدرمملکت کے ساتھ ہال میں داخل ہوئی تو تمام کیمروں کی آنکھیں ان پر مرکوز تھیں۔
’’اپنا دایاں ہاتھ اٹھائو ایشلے…!‘‘ صدر مملکت نے کہا اور حلف برداری کی رسم ادا کی گئی۔ اب وہ باقاعدہ سفیر بن چکی تھی اور اس کی تربیت کے مراحل شروع ہوچکے تھے۔ مختلف لوگوں سے اس کی ملاقاتیں ہوئیں، جنہوں نے اسے سفارت کے اسرار و رموز سکھائے۔ بالآخر اسے جیمز سے ملنے کے لئے کہا گیا جو اسے خصوصی تربیت دینے والا تھا۔
وہ پچاس سال کا ایک خشک سا آدمی تھا جو سفارت کاری کا پچیس سالہ تجربہ رکھتا تھا۔ ایشلے اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی تو اس نے گہری نگاہوں
اس کا جائزہ لیا۔ ایشلے کو اس کی آنکھوں میں ناپسندیدگی اور حسد نظر آیا۔ اس کے انداز میں غرور تھا۔ وہ بولا۔ ’’مسز ایشلے! آپ جانتی ہیں کہ آپ کو ایک بہت حساس ملک میں بطور سفیر بھیجا جارہا ہے؟‘‘
’’یقیناً!‘‘ ایشلے نے مختصر جواب دیا۔
’’ہمارے سابقہ سفیر کے ایک غلط قدم کی وجہ سے دونوں ملکوں میں فاصلے پیدا ہوگئے تھے۔ ان فاصلوں کو پاٹنے میں ہمیں تین سال لگے ہیں۔ آئندہ ایسا ہوا تو صدر مملکت برا مانیں گے۔ ہم آپ کو سفارت کاری میں ماہر بنائیں گے لیکن اس کے لئے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔‘‘ اس نے فائلوں کا ایک ڈھیر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’تم پہلے ان فائلوں کا اچھی طرح مطالعہ کرلو۔‘‘
ایشلے نے فائلوں کی طرف دیکھا۔ ’’میں کل صبح ان کے مطالعے میں گزاروں گی۔‘‘
’’نہیں…! تمہیں تیس منٹ میں زبان سیکھنے کا کورس کرنا ہوگا۔ عموماً زبان سیکھنے میں پورا مہینہ لگتا ہے مگر ہمیں کہا گیا ہے کہ یہ کام جلد ہونا چاہئے۔‘‘
ایشلے مصروفیت کے بھنور میں پھنستی جارہی تھی۔ ایک کے بعد ایک مصروفیت اس کی منتظر تھی۔ جمی نے اسے ایک مہر شدہ لفافہ دیا جس میں اس ملک کے ہر بڑے عہدیدار کے بارے میں مکمل تفصیلات درج تھیں۔ ان کی دوستیاں، ان کی ذاتیات، تعصبات اور ایسی ایسی باتیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر اس سے ایشلے کو یہ آسانی ہوگئی کہ وہ ہر ایک کے بارے میں بہت کچھ جان گئی تھی لیکن اس کو اس کا اظہار نہیں کرنا تھا کہ وہ اندرونی باتوں کو اس حد تک جانتی تھی۔
اس نے جب لفافہ جمی کے حوالے کیا تو وہ بولا۔ ’’تم ان لوگوں کے بارے میں بہت کچھ جان گئی ہو نا؟‘‘
’’ہاں!‘‘ ایشلے نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’یہ لوگ تمہارے بارے میں بھی اتنا ہی جانتے ہیں، پھر تم ایک خاتون ہو، اکیلی ہو۔ وہ لوگ تمہیں پہلے سے ہی ایک آسان شکار سمجھ رہے ہیں۔ تمہارے ہر قدم کو وہ تنقیدی نظروں سے دیکھیں گے، اسے نوٹ کریں گے۔ تمہارے گھر اور آفس میں یہ لوگ نظریں جما کر رکھیں گے۔ ان ملکوں میں ہمیں مجبور کیاجاتا ہے کہ ہم تمام ملازمین ان کے رکھیں۔ اس طرح تمہارے آفس کا ہر بندہ ان کا جاسوس ہوگا۔‘‘
ایشلے نے سوچا کہ یہ شخص اسے ڈرانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کی ناواقفیت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس نے دل میں طے کرلیا کہ وہ اس کے کسی حربے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ایشلے کو دن بھر مختلف کمیٹیوں کے ساتھ میٹنگ کرنی پڑی تھی جن کے اپنے مطالبے، ہدایات اور سوالات تھے۔
اسے اتنی فرصت نہیں ملتی تھی کہ وہ بچوں کو وقت دے سکتی۔ اس نے ان کے لئے ایک ٹیوٹر رکھ لیا تھا۔ ہوٹل میں رہنے والے کچھ بچوں سے ان کی دوستی بھی ہوگئی تھی لیکن ایشلے کو ہر وقت ان کی فکر لگی رہتی تھی۔ وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ وہ ان کے ساتھ ناشتہ ضرور کرتی تھی تاکہ انہیں کچھ وقت تو دے سکے۔
جب بچے ناشتہ کرتے تو ایشلے اس غیر ملکی زبان کے مختلف جملوں کو رٹتی رہتی جو اس طرح نہیں بولے جاتے تھے جس طرح ان کے ہجے کئے جاتے تھے۔ بچے اسے رٹا لگاتے ہوئے دیکھ کر خوب مزہ لیتے۔ روتھ ہنستے ہوئے کہتی۔ ’’ممی…! یہ اس کا بدلہ ہے جو آپ ہمیں سبق یاد کروانے کے لئے ہم پر سختی کرتی تھیں۔‘‘
آہستہ آہستہ وہ ان لوگوں سے مل رہی تھی جو دوسرے ملک میں اس کے آفس میں تعینات ہونے جارہے تھے۔ ان میں اقتصادی، انتظامی، ملٹری اور پبلک افیئر کے عہدیدار تھے۔ جمی نے اسے بتایا تھا۔ ’’سفارت کاری میں خاص مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ تمہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا، خواہ تم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرو، نشے کی حالت میں گاڑی چلائو، کسی کا گھر جلا دو یہاں تک کہ کسی کو قتل ہی کیوں نہ کردو۔ اگر اس دوران تمہارا انتقال ہوجائے تو وہ لوگ تمہیں چھو بھی نہیں سکتے، نہ کسی چیز کی تلاشی لے سکتے ہیں۔ اگر تم اپنے بل ادا نہ کرو تو بھی اسٹور کے مالک تم پر مقدمہ نہیں کرسکتے۔‘‘
راجر اس کا خیال رکھتا تھا اور وقتافوقتاً اسے مشورے دیتا رہتا تھا۔ صدر مملکت کی جانب سے وہ اسے ہدایات بھی دیتا رہتا تھا۔ ’’صدر مملکت چاہتے ہیں کہ تم لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہو۔‘‘
’’وہ کس طرح…؟‘‘
’’ہم تمہارے لئے کچھ پریس کانفرنس، کچھ ٹی وی انٹرویو، ریڈیو پر تقاریر کرنے کا اہتمام کریں گے۔‘‘
’’مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن میں کوشش کروں گی کہ یہ سب کرسکوں۔‘‘
’’تمہیں نئے لباسوں کی بھی ضرورت ہوگی… تمہیں ایک لباس دوبارہ پہنے ہوئے نظر نہیں آنا چاہئے۔‘‘
’’اوہ…! یہ بہت مشکل ہے۔ میرے پاس تو اتنا بینک بیلنس نہیں کہ میں اتنے لباس خرید سکوں اور پھر میرے پاس خریداری کا وقت کہاں ہے۔ میں صبح سے شام تک مصروف رہتی ہوں۔‘‘
’’تم اس کی فکر مت کرو۔ ہیلن موڈی یہاں کی بہترین خریداری کرنے والی ہے۔ وہ تمہارے لئے سب کچھ بڑی آسانی سے کردے گی۔ اگر تمہیں اس کا کام پسند آئے تو آئندہ بھی تم اس سے رابطہ رکھنا۔‘‘
ہیلن موڈی ایک پرکشش اور اسمارٹ سیاہ فام عورت تھی جو پہلے ایک کامیاب نامور ماڈل تھی، اس کے بعد اس نے ذاتی شاپنگ کا کاروبار شروع کرلیا۔ وہ صبح ہی صبح ایشلے کے ہوٹل پہنچ گئی اور تقریباً ایک گھنٹہ اس کے ساتھ رہی۔ اس نے اس کے پاس موجود لباسوں کا جائزہ لیا اور بولی۔ ’’تم جس چھوٹے سے شہر میں رہ رہی تھیں، یہ اس کے ماحول کے حساب سے تھے۔ لباسوں کا یہ انتخاب بہت اچھا اور بہترین ذوق کا حامل ہے، مگر یہاں فیشن ذرا مختلف ہے۔‘‘
’’میرے پاس زیادہ رقم نہیں ہے کہ میں ڈھیر سارے جدید ملبوسات خرید سکوں۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ کہاں سے بہترین اور سستے لباس ملتے ہیں۔ تمہیں شام کے لئے ایک لمبا گائون چاہئے، چند لباس پارٹیوں کے لئے، کچھ کھانوں میں شریک ہونے کے لئے، کچھ آفس آنے جانے کے لئے، ایک سیاہ لباس تعزیت اور جنازوں میں شرکت کے لئے…! فی الحال اتنے ہی لباس کافی ہوں گے۔ جب تم بحیثیت سفیر کے اس ملک میں جائو گی تو پھر کچھ مختلف انداز کے لباس خریدنا ہوں گے۔‘‘
ایک نئی وارڈ روب بنانے میں پورے تین دن صرف ہوگئے۔ ہیلن موڈی اسے دیکھ کر کہنے لگی۔ ’’تم ایک خوبصورت خاتون ہو مسز ایشلے…! ہم تمہارے لئے اس سے بہتر کام کرسکتے ہیں۔ تمہیں سوزن کے پاس میک اَپ کے لئے اور سن شائن پارلر میں بالوں کے اسٹائل کے لئے جانا ہوگا۔‘‘
اس تیاری کے بعد ایشلے کے لئے پریس اور پبلسٹی کا دور شروع ہوا۔ ہر اہم اخبار، ٹی وی پروگرام میں اس کے انٹرویو اور بچوں کی تصویریں موجود تھیں۔ کوئی ایسا اخبار یا رسالہ نہیں تھا جس میں اس کے خاندان کے بارے میں نہ لکھا گیا ہو۔ راتوں رات ایشلے اور بچے نمایاں اور نامور شخصیات بن چکے تھے لیکن ایشلے کو اس پر اطمینان نہیں تھا۔
اس نے راجر سے اس کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا۔ ’’دیکھو…! صدر مملکت چاہتے ہیں کہ باہر کی دنیا پر تمہاری شخصیت کا ایک نمایاں اور طاقتور عکس پڑے تاکہ جب تم سفارت کاری کے لئے جائو تو ہر ایک وہاں تمہیں جانتا ہوگا۔‘‘
٭…٭…٭
ایک بہت بڑی پارٹی نائب صدر اور اس کی بیگم کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔ جب ایشلے اپنے ایک نئے خوبصورت لباس میں ہال میں آئی تو اکثر نگاہوں میں ستائش امڈ آئی۔ یہ ایک بڑی تقریب تھی۔ میزوں پر چاندی کے برتن لگائے گئے تھے، کرسٹل کے گلاس سے مشروبات چھلک رہے تھے، وسیع ہال کی سجاوٹ شاندار تھی۔ شہر کا بہترین آرکسٹرا مدھر موسیقی سے فضا میں ایک رومانویت پیدا کررہا تھا۔ مہمانوں میں سب لوگ اونچے درجے سے تعلق رکھتے تھے۔ نائب صدر اور اس کی بیگم کے علاوہ تمام سینیٹر، سفارت کار، سفیر اور مشہور لوگ اس شاندار تقریب میں موجود تھے۔
ایشلے کے لئے یہ سب کچھ بے حد حیرت انگیز
اور انوکھا تھا۔ وہ اس کی نمایاں باتوں کو اپنے ذہن میں محفوظ کررہی تھی کہ بچوں کو بتا سکے۔
کھانے کے دوران اس کی میز پر سینیٹر اور سفارت کار موجود تھے۔ سب لوگ اس کے ساتھ بڑی عزت سے پیش آرہے تھے۔ ڈنر زبردست تھا۔ تقریباً گیارہ بج گئے۔ ایشلے نے اپنی گھڑی دیکھی اور اپنے قریب بیٹھے ہوئے سینیٹر سے بولی۔ ’’اوہ…! بہت دیر ہوگئی، وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا… میں نے بچوں سے جلدی واپس آنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ میرا انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘ پھر وہ اپنی نشست سے اٹھی اور اپنے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کو مخاطب کرکے بولی۔ ’’آپ سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ گڈ نائٹ!‘‘
ماحول پر یکدم خاموشی چھا گئی۔ جب ایشلے ہال سے باہر جارہی تھی تو لوگ پلٹ پلٹ کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
راجر صبح ہی صبح اس کے ہوٹل میں موجود تھا۔ وہ اس کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’ایشلے! یہ شہر اپنے قوانین اور اصولوں پر بڑی سختی سے کاربند ہے۔ ان میں بہت سے احمق بھی ہیں لیکن ہمیں ان کے ساتھ ہی رہنا ہے۔‘‘
’’اوہ… راجر! کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے؟‘‘
’’تم نے تو پہلا ہی اصول توڑ دیا ہے ایشلے…! کوئی بھی کسی پارٹی سے اس وقت تک نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ مہمان خصوصی نہ چلا جائے۔ رات تم نے نائب صدر کی پروا ہی نہیں کی جبکہ وہ مہمان خصوصی تھے۔‘‘
’’اوہ! مجھے بہت افسوس ہے۔ بڑی معذرت! مجھے یہ سب پتا نہیں تھا… میں نے بچوں سے وعدہ کررکھا تھا کہ…!‘‘
’’یہاں کوئی بچے نہیں، کسی کے بچے نہیں، کسی کے بچوں کی کوئی اہمیت نہیں…! اگر اہمیت ہے تو صرف طاقت کی۔ یہ شہر صرف اقتدار میں یقین رکھتا ہے۔ اس کو کبھی مت بھولنا۔‘‘
٭…٭…٭
ایشلے فارن آفس کی لمبی راہداری کو طے کررہی تھی کہ اسے اپنے عقب سے ایک بھاری مردانہ آواز سنائی دی۔ وہ سمجھ نہیں سکی کہ اس نے کیا کہا ہے لیکن اتنا اندازہ اسے ضرور ہوگیا کہ یہ بات اس کے بارے میں تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ ایک دراز قد اجنبی دیوار کے ساتھ ٹکا ہوا بڑی بے باکی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک گستاخانہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے جین اور ٹی شرٹ کے ساتھ ٹینس شوز پہن رکھے تھے۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ اس کی چمکتی ہوئی نیلی آنکھیں چبھتی ہوئی سی تھیں۔ اس کی شخصیت میں ایک چڑا دینے والا غرور تھا۔ ایشلے نے فوراً ہی منہ پھیر لیا۔ اس کے اندر طیش کی کیفیت پیدا ہورہی تھی۔ جب وہ چلتی چلی جارہی تھی تو اس کو لگ رہا تھا کہ اس کی نگاہیں اس کے تعاقب میں ہیں۔
جیمز سے ملاقات کرکے جب وہ گھنٹے بھر بعد آئی تو اس نے دیکھا کہ وہی گستاخ اجنبی اس کے آفس میں اس کی کرسی پر براجمان میز پر دونوں پائوں رکھے اس کے کاغذات کو دیکھ رہا ہے۔ ایشلے کا پارہ چڑھنے لگا۔ وہ غصے سے بولی۔ ’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘
اجنبی نے بغور اس کی طرف دیکھا اور بڑی آہستگی کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔ ’’میں مائیکل لاڈی ہوں… میرے دوست مجھے مائیک کہہ کر پکارتے ہیں۔‘‘
ایشلے نے اپنا غصہ ضبط کرکے سرد لہجے میں کہا۔ ’’میں تمہارے لئے کیا کرسکتی ہوں؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں!‘‘وہ بڑے اطمینان سے بولا۔ ’’ہم ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں… میں یہاں ساتھ ہی کام کرتا ہوں، اس لئے میں تمہیں ہیلو کہنے کے لئے آگیا۔‘‘
’’شکریہ…! تم نے ہیلو کہہ لیا ہے اور اگر تم واقعی یہاں کام کرتے ہو تو تمہاری اپنی کرسی اور میز بھی ہوگی لہٰذا آئندہ محتاط رہنا۔ تمہیں میری کرسی پر بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اوہ… اتنا غصہ!‘‘ اس نے ابرو اچکا کر کہا۔ ’’میں نے سنا تھا کہ تمہارے علاقے کے لوگ بہت خوش مزاج اور دوستانہ رویہ رکھتے ہیں۔‘‘
ایشلے نے دانت پیس کر کہا۔ ’’مسٹر مائیک! میں تمہیں دو سیکنڈ دے رہی ہوں کہ تم میرے آفس سے نکل جائو ورنہ میں گارڈ کو بلا لوں گی۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ میں نے کچھ غلط سنا ہے۔‘‘ وہ جیسے اپنے آپ سے بولا۔
’’اگر تم واقعی یہاں کام کرتے ہو تو تم فوراً گھر جائو، شیو کرو اور کچھ مناسب لباس پہنو۔‘‘
’’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میری ایک بیوی تھی۔ وہ بھی اسی طرح انٹ شنٹ بولتی تھی تو میں نے اس کو فارغ کردیا۔‘‘
ایشلے کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’گیٹ آئوٹ!‘‘
مائیک نے چلتے چلتے ہاتھ لہرایا۔ ’’بائے بائے ہنی…! میرا خیال ہے ہماری آئندہ بھی ملاقات ہوگی۔‘‘
’’نہیں! ہرگز نہیں۔‘‘ ایشلے نے غصے سے کہا مگر وہ جا چکا تھا۔
آج صبح سے ہی ناخوشگوار واقعات پیش آرہے تھے۔ جیمز کی گفتگو ایسی تھی جیسے وہ کوئی دشمن ہو پھر یہ شخص آن ٹپکا تھا۔ ایشلے اتنی پریشان تھی کہ اس کی بھوک اڑ گئی تھی۔ وہ کچھ دیر کے لئے باہر چلی گئی تاکہ ان ناخوشگوار واقعات کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا سکے۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ واپس آئی تو مسٹر جیمز کا پیغام ملا کہ وہ فوراً اس کے آفس پہنچے۔ ایشلے کچھ متفکر، کچھ پریشان سی اس کے آفس پہنچی تو وہ اس کا منتظر تھا۔
’’مسز ایشلے!‘‘ اس نے سرد سے لہجے میں اسے مخاطب کیا۔ ’’کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ آپ اِدھر اُدھر کیا کرتی پھرتی ہیں؟‘‘
’’تمہارا مطلب ہے کہ میں ابھی ایمبیسی کیوں گئی تھی؟ وہ ان کی بلڈنگ کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے سوچا کہ ذرا ان سے ہیلو ہائے کرلوں۔‘‘
’’محترمہ…! ہمارے ان کے ساتھ کوئی گھریلو مراسم نہیں ہیں۔‘‘ اس نے سنگین لہجے میں کہا۔
’’یہاں دارالخلافے میں آپ بغیر بتائے منہ اٹھا کر کسی بھی ایمبیسی میں ہیلو ہائے کرتی پھریں۔ اگر کوئی سفیر دوسرے سفیر سے ملنے کے لئے جاتا ہے تو پہلے وقت لیا جاتا ہے، یوں اچانک کسی کے یہاں پہنچ کر اسے پریشان نہیں کردیا جاتا۔ اب مجھے اس کے ساتھ بات کرکے معاملہ رفع دفع کرنا ہوگا، ورنہ وہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے شکایت کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ تم وہاں جاسوسی کرنے گئی تھیں، اسی لئے بغیر بتائے اچانک وہاں وارد ہوگئیں۔‘‘
’’اوہ… لیکن!‘‘ ایشلے کچھ نہیں کہہ سکی۔
’’یہ یاد رکھو کہ اب تم ایک عام شہری نہیں ہو۔ تم حکومت کی نمائندہ ہو۔ آئندہ تم نے جو کرنا ہو، پہلے مجھے بتانا۔ کیا میری بات تمہاری سمجھ میں آگئی ہے؟‘‘
ایشلے نے گہرا سانس لیا۔ ’’ٹھیک ہے۔‘‘
پھر اس نے ریسیور اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا۔ ’’مسز ایشلے! اس وقت میرے آفس میں ہیں، تم پسند کرو تو فوراً آجائو۔‘‘
ایشلے وہاں یوں دبک کر بیٹھی ہوئی تھی جیسے کسی چھوٹے سے بچے سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔ دروازہ کھلا اور مائیک سلاڈی اندر داخل ہوا۔
اس نے ایشلے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا۔ ’’میں نے تمہاری ہدایت پر شیو کرلی ہے۔‘‘
جیمز نے دونوں کی طرف دیکھا۔ ’’کیا تم لوگ اس سے پہلے مل چکے ہو؟‘‘
ایشلے نے گھور کر مائیک کی طرف دیکھا۔ ’’میں نے ان صاحب کو اپنے آفس میں کرسی پر جھولتے ہوئے پایا تھا۔‘‘
جیمز نے دونوں کی طرف دیکھا۔ ’’مسز ایشلے…! مسٹر مائیک تمہارے محکمے کے ڈپٹی چیف ہیں۔‘‘
’’کیا ہیں…؟‘‘ ایشلے نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مسٹر مائیک! سفارت کاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں لہٰذا انہیں تمہارا ڈپٹی چیف مقرر کیا گیا ہے۔‘‘
’’نہیں!‘‘ ایشلے نے احتجاج کیا۔ ’’یہ ناممکن ہے۔‘‘
مائیک نے معصومیت سے کہا۔ ’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہر روز شیو کیا کروں گا۔‘‘
ایشلے نے منہ پھیر لیا اور جیمز سے بولی۔ ’’میرا خیال ہے کہ ایمبیسڈر کو اپنا ڈپٹی چیف چننے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔‘‘
’’ہاں… یہ ٹھیک ہے لیکن…!‘‘
’’تو بس…! میں مسٹر مائیک کو ڈپٹی نہیں بنانا چاہتی۔‘‘ وہ زور دے کر بولی۔
’’مسز ایشلے! عام حالات میں ایسا ممکن ہے لیکن مسٹر مائیک کو ہٹایا نہیں جاسکتا کیونکہ ان کی تعیناتی
صدر مملکت نے کی ہے۔‘‘
صدر مملکت کی یہ تعیناتی ایشلے کے لئے مصیبت بن گئی۔ ہر جگہ اس سے سامنا ہوجاتا۔ وہ شیطان کی طرح ہر جگہ موجود ہوتا۔ کبھی ڈائننگ روم میں لنچ کرتے ہوئے، کبھی راہداری میں، کبھی کسی آفس میں…! اپنے عام لباس میں ملبوس مزے سے گھومتا رہتا۔ ایشلے حیران ہوتی کہ اسے کوئی ٹوکتا بھی نہیں کہ جہاں تہذیب کا اتنا لحاظ رکھا جاتا تھا، وہاں مائیک جین اور ٹی شرٹ میں مزے سے گھومتا پھرتا تھا۔
خارجہ امور کے سربراہ سینیٹر نے ایشلے کے اعزاز میں ایک پارٹی کا اہتمام کیا۔ ایشلے جب شاندار ہال میں پہنچی تو خواتین کے قیمتی لباس دیکھ کر سوچنے لگی کہ وہ یہاں کتنی اجنبی سی لگ رہی ہے۔ یہ لوگ تو شاید پیدا ہی بڑے خاندانوں میں ہوئے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ان سب خواتین سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے۔ اسی لئے فوٹوگرافروں کی ساری توجہ ایشلے پر تھی۔ بہت سے نمایاں لوگ اس سے بات کرنے کے مشتاق تھے، بہت سوں نے اس سے فون نمبر مانگا اور اسے باہر چلنے کی دعوت دی لیکن ایشلے کے پاس سب کے لئے ایک ہی جواب تھا کہ اس کی سرکاری اور گھریلو ذمہ داریاں اسے فرصت نہیں دیتیں کہ وہ کہیں اور جاسکے۔
کسی اور کے ساتھ باہر جانا یا تفریح کرنا، وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی سوائے ایڈورڈ کے وہ اپنی زندگی میں کسی اور مرد کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ دلچسپ گفتگو ہورہی تھی، لطیفے سنائے جارہے تھے۔ لوگ دلچسپ، باذوق اور پرمزاح تھے۔ وقت بہت اچھا گزر رہا تھا کہ اس کے قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا۔ ’’کیا کل تمہیں کسی سرکاری کام کے لئے جلدی نہیں جاگنا ہوگا؟‘‘
’’نہیں! کل اتوار ہے، اس لئے آرام سے سو کر اٹھوں گی۔‘‘
تھوڑی دیر بعد ایک خاتون نے جماہی لیتے ہوئے کہا۔ ’’معذرت…! آج کا دن بہت مصروف تھا۔‘‘
’’ہاں… واقعی!‘‘ ایشلے نے اس کی تائید کی۔ اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا جیسے ہال میں یکدم خاموشی چھا گئی ہے۔ وہ چونکی۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ رات کے ڈھائی بجے تھے۔
’’اوہ خدایا…!‘‘ وہ دل ہی دل میں سخت پریشان ہوئی۔ راجر کی بات اسے یاد آئی کہ جب تک مہمان خصوصی رخصت نہ ہو، کوئی مہمان نہیں جاسکتا۔
آج پھر اس سے غلطی ہوگئی تھی وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور سب کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔ ’’گڈ نائٹ…! آج کی یہ پارٹی بہت خوبصورت اور شاندار تھی۔‘‘ وہ جب ہال سے باہر نکل رہی تھی تو اسے لوگوں کی چہ میگوئیاں سنائی دے رہی تھیں۔
صبح جب وہ آفس پہنچی تو راہداری میں مائیک سے سامنا ہوگیا۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا۔ ’’سنا ہے کہ تم نے ہفتے کی رات آدھے شہر کو پارٹی میں بٹھائے رکھا؟‘‘ ایشلے غصے سے کھول اٹھی لیکن خاموش رہی۔ اسے اپنے پیچھے اس کی استہزائیہ ہنسی کی آواز دیر تک سنائی دیتی رہی، جس نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ وہ اپنے آفس میں جانے کے بجائے سیدھی جیمز کے آفس پہنچی اور چھوٹتے ہی اس سے بولی۔ ’’مسٹر جیمز…! میں تم پر یہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں اور مسٹر مائیک ایک ساتھ کام نہیں کرسکتے اور ان کے ساتھ کام کرنا ایمبیسی کے مفاد میں بھی نہیں ہوگا۔‘‘
جیمز نے فائل سے نگاہ ہٹا کر اس کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’اس کا رویہ…! وہ بدتمیزی کی حد تک فقرہ بازی کرتا ہے۔ یہ شخص مجھے بالکل پسند نہیں۔‘‘
’’ہاں…! اس کا ایک خاص رویہ ہے لیکن وہ بے ضرر ہے۔‘‘
’’وہ تمہارے لئے بے ضرر ہوگا، میرے لئے نہیں…! دیکھیں مسٹر جیمز! میں آپ سے باقاعدہ درخواست کرتی ہوں کہ آپ مائیک کی جگہ کسی اور کو نامزد کردیں۔‘‘
’’تمہاری بات ختم ہوگئی…؟‘‘
’’جی ہاں…!‘‘
’’مسز ایشلے…! مائیک سلاڈی ہمارے بہترین سفارت کاروں میں سرفہرست ہے۔ تمہارا کام ہے کہ یہاں کے لوگوں سے دوستانہ رویہ رکھو اور میرا کام یہ ہے کہ میں تمہارے کاموں میں تمہاری ہر ممکن مدد کروں۔ یہ مدد مائیک سلاڈی سے بہتر کوئی اور نہیں کرسکتا اس کے بعد میں اس کے بارے میں کوئی بات نہیں سنوں گا۔ کیا میری بات تمہاری سمجھ میں آگئی ہے؟‘‘
ایشلے کوئی جواب دیئے بغیر کمرے سے نکل آئی۔ وہ غصے اور جھنجھلاہٹ میں بھری ہوئی اپنے آفس میں آئی۔ وہ اندر ہی اندر الجھتی ہوئی یہ سوچ رہی تھی کہ آخر اس شخص کا کیا علاج ہوگا۔ وہ اس کے مقابلے میں خود کو کمزور نہیں پڑنے دے گی۔
’’دن میں خواب دیکھ رہی ہو؟‘‘ اس آواز پر ایشلے نے چونک کر اوپر دیکھا۔
مائیک عین اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے۔ وہ اس نے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’امید ہے یہ تمہیں آج رات مصروف رکھیں گے۔‘‘
’’آئندہ میرے آفس میں دستک دے کر آنا۔‘‘
اس کی نگاہوں میں ایک چھیڑ تھی۔ وہ بولا۔ ’’مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ تم مجھ پر مر مٹی ہو۔‘‘
ایشلے کا پارہ چڑھنے لگا۔ ’’تم جیسے شرپسند، فتنہ پرور اور خودپسند شخص پر بھلا کون مرے گا۔‘‘
وہ بہت آہستگی کے ساتھ لیکن سنگین لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔ ’’اچھا! اور تمہیں معلوم ہے کہ شہر میں لوگ تمہارے بارے میں کیا کہتے ہیں؟‘‘
’’کہتے ہیں تو کہتے رہیں… مجھے کسی کی بالکل پروا نہیں۔‘‘
’’لیکن تمہیں پروا کرنی چاہئے محترمہ!‘‘ وہ اس کے ڈیسک پر جھک آیا۔ ’’ہر بندہ پوچھ رہا ہے کہ تمہیں ایک سفیر کی کرسی پر بیٹھنے کا کیا حق ہے؟ جس ملک میں تم جارہی ہو، وہاں میں نے چار سال گزارے ہیں۔ وہ بارود کا ڈھیر ہے جو پھٹنے کے لئے تیار ہے اور ہماری حکومت وہاں ایک ناتجربہ کار بچی کو بھیج رہی ہے۔‘‘
ایشلے خاموش بیٹھی اس کی بات سن رہی تھی۔ وہ کہتا جارہا تھا۔ ’’مسز ایشلے! تم ایک ناتجربہ کار عورت ہو۔ اگر کسی کو تمہارے کسی احسان کا بدلہ چکانا تھا تو اسے چاہئے تھا کہ تمہیں آئس لینڈ کا سفیر نامزد کردیتا۔‘‘
ایشلے کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ غصے میں لرزتی اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا۔
مائیک نے گہرا سانس لیا اور دانت پیس کر بولا۔ ’’تم اس بات کا کبھی کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘ (جاری ہے)