Shobday | Episode 5

560
ایشلے کو ایڈورڈ کی یاد آئی۔ وہ اس کا زخم اب تک نہیں بھول پائی تھی۔ اس شخص کے زخم کچھ اس سے بھی سوا تھے۔ وہ ابھی کچھ کہہ نہیں پائی تھی کہ وہ بولا۔ ’’میں معذرت چاہتا ہوں میڈم ایمبیسڈر!‘‘ وہ پلٹا اور اس طرف چلا گیا جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔
وہ رات گھر آئی تو ایڈورڈ اسے شدت سے یاد آرہا تھا۔ ڈاکٹر لوئس کے المیے نے اس کے زخم پھر تازہ کردیئے تھے۔ وہ اپنے بیڈ روم میں بے خواب آنکھوں کے ساتھ ایڈورڈ سے باتیں کرتی رہی۔’’ایڈورڈ… وہ تم سے بہت مشابہ ہے۔ وہ بہت بہادر آدمی ہے کہ اپنے دکھوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے شاید ہمارے اس درد مشترک نے مجھے اس کی جانب متوجہ کیا ہے۔ میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی ایڈورڈ…! یہاں کوئی ایسا نہیں جسے میں اپنے دکھ میں شریک کروں، جس سے میں تمہاری باتیں کرسکوں۔ مجھے سہارا چاہئے کہ میں کامیاب ہوسکوں۔ میں ثابت کرسکوں کہ اس عہدے کیلئے میرا انتخاب درست کیا گیا ہے۔ مائیک سلاڈی جیسے لوگ چاہتے ہیں کہ میں کامیاب نہ ہوسکوں لیکن نہیں…! یہ مجھے ہار ماننے اور گھر جانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ میرے ساتھ رہنا ایڈورڈشب بخیر…!‘‘
٭…٭…٭
صبح وہ حسب معمول مائیک سلاڈی کے ساتھ کافی پی رہی تھی۔ وہ بولا۔ ’’یہاں ایک مسئلہ ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’سفارت خانے سے معلومات باہر جارہی ہیں۔‘‘
’’کیا اہم معلومات…؟‘‘
’’ہاں… بہت اہم! گزشتہ دنوں جو ہم نے ایک اجلاس ’’ببل روم‘‘ میں کیا تھا، اس کی سب معلومات ان لوگوں کے پاس تھیں۔ اس کے مطابق ان کی تیاری تھی، اس لئے ہماری ان کے افسران کے ساتھ بات چیت کامیاب نہیں ہوسکی۔‘‘
ایشلے کچھ دیر سوچتی رہی پھر بولی۔ ’’تمہارا کیا خیال ہے کہ اسٹاف میں سے کوئی ہے؟‘‘
’’ہمارے آلات بتاتے ہیں کہ یہ گڑبڑ ببل روم میں ہوئی ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’حیرت ہے…! وہاں صرف آٹھ لوگ میٹنگ میں موجود تھے اور وہ سب کے سب خصوصی مشیر ہیں۔‘‘
’’ہاں… لیکن ان میں سے کسی کے پاس یقیناً خفیہ ٹیپ ریکارڈر ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ تم پھر انہی مشیران کی میٹنگ بلائو ، پھر دیکھتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے؟‘‘
٭…٭…٭
دوپہر کو وہ آٹھوں مشیر ’’ببل روم‘‘ میں موجود تھے۔ ایشلے نے ایک مشیر سے پوچھا۔ ’’ان لوگوں کے وزیر سے ملاقات کیسی رہی؟‘‘
’’ناکام… یوں لگتا تھا کہ وزیر اور اس کے معاون وہ سب کچھ جانتے ہیں جو ہم نے میٹنگ میں طے کیا تھا۔ جیسے میرا دماغ پڑھ رہے ہوں۔‘‘
’’ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو۔‘‘ مائیک بولا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’ابھی پتا چل جاتا ہے۔‘‘ مائیک نے سرخ ٹیلیفون کا ریسور اٹھایا اور بولا۔ ’’اسے اندر بھیج دو۔‘‘
چند لمحے بعد ببل روم کا بھاری دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا سیاہ ڈبہ تھا جس پر ڈائل لگا ہوا تھا۔
ببل روم میں بیٹھا ایک مشیر بولا۔ ’’یہاں باہر کا کوئی شخص نہیں آسکتا۔‘‘
’’نہیں…! اس کو اجازت ہے کہ یہ ہمارا مسئلہ حل کرسکتا ہے جو بہت پریشان کن ہے۔‘‘ ایشلے نے کہا۔ پھر وہ سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’آپ لوگ جہاں بیٹھے ہیں، وہیں بیٹھے رہیں۔‘‘
سارے اس شخص کی طرف غور سے دیکھنے لگے۔ وہ ایک ایک کے قریب آیا اور وہ سیاہ ڈبہ ان کے قریب کرنے لگا۔ اس کے ڈائل کی سوئی ساکت تھی۔ تقریباً سب کے پاس سے گزرتا ہوا وہ ایشلے کے قریب آیا۔ جیسے ہی اس نے وہ سیاہ ڈبہ آگے بڑھایا، اس کی سوئی تیزی سے حرکت کرنے لگی۔ سب ساکت سے ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ ایشلے ٹھٹھک گئی۔ یہ کیا تھا…؟ کیا یہ ان سب کی اس کے خلاف کوئی سازش تھی؟
مائیک اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے سیاہ ڈبے کی طرف دیکھا اور اس شخص سے بولا۔ ’’کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ درست نشاندہی کررہا ہے؟‘‘
’’آپ مشین سے تصدیق کرسکتے ہیں۔‘‘ وہ شخص اعتماد سے بولا۔
ایشلے بھی گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔ مائیک نے اسے مخاطب کرکے کہا۔ ’’میڈم…! کیا اجلاس برخاست کردیا جائے؟‘‘
’’ہاں… اتنا کافی ہے شکریہ…!‘‘ ایشلے نے سب کی طرف دیکھ کر کہا جو عجیب نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
وہ لوگ چلے گئے تو مائیک نے اس شخص سے کہا۔ ’’کیا تم صحیح جگہ کی نشاندہی کرسکتے ہو؟‘‘
’’سوفیصد!‘‘ وہ بولا اورکالے ڈبے کو ایشلے سے ایک انچ کے فاصلے پر آہستہ آہستہ نیچے لے جانے لگا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے قدموں کے قریب پہنچ گیا اور ڈائل کی سوئی ایک بار پھر بڑی تیزی سے حرکت کرنے لگی۔ وہ سیدھا کھڑا ہوا۔
’’یہ آپ کے جوتوں میں ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’یہ جوتے تو میں اپنے ساتھ لے کر آئی تھی۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘
’’اگر تمہیں برا نہ لگے تو ذرا اپنے جوتے اتار دو۔‘‘ مائیک نے کہا۔
’’میں…!‘‘ ایشلے نے عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ کیا چاہتا تھا۔ شاید سب مل کر اس پر جاسوسی کا الزام لگانا چاہتے تھے مگر وہ ان کی سازش کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ اس نے پائوں سے جوتے اتار کر مائیک کی طرف بڑھا کردرشتی سے کہا۔ ’’یہ لو دیکھو!‘‘
اس نے جوتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ ’’کیا اس میں نئی ہیل لگوائی ہے؟‘‘
’’اوہ… ہاں!‘‘ ایشلے کو یاد آگیا۔
مائیک نے ہیل کو توڑ کر دیکھا۔ اس میں ایک چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈر موجود تھا۔ ’’ہم نے اپنا جاسوس پکڑ لیا ہے۔ یہ دیکھو… یہ ہیل تم نے کہاں سے لگوائی ہے؟‘‘
’’معلوم نہیں… میں نے ایک ملازمہ سے یہ کام کروانے کیلئے کہا تھا۔‘‘ ایشلے نے بتایا۔
’’بہت زبردست!‘‘ مائیک طنزیہ لہجے میں بولا۔ ’’آئندہ میڈم ایمبیسڈر… اس میں ہم سب کا بھلا ہے کہ تم اپنے تمام کام اپنی سیکرٹری سے کرائو۔‘‘
٭…٭…٭
ایشلے، ڈاکٹر لوئس کو اپنے ذہن سے نکال نہیں پائی تھی۔ اسے خوشی تھی کہ اس نے اپنے محسن کو تلاش کرلیا تھا جس نے اس کی زندگی بچائی تھی۔ شکریہ ادا کرنے کیلئے اس نے ایک تحفہ بھجوا دیا تھا۔
دوپہر کو اس کی سیکرٹری نے بتایا کہ ڈاکٹر لوئس اس سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
’’کال ملا دو۔‘‘ ایشلے نے خوشی سے کہا۔
’’گڈ آفٹرنون میڈم ایمبیسڈر! میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ تحفہ بہت خوبصورت ہے… لیکن اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں کوئی خدمت کرنے کے قابل ہوسکا۔‘‘
’’نہیں… یہ بہت بڑی خدمت تھی بلکہ میں چاہ رہی تھی کہ کوئی موقع ملتا تو میں تمہارا باقاعدہ شکریہ ادا کرتی۔‘‘ ایشلے نے خلوص سے کہا۔
وہ تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’کیا تم…!‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر چپ ہوگیا۔
’’کیا…؟‘‘
’’نہیں…! کچھ نہیں۔‘‘ اس کے انداز میں جھجک تھی۔
’’پلیز بتائو۔‘‘
وہ ایک گھبراہٹ آمیز ہنسی ہنسا اور بولا۔ ’’میں سوچ رہا تھا کہ تمہیں ڈنر پر مدعو کروں لیکن تم تو بہت مصروف ہو۔‘‘
’’مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ ایشلے نے گرمجوشی سے کہا۔
’’کیا واقعی؟‘‘ اس کی آواز میں خوشی کی جھلک واضح تھی۔
’’واقعی…!‘‘
’’تو پھر ہفتے کی رات بہتر رہے گی۔‘‘
’’اس روز میں نے ایک پارٹی پر جانا ہے لیکن میں وقت نکال لوں گی۔‘‘
’’زبردست! مجھے معلوم ہے کہ تمہارے دو پیارے پیارے بچے بھی ہیں۔ کیا تم ان کو لانا پسند کرو گی؟‘‘
’’شکریہ…! لیکن بچے ہفتے کی رات عموماً مصروف ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا اور سوچنے لگی کہ اس نے جھوٹ کیوں بولا۔
٭…٭…٭
سفارت خانے کی پارٹی میں کافی وقت گزر گیا۔ جیسے تیسے اس نے اجازت لی اور گھر کی طرف روانہ ہوئی۔ اس نے ڈاکٹر لوئس کو فون کردیا تھا کہ اسے آنے میں دیر ہوجائے گی۔ ابھی اسے سفارت خانے کی اس پارٹی کی رپورٹ لکھ کر روانہ کرنی تھی کیونکہ وہاں صدر مملکت بھی موجود تھے۔ وہ پہلے اپنے آفس پہنچی۔ باہر گارڈ ڈیوٹی پر تھا۔ اس نے ایشلے کیلئے دروازہ
کھول دیا۔ ایشلے نے اندر جاکر لائٹ جلائی۔
کمرہ روشن ہوگیا اور وہ وہیں ساکت سی کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ سامنے کی دیوار پر کسی نے سرخ رنگ سے لکھا تھا۔ ’’اپنی موت سے پہلے گھر چلی جائو۔‘‘
وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹی۔ اس کا دل بڑے زور سے دھڑک رہا تھا، اس کا چہرہ سپید پڑ گیا تھا۔ وہ تقریباً بھاگتی ہوئی ریسپشن تک پہنچی۔
گارڈ نے حیرت سے کہا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر…!‘‘
’’میرے آفس میں کون آیا تھا؟‘‘ ایشلے نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’جو لوگ آئے تھے، ان سب کے نام لکھے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے وہ ڈائری ایشلے کو دکھائی جس پر تمام لوگوں کے نام اور آمد کا وقت لکھا ہوا تھا۔ وہ درجن کے قریب نام تھے۔
’’ان کے ساتھ گارڈ گیا تھا؟‘‘
’’ہمیشہ ان کے ساتھ گارڈ جاتا ہے میڈم…! کیا کچھ غلط ہوا ہے؟‘‘
’’دیکھو کسی کو بھیجو آفس میں… وہ دیوار پر جو کچھ لکھا ہے، اس کو صاف کرے۔‘‘
وہ مڑ کر جلدی سے باہر آگئی۔ اس کے دماغ پر اب تک خوف مسلط تھا۔ وہ اس وقت کوئی رپورٹ نہیں بھیج سکتی تھی۔ یہ کام صبح ہی ہوگا کہ تب تک اس واقعے کے اثرات اس کے ذہن سے کم ہوجائیں گے۔
لیکن اسے ڈاکٹر لوئس سے ملنے تو جانا تھا جو ریسٹورنٹ میں اس کا انتظار کررہا تھا۔ وہ ریسٹورنٹ پہنچی تو ڈاکٹر اسے دیکھ کر کھل اٹھا۔ وہ اس کیلئے تعظیماً کھڑا ہوا اور ایشلے کیلئے کرسی باہر نکالی۔
ایشلے نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ’’سوری…! مجھے دیر ہوگئی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں… یہ تمہاری مہربانی ہے کہ اتنی مصروفیت کے باوجود مجھے وقت دیا۔‘‘
ایشلے اب بھی کچھ گھبرائی ہوئی سی تھی لیکن خود پر قابو پانے کی کوشش میں تھی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں جکڑ لیا کہ کہیں ان کی لرزش محسوس نہ ہونے لگے۔ وہ خود کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔ وہ غور سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘
’’ہاں…! میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن اس کے ذہن میں وہ چیختے ہوئے سرخ رنگ میں لکھے ہوئے حرف گھوم رہے تھے۔ ’’اپنی موت سے پہلے گھر چلی جائو۔‘‘
’’ایک سفیر کے فرائض نبھانا بہت مشکل ہے خاص کر ایسے معاشرے میں جہاں مرد کو برتری حاصل ہو۔‘‘ ایشلے نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے اپنے بارے میں بتائو؟‘‘
’’ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘‘
’’تم نے دہشت گردوں کے خلاف کام کیا ہے، وہ بڑا پرجوش وقت ہوگا؟‘‘
’’ہاں…! یہ ایک خاص حد تک ہی پرجوش ہوتا ہے کیونکہ یہ خوف کی حالت میں زندگی بسر کرنا ہے۔‘‘ اس نے جیسے ایک آہ بھری۔ ’’اگر مجھے علم ہوتا کہ مجھے اس کی قیمت اپنی بیوی اور بچوں کی زندگیوں کی صورت ادا کرنی پڑے گی تو میں…!‘‘ وہ یکلخت خاموش ہوگیا۔ اس نے مٹھیاں زور سے بھینچ رکھی تھیں۔ پھر تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’معاف کرنا میں نے تمہیں اس لئے تو یہاں مدعو نہیں کیا کہ اپنے دکھڑے لے کر بیٹھ جائوں۔‘‘
کھانا آگیا اور دونوں گفتگو کرتے ہوئے کھانے سے لطف اندوز ہونے لگے۔ ایشلے نے محسوس کیا کہ اس کی پریشانی اور خوف آہستہ آہستہ بالکل ختم ہوگیا ہے۔ وہ ایڈورڈ سے بہت حد تک مماثل تھا اسی لئے ایشلے کو اس سے بات کرنا، اس کے بارے میں جاننا اچھا لگ رہا تھا۔
’’تم نے دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں نہیں سوچا؟‘‘ ایشلے نے پوچھا۔
اس نے نفی میں سر کو جنبش دی۔ ’’نہیں…! اگر تم میری بیوی سے ملی ہوتیں تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ وہ ایک بہترین عورت تھی۔ اس کی کمی کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ اس حادثے کے بعد میں نے سوچا کہ ماحول کو کچھ تبدیل کروں اسی لئے میں نے یہاں آنا قبول کرلیا لیکن یہ بڑا عجیب ملک ہے۔‘‘
’’وہ کیسے…؟‘‘
’’یہاں کوئی آزادی نہیں ہے۔ لوگ جیسے غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔‘‘ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی سن تو نہیں رہا۔ ’’مجھے خوشی ہوگی جب میرا معاہدہ ختم ہوجائے گا، میں اپنے وطن واپس جاسکوں گا۔‘‘
نہ جانے کیسے ایشلے کی زبان پریکدم آگیا ۔’’یہاں کچھ لوگ ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ میں واپس چلی جاؤں۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
ایشلے اپنے دل میں وہ بات نہیں رکھ سکی جس نے اس کے اندر ہلچل مچا رکھی تھی۔ جو اس کے اندر کسی خوفناک مکڑی کی طرح پنجے گاڑے ہوئے تھی۔ اس نے وہ سب کچھ بیان کردیا جو آج آفس میں ہوا تھا۔ کس طرح اسے کھلم کھلا دھمکی دی گئی تھی۔
’’یہ تو بڑی خوفناک بات ہے۔ کیا تم جانتی ہو کہ اس کے پیچھے کون ہوسکتا ہے؟‘‘
’’نہیں…! کچھ پتا نہیں۔‘‘
’’میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں ایشلے! یہاں سب لوگ تمہارے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ تم اپنے ملک کیلئے بہت اچھا کام کررہی ہو، لوگ تمہارے حسن اور دانشمندی کے قائل ہیں۔ تم ڈٹ کر اپنے مخالفوں کا مقابلہ کرو اور کسی کو اجازت نہ دو کہ تمہیں خوف زدہ کرسکے۔‘‘
ایشلے کو لگا جیسے ایڈورڈ اس کے ساتھ ہے۔ وہ ہمیشہ اسی طرح اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ اسے کبھی ہمت نہیں ہارنے دیتا تھا۔
٭…٭…٭
اگلی صبح مائیک نے اس کے ساتھ کافی پیتے ہوئے دیوار کی طرف اشارہ کیا جو صاف کردی گئی تھی۔ ’’میں نے سنا ہے کہ اس دیوار پر کسی نے کوئی دھمکی آمیز بات لکھی تھی۔‘‘
’’کچھ پتا چلا ہے کہ یہ کس کی حرکت تھی؟‘‘
’’نہیں…! میں نے کافی تفتیش کی مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ یہ کسی اندر کے بندے کی حرکت ہے۔‘‘
’’شاید یا پھر کسی نے گارڈ کو دھوکا دیا ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔ ویسے اس دیوار پر لکھا کیا گیا تھا؟‘‘
’’اپنی موت سے پہلے گھر چلی جائو۔‘‘
مائیک نے بغور سنا لیکن بولا کچھ نہیں۔
’’تمہارا کیا خیال ہے، کون مجھے مارنا چاہتا ہے؟‘‘
’’معلوم نہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مسٹر مائیک! مجھے بتائو کہ کیا میں واقعی خطرے میں ہوں؟‘‘
مائیک نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر…! یہاں ابراہم لنکن، مارٹن لوتھر جیسوں کو قتل کردیا گیا۔ یہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔‘‘ اس نے تھوڑا توقف کیا اور بولا۔ ’’تمہارے سوال کا جواب ہاں میں ہے… تم خطرے میں ہو۔‘‘
ایشلے چونکی لیکن اس نے مائیک پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ خوف زدہ ہے۔ وہ بے نیازی سے اٹھ کر کانفرنس روم میں چلی گئی جہاں تمام مشیر موجود تھے۔ ابھی گفتگو چل رہی تھی کہ اس کی سیکرٹری ڈورتھی نے دھڑ سے دروازہ کھولا اور دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ بولی۔ ’’بچوں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔‘‘
’’اوہ خدایا!‘‘ ایشلے گھبرا کر کرسی سے اٹھی۔
’’گاڑی کا الارم بجنا بند ہوگیا ہے، وہ ابھی زیادہ دور نہیں گئے۔‘‘
ایشلے دوڑتی ہوئی راہداری طے کرتی رابطے کے کمرے میں آئی۔ وہاں تقریباً آدھادرجن اہلکار سوئچ بورڈ کو گھیرے کھڑے تھے۔ کرنل کے ہاتھ میں مائیکروفون تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’راجر…میں ابھی میڈم ایمبیسڈر کو آگاہ کرتا ہوں۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ ایشلے لپک کر اس کے قریب پہنچی۔ اس کے منہ سے لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ ’’کہاں ہیں میرے بچے…؟‘‘
کرنل نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ’’بچے بالکل ٹھیک ہیں، شاید ان دونوں میں سے کسی نے غلطی سے ایمرجنسی بٹن کو ہاتھ لگا دیا تھا۔ گاڑی کی ایمرجنسی بتیاں جل اٹھی تھیں اور سائرن بجنے لگا تھا مگر جلد ہی پولیس کی گاڑیاں وہاں پہنچ گئیں، سائرن بجاتی ہوئی۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ ایشلے کی جان میں جان آئی۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل محسوس ہورہا تھا۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہوگئی۔
٭…٭…٭
بچے ان تمام حالات سے بے خبر تھے۔ وہ ان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگی تھی۔ وہ انہیں دیکھتی تو سوچتی کہ کیا ان سب کی زندگیاں خطرے میں ہیں؟ یہ ننھے پھول سے بچے جنہوں نے زندگی میں ابھی کچھ نہیں دیکھا تھا، کوئی انہیں
نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
ایک ہفتے بعد ایشلے نے پھر ڈاکٹر لوئس کے ساتھ ڈنر کیا۔ جب وہ اسے گھر تک چھوڑنے آیا تو ایشلے سے اس سے پوچھا۔ ’’کیا تم اندر آنا پسند کرو گے؟‘‘
’’بہت خوشی سے…!‘‘ وہ بولا۔
وہ لائونج میں داخل ہوئے تو بچے اپنا ہوم ورک کرنے میں مگن تھے۔ ایشلے نے ان کا تعارف کروایا۔ ڈاکٹر لوئس قالین پر روتھ کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا۔ ’’میری ایک بیٹی بالکل تمہاری ہم عمر تھی اور دوسری تم سے دو سال بڑی… اگر آج وہ ہوتیں تو بالکل تم جیسی پیاری اور سمجھدار ہوتیں۔‘‘
روتھ مسکرائی۔ ’’شکریہ…! وہ لوگ کہاں ہیں؟‘‘
ایشلے نے جلدی سے موضوع بدلا۔ ’’کیا آپ سب لوگ ہاٹ چاکلیٹ پینا پسند کریں گے؟‘‘
وہ سب ایمبیسی کے کشادہ کچن میں میز کے گرد بیٹھ گئے۔ ہاٹ چاکلیٹ کے ساتھ وہ مزے مزے کی باتیں کرنے لگے۔ بچے ڈاکٹر لوئس سے بہت جلد گھل مل گئے۔ وہ بھی ان کے ساتھ اتنا مصروف ہوگیا کہ اس نے ایشلے کو نظرانداز کردیا۔ وہ انہیں لطیفے، بچپن کی شرارتیں اور ایسی ہی مزیدار باتیں سنا کر ہنساتا رہا یہاں تک کہ آدھی رات ہوگئی۔
ایشلے نے اپنی گھڑی دیکھی۔ ’’ارے بچو…! اٹھو اٹھو … اس وقت تو تمہیں اپنے بیڈ میں ہونا چاہئے تھا۔‘‘
ٹام، ڈاکٹر لوئس کے قریب چلا گیا۔ ’’کیا آپ پھر ہم سے ملنے آئیں گے؟‘‘
’’ہاں… کیوں نہیں ٹام! اگر تمہاری ممی چاہیں گی۔‘‘
ٹام، ایشلے کی طرف مڑا۔ ’’کیوں مام…؟‘‘
ایشلے نے ڈاکٹر لوئس کی طرف دیکھا۔ ’’ہاں… ہاں ضرور!‘‘
بچے اپنے بیڈ روم میں چلے گئے۔ ایشلے اسے دروازے تک چھوڑنے گئی۔ وہ ہلکا سا خم ہوکر بولا۔ ’’میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ شام میرے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ میرے پاس اسے بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں۔‘‘
’’شکریہ…! مجھے خوشی ہوئی یہ سن کر۔‘‘ ایشلے نے اس کی آنکھوں میں اپنے لئے ایک کشش محسوس کی۔ اس نے جلدی سے اس کیلئے دروازہ کھولا۔ ’’گڈ نائٹ!‘‘
’’گڈ نائٹ…!‘‘ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
٭…٭…٭
اگلی صبح ایشلے اپنے آفس میں داخل ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک دیوار پر تازہ تازہ پینٹ ہوا ہے اور کمرے میں اس کی بو ابھی باقی ہے۔ درمیان والا دروازہ کھلا اور مائیک حسب معمول کافی کے مگ تھامے ہوئے اندر آیا۔ اس نے گڈ مارننگ کہہ کر کپ میز پر رکھے۔
ایشلے نے دیوار کی طرف دیکھا۔ ’’کیا پھر کسی نے دیوار پر کچھ لکھا ہے؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’اس مرتبہ ان کا پیغام کیا ہے؟‘‘
’’اس کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’اہمیت نہیں ہے!‘‘ ایشلے نے غصے سے دہرایا۔ ’’مگر میرے نزدیک اس کی اہمیت ہے۔ آخر سیکورٹی والے کیا کررہے ہیں؟ کوئی میرے آفس میں گھس کر مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ کیا لکھا ہے اس نے…؟‘‘
’’اس نے لکھا تھا کہ ابھی اور اسی وقت چلی جائو ورنہ موت کا انتظار کرو۔‘‘
ایشلے کی ٹانگوں میں کھڑے رہنے کی سکت نہیں رہی۔ وہ اپنی کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔ ’’تم بتا سکتے ہو کہ کوئی کس طرح سفارت خانے میںآتا ہے، میرے آفس میں داخل ہوتا ہے اور دیوار پر دھمکیاں لکھتا ہے اور کسی کو علم نہیں ہوتا۔‘‘
’’ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ اس کا پتا چلائیں۔‘‘
’’تم جو کچھ کررہے ہو، وہ کافی نہیں۔‘‘ ایشلے نے تلخی سے کہا۔ ’’میرے آفس کے دروازے پر رات بھی ایک گارڈ کو متعین کرو۔‘‘
’’میں سیکورٹی انچارج سے بات کرتا ہوں۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں کرنل سے خود بات کروں گی۔‘‘
’’جیسا تم چاہو۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر اٹھ گیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
ایشلے سوچنے لگی کہ کیا اس تمام واقعے کے پیچھے یہی شخص ہے جو روزاول سے اس کی مخالفت پر تلا رہتا ہے۔
کرنل نے اسے ہر ممکن یقین دلایا کہ سیکورٹی کو بہت سخت کیا جارہا ہے اور وہ خود ذاتی طور پر دلچسپی لے رہا ہے۔ بہت جلد وہ اس کا سراغ لگا لیں گے کہ اس کام میں کون ملوث ہے۔
٭…٭…٭
چند روز بعد ایشلے نے اپنی رہائش پر کچھ دوستوں کو ڈنر پر بلایا۔ ڈنر کے بعد جب تمام لوگ واپس چلے گئے تو ڈاکٹر لوئس تھوڑی دیر کیلئے رک گیا۔ پھر کچھ محتاط لہجے میں بولا۔ ’’کیا میں بچوں کو دیکھ سکتا ہوں؟‘‘
’’وہ سوئے ہوئے ہیں۔‘‘
’’میں انہیں جگائوں گا نہیں… میں انہیں صرف دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
ایشلے اسے اوپر لے گئی جہاں بچوں کے بیڈ روم تھے۔ وہ ٹام کے بیڈ روم کے دروازے پر کھڑا ہوکر کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر ایشلے اسے روتھ کے کمرے میں لے گئی۔ لوئس بہت آہستگی کے ساتھ اس کے بیڈ کی طرف بڑھا۔ اس کا کمبل سیدھا کیا۔ وہ اس کے بیڈ کے پاس بہت دیر تک کھڑا رہا۔ اس نے آنکھیں سختی سے بند کررکھی تھیں پھر وہ پلٹا اور دروازے سے باہر نکل آیا۔
’’بہت پیارے بچے ہیں۔‘‘ وہ کہنے لگا اور اس کے مقابل آکھڑا ہوا۔
ایشلے کی نگاہ اس کی نگاہ سے ٹکرائی۔ اس کی آنکھیں کچھ کہہ رہی تھیں۔ اسے اندازہ تھا کہ آنکھوں کے ذریعے یہ پیغام رسانی ضرور ہوگی۔ یہ کشش انہیں باندھ کر رہے گی۔
’’مجھے یہاں نہیں آنا چاہئے… یہاں آکر میں جیسے اپنی بیتی ہوئی زندگی کو پھر زندہ دیکھتا ہوں۔‘‘ تھوڑے توقف کے بعد وہ بھاری لہجے میں بولا۔ ’’شاید یہ میرا ماضی نہیں، میرا مستقبل ہے۔‘‘
٭…٭…٭
اگلی دفعہ ڈاکٹر لوئس سے ملاقات ہوئی تو وہ رخصت ہوتے ہوئے بولا۔ ’’میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ ایشلے نے اشتیاق سے پوچھا۔
وہ کچھ ہچکچایا۔ چند لمحے خاموش رہا۔ ’’میں اس ہفتے کے آخر میں پہاڑوں کی سیر کیلئے جارہا ہوں۔ کیا میں اس کی امید رکھوں کہ میری درخواست پر تم بھی میرے ساتھ چلو گی؟‘‘
’’ہاں…!‘‘ ایشلے کے منہ سے بغیر کسی توقف کے نکلا۔ وہ دل ہی دل میں کچھ پشیمان بھی ہوئی لیکن یہ سب اتنا ضروری اور اتنا آسان معلوم ہورہا تھا جیسے سانس لینا۔
ڈاکٹر لوئس کا چہرہ کھل اٹھا۔ اس نے چمکتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ادائے تشکر میں سر خم کیا۔
ایشلے رات دیر تک جاگتی رہی۔ اس نے ایڈورڈ کے ساتھ معمول سے زیادہ باتیں کیں۔ شاید اس وجہ سے بھی کہ دونوں کے درمیان جدائی کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ ایشلے کو لگ رہا تھا کہ وہ تمام زندگی خود کو ماضی سے باندھ کر نہیں رکھ سکتی۔ اسے مستقبل کی آواز پر اس کی جانب بڑھ جانا تھا۔ وہ ایڈورڈ کو بتا رہی تھی کہ ڈاکٹر لوئس اس کی زندگی میں اہم حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس جیسا تو نہیں لیکن اس کی اپنی ایک خاص شخصیت تھی۔ وہ بہادر تھا، مضبوط تھا اور قدر کرنے والا تھا۔ اسے بچوں سے محبت تھی۔ بچے بھی اسے پسند کرتے تھے۔ زندگی کی شاہراہ ابھی بہت لمبی تھی۔ اسے کسی کا ہاتھ تھام کر ہی اس پر چلنا ہوگا۔ وہ تنہا اس پر نہیں چل سکتی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی انگلی سے شادی کی انگوٹھی اتاری اور اسے دراز میں رکھ دی۔ ایک نئی ابتدا کیلئے ایک پرانی یاد کو بھلانا ضروری تھا۔
صبح وہ حسب معمول مائیک سلاڈی کے ساتھ کافی پیتے ہوئے سفارت خانے کے کچھ مسائل پر غور کررہی تھی۔ جب یہ سلسلہ ختم ہوا تو وہ کہنے لگا۔ ’’میں کچھ افواہیں سن رہا ہوں۔‘‘
’’صدر مملکت اور ان کی نئی محبوبہ کے بارے میں…؟‘‘ ایشلے نے اس کی طرف دیکھا۔
’’نہیں… تمہارے بارے میں!‘‘
ایشلے چونکی۔ ’’کیا واقعی…! کس قسم کی افواہیں؟‘‘
’’تم ڈاکٹر لوئس سے کچھ زیادہ ملاقاتیں کررہی ہو۔‘‘
ایشلے کے اندر غصے کی ایک لہر سی اٹھی۔ ’’میں جس سے بھی ملوں، اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
’’میڈم ایمبیسڈر! میں آپ کو اس کا فرق سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ جو کچھ بھی کرتی ہیں، اس سے سفارت خانے میں ہر شخص کو غرض ہے۔ یہاں ایک اصول پر سب کو سختی سے عمل کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کے ساتھ زیادہ میل جول نہ رکھا جائے۔


لوئس ایک غیر ملکی ہے۔ وہ دشمن کا ایجنٹ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
ایشلے اس کی بات سن کر اتنی پریشان ہوئی کہ اسے بات کرنا بھی محال ہوگیا۔ بمشکل اس نے چند الفاظ کہے۔ ’’تم ڈاکٹر لوئس کے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘
’’جس طرح وہ تم سے ملا ہے، وہ بہت مشکوک ہے۔ ایک فلمی ڈرامے بازی کہ ہیروئن بیچاری مشکل میں ہے اور کوئی شخص اچانک کہیں سے نمودار ہوتا ہے اور اسے دشمن سے بچا لیتا ہے، جس سے متاثر ہوکر وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ یہ بہت پرانی ترکیب ہے، میں نے خود کئی مرتبہ اس کو آزمایا ہے۔‘‘
’’مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم کیا کرتے رہے ہو اور کیا نہیں، وہ تمہارے مقابلے میں ہزار درجے بہتر ہے۔ وہ دہشت گردوں کے خلاف لڑتا رہا ہے جنہوں نے اس کی بیوی اور بچوں کو مار دیا۔‘‘
مائیک نے نرمی سے جواب دیا۔ ’’یہ بہت دلچسپ بات ہے۔ میں اس کی فائل دیکھ رہا تھا۔ تمہارے ڈاکٹر کی کبھی کوئی بیوی یا بچے نہیں تھے۔‘‘
٭…٭…٭
مائیک سلاڈی کی کسی بات کا اعتبار نہیں تھا۔ نہ ہی وہ اس سے خوف زدہ تھی۔ وہ ڈاکٹر لوئس کے ساتھ پہاڑوں پر جانے کا پروگرام بنا چکی تھی۔ اسے مائیک کی کوئی پروا نہیں تھی کہ وہ اس بارے میں کیا کہے گا یا اس کا ردعمل کیا ہوگا۔
وہ صبح صبح روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ بلندی کی طرف سفر کرنے لگے۔ وہ دوپہر کے قریب ایک چھوٹے سے ہوٹل میں پہنچے جسے قدیم طرز پر آراستہ کیا گیا تھا۔ اس کا نام شکاریوں کی تفریح گاہ تھا۔
’’یہاں کی خصوصی ڈشیں بہت سی ہیں لیکن ہرن کا گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’بہت خوب…! میں نے ہرن کا گوشت نہیں کھایا۔‘‘ ایشلے نے کہا۔
’’تو آج پھر چکھ کر دیکھو۔‘‘
اس نے کھانے کا آرڈر دیا۔ تمام ڈشیں بہت لذیذ تھیں۔ ڈاکٹر لوئس ایک پراعتماد ساتھی تھا۔ اس کی شخصیت میں تحفظ کا نرم گرم احساس تھا۔
ڈاکٹر لوئس نے اسے شہر سے اپنی گاڑی میں بٹھایا تھا۔ ’’میں نے سوچا کہ یہ بہتر رہے گا کہ سفارت خانے میں کسی کوپتا نہ چلے کہ تم کہاں جارہی ہو ورنہ کل یہ بات ہر ایک کی زبان پر ہوگی۔‘‘
اس نے گاڑی بھی اپنے ایک دوست سے لی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ ڈاکٹر لوئس ایک ماہر ڈرائیور تھا۔ وہ پرپیچ پہاڑی راستوں پر گاڑی بہت مہارت سے چلا رہا تھا۔ ایشلے کی جب بھی اس پر نگاہ پڑتی تو اسے مائیک سلاڈی کی باتیں یاد آجاتیں۔ کیا یہ شخص دشمن کا ایجنٹ تھا؟ کیا وہ اسے دھوکا دے رہا تھا؟ کیا اپنے بارے میں جو اس نے افسوسناک کہانی سنائی تھی، اس میں کوئی سچائی تھی یا وہ محض اس کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتا تھا۔
لیکن اسے مائیک سلاڈی کی باتوں پر یقین نہیں تھا۔ یہ شخص جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ اس نے ڈاکٹر لوئس کی آنکھوں میں جو کرب دیکھا تھا، وہ جھوٹا نہیں تھا۔ جب وہ اس کے بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو اس کا چہرہ سچ بولتا تھا۔ وہ اداکاری نہیں کرتا تھا۔
ہوا آہستہ آہستہ ہلکی ہوتی جارہی تھی، خنکی بڑھتی جارہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف سرسبز درخت اور ان کے تنوں پر چڑھی ہوئی پھولدار بیلیں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ فطرت کا یہ نظارہ اتنا حسین تھا کہ ایشلے اس میں کھو کر رہ گئی تھی۔
’’یہ جگہ شکار کیلئے بہت موزوں ہے… یہاں جنگلی جانور اور پرندے سبھی کی بہتات ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں نے کبھی شکار نہیں کھیلا۔‘‘
’’شاید میں تمہیں دکھا سکوں کہ شکار کس طرح کھیلا جاتا ہے۔‘‘
پہاڑی سلسلہ ان خوبصورت تصویروں کی طرح سے نظر آرہا تھا جو عموماً کارڈز پر ہوتی ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیاں، دھند اور بادلوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ سڑک سے کچھ دور ہری بھری چراگاہیں نظر آرہی تھیں، جہاں مویشی چر رہے تھے۔ بادل کچھ نیچے آرہے تھے اور دیکھنے میں نقرئی نظر آرہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہاتھ بڑھائیں گے تو انہیں چھو لیں گے۔
دوپہر تمام ہونے والی تھی کہ وہ اپنی منزل پر پہنچے۔ ڈاکٹر لوئس نے پہاڑوں پر واقع لکڑی سے بنے ایک خوبصورت ہوٹل میں کمرہ بک کروا رکھا تھا۔ وہ اندر گئی تو دل خوش ہوگیا۔ بیڈروم، لائونج اور ٹیرس تھا جہاں سے پہاڑی سلسلوں کا نظارہ اتنا حسین نظر آتا تھا کہ سانس رک جائے۔
ڈاکٹر لوئس نے مسکرا کر کہا۔ ’’زندگی میں پہلی بار میرے دل میں آرزو ابھری ہے کہ کاش! میں مصور ہوتا۔‘‘
’’یہ علاقہ بہت خوبصورت ہے۔‘‘
’’نہیں… میرا یہ مطلب نہیں۔‘‘ وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔ ’’میں تو تمہیں پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
ایشلے کچھ کہہ نہیں پائی۔ ڈاکٹر لوئس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ دونوں سولہ سترہ سال کے ہیں اور پہلی مرتبہ محبت میں مبتلا ہوئے ہیں۔ وہ جیسے سب کچھ فراموش کرچکی تھی۔ اسے صرف یہ یاد تھا کہ اس خوبصورت ماحول میں ایک ایسے ساتھی کے ساتھ تھی جو اس کے دل میں انوکھے ارمان جگا رہا تھا، اس کا دل جو ایڈورڈ کے بعد محبت کے سارے جذبوں کو بھول چکا تھا۔
ڈاکٹر لوئس کی وجہ سے تنہائی کا احساس مٹ چکا تھا۔ دل میں یہ اطمینان تھا کہ کوئی اس کا ساتھ دینے والا ہے، اس کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس پر وہ بھروسہ کرسکتی ہے۔ وہ کئی حصوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ ہرحصہ خوش اور مطمئن تھا۔
ڈاکٹر لوئس بھی کچھ اسی طرح اظہار کررہا تھا۔ ’’یہ بہت عجیب ہے… یہ ناقابل یقین معلوم ہورہا ہے۔ میں جیسے ایک مرتبہ پھر مکمل ہوگیا ہوں۔‘‘ اس نے گہرا سانس لیا۔ ’’دراصل رینی اور بچوں کے حادثے کے بعد میں جیسے خود بھی کسی آوارہ روح کی طرح بھٹکتا پھرتا تھا۔ میں خود کو بھول گیا تھا۔ میرا اپنا آپ ان لوگوں کے بغیر گم ہوچکا تھا۔‘‘
’’ہاں…! میں بھی ایڈورڈ کے بغیر نامکمل ہوگئی تھی۔‘‘ ایشلے نے سوچا مگر کہہ نہیں پائی۔
’’میں ہر اہم موقع پر رینی کی کمی محسوس کرتا رہا ہوں… میں اس کے بغیر بے بس ہوکر رہ گیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کھانا کیسے پکاتے ہیں، کپڑے کیسے دھلتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں اپنا بستر بھی خود نہیں ٹھیک کرسکتا تھا۔ دراصل ہم جیسے مرد اپنی بیویوں پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔‘‘
’’لوئس…! میں بھی ایڈورڈ کے بغیر اسی طرح بے بس اور بے سائبان ہوگئی تھی۔ ایڈورڈ میرے لئے جیسے میری چھتری تھا۔ جب اس کے بعد موسلادھار بارش ہوئی تو میں جیسے ڈوبتی چلی گئی اور کوئی مجھے تحفظ دینے والا نہیں تھا۔‘‘ ایشلے یہ کہتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کیا وہ اس سے پوچھے کہ واقعی اس کی کوئی بیوی اور بچے تھے یا وہ اس کو فریب دے رہا ہے۔
لیکن اس نے خود کو روک لیا۔ وہ جانتی تھی کہ جیسے ہی یہ سوال اس کے لب پر آئے گا، سب کچھ ختم ہوجائے گا، یہ طلسم ٹوٹ جائے گا اور مسرت و طمانیت کے یہ رنگ بکھر جائیں گے اور لوئس اسے کبھی معاف نہیں کرے گا کہ وہ بے اعتمادی کا شکار ہوئی۔
مائیک سلاڈی نے جو کچھ کہا تھا، وہ قابل اعتبار نہیں تھا۔ اصل حقیقت یہی تھی جو اس وقت اس کے سامنے تھی، اس کے قریب تھی اور اس کے دل میں ایک پھول کی طرح کھل رہی تھی۔
’’تم کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ لوئس اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
’’نہیں! کچھ نہیں۔‘‘ ایشلے نے جلدی سے جواب دیا لیکن اس کے دل میں یہ سوال بھی ابھر رہا تھا کہ لوئس سے پوچھے کہ حادثے کی رات وہ وہاں کیا کررہا تھا؟ اچانک وہاں کس طرح آگیا تھا اور پھر غائب کیوں ہوگیا تھا۔
انہوں نے بہت دیر تک پرپیچ پہاڑی راستوں کی ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے سیر کی۔ کھانا ٹیرس پر کھایا۔ اردگرد کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ تمام کھانے کھائے جو وہاں مقامی طور پر بنائے جاتے تھے، جو بہت لذیذ تھے۔ وہ ٹرام پر پہاڑی کی چوٹی تک گئے، کچھ دوسرے مہمانوں کے ساتھ تاش کھیلے اور رات کا کھانا کھانے کیلئے ایک دوسری پہاڑی پر گئے جہاں
انہوں نے ایک بڑے ڈائننگ ہال میں آگ کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا۔
چھت سے لکڑی کے فانوس لٹک رہے تھے، دیواروں پر شکار کئے ہوئے جانوروںکے حنوط شدہ سر لگے ہوئے تھے، سارا ہال موم بتیوں کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشوں سے پہاڑوں پر گرتی ہوئی برف بہت حسین لگ رہی تھی۔ سارا ماحول بہت خوبصورت اور رومانی تھا۔ ایک بہترین ماحول، ایک بہترین ساتھی کے ساتھ…!
یہ طلسم بہت جلد ٹوٹ گیا۔ واپسی کی گھڑی آگئی۔ یوں لگتا تھا سب کچھ ایک پل میں گزر گیا ہے۔ اس خوابوں ایسی رومانی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں لوٹنے کا وقت آگیا تھا۔ اغوا، دھمکیوں اور خوف سے بھری ہوئی دنیا…! لیکن اس کی طرف واپسی کا سفر بھی بے حد خوشگوار تھا۔
دونوں میں دوستی اور اعتماد بڑھ گیا تھا۔ ان کے ساتھ طمانیت اور آسودگی تھی۔ ڈاکٹر لوئس اس راستے سے شہر میں داخل ہوا جہاں سورج مکھی کے کھیت تھے۔ سورج مکھی کے سنہری پھول سورج کے ساتھ ساتھ رقص کررہے تھے۔ ایشلے کو یہ منظر بھا گیا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بھی ان پھولوں میں سے ایک پھول ہے جسے بالآخر سورج کی روشنی میسر آگئی ہے۔
دونوں بچے بے تابی سے اس کا انتظار کررہے تھے۔ روتھ نے چھوٹتے ہی کہا۔ ’’ممی…! کیا آپ ڈاکٹر لوئس سے شادی کررہی ہیں؟‘‘
ایشلے ٹھٹھک گئی۔ روتھ نے کتنی سادگی سے وہ بات کہہ دی تھی جسے وہ سوچنے سے بھی گھبراتی تھی۔
’’ابھی کچھ پتا نہیں۔‘‘ ایشلے اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی۔ ’’لیکن اگر میں ایسا کرلوں تو کیا تمہیں برا لگے گا؟‘‘
’’وہ ڈیڈی تو نہیں ہیں۔‘‘ روتھ مدھم لہجے میں بولی۔ ’’میں نے اور ٹام نے اس پر بات کی ہے۔ ہم ڈاکٹر لوئس کو پسند کرتے ہیں۔‘‘
’’میں بھی تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ ایشلے نے چپکے سے کہا۔
شام کو ڈاکٹر لوئس نے اس کیلئے ایک درجن سرخ گلاب شکریئے کے کارڈ کے ساتھ بھیجے۔ ایشلے ان پھولوں کی مہک کو اپنے گرد پھیلتے ہوئے محسوس کرکے سوچنے لگی کہ کیا وہ اپنی بیوی کو بھی اسی طرح پھول بھیجتا تھا؟ اگر واقعی اس کی بیوی اور بچے تھے!
آفس میں سیاسی مشیر ضروری گفتگو کیلئے آیا جو سی آئی اے کا ایجنٹ بھی تھا۔ وہ مسکرا کر بولا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر! آپ فٹ نظر آرہی ہیں۔ امید ہے آپ کی یہ چھٹیاں بہت اچھی گزری ہوں گی؟‘‘
’’شکریہ!‘‘ ایشلے نے مختصراً کہا اور ضروری گفتگو کے بعد اسے اچانک خیال آیا اور وہ اسے زبان پر لائے بغیر نہیں رہ سکی۔ ’’مجھے تم سے چھوٹا سا کام ہے۔‘‘
’’ضرور…! مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ وہ خوش اخلاقی سے بولا۔
ایشلے کو اس بارے میں سوال کرنا کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ اس نے کہا۔ ’’یہ کام کچھ ذاتی نوعیت کا ہے اس لئے تم تک محدود رہنا چاہئے۔ دیکھو مجھے ڈاکٹر لوئس کے بارے میں کچھ معلومات درکار ہیں… تم اس کو جانتے ہو نا؟‘‘
’’ہاں… ہاں…! کیوں نہیں۔ آپ کو اس بارے میں کس قسم کی معلومات درکار ہیں؟‘ (جاری ہے)