Shobday | last Episode 6

144
’’اس بارے میں معلوم کرنا ہوگا کہ کیا ڈاکٹر لوئس کبھی شادی شدہ تھا اور اس کے کتنے بچے تھے۔‘‘
’’کیا چوبیس گھنٹے اس کیلئے مناسب رہیں گے؟‘‘
’’ہاں یقیناً… شکریہ!‘‘
کچھ دیر بعد مائیک سلاڈی کافی لے کر آگیا۔ مائیک آج کچھ بدلا ہوا سا لگ رہا تھا مگر یہ تبدیلی کیا تھی، اس کا اندازہ نہیں ہورہا تھا لیکن ایشلے کے اندر یہ احساس تھا جیسے وہ جاسوسی کرتا رہا ہے کہ اس نے چھٹیاں کیسے گزاری ہیں۔
ایشلے نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔ ہمیشہ کی طرح کافی لذیذ تھی۔ ایک یہی کام تو ہے جو یہ شیطان کا چیلہ اچھا کرتا ہے۔ وہ اس کے مقابل بیٹھ کر سفارت خانے کے مسائل پر بات کرنے لگا جس میں اچھا خاصا وقت گزر گیا۔ ایشلے تھکن سی محسوس کرنے لگی۔
مائیک چلنے کیلئے اٹھتے ہوئے بولا۔ ’’آج رات ایک بیلے ڈانس ہونے والا ہے۔ کورینا اس میں پرفارم کرنے والی ہے… میرے پاس کچھ ٹکٹ ہیں، اگر آپ جانا پسند کریں تو!‘‘
ایشلے نے اس کا نام سن رکھا تھا۔ وہ ایک بہترین ڈانسر تھی لیکن اسے یاد تھا کہ جب مائیک نے لوک رقص کے ٹکٹ دیئے تھے تو کس قدر مصیبت آئی تھی اسی لئے اس نے معذرت کرلی۔ ویسے بھی اسے ایک سفارت خانے میں ڈنر پر جانا تھا اور اس کے بعد اس نے ڈاکٹر لوئس کو گھر پر بلا رکھا تھا کیونکہ وہ اس سے کسی ریستوران یا ہوٹل میں نہیں ملنا چاہتی تھی کہ لوگوں کی نگاہوں میں نہ آجائے۔ اسی لئے اس نے شکریے کے ساتھ مائیک کی پیشکش کو مسترد کردیا اور گھر آگئی لیکن اس کی طبیعت گری گری سی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اپنے بیڈ روم میں کچھ دیر سکون سے آرام کرے، سفارت خانے جانے کا ارادہ ترک کردے لیکن مجبوری تھی ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ وہ سفیر تھی اور اسے اپنے ملک کی نمائندگی کرنی تھی۔
جب وہ ڈنر سے واپس آگئی تو اس کا سر چکرا رہا تھا۔ وہ آرام کرنا چاہتی تھی اسی لئے اس نے ڈاکٹر لوئس سے بھی معذرت کرلی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ صبح تک ٹھیک ہوجائے گی لیکن صبح اس کی طبیعت اور بھی بگڑ گئی۔ اس کا سر بھاری تھا اور جیسے متلی سی ہورہی تھی۔ اس کا کوئی کام کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اس دوران صرف ایک بات نے اس کو ڈھارس دی اور اس کا دل مطمئن ہوگیا۔
خفیہ والوں کے ایجنٹ نے بتایا کہ ڈاکٹر لوئس کی شادی تیرہ سال رہی، یہاں تک کہ اس کے بیوی، بچے حادثے کی نذر ہوگئے۔ اس کی بیوی کا نام رینی اور دونوں بچیوں کے نام فلپا اور جینی تھے۔ یہ اطلاع ایشلے کیلئے جیسے ایک خوشخبری تھی۔ اسے حیرت تھی کہ مائیک سلاڈی نے اس کے ساتھ جھوٹ کیوں بولا تھا۔ کیا وہ حسد کا شکار تھا یا اس کے پیش نگاہ کوئی اور مقصد تھا۔
دوپہر تک ایشلے کی طبیعت بہت خراب ہوگئی۔ اس کی سیکرٹری نے میڈیکل اسٹور سے اس کیلئے دوا منگوائی لیکن اس نے کوئی اثر نہیں کیا۔ ڈورتھی اس کا چہرہ دیکھ کر بولی۔ ’’میڈم ایمبیسڈر! آپ کی طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے، آپ کو اپنے بستر میں ہونا چاہئے۔‘‘
’’نہیں شکریہ…! میں سنبھل جائوں گی۔‘‘
لیکن طبیعت کا سنبھلنا مشکل معلوم ہورہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے دن سو گھنٹے کا ہوگیا ہے۔ مختلف شخصیات اور وفود سے ملاقاتیں، فائلوں کا مطالعہ اور دن کے آخر میں ڈنر…!
سب کچھ بے حد تھکا دینے والا تھا۔ جب وہ اپنے بستر پر لیٹی تو اس کا سارا بدن یوں تپ رہا تھا جیسے بخار ہو۔ وہ کچھ دیر سوئی لیکن ڈرائونے خوابوں نے اسے جگا دیا۔ وہ ٹھنڈے پسینے میں بھیگی ہوئی تھی۔ اس نے کمبل اتار پھینکا لیکن فوراً ہی سردی سے اس کے دانت بجنے لگے۔
’’اوہ خدایا…! یہ مجھے کیا ہورہا ہے؟‘‘ اس نے پریشانی سے سوچا اور تمام رات جاگتی رہی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ سو گئی تو پھر بھیانک خواب اسے گھیر لیں گے۔
صبح وہ بمشکل آفس جانے کیلئے تیار ہوئی۔ مائیک سلاڈی اس کے انتظار میں تھا۔ اس نے غور سے ایشلے کی طرف دیکھا۔ ’’تمہاری طبیعت اچھی نہیں لگ رہی، تمہیں ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ ایشلے نے سردمہری سے کہا۔ اس کے ہونٹ خشک ہورہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔
مائیک نے کافی کی پیالی اس کے سامنے رکھی اور کسی مسئلے پر بات کرنے لگا۔ ایشلے کوشش کررہی تھی کہ اس کی بات پر توجہ مرکوز کرسکے لیکن اس کی آواز اسے درست طور پر سنائی نہیں دے رہی تھی۔ کبھی اس کی آواز ڈوبنے لگتی اور کبھی سنائی دینے لگتی۔
دن بھر وہ بڑی کوشش سے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی کہ اپنا کام جاری رکھ سکے لیکن شام تک اس کا ٹمپریچر بہت بڑھ گیا۔ اس کے تمام جسم میں ناقابل برداشت درد ہونے لگا۔ اسے یوں لگا جیسے وہ مر رہی ہے۔ اس نے بمشکل گھنٹی بجائی۔
ملازمہ اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گئی۔ ’’میڈم ایمبیسڈر! یہ کیا…؟‘‘
’’یہ نمبر لو اور جلدی سے ڈاکٹر لوئس کو فون کرو۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ غافل سی ہوگئی۔
پھر جیسے کسی نے اسے ہوشیار کیا۔ اس نے بڑی کوشش سے آنکھیں کھولیں، انہیں کئی بار جھپکایا۔ اسے اپنے بیڈ کے پاس دو دو ڈاکٹر لوئس کھڑے ہوئے نظر آئے۔ وہ اس پر جھکا۔ ’’اوہ خدایا… ایشلے! یہ تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘
ڈاکٹر لوئس نے اس کا ماتھا چھوا۔ ’’تمہیں تو بہت بخار ہے… تم نے ٹمپریچر لیا ہے؟‘‘
’’نہیں…! میں نہیں جاننا چاہتی۔‘‘
وہ اس کے بیڈ کی پٹی پر بیٹھ گیا۔ ’’تمہاری یہ حالت کب سے ہے؟‘‘
’’کچھ دنوں سے…! میرا خیال ہے یہ کوئی وائرس ہے۔‘‘
ڈاکٹر لوئس نےاس کی نبض دیکھی۔ وہ بہت آہستہ چل رہی تھی۔ اس نے جھک کر اس کی آنکھوں کے پپوٹے کھول کر دیکھے۔ ’’کیا تم پیاس محسوس کررہی ہو؟‘‘
ایشلے نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس میں بولنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔
’’کیا تمہیں درد، متلی اور ابکائی کی شکایت محسوس ہورہی ہے؟‘‘
’’ہاں…! یہ سب ہے۔ لوئس! مجھے بتائو مجھے کیا ہورہا ہے؟‘‘
’’کیا تمہیں یاد ہے کہ تم نے کوئی چیز کھائی ہو جس کے بعد تمہیں یہ تکلیف شروع ہوئی ہے؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
’’تم ناشتہ بچوں کے ساتھ گھر پر کرتی ہو؟‘‘
’’عموماً…!‘‘
’’انہیں تو کوئی ایسی شکایت نہیں؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
’’کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تم مسلسل کچھ کھاتی ہو ہر روز؟‘‘
ایشلے میں بات کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ڈاکٹر لوئس چلا جائے، اس سے کوئی بات نہ کرے۔ نقاہت سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
ڈاکٹر لوئس نے زور سے اس کا شانہ ہلایا۔ ’’ایشلے…! جاگو، آنکھیں کھولو… میری بات غور سے سنو۔ کیا یہاں کوئی ایسا شخص ہے جس کے ساتھ تم بلاناغہ کھاتی پیتی ہو؟‘‘
’’نہیں… یہ کوئی وائرس ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ وہ بیزاری سے بولی۔
’’نہیں… یہ وائرس نہیں ہے۔ کوئی تمہیں زہر دے رہا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ یہ بات اس کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برس گئی۔ اس نے بند ہوتی ہوئی آنکھوں کو پوری طرح سے کھول دیا۔ ’’نہیں… ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’یہ آرسینک زہر کا اثر ہے۔ ساری علامات وہی ہیں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔
ایشلے خوف سے لرز سی گئی۔ ’’کون… کون… مجھے زہر دے رہا ہے؟‘‘
ڈاکٹر لوئس نے تسلی کیلئے اس کا بازو تھپتھپایا۔ ’’ایشلے…! سوچو، غور کرو کہ کہیں کوئی ایسا معمول ہے جہاں ہر روز تم کچھ کھاتی یا پیتی ہو؟‘‘
’’اوہ… کافی!‘‘ ایشلے کو اچانک یاد آیا۔ ’’میرا ڈپٹی مائیک سلاڈی ہر روز میرے لئے کافی بناتا ہے… میرے ساتھ ہی پیتا ہے مگر وہ مجھے کیوں مارنا چاہے گا؟‘‘
’’وہ تم سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر لوئس نے کہا۔ پھر بولا۔ ’’جو بھی ہے، سب سے پہلے تو تمہیں علاج کی ضرورت ہے مگر شاید تمہارا سفارت خانہ اس کی اجازت نہ دے کہ تمہیں اسپتال لے جایا جائے کیونکہ میں غیر ملکی ہوں، میں
تمہارا یہیں پر علاج کرتا ہوں۔ تمہاری زندگی کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔ میں چند منٹ میں آتا ہوں۔‘‘
ایشلے وہیں بے بسی کے عالم میں لیٹی رہی، پریشان حال…! مائیک سلاڈی اپنے حسد میں اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ اس کی جان لینے کے درپے ہوگیا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے وہ ایک مرتبہ پھر غنودگی کے عالم میں چلی گئی۔ پھر وہ ڈاکٹر لوئس کی آواز سے ہوشیار ہوئی۔
اس نے دیکھا کہ وہ اس کو انجکشن لگا رہا ہے۔ ’’میں تمہیں یہ انجکشن لگا رہا ہوں جو آرسینک زہر کا اثر زائل کردیتا ہے۔ ایک انجکشن تمہیں صبح دوں گا… تم ٹھیک ہوجائو گی۔‘‘
ایشلے کچھ کہنے سے پہلے ہی سو چکی تھی۔
ڈاکٹر لوئس نے شام اور صبح اسے دو انجکشن لگائے۔ ان کا اثر حیرت انگیز تھا۔ آہستہ آہستہ تمام تکلیفیں دور ہوگئیں اور ایشلے خود کو تندرست محسوس کرنے لگی۔
’’یہ تم نے میری دوسری مرتبہ جان بچائی ہے۔‘‘ ایشلے نے ممنون لہجے میں کہا۔
ڈاکٹر لوئس نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ میں وقت پر پہنچ گیا ورنہ نہ جانے کیا ہوجاتا مگر اب تمہیں یہ دیکھنا ہے کہ تمہیں کون زہر دے رہا تھا۔‘‘
’’مجھے یقین ہے کہ وہ مائیک سلاڈی ہے۔‘‘ ایشلے نے اظہارخیال کیا۔
’’ہوں… میں اس سے بات کروں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا۔ ’’وہ کیوں تمہاری زندگی سےکھیل رہا ہے… آخر اس کے پیچھے کون ہے؟‘‘
ایشلے کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ مائیک کے بارے میں کس کو بتائے۔ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ وہ بہت دیر تک اس پر غور کرتی رہی۔ بالآخر اسے ایک ہی حل سمجھ میں آیا۔ ایمبیسی کی گاڑی لئے بغیر وہ ٹیکسی لے کر ایمبیسی پہنچی اور گارڈ سے کہہ کر کہ اسے آفس میں کچھ کام ہے، اپنے آفس میں داخل ہوگئی۔ اس نے لائٹ جلائی اور وہ درمیانی دروازہ دھکیلا جو مائیک سلاڈی کے آفس میں جاتا تھا۔
اس نے لائٹ جلائی اور بڑی احتیاط سے اس کے ڈیسک کے دراز دیکھنا شروع کئے۔ ان میں سے کچھ بالکل خالی تھے، کچھ میں بروشر، ٹائم ٹیبل اور اسی قسم کے کاغذات تھے۔ یقیناً یہیں پر وہ ثبوت مل سکتا تھا جو اس کی شکایت کو حقیقی ثابت کرسکتا تھا۔ اس نے ایک ایک دراز کی احتیاط سے تلاشی لینی شروع کی۔ ایک دراز میں کاغذات کے ڈھیر کے پیچھے اسے ایک سخت سی چیز محسوس ہوئی۔ اس نے جلدی سے وہ چیز باہر نکالی اور ٹھٹھک کر دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔
وہ سرخ رنگ کے اسپرے کا ڈبہ تھا۔ اس نے جلدی جلدی دوسرے دراز دیکھے۔ جلد ہی اسے ایک چھوٹا سا پیکٹ مل گیا جس میں کیڑے، مکوڑوں کو مارنے والی دوا تھی۔ ایشلے جانتی تھی کہ اس دوا میں آرسینک زہر کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ ایشلے کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے ذہن میں راجر کا نام آیا۔ اسے جلد ازجلد راجر کو خبر کرنی چاہئے۔ وہ صدر مملکت سے قریب تھا، وہی مائیک سلاڈی کے خلاف کارروائی کرسکتا تھا، اسے واپس بلا سکتا تھا۔
اگلے دن ’’ببل روم‘‘ میں ایشلے نے راجر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن معلوم ہوا کہ وہ صدر مملکت کے ساتھ غیر ملکی دورے پر ہے۔ اس سے بات کرنے کا موقع نہیں مل سکتا۔
ایشلے کا دل ڈوبنے لگا۔
وہ مایوسی کے عالم میں سوچ رہی تھی کہ رابطے کے ہر جدید طریقے کے باوجود وہ راجر سے بات نہیں کرسکتی تھی۔ وہ چند روز بعد واپس آنے والے تھے۔ اس دوران اگر مائیک سلاڈی اسے ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگیا تو کسی کو کیسے پتا چلے گا کہ وہ اس کا قاتل ہے۔ اسے کسی نہ کسی کو ضرور اس کی خبر کرنی چاہئے لیکن کس کو؟ سوائے ڈاکٹر لوئس کے کوئی اس کا گواہ نہیں تھا۔
اسے لوئس کے ساتھ اس سلسلے میں رابطہ کرنا چاہئے۔ گھر واپس پہنچ کر اس نے ڈاکٹر لوئس کو فون کیا لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا۔ وہ بہت دیر تک اس کے فون کی گھنٹی بجاتی رہی لیکن لاحاصل…! آخر اس نے ڈاکٹر لوئس کے سفارت خانے فون کیا لیکن انہیں بھی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔
ابھی اس نے ریسیور رکھا نہیں تھا کہ دروازہ کھلا۔ مائیک سلاڈی اندر داخل ہوا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اس کے ڈیسک کے قریب آرہا تھا۔ ایشلے کا دل بیٹھنے لگا۔
’’تم کس سے بات کررہی ہو؟‘‘ وہ بولا۔
’’ڈاکٹر لوئس سے!‘‘ ایشلے نے جلدی سے جواب دیا اور ریسیور رکھ دیا۔ مائیک سلاڈی کو دیکھ کر اس کے اندر خوف کی لہر بڑھتی جارہی تھی۔ اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ وہ اس پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ اس سے خوف زدہ ہے۔ ویسے بھی سفارت خانے کے اندر وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔
’’ڈاکٹر لوئس سے…!‘‘ مائیک سلاڈی نے آہستگی سے دہرایا۔
’’ہاں…! وہ تھوڑی دیر میں مجھ سے ملنے آرہا ہے۔‘‘
مائیک کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شے تھی جس کو سمجھنا مشکل لگ رہا تھا۔ ایشلے کے ڈیسک کا لیمپ روشن تھا جس سے مائیک کا سایہ سامنے کی دیوار پر پڑ رہا تھا جو اس سے کئی گنا بڑا اور ڈرائونا تھا۔
’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے کہ تم اپنے فرائض ادا کرسکو؟‘‘
’’ہاں، میں ٹھیک ہوں۔‘‘ ایشلے نے مضبوط لہجے میں کہا۔ وہ اس بے رحم قاتل کی جرأت پر حیران تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ مائیک سلاڈی جلد سے جلد یہاں سے چلا جائے لیکن وہ میز کے کچھ اور قریب آگیا۔
’’تم کچھ تنائو میں لگ رہی ہو… تم بچوں کے ساتھ جھیل کے علاقے میں کچھ روز کیلئے چلی جائو۔‘‘
تاکہ تم مجھے آسانی سے نشانہ بنا سکو۔ ایشلے نے دل ہی دل میں سوچا۔ اپنے ہی قاتل کو بالکل اپنے مقابل دیکھ کر وہ اتنی پریشان ہورہی تھی کہ اسے سانس لینا بھی محال ہوگیا تھا۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بجی۔ ایشلے کی جان میں جان آئی۔ اس نے ریسیور اٹھاتے ہوئے مائیک سے کہا۔ ’’میں معذرت چاہتی ہوں۔‘‘
’’ضرور…!‘‘ وہ چند لمحے ٹھہر کر اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دروازے سے باہر نکل گیا۔ اس کا سایہ بھی اس کے ساتھ چلا گیا۔
ایشلے فون کی طرف متوجہ ہوئی۔ دوسری طرف تعلقات عامہ کا مشیر تھا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر! مجھے افسوس ہے کہ میں ایک بے حد ہولناک خبر آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ ہمیں ابھی ابھی پتا چلا ہے کہ ڈاکٹر لوئس کو قتل کردیا گیا ہے۔‘‘
ایشلے کو لگا جیسے سارا کمرہ گھوم رہا ہے۔ اس نے بمشکل چند الفاظ ادا کئے۔ ’’کیا اس کی تصدیق ہوگئی ہے؟‘‘
’’جی میڈم! اس کا بٹوہ اس کی لاش پر سے ملا ہے۔‘‘
پرانی یادوں نے کسی طوفان کی طرح اس پر یلغار کردی۔ ایڈورڈ بھی تو اسی طرح اس سے بچھڑ گیا تھا اور اب لوئس بھی چھن گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے لیکن ایشلے نے انہیں ضبط کرلیا لیکن ان آنسوئوں میں اس کا دل بھیگا جارہا تھا۔ اس میں کچھ بولنے کی تاب نہیں تھی۔ ریسیور اس کے ہاتھ سے گرا جارہا تھا۔ وہ سکتے کی سی کیفیت میں سوچے جارہی تھی کہ آئندہ وہ خود کو اس امتحان میں نہیں ڈالے گی۔
اس کا قاتل مائیک سلاڈی کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا۔ لوئس نے کہا تھا کہ وہ مائیک سے اسے زہر دینے کے بارے میں بات کرے گا۔ یقیناً یہی اس کا جرم بن گیا تھا اسی لئے وہ عجیب انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا کہ وہ ڈاکٹر لوئس سے بات کررہی ہے کیونکہ وہ اس کو قتل کرچکا تھا۔
ایشلے کا دل اب بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ لوئس مر چکا ہے۔ اس کی باتیں، اس کی یادیں اس کے دل میں زخم لگا رہی تھیں۔ وہ دکھی تھی لیکن اپنا یہ دکھ کسی کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی تھی۔ دروازہ کھلا اور اس کی سیکرٹری ڈورتھی اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ اس نے لفافہ میز پر رکھ دیا۔ ’’میڈم…! یہ لفافہ کوئی لڑکا گیٹ پر کھڑے گارڈ کو دے گیا ہے کہ وہ آپ کو دے دے۔‘‘ لفافے پر ذاتی لکھا ہوا تھا۔ ایشلے نے لفافہ کھولا۔ اندر ایک صاف اور خوشخط تحریر تھی۔
’’ڈیئر میڈم ایمبیسڈر…! آج اس زمین پر تمہارا آخری دن ہے۔ اینجل!‘‘
ایشلے اسے دیکھ کر
گھبرائی نہیں۔ یقیناً یہ مائیک سلاڈی کی کوئی اور چال تھی۔ وہ اس کو خوف زدہ کرکے یہاں سے بھگانا چاہتا تھا لیکن وہ اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی، وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ ایشلے نے سیکورٹی انچارج کرنل کو یہ خط دکھایا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر فکرمندی سے بولا۔ ’’میڈم…! آج تو آپ کو لائبریری کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔ میں اس تقریب کو ملتوی کردیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں… اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ ایشلے نے مضبوط لہجے میں کہا۔
’’میڈم…! میرا خیال ہے کہ آپ اپنی زندگی کو اس طرح خطرےمیں نہ ڈالیں۔‘‘
’’یہ میرا فرض ہے کرنل…! میں یہاں اپنے ملک کی نمائندگی کررہی ہوں… میں کسی الماری میں جاکر نہیں چھپ سکتی کہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اگر میں اس طرح ڈر کر بیٹھ گئی تو میں کبھی کسی خطرے کا سامنا نہیں کرسکوں گی۔ اس سے تو بہتر ہے کہ میں گھر واپس چلی جائوں لیکن کرنل… میں یہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں گھر نہیں جائوں گی۔ میں ان دشمنوں کا مقابلہ کروں گی۔‘‘
ایشلے کی اس بہادری نے کرنل کو خاموش کردیا۔ وہ سر جھکا کر بولا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر…! آپ کی سیکورٹی کا بہترین انتظام کیا جائے گا۔‘‘
اور ایسا ہی ہوا۔ اسے سخت سیکورٹی میں وہاں پہنچایا گیا۔ وہاں دو گارڈ اس کے ہمراہ تھے اور دو اس کے پیچھے موجود تھے۔ چھت پر بھی گارڈ مستعد کھڑے تھے۔ ایشلے کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ اس نے جرأت سے کام لیا تھا لیکن خوف سے اس کا دل خالی نہیں تھا۔ وہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ سوچ رہی تھی کہ تقریر کس طرح کرے گی۔ یوں لگتا تھا جیسے کہیں نہ کہیں سے کوئی قاتل نکل کر اس پر حملہ کردے گا۔
کرنل بالکل اس کے ساتھ ساتھ تھا۔ اسی نے اعلان کیا کہ اب سفیر صاحبہ خطاب فرمائیں گی۔ ایشلے نے گلا صاف کیا اور کوشش کی کہ اس کے اندر کی کیفیت کسی پر عیاں نہ ہو۔ اس نے بہترین الفاظ کا انتخاب کیا اور حاضرین کو مخاطب کرنا شروع کیا۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ سیکورٹی کے لوگ حاضرین کے درمیان آہستہ آہستہ حرکت کررہے تھے۔ ایشلے کا اعتماد بحال ہونے لگا تھا۔ اس کے ذہن میں یہ تصور توانا ہورہا تھا کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کررہی ہے۔ اس کے دل سے خوف نکل گیا تھا۔
سڑک پر دروازے کے قریب اچانک ایک تیز رفتار گاڑی بڑھتی چلی گئی۔ پولیس کی رکاوٹوں کو توڑتی ہوئی آگے آکر اس نے اتنی زور سے بریک لگائے کہ دور تک گھسٹنے کی آواز چاروں طرف پھیل گئی۔ ایک گارڈ اس کی طرف دوڑا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا۔ ایک شخص نے بجلی کی سی تیزی سے باہر چھلانگ لگائی۔ گاڑی سے دور بھاگتے ہوئے اس نے جیب سے کوئی آلہ نکال کر اس کا بٹن دبایا۔ کار زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹی اور فضا میں چھوٹے چھوٹے دھاتی ٹکڑوں کا مینہ برسنے لگا۔ لوگ بدحواسی میں دوڑنے، بھاگنے لگے۔ چھت پر موجود گارڈ نے رائفل سے نشانہ لیا اور بھاگتے ہوئے حملہ آور کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔
گارڈز نے دوڑ کر ایشلے کو گھیرے میں لے لیا۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ دھات کا کوئی ایک ٹکڑا بھی اس تک نہیں پہنچا تھا۔ اسے جلدی سے حفاظت کے ساتھ گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔
کرنل نے کار کے شیشے میں سے پوچھا۔ ’’کیا آپ گھر جانا پسند کریں گی؟ یہ تجربہ بہت خوفناک ہے۔‘‘ اس نے اردگرد زخمی لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جن میں سے بہت سے اپنے ہی خون میں نہائے ہوئے تھے۔
’’نہیں… میں آفس جائوں گی۔‘‘ ایشلے نے قطعی لہجے میں کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ صرف آفس ہی ایک جگہ ہے جہاں وہ راجر سے بات کرسکتی تھی تاکہ اس کا پیغام صدر مملکت تک بھی پہنچ جائے۔
ایشلے کے ذہن پر بہت بوجھ تھا۔ خط میں جو پیغام دیا گیا تھا، اس دھمکی کو حقیقت بنا دیا گیا تھا۔ مائیک سلاڈی کو کسی کا خوف نہیں رہا تھا۔ وہ کھل کر کھیلنے لگا تھا۔ آج وہ ہر ممکن کوشش کرے گی کہ راجر سے اس کے بارے میں بات کرے۔
آفس پہنچ کر اس نے راجر کی سیکرٹری کو پھر پیغام دیا کہ جتنی جلد ہوسکے، وہ اس سے بات کرے۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی لائن پر آ موجود ہوگا۔ ڈورتھی دوڑتی ہوئی آئی۔ ’’میڈم… میڈم… مسٹر راجر لائن پر ہیں۔ وہ ابھی آپ سے ’’ببل روم‘‘ میں بات کریں گے۔‘‘
ایشلے تیز قدموں سے ’’ببل روم‘‘ میں پہنچی۔ وہ بیک وقت غصے اور تاسف کے جذبات سے بے حال ہورہی تھی۔ اس نے گہرے گہرے سانس لے کر خود کو سنبھالا اور تحمل سے بات کرنے کی کوشش کی۔ ’’اوہ راجر…! کیا تمہیں میرا کیبل پیغام نہیں ملا؟‘‘
’’نہیں… میں ابھی واپس آیا ہوں تو سیکرٹری نے تمہارا پیغام دیا کہ تم بات کرنا چاہتی ہو۔ خیریت…؟‘‘
ایشلے کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں سے شروع کرے۔ اس نے خود پر قابو پایا اور صاف ہی کہہ دیا۔ ’’مائیک سلاڈی مجھے قتل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘
ادھر چند لمحے کی خاموشی کے بعد راجر بولا۔ ’’ایشلے… کیا واقعی…؟ یہ تو ناقابل یقین ہے۔‘‘
’’نہیں… یہ سچ ہے۔ میرے ایک دوست ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ مجھے سست روی سے زہر دیا جارہا تھا۔ اس نے ہی میری زندگی بچائی لیکن اسی جرم میں ڈاکٹر کو قتل کردیا گیا۔‘‘
’’لیکن تمہیں اس کا کیسے یقین ہے؟‘‘ اس کا لہجہ تیز تھا۔
ایشلے نے اسے تمام تفصیل سے آگاہ کیا تو وہ بولا۔ ’’ایشلے! میری بات غور سے سنو کہ سلاڈی کے علاوہ کوئی اور بھی اس میں شریک ہے۔‘‘
’’نہیں… وہ شروع سے ہی میری نامزدگی کے خلاف تھا۔ وہ مجھے واپس چلے جانے کو کہہ چکا ہے۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے، میں صدر مملکت سے بات کرتا ہوں۔ اس دوران تمہاری حفاظت کا خصوصی انتظام کیا جائے گا اور میں کرنل سے کہہ دوں گا کہ آئندہ احکامات تک وہ اس کو نظربندی کی حالت میں رکھے۔‘‘
’’شکریہ راجر…! اگر یہ شخص مجھ سے دور رہے تو میرا خیال ہے کہ مجھے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ ہاں… میں یوم جمہوریہ پر اپنی رہائش گاہ پر ایک پارٹی دے رہی ہوں، کارڈ بھی تقسیم ہوچکے ہیں، کیا اس کو ملتوی کردوں؟‘‘
راجر خاموشی کے غیر معمولی وقفے کے بعد بولا۔ ’’نہیں… اب تمہیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کرنل تمہارا بھرپور خیال رکھے گا۔ تم پارٹی ملتوی نہ کرو۔ ہم جلد سلاڈی کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘
’’شکریہ راجر…!‘‘ ایشلے نے اطمینان کا گہرا سانس لے کر کہا۔
’’میں تمہارے ساتھ رابطہ رکھوں گا۔‘‘
٭…٭…٭
’’یوم جمہوریہ‘‘ کی صبح سے ایشلے کی رہائشگاہ پر عجیب افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ فرش صاف کئے جارہے تھے، قالین جھاڑے جارہے تھے، جھاڑ فانوس کو چمکایا جارہا تھا، پردے بدلے جارہے تھے، کچن میں کھانے تیار ہورہے تھے۔ ہر جگہ ملازمین بری طرح سے مصروف تھے۔ سجاوٹ کرنے والے لوگ بھی آچکے تھے۔ غباروں میں گیس بھری جارہی تھی۔ ملک کے جھنڈے جگہ جگہ لہرائے جارہے تھے اور دوسری آرائشی چیزیں مناسب جگہوں پر سجائی جارہی تھیں۔
ایشلے اپنے آفس میں ضروری کام نمٹا رہی تھی لیکن اس کا ذہن پارٹی میں ہی پھنسا ہوا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس پارٹی کو ملتوی ہی کردیا جاتا تو بہتر تھا مگر اب تو کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ دو سو مہمانوں کو کارڈ تقسیم کئے جاچکے تھے۔ اسے کامیاب بنانا اب اس کی ذمہ داری تھی۔ مائیک کی طرف سے اسے اطمینان تھا کہ اب تک کرنل نے اسے قابو کرلیا ہوگا۔
اچانک آفس کا درمیانی دروازہ کھلا اور مائیک سلاڈی نے ایشلے کے آفس میں قدم رکھا۔
’’اوہ خدایا…!‘‘ ایشلے سن سی ہوگئی۔ اس نے تیزی سے کہا۔ ’’راجر نے تمہاری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ کرنل کے بندے تمہیں تلاش کررہے ہیں۔ اگر تم مجھے مارنے کی کوشش کرو گے تو تم بھی بچ نہیں سکتے۔ سب کچھ صدر مملکت کو بتا دیا گیا ہے۔‘‘
’’تم کچھ زیادہ ہی جاسوسی کہانیاں پڑھنے لگی ہو۔‘‘ اس نے مذاق


اڑایا۔
’’یہ کہانی نہیں حقیقت ہے۔ تم مجھے کافی میں زہر دیتے رہے ہو، تم نے ڈاکٹر لوئس کو قتل کیا ہے کیونکہ اسے اس بات کا پتا چل گیا تھا۔ تم نے ہی اس روز دھماکا کروایا تھا۔ تم قاتل ہو، تم قاتل ہو…! تم کسی کو دھوکا نہیں دے سکتے، تم انکار نہیں کرسکتے۔‘‘
مائیک چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’ہاں… میں انکار نہیں کرسکتا مگر اصل حقیقت کیا ہے، یہ میرا ایک دوست تمہیں بتائے گا کیونکہ میری بات پر تو تمہیں یقین نہیں آئے گا۔‘‘ اس نے دروازے کی طرف پلٹ کر کہا۔ ’’آجائو کرنل…!‘‘
ایشلے کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ’’کیا تم بھی…؟‘‘ وہ اپنی بات مکمل نہیں کرسکی اور کرنل کی طرف دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ اس کا چہرہ سپید پڑ گیا تھا۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ دونوں اس کی جان لے کر ہی رہیں گے۔
’’میڈم ایمبیسڈر…! خوف زدہ نہ ہو۔ ہم آپ کے دوست ہیں، دشمن نہیں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ جب صدر مملکت نے آپ کو سفیر چنا تو کیا ہوا؟‘‘
ایشلے متوجہ ہوئی اور مائیک سلاڈی کہنے لگا۔ ’’صدر نے تمہارا انتخاب اس لئے کیا تھا کہ تم خوبصورت اور پرکشش ہو، تمہارے دو پیارے پیارے بچے ہیں۔ تم ایک حسین دانشور خاتون اس معیار پر بالکل پوری اترتی تھیں، جو وہ چاہتے تھے لیکن صدر مملکت کے اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی مخالف جماعت اس منصوبے کو ہر حال میں ناکام بنانے پر تلی ہوئی تھی تاکہ آئندہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کبھی نہ قائم ہوسکیں کیونکہ ان میں کچھ اور ملکوں کا مفاد بھی پوشیدہ تھا۔ جب تم نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا کیونکہ تم اپنے شوہر سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتی تھیں تو اسی دہشت گرد تنظیم نے ایک مصنوعی حادثے کے ذریعے تمہارے شوہر کو راستے سے ہٹا دیا تاکہ تمہارے پاس انکار کرنے کی کوئی وجہ نہ رہے۔‘‘
’’اوہ میرے خدا…! یہ لوگ اتنے سنگدل بھی ہوسکتے ہیں؟‘‘ ایشلے کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
مائیک نے ایک ٹشو اس کی طرف بڑھایاپھر تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’جب تم نےیہ عہدہ قبول کرلیا تو انہوں نے تمہیں خوب پبلسٹی دی۔ ہر جگہ تمہاری تصویریں، انٹرویو اور پریس کانفر.نسز اتنی کثرت سے کی گئیں کہ تم ایک مشہور شخصیت بن گئیں۔ لوگ تمہیں پسند کرنے لگے اور ملک کی ساکھ تم سے وابستہ ہوگئی تو اب…!‘‘
’’اب… اب کیا؟‘‘
’’اب ان کا یہ منصوبہ ہے کہ تمہیں اور تمہارے بچوں کو کسی تقریب میں بلا کر ہلاک کردیا جائے۔ تمام لوگ جو تمہارے پرستار ہیں، ان کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں اور اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان بننے والے سفارتی تعلقات کو ختم کردیا جائے۔‘‘
مائیک کا ایک ایک لفظ ایشلے کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ وہ سکتے کی سی کیفیت میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ عہدہ ایڈورڈ اور اس کے سارے خاندان کا قاتل ہوسکتا تھا۔
اب مائیک کے بجائے کرنل بتانے لگا۔ ’’تمہارے شوہر کے حادثے کے بعد مائیک نے فیصلہ کیا کہ وہ خفیہ طور پر دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات پیدا کرے تاکہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرسکے اور ان کی سرگرمیوں کی ہمیں خبر ہوسکے۔ صدر مملکت بھی اس سے باخبر ہیں۔‘‘
ایشلے نے حیرت سے مائیک کی طرف دیکھا۔ ’’لیکن یہ تو مجھے مارنا چاہتا تھا۔ اس نے مجھے زہر دیا، اس نے دیوار پر دھمکیاں لکھیں۔‘‘
’’خاتون… خاتون…! میں یہ سب کچھ اس لئے کررہا تھا کہ میں تمہاری زندگی بچانا چاہتا تھا۔ میں نے ہر طریقہ آزمایا کہ تم اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے چلی جائو اور محفوظ ہوجائو۔‘‘ وہ بولا۔
’’تم نے ڈاکٹر لوئس کو قتل کیا؟‘‘ ایشلے نے ملامت بھرے انداز میں کہا۔
’’ڈاکٹر بھی دہشت گردوں کا ساتھی تھا۔ تمہارے اغوا کا ڈرامہ انہوں نے ہی رچایا تھا تاکہ وہ تمہارے قریب آسکے اور وہ اس میں کامیاب رہا۔‘‘
’’لیکن اس نے میری جان بچائی… اس نے زہر کا اثر دور کیا جو تم مجھے دے رہے تھے۔‘‘
’’اس لئے کہ ان کا منصوبہ تمہیں ایک بڑی تقریب میں ہلاک کرنا تھا تاکہ وہ بڑی خبر بن سکے چونکہ اسے بہت سی باتیں پتا چل چکی تھیں اس لئے اس کا زندہ رہنا خطرناک ہوسکتا تھا۔‘‘
ایشلے کا سر چکرا رہا تھا۔ یہ سب کیا تھا…؟ یہاں چیزیں کتنی مختلف تھیں۔ نظر کچھ اور آتا تھا جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ وہ جسے قاتل سمجھتی تھی، وہ اس کا محافظ تھا اور جسے وہ اپنا محبوب سمجھ رہی تھی، وہ اس کیلئے ایک ڈرامائی موت کی تیاری کررہا تھا۔
’’اور اس کے بیوی، بچے جن کیلئے وہ بہت پریشان رہتا تھا؟‘‘ ایشلے نے پوچھا۔
’’وہ سب ڈرامے بازی تھی۔ جس نے تمہیں اس کی شادی اور بچوں کے بارے میں بتایا تھا، اس کو قابو کرلیا گیا ہے۔‘‘ مائیک بولا۔ ’’اچھا… اب میری بات غور سے سنو۔ اینجل کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے۔ وہ ایک کرائے کا قاتل ہے اور اس کی کارکردگی تمام دنیا میں بہترین ہے۔ وہ کبھی ناکام نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ پچاس کروڑ پر سودا ہوا ہے۔‘‘
’’اف خدایا…! میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔‘‘
’’گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم نے ایئرپورٹ، سڑکیں، اسٹیشن اور ہر جگہ جہاں بھی ممکن ہوسکا ہے، اپنے اہلکاروں کو وہاں سفید کپڑوں میں تعینات کیا ہے۔ اینجل کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا، نہ ہی اس کے ساتھ کسی نے بات کی ہے۔ اس کی محبوبہ نیوسا عموماً اس کی طرف سے بات کرتی ہے۔ اس کے پاس درجن بھر پاسپورٹ ہیں اور وہ کئی زبانوں میں بات کرسکتا ہے۔‘‘
’’تو اب کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ ایشلے نے پوچھا۔
’’اس کا انحصار تم پر ہے… اگر تم اور بچے پارٹی میں آتے ہو تو وہ اپنا کام کرے گا کیونکہ اس کا اصل ہدف تم ہو ورنہ وہ کوئی اور موقع دیکھے گا۔ اس وقت تو ہمیں اس کے بارے میں مکمل معلومات ہیں، آئندہ کچھ تساہل بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’نہیں… میں اپنے بچوں کو خطرے میں نہیں ڈالوں گی۔‘‘
’’میڈم…! ہم تھوڑی دیر کیلئے بچوں کو لائیں گے تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ بچے یہیں ہیں۔ اس کے بعد انہیں واپس چھوڑ آئیں گے۔ اتنی رازداری سے کہ انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے، میں اپنے ملک کی خاطر یہ کرنے پر تیار ہوں۔‘‘
٭…٭…٭
پارٹی کی تیاریاں بہت شاندار تھیں۔ اس کے ساتھ اس کی حفاظت کے ضمن میں کسی ایک چیز کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیاتھا۔ ہر شخص کو چاہے وہ مہمان تھا یا میڈیا کا کوئی رکن، تلاشی کے مرحلے سے گزرنا پڑا تھا۔ سیکورٹی آفیسر بڑے فخر سے ایشلے کو بتا رہا تھا۔ ’’آج رات تو کوئی کاکروچ یا سانپ بھی رینگ کر اندر نہیں آسکتا۔ ہم نے سیکورٹی کے اتنے زبردست انتظامات کئے ہیں۔‘‘
ایشلے اپنی موت کیلئے تیار ہورہی تھی۔ اس نے شیفون کا خوبصورت سرخ گائون پہنا۔ اس کے ساتھ اونچی ہیل کا سینڈل اور ہلکا سا نفیس زیور پہنا۔ خود کو آئینے میں دیکھ کر اسے لگا کہ اس کا چہرہ زرد ہے، آنکھوں میں ایک صیاد دیدہ ہرنی کا سا ہراس تھا جس نے اس کی حسین آنکھوں کو اور دلکش بنا دیا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں آئینے سے پوچھا۔ آئینے… آئینے بتائو کیا آج رات میری موت کی رات ہے یا تمہیں پھر دیکھنے کیلئے زندہ رہوں گی…؟ آئینہ خاموش رہا۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔
وہ بچوں کے ساتھ ہال میں داخل ہوئی تو اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ مہمان اس کا استقبال خوشی سے کررہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچوں کو تقریب سے بڑے غیر محسوس انداز میں ہٹا دیا گیا۔ ایشلے کا دل ڈوبنے لگا۔ معلوم نہیں وہ پھر ان سے مل سکے گی یا نہیں؟ اس کے بغیر اس کے معصوم بچے کس طرح زندگی گزاریں گے؟
’’پلیز… مجھے تنہا نہ چھوڑو… میں تمہارے ساتھ آنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ مائیک کی آنکھوں میں
تمہارے ساتھ خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتی ہوں۔‘‘ اس نے سادگی سے کہہ دیا۔
’’آجائو!‘‘ اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
ایشلے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ آرکیسٹرا مدھر دھنیں چھیڑ رہا تھا۔ لوگ خوشی کا اظہار کررہے تھے، کچھ ناچ رہے تھے، کچھ تالیاں بجا رہے تھے، کچھ خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ ہر طرف چہل پہل اور گہما گہمی تھی۔ بیرے ٹرے اٹھائے مہمانوں کے درمیان گھوم رہے تھے، لوگ مشروبات سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ ہال بہترین انداز میں سجا ہوا تھا۔ ایشلے نے سر اٹھا کر دیکھا۔ نیلے، سرخ اور سفید غبارے گلابی چھت کے ساتھ ہوا میں تیرتے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔
نہ جانے ان خوشیوں اور انسانی جانوں کا قاتل اینجل کہاں چھپا ہوا تھا، اس نے دل میں کیا ٹھان رکھی تھی۔ ایشلے کے اعصاب تنے ہوئے تھے۔ معمولی سا شور یا کوئی غیر معمولی بات اس کے رونگٹے کھڑے کردیتی تھی۔ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے، یہ خوف ناقابل برداشت تھا۔
کرنل قریب آیا۔ ’’ہر جگہ دیکھ لی گئی ہے، کہیں کچھ نہیں ملا۔‘‘
مائیک نے ایک چھپے ہوئے گوشے کی طرف دیکھا جہاں تین گیس سلنڈر رکھےتھے۔ وہ تیزی سے اس طرف بڑھا اور گارڈ سے اس بارے میں دریافت کیا۔
’’کرنل نے ایک عورت کو غباروں میں گیس بھرنے کیلئے بھیجا تھا، یہ اس نے رکھے ہیں۔‘‘
کرنل چونکا۔ ’’میں نے تو کسی کو نہیں بھیجا۔‘‘
مائیک گارڈ کی طرف مڑا۔ ’’اس کا حلیہ کیا تھا؟‘‘
’’وہ عجیب موٹی سی عورت تھی۔ اس کا چہرہ پھولا ہوا سا تھا اور گفتگو کا لہجہ عجیب تھا۔‘‘
’’اوہ کرنل…! یہ تو نیوسا کا حلیہ ہے جو اینجل کی محبوبہ ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اینجل خود ہے۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے اینجل مرد نہیں عورت ہے؟‘‘ کرنل بولا۔
’’ہاں… اور یقیناً ان غباروں میں ہی کوئی دھماکا خیز گیس ہے۔‘‘ مائیک نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو تمام کی تمام غباروں سے بھری ہوئی تھی۔
’’اس کا مطلب ہے وہ دھماکا کرنے کیلئے ریموٹ کنٹرول آلہ استعمال کررہی ہے لیکن وہ آلہ کہاں ہے، ہم تلاش نہیں کرسکیں گے۔‘‘ وہ ایشلے کی طرف مڑا۔ ’’لوگوں کو یہاں سے نکالنا ہوگا، تم اس کا اعلان کرو۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ ایشلے نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
’’چھت کے ساتھ جو غبارے ہیں، ان میں دھماکا خیز گیس ہے۔‘‘
’’اوہ… میرے خدا!‘‘ ایشلے نے چھت کی طرف دیکھا۔ اس کا حلق خشک ہورہا تھا اور دل بیٹھا جاتا تھا۔ ’’کیا ہم انہیں نیچے نہیں اتار سکتے؟‘‘
’’یہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں… اس کیلئے بہت وقت چاہئے تب تک وہ دھماکا کرسکتی ہے۔اس کے پاس ریموٹ کنٹرول ڈیوائس ہوگی۔‘‘ مائیک نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا۔ ’’کاش! ہمیں ٹائمر کہیں مل جائے تو ہم اسے بیکار کردیں تاکہ دھماکا نہ ہوسکے مگر اس میں بھی وقت لگ سکتا ہے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے، بہت جلد کرنا ہے۔‘‘
’’مائیک ایک طریقہ ہے۔‘‘ ایشلے نے خشک ہونٹوں کے ساتھ کہا۔ اس کے منہ سے لفظ نہیں نکل رہے تھے۔
’’وہ کیا…؟‘‘ مائیک کے چہرے پر امید کی جھلک نظر آئی۔
’’یہاں ایک سوئچ ہے۔‘‘
’’نہیں… نہیں! ہم بجلی کی کوئی چیز استعمال نہیں کرسکتے۔ ذرا سی چنگاری ان غباروں میں دھماکا کرسکتی ہے۔‘‘ مائیک نے تیزی سے کہا۔
’’اوپر… اوپر… دونوں طرف ہینڈل ہیں جو چھت کو کھول سکتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات…!‘‘ کرنل اور مائیک پاگلوں کی طرح سیڑھیوں کی طرف بڑھے اور ایک وقت میں دو دو سیڑھیاں پھلانگتے اوپر چڑھنے لگے۔
ایشلے کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ خوف زدہ آنکھوں سے وہ چھت کی طرف نظر بچا کر دیکھ رہی تھی کہ کسی کو اس کا احساس نہ ہوجائے۔ اس کی جیسے جان پر بنی ہوئی تھی۔ پھر اس نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ چھت کھلنے لگی اور غبارے کھلے ہوئے حصے میں سے باہر نکلنے لگے۔ ایک ایک غبارے کے ساتھ جیسے ایشلے کی جان بندھی ہوئی تھی۔ جیسے جیسے چھت کھلتی جارہی تھی، غبارے باہر فضا میں نکلتے جارہے تھے۔ چھت سب کی سب کھل گئی۔ رنگ برنگے غبارے آسمان پر ایک چھتری کی طرح تن کر اوپر ہی اوپر اڑتے چلے گئے۔
کسی پارٹی میں کبھی ایسا مظاہرہ نہیں ہوا تھا۔ تمام حاضرین اس کی طرف متوجہ ہوکر تالیاں بجا رہے تھے۔ یہ خوبصورت منظر سب کو بھایا تھا۔ کرنل اور مائیک چھت پر وہیں بیٹھ گئے تھے۔ وہ اس مشقت اور تنائو سے اتنا تھک گئے تھے کہ ان میں اٹھنے کی سکت نہیں رہی تھی لیکن ان کے دل اطمینان سے بھرے تھے۔ ایشلے کی پلکیں بھیگتی جارہی تھیں۔
٭…٭…٭
مائیک اور ایشلے ببل روم میں بیٹھے مختلف جگہوں سے رپورٹیں وصول کررہے تھے۔ مائیک نے ریسیور رکھا۔ ’’تقریباً سب لوگ گرفتار کرلئے گئے یا اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ ان میں ہمارے مشیر بھی شامل تھے، صرف کنٹرولر اور نیوسا اینجل رہ گئے لیکن بہت جلد ان کا بھی پتا چلا لیا جائے گا۔‘‘
’’کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اینجل اصل میں عورت ہے اور کنٹرولر… کہیں وہ بھی تو…؟‘‘
’’اسے بھی کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ وہ فون پر ہدایات دیتا تھا لیکن ایک اچھا منتظم تھا جس نے دہشت گردوں کی ایک جماعت کو منظم کیا۔‘‘
دستک ہوئی اور کرنل اندر داخل ہوا۔ ’’مسز ایشلے…! آپ نے بڑی بہادری سے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ اگر آپ اتنی جرأت کا ثبوت نہ دیتیں تو ہم اتنی خطرناک تنظیم کو بے نقاب نہ کرسکتے۔‘‘
’’شکریہ…!‘‘ ایشلے نے مسکرا کر کہا۔ پھر کچھ سوچ کر بولی۔ ’’میں مسٹر راجر کو فون کررہی ہوں لیکن ان کا نمبر بند ہے۔ انہوں نے خود بھی فون نہیں کیا حالانکہ انہیں اس تقریب کے بارے میں علم تھا۔‘‘
کرنل نے مائیک کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور پھر محتاط سے لہجے میں بولا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر…! راجر اب کبھی فون نہیں کرے گا۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ ایشلے نے چونک کر تشویش بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کیونکہ ہمیں اس کا سر ایک کچرا گھر میں مل گیا، اس کی آنکھوں کو پھوڑ دیا گیا ہے۔‘‘
’’اف خدایا!‘‘ ایشلے نےلرز کر دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام لیا۔ ’’یہ سب کیا ہے…؟ مسٹر راجر کا کیا قصور تھا؟ اسے کیوں نشانہ بنایا گیا؟ وہ تو ایک اچھا انسان تھا۔‘‘
’’اتفاق سے وہ تنظیم کا کنٹرولر تھا۔ قتل کا یہ طریقہ اینجل کا ہے۔ یقیناً ان کا لین دین پر جھگڑا ہوا ہوگا۔‘‘
’’نہیں… ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ تو صدر مملکت کا قریبی ساتھی ہے۔‘‘
’’یہ اقتدار کا کھیل ہے میڈم ایمبیسڈر، راجر بھی صدارت کا امیدوار تھا لیکن ایک اسکینڈل کی وجہ سے اسے آخری وقت پر دستبردار ہونا پڑا مگر اس نے صدر مملکت کو اس پر کبھی معاف نہیں کیا کہ قسمت نے اقتدار کا تاج اس کے سر پر رکھ دیا تھا۔ اس کے حسد نے اسے صدر مملکت سے انتقام لینے پر اکسایا جس کا نتیجہ یہ دہشت گرد تنظیم تھی جو اپنے انجام کو پہنچی۔‘‘
ایشلے کئی لمحوں تک متاسف سی بیٹھی رہی۔ اقتدار کا یہ کھیل، سیاست کی یہ شعبدہ بازیاں اور طاقت کے یہ اندھے انتقام زندگی کو ناقابل برداشت بنا رہے تھے۔ اسے اپنا وہ چھوٹا سا شہر یاد آرہا تھا جہاں امن تھا، سچی محبت تھی۔ منافقت اور دھوکے سے پاک…!
٭…٭…٭
صدر مملکت ایوان صدر سے مخاطب تھا۔ ’’مسز ایشلے! مجھے افسوس ہے میں تمہارا استعفیٰ قبول نہیں کرسکتا۔‘‘
’’سوری جناب صدر! میں یہ نہیں…!‘‘
’’مسز ایشلے، مجھے معلوم ہے کہ تم کن حالات سے گزری ہو لیکن ہم تمہاری خدمات سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔ تم نے سفارت کاری کا حق ادا کیا ہے۔ تمہارے وطن کو تمہاری ضرورت ہے۔‘‘
ایشلے پریشان سی ہوگئی۔ اسے ایک ایک کرکے وہ سارے خطرات یاد آئے جن سے وہ اور اس کے بچے گزرے تھے۔ ایڈورڈ کا چہرہ اس کی نگاہوں میں پھر گیا جسے بے قصور قتل کردیا گیا تھا۔ اس کا وہ چھوٹا سا محبت بھرا گھر اجاڑ دیا
گیا تھا۔
’’مسز ایشلے! ہیلو… کیا تم لائن پر ہو؟‘‘
’’یس سر!‘‘ وہ چونکی۔
’’میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پر غور کرو۔ تم میں یہ فطری صلاحیت ہے کہ تم ہمارے ملک کی سفارت کرسکتی ہو۔‘‘ صدر مملکت نے اصرار کیا۔
’’یس سر! مگر اس شرط پر کہ مائیک سلاڈی ہی میرے ڈپٹی ہوں گے۔ ہمارے درمیان وہ ہم آہنگی ہے کہ ہم اکٹھے کام کرسکتے ہیں۔‘‘ مائیک سلاڈی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
’’لیکن مسز ایشلے، سلاڈی کی یہاں اشد ضرورت ہے۔‘‘
ایشلے نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’ہم کسی اور قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کردیں یا تم کسی کا نام بتا دو۔‘‘
ایشلے خاموش رہی۔
صدر مملکت نے پھر کہا۔’’مسز ایشلے… ہمیں سلاڈی کی یہاں شدید ضرورت ہے۔‘‘
ایشلے بدستور خاموش تھی…!
’’اچھا مسز ایشلے! ہم نے تمہارا مطالبہ مان لیا۔ تم وہیں رہو۔ مستقبل میں ہمارے پاس تمہارے لئے بہت سے منصوبے ہیں۔ تم ایک بے مثال کارکن ہو، ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔‘‘
فون بند ہوگیا۔ ایشلے نے مائیک سلاڈی کی طرف دیکھا۔ ’’تم یہیں رہو گے۔‘‘
وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’میڈم ایمبیسڈر… کافی؟‘‘
’’ضرور…! اگر اس سے میری جان کو کوئی خطرہ نہ ہو۔‘‘ ایشلے نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’تمہاری جان ہی تو ہمیں عزیز تھی۔‘‘ وہ گہرے لہجے میں بولا اور دروازہ کھول کر اپنے آفس میں چلا گیا۔ (ختم شد)