Sunday, July 14, 2024

Sitaron Ko Chamakne Do

ذہنی تھکاوٹ کے بعد انسان کس قدر کمزور ہو جاتا ہے اس چیز کا احساس مجھے چند مہینوں سے ہو رہا تھا۔ جب سے ان دو بچوں کو میں نے اپنے گھر کے ٹیوشن سینٹر میں نہ چاہتے ہوئے بھی رکھ لیا تھا اف کس قدر نکمے بچے تھے یہ کوئی مجھ سے پوچھتا یا اس شخص سے جس سے وہ پہلے پڑھ چکے تھے۔ وہ ابھی ایک سال پہلے ہی ہمارے محلے میں شفٹ ہوئے تھے ویسے تو دیکھنے میں ان کے والدین پڑھے لکھے ہی لگتے تھے لیکن بعد میں پتا چلا کہ ( جیسا ہم اکثر سوچتے ہیں ویسا اصل میں ہونا ضروری نہیں) ان کی امی تو موبائل پر اپنوں کے نمبرز ہی پہچاننے میں ماہر تھیں اور والد صاحب ایف اے پاس تھے۔ ٹیوشن والے بچوں کو چھٹی دینے کے بعد میں نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے ہی امی سے کہہ دیا۔ بس امی جی اب مجھ سے اور ان بچوں کو نہیں پڑھایا جاتا جیسے ہی ان کے فرسٹ ٹرم ختم ہوں گے میں ان کو جواب دے دوں گی دس بچوں کو پڑھانا اور ان دو بچوں کو پڑھانا برابر ہے میری ابھی سے ہی ہمت جواب دے گئی لیکن چونکہ ابھی کچھ عرصہ بعد ہی امتحان شروع ہونے والے ہیں تو میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ امتحان سے کچھ وقت پہلے ہی انہیں ٹیوشن سے ہٹا دوں۔ خود کو ذہنی سکون پہنچانے کے لیے میں نے بات کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھی ہوئی امی کی گود میں سر رکھ دیا اور امی نے بغیر کسی تاخیر کے میرے بالوں میں انگلیاں چلانی شروع کر دیں اور کہا۔ ہاں میں دیکھ رہی ہوں جب سے باجی کوثر کے بچے شایان اور آریان تمہارے پاس آرہے ہیں تم بہت زیادہ مصروف ہوگئی ہو انہیں تمہیں دوسرے بچوں سے زیادہ ٹائم دینا پڑ رہا ہے۔ ہوں ۔ میں نے آنکھ بند کئے ہوئے بس اتنا سا جواب دیا کیونکہ آپ جب حد سے زیادہ ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں تو آپ سے کوئی بات بھی نہیں کی جاتی۔ امی نے پیار سے میرے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔ ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری مرضی مگر وہ باتیں ہی ایسی کرتی ہیں کہ سامنے والا بندہ انکار ہی نہیں کر سکتا ۔ السلام علیکم ! بھیا نے اندر داخل ہوتے ہوئے بلند آواز میں کہا، میں نے اور امی نے فوراً اپنی گفتگو ترک کر کے بھائی کے سلام کا خوش دلی سے جواب دیا- وعلیکم السلام ! بھیا آپ آج کل بہت مصروف نہیں ہو گئے ؟ جب سے آپ نے بیرون ملک جانے کی ٹھانی ہے آپ کی مصروفیت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے- میں نے بھائی کے آج کل زیادہ دیرباہر پرتنقید کی۔ بس گڑیا تھوڑا سا وقت مجھے اور چاہئے یہ کورس میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ بھیا نے کسی سوچ کے تحت جواب دیا۔ ( بھیا ایک اکیڈمی کے توسط سے لندن کسی کورس کی غرض سے جانا چاہتے تھے) لیکن بھیا آپ یہاں پاکستان میں رہ کر بھی تو وہ کورس کر سکتے ہیں آج کل ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی ہے، تعلیم کے لحاظ سے بھی کسی سے کم نہیں، آپ کو کیوں وہ کورس کرنے کے لیے لندن جانا ضروری ہے جب کہ آپ کی اپنی اکیڈمی بھی وہ کورس کروا رہی ہے، مجھے بھائی کے بیرون ملک جانے پر سخت اعتراض تھا جسے میں کسی طورنہیں چھپا پا رہی تھی۔ پا کیز و ٹھیک ہی کہہ رہی ہے تم وہاں دو سال کا کورس کرو گے اور پھر کیا بھروسا اتنا پڑھنے لکھنے اور اپنی صلاحیتیوں کو اجاگر کرنے کے بعد تم دوبارہ واپس اپنے ملک آؤ بھی تو بہت کچھ گنوا کر کیونکہ جو ایک بار گیا وہ واپس کبھی سکھ لے کرنا آیا، کوئی اپنوں سے دوری کا دکھ کوئی اپنے مرے ہوئے کے وقت پر نہ پہنچنے کا دکھ کوئی والدین کی نافرمانی کرنے کا دکھ اور اگر کوئی سوچے تو اپنی بہترین صلاحیتیں جو وہ اپنے ملک میں آزمانے کے بجائے غیر ملک میں آزمائے تو اس کا دکھ جو کہ اسے بعد میں محسوس ہو، ایسا دکھ تم مت پالو اور پھر ویسے بھی اب میرا تم دونوں کے سوا ہے ہی کون اس دنیا میں تمہارے والد صاحب بھی اگر حیات ہوتے تو تمہیں یہ ہی مشورہ دیتے ۔ امی نے اپنی آنکھوں کو دوپٹے کے پلو سے صاف کرتے ہوئے کہا مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ بھیا نے اپنے کورس کو مکمل کرنے کے لیے باہر جانے کو ہی کیوں ترجیح دی جب بھیا کا ایک دوست ملک سے باہر جا رہا تھا تو بھیا اس کے کتنے خلاف تھے اور جاتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا تھا- کوئی انسان کتنا ہی تھکا ہوا کیوں نہ ہو اسے سکون اپنے گھر ہی میں ملتا ہے کسی غیر کے گھر نہیں اور پاکستان ہمار اپنا گھر ہے۔ اور آج بھیا خود اپنے گھر کو چھوڑ کر جانے کی بات کر رہے ہیں۔ خیر میں نے بھیا سے اس موضوع پر بحث کرنے سے فی الحال گریز کیا کیونکہ امی بہت رنجیدہ ہورہی تھیں اور انہوں نے بھی امی کی اس کیفیت کو سمجھنے میں ذرا دیر نہیں کی اور موضوع بدل دیا۔ آج تو بہت خوشبو آرہی ہے کیا پکا ہے؟ کیا کسی مہمان کی آمد ہے۔ بھیانے جلدی سے پوچھا۔ بھیا آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خاص مہمان کی آمد آج نہیں بلکہ کل ہے اور یہ آپ ہم سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ میں نے بھیا کی مسکین سی صورت دیکھتے ہوئے کہا۔ شفاء میری بہترین دوست اور اب ہونے والی بھابی تھی، بھائی سے اس کی منگنی کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی تھی یہ منگنی خود بھیا اور ہم سب گھر والوں کی خوشی سے ہوئی تھی ہمارے بابا کو بھی شفاء اپنی ہونے والی بہو کے روپ میں بہت پسند تھی وہ تھی بھی ایسی نازک سی اور نہایت شریف، کل ہی ان کی والدہ نے امی کو فون پر اپنے آنے کی اطلاع دی پتا نہیں کون سا ضروری کام تھا تو امی نے اصرار کر کے شفاء کو بھی ساتھ لانے کے لیے کہا تھا، اس لیے ہمارے ساتھ بھیا کو بھی کل کا بے چینی سے انتظار تھا۔ پہلے تو وہ بلا جھجک ہمارے گھر آجاتی تھی منگنی کے بعد وہ ایسی شرمیلی ثابت ہوگی اس کا مجھے قطعی اندازه نہیں تھا لہذا اب کوئی خاص تقریب یا بارہا اصرار کرنے پر ہی وہ آتی تھی۔ بیٹا آج میں نے آپ دونوں کی پسند کی ڈش پکائی ہے۔ ابھی ہم کھانا لگا ہی رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ بھیا نے جا کر دروازہ کھولا تو مجھے شایان آتا ہوا نظر آیا اس کے ہاتھ میں ہاٹ پاٹ اورایک تھیلا تھا۔ آنٹی یہ روٹی پکا دیں آریان کا ہاتھ زخمی ہے ورنہ وہ خود ہی پکا لیتا مجھے پکانی نہیں آتی ۔ اس نے کہا۔ امی کہاں ہیں آپ کی ؟ وہ تو شمع کو ساتھ لے کر آج خالہ کے گھر گئی ہیں- پاپا ابھی تک آئے نہیں ڈیوٹی سے بہت بھوک لگ رہی ہے- امی کہہ گئی تھیں کہ ساتھ والی آنٹی سے کہنا وہ پکا دیں گی ۔ میرے کچھ بھی بولنے سے پہلے ہی امی نے اس کے ہاتھ سے سب کچھ لیا اور اسے دس منٹ بعد آنے کو کہا۔ غصہ تو بہت آیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ امی نے میری ایک نہیں سنی تھی۔ بھائی ہم اوپر والے پورشن کو ایک ہوٹل کا نام کیوں نہیں دے دیتے، اس ہوٹل میں کھانا پینا فری ہمدردی اور مشورے مفت کے چلو رہنے کے پیسے ملیں گے۔ میں نے مزاحیہ اور کچھ طنزاً کہا تو بھائی میرا اشارہ سمجھ کر مسکرا دیے۔ بیٹا کسی کی مدد کرو تو خود آپ کا اپنا دل بھی سکون میں رہتا ہے اور اللہ پاک بھی خوش ہوتا ہے اب دیکھو ہم تو خوشی سے اپنا پیٹ بھر لیتے لیکن ہمارے ہمسائے بھوکے رہتے تو ہمیں کتنا گناہ ملتا خود سوچو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اللہ پاک نے ہمیں اس گناہ سے بچایا اور ہمیں موقع دیا کہ ہم ان کی مدد کر سکیں ۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں نے شایان کے ہاتھ میں روٹی کے علاوہ وہ تمام اشیاء بھی دیکھیں جو امی نے گھر پہ پکائی تھیں۔ کھانا کھاتے ہوئے آج پتا نہیں کیوں کھانا اتنا لذیز لگا حالانکہ امی کے ہاتھ میں ذائقہ کا جادو تھا پھر
بھی آج پہلے سے زیادہ کھانا لذیز لگ رہا تھا اور اس کی وجہ شاید میں سمجھتے ہوئے بھی انجان بن رہی تھی۔

میں اپنے کمرے میں چھاڑ پونچھ میں مصروف تھی جب باہر برآمدہ میں امی کے ساتھ کوثر آنٹی کو بیٹھے ہوئے دیکھا، وہ امی کا شکریہ ادا کر رہی تھیں، میں نے بھی آگے بڑھ کر سلام کیا- سلام کا جواب دینے کے بعد وہ پھر امی سے کل کا ذکر لے کر بیٹھ گئیں کہ کل ان کو اپنی بہن کے گھر ارجنٹ جانا پڑا کیونکہ ان کی بھانجی کی شادی ہونے والی تھی تو اس کے جہیز کے لیے ان کی بہن کو ان کے ساتھ جانا تھا، بچوں کی پڑھائی میں پہلے ہی بہت حرج ہو چکا تھا اس لئے ان کو گھر چھوڑ کر صرف بیٹی کو ساتھ لے کر گئیں۔ اور بیٹا سناؤ بچے اب کیسے ہیں پڑھائی میں؟ آنٹی کے پوچھنے کی دیر تھی اور میں نے اگلا پچھلا سارا کہہ سنایا۔ دیکھیں آنٹی یہاں تو وہ دو یا تین گھنٹے رہتے ہیں، اس دوران میں ان کو کتنا یاد کرواؤں گئی ان کو رات میں بھی ایک گھنٹہ ضرور بٹھایا کریں پڑھائی کے لیے جو کام بھی میں یہاں یاد کرواؤں وہ اسکول جانے سے پہلے ریوائس بھی نہیں کرتے ایسا وہ خود بتا رہے تھے ایک تو اپنی عمر سے ماشاء اللہ بہت بڑے لگتے ہیں دوسرا آپ نے ان کو کہیں پانچ سال قرآن پاک حفظ کرنے کے لیے بھیجا اور ان سے بالکل لا پرواہ ہوگئیں کہ وہاں وہ کچھ پڑھ بھی رہے ہیں کہ نہیں اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ نہ وہ قرآن پاک حفظ کر سکے اور نہ دوسری پڑھائی پانچ سال بھی بچوں کے ضائع گئے ۔ اب اپنے قد اور عمر کی وجہ سے کوئی اسکول والے انہیں پرائمری سیکشن میں بھی نہیں لے رہے تھے اور اپنی ذہانت کی وجہ سے کوئی انہیں سیکنڈری میں بھی لینے کو تیار نہیں تھا ہر بار ٹیسٹ میں فیل ہو کر آ رہے تھے اللہ اللہ کر کے ایک اسکول کم اور پیسہ کمانے کا ذریعہ زیادہ میں ایڈمیشن ہو تو گیا اور وہ بھی کلاسز جمپ کروا کے ڈائریکٹ نائن میں، اوپر سے اسکول والوں نے اسکول کے ہی ٹیسٹ میں پاس ہونے کا کہا، نہیں تو ان کا داخلہ آگے بورڈ میں نہیں بھیجا جائے گا جو بچے ریڈنگ صحیح طور نہیں کر پارہے تھے اور ان کی لکھائی ایسی تھی جیسے زمینی کیڑے ایک دم ہے آسمان پر ادھر ادھر بکھر گئے ہوں، ایسے میں، میں انہیں بورڈ کے امتحان کے لیے اتنے ٹف نوٹس کی تیاری کیسے کرواتی اور گھر والوں کا یہ حال تھا کہ بچوں کو ان کی ذمہ داری پر چھوڑ کر کبھی کہیں چلے جاتے اور بھی کہیں۔ دیکھیں آنٹی ان کے مستقبل کا سوال ہے آپ اسکول جانے سے پہلے ان سے سارے گھر کا کام کرواتی ہیں تو وہ اسکول جاتے ہوئے بھی کچھ یاد نہیں کر پاتے، اسکول سے آنے کے بعد بھی انہیں ٹائم نہیں ملتا، بچوں کو تھوڑا ریلیکس ہونے کا جو ٹائم ملنا چاہیے یا کچھ ایکسٹرا پڑھائی کے لیے تا کہ وہ اپنا پچھلا ریکارڈ ٹھیک کر سکیں تو اس ٹائم میں آپ انہیں گھر کے کاموں میں الجھا دیتی ہیں ابھی کل ہی کی بات ہے ایک سوال شایان کا رہ گیا تھا ٹا ئم بہت زیادہ ہو گیا اور کچھ اس میں مجھے یاد کرنے کی انرجی بھی نظر نہیں آرہی تھی تو میں نے کہا کہ رات سونے سے پہلے یاد کر لینا، وہ خود بھی یہی ہی چاہ رہا تھا آج اسکول میں صرف اسی سوال کی وجہ سے اسے مار پڑی اور میری اتنی محنت بھی ضائع گئی جو دوسرا سب یاد کروایا تھا، میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ رات یونیفارم دھونے اور گھر کے دوسرے کاموں میں مصروف تھا یاد کرنے کا ٹائم ہی نہیں ملا تو ایسا کب تک چلے گا تھوڑا سا آنٹی آپ کو بھی کمپرومائز کرنا پڑے گا۔ میں براہ راست یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ رشتہ داروں میں گھومنا پھرنا بند کریں اور بچوں اور گھر پر دھیان دیں تو بچے بھی پڑھائی پر دھیان دے سکیں ۔ تھوڑا آپ کو بھی بچوں کو ٹائم دینا ہوگا تو ہی یہ پاس ہو سکیں گے ورنہ بہت مشکل ہے۔ میں نے دوٹوک انداز میں بات کی۔ بیٹا اب میرے بچوں کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے- میں تو پڑھی لکھی ہوں نہیں، میں تو کہتی ہوں اب مجھے کیا پتا کیا پڑھتے ہیں ۔ آنٹی نے فورا کہا، لیکن مجھے اس میں کوئی سچائی نظر نہیں آئی۔ خیر میں نے جلدی باتوں کوختم کیا کیونکہ آج مہمانوں نے آنا تھا اور ابھی بہت سے کام باقی تھے-

شفاء اور آنٹی کو آئے ہوئے بھی کافی دیر ہو چکی تھی، لیکن بھائی جانے کس کام میں مصروف تھے کہ صبح کے گئے ہوئے ابھی تک واپس نہیں لوٹے تھے اور شفاء جی کا یہ حال تھا کہ نگاہیں تھیں کہ دروازے سے ہی نہیں ہٹ رہی تھیں وہ جتنا بھی چھپانا چاہتی لیکن ایک اچھی اور مخلص دوست سے نہیں چھپا سکتی تھی۔ امی اور انٹی نماز پڑھنے اندر چلی گئیں۔ ہم دونوں کھانا کھانے کے بعد ڈرائنگ روم میں باتوں میں مصروف ہوگئیں کیونکہ یہ موقع تو قسمت سے ہی ملتا تھا پھر باتوں باتوں میں شفاء نے ایک دم سے میرا ہاتھ پکڑا ہے اور بہت مسکین سی صورت بنا کر کہا۔ پاکیزہ ایک بات پوچھوں سچ سچ بتاؤ گی۔ میں نے ایک دم اس کی بدلتی ہوئی کیفیت کو دیکھ کر چونک کر کہا- ہاں یار پوچھو کیا بات ہے جو ایک دم تم اتنی سنجیدہ ہوگئی ہو۔ وہ بات یہ ہے کہ ہماری منگنی صرف آپ لوگوں کی مرضی سے ہوئی ہے یا اس میں تمہارے بھائی کی بھی مرضی شامل ہے؟ پلیز مجھے سچ بتانا۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا اور میں جو اس کے اس طرح کے سوال پر حیران تھی اور جواب دینے ہی والی تھی۔ میڈم اس میں ہماری سو فیصد مرضی شامل تھی، جب ہی تو ہم نے پاکیزہ اور امی کو آپ کے گھر بھیجا تھا۔ بھائی آتے ہوئے ہماری بات سن چکے تھے۔ اس لیے پوری سچائی سے جواب دیتے ہوئے صوفے پر براجمان ہو گئے اور شوخ نظروں سے شفاء کو دیکھنے لگے۔ شفاء چائے بنانے کی غرض سے اور بھائی کی نگاہوں سے گھبرا کر کچن میں چلی گئی۔ بھیا جب آپ کو پتا تھا کہ آج آنٹی نے آنا ہے تو آپ ٹائم سے گھر آجاتے۔ میں نے بھی شفاء کی ناراضی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ اچھا جی بڑی آئیں اپنی شفاء جی کی سائیڈ لینے والی بھیا نے پیار سے ایک ہلکی سی چپت میرے سر پر رسید کی اور کچن کی طرف بڑھ گئے کہ ان کی میڈم جی ابھی تک ان سے ناراض تھیں۔ میڈم یہ اچانک آپ کو کیسے یاد آ گیا کہ منگنی میں میری مرضی شامل ہے یا نہیں؟ جب وہ اندر داخل ہوئے تو انہوں نے شفاء کی بات سن لی تھی اور اب کچن میں اس سے وضاحت طلب کر رہے تھے اس نے بنا بھائی کی طرف دیکھے کہا۔ اس لیے کہ ہم یہ دوسری بار آپ کے گھر آئے ہیں لیکن آپ کے پاس تو ٹائم ہی نہیں کہ آپ بیٹھ کر بات ہی کر سکیں یا پھر اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ کیا پھر؟ وہ کچھ کہے بغیر چائے کپوں میں ڈالنے لگئی۔ بات کچھ زیادہ ہی ناراضی کی لگ رہی تھی ۔ بھائی نے آگے ہوتے ہوئے کہا۔ اوه …. اس وجہ سے آپ کے دل میں یہ وہم آیا اوکے اب ہم کان پکڑ کر سوری کرتے ہیں۔ بھائی نے ماحول کو تھوڑا خوشگوار کرنے کے لیے کہا۔ اس نے نے چائے کا کپ بھائی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ اب ہم امی کے ساتھ آپ کے گھر ہی نہیں آئیں گے۔ اوکے اب آپ امی کے ساتھ نہیں بلکہ بینڈ باجے اور بارات کے ساتھ ہمارے گھر آنا چاہتی ہیں ۔ بھائی نے بھی مزے سے کہا۔ اس نے پہلے نگاہ اٹھا کر بھائی کو غصہ سے دیکھا اور پھر پاکیزہ کو آواز دی۔ پاکیزہ کے آتے ہی اس نے کہا۔ پاکیزہ جو خود ہی اس گھر کو چھوڑ کر جانے کی بات کر رہے ہیں وہ بھلا اس گھر میں مجھے کیوں لائیں گے؟ وہ ناراضی سے کہتی باہر چلی گئی اور بھائی کچھ کھو سے گئے ایک سیکنڈ میں ان کو اس کی اصل ناراضی کی وجہ بھی سمجھ میں آ گئی تھی۔

ثمر بیٹا آپ شعر کی تشریح ذرا دھیان سے کرو جو لکھا ہے اس کو معنی کے ساتھ تھوڑا وضاحت سے بیان کرو میں نے تھوڑا تھکے ہوئے لہجہ میں کہا کیونکہ شفاء اور آنٹی کے جانے کے بعد بچوں کو پڑھانے کا بالکل بھی موڈ نہیں تھا، لیکن امتحان سر پہ ہونے کی وجہ سے موڈ تبدیل کرنا پڑا، شایان اور آیان کو بھی ڈیٹ شیٹ مل چکی تھی، ان کے سلیبس میں تھوڑا بہت ہی باقی رہ گیا تھا۔ آج میں نے انہیں پچھلا دہرانے کو کہا کہ پچھلا سارا ان سے ٹیسٹ لیتی ہوں لیکن یہ دیکھ کر میرا دماغ بالکل ماؤف ہو گیا کہ پچھلا ان کو ایسے تھا کہ میں اپنی طرف سے “ے” کے لفظ پہ پہنچنے والی تھی اور وہ بچے بتاو ابھی الف لفظ سے بھی نا آشنا لگ رہے تھے۔ میرا غصہ سے برا حال تھا حالانکہ یہ پہلی بار ایسا ہوا ا تھا کہ بچوں کو پڑھاتے ہوئے مجھے اتنا زیادہ غصہ آیا ہو ورنہ میں بہت نرم انداز میں بچوں کو پڑھاتی تھی۔ خیر میں نے پہلی بار بچوں کو بیگ اٹھا کر گھر جانے کے لیے وہ کہا اور وہ بھی انتہائی زچ ہو کر، مجھے اپنے پڑھانے پر اتنا تو یقین تھا کہ ان جیسے بچوں کے پاسنگ مارکس تو آہی جاتے ہیں باقی اور بچے جتنے بھی میرے ٹیوشن میں تھے سب پوزیشن ہولڈر تھے باقی میں بھی پرسنٹیج بہت اچھی بنتی تھی مجھے اپنے اوپر احساس ذمہ داری اور پورا اعتماد تھا کہ جو علم میں نے سیکھا اسے دوسروں تک ضرور پہنچانا ہے۔ حصول تعلیم کے لیے استاد اور طلبہ دونوں کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ میں اپنا وقت پڑھانے کے لیے سو فیصد دوں اور آگے سے مجھے بیس فیصد بھی رزلٹ نہ ملے تو دکھ ہوتا ہے کہ یہ دونوں بچے کیوں اپنا مستقبل برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں میں نے ان کی سوری کو بھی قبول نہیں کیا اور انہیں جانے کو کہا انہوں نے گھر جا کر کیا کہا اور کیا نہیں اس بارے میں، میں نہیں جانتی تھی لیکن اگلے دن آنٹی کوثر بچوں کو پھر میرے پاس چھوڑ گئی تھیں۔

رات میں جب اپنا پسندیدہ کام کر رہی تھی یعنی چار پانچ کتابوں کو اکٹھا کر کے کسی ایک موضوع پر”نوٹ” بنانے کا تو امی کمرے میں آئیں۔ امی آپ اس ٹائم سوئی نہیں ابھی تک؟ میں نے اپنے پسندیدہ مشغلے کو فی الحال ترک کیا اور امی کے لیے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔ بیٹا اس دن آپا آئی تھیں وہ ایک رشتہ تمہارے لئے بتا رہی تھیں ۔ امی شفاء کی امی کو آپا کہا کرتی تھیں- میں نے تمہیں اس لیے یہ بات اب تک نہیں بتائی تھی کہ پہلے ہم خود جاننا چاہتے تھے کہ وہ کیسے لوگ ہیں، فیصل نے بھی مجھے منع کیا تھا تمہیں بتانے سے ، اب فیصل نے معلومات حاصل کرلی ہیں، معلوم ہوا ہے کہ شریف اور نیک لڑکا ہے ان شاء اللہ تم بہت خوش رہوگی اس اتوار کو وہ لوگ آرہے ہیں، تم خود بھی سمجھ دار ہو بیٹا مجھے اپنا فیصلہ بتا دینا- امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی مجھے آگے پڑھنا ہے ۔ میں بہت کچھ اور بھی کہنا چاہ رہی تھی لیکن امی نے یہ بات کہہ کر بات ہی ختم کر دی۔ بیٹا تو ہم کون سا ابھی شادی کر رہے ہیں اور ویسے بھی اچھے رشتے بہت کم ملتے ہیں بات پکی کر دیں گے۔ شادی پڑھائی کے بعد ہی کریں گے فیصل بھی یہی چاہتا ہے لیکن تمہاری مرضی کے بغیر ہم کچھ نہیں کریں گے۔ بے فکر رہو اور اتوار کے بعد کوئی فیصلہ کرنا- امی یہ کہ کر چلی گئیں اور میں امی اور بھیا کو چھوڑ کر جانے کا سوچ کر ہی پریشان ہوگئی تھی جیسے شادی کل ہی ہورہی ہے۔ ایسی ہی تھی میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے والی ۔ اگلے ہی دن میں شفاء کے کان کھانے لگی مجھے کچھ نہیں سننا تم نے اتوار کو میرے پاس آنا ہے ہم نند بھاوج بعد میں پہلے اچھے دوست ہیں، اسی لیے ہر چھوٹی بڑی بات میں ایک دوسرے سے مشورہ لیتے ہیں اور وہ بے چاری انکار کیا کرتی اس نے اتوار کی ساری زمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے حامی بھر لی تھی۔

بچوں کے ایگزامز شروع ہو چکے تھے اس لیے اتوار والے دن بھی صبح پڑھنے کے لیے بچوں کو بلوا لیا تھا کیونکہ شام کو ان لوگوں نے آنا تھا، شفاء نے بھی جلد ہی آنے کا کہا تھا۔ جب بچوں کو پوری تسلی سے پڑھا کر فارغ ہو کر کمرے سے باہر آئی تو سارے گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا اور کچن سے مہکتی ہوئی خوشبو نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا امی اور شفاء کچن میں محو گفتگو تھیں اور ساتھ ساتھ کام بھی کر رہی تھیں۔ میرے اندر داخل ہونے پر دونوں نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا۔ شفاء کی بچی تم کب آئیں؟ میں نے حیرانی سے پوچھا۔ میں اس وقت آئی جب آپ بچوں کو پڑھانے میں مصروف تھیں- یار سچ میں تم تو ایک ایک بچے کی نفسیات کو سمجھ کر اسے ایسے سمجھاتی ہو کہ تمہیں اور کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا، پڑھانے کے وقت اتنا دماغ کھپاتی ہو حد ہے، اپنا بھی دھیان رکھو بس تھوڑا بہت سمجھاؤ اور فارغ کیا کرو گھر پہ یاد کریں۔ شفاء کو دیکھ کر مطمئن ہوگئی تھی۔ شفاء تمہیں کیا پتا آج کل کچھ اسکولوں کا یہ حال ہے کہ بس بات سوال جواب تک ہی رہ گئی ہے بس اور سوالوں کے جواب پر نشان لگا دینا اور کبھی تو وہ بھی گھر کے لیے دے دیتے ہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہمارے ملک کی آئندہ آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا جب تک انہیں شعور نہیں ہوگا ان میں اچھے برے کو سمجھنے کی پہچان نہیں ہوگی۔ امی ہلکی سی مسکراہٹ لیے مجھے دیکھنے لگیں، میں نے اور شفاء نے چونک کر امی کی طرف دیکھا تو امی کہنے لگیں۔ آج مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے تم نہیں یہ الفاظ تمہارے بابا جان کہہ رہے ہوں وہ بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے اور ایسے ہی بچوں کے لیے پریشان ہو جاتے تھے ۔ میں مسکراتے ہوئے امی سے لپٹ گئی۔

شام میں اپیا کے ساتھ ان کی امی اور بھائی بھی تشریف لائے شفاء نے بہت بار کہا کہ بہانے سے ہی دیکھ لوں کہ شاہ ویز کیسے ہیں لیکن مجھے اپنی پسند سے زیادہ امی اور بھائی کی پسند کو ترجیح دینی تھی بے شک زندگی میں نے گزارنا تھی لیکن مجھے اپنی فیملی پر پورا بھروسہ تھا ۔ جب چائے لے جانے کی باری آئی تو امی نے کچن میں آ کر کہا۔ بیٹا آپ بھی آ جاؤ ۔ میں نے ایک دم سر اٹھا کرامی سے کہنا چاہا کہ میں نہیں آؤں گی۔ امی میری بات سنے بغیر ہی سمجھ گئیں اور آگے بڑھ کر کہنے لگیں بیٹا گھبراؤ نہیں، فیصل شاویز کو لے کر باہر کسی کام سے گیا ہے اس لیے آپ آجاؤ ان کی فیملی سے مل لو ۔ یہ کہہ کر امی چلی گئیں اور میں کیسے ان کے پسند کیے ہوئے رشتے پر انکار کرسکتی تھی کہ جو بنا کہے میرے دل کی بات جان لیتی تھیں، میری پسند نا پسند سب سے واقف تھیں، میں چائے کی ٹرے لے کر مہمانوں کے پاس آگئی ۔ اپیا کی فیملی بھی اپیا ہی کی طرح بہت اچھے طریقے سے ملی ان کی امی کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے اٹھا کر ابھی اپنے ساتھ لے جائیں انہیں میں بہت پسند آئی تھی وہ اگلے اتوار کو دعوت کا کہہ کر چلے گئے۔ میں شاہ ویز کے سامنے نہیں گئی نہ ہی ان کی تصویر دیکھی ہاں البتہ امی نے میری تصویر انہیں دے دی تھی کہ شاہویز کو دیکھا دیں۔ بھیا کو بھی یہ رشتہ دل سے پسند آیا تھا۔ شاہویز بہت اچھی طبیعت کا مالک تھا۔ ان کے جانے کے بعد بھیا اور امی نے اوکے کا سگنل دے دیا تھا۔ بھیا نے امی سے میری ” ہاں” کے بارے میں پوچھا۔ امی نے بھائی کو بھی بتا دیا کہ اس نے ہماری پسند کوترجیح دی ہے لیکن اس کا یہ کہنا بھی ہے کہ کوئی بھی رشتہ منسلک ہونے سے پہلے وہ شاہ ویز کو دیکھے گی نہیں، اور بھیا یہ بات سن کر مسکرا دیے۔ پاگل ہے آج کل کے دور میں بھی ایسی کیا سوچ خیر میں شاویز کو سمجھا دوں گا ۔ اگلے اتوار امی اور بھائی گئے ساتھ میں شفاء کی فیملی بھی مدعو تھی شفاء کے بابا بھی مجھے بالکل اپنے بابا کی ہی طرح لگتے تھے انہوں نے بھی لڑکے اور فیملی کی طرف داری کی تھی اس طرح سے رشتہ پکا ہو گیا۔ ان کی فیملی والے منگنی دھوم دھام سے کرنا چاہ رہے تھے اور میں اتنا ہی پریشان ہو رہی تھی پتا نہیں کیوں یا شاید اس بات پر کہ موصوف کا جس طرح میں نے شفاء سے سنا تھا کہ اچھے خاصے ڈیسنٹ اور بات کو سمجھ داری سے کرنے والے بندے ہیں وہ بغیر مجھے دیکھے بناء جانے ہاں کیسے کر گئے تھے۔

منگنی کی رسم بھی دھوم دھام سے ادا کی گئی۔ لائٹ پرپل کلر کی نیٹ کی فراک اور اس کے ساتھ مکمل میچنگ کی ہر چیز، لڑکے والوں نے کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی تھی اور امی نے بھی شاہویز اور اس کی فیملی کے لیے کافی کچھ خریداری کی تھی، انگھوٹی پہ انتہائی خوب صورت پھول بنا ہوا تھا۔ جس کی پتیاں آپس میں اس طرح جڑی ہوئی تھیں جیسے اگر ایک بھی ٹوٹی تو اس میں خوب صورتی دکھائی نہیں رہتی۔

منگنی اور بچوں کے امتحانات سے فارغ ہو کر میں ایک دم ہلکی پھلکی ہو گئی تھی ۔ تمام بچوں کے رزلٹ سوائے ان دو بچوں کے بہت اچھے آئے ان دو نالائقوں میں آریان نے تو پھر بھی پاسنگ مارکس لے لیے تھے پر شایان ایک پیپر میں فیل ہو گیا تھا جس کا اس کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بہت دکھ تھا۔ فائنل ٹرم کی تیاری شروع ہو گئی تھی، اسکول والوں نے ان دونوں کا نام آگے بورڈ میں درج کرا دیا تھا فائنل امتحان بھی خیریت سے گزر گئے۔ شایان اور آریان نے لاپروائی کے علاوہ کچھ کر کے نہیں دکھایا پھر بھی اللہ کا شکر تھا کہ ان کی محنت مانوں یا اپنی کہ آریان کے سارے پیپرز بورڈ میں بھی کلیئر ہو گئے تھے البته شایان کا ایک پیپر رہ گیا تھا، مجھے تو اتنی بھی امید نظرنہیں آرہی تھی ادھر بھیا کے بھی ملک سے باہر جانے کے دن قریب آتے جارہے تھے میں نے بھی کچھ وقت کے لیے ٹیوشن چھوڑ دی کیونکہ طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی اور امی بھی مجھے بجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک دو مہینے کے بعد میں نے پھر سے ٹیوشن شروع کرنے کا کہا تھا۔ جب تک میں خود تھوڑا آرام کرنا چاہ رہی تھی اور امی کو بھی آرام دینا چاہ رہی تھی- اپیا کا فون آیا تھا اپنے بیٹے کی سالگرہ پر دعوت دی تھی امی تو بیماری کی وجہ سے جا نہیں رہی تھیں، فیصل بھیا نے مجھے شفاء کے گھر تک ڈراپ کرنے کی ذمہ داری لی تھی اور وہاں سے مجھے شفاء کے ساتھ اپیا کے گھر جانا تھا میرے لاکھ بہانے بنانے پر بھی اس بار امی نے میری نہیں سنی اور مجبوراً مجھے جانا پڑا۔ لائٹ بلیو کلر کی شارٹ فراک اور تنگ ٹراؤزر کے ساتھ آج مجھے اپنا آپ خود بھی کچھ مختلف لگ رہا تھا یا شاید کافی عرصہ بعد آج مجھے اپنے لیے تھوڑا وقت نکالنا پڑا تھا- پارٹی اپیا کے لان میں بی ارینج کی گئی تھی ۔ وہاں کا تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا بہت نفیس طریقے سے لائٹنگ کی آ گئی تھی کچھ ماحول کا اثر تھا اور کچھ پہلی بار اپنے سسرال آنے کا اثر کہ میں گھبراہٹ کا شکار ہورہی تھی پر صد شکر – کہ جس کا مجھے ڈر تھا وہ نہیں ہوا۔ وہ صاحب جی اس پارٹی میں نہیں آئے تھے یا آئے بھی ہوں تو مجھے اس کا علم نہیں تھا کیونکہ میں ابھی تک ان کی شکل وصورت سے ناواقف تھی۔ سفیان نے ایک ہی ضد لگائی ہوئی تھی، جب تک شاہویز ماموں نہیں آئیں گئے میں کیک نہیں کاٹوں گا لوگ کبھی اس کو اور بھی کیک کو دیکھ کر خاموش ہو جاتے تھے اور میرا تو یہ سن کر ہی حال برا ہور ہا تھا۔ شاہویز کے بغیر کیک نہیں کٹے گا، مطلب وہی ہونے والا تھا جس کا مجھے ڈر تھا۔ سفیان نے زور سے چلاتے ہوئے کہا- اگر شاہ ویز ماموں نہیں آئے تو میں کیک نہیں کاٹوں گا۔ اچانک سامنے سے ایک مردانہ آواز ابھری- ماموں کی جان ہمارے آتے ہی یہاں سے کوئی بھاگ جاتا اس لیے ہم نہیں آرہے تھے۔ سیدھا اور صاف مجھے سنایا جا رہا تھا۔ ماموں اور بھانجے نے مل کر کیک کاٹا- کاٹا سب کی ہیپی برتھ ڈے کی آواز گونجی اور میں سب سے پیچھے کی طرف ہونے لگئی میں نے اب تک نظر اٹھا کر انہیں دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی۔ ایک دم شفاء نے میرا ہاتھ پکڑا اور آگے کی طرف کھینچتی چلی آئی اور میں گھبراہٹ میں بس اس کے ساتھ آگے آکر بیٹھ بھی گئی- وہ مجھے سفیان اور شاہ ویز جہاں اب وہ سب سے الگ تحفے کی بات کر رہے تھے وہاں لے گی۔ سفیان بیٹا یہ لوآپ کا گفٹ شفاء نے سفیان کو گفٹ تھماتے ہوئے کیا اور پھر میری طرف دیکھ کر کہنے گی ۔ تمہارا لایا ہوا گفٹ کہاں ہے؟ ارے وہ تو اوپر ہی رہ گیا میں ابھی لے کر آئی ۔ یہ کہہ کر میں یہ جا اور وہ جا۔ سفیان کے ساتھ کھڑ ا بندہ ہی شاہویز تھا یہ تو مجھے معلوم ہو چکا تھا میں جو ابھی تک اس اچانک ہونے والی صورت حال سے بوکھلائی ہوئی تھی اپیا کے پکارنے پر ایک سراٹھا کر دیکھنے لگی۔ پاکیزہ یہ میرے بھائی شاہویز ہے اور بھائی آپ تو پہچان گئے ہوں گے۔ ویسے اپیا میں اتنا بھی ڈرونا نہیں ہوں جتنا کہ کچھ لوگ مجھے سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سیدھا میرے نہ دیکھنے پر چوٹ کی اور میں ایک دم سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی اور سامنے کھڑے بندے کو دیکھ کر لمحے بھر کے لیے تو میں خود بھی دنگ رہ گئی تھی۔ یہ میرا ہونے والا زندگی کا ساتھی ہے، واقعی جتنا سنا تھا اس سے کہیں زیاده ڈیشنگ پرسنالٹی تھی وہ ہلکی سی مسکراہٹ لیے مجھے دیکھ رہے تھے۔ اپیا کو کسی نے آواز دی وہ ابھی آئی کہہ کر وہاں سے چلی گئیں تو مجھے ہوش آیا اور اپنے آپ کو سنبھالتی ہوئی انہیں سلام کیا۔ دیکھا میں نے کہا تھا ناں کہ میں اتنا بھی ڈرونا نہیں جتنا کہ آپ سوچتی تھیں۔ شاہ ویز نے پرشوق نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا اور میں جو اپنے اپ کو مضبوط کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی ان کی اس بات پر ایک دم سے پھر گھبرائی کہ میرے اس طرح دیکھنے پر انہوں نے میرے دل کی بات کیسے جان لی- میرے اس طرح پریشان ہو جانے پر اور ان کی بات کا کوئی جواب نہ دینے پر انہوں نے ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔ پاکیزه جی ایک بات پوچھوں؟ اور میں جو یہاں وہاں دیکھنے میں مصروف تھی ان کی سرگوشی کے انداز میں چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔ پاکیزہ جی آپ پلیز مائنڈ نہ کیجئے گا کیا آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں؟ انتہائی دوستانہ لہجے میں پوچھا گیا اور اس سوال نے میرے چودہ طبق روشن کردیے اور میں ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگی کہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا سوال سننے کو ملے گا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور خود کو سنبھالتی ہوئی اوپر کمرے میں آگئی جہاں شفاء اور دیگر لوگ موجود تھے اور یہ بھی سمجھ میں آگیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر مجھے اور شاہ ویز کو بات کرنے کے لے چھوڑا تھا۔

آج صبح سے ہی گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا، آج فیصل بھیا دو سال کے لیے کورس کرنے لندن جا رہے تھے میرے سسرالی، شفاء کی فیملی اور محلے والے بھی ملنے کے لیے آرہے تھے بھائی نے شام کو جانا تھا شفاء اور ہم سب بھیا کے جانے سے غمگین تھے اور وہ تو بھیا سے کافی ناراض بھی تھی۔ بھائی کو ایئر پورٹ چھوڑنے کی ذمہ داری شاہ ویز نے لے لی تھی ۔ بھیا کی اور شاہویز کی اتنی اچھی دوستی دیکھ کر میں حیران رہ گئی اور کھانے کے دوران بھی بھیا مجھے کچن میں لینے کے لیے آئے۔ اور مجھ سے کہا کہ آؤ اور آج تم بھی سب کے ساتھ کھانا کھاؤ مجھے شاہ ویز پہ عمل اعتماد ہے۔ میں حیرانی اور کچھ پریشانی کے عالم میں بھیا کے ساتھ ڈائننگ ہال میں آئیں، جہاں پہلے ہی سے سب موجود تھے میرے اندر آنے پر سب کے ساتھ شاہویز نے بھی لمحہ بھر کے لیے سر اٹھا کر دیکھا اور بالکل انجان بن کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا، آج کھانا بھیا کے کسی دوست کی طرف سے آیا تھا اس لیے ہمیں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی تھی۔ کھانا کھاتے ہی وہ کسی کام سے چلا گیا کیونکہ شام کو جلد آنا تھا بھیا کو ڈراپ کرنے کے لیے۔ چائے بنانے کے دوران شفاء نے مجھ سے کہا کہ وہ ایئرپورٹ تک بھائی کو چھوڑ نے ساتھ جانا چاہتی ہے کیونکہ بھیا نے پہلے ہی سے سب کو کہہ دیا تھا کہ مجھے ایئر پورٹ تک میرے کچھ دوستوں نے اور شاہ ویز نے چھوڑنا ہے اسی لیے کسی نے ان کے ساتھ نہیں جانا حالانکہ بات کچھ اور بھی تھی، بھیا کے جانے کی وجہ سے سب افسردہ تھے اور بھیا کمزور نہیں پڑنا چاہ رہے اور تھے اس لیے بھی انہوں نے منع کر دیا تھا اور اب شفاء کی یہ بات سن کر میں خود بھی پریشان ہو گئی کہ یہ کیسے ممکن ہوگا۔ پلیز پاکیزہ تم کہو فیصل سے کہ تمہیں بھی جانا ہے مجھے معلوم ہے وہ تمہاری بات بھی نہیں ٹالے گا – شفاء نے التجائیہ لہجے میں کہا اور میں جو اس کی اتنی مسکین سی شکل دیکھ کر حامی بھرنے ہی والی تھی کہ اچانک کچھ یاد آنے پر بولی۔ لیکن شفاء ہم واپس کس کے ساتھ آئیں گے اور ائیر پورٹ پر تو شاہ ویز بھی جا رہا ہے۔ پلیز پاکیزہ میری خاطر پلیز دو سال کی بات ہے دو دن کی نہیں میں ان لمحوں کو اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی ہوں ۔ شفاء کے اس طرح کہنے پر مجھے احساس ہوا کہ میرے اور امی کے علاوہ بھی کوئی ہے جو بھائی کے جانے پہ دل ہی دل میں رورہا ہے- میرے اس طرح دیکھنے پر شفاء نے منہ موڑ لیا لیکن میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو صاف دیکھ لیے تھے اور آخر کار میں نے بھیا کو راضی کر ہی لیا تھا اور واپسی پر ہم نے شاہ ویز کے ساتھ آنا تھا۔ بھیا اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہوئے سب سے مل کر گاڑی میں بیٹھ گئے تھے ہمارے بیٹھتے ہی شاہ ویز نے چونک کر دیکھا اور بھیا نے اس کو جانے کیا سمجھایا وہ صرف سر ہلا کر مطمئن ہو گیا تھا۔ ایئر پورٹ پر بھیا کے دوست پہلے ہی سے موجود تھے وہ بھیا سے مل کرچلے گئے کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے ہم بھیا کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتے تھے جانے سے کچھ وقت پہلے بھیا شفاء کے پاس آئے اور کہا۔ مجھے معلوم ہے تم بہت بہادر ہوا اپنے ساتھ ساتھ میری گڑیا اور امی جی کا بھی خیال رکھنا مجھے تم سے بہت امیدیں ہیں۔ میں جو پانی پینے فلٹر کی طرف آئی تھی دور ہی سے بھیا اور شفاء کو آپس میں باتیں کرتے دیکھ کر خوش ہوئی شفاء کے بدلتے رنگ میری سمجھ سے بھر تھے- کبھی وہ بھیگی آنکھیں اٹھا کر بھیا کو دیکھتی تو کبھی ہلکی سے مسکراہٹ لیے سر جھکا دیتی اور میں جو دور سے اس کے بدلتے چہرے کے رنگ کو دیکھ کر مسکراہٹ لیے ان کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اچانک میرا ہاتھ کسی نے زور سے پکڑا اور کھینچتے ہوئے ستون کی اوٹ میں آ گیا۔ جہاں سے بھیا اور شفاء نظر نہیں آ رہے تھے۔ میں جو اس اچانک افتاد پر گھبرائی ہوئی تھی ایک دم سراٹھایا تو شاہ ویز کو غصہ میں بھرا دیکھا۔ مانا کہ آپ کے کوئی جذبات نہیں لیکن دوسرے لوگوں کے جذبات ہیں، دونوں آپس میں چند منٹ اکیلے میں بات کر رہے ہیں آپ کیوں کباب میں ہڈی بننے چلی ہیں، کرلینے دیں انہیں سکون سے بات، شاہ ویز نے یہ کہتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑا اور انجان بن کر رخ پھیر لیا۔ میں بے وقوفوں کی طرح ان کی پیٹھ کو گھور نے لگی- اناؤنسمنٹ ہونے پہ بھائی نے مجھے گلے لگایا تو خود پراختیار نہیں رہا اور میں بہت زیادہ رونے لگی کہ ابو کی وفات کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ بھیا بھی ہمیں چھوڑ کر جارہے تھے۔ شفاء نے بھیا سے مجھے مشکل سے الگ کیا اور بالآخر بھیا شاہ ویز کو بھی ڈھیروں نصیحتیں کر کے چلے گئے۔ واپسی پر میں نے اپنے آپ کو کافی سنبھال لیا تھا کیونکہ اب میں کسی کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہ رہی تھی گاڑی کے پیچھے والی سیٹ پہ شفاء کے بیٹھتے ہی جیسے ہی میں بیٹھنے لگی۔ ایک دم سے شاہ ویز نے دروازہ بند کر دیا۔ جناب میں آپ کا ڈرائیور نہیں ہوں، آپ آگے اگر بیھٹیں۔ یہ کہتے ہی اس نے آگے کا دروازہ کھول دیا اور میں غصے کی کیفیت میں اسے گھورنے لگی- یہ گھورنے کا کام ساری زندگی ہوسکتا ہے ابھی آپ جلدی سے بیھٹیں پیچھے ہارن کی آوازیں آرہی ہیں ۔ میں نے شفاء کے آنکھوں ہی آنکھوں میں سمجھانے پر بیٹھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے کے بعد شفاء نے بات شروع کی۔ شاہ ویز بھائی ویسے آپ پہلے تو اتنے غصہ میں نہیں رہتے تھے میں نے کئی بار آپ کو اپیا کے گھر دیکھا ہے پھر اب کیوں؟ شاہ ویز ایک دم سے ہلکا پھلکا ہوتے ہوئے مسکرایا۔ شفاء میں واقعی اتنا غصہ ور نہیں تھا لیکن اب ایک پتھر دل سے سر ٹکرانے میں لگا ہوا ہوں جس کا درد بھی صرف مجھ ہی کو ہو رہا ہے اس لیے غصہ میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ شفاء سے وہ میری ہی باتیں کر رہے تھے۔ اتنا تو میں جانتی تھی مگر ان کے اس طرح ایک دم مزاج بدلنے پر میں حیران بھی تھی، کہاں تو اتنا غصہ اور کہاں اب اتنی نرم مزاجی۔ گاڑی گھر کے سامنے رکنے پہ جب میں باہر نکلی تو میں نے ان کی جلی کٹی باتوں کے جواب میں اتنا ضرور کہا۔ آپ پتھر سے اپنا سر نہیں پھوڑیں کسی اور کی تلاش کرلیں میری طرف سے پوری اجازت ہے۔ یہ کہہ کر میں رکی نہیں تیز قدم اٹھائی اندر آ گئی۔

شروع ہی سے وہ تقریبا ہر لڑکی کا آئیڈیل رہا تھا ۔ مگر اس نے کبھی کسی میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی، اس کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی کا رشتہ موجود لیکن اس نے ایسی لڑکی کو اپنا شریک حیات بنانے کا سوچا جس نے انہیں ایک بار دیکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ امی اور اپیا کے بتانے پر اسے معلوم ہوا وہ بہت ہی خوب صورت اور نازک لڑکی ہے اور تصویر دیکھنے پر اس نے خود بھی حامی بھرنے میں دیر نہیں کی تھی۔ ایک ا کیر گی تھی اس کے چہرے پر جو کہ اسے بے حد پسند آئی اور اس نے سوچا کہ آج کل کے دور میں بھی ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں، بہر حال جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا شاہ ویز کو اس کی بے وقوفانہ حرکتیں بے حد پسند آتی جاری تھیں اور اس کے دل میں اس کی عزت اور قدر پہلے سے بھی بڑھتی جارہی تھیں۔

دو مہینے پر لگا کر اڑ گئے، اس دوران بھائی کا بھی فون اکثر آتا رہتا تھا۔ وہ بھی اپنی پڑھائی میں مصروف تھے۔ شفاء کے گھر والوں اور خود شاہ ویز نے بھی ہر ممکن ساتھ دیا۔ شفاء کی امی تو ہر دوسرے دن امی کے پاس آتی تھیں۔ ان کے آنے کی وجہ سے میرا اور امی کا دل کچھ بہل جاتا تھا۔ شاہ ویز تو بھائی کے جانے کے بعد ایک بار بھی نہیں آئے تھے۔ ہاں البتہ فون روزانہ باقاعدگی سے کرتے تھے اور امی سے ضروری چیزوں کا یا کام کا پوچھتے رہتے تھے۔ البتہ آنٹی یعنی میری ہونے والی ساس دو تین بار چکر لگا چکی تھیں وہ بھی بہت مخلص عورت تھیں۔ زبردستی امی کے بار بار انکار کرنے کے باوجود بھی اتنا کچھ اٹھا کر لے آتی تھیں کہ میں اور امی شرمندہ ہو جاتے تھے۔ اس دن کے بعد سے میری اور شاہ ویز کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی ہاں یہ ضرور ہوا تھا کہ میں اب ضرورت سے زیادہ ان کے بارے میں سوچنے لگی تھی پتا نہیں یہ ان کی شخصیت کا اثر تھا یا ہمارے ہونے والے رشتہ کا، ناچاہتے ہوئے بھی دل ہی دل میں اس بندے کا سوچنے لگی تھی۔

یار ایسا نہیں کہ وہ مجھے پسند نہیں لیکن اس نے میرے ہی رشتہ پر کیوں اقرار کیا جب کہ مجھے ایسا لگتا ہے وہ خود بھی اس رشتہ پہ راضی نہیں دیکھا ہے وہ خود کتنا ہینڈ سم بندہ ہے- اور شفاء جو میری بات کو غور سے سن رہی تھی زورزور سے پاگلوں کی طرح ہسنے لگی۔ تو یار ایسا کہو نہ کہ تمہیں اس کی پرسنالٹی اور اس کی خوب صورتی پہ اعتراض ہے ۔ اور میں جو بے قوفوں کی طرح اس سے ساری بات کہی گئی تھی اب منہ بناتے ہوئے کہنے لگی ۔ اور جناب کی باتیں سنی ہیں کتنی جلی کئی کرتے ہیں۔ آپ اپنے اوپر بھی نظر ڈالیں، آپ نے کبھی اس کی بات کا شیح طور سے جواب دیا ہے بلکہ اب تو اس نے تم سے کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا ہے اور رہی بات اس کی پرسنالٹی کی تو ڈیئر تم خود کسی سے کم نہیں ہو تم واقعی پاگل ہو اتنی سی بات کو اپنے سر پر سوار کر لیا ذرا اپنے اوپر بھی نظر ڈال لیتی تو پتا چلتا کہ کوئی بھی بندہ ہوتا تمہارے رشتہ سے کیسے انکار کرتا اور پاگل وہ تم سے بہت پیار کرنے لگا ہے۔ شفاء نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا۔ لیکن تمہاری ان بچگانہ حرکتوں سے ڈرتے ہوئے کبھی اظہار نہیں کرتا کہ شاید تم اس بات کو بھی سیریس نا لے لو اور سوچو کہ شاید وہ اچھے کردار کا مالک نہیں ہے وہ اس لیے خاموش ہے ورنہ وہ تم سے بہت سے کچھ کہنا چاہتا ہے اگر تم سننا چاہو تو- نہیں کبھی نہیں مجھے نہیں کرنی اس سے بات وات میں نے ایک دم سے کہا۔ اور یہ ان کی اتنی باتیں تمہیں کیسے معلوم مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے ؟ کیونکہ پہلے تم میری بات کو سمجھتی نہیں اور شاہ ویز نے بھی منع کیا تھا وہ پاگل ہے تمہارے لیے پاگل لڑکی جب بھی اس سے ملاقات ہوئی اپیا کے گھر تو اس نے ہمیشہ تمہارا پوچھا اور بس تمہاری ہی باتیں کرتا رہتا ہے تمہارے مزاج کی ۔ میں یہ سن کر حیرانی سے اسے دیکھنے لگی کہ میں کتنا غلط سوچتی رہی۔ اور ہاں میں اتنی بھی دقیانوسی سوچ کی لڑکی نہیں ہوں کہ ان کی کسی بھی بات کا غلط مطلب لوں، بس میرا سوچنے کا طریقہ تھوڑا الگ ہے۔

میرا موبائل کب سے بج رہا تھا، موبائل کی اسکرین پر نظر دوڑائی تو ایک نیا نمبر سامنے دیکھ کر چونک گئی میں نے کال ریسیو کی اور ہیلو کہنے پر فورا ہی وہاں سے اسلام کیا گیا۔ وعلیکم السلام ، مجھے آواز کچھ جانی پہچانی سی لگی اور آواز کے کانوں میں پڑتے ہی دل بھی دھڑکنے لگا اس سے پہلے کہ وہ خود اپنا تعارف کرواتے میں نے جلد ہی خود کہہ دیا۔ آپ ! آپ کو کیسے ملا میرا نمبر؟ بہت منت سماجت پہ ملا آپ نے تو کبھی غلطی سے بھی کسی سے ہمارا نہیں پوچھنا اب ہم خود ہی بتا دیں کہ ہم بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں ۔ دوسری طرف سے شوخی بھری آواز میں گلہ کیا گیا۔ میں جو اس دن کے بعد سے اپنے اندر ہمت پیدا کر رہی تھی ۔ ان کی شوخ آواز سن کر پھر سے گھبراہٹ ہونے لگی، شکر تھا کہ وہ سامنے نہیں تھے ورنہ نجانے کیا سمجھتے۔ دنیا میں بہت سے ظالم ہوں گے لیکن سچ آپ جیسا ظالم نہیں دیکھا۔ میں نے کیا ظلم کیا اور آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟ پلیز صحیح طریقے سے بات کریں۔ میں نے خود کو مطمئن ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ آپ نے ایک اچھے خاصے شخص کی نیندیں، اس کا سکون، چین، کھانا پینا سب چرا کر آپ کہتی ہیں کہ آپ ظالم نہیں، اچھا خاصا زندگی گزار رہا تھا زندگی میں آئیں بھی تو ایک ظالم شہزادی بن کر جو اپنے ظلم کرنے پر بھی کہتی ہے کہ اس نے کیا کیا۔ میں ان کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے بولی۔ میں نے تو آپ کو لاسٹ ٹائم بھی مشورہ دیا تھا کہ کوئی اور دیکھ لیں مت کریں اپنے اوپر ظلم- اف یہی باتیں تو آپ کی مجھے جینے نہیں دیتیں آپ کیوں اتنی سنگ دل ہیں؟ دیکھنا جس دن آپ پیار کے معنی سمجھ جائیں گی تو اس دن آپ کو ہمارے احساسات جذبات کا اندازہ ہوگا اور رہی بات کسی اور کی تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کسی اور کا، آپ کی بے رخی سہہ لوں گا لیکن دوری نہیں ۔ وہ آج کچھ زیادہ ہی صاف لفظوں میں اپنے پیار کا اظہار کر رہے تھے اور میں جو ان کے اتنے کھلم کھلا اقرار پر حیران تھی بس جی کہہ کر رہ گئی تھی۔ پاکیزہ آئی ایم سوری در اصل کچھ غلطی میری بھی تھی اپنی پہلی ہی ملاقات میں آپ سے ایسی بات کہہ دی جو مجھے نہیں کرنا چاہیے تھی لیکن یقین جانیں آپ کا پہلا ری ایکشن دیکھنے پر ہی میں نے آپ کی مدد کے لیے آپ سے وہ بات کی تھی کہ یہ لڑکی جو مجھے ایک نظر دیکھنے پر آمادہ نہیں تو شاید بات کچھ اور ہو لیکن بعد میں آپ کے مزاج کا معلوم ہوا کہ آپ تو جذبات سے عاری ہیں لیکن نہیں بھیا کے جانے پر جیسے آپ بھر کر رویں تو مجھے بہت کچھ سمجھ میں آگیا کہ آپ بالکل بھی ایسی نہیں ہیں جیسی کہ اوپری نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے جذبات کو دوسروں کے سامنے نہیں لاتیں لیکن میں اپنے اظہار کا آپ سے جواب چاہتا ہوں اس لیے آج فون کرنے پہ مجبور ہو گیا ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ میرے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ جو شخص مجھے اتنی گہرائی سے جانتا ہو اس کو بھی کیا اقرار بنتا ہے۔ میں نے بھی اپنے دل کی بات کہنے میں دیر نہیں کی۔ ہاں بہت ضروری ہے کیونکہ مجھے اب بھی آپ سے اس طرح بات کرنے کا یقین نہیں ہو رہا۔ انہوں نے بے یقینی کی کیفیت میں کہا اور میں نے بھی یہ سوچ لیا تھا کہ انہوں نے جتنا تنگ کیا ہے۔ اتنا ہی میں بھی انہیں پریشان کروں گی ۔ پھر اقرار کروں گی ۔

پھر ایسا ہوا کہ ہفتہ دس دن بعد ان سے فون پر بات ہونے لگی اور میں اپنی اس بدلتی کیفیت پر خود بھی حیران تھی ہر پل ان کے فون کا انتظار کرنے لگی لیکن اپنی اس کیفیت کو دبا کر رکھا کہ میں اپنا آپ فی الحال ان پر عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی۔ دن بہت مصروفیت کے ساتھ گزرنے لگے تھے۔ باجی کوثر نے بھی ہماری بہت مدد کی بھیا کے جانے کے بعد ہمیں کسی بھی چیز کی ضرورت کے لیے باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی، شایان اور آریان نے ساری ذمہ داری لے لی تھی اور وہ یہ کام خوشی خوشی کر رہے تھے ۔ بالآ خر اس بار میری اور بچوں کی رات دن کی محنت کا پھل مل گیا، سارے بچے اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تھے۔ وہ دونوں بچے بھی پاسنگ مارکس نے کر پاس ہو ہی گئے تھی۔ ان کی فیملی کا تو مارے خوشی کے برا حال تھا۔

میں اپنا آخری پیپر دے کر آ رہی تھی، جب میں نے سامنے چاٹ کے ٹھیلے پر شایان اور آریان کو دیکھا شایان آریان کا ہاتھ پکڑ کر جانے کے لیے کہہ رہا تھا۔ دور سے دیکھنے پر مجھے اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ جو دو اور لڑکے کھڑے تھے شاید وہ ان کی کسی بات پر انکار کر رہا تھا۔ ان دولڑکوں کی حالت کچھ ایسی تھی کہ وہ صرف شکل سے ہی نہیں بلکہ اپنے حلیہ سے بھی سڑک چھاپ لگ رہے تھے ۔ شام کو شایان کچھ شا پر ز دے کر واپس جارہا تھا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ ہمارے کو چنگ والے سر تھے جہاں ہم دو ماہ قبل ٹیوشن پڑھتے تھے جب آپ نے دوماہ کی آف دی تھی۔ اگلے دن ہم ماںبیٹی چائے پی رہے تھے جب ساتھ والی پڑوسن آگئی اور انہوں جو بات ہمیں بتائی اس کو سن کر ہم سکتہ میں آگئے ۔ بیٹا شکر کرو تم نے ان دو بچوں سے جان چھڑائی ان کے کرتوت تو دیکھو ماں تو بڑی بڑی باتیں کرتی تھی، کہ میرے بچے اتنے بھولے ہیں اور اب ان کا بھولپن تو دیکھو تو بہ تو بہ ، دراصل کوثر آنٹی پھر کہیں گئی ہوئی تھیں۔ اپنے بچوں کو اکیلا گھر چھوڑ کر پڑوسن کی بچی ان کے گھر کچھ دینے آئی تھی۔ انہوں نے جانے ایسا کیسا مذاق بچی کے ساتھ کیا کہ بچی کے گھر جا کر بتانے پر اس کی امی نے دونوں بچوں کو پورے محلے والوں کے سامنے جوتوں سے مارا۔ مجھے ایک دم وہ بات یاد آ گئی جب میں نے ان دونوں کو ٹھیلے پر بھی آوارہ لڑکوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ میں نے پڑوسن خالہ کے جاتے ہی امی کو وہ بات بتائی اور یہ بھی بتایا کہ کافی وقت سے شایان مجھے کچھ الجھا الجھا سا لگ رہا تھا اور میرے پوچھنے پر بات گول مول کر دیتا تھا۔

اگلے دن ان کی امی ہمارے گھر آئیں میں نے دیکھا کہ ان کا چہرہ پہلے سے مرجھایا ہوا تھا، مجھے ایک دم ان پر ترس آیا کہ اولاد کا دکھ والدین کو کیسے اندر سے ختم کر دیتا ہے ان کی آج باتوں میں بھی وہ پہلی والی کھنک نہیں تھی۔ انہوں نے آتے ہی روتے ہوئے وہ ساری بات بتادی جو ان کے بچوں کی تھی۔ یہ بھی بڑی بات تھی کہ انہوں نے اپنے بچوں کی کسی بات پر پردہ نہیں ڈالا اور امی کو اپنی بہن سمجھتے ہوئے ساری حقیقت بتائی۔ امی کو بھی ان پر ترس آیا۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہی تھیں کہ انہوں نے بچوں پر کیوں نظر نہیں رکھی- اب پچھتانے سے بہتر تھا کہ غلطی کو سدھارا جائے ان کی صحیح اصلاح کی جائے ۔ ایسا میں نے دل میں سوچا۔ میرے بچے شرارتی تھے ان کو اٹھنے بیٹھنے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا لیکن باجی میرے بچے اس قسم کے نہیں تھے کہ اس قسم کی حرکت کرتے ۔ وہ روتے ہوئے امی سے کہہ رہی تھیں۔ صبر کرو کوثر جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا، تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اب میں تمہیں مزید شرمندہ نہیں کر سکتی، لیکن اب تھوڑی دیر کے لیے بھی بچوں کو اکیلا مت چھوڑنا ان پر نظر رکھنا۔ امی نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے کہا۔ مجھے پورا شک ہے کہ اس سر کا ہی ہاتھ ہے، جہاں یہ دو مہینے ٹیوشن پڑھے تھے جب پاکیزہ نے دو ماہ کی چھٹیاں دی تھیں تو میں نے اس کوچنگ میں ڈال دیا تھا۔ وہاں اور بھی استاد تھے بہت قابل اور ایمان داران میں ایک یہ بے ایمان بھی میرے ہی بچوں کی کلاسز لیتا تھا، پڑھایا تو اس نے کچھ نہیں میرے بچوں کو بگاڑ ضرور دیا ۔ تمہیں آخر اسی پر شک کیوں ہے کوئی تو بات ہوگی ؟ امی نے پوچھا۔ مجھے ایک دن شایان کہہ رہا تھا کہ امی میں اس کوچنگ میں نہیں جاؤں گا وہ سر عجیب حرکتیں کرتے ہیں لیکن میں نے اس وقت اس کی باتوں پر دھیان نہیں دیا کہ شایان شاید پڑھائی نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اب کل والے واقعے کے بعد شایان نے ہی بتایا کہ بھائی بچوں کے ساتھ غلط مذاق کر رہا تھا میں نے اسے روکا بھی اور اس بچی کو دروازہ کھول دیا کہ وہ گھر بھاگ جائے اس نے گھر جا کر پتا نہیں کیا بتایا کہ اس کی امی نے آ کر ہم دونوں کی پٹائی کی شایان نے بتایا کہ امی بھائی کے ساتھ وہ سر بہت عجیب باتیں کرتے تھے جو مجھے اچھی نہیں لگتی تھیں۔ انہوں نے روانی سے بتایا۔ ہمیں ان کی باتوں میں سو فیصد سچائی نظر آئی کیونکہ وہ بچے پہلے ایسے نہیں تھے کچھ وقت سے ان میں کافی تبدیلیاں آئی تھیں ۔ بے شک شایان نے ایسا ہی کیا ہوگا۔ جیسا کہ ان کی امی نے بتایا وہی بات بد سے بد نام برا۔ میرا دل ابھی بھی آریان کی اس حرکت پر غمزدہ تھا کچھ بھی تھا ان دو بچوں سے مجھے ایک استاد کی حیثیت سے لگاؤ ہو گیا تھا شکر ہے آریان نے میرے ٹیوشن میں آج تک کوئی ایسی حرکت نہ کی تھی جو میرے یا اس ٹیوشن میں پڑھنے والے بچوں کے لیے غلط ہوتی۔ مجھے ایک لمحہ ہی لگا یہ سمجھنے میں کہ آریان کے بگڑنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ واقعی اگر بری صحبت میں انسان اٹھے بیٹھے گا تو وہ بھی اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔ محلے والوں میں سے کئی عورتیں ہمارے گھر آئیں۔ کسی نے کیا بات کی اور کسی نے کیا۔ کئی ٹیوشن سینٹر والوں نے بھی ان کی اڑتی اڑتی خبریں سن کر ان کو اپنے کو چنگ میں پڑھانے سے انکار کر دیا کہ یہاں بچیاں آتی ہیں اوران کے والدین کو اعتراض ہوگا یہ سب باتیں سن کر میرے دل کو دکھ پہنچا کہ اگر بچوں سے غلطی ہوئی ہے تو بجائے اس کے کہ لوگ ان کو سہارا دیں ان کی اصلاح کریں نہ کہ ہم ان کو برائی کے دلدل میں گرنے دیں- دھچکا تو مجھے تب لگا جب شاہ ویز کی امی جو کہ اتنے کھلے ذہن کی مالک تھیں انہوں نے بھی محلے والوں کی باتوں میں آکر امی کو ان بچوں کو پڑھانے سے منع کیا میں نے امی کو اتنا ضرور کہا۔ آپ کو اپنی بیٹی پر اعتماد ہے نہ تو بس مجھے کسی اور کی باتوں سے کوئی مطلب نہیں اگر وہ میرے پڑھانے کی وجہ سے پریشان ہیں تو بے شک اپنے بیٹے کا رشتہ کہیں اور کر دیں لیکن میں ان بچوں کو ضرور پڑھاؤں گی میں کسی اور بچے کو اس عمران نامی کی طرح نہیں بنے دوں گی جس نے بچوں کی زندگی برباد کی اور اپنی آخرت بھی۔

آج پہلی بار میں نے کسی سوچ کے تحت شاہ ویز کا نمبر ڈائل کیا دوسری طرف سے اٹھاتے ہی ہیلو کرنے کے بعد پریشانی سے پوچھا گیا۔ سب خیریت تو ہے؟ میرے جی کہنے پر انہوں نے، میں صرف دو منٹ بعد آپ کو کال بیک کرتا ہوں کہہ کر فون بند کر دیا۔ ٹھیک دو منٹ بعد کال آئی۔ آپ اگر مصروف ہیں تو کوئی بات نہیں، میں بعد میں بات کرتی ہوں۔ نہیں جناب آج کا دن تو ہمارے لیے بہت خوشی کا ہے دو منٹ کا وقت آپ سے صرف اس لیے مانگا کہ اپنے آپ کو چٹکی بھر کر یقین دلا رہا تھا کہ کیا واقعی آج آپ کی کال آئی ہے یا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں اور یقین آنے پر سارے اسٹاف کو مٹھائی کھلانے کا کہا۔ وہ نان اسٹاپ شروع ہو گئے تھے۔ میں نے آپ سے ایک ضروری بات پوچھنی ہے۔ میری سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے وہ بھی سنجیدہ ہو گئے اور میں انہیں ساری بات بتاتی چلی گئی۔ کیا آپ کو میرے ان دو بچوں کو پڑھانے پر اعتراض ہے؟ جیسے کوئی بھی محلہ والا پسند نہیں کرتا صرف اس وجہ سے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے لیکن اب وہ بہت شرمندہ ہیں اور اپنی غلطی کو سدھارنا چاہتے ہیں کیا آپ کو میرے رہنمائی کرنے پر اعتراض ہے تو بتا دیں ہے میں نے صاف اور سادہ لفظوں میں بات کی۔ پاکیزہ جی مجھے آپ پر اندھا اعتماد ہے اور آپ کے کسی بھی بچے کو پڑھانے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں البتہ آپ سے یہ ضرور کہوں گا کہ آپ اپنا خیال ضرور رکھنا کیونکہ ہمارے معاشرے میں کوئی کسی کو سہارا دینے کا سوچتا ہے تو دوسرے لوگ اس بندے کو ہی بے آسرا کر دیتے ہیں اور میں ایسا آپ کے ساتھ بالکل بھی نہیں دیکھ سکتا۔ شاہ ویز نے میرے حوصلوں کو مزید بڑھایا۔ شکریہ مجھے آپ سے ایسی ہی سوچ کی امید تھی، میں نے تشکر بھرے لہجے میں کہا۔ میری آواز خود ہی بھیگتی چلی گئی ۔ مجھے معلوم ہی نہیں ہوا۔ ارے محترمہ میں غصہ کروں تو رونا مذاق کروں تو رونا سنجیدہ ہوں تو، آپ ھی بتا دیں میں کس لہجہ میں بات کروں کہ آپ کو رونا نہ آئے ۔ آپ ایک رونے کی تربیت دینے کا ٹیوشن کیوں نہیں اسٹارٹ کر دیتیں۔ سچ میں بڑا فائدہ ہوگا۔ بچت ہی بچت ۔ انہوں نے میرے موڈ کو فریش کرنے کے لیے اوٹ پٹانگ کہا اور میں بھیگتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی۔ گڈ گرل ایسے ہی ہنستی مسکراتی رہا کرو اور شکریہ تو مجھے آپ کا کرنا چاہیے کہ آج ہم جیسے غریبوں کو بھی کسی نے یاد کیا ایسا لگا کہ ہمارا بھی کوئی ہے اس دنیا میں جو صرف اور صرف ہمارا ہے۔ وہ پھر سے اپنی پہلے والی جون میں آچکے تھے۔ بس کر دیں اپنی یہ ڈائیلاگ بازی۔ میں نے زچ ہو کر کہا۔ جناب آپ کو تو ابھی یہ ہماری ڈائیلاگ بازی لگتی ہے دیکھنا جب ہم نہیں ہوں گے تو آپ کو یہی ڈائیلاگ بازی یاد آئے گی ۔ انہوں نے اور زیادہ تنگ کرتے ہوئے کہا۔ اللہ نہ کرے آپ کیوں نہیں ہوں گئے آپ کو کیا ہونے والا ہے؟ میں نے ایک دم ان کی اس بات کو پکڑتے ہوئے پریشانی سے کہا تو دوسری طرف سے ایک جاندار قہقہہ بلند ہوا ساتھ ہی آواز آئی۔ دیکھا پاکیزہ جی آپ اقرار کریں نہ کریں آپ کی ہمارے لیے یہ فکر اور پریشانی ہی کافی ہے اس بات سے آپ کے دل کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیں۔ انہوں نے میری چوری پکڑتے ہوئے کہا تو میں نے شرمندگی سے اللہ حافظ کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔

شایان کو آرمی سے بہت لگاؤ تھا۔ میں جب بھی اسے ایسے کسی موضوع پر لیکچر دیتی اس کی آنکھوں میں مجھے ایک عجیب سی چمک دکھائی دیتی تھی اور حسرت بھی ایک دن اس نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا۔ آپی کاش میں بھی آرمی جوائن کر سکتا ۔ تو میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ بیٹا جی آپ آرمی کیوں نہیں جوائن کر سکتے آپ کر سکتے ہیں بس آپ کو پہلے سے زیادہ مضبوط بننا ہوگا اور مزید محنت کرنا ہوگی انسان چاند پر جا سکتا ہے تم بھی ایک انسان ہو اپنی محنت کے بل بوتے پر کیا نہیں کر سکتے اسی سال اتنی محنت کرو، کہ سب کو حیران کردو اور اتنی اچھی پوزیشن لو کہ وہ تمہیں ریجیکٹ نہ کر پائیں ۔ میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔ کیا آپی واقعی ایسا ہوسکتا ہے؟ اس نے بےیقینی کی کیفیت میں کہا۔ میں نے آج دونوں کے موڈ کو دیکھتے ہوئے ان کے اچھے مستقبل کے بارے میں بتانے کے لیے بات شروع کی۔ دیکھو بیٹا ایک اچھی اولاد اپنے والدین کا فخر ہوتی ہیں، ایک اچھا شہری اپنے ملک اور ایک اچھا انسان ساری انسانیت کا فخر ہوتا ہے اور یہ سب خصوصیت کسی ایک میں آجائے تو خود سوچو اس کی زندگی اور آخرت کتنی اچھی ہوگی۔ مرنا تو ہر انسان نے ہے تو کیوں نہ کوئی ایسا اچھا کام کر کے مریں کہ دنیا میں بھی اچھا نام ہو اس کے مرنے کے بعد بھی اور آخرت میں بھی اس کا اجر ہے۔ آپی میں بھی آرمی میں جا کر کوئی ایسا ہی کام کروں گا کہ لوگوں کو مجھ پر فخر ہو۔ شایان کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو رہا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ دونوں وہی پہلے والے بچے ہیں، میں نے بھی پڑھانے کے دوران حوصلہ نہیں ہارا۔ بالآ خر رات دن محنت کی وجہ سے ہمیں اتنا میٹھا پھل ملا کہ ہمیں یقین نہ آیا۔ بچوں نے اتنے شاندار نمبرز لیے کہ اخباروں میں اور محلے میں ان کی دھوم مچ گئی۔ اس خوشی کے ساتھ ہی مجھے شاہ دیز سے دوری کا بھی دکھ تھا کیونکہ ان کی والدہ نے رشتہ توڑ دینے کا کہا تھا دکھ تھا تو اس بات کا کہ اتنے عرصے میں اس شخص نے بھی کوئی بات نہ کی جس نے مجھ پر اندھے اعتماد کا کہا تھا۔ کیا وہ بھی اس رشتہ کو توڑنے میں اپنی فیملی سے متفق تھا۔ اس دن میں اپنے کمرے میں دروازہ بند کر کے بے اختیار بہت روئی تھی۔ میرے بھی جذبات ہیں میرے بھی احساسات ہیں مجھے بھی درد ہوتا ہے کیوں کیا شاویز آپ نے ایسا، کیوں مجھے اپنا اتنا عادی کیا ؟ مجھے میرے حال میں ہی چھوڑ دیتے۔ اس راہ کی طرف کیوں لائے ۔

بھیا کی واپسی کی وجہ سے میں اپنا غم بھول کر ان کی خوشی میں شریک ہو گئی تھی ایک مضبوط سہارا مل گیا تھا۔ بھیا نے پاکستان آتے ہی اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک انسٹیٹیوٹ کا آغاز کر دیا تھا اور پھر بھیا جب رات گئے واپس آئے تو میں جاگ رہی تھی۔ سوری گڑیا میری وجہ سے ابھی تک جاگ رہی و بھیا نے شرمندگی سے کہا۔ انہیں بھیا آج مجھے آپ سے کچھ باتیں پوچھنی تھیں، اس لیے تبھی جاگ رہی تھی ۔ میرے کہنے پر بھیا نے تفصیلات بتائیں کہ آخر وہ کیوں لندن کورس کے لے گئے تھے۔ گڑیا اصل بات یہ ہے کہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا بات ہے ہمارا ملک پڑھائی میں کیوں اتنا پیچھے رہا ہے جب کہ اب تو کورس ایسا ہے جو باہر ملک میں ہوتے ہیں، اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ یہاں تدریس کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے وہی جو وہاں پڑھایا جارہا ہے وہی کورس ہمارے اپنے ملک میں بھی پڑھایا جاتا ہے بس تھوڑا سا سمجھانے میں فرق ہے کچھ لوگ پڑھاتے کم اور اپنی جان زیادہ چھڑاتے ہیں اور میں نے کچھ تجربات بھی کیے ہیں، اب اسی بنا پر ایک ایسا انسٹیٹیوٹ کھولا ہے- جہاں ہماری نوجوان نسل کو بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی انہیں اب اسی ملک میں ویسی تعلیم ملے گی جس کے حصول کے لیے وہ اتنا پیسہ خرچ کر کے وہاں جاتے تھے۔ بھیا نے ایک عزم کے ساتھ کہا۔ شایان اور آریان کو بھی بھیا ٹیوشن کے بعد اپنے انسٹیٹیوٹ لے جاتے اور وہ وہاں کب تک رہتے تھے اس کا مجھے علم نہیں تھا، سکون اس بات کا تھا کہ وہ اب ایک کے بجائے دو محفوظ ہاتھوں میں تھے۔

شفاء کا فون آیا اور اس کے بتانے پر پتا چلا کہ اپیا کی طبیعت کافی خراب ہے رشتہ ٹوٹنے کے بعد بھی اپیا نے ہمارے ساتھ تعلق ختم نہیں کیا تھا، ان کی کالز ہر ہفتہ ضرور آتی تھیں اسی وجہ سے امی نے بھی مجھے ان کی طبیعت معلوم کرنے کو کہا۔ آج کافی عرصے بعد میں اپیا کے گھر آئی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے محبت سے گلے لگایا اور باتوں ہی باتوں میں بتانے لگیں۔ امی کی ایسی سوچ نہیں تھی پاکیزہ پتا نہیں لوگوں کی باتوں میں آکر انہیں کیا ہوگیا اور شاہویز کی حالت کا کیا بتاؤں، وہ مزید کچھ کہنا چاہ رہی تھیں میں نے انہیں ٹوک دیا اور ان کی اپنی صحت کا پوچھا۔ وہ پہلے سے کافی کمزور لگ رہی تھیں۔ سفیان کا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ برابر والے کمرے میں پڑوس کے کچھ بچوں کی ساتھ ٹیوشن پڑھ رہا تھا۔ انہیں ٹیوشن پڑھانے کوئی سر آتے تھے۔ اپیا سر کے لیے چائے بنانے کے لیے اٹھنے لگی تو خراب طبیعت کے باعث میں نے انہیں روک دیا۔ میں بنا دیتی ہوں اور سیفی کو بھی دیکھ لوں گی ۔ اپیا نے فوراً کہا۔ پاکیزه … دروازہ ناک کر کے کھڑی رہنا جب تک وہ اندر سے نہ کھولیں ۔ میری چھٹی حس نے خطرے کا الارم دیا۔ میں بجائے انتظار کرنے کے دروازہ بجاتے ہی اندر داخل ہوگئی اور اپیا جو میرے پیچھے ہی چائے کا مگ ہاتھ میں تھامے ہوئے تھیں۔ اندرکا منظر دیکھ کر چونک گئیں- اور میں جو اندر کا منتظر دیکھ کر اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حیران اور پریشان ہوگئی کہ یہ تو وہی کو چنگ والا سر ہے جس نے آریان کو میں بگاڑنے کی پوری کوشش کی تھی اور اب ان بچوں کو، کیونکہ اندر وہ سزا کے طور پر بچوں کو برہنہ الٹا کر کے دوسرے بچوں سے ان کی کمر پر تھپریں لگوا رہا تھا اور دوسرے بچے اس نظارے سے لطف اندوز ہورہے تھے جیسے ہی ہم نے ان کو یہ سب کرتے دیکھا تو وہ پریشان ہو گئے۔ البتہ ساتھ والوں کا بچہ شرمندگی سے اٹھ کر اپنے گھر بھاگ گیا۔ اپیا کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اس سر کا حشر بگاڑ دے جو دوسروں کے ساتھ ان کے خود کے معصوم بچے کو یہ تربیت دے رہا تھا۔ آج اس شخص کا حلیہ تھوڑا غیر لگ رہا تھا۔ میرے دماغ میں ایک دم ایک آئیڈیا آیا اور میں نے اپیا کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مشکل سے بات کرنے کے لیے سنبھالا۔ بچوں کو کمرے سے نکلنے کا کہہ کر میں سر کے پاس آئی اور کہا۔ ویری گڈ کتنی اچھی تعلیم دے رہے ہیں آپ یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں اپیا کو آپ پر پہلے ہی سے شک تھا اس لیے اس کمرہ میں ہم نے خفیہ کیمرہ لگوایا تھا اب آپ کا یہ کارنامہ ہم سب کو دکھاتے ہیں تا کہ آپ کی اصلیت کا سب کو معلوم ہو ۔ مجھے اس کو صرف یہاں سے ہی نہیں نکالنا تھا بلکہ کچھ ایسا کرنا تھا کہ یہ آگے جا کر اور بچوں کی زندگی برباد نہ کرے۔ ہمارے کہنے کی دیر تھی اس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی شروع کر دی اور ایک دم گڑ گڑانے لگا۔ آپ پلیز یہ ویڈیو کسی کو مت دینا میں آج کے بعد توبہ کرتا ہوں کبھی کوئی غلط کام نہیں کروں گا میں دل سے بچوں کو پڑھاؤں گا۔ وہ با قاعدہ رونے لگا۔ اسے بھی پتا تھا کہ اس کی اس حرکت پر اگر پولیس کے حوالے کر دیا جاتا تو وہ کس کیٹیگری میں آتا۔ میں نے اسے ڈرایا دھمکایا اور کھری کھری سنا کر فارغ کر دیا اور اس نے ایسا پھر کبھی نہ کرنے کا یقین دلایا اور میں نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ویڈیو کسی کو نہیں دوں گی ۔ جب کہ یہ بات تو میں اور اپیا ہی جانتی تھیں کہ کوئی ویڈیو تھی ہی نہیں میں نے تو محض ایک بات بنائی تھی اس اچکے کو سبق سکھانے کے لیے۔ اس کے جانے کے بعد اپیا کو کچھ ہوش آیا تو میرے گلے لگ کر رونے لگیں۔ پاکیزہ آج اگر تم نہیں ہوتیں تو یہ شخص تو پتا نہیں میرے بچے کو اور کیا کیا غلط حرکتیں سکھا دیتا۔ اپیا اس میں تھوڑی سی غلطی آپ کی بھی ہے آپ کو نظر رکھنی چاہیے تھی، جب اس نے آپ کو بلا اجازت اندر آنے سے منع کیا تو آپ کو اسی وقت نظر رکھنی چاہیے تھے۔ خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا بلکہ اب وہ شخص سدھرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ میرے بتانے پر اپیا کو معلوم ہوا کہ یہی وہ شخص تھا جس کی وجہ سے شایان اور آریان پر بھی الزام آیا اور آریان نے اس کے دیکھا دیکھی وہ حرکت کی، اپیا وہ بچے ایسے نہیں تھے جیسا کہ اس شخص نے انہیں بنانے کی کوشش کی جیسا کہ آپ کے بچے کو بھی غلط راہ دکھائی اب اگر ایسے میں سفیان سے اللہ نہ کرے کوئی غلطی ہو جائی تو کیا سب لوگ اس بچے کا ساتھ چھوڑنے کا کہتے جیسے ان دو بچوں کے ساتھ ہوا۔ میں نے بہت سی پچھلی باتوں کو صاف انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا۔

کافی عرصہ بیت گیا پھر ایک دن کیپٹن شایان کے شہید ہونے کی خبر نے میرے اندر ہلچل مچا دی، لوگ دور دور سے ان کے گھر تعزیت کے لیے آرہے تھے اور محلے والے بڑے فخر سے دوسرے لوگوں کو شایان کے قصے سنا رہے تھے کہ اس نے کسی طرح ملک کی خاطر قربانی دی یہ وہی لوگ تھے جو کچھ عرصے پہلے تک ان بچوں سے ہم کلام ہونا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور آج اس کے کارنامے پر فخر محسوس کر رہے تھے ۔ واقعی شایان تم اب بھی زندہ ہو تم مرتے مرتے ایسا کام کر گئے کہ لوگوں کو تم پر فخر ہے تم ایسا ہی چاہتے تھے-

ڈرائنگ روم سے آتی جانی پہچانی آوازوں نے مجھے چونکا دیا میرے قدم اپنے آپ دروازے پر آ کر رک گئے کیونکہ سامنے ہی شاہ ویز کی فیملی موجود تھی مجھے دیکھتے ہی آنٹی نے مجھے گلے لگایا، میرے سلام کرنے کے بعد مجھ سے معافی مانگنے لگی۔ میں نے فورا ان کے جڑے ہوئے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور آنٹی سے کہا۔ آپ بھی میری امی کی جگہ ہیں، آپ مجھ سے معافی مانگیں یہ مجھے ہر گز گواراہ نہیں ۔ سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا تھا لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ سب کچھ پہلے جیسا ہو جانے کے بعد بھی اب میرا دل ویسا نہیں رہا تھا- آج کیپٹن شایان شہید کے اعزاز میں تقریب تھی۔ ان کی فیملی کے ساتھ بطور خاص ہماری فیملی کو بھی دعوت دی گئی تھی ۔ پورا ہال مہمانان گرامی اور دیگر بڑے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھرا ہوا تھا۔ جب تقریب کا آغاز ہوا تو آریان کو بطور بھائی کی حیثیت سے اور اس کے علاوہ ایک انسانیت کی فلاح و بہور کے لیے ادارہ چلانے کی حیثیت سے اسٹیج پر بلایا گیا ۔ آریان کو اسٹیج پر اس حیثیت سے اور شہید شایان کی تصویر کو سامنے دیکھ کر میری آنکھوں میں ایک بڑی بہن کی حیثیت سے آنسو آ گئے۔ یہ خوشی اور فخر کے آنسو تھے کہ میں نے اپنا کچھ کھو کر کسی کو زندگی میں اچھائی کی راہ دکھائی۔ آریان اپنی تقریر کے دوران بہت کچھ کہ رہا تھا، میں اور میرے ساتھ باقی سب لوگ بھی اس وقت چونکے جب اس نے اعزازی تمغہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا۔ اگر کوئی اس اعزازی تمغہ کو لینے کا اصل حق دار ہے تو وہ ہماری ماں ہے وہ ماں نہیں جس نے ہمیں پیدا کیا، پیدا کرنے والی ماں کا حق ایک طرف لیکن یہاں میں ایسی ماں کی بات کر رہا ہوں جس نے ہمیں معاشرے میں اچھائی کی طرف چلنا سکھایا مجھے اور میرے بھائی کو ایک گہرے دلدل سے نکال کر ایک ایسا ستارہ بنایا جو کہ گرنے کے بعد بھی اپنی چمک نہیں چھوڑتا، ہر قدم پر ہمارا سہارا بنیں اس ماں نے اپنی خوشیاں تک ہم پر قربان کر دیں اور بدلے میں آج تک ہم سے کچھ نہیں مانگا اور وہ مقدس رشتہ آج یہاں موجود بھی ہے، پاکیزہ آپی اس اعزاز کو لینے کی حق دار صرف آپ ہیں، صرف اور صرف آپ ۔ آریان کا بولتے ہوئے کب لہجہ بھیگا اسے خود بھی معلوم نہ ہوا۔ میں حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں گھری ہال میں موجود افراد کی زور دار تالیوں کی آواز پر چونک اٹھی. مجھے اپنے قدم من بھر کے لگ رہے تھے اچانک کسی کے سہارا دینے کے لیے بڑھائے گئے ہاتھ کو دیکھا تو آنکھیں دھندلا گئیں تو گویا آپ بھی یہیں موجود تھے اور اس شخص نے آج بھی میرے دل کی بات بناء کہے ہی سن لی اور ہلکے سے کہا۔ میں تو ہمیشہ تمہارے ساتھ تھا، بس تم ہی کو معلوم نہ ہوا۔ اور میں اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام کر مضبوطی سے اسٹیج کی طرف چل دی تھی ۔

Latest Posts

Related POSTS