Saturday, July 13, 2024

Suhag Salamat Rahe

میرے شوہر یوں تو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے لیکن سب لوگ انہیں انسانیت نواز اور غریب نواز کہتے تھے۔ ان کے مقابلے میں، میں پوھڑ اور کم عقل اور بے زبان مشہور تھی، لیکن یہ کی اللہ مرضی انہوں نے ہم دونوں کی جوڑی بنا دی- تاہم برسوں ہماری ازدواجی زندگی کامیاب رہی اور یہ رشتہ کسی طور بھی بے جوڑ نہیں رہا۔ اس دوران میری زندگی میں دوبار طوفان آیا۔ اللہ کا شکر ہے جس شدت سے آیا تھا اسی طرح ٹل بھی گیا کیونکہ میرے چار بچے تھے اور مجھے ان کو ان کے والد کے سائے میں پالنا تھا تب ہی میرے پایہ استقلال کو جنبش نہ آئی۔ میرے خاوند بڑے نفیس طبیعت مشہور تھے۔ ہمیشہ سفید براق اجلا لباس زیب تن کرتے جبکہ میں اپنے سراپا پر کوئی خاص توجہ نہیں رکھتی تھی کیونکہ میری زندگی میں سوطرح کے کام میری ذات سے زیادہ توجہ طلب تھے مثلاً بچوں کو ہوم ورک کرانا ۔ بیمار ہوتے تو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ۔ گھر کے کام کاج جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے جبکہ میرے شریک زندگی بے حد مهمان نواز تھے اس لئے مہمانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ روز و شب جاری وساری رہتا تھا۔ اتنی ذمہ داریاں نباہنے کے بعد بھلا اپنی ذات کو بنا سنوار کر رکھنے کا وقت کب نکل سکتا تھا۔ میں اپنے میاں سے دس برس چھوٹی تھی لیکن دیکھنے میں ان سے دس برس عمر میں بڑی نظر آتی۔ البتہ عقل کے لحاظ سے شاید دس برس سے بھی کم رہی ہوں گی ۔ وجہ یہ کہ وکالت کا پیشہ کامیابی کیلئے پھرتی اور شاطری چاہتا ہے جبکہ میں سیدھی سادی اور بقول میاں صاحب کے پھسڈی عورت تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ میں سب کچھ سمجھ کر بھی نہیں سمجھتی تھی۔ ہر ایک پر جلد اعتبار کر بیٹھتی۔ کچھ بے حس بھی ہوگئی جبکہ میاں صاحب بہت رحم دل خاص طور پر کمزور طبقہ یعنی صنف نازک پر انہیں زیادہ رحم آتا۔ انہیں وہ مظلوم طبقہ کہتے۔ یوں میاں صاحب کا شمار شرفا میں ہوتا ۔ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے لیکن ہر کسی کے ہر معاملے پر گہری نظر ہوتی جو کہ ایک کامیاب وکیل ہونے کی دلیل ہے۔ معمولی باتیں جس کو عام طور پر نوٹ نہیں کیا جاتا یہ ان کو نوٹ کر لیتے اور اپنی یادداشت کی ڈائری میں محفوظ رکھتے۔ ان میں دونوں صفات تھیں جو ایک کامیاب وکیل میں ہونی چاہئیں۔ ضرورت ہوتی تو رعب داب کے ساتھ خوب گرج برس کر بات کرتے ۔ حالات کا تقاضہ ہو تو مہین اور میٹھے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرتے ، یوں کہ ہر بات مخاطب کے دل میں اترتی چلی جاتی۔ بات کرنے کا فن کوئی ان سے سیکھتا جبکہ ان کے بقول ہماری بیگم کوتو ڈھنگ سے بولنا بھی نہیں آتا۔ ایسے ہی بس ادھر ادھر کی ہانکتی جاتی ہیں- مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوتا کہ مجھ سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رکھتے مگر لوگوں پر یہی ظاہر رہتا ہے کہ ان کو اپنی شریک حیات کی بڑی پروا ہے۔ سارے کام اپنے مطلب کے کرتے لیکن اگر کام غلط ہو جاتا تو مورد الزام بیوی ٹھہرتی ۔ جیسے کہ مجھ بے وقوف نے ہی ان اچھے بھلے باہوش آدمی سے یہ غلطیاں کرائی ہیں۔ کہتے کیا کروں بیوی کا کہنا بھی تو ماننا پڑتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بے وقوف بیوی نے اچھے بھلے مرد کا جینا دو بھر کر رکھا اور تو اور میرے میکے والے بھی اکثر مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے اور میاں صاحب کی طرفداری کرنے لگتے تب میرا دل بہت برا ہو جاتا۔ وہ اس طرح کہ جب میرے میکے سے رشتہ دار آ جاتے تو یہ ان کے ساتھ ساتھ میری بھی خوب آؤ بھگت کرتے۔ میری عزت یوں بڑھاتے کہ اگر بچے سے کہہ دوں کہ کھانا پکا رہی ہوں ذرا پانی تولا نا بہت پیاس لگی ہے یہ دوڑ کر ریفریجریٹر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر خود اپنے ہاتھ سے گلاس بھر کر لے آتے کہ یہ لو بیگم میں حاضر ہوں، کہو تو جان حاضر کر دوں … اس روئیے سے لوگ یہ سمجھتے کہ یہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ لیکن میں شامت کی ماری اگر بیمار پڑ جاؤں تو انہیں فوراً ضروری کام یاد آ جاتا، پیشی کا کہہ کر لاہور یا اسلام آباد جانے کا کہہ دیتے ۔ دو چار دن بعد گھر لوٹتے تب تک میری طبیعت سنبھل چکی ہوتی۔ سب سے زیادہ الجھن اس وقت ان کو ہوتی جب میں گھر کا خرچہ مانگتی۔ کہتے ایسی عورتیں مردوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں جو ہر وقت پیسوں کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں حالانکہ گھر کا خرچہ اور بات ہے، کسی اور مد میں پیسوں کا تقاضہ اور بات ! اس دوران اگر میری سہیلیاں یا میکے سے کزنیں وغیرہ آجاتیں تو سرخ نوٹوں کی کبھی ہرے نوٹوں کی گڈی میرے ہاتھ میں تھما کر کہتے ۔ لواب ان کو رکھو بھی ، کب تک میں میں ان کو لئے پھرتا رہوں گا۔ کل ہی ایک کیس کی فیس کلائنٹ دے کر گیا ہے اور ہاں اپنے لئے بھی کچھ خرید لیا کرو۔ آج بازار جا کر اپنی پسند کے جوڑے لے آنا۔ تمام چوڑیاں امید ہے بن گئی ہوں گی کل جا کر سنار سے لے آؤں گا لیکن بیگم تم کچھ پہنتی نہیں ہو، حالانکہ میرا دل خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے کہ آج تک انہوں نے مجھے ایک چھلا تک تو بنوا کر نہیں دیا۔ پھر بھی اپنی اور ان کی عزت رکھنے کو خاموش رہتی۔

مہمان خواتین کے جانے کے بعد میں شکوہ کرتی ۔ میاں صاحب آپ ہمیشہ ایسی جھوٹی باتیں کرتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جواب ملتا ارے بیگم ایسا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہماری عزت دوسروں کی نظروں میں بڑھ جاتی ہے آخر عزت بھی کوئی شے ہے۔ میں چاہتا ہوں لوگ ہمارے گھرانے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ میں مسکرا کر خاموش ہو جاتی۔ نوٹوں کی گڈی تو امانت ہوتی ہے باوجود ضرورت کے ایک نوٹ اس میں سے نہیں نکالتی تھی، مجھے پتہ ہوتا تھا کہ مہمانوں کے جاتے ہی یہ مجھ سے کہیں گے۔ ادھر لاؤ وہ نوٹ، پرائی امانت ہے کسی آدمی کی ضمانت کرانی ہے، روپیہ عدالت میں جمع کرانا ہے۔ کہیں اس میں سے تم نے کوئی نوٹ تو نہیں نکال لیا؟ میں لاکھ بھولی سہی اتنی بھی نہیں کہ ان کی طبیعت کو نہ سمجھتی، فورا گڈی نکال کر لاتی اور کہتی یہ رہی آپ کی امانت، گن لیں، ایک نوٹ بھی کم نہیں ہے۔ وہ فوراً میرے سامنے ہی بیٹھ کر نوٹ گننے لگتے کہ ایک نوٹ بھی گھر رہ گیا تو میرے موکل کی ضمانت نہ ہو سکے گی۔ امانت کا یہ قصہ مہینے میں دو بار ضرور د ہرایا جاتا۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ گڈی قطعی پرائی نہیں ہوتی تھی ، ان کی اپنی ملکیت ہوتی لیکن میں ہر بار یہ امانتیں رکھتی۔ پھر جوں کی توں یہ مجھ سے واپس لے لیتے۔ ایک بار میری ایک کزن جو نوجوان اور خوبصورت تھی اپنی چھوٹی بہن اور والدہ کے ہمراہ آ گئی- وہ میرے منے کی پیدائش پر مبارک باد دینے آئی تھیں۔ اتفاق سے اس وقت میاں جی گھر پر تھے۔ مہمان خواتین سے تپاک سے ملے اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ سائرہ نے کہا۔ امی بس اب گھر چلئے میرے سر میں درد ہو رہا ہے، میاں صاحب کے کان شاید ادھر ہی لگے تھے۔ جلدی سے باہر آئے۔ پوچھا کیا ان کی طبیعت خراب ہے؟ چلئے میں ڈاکٹر کو دکھا دیتا ہوں۔ انہوں نے لاکھ ٹالا کہ نہیں۔ ایسی بات نہیں ہے ، مصر ہو گئے میں آپ کو دوا دلوا کر چھوڑ دوں گا۔ سر میں درد ہو تو کہاں ٹیکسی میں جائیں گی طبیعت اور خراب ہو جائے گی۔ میں نے بھی مروت میں کہہ دیا۔ ہاں ، ہاں خالہ چلی جائے ۔ راستے میں میڈیکل اسٹور سے یہ سر درد کی گولیاں دلوا دیں گے، آپ لوگوں کو پھر آگے تک چھوڑ دیں گے سہولت ہو جائے گی۔ ناچار وہ خواتین گھر سے چلیں۔ یہ پیچھے پیچھے نکلے اور باہر کھڑی گاڑی کا دروازہ کھول کر بولے۔ تشریف لے چلئے ! مجھے گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی لیکن میں تو عادی تھی ان کی مہمان نوازی کی بس مسکرا کر رہ گئی۔ یہ تو نہیں کہتی کہ یہ ہر ایسی نیکی کسی برے ارادے سے کرتے تھے۔ بس مزاج تھا ان کا کہ نوجوان مہمان خواتین ساتھ ہوں تو ان سے گپ شپ میں ان کو راحت ملتی تھی اور مزاج خوشگوار ہو جاتا تھا۔ وہ بیوی کو خرچہ دینے کے معاملے میں کفایت شعار ضرور تھے لیکن مہمانوں پر خرچہ کرنے کے معاملے میں بالکل بھی کفایت شعار نہ تھے بلکہ بے حد فیاض تھے۔ مہمانوں کو دیکھتے ہی کہتے وہ گڈی تو پکڑانا۔ میں ذرا ڈرتے ہوئے کہتی ، کونسی جو امانت رکھوائی ہے؟ آنکھیں نکال کر آہستہ سے جواب دیتے بکواس نہ کرو، بعد میں جھڑکتے کے خبردار آئندہ جو کسی کے سامنے نوٹوں کو پرایا کہا۔ اپنی عزت کم کرنے کا بہت شوق ہے تم کو بے وقوف! اکثر مہمان تو خصوصی ہوتے تھے جن پر نوٹوں کا بے دریغ استعمال ہوتا۔ کوئی رشتہ دار خاتون بیمار ہو اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو تو ڈاکٹر کی فیس کے علاوہ فروٹ اور دوائیاں بھی ان کی گڈی سے آجاتیں۔ کچھ خرید کر ساتھ بھی کر دیتے۔ میاں صاحب کے اخلاق اور فیاضی کی سارے خاندان میں دھوم تھی۔ البتہ جب منٹوں میں نوٹوں کی گڈی آدھی ہو جاتی تو میرا جی بیٹھ جاتا کہ اب کئی دنوں تک گھر میں راشن کی تنگی رہے گی اور بچوں کی اسکول فیس کیلئے پریشان رہوں گی۔ دودھ والے کا بل دینے کو باربار منمنانا پڑے گا اور یہ تنک کر کہیں گے، پہلا خسارہ تو پورا کرنے دو۔ کیوں ہر وقت پیسے مانگ کر پریشان کرتی ہو۔ مرد گھر میں سکون کیلئے آتا ہے یا پریشان ہونے کیلئے ۔ خدا جانے تم بیویوں کو کب عقل آئے گی۔ جب تاریخ سر پر آجاتی مجبوراً بڑی آپا کوفون کرتی۔ آپا اتنے روپے بھجوا دو۔ بچوں کے اسکول کی فیس بھرنی ہے۔ میاں صاحب کیس تیار کر رہے ہیں، موکل آجکل میں پیسے دے جائے گا تو آپ کو لوٹا دوں گی۔ ایسے تو کتنے ہی ادھار میں نے امی آپا اور بھائی جان سے لئے تھے۔ جن کے لوٹانے کی کبھی نوبت نہ آئی۔ وہ بھی جانتے تھے کہ میں ادھار لے کر بھول بھال جاتی ہوں۔ کبھی یاد نہ دلاتے۔ اگلی بار پھر میرے مانگنے پر رقم بھجوا دیتے تھے۔ ایک بار جبکہ منے کی پیدائش کا دن آگیا مجھے اچانک تکلیف شروع ہوگئی ، ادھر ان کی کسی نوجوان خاتون کلائنٹ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی۔ میں نے فون کر کے کہا گاڑی لے کر جلد پہنچیں ابھی اسپتال جانا ہے، جواب ملا۔ ارے بھئی تم اپنے بھائی جان کوفون کر دو یا والد سے کہو کہ ٹیکسی لے کر آجائیں۔ میں کسی مریض کو ڈاکٹر کو دکھانے لے جارہا ہوں۔ وہ بھی بڑی تکلیف میں ہے۔ اس کو ایسے سڑک پر تو نہیں چھوڑ سکتا۔ رقم کا بھی انہی سے بندو بست کر لو۔ میں آکر دے دوں گا۔

فرصت پا کر اسپتال پہنچے۔ نرس نے بیٹے کی پیدائش پر مبارکباد کہی تو جیب سے نوٹوں کی گڈی نکال کر فورا ایک ہرا نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ نرس واقعی خوبصورت تھی ۔ اٹھارہ بیس سال کی تھی۔ دلکش مسکراہٹ سے شکریہ کہ کر چلی گئی اور اپنی ساتھی نرس کو بھیج دیا کیونکہ اب مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ انہوں نے ہر جوان نرس کی مبارکباد کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور جواب میں فیاضی سے نوٹ بانٹتے رہے۔ لیکن اسپتال میں جس روز مجھے چھٹی ملنی تھی۔ یہ عین وقت پر غائب ہو گئے ۔ آپا، اماں اور بھائی جان میرے ساتھ تھے۔ انہوں نے اسپتال کا بل ادا کیا اور مجھے گھر لے آئے کیونکہ میاں کسی ضروری کام میں پھنس گئے تھے۔ باوجود فون کرنے کے نہ پہنچ سکے۔ میں نے شرمندگی سے بڑے بھائی کو کہا ، بھائی جان آپ کی رقم میں بعد میں ان سے لے کر دے دوں گی ۔ وہ دھیرے سے بولے کوئی بات نہیں بہنا۔ تمہارا بھی ہم پر حق بنتا ہے، ایسا کھاتا اپنے میکے والوں کے ساتھ ہمیشہ کھلا ہی رہتا تھا۔ میاں صاحب کو کبھی فرصت نہ ملی کہ وہ ادھر ادھر کی نیکیوں کے بعد سکون کے ساتھ بیٹھ کر مجھ سے بھی ان کھاتوں کی تفصیل سن لیتے ۔ میرے منہ سے اماں ، آپا یا بھائی کے دیئے ادھار کا حساب کتاب سننے کو ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔ میری رشتے کی ایک چھوٹی بہن کے ہاں انہی دنوں بیٹا ہوا تھا۔ ایک روز میں نے کہا ایک سو روپیہ دے دیں تو میں سبینہ کے بیٹے کو دیکھ آؤں۔ بولے۔ کوئی ضرورت نہیں، کیسے جاؤ گی، ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پھر کبھی دیکھ لیں گے سبینہ کے بیٹے کو۔ کچھ دنوں بعد سبینہ کا فون آیا کہ دولہا بھائی آئے تھے میرے بیٹے کو دیکھنے، پانچ سو روپیہ دے گئے ہیں۔ لیکن افسوس بہن ہوکر تم کو توفیق نہ ہوئی کہ آجاتیں۔ تمہارا منا تو اب چھ ماہ کا ہے کیا اب بھی گھر سے نہیں نکلتیں؟ میں بہن کی باتوں پر لاجواب ہو گئی۔ کیونکہ میرے جیون ساتھی نے کبھی نہ بتایا کہ میں سبینہ کو پانچ سودے آیا ہوں۔ سب ہی ایسے موقعوں پر کہتے کہ شاہدہ تم بڑی بداخلاق ہو۔ کنجوس بھی ہو جبکہ تمہارے میاں تم سے الٹ ہیں۔ ہر کسی کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی صحیح تھی کہ جب مہمان آتے، خالی ہاتھ ہوتی تو ان کی خاطر تواضع کو کچھ بازار سے منگوانے کی بجائے بغلیں جھانکنے لگتی۔ حالانکہ اکثر امانت گڈی میرے پاس الماری میں دھری ہوتی تھی مگر میاں صاحب کی اجازت کے بغیر ایک نوٹ بھی نہیں نکال سکتی تھی، کہ امانت میں خیانت کیوں کر ہوسکتی تھی۔ بہت بھاگ دوڑ کر محض چائے یا شربت سے مہمانوں کی تواضع کر پاتی۔ اس دوران اگر میاں صاحب آجاتے تو پھر دوڑ کر بازار جاتے اور شاپر بھر کر کھانے پینے اور تواضع کا سامان لے آتے ۔ مہمانوں کے آگے ڈھیر کر دیتے ، تب بچوں کے بھی مزے آجاتے اور مٹھائی سے کلے بھر لیتے۔ میں خفت مٹانے کو کہتی۔ ابھی یہ سب منگوا رہی تھی کہ شکر ہے خود آگئے۔ کھانے کا وقت ہوتا تو مہمان دیکھ کر اصرار شروع کر دیتے بھئی ابھی بیٹھئے گا، کھانا کھا کر جائیے گا۔ میرے غریب خانے کو عزت بخشی ہے تو پھر پوری طرح مہمان نوازی کا موقع بھی دیں- بھاگم بھاگ بازار سے مرغی کا گوشت، مچھلی، پھل سبزیوں کا تھیلا بھر لاتے ۔ اب مجھ بیچاری کا سر اور منہ چولہے میں اور میاں جی مہمان خواتین کے ساتھ ٹھنڈے ڈرائنگ روم میں بیھٹے گپ شپ کر رہے ہوتے- ساتھ ساتھ وہاں سے آواز بھی وقتا فوقتا لگا دیتے کہ بھئی بیگم میری جان، بریانی اور کوفتوں میں کتنی دیر ہے تا کہ مہمانوں کو تسلی رہے کھانا آیا ہی چاہتا ہے۔ میں کھانا لگاتی اس وقت تعریف کے پل باندھ دیتے تھے کہ واہ میری زوجہ محترمہ کتنا عمدہ ، مزیدار او لاجواب کھانا بناتی ہیں کہ بس انگلیاں ہی چاٹتے رہ جاؤ۔ آپ نے ایسا مزیدار پلاؤ اور قورمہ کبھی نہ کھایا ہوگا جیسا کہ یہ بناتی ہیں۔ پھر شام کو برتنوں کا ڈھیر اور میں- رات کو احساس دلاتے ۔ ارے بھئی میک اپ کیا کرو، ذرا شگفتہ چہرہ بنا کر رکھا کرو۔ یہ کیسی نوکرانیوں کی سی صورت بنا رکھتی ہو۔ میں کھسیا جاتی تو کہتے۔ طبیعت بوجھل ہو رہی ہے ذرا وہ امانت والی گڈی تو پکڑانا، موکل سے ملنے جارہا ہوں ۔ رات کے دس گیارہ بجے نکل جاتے اور صبح دم لوٹتے۔ میں سمجھ جاتی آج میاں جی کسی مشہور گانے والی کا گانا سننے اور اپنے بوجھل موڈ کو ہلکا پھلکا کرنے گئے ہیں کیونکہ ایسی محفلیں ان کی کمزوری تھیں جہاں طبع کو تفریح میسر آتی تھی۔ میری اکثر سہیلیوں کو دکھی سمجھ کر جو تحفہ میرے لئے لاتے دوسرا ان کیلئے بھی لے آتے۔ پھر کہتے اپنے ہاتھ سے دے دو۔ سہیلیوں سے تعلقات اچھے رکھنے چاہئیں۔ تحفے محبت کو بڑھاتے ہیں، یا پھر خود جا کر دے آتے کہ شاہدہ نے عید پر تمہارے لئے یہ تحفہ بھیجا ہے۔ بچوں کی وجہ سے اس کا خود آنا مشکل ہے۔ عید کے اگلے دن ضرور تشریف لائیے گا بیگم نے دعوت کی ہے۔ دعوت خود دے آتے اور مجھے بعد میں آکر بتاتے کہ فلاں دن فلاں لوگ آرہے ہیں کھانا تیار رکھنا۔ میں کیسے انکار کر سکتی تھی، بداخلاق تو پہلے ہی مشہور تھی۔ میاں جی کی آمدنی خاصی تھی مگر اپنی انہی نیکیوں اور فیاضیوں کے باعث وہ ہمیشہ زیر بار رہتے تھے۔ اور مجھے اگر لازمی کسی تقریب میں جانا پڑ جاتا تو زیور آپا سے اور جوڑا چھوٹی بہن سے مانگ کر اس سر پر آئے وقت کو ٹال دیتی تھی۔

ایک دن میری اسکول کی کلاس فیلو آئی۔ بڑی افسردہ تھی۔ اس کا نکاح ہوا تھا ، رخصتی ہوئی تھی کہ سال بعد رخصتی کی بجائے اسے طلاق مل گئی کیونکہ لڑکے نے اس دوران کسی اور لڑکی کو پسند کر لیا تھا۔ صوفیہ بڑی اداس تھی۔ مجھے بھی اس کا قصہ سن کر دکھ ہوا۔ وہ جا رہی تھی کہ میاں صاحب دفتر سے آگئے۔ دعا سلام ہوئی لیکن وہ رکی نہیں کیونکہ اسے دیر ہورہی تھی۔ کف افسوس ملنے لگے کہ کچھ خاطر داری نہ کر سکے۔ بہر حال مجھ سے سوال کیا کہ تمہاری سہیلی اس قدر اداس کیوں تھی۔ میں بھی اس کی داستان غم سے تازہ تازہ متاثر تھی، بتا دیا کہ بیچاری کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا اہے۔ ہے۔ بولے مجھ سے بات کرائی ہوتی آدھا حق مہر تو دلوادیتا، یہ تو اس مظلوم لڑکی کا حق بنتا ہے۔ دوسری باروہ اپنی والدہ کے ساتھ آئی تھی ، انہوں نے ازخود اس کی ماں سے بات چھیڑی کہ ایسا شاہدہ بتا رہی تھی۔ آپ لوگ بھی کمال کے ہو، اپنا حق کیوں چھوڑ دیا۔ یہ کیس میرے سپرد کر دو میں بغیر فیس کے لڑوں گا۔ دیکھتا ہوں وہ خبیث لوگ کیسے آپ کی لڑکی کا جائز حق نہیں دے رہے۔ صوفیہ کی ماں ان کی باتوں میں آگئی۔ اور یہ ان کے ہمراہ ہو لئے ۔ اب کورٹ کے بہانے کئی بارا سے شاپنگ کرانے لے جاتے تا کہ اس غریب کا دل بہل جائے ۔ اس کے سارے گھر والوں کو گاڑی میں بھر کر ادھر گھمانے لے گئے ۔ اپنی دلچسپ باتوں سے ہنسا ہنسا کر رلا دیتے۔ کئی دن یہ معاملہ چلتا رہا۔ بالآخر میرے بڑے بھائی نے ان کو دو چار بار ریسٹورنٹ میں ان کو مزے اڑاتے دیکھا تو مجھے خبر کر دی اور ایک روز میاں صاحب کو بلا کر تنبیہ کی کہ جو خرچہ دوسروں پر لٹاتے ہو بیوی بچوں کو دو تا کہ ان کی بنیادی ضرورتیں نظر انداز نہ ہوں۔ انہوں نے برا مانا۔ بڑے بھائی کے سامنے تو بس اسی قدر کہا کہ شاہدہ کی خاطر یہ سب کیا کہ اس کی سہیلی اور ان کے گھر والے کافی پریشان تھے۔ ورنہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے کی کیا ضرورت میرے پاس اپنے موکلوں کو دینے کو وقت نہیں ہے۔ بڑے بھائی چلے گئے تو مجھ پر بگڑے کہ کیسی کوڑھ مغز عورت ہو۔ ایک غریب لڑکی کی جان پر بنی تھی اور وہ بھی تمہاری بچپن کی سہیلی ۔ وہ تو رورو کر مری جاتی تھی، میں نے نیکی کی اس کی جان بچالی ورنہ تو خود کشی کر لیتی وہ غم سے۔ تمہارے میکے والوں میں تو ذرا بھی انسانیت نہیں ہے۔ تم ہی جیسے لوگوں سے انسانیت شرمندہ ہے، کسی کے دکھ درد میں کام نہیں آتے۔ میں کیا جھگڑتی مجھے تو اپنے بچے پیارے تھے، اپنا گھر بچائے رکھنا تھا۔ ایک بار اور اسی طرح ایک حسینہ کا کیس انہیں ملا۔ اس مظلوم عورت کا اپنے شوہر سے جھگڑا تھا۔ اس نے کہا مجھے انصاف دلوا دیں کیونکہ دو بچے بھی ہیں اور شوہر عیاش تھے۔ دوسری عورتوں پر روپیہ پانی کی طرح بہاتا ہے لیکن مجھے جائز خرچے کیلئے ترساتا ہے۔ انہوں نے اس کے شوہر کے خلاف خرچے کا مقدمہ دائر کر دیا۔ کیس اپنی جیب سے لڑا کیونکہ فیس دینے کو عورت کے پاس پیسے نہ تھے لیکن خوبصورتی کی دولت سے مالامال تھی وہ …. ایک دو بار ہمارے گھر بھی آئی تھی ، اپنے کیس کی تفصیل معلوم کرنے۔ اس کے بچے اس کے شوہر کو دلوا دیئے اور شوہر سے اس کی صلح کراتے کراتے طلاق کرادی۔ اب بے سہارا کہاں جاتی۔ اس سے نکاح ثانی کرنے لگے تھے کہ کسی نے بڑے بھائی کو خبر کر دی، وہ کڑے تیور لے کر آگئے۔ ان کو دھمکی دی کہ اب ایسا کچھ ہوا تو میں اپنی بہن اور بچے لے جاؤں گا اور تم شوق سے کسی مظلوم کا سہارا بن جانا لیکن یاد رکھو کہ پھر بیوی بچوں کی صورتیں دیکھنے کو ترس جاؤ گے۔ یہ دنیا میں صرف بڑے بھائی سے دبتے تھے۔ میں بہرحال بیوی تھی پھوہڑ تھی یا کہ بد اخلاق اور بے وقوف مگر وہ اپنی اس گائے ایسی بے زبان جیون ساتھی کو بھی قطعی ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہتے تھے۔ آخر چار بچوں کا ساتھ تھا۔ تب ہی وہ اس مظلوم کا سہارا بننے سے باز رہے۔ اور میرے ساتھ عمر نبھا دی۔

Latest Posts

Related POSTS