Wednesday, July 17, 2024

Suhane Khawab | Episode 1

منقش دستے والی شیشم کی لاٹھی کے زور پر ٹیکسی سے اُتر کر ڈرائیور کو کرایہ ادا کرتے ہوئے پچھتّر سالہ امین الدین نے چاروں طرف طائرانہ نظر دوڑائی اور کھٹک گیا۔ یہ وہ جگہ تو نہیں تھی جس کی یاد دِل میں اور منظر نگاہوں میں بسائے وہ نصف صدی بعد اسے دیکھنے کے لیے آیا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور سے باقی پیسے لے کر اسے بخشش دیتے ہوئے اس نے نوجوان ڈرائیور سے پوچھا۔ ’’بیٹا تم نے مجھے صحیح جگہ پہنچایا ہے نا؟‘‘
’’ہاں انکل جدھر آپ نے بولا تھا اُدھر ہی لایا ہوں۔‘‘ ٹیکسی ڈرائیور نے سڑک کنارے کھڑی ایک سواری کا اشارہ پا کر قدرے عجلت میں کہا اور تیزی سے ٹیکسی آگے بڑھا دی۔
امین الدین لاٹھی ٹیک کر کھڑا ہوگیا۔ مرد کے لیے پچھتّر سال کوئی ایسی گئی گزری عمر بھی نہ تھی مگر گھٹنے کی مسلسل تکلیف نے امین الدین کو اپنے معالج کے مشورے پر لاٹھی لینے پر مجبور کر دیا تھا۔
لاٹھی ٹیک کر وہ متلاشی نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ منظر نامانوس تھا بالکل ان راستوں کی طرح جن سے وہ کچھ دیر پہلے ٹیکسی کے سفر کے دوران گزر کر آیا تھا۔
فضا اَجنبی تھی۔ بس اسٹاپ، بازار، دُکانیں، ہوٹل، لوگ راستے۔ کچھ بھی تو اس کی یادوں میں بسے منظر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ وہ منظر نہیں تھا جس کی دید کی پیاس بجھانے وہ ہزاروں میل دُور کا سفر طے کر کے یہاں آیا تھا۔ اس کی نظر کہہ رہی تھی، یہ تو کوئی اور ہی دُنیا ہے۔
’’انسان ہمیشہ اپنے بچپن کی یادوں میں کھویا رہنا پسند کرتا ہے۔‘‘ اس نے اس مرتبہ سفر کی وجہ بتاتے ہوئے اپنی بیوی عذرا سے کہا تھا۔
’’بڑے میاں! عورت تو ہمیشہ اپنی جوانی کی یادوں میں رہنا چاہتی ہے۔‘‘ عذرا مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
اس کا اور عذرا کا اندازِ تخاطب بھی خوب تھا۔ عذرا لاڈ میں اسے بڑے میاں کہتی اور وہ عذرا کو تم کی بجائے تو سے مخاطب کرنے لگتا۔
عذرا ان دنوں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ترکی کی سیاحت کو گئی ہوئی تھی۔ اس عمر میں بھی اسے گھومنے پھرنے اور شاپنگ کا جوانوں کی طرح شوق تھا۔ اس نے امین الدین سے بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا مگر اس نے انکار کر دیا تھا۔ ترکی وہ دو بار جا چکا تھا۔ ایک مرتبہ اکیلا اور دُوسری بار عذرا کے ساتھ۔
’’اکیلے گھر میں کیا کریں گے؟‘‘ عذرا اس کے انکار پر بولی تھی۔
’’وہی جو گھر والی کے جانے کے بعد سب مرد کرتے ہیں۔ خوشی سے ناچوں گا، گائوں گا، لمبی تان کر سوئوں گا۔ دوستوں کو گھر بلائوں گا اور تمہارے سجے سجائے گھر کو کباڑ خانہ بنا دوں گا۔‘‘
’’خبردار!‘‘ عذرا نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ ’’مجھے گھر ویسا ہی چاہیے جیسا میں چھوڑ کر جائوں گی۔‘‘
’’مشکل ہے!‘‘ امین الدین نے نفی میں سر ہلایا۔
’’میں اپنا گھر لاک کر کے جائوں گی۔‘‘ عذرا نے دھمکی دی۔
’’میں اپنے گھر چلا جائوں گا۔‘‘ امین الدین نے بڑے اطمینان سے کہا۔
’’کون سا اپنا گھر!‘‘ عذرا چونکی۔ شادی کے سال ہا سال بعد بھی اسے امین الدین کی طرف سے خدشات و خطرات لاحق رہا کرتے تھے۔
’’پاکستان!‘‘ امین الدین نے کہا۔
’’میں سمجھی تھی…‘‘
’’تو جو سمجھی تھی میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔‘‘ امین الدین نے اپنی راکنگ چیئر پر بیٹھے بیٹھے ٹھنڈے پڑے آتش دان کی چھت پر دھرا موبائل فون اُٹھایا اور کوئی نمبر تلاش کرنے لگا۔
’’کسے فون کر رہے ہیں؟‘‘ عذرا نے پوچھا۔
’’تیرے دُشمنوں کو۔‘‘ وہ زیر لب مسکرایا۔
’’میرے سب سے بڑے دُشمن تو خود آپ ہیں۔‘‘
’’زیادہ پَٹ پَٹ مت کر۔‘‘
امین الدین نے مطلوبہ نمبر ملا کر موبائل کان سے لگا لیا۔ عذرا اسے دیکھ رہی تھی۔
’’جعفری صاحب… کیسے ہیں؟ کینٹ سے امین الدین بات کر رہا ہوں… اسلام آباد کا فیئر کتنا چل رہا ہے؟ اوہ گڈ… مجھے ایک سیٹ چاہیے… جتنی جلدی مل سکے… اوکے… فائن۔‘‘
’’میرے ساتھ چلنے میں کچھ تکلیف تھی!‘‘ عذرا نے اسے ٹیڑھی نظر سے دیکھا۔
’’اس دفعہ میں اپنے بچپن کی گلیوں میں گھومنے جائوں گا۔‘‘ امین الدین نے جوانوں کی طرح آنکھیں مٹکائیں۔
’’بچپن کی گلیوں میں گھومتے ہوئے کہیں گم نہ ہو جانا بڑے میاں۔‘‘ عذرا نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
’’تو خوش نہ ہو… ابھی نہیں چھوڑتا میں تیری جان۔‘‘
’’مجھے پتا ہے۔‘‘
’’مجھے پتا ہے۔‘‘ امین الدین نے عذرا کی نقل اُتاری۔
’’وہاں جانا تھا تو پھر ڈائریکٹ وہیں کی فلائٹ لیتے۔‘‘
’’سامان کہاں اُٹھائے اُٹھائے پھروں گا۔ پہلے اسلام آباد جا کر گھر میں اپنا سامان رکھوں گا۔ وہاں سے خالی ہاتھ ایک دن کے لیے اپنے بچپن کی گلیوں میں گھومنے جائوں گا۔ وائو۔‘‘ امین الدین بہت خوش نظر آ رہا تھا۔
’’اتنے سال بعد اس بڑھاپے میں بچپن کی گلیوں میں گھومنے کا کیا شوق چرایا؟‘‘ عذرا نے ترچھی نظر کر کے اس سے پوچھا۔
’’یار انسان اپنا بچپن کبھی نہیں بھولتا… ہمیشہ اپنے بچپن کی یادوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔‘‘
’’بڑے میاں۔‘‘ امین الدین سے تیرہ سال چھوٹی عذرا باسٹھ سال کی عمر میں بھی کسی دوشیزہ کی طرح مسکرائی۔ ’’عورت تو ہمیشہ اپنی جوانی کی یادوں میں رہنا چاہتی ہے۔‘‘
’’تو اپنی جوانی کی یادوں میں رہ… میں اپنے بچپن کی گلیوں میں گھومنے جا رہا ہوں۔‘‘
’’لوٹ کر تو یہیں آئو گے۔‘‘ عذرا کی آنکھوں اور لہجہ دونوں میں معنی خیزی تھی۔
’’نہیں خیر… ٹھکانے تو اور بھی ہیں۔‘‘ امین الدین نے اسے چھیڑا۔
’’آزمالیں… پتا چل جائے گا۔‘‘ عذرا نے گویا للکارا۔
’’روتی رہ جائے گی۔‘‘
’’میں تو ساری زندگی ہی روتی رہی ہوں۔‘‘
امین الدین سے شادی کے بعد عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کے بعد بھی ایسا کہہ رہی تھی! مرد کی زندگی میں آنے والی دُوسری عورت کے لیے پہلی عورت ہمیشہ ایک ڈرائونا خواب بنی رہتی ہے۔ مر کر بھی بھوت کی طرح اس کے حواس پر مسلّط رہتی ہے۔
عذرا بھی امین الدین کی زندگی میں آنے والی دُوسری عورت تھی۔ پہلی جس کا نام دردانہ تھا۔ طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کے لیے ایک ڈرائونا خواب جیسی تھی۔ جب موقع ملتا وہ اپنے دل کے وسوسے زبان پر لے آتی۔ امین الدین موہوم سی مسکراہٹ پر اکتفا کرتا۔ زندگی کے پہیّے کو اُلٹا گھمانا ممکن ہوتا تو وہ اسے اپنی تمام تر قوت کے ساتھ گھما کر پھر وہیں جاکھڑا ہوتا جہاں سے چلا تھا مگر ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ اپنی اس بے بسی کا سامنا امین الدین کو عرصۂ دراز بعد اس علاقے میں پہنچ کر ہو رہا تھا جہاں اس کا بچپن بیتا تھا اور جوانی کے ابتدائی برس گزرے تھے۔ وہ لاٹھی ٹیک کر ٹھٹھکا کھڑا تھا اور چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا پرانے راستوں پر کس گلی سے داخل ہو!
وہاں نہ بس اڈّا تھا، نہ شہر کے مختلف راستوں پر جھومتی جھامتی مختلف نمبروں کی بسوں کے لیے جدا جدا پختہ ٹریکس تھے، نہ ان ٹریکس کے متوازی چلتے فٹ پاتھ تھے، نہ ان فٹ پاتھوں پر سجے طرح طرح کے ٹھیّے، نہ بسوں سے اُترتے، چڑھتے مسافروں کا کچھ پتا تھا نہ فٹ پاتھوں پر سجے ٹھیوں پر خریداروں کی رونق تھی۔ اس اخبار فروش کا ٹھیا بھی نابود ہو چکا تھا جس کے سامنے کھڑے ہو کر وہ چٹکی سے لٹکے بچوں کے رسالوں کو پُرشوق نگاہوں سے دیکھا کرتا تھا۔ شاید اخبار فروش کے ٹھیے کی طرح بس اڈّے کے اس پار گلی میں ’’آنا لائبریری‘‘ بھی نہ رہی ہو۔ سڑک کنارے نہ وہ ہوٹل رہا تھا جس کی نہاری کی دیگ کا منہ کھلتے ہی پیٹ بھروں کا بھی جی للچانے لگتا تھا۔ نہ قصابوں، سبزی فروشوں اور کریانے کی دُکانوں کا کچھ اَتا پتا تھا، نہ ان دُکانوں کے سامنے پھل فروشوں اور کھلونے بیچنے والوں کے ٹھیلے تھے۔ فضا خوانچہ فروشوں کی ریوڑی، گزک اور چنا جور کی آوازوں اور ملباری ہوٹل کے لڑکے کے ہاتھ میں تام چینی کی چھوٹی چھوٹی کیتلیوں اور تام چینی ہی کے باہم ٹکراتے مگوں کی جھنجھناہٹ سے محروم تھی۔ فیاض مچھلی فروش جس کی مصالحہ لگی تلی مچھلی اور کبابوں کی دُور دُور تک دُھوم تھی اور چپاتیوں والے ننھے بھائی بھی اپنے ٹھیے بڑھا گئے تھے۔ گرما گرم سموسوں اور پکوڑوں کی دُکانیں رہی تھیں نہ ہاتھ اُونچا کر کے اخبار لہراتے اخبار فروشوں کی صدائیں! شہر کے مختلف علاقوں کو جانے والی اس ٹرام وے کی باقیات بھی نہ رہی تھیں جس پر چلنے والی ٹرام امین الدین کی نوجوانی ہی میں بند ہو چکی تھی۔ گوری سرکار اپنے دورِ اقتدار میں عوام کی سہولت کے کیا کیا کام کر گئی تھی اور اس کے بعد مقامی سرکار نے ان سہولتوں سے کیسے کیسے ہاتھ کیے تھے۔
تبدیل شدہ منظر خاصا جدید تھا۔ بس اڈّا، دو رویہ چوڑی سڑک میں تبدیل ہو گیا تھا۔ چھوٹی چھوٹی دُکانوں کی جگہ بلند و بالا شاپنگ پلازہ کھڑے تھے۔ کھڑکھڑ کرتی اور رُک رُک کر چلتی بسوں کی جگہ تیز رفتار ویگنیں اور کوسٹرز موجود تھیں۔ سبک خرام سائیکل رکشوں کی جگہ موٹر رکشے اور ٹیکسیاں رواں دواں تھیں۔ جس سڑک پر کوئی پرائیویٹ موٹرکار دیکھ کر بچّے بڑے منہ پھاڑ کر نہایت اشتیاق سے کار نشینوں کو دیکھنے لگتے تھے، اب وہاں نئے اور پرانے ماڈلز کی کاروں کی چہل پہل تھی مگر کسی کو کار نشینوں کو اشتیاق سے دیکھنے کی فرصت نہ تھی۔ لبِ سڑک واقع کتابوں، کاپیوں کی وہ دُکان بھی جہاں سے امین الدین اپنے بچپن میں کبھی کبھار کوئی کتاب، کاپی، پنسل، قلم خریدا کرتا تھا نہ جانے کون سے پلازہ کی نذر ہوگئی تھی اور حلوائی کی وہ دُکان جس کے سامنے سے گزرتے ہوئے امین الدین چپکے سے مٹھائی کی کسی تھال کو ہاتھ لگا کر محض اُنگلی چاٹنے پر ہی اکتفا کر لیا کرتا تھا وہ بھی نہ جانے کہا گم ہوگئی تھی۔
امین الدین کا دِل احساسِ محرومی سے دُکھنے لگا۔ وہ یہ تبدیل شدہ منظر دیکھنے تھوڑی آیا تھا۔ گزرے برسوں میں وہ اس سے بھی کہیں زیادہ جدید، دیدہ زیب اور دلفریب مناظر دیکھ چکا تھا۔ انگلستان تو خیر اب اس کے لیے گھر کی بات بن چکا تھا۔ وہ امریکا، کینیڈا، عرب ممالک، خلیجی ریاستیں، بھارت، ملائشیا، ترکی اور بہت سی ایسی جگہیں گھوم چکا تھا جہاں چکاچوند اور تحیّر خیز مناظر نے اسے مبہوت کر دیا تھا۔ یہاں تو وہ اپنے بچپن اور نوجوانی کی یادیں دِل میں بسائے پرانا، سادہ اور تصنّع سے پاک منظر دیکھنے آیا تھا مگر یہاں تو… کچھ اور ہی منظر تھا۔
لاٹھی ٹیکتے ہوئے وہ چلنا سیکھتے کسی بچّے کی طرح چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا اس تبدیل شدہ منظر میں داخل ہوا اور اپنے دل میں بسی برسوں پرانی یادوں کی اُنگلی تھامے اس گلی کی تلاش میں لگ گیا جو اس کے گھر کو جاتی تھی۔
٭…٭…٭
تقسیم کے بعد ابتدائی برس تھے۔ ہندوستان سے لٹ پٹ کر آنے والے مہاجرین کو جہاں جگہ ملی تھی پڑائو ڈال کر بیٹھ گئے تھے۔ امین الدین ان دنوں تین چار برس کا رہا ہوگا۔ خانماں برباد کنبے کا سب سے کم عمر فرد! دق کا مریض باپ مہاجرین کیمپ میں خون تھوکتا مر گیا تھا۔ نو آزاد اسلامی مملکت کی ایک مقامی مخیّر شخصیت نے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے اپنا وسیع و عریض رقبۂ اراضی عطیہ کیا تو امین الدین کی بیوہ ماں، اپنے تین بیٹوں اور دو بیاہی اور ایک بن بیاہی بیٹیوں کے ساتھ اس اراضی پر آباد ہونے والی مہاجر بستی کا حصہ بن گئی۔
امین الدین بچہ تھا مگر اس کی یادوں میں آج بھی ایک دُھندلا سا منظر کسی فلم کی طرح چلتا تھا۔ اُس کی ماں، بہن، بھائیوں اور بہنوئیوں نے مل جل کر بانسوں، سرکیوں اور چٹائیوں کو کھڑا کر کے موٹے سوئے میں پروئی ستلی سے ٹانکے لگا کر اپنے نئے آشیانے کی حدبندی کی تھی اور سیدھی کھڑی کی گئی اس فصیل کے کچھ حصّے پر اُفقاً بانسوں کا چوخانہ بناکر سرکیوں اور چٹائیوں کی چھت ڈال لی تھی۔ باقی حصہ کھلے صحن کے طور پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
امین الدین کو آج بھی ایک دُھندلی سی یاد تھی۔ زمین پر پتھروں سے بنا چولھا، اس میں سُلگتی آگ، چولھے پر اوندھا کر رکھا گیا توا، چولھے کے ایک جانب بیٹھی توے پر روٹیاں ڈالتی، اُتارتی ماں اور چولھے کے دُوسری طرف نیم دائرے میں بیٹھے اس کے بھائی، بہنیں، دو بہنوئی، وہ خود اور ان سب کے سامنے دھری چنگیر۔ توے سے اُترتی اور آناً فاناً حصّے بخرے ہو کر کھانے والوں میں تقسیم ہوتی روٹیاں۔
ان دنوں امین الدین کو روٹی کے مزیدار یا بے مزا ہونے کا زیادہ ہوش نہ تھا۔ بس پیٹ بھرنے سے غرض تھی مگر بعد میں جب اسے کھانا مزیدار اور بے مزا ہونے میں تمیز ہونے لگی تو ماں کے ہاتھ کی روٹی اور سالن کا مزا ایسا زبان کو لگا کہ ویسا سواد اِسے پھر کہیں نہ مل پایا۔ لذّت اس کی پہلی بیوی دردانہ کے ہاتھ میں بھی بہت تھی مگر ماں کے ٹکّر کی نہیں۔
جس بستی میں امین الدین کے گھر والے مکین ہوئے، وہاں مہاجرین اس تیزی سے آباد ہوئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا علاقہ گھر گیا۔ ان گھروں میں چوبی دروازوں اور کھڑکیوں کا کوئی اہتمام نہ تھا۔ بس دروازے پر ٹاٹ یا کوئی کپڑا پردے کی خاطر لٹکا لیا جاتا۔ بیشتر مہاجر گھرانے ساز و سامان سے محروم تھے۔ چارپائیاں تھیں، نہ بستر۔ زمین بچھونا ہوتی اور بازو تکیے کا کام دیتا۔ شہر کی آب و ہوا معتدل تھی۔ گرمیوں میں بھی سمندر کی جانب سے آنے والی ہوائیں شہر کی شاموں کو خوشگوار بنا دیتیں۔
امین الدین کی ماں بہنوں نے گھر کے واحد کمرے کی کھردری زمین کو کوٹ پیٹ کر اور چکنی مٹی سے لیپ پوت کر لیٹنے بیٹھنے کے لیے ہموار کر لیا تھا۔ گرمیوں میں شام کے وقت صحن میں چھڑکائو کر لیا جاتا۔ رات کو ٹھنڈی زمین پر لیٹنا نہایت لطف دیتا۔ امین الدین کو اپنا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بچہ ہونے کے باعث ماں اپنے پہلو میں لٹاتی۔ امین الدین کو رات کا انتظار ماں سے کہانی سُننے کے لیے ہوتا۔ ماں کو اَن گنت کہانیاں یاد تھیں۔ بعض کہانیاں مسلسل کئی راتوں تک چلتیں۔ ماں کی سُنائی ہر کہانی کے انجام میں کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق یا عبرت موجود ہوتی۔ زندگی بہت سادہ مگر پرسکون تھی۔
گرمیوں کی صبح تو شام اور رات سے بھی زیادہ فرحت بخش ہوتی۔ ہر صبح گڑوی میں سکے چھنکاتا ایک فقیر نہایت پرسوز آواز میں گاتا بستی کی گلیوں سے گزرتا۔
دُنیا رین بسیرا جوگی
اس سے جی کیا لگانا
جو آیا ہے جگ میں جوگی
اس کو اِک دِن ہے جانا
نہ سونا نہ چاندی جوگی
خالی ہاتھ ہے جانا
بیج جو تو بوئے گا جوگی
فصل وہی ہے پانا
راضی کر لے رَب کو جوگی
پاس اسی کے جانا
گڑوی میں سکے چھنکاتے فقیر کی پُرسوز آواز امین الدین کو ماں کی سُنائی کہانیوں کی طرح میٹھی لگتی۔ جاگ جانے کے باوجود وہ آنکھیں موندے فقیر کی آواز کے سوز میں جکڑا پڑا رہتا۔ فقیر نہ کسی گھر کے سامنے کھڑا ہو کر صدا لگاتا نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا۔ دینے والے خود ہی اسے خیرات دیتے اور بہت تکریم سے دیتے۔ کوئی اس کی گڑوی میں حسب حیثیت پیسہ، ٹکا یا آنا ڈال دیتا اور کوئی اسے خشک آٹا، مٹھی بھر چاول یا رات کی بچی روٹی دے دیتا جسے وہ اپنے کندھے کے دونوں جانب دُہری کر کے لٹکائی گئی چادر کے علیحدہ علیحدہ کونوں میں لے کر پوٹلی باندھتا جاتا۔
کبھی کبھی ماں بھی سوتے پڑے امین الدین کو آواز لگاتی۔ ’’امین! ماں صدقے اُٹھ بڈّھے بابا کو خیرات دے دے۔‘‘
ماں خود پردے دار تھی۔ دروازے پر نہ جاتی۔ گھر سے باہر نکلنا ہوتا تو ٹوپی والا برقع اوڑھ کر گھر سے نکلتی۔ ماں کی آواز سُنتے ہی امین الدین فوراً اُٹھ بیٹھتا۔ خیرات کے لیے ماں کے پاس پیسہ تو شاذ و نادر ہی ہوتا عموماً مٹھی دو مٹھی خشک آٹا وہ تانبے کے کٹورے میں ڈال کر امین الدین کو دیتی جسے وہ نہایت ذوق و شوق سے ’’بڈھے بابا‘‘ کی جھولی میں ڈال آتا۔
سائل بھی اس زمانے میں بڑے رکھ رکھائو والے ہوتے تھے۔ نہ پھٹے حالوں ہوتے نہ گر پڑ کر اور دینے والوں کے پیچھے پڑ کر بھیک مانگتے۔ خیرات دینے والے بھی سائل کی عزت نفس کا احترام کرتے۔ ماں فقیر کو عمر رسیدہ ہونے پر بڈھا بابا ورنہ بابا کہتی۔
گڑوی والے بڈھے بابا کی آواز ساری زندگی امین الدین کے مخزنِ سماعت میں محفوظ رہی۔ اس کی پُرسوز لَے آج بھی اس کے ایوانِ سماعت میں گونجتی تھی۔
دُنیا رین بسیرا جوگی
اس سے جی کیا لگانا!
تب تو امین الدین کو اس کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تھا بس فقیر کی لَے اور پُرسوز آواز اچھی لگتی تھی مگر وقت کے ساتھ اس کا مطلب بھی سمجھ میں آگیا تھا اور اب اس عمر میں تو اور بھی گہرائی کے ساتھ۔ دُنیا رین بسیرا ہی تو تھی… شب بسری کی جگہ… اب تو امین الدین کو یوں لگتا تھا جیسے اس رین بسیرے میں رات گزارنے کے بعد آنکھ کھلے گی تو وہ ایک نئی دُنیا میں ہوگا۔
عمر عزیز کے پچھتّر برس یوں گزر گئے تھے جیسے مٹھی میں بند ریت ذرّہ ذرّہ پھیلتی گئی ہو اور بند مٹھی کھولنے پر مٹھی میں کچھ بھی ملنے کا امکان نہ ہو۔ بالکل ایسے ہی جیسے اپنے ماضی کی یادوں کی تلاش میں آنے والا امین الدین حیران پریشان کھڑا اس گلی کی تلاش میں تھا جو اس کے گھر کو جاتی تھی مگر اسے کوئی سراغ نہ مل رہا تھا۔
٭…٭…٭
بازار کی طرح ان دنوں اس کے گھر کی طرف جانے والی گلی میں بھی آمنے سامنے دُکانیں ہوا کرتی تھیں۔ حلوائی کی دُکان جہاں دُودھ، دہی بھی دستیاب ہوتا، دن بھر بڑی کڑھائی میں دُودھ پکتا رہتا۔ حلوائی کا نوکر لڑکا دُودھ پر آنے والی بالائی کو گاہے گاہے کفگیر سے آہستہ آہستہ سمیٹ کر ایک طرف کر کے اسے دُودھ سے اُتار کر علیحدہ برتن میں اکٹھا کرتا جاتا۔
شام کو جب دُکان کے باہر مونڈھوں پر دُودھ اور لسّی کے شوقین آکر بیٹھتے تو تانبے اور پیتل کے بڑے بڑے گلاسوں میں دُودھ اور لسّی پیش کرتے وقت اُوپر سے یہ بالائی بھی ڈال دی جاتی۔ رات کو گاہکوں کو چینی کے پیالوں میں دُودھ جلیبی پیش کرتے وقت بھی بالائی اُوپر سے ڈالی جاتی۔ بعض گاہک کلّھڑوں میں گھر والوں کے لیے بھی دُودھ جلیبی لے جاتے۔ ان دنوں حلوائی کی دُکان پر بس چند ہی اقسام کی مٹھائیاں سجی ہوتی تھیں۔ موتی چور کے لڈّو، جلیبی، امرتی، بالوشاہی، برفی، قلاقند، گلاب جامن، پتیسا اور نقطی دانے۔ امین الدین کی یادوں کے حوالے سے نقطی دانے قرآن خوانی اور میلاد شریف میں بطور تبرّک تقسیم کی جانے والی معروف شیرینی تھی۔ موتی چور کے لڈّو اور بالوشاہی شادی بیاہ کے موقعوں کی مٹھائیاں تھیں۔ برفی، قلاقند اور گلاب جامن اعلیٰ قسم کی مٹھائیاں باور کی جاتیں جو خصوصی مواقع پر خوشحال لوگ ہی ’’افورڈ‘‘ کر پاتے۔
حلوائی کی دُکان کے ساتھ ہی سموسوں ، پکوڑوں اور نمک پاروں کی دُکان تھی۔ دُکان والا پکوڑے تلتا تو بیسن کی چھوٹی چھوٹی بوندیاں پکوڑوں کی تھال کے ساتھ ایک لگن میں رکھے جھرنے میں ڈالے جاتا۔ ان بوندیوں سے ٹپک ٹپک کر لگن میں جمع ہونے والا تیل وہ واپس کڑاہی میں ڈال دیتا اور بوندیاں گلی سے آتے جاتے بچوں میں بانٹے جاتا۔ ان بوندیوں کی لالچ میں امین الدین روزانہ اس کی دُکان کے سامنے کھڑا ہو جاتا۔ ان تازہ تازہ خستہ اور کراری بوندیوں کا ذائقہ امین الدین نے پھر کہیں اور نہ پایا۔ ان دنوں چیزیں بھی تو ملاوٹ سے پاک ہوتی تھیں۔ بیسن خالص، تیل خالص، مرچ مصالحہ ملاوٹ سے پاک!
اسی گلی میں حجّام کی دُکان بھی تھی جہاں رفیع اور شفیع نامی دو بھائی بال کاٹنے اور خط بنانے کا کام کرتے تھے۔ دن بھر وہ اپنے اُستروں سے دُودھ کی طرح سفید سفید جھاگ اُتار کر دُکان کے سامنے پھینکتے جاتے۔ اس جھاگ سے لوگوں کے جوتے تو آلودہ ہوتے ہی تھے کبھی کبھی حجام بھائیوں کی بے خیالی میں راہ گزرتے لوگوں کے کپڑے بھی آلودہ ہو جاتے مگر مجال تھی جو کبھی لڑائی جھگڑا ہوا ہو۔
متاثرہ شخص دُکان کی طرف منہ کر کے کہتا۔ ’’ذرا خیال سے بھائی رفیع۔‘‘
جواب میں دونوں بھائیوں میں سے کوئی کہتا۔ ’’معافی بھائی معافی۔‘‘ ان دنوں لوگوں میں دُوسروں کی غلطی درگزر کرنے اور اپنی غلطی تسلیم کر لینے کا حوصلہ بدرجۂ اَتم موجود ہوتا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر ایک دُوسرے کا گریبان پکڑ لینے کا چلن نہیں تھا۔
گلی میں ایک ٹال بھی تھی جو تین اطراف اُوپر تلے دھرے تناور لٹھوں سے گھری اور چوتھی جانب آمدو رفت کے لیے کھلی تھی۔ ٹال کے وسط میں لکڑی چیرنے، پھاڑنے اور کاٹنے کا کام ہوتا تھا۔ زمین میں گڑے ایک دیوہیکل مُڈھ کے دونوں جانب آمنے سامنے بیٹھے دو آدمی مُڈھ پر دھرے لٹھ پر بڑا سا آرا چلائے جاتے۔ لٹھ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا تو دُوسرے مُڈھ پر اس کی چرائی اور کٹائی کی جاتی۔ تناور لٹھ چولھے اور تنور میں جلانے والی لکڑیوں میں تبدیل ہو جاتا جو اُوپر تلے ایک گٹھے کی صورت رکھ دی جاتیں اور بڑے سے ترازو میں تول کر فروخت کی جاتیں۔ بڑے لٹھوں کی چرائی اور کٹائی کے دوران جھڑنے والی لکڑی کی چھیلن جسے چھپٹّی کہا جاتا علیحدہ ڈھیر کر دی جاتی۔ گھروں میں کھانا پکانے کے لیے چولھوں میں لکڑی کے ساتھ چھپٹّیاں بھی جلائی جاتیں بلکہ لکڑی خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے والے تو اپنے چولھوں میں چھپٹّیاں ہی جلاتے۔
امین الدین کے گھر میں بھی چھپٹّیاں ہی جلا کر کھانا پکایا جاتا تھا۔ ٹال میں آرے سے لکّڑ کی کٹائی کے دوران جھڑنے والا برادہ بھی فروخت ہوتا اور گھروں میں انگیٹھیاں سُلگانے کے کام آتا۔ ٹال میں کام کرنے والے افراد ٹال ہی میں رہتے۔ ایک بڑے سے چھپّر تلے ان کی چارپائیاں برابر برابر بچھی ہوتیں۔ دوپہر کو سب کے سب کام روک کر، ان چارپائیوں پر کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھتے اور ایک ڈلیا میں اُوپر تلے رکھی ڈھیر ساری بڑی بڑی روٹیوں کے نوالے توڑ توڑ کر وسط میں دھرے ایک تانبے کے بادیے میں پانی جیسے شوربے میں ڈبو ڈبو کر کھاتے جاتے اور ان کے چہروں سے نہایت شکرگزاری اور طمانیت جھلکتی۔
امین الدین ان کے کھانے کے وقت ٹال کے نزدیک سے گزرتا تو تنور میں سینکی ہوئی بڑی بڑی خمیری روٹیوں کو دیکھ کر اس کا بھی جی للچاتا کہ کسی روز ایک نوالہ وہ بھی ان کے شوربے میں ڈبو کر اس کا ذائقہ چکھے۔ کتنا اتفاق اور قناعت ہوا کرتی تھی ان دنوں لوگوں میں۔ مل جل کر کام کرتے۔ رزقِ حلال کماتے اور اکٹھے بیٹھ کر سادہ سا کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتے۔
مہاجرین کی نو آباد بستی میں رہنے کا ٹھکانا بنا لینے کے بعد امین الدین کے دونوں بڑے بھائیوں اور بہنوئیوں نے ذرائع روزگار ڈھونڈ لیے تھے۔ عزت سے گزر بسر ہونے لگی تھی۔ امین الدین کو بستی سے کچھ فاصلے پر واقع ایک اسکول میں داخل کروا دیا گیا تھا۔ گھر سے اسکول تک وہ پیدل جاتا۔ پیدل واپس آتا۔ سڑک پار کرنے سے پہلے ماں کی ہدایت کے مطابق وہ پہلے دائیں پھر بائیں جانب دیکھتا پھر سڑک پار کرتا۔ ان دنوں ٹریفک بہت کم ہوتی تھی۔ بڑی بسیں، ٹرامیں، تانگے، گدھا گاڑیاں، سائیکل رکشے اور سائیکلیں… موٹرکاریں تو خال خال ہی سڑک پر دکھائی دیتیں۔
امین الدین کو ٹرام کا سفر بہت للچاتا۔ ٹرام سڑک پر دیکھتا تو اس وقت تک کھڑا دیکھتا رہتا جب تک ٹرام پٹڑی پر چلتی اس نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔ ٹرام ڈرائیور اسے کوئی اور ہی مخلوق لگتا جو ٹرام کے دستے کو اپنے حساب سے گھماتا۔ ٹرام میں مسافروں کو چڑھاتا، اُتارتا چلا جاتا۔
ایک روز امین الدین بھی ٹرام میں سفر کے شوق میں دُوسرے مسافروں کے ساتھ ٹرام میں چڑھ گیا۔ ٹرام ڈرائیور ٹرام روکے گردن موڑے مسافروں کو ٹرام میں سوار ہوتے دیکھ رہا تھا۔ ان دنوں لوگوں میں احساس ذمّے داری اتنا ہوتا تھا کہ امین الدین کے ٹرام میں سوار ہو جانے کے بعد ڈرائیور نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آواز لگائی۔ ’’یہ بچہ کس کے ساتھ ہے؟‘‘
ٹرام میں سوار مسافروں نے چونک کر اسے دیکھنا شروع کر دیا۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ امین الدین کے ایک دو محلّے دار بھی مسافروں میں تھے۔ انہوں نے پوچھا۔ ’’کس کے ساتھ جا رہا ہے تو؟‘‘
وہ کوئی جواب دینے کی بجائے چور سا بن گیا۔ شناسائوں نے ٹرام ڈرائیور سے کہا۔ ’’اسی بستی کا لڑکا ہے۔ کوئی ساتھ نہیں اس کے، اُتار دو۔‘‘
امین الدین کو ٹرام سے اُتار دیا گیا اور بعد میں محلّے کے ان شناسائوں نے اس کے گھر بھی شکایت کر دی۔ بڑے بھائی نے کرارے کرارے دو ہاتھ لگائے۔ امین الدین کا ٹرام میں بیٹھنے کا شوق ہرن ہوگیا مگر بعد ازاں اسے دو مرتبہ ٹرام میں باعزت سفر کا موقع نصیب ہوا۔ ایک بار بڑی آپا اور ان کے میاں کے ساتھ اور دُوسری مرتبہ لاہور سے کراچی آئے ہوئے اپنے
رشتے داروں کے ساتھ۔
سڑک پر کسی موٹر کار کا دکھائی دینا امین الدین کے لیے عجوبے سے کم نہ ہوتا۔ وہ آنکھیں پھاڑے موٹر کار اور اُس میں سوار لوگوں کو دیکھے جاتا۔ اسکول جاتے ہوئے وہ راشن ڈپو والے خاں صاحب کی موٹرکار کو جو ڈپو کے باہر کھڑی ہوتی اپنی اُنگلی سے آہستہ آہستہ چھو کر دیکھتا۔
ان دنوں آٹا، چینی راشن کارڈ میں درج افرادِ کنبہ کی تعداد کے حساب سے ملتا تھا۔ امین الدین نے یہ بات اپنے بچوں کو بتائی تو انہوں نے باجماعت قہقہہ لگایا اور بڑا بیٹا قسیم بولا۔ ’’ڈونٹ ٹیل می ڈیڈ۔‘‘
’’یس!‘‘ امین الدین نے اسے یقین دلانے کے لیے اپنے لہجے میں زور پیدا کر کے کہا۔ پھر چاروں بچوں کی حیرانی میں مزید اضافہ کر دیا۔ ’’بڑی آپا کے گھر کے لیے ایک ڈبل روٹی خریدنے کے لیے مجھے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔‘‘
’’کیو میں تو یہاں بھی کھڑا ہونا پڑتا ہے ڈیڈی۔‘‘ امین الدین کے چھوٹے بیٹے فہیم نے کہا۔
’’بیٹا جی یہاں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے کیو میں کھڑا ہونا پڑتا ہے وہاں ان دنوں چیزوں کی کمی کی وجہ سے قطار میں لگنا پڑتا تھا۔‘‘
’’صرف ایک بریڈ کے لیے!‘‘ امین الدین کی چھوٹی بیٹی شاہانہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
’’چھوٹی سی دُکان پر گنتی کی بریڈز آیا کرتی تھیں۔ جس کو مل گئی مل گئی باقیوں سے کہہ دیا جاتا کل ملے گی، اگلے دن پھر لائن میں کھڑا ہونا پڑتا۔‘‘
’’او مائی گاڈ!‘‘
’’مگر لوگ ان دنوں اتنے متحمل اور تمیزدار ہوا کرتے تھے کہ کوئی لائن میں لگنا مائنڈ کرتا، نہ دیر تک قطار میں کھڑے ہونے کے باوجود بریڈ نہ ملنے پر دُکاندار کو بُرا بھلا کہتا۔ اب تو لوگوں میں برداشت ہی نہیں رہی ذرا سی بات پر مرنے مارنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’لیکن کیوں ڈیڈ… اب کیوں مارنے مرنے لگتے ہیں؟‘‘
’’کیا بتائوں بیٹا جی کیوں؟‘‘ امین الدین ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا تھا۔ اس کی بڑی بیٹی نغمانہ کے سوال کا جواب برسوں کی تاریخ پر محیط تھا۔
برسوں کے اس سفر میں بستی کا نقشہ ملک کے حالات کی طرح بدل گیا تھا۔ امین الدین حیران پریشان گلی دَر گلی گھومتے ہوئے وہ مقام تلاش کر رہا تھا جہاں کبھی اس کے گھر والوں نے ہجرت کی منزل سے گزر آنے کے بعد نہایت بے سرو سامانی کے عالم میں اپنا ٹھکانا بنایا تھا۔ بعد میں جب گھر کے مرد روزگار پر لگ گئے تو سرکیوں اور چٹائیوں سے بنا آشیاں پہلے لکڑی کے تختوں کے گھر میں تبدیل ہوا۔ پھر سیمنٹ، ریت اور بجری کے پختہ مکان کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ سادہ سا مکان تھا۔ دروازوں اور کھڑکیوں سے بے نیاز کمرے، باورچی خانہ، غسل خانہ اور پختہ فرش والا صحن جسے گرمیوں میں ٹھنڈا کرنے کے لیے لوٹے کی پتلی دھار سے دھویا جاتا۔
بستی میں پانی کی ان دِنوں کتنی قلت ہوا کرتی تھی۔ دو سرکاری نل تھے، ایک سے بستی کے مکین مقررہ اوقات میں مفت پانی بھر سکتے تھے۔ دُوسرے سے ماشکی اپنی چمڑے کی مشکوں میں پانی بھر بھر کر قیمتاً گھروں میں پہنچایا کرتے تھے۔ پہلے ایک ٹکا فی مشک کے حساب سے، پھر یہ ریٹ ایک آنا فی مشک ہو گیا تھا۔
دونوں نلکوں میں صبح شام مقررہ اوقات میں پانی آتا۔ مفت پانی والے عوامی نلکے کے سامنے مٹی کے گھڑے، دھاتی گاگریں، بالٹیاں اور کنستر اسی طرح قطار میں رکھے جاتے جیسے ڈبل روٹی خریدنے والے قطار میں کھڑے ہوا کرتے تھے۔ بستی کے مکین پانی بھرنے کے لیے آس پاس آبادیوں میں بھی جاتے اور اکثر وہاں سے پانی لا کر اپنی ضرورت پوری کرتے۔
تلاش بسیار اور علاقے کے لوگوں سے پوچھ پاچھ کر امین الدین نے بالآخر وہ مقام تلاش کر لیا جہاں کبھی اس کا گھر ہوا کرتا تھا۔ اب تو وہاں ایک سہ منزلہ عمارت کھڑی تھی جس کے دریچوں میں رنگین پردے پڑے تھے۔ ایک وہی کیا سارے علاقے میں ایسی ہی عمارتیں استادہ تھیں، کوئی دو منزلہ، کوئی سہ منزلہ بلکہ بعض تو پانچ چھ منزلوں تک تعمیر کی گئی تھیں اور اکثر کی بیرونی آرائش دیدنی تھی۔
ماں بھی کیا سادہ اور درویش صفت عورت تھی۔ اس کے بہت سے رشتے داروں نے پاکستان آنے کے بعد کلیم میں بڑے بڑے مکان حاصل کر لیے تھے۔ ماں کے پھوپھی زاد بہن بھائیوں نے تو کلیم میں بڑے بڑے مکانوں کی پوری ایک لائن ہی الاٹ کرالی تھی۔ انہوں نے ماں کو بھی کلیم داخل کرانے کا بہتیرا مشورہ دیا مگر اس کا ایک ہی جواب ہوتا کہ اللہ نے بلوائیوں سے گھر کے مردوں کی جانیں اور عورتوں کی عزتیں بچا دیں، یہی بہت ہے۔
ماں اتنی صابر تھی کہ کبھی ہندوستان میں چھوڑے اثاثوں کا ملال نہ کرتی۔ شکر کرتی کہ بچے ہندوئوں کے استبداد سے نکل کر اسلامی مملکت میں آبسے تھے۔ ہر صبح فجر کی نماز کے بعد وہ باقاعدگی سے بلند آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتی اور تلاوت کے بعد قرآن مجید جزدان میں لپیٹتے ہوئی کہتی۔ ’’الہٰی تیری ان نعمتوں کا بھی شکریہ جن کا ہمیں پتا ہے اور ان کا بھی شکریہ جن کا ہمیں احساس نہیں۔‘‘
ماں کو اللہ کی نعمتوں کا حساب دینے کا بہت خوف رہا کرتا تھا۔ امین الدین کو اکثر ماں کو نماز کے لیے لوٹے سے وضو کرانا پڑتا۔ ماں چوکی پر بیٹھ جاتی اور امین الدین پانی کا لوٹا لے کر اس کے سامنے کھڑا ہوجاتا۔ ماں لوٹے سے پانی کی دھار کا تعیّن لوٹے کے جھکائو سے کرتی۔ امین الدین کو لوٹا اسی زاویے پر رکھ کر ماں کو وضو کروانا پڑتا۔ پانی کی دھار ذرا تیز ہوتی ماں گھبرا کر کہتی۔’’ماں صدقے! دھار کم کر…اللہ کو حساب دینا ہوگا۔‘‘
’’پانی کا حساب اماں؟‘‘ ایک روز امین الدین نے کہا۔
ماں وضو کررہی تھی کچھ نہ بولی مگر وضو سے فارغ ہوکر چوکی سے اترتے ہوئے اس نے کہا۔ ’’ہر چیز کا حساب دینا ہوگا میرے بچّے۔‘‘
برسوں بعد جب ایک روز امین الدین نے یہ بات اپنے بچوں کو بتائی تو وہ ہنس پڑے تھے۔ ’’گاڈ گریشس! یور مدر واز سو سمپل ڈیڈ!‘‘
’’اس سے بھی زیادہ۔‘‘ امین الدین نے کہا۔
ماں کو ہر لمحہ اللہ کا خوف اور نفس کو قابو میں رکھنے کی فکر رہا کرتی تھی۔ وہ اکثر کہتی۔ ’’بندے کو اپنا نفس قابو میں رکھنا چاہیے۔‘‘
ایک روز امین الدین نے نہایت تجسّس سے پوچھا۔ ’’اماں یہ نفس کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’نفس انسان کے اندر کا شیطان ہوتا ہے میرے لال … اسے مارکر رکھنا پڑتا ہے…دباکر…آنکھیں دکھاکر… زبان چٹخارا چاہے تو بندہ زبان کو قابو میں رکھے … نظر غلط طرف اٹھنا چاہے تو نظر کو قابو میں رکھے…قدم غلط سمت میں اٹھیں تو بندہ قدموں کو روک لے… نفس جنگلی جانور ہے ماں صدقے جس نے نفس کو سدھا لیا، اس کی دنیا بھی سنور گئی آخرت بھی۔‘‘
’’نفس‘‘ کا مطلب امین الدین کو بہت بعد میں سمجھ آیا۔ ماں کی سادگی میں بھی گہرائی اور دانائی تھی۔ واقعی! جس نے نفس کو سدھا لیا اس کی دنیا بھی سنور گئی اور آخرت بھی!
ماں کو آخرت کی بھی بہت فکر رہا کرتی تھی۔ وہ اکثر کہتی۔ ’’کم کھائو، کم بولو، کم سوئو۔‘‘
’’کیوں اماں؟‘‘ ایک روز امین الدین نے پوچھا۔
’’کم کھانا ولیوں کا شیوہ ہے ماں صدقے… بندہ کم کھائے تو رزق کا زیادہ نشہ نہیں چڑھتا۔ نفس قابو میں رہتا ہے… کم بولنا عقلمندوں کا طریقہ ہے۔ بولنا چاندی ہے تو خاموشی سونا… بندہ کم بولے تو زبان سے الٹی سیدھی بات نکالنے سے بچ جاتا ہے۔ اللہ کو زبان سے نکلے لفظوں کا حساب بھی دینا ہوگا… اور کم سونا عابدوں زاہدوں کا چلن ہے۔ زندگی اللہ نے اعمال کے لیے دی ہے۔ سوکر گزارنے کے لیے نہیں…بس اتنا کھائے اتنا بولے اور اتنا سوئے بندہ، جتنا ضروری ہو۔‘‘
ماں تھی تو چِٹّی اَن پڑھ مگر باتیں علم والوں کی سی کرتی تھی۔ ایک روز امین الدین نے پوچھا۔’’اماں تمہیں اتنی ساری باتیں کس نے سکھادیں؟‘‘
’’وقت نے میرے بچّے۔‘‘ ماں نے جواب دیا۔
اس وقت تو ماں کا جواب امین الدین کو کچھ عجب سا لگا تھا مگر برسوں زندگی گزارنے کے بعد اسے ماں کا جواب سمجھ میں آگیا تھا۔ واقعی وقت سے بڑا معلّم کوئی اور نہیں!
٭…٭…٭
بستی کے بدلے ہوئے نقشے میں اپنے بچپن اور لڑکپن کے گھر کی جائے وقوع تلاش کرنے کے بعد وہاں استادہ سہ منزلہ خوبصورت مکان نے امین الدین کے دل کو اَن کہے درد سے دوچار کردیا۔ یہ وہ گھر تھوڑی تھا جس کی تلاش میں وہ یہاں آیا تھا۔ وہ گھر تو اب بھی اس کے خوابوں میں بسا تھا۔ وہ گھر جہاں تنگ پاجامہ اور کرتا پہنے سر پر سفید دوپٹہ اوڑھے ماں صحن میں گھومتی مرغیوں اور چوزوں کو دانہ ڈالتی پھرتی تھی اور صحن میں بندھی الگنی پر دھلے کپڑے پھیلاتی بڑی آپا۔ چوکی پر بیٹھی سبزی کترتی چھوٹی آپا۔ صحن میں گھڑونچی کے نیچے رکھا بڑا سا تربوز جس پر پہلے تو امین الدین بیٹھ کر صحن بھر میں اسے لڑھکاتا اور اس پر سواری کے مزے لیتا تھا۔ ماں کہتی۔ ’’تیرے وزن سے پھٹ جائے گا تربوز… نہ چڑھ اس پر۔‘‘
’’نہیں پھٹتا اماں۔‘‘ وہ کہتا۔
’’کیسے نہیں پھٹتا…تربوز ہی تو ہے۔‘‘
’’میں چھوٹا ہوں اماں…میرا اتنا وزن تھوڑی ہے… نہیں پھٹتا تربوز۔‘‘
اور تربوز واقعی نہیں پھٹتا تھا۔ وہ اس پر اپنا پورا وزن بھی تو نہیں ڈالتا تھا۔ تربوز کو ہاتھوں سے گھمائے جاتا اور اپنی ٹانگوں اور پیروں پر وزن دیے تربوز کے لڑھکنے کے ساتھ خود بھی آگے بڑھتا جاتا۔
بڑا سا تربوز کاٹا جاتا تو سب مل کر ایک ہی تسلے میں تربوز کھاتے۔ تسلے میں بچنے والا رس سب ایک ہی چمچ سے باری باری پیتے۔ تربوز کے بیج جو سب نے تربوز کھانے کے دوران منہ سے نکال نکال کر اکٹھے کیے ہوتے‘ چھلنی میں دھوکر دھوپ میں سکھائے جاتے اور گھر کی عورتیں دوپہر کو گھر کے دھندوں سے فارغ ہوکر بیٹھتیں تو تربوز کے دھوپ میں سکھائے گئے بیج خود بھی چھیل چھیل کر کھاتیں اور گھر کے مردوں کے لیے بھی اٹھا رکھتیں۔
خربوزے آتے تو ان کے بیجوں کو بھی اسی طرح دھوپ میں سکھاکر چھیلا اور کھایا جاتا۔ کبھی کبھی چھلے ہوئے بیجوں کو رگڑ کر ان میں گڑکی شکر ملاکر برف ڈال کر ٹھنڈائی بھی بنائی جاتی۔
گھر کے معاشی حالات بہتر ہونے پر دونوں بہنوئیوں نے قریب ہی علیحدہ گھر بنالیے تھے۔ امین الدین کی تیسری غیر شادی شدہ بہن کے لیے محلّے ہی سے ایک رشتہ آیا تو ماں نے اس کے فرض سے بھی سبکدوشی حاصل کی۔
ان دنوں رشتے ناتے حسن جمال اور مال و دولت کی بنیاد پر نہیں حسب نسب اور شرافت کی بنیاد پر ہوا کرتے تھے۔ امین الدین کے دو بڑے بھائیوں کے لیے ماں نے اپنے ہی خاندان کے گھرانوں میں رشتے دیکھے۔ ماں کہا کرتی تھی۔ ’’اللہ بیٹیوں ہی نہیں بیٹوں کے نصیب بھی اچھے کرے۔‘‘
ماں کی اس بات کا مطلب بھی بہت سالوں بعد امین الدین پر دردانہ کے جانے کے بعد کھلا۔
لاٹھی ٹیک ٹیک کر آہستہ روی سے علاقے کی گلیوں میں گھومتے چٹّے سر، گلابی رنگت اور انگریزوں کے سے حلیے والے اجنبی بابے کو دیکھ کر آتے جاتے لوگوں کی نگاہوں میں حیرانی جھلکتی دکھائی دی۔ یہاں کے بوڑھے تو عموماً کرتا پاجامہ یا شلوار قمیص میں ملبوس ہوتے تھے۔ یہ کون تھا جو پتلون اور بش شرٹ پہنے اور سر پر انگریزی کیپ رکھے نہایت جاسوسانہ انداز میں ان گلیوں میں گھوم رہا تھا اور آس پاس سے گزرنے والے لوگوں کو کھوجنے والی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے کی رنگت اور حلیہ بدیسیوں جیسا تھا مگر نظروں میں اپنوں کی سی یگانگت اور گرماہٹ تھی۔
’’یہاں شفن کی دکان ہوا کرتی تھی۔‘‘ امین الدین نے ایک راہگیر کو روک کر استفہامیہ لہجے میں پوچھا۔ شفن دکاندار شفیق الدین کی عرفیت تھی۔
’’پتا نہیں جی۔‘‘ راہگیر نے سرد لہجے میں کہا اور آگے بڑھ گیا۔
امین الدین کو اس کی بے رخی اور سرد مہری سے یاد آیا۔ جن دنوں وہ اسکول میں پڑھتا تھا ہندوستان سے ایک شخص بستی میں اپنے رشتے داروں سے ملنے آیا۔
بہشتیوں کے نلکے کے نزدیک اس نے کسی سے پوچھا۔ ’’رحیم اللہ کا گھر کون سا ہے؟‘‘
آس پاس سے گزرتے لوگ تھم گئے۔ سقّوں نے چونک کر دیکھنا شروع کردیا۔ اسکول سے واپس لوٹتے لڑکے رک گئے۔ آس پاس گھروں کی عورتوں نے دروازوں سے جھانکنا شروع کردیا۔ رحیم اللہ کے گھر کی ڈھنڈیا مچ گئی۔
’’ارے! یہ سبزی والے رحیم کو تو نہیں پوچھ رہے؟‘‘ کسی نے سوال اٹھایا۔
’’اے بھیا وہ رحیم اللہ تھوڑی رحیم بخش ہے۔‘‘ دروازے کی جھری سے جھانکتی کسی عورت نے سریلی آواز میں کہا۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS