Saturday, July 13, 2024

Sultan Bahu | Last Episode

علوم باطنی کی تکمیل کرتے ہیں، پہاڑوں اور پتھروں پر تحریر شدہ ’’علوم الٰہی‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ پھر شجر و حجر (درخت اور پتھر) علوم الٰہی کے اسرار و رموز کے بارے میں درویشوں سے گفتگو اور مکالمہ کرتے ہیں۔ اولیائے کرام سیر و سیاحت کے ذریعے ایک حال سے دوسرے حال میں ترقی کرتے ہیں۔ چنانچہ ’’ذاتِ الٰہی‘‘ کے علوم کی کوئی حد نہیں ہے اور یہ درویش بھی علم باطنی کے حصول اور ’’سیرفی الذات‘‘ کرنے کے لیے زیادہ مطالعہ کرتے ہیں تاکہ ’’سیر فی الذات‘‘ کے احوال اور مقامات سے محروم نہ رہ جائیں۔‘‘
تصوف کی اصطلاح میں علم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک اکتسابی جو ظاہری کوششوں اور اساتذہ کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، دوسرا علم لدنی جس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ علم اللہ تعالیٰ کی عطائے خاص ہے جو بندوں کو کسی ظاہری کوشش اور سبب کے بغیر بخشا جاتا ہے۔ دوسرے صوفیائے کرام کی طرح حضرت سلطان باہوؒ کو بھی علم لدنی حاصل تھا۔ اگرچہ آپ کی سیر و سیاحت صرف برصغیر پاک و ہند کے علاقوں تک محدود تھی لیکن پھر بھی حضرت سلطان باہوؒ کی حیات مبارک کا بیشتر وقت سیر و سیاحت میں گزرا اور اس دوران آپ نے بے شمار مشاہدات کئے اور بہت سے لوگوں کو اپنی باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔
٭…٭…٭
ایک بار حضرت سلطان باہوؒ کا گزر پنجاب کے علاقے میں دامان کوہ مغربی جبل اسود کی طرف ہوا۔ جہاں آپ نے ایک نوعمر لڑکے کو دیکھا جو گائیں چَرا رہا تھا۔ حضرت سلطان باہوؒ نے اس لڑکے پر نظر ڈالی۔ وہ گائیں چَرانا بھول گیا اور آپ کے گرد پروانہ وار رقص کرنے لگا۔
پھر جب حضرت سلطان باہوؒ نے اس لڑکے پر دوسری نظر ڈالی تو وہ ہوش میں آگیا۔ حضرت باہوؒ اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔ کچھ دور چلنے کے بعد آپ نے مڑ کر دیکھا۔ وہ گوالا لڑکا بھی خاموشی کے ساتھ حضرت سلطان باہوؒ کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔
’’لڑکے! تم اپنا کام کرو اور ہمیں اپنا کام کرنے دو۔‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے لڑکے کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’اب میرا یہاں کیا کام ہے؟‘‘ لڑکے نے عرض کیا۔
’’تمہاری ان گایوں کا کیا ہوگا؟‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے لڑکے سے پوچھا۔
’’جس کے جانور ہیں، وہ جانیں۔‘‘ لڑکے پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔
حضرت سلطان باہوؒ نے لڑکے کو بہت سمجھایا مگر وہ واپس جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ آخر حضرت شیخؒ اسے اپنے ساتھ لے کر کوہ شمال کی طرف روانہ ہوگئے۔
اس لڑکے کا نام کھتران تھا جو آگے چل کر حضرت سلطان نورنگؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔
پھر حضرت سلطان باہوؒ کوہ شمالی کے جنگلوں سے گزر کر ایک زرخیز پہاڑی علاقے میں تشریف لے گئے جس کا نام ’’کلرکہار‘‘ تھا۔ اس جگہ کی سرسبزی و شادابی دیکھ کر حضرت سلطان باہوؒ پر جذب کی کیفیت طاری ہوگئی۔
پھر آپ کی یہ کیفیت تین دن اور تین رات تک جاری رہی۔ اس ویران اور غیر آباد علاقے میں نہ کھانے کا انتظام تھا اور نہ پانی کا۔ حضرت سلطان باہوؒ کے مرید حضرت سلطان نورنگ کھترانؒ اپنی ریاضت اور مجاہدے کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہے تھے، اس لیے بھوک اور پیاس کی شدت برداشت نہ کرسکے اور مضطرب ہوکر شیخ کی خدمت میں فریاد کرنے لگے۔ ’’الجوع الجوع العطش العطش‘‘ (بھوک، بھوک… پیاس، پیاس)۔
حضرت سلطان باہوؒ نے اپنے مرید کی فریاد سن کر مراقبے سے سر اٹھایا اور آنکھیں کھول کر حضرت سلطان نورنگ کھترانؒ کی طرف دیکھا۔ ’’فرزند! کیا بات ہے؟‘‘
’’شیخ! اب بھوک اور پیاس برداشت نہیں ہوتی۔‘‘ حضرت سلطان نورنگ کھترانؒ نے انتہائی مضطرب لہجے میں عرض کیا۔
حضرت سلطان باہوؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ’’برات عاشقان برشاخ آہو۔‘‘ (عاشقوں کا حصہ ہرن کے سینگوں پر ہوتا ہے۔‘‘ (ترجمہ)
جیسے ہی حضرت سلطان باہوؒ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے، پہاڑ کے ایک گوشے سے ایک ہرن برآمد ہوا جس کے سینگوں پر کھانے کا خوان رکھا ہوا تھا اور اس کی گردن میں پانی سے بھرا ہوا آب خورہ لٹک رہا تھا۔
حضرت سلطان باہوؒ نے اپنے مرید کو حکم دیتے ہوئے فرمایا۔ ’’اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے فیض یاب ہو۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سلطان باہوؒ نے خود بھی کھانا تناول فرمایا۔
حضرت سلطان نورنگؒ تیس سال تک اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے۔ سفر و حضر میں شیخ کی اس قدر خدمت کی کہ محبوبیت کی منزل تک پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ حضرت سلطان باہوؒ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت سلطان باہوؒ کے اس قول مبارک سے حضرت نورنگ کھترانؒ کی روحانی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ نہایت محبت آمیز لہجے میں فرمایا کرتے تھے۔ ’’جتھ اعوان، تتھ کھتران۔‘‘ یعنی جہاں اعوان پہنچا، وہیں کھتران پہنچ گیا۔
حضرت سلطان باہوؒ کا تعلق قبیلہ اعوان سے تھا۔ چنانچہ اس قول مبارک کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں حضرت سلطان باہوؒ خود پہنچے، وہیں اپنے مرید صادق کو بھی پہنچا دیا۔ ’’کھتران‘‘ حضرت سلطان نورنگؒ کی برادری کا نام ہے۔
جب حضرت سلطان نورنگؒ کو عرفان حاصل ہوگیا تو آپ اپنے پیر و مرشد حضرت سلطان باہوؒ کے فرمائے ہوئے اس مصرع ’’برات عاشقاں بر شاخ آہو‘‘ کو مکمل شعر میں ڈھال دیا:
عجب دیدم تماشا شیخ باہو
برات عاشقاں بر شاخ آہو
(’’اے شیخ! میں نے عجیب تماشا دیکھا کہ عاشقوں کا حصہ ہرن کے سینگ پر تھا۔‘‘ ترجمہ)
واضح رہے کہ ’’برات بر آہو‘‘ فارسی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم ہے۔ ’’زبانی جمع خرچ، جھوٹے وعدے۔‘‘ مگر جب ہم حضرت سلطان باہوؒ کے حوالے سے اس مصرع کا مطلب سمجھنا چاہیں گے تو وہی مفہوم ہوگا کہ عاشقوں کا حصہ ہرن کے سینگ پر ہوتا ہے۔
حضرت سلطان نورنگؒ کا مزار مبارک ’’جبل اسود‘‘ کے دامن میں ڈیرہ اسماعیل خان کے نزدیک قصبہ ’’دھوآ‘‘ میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام ہے۔
٭…٭…٭
ایک بار کا ذکر ہے کہ حضرت سلطان باہوؒ چند درویش ساتھیوں کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان کی طرف سفر کررہے تھے۔ راستے میں ’’چھبری‘‘ نام کا ایک گائوں پڑتا تھا۔ یہ گائوں اس علاقے کے مشہور بزرگ عادل غیاث الدین تیغ براںؒ کے روضہ مبارک کے قریب ہے۔ جب حضرت سلطان باہوؒ یہاں پہنچے تو چاشت کا وقت تھا۔ ساتھی درویشوں نے عرض کیا۔ ’’اگر حکم ہو تو کچھ دیر گائوں میں ٹھہر کر روٹی پکا لیں۔‘‘
حضرت سلطان باہوؒ نے اجازت دے دی اور اس عورت کے گھر تشریف لے گئے جو مسافر درویشوں کی خدمت کیا کرتی تھی۔
حضرت شیخؒ کے ساتھی درویش اس عورت کے ساتھ مل کر کھانا پکانے میں مشغول ہوگئے۔ عورت کی ایک شیرخوار بچی گہوارے میں سوئی ہوئی تھی۔ اتفاق سے وہ اس وقت جاگ گئی جب ماں کام میں مصروف تھی۔ بچی نے بیدار ہوتے ہی رونا شروع کردیا۔
عورت کام چھوڑ کر بچی کے پاس نہیں جاسکتی تھی، اس لیئے وہیں بیٹھے بیٹھے حضرت باہوؒ سے مخاطب ہوئی۔ ’’بابا میری بچی کے پنگوڑے کو ہلا دے تاکہ یہ خاموش ہوجائے اور میں اطمینان سے اپنا کام کرسکوں۔‘‘
حضرت سلطان باہوؒ آگے بڑھے اور بچی کے گہوارے کو آہستہ آہستہ ہلانے لگے اور ساتھ ہی ساتھ بلند آواز میں ’’اللہ ہو، اللہ ہو‘‘کہتے رہے۔ بچی خاموش ہوکر سو گئی۔
پھر جب وہ عورت اپنے کام سے فارغ ہوئی تو اس نے حضرت سلطان باہوؒ سے کہا۔ ’’بابا! تیرا شکریہ، تیری وجہ سے میری بچی سو گئی اور میں نے اپنے سارے کام ختم کرلیے۔‘‘
سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’مائی! ہم نے صرف گہوارے ہی کو جنبش نہیں دی بلکہ تیری بچی کے دل کو بھی جنبش دی ہے اور ایسی جنبش دی ہے کہ قیامت تک اس میں کمی نہیں آئے گی بلکہ زیادتی ہی ہوتی رہے گی۔‘‘
پھر ایسا ہی ہوا۔ حضرت سلطان باہوؒ اپنے سفر پر روانہ ہوگئے مگر ایک مردِحق کی نظر کیمیا اثر نے شیرخوار بچی کی کایا ہی پلٹ دی۔ یہ بچی جوان ہوکر حضرت فاطمہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ حضرت فاطمہؒ کا تعلق بلوچوں کے قبیلے مستوئی سے تھا۔ آپؒ کا مزار مبارک فتح خان اور قلعہ گڑانگ کے قریب ہے۔ آج بھی لاکھوں زائرین فاتحہ خوانی کے لیے حضرت فاطمہؒ کے روضے پر جاتے ہیں۔
٭…٭…٭
حضرت سلطان باہوؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ جسے بھی خصوصی توجہ کے ساتھ ایک بار دیکھ لیتے، اس پر روحانی فیوض و برکات کے دروازے کھل جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص آپ کو یہ صفت بخشی تھی۔ ہم مضمون کے ابتداء میں ذکر کرچکے ہیں کہ عالم طفلی میں بھی حضرت سلطان باہوؒ کی نظر کیمیا اثر کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی بت پرست کو دیکھ لیتے تو وہ اپنے صنم خانۂ دل سے ایک ایک باطل معبود کو نکال کر پھینک دیتا اور کلمۂ طیبہ پڑھ کر حلقۂ اسلام میں داخل ہوجاتا۔
ایک بار حضرت سلطان باہوؒ درویشوں کے ساتھ سیر و سیاحت کرتے ہوئے علاقہ سنگھڑ سے گزرے جہاں ایک صاحب حال بزرگ حضرت شیخ اسماعیل قریشیؒ سکونت پذیر تھے۔ حضرت شیخ اسماعیل قریشیؒ، حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کے پوتے، حضرت شیخ رکن الدین ابوالفتحؒ کے خلیفہ، حضرت شیخ موسیٰ والاؒ کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت سلطان باہوؒ سنگھڑ سے گزر کر جھنگ تشریف لے گئے اور وہاں رات کو ایک مسجد میں قیام فرمایا۔ اتفاق سے ایک سات سالہ بچہ لعل شاہ، مسجد میں آیا اور حضرت سلطان باہوؒ کے سامنے سے گزرا۔ آپ نے نظر بھر کر لعل شاہ کی طرف دیکھا۔ وہ اپنا سارا کام بھول گیا اور رات بھر حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں بیٹھا رہا۔
حضرت سلطان باہوؒ نے کئی بار فرمایا۔ ’’بچے! تم اپنے گھر جائو۔ تمہارے ماں باپ پریشان ہوں گے۔‘‘
لعل شاہ نے بڑے غمزدہ لہجے میں عرض کیا۔ ’’میرے لیے کوئی پریشان نہیں ہوگا۔ اب وہی میرا گھر ہے، جہاں آپ ہیں۔‘‘
صبح ہوئی تو لعل شاہ کے عزیز اسے تلاش کرتے ہوئے مسجد پہنچے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ لعل شاہ، حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں حاضر ہے۔ عزیزوں نے بہت منت سماجت کی مگر لعل شاہ کسی طرح بھی اپنے گھر جانے پر رضامند نہیں ہوا۔
عزیز و اقارب نے واپس جاکر لعل شاہ کے والد حضرت شیخ بڈھن شاہؒ کو صورت حال سے آگاہ کردیا۔ شیخ بڈھنؒ، حضرت شیخ اسماعیلؒ کی اولاد میں سے تھے۔ یہ خبر سن کر شیخ بڈھنؒ اپنے مریدوں اور دوستوں کے ساتھ مسجد میں حاضر ہوئے اور حضرت سلطان باہوؒ سے عرض کرنے لگے۔ ’’شیخ! اس بچے کو اجازت دیں کہ یہ اپنے گھر چلا جائے، لعل شاہ کی ماں بہت پریشان ہے۔‘‘
جواب میں حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’بڈھن شاہ!

یہ بچہ تمہاری ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیض اور نصیب میرے سپرد فرمایا ہے۔ تم واپس جائو، اب میں ہی لعل شاہ کی تربیت کروں گا۔‘‘
شیخ بڈھنؒ پر حضرت سلطان باہوؒ کا اس قدر رعب طاری ہوا کہ وہ دست بستہ عرض کرنے لگے۔ ’’شیخ! اب لعل شاہ آپ کے سپرد ہے۔‘‘ یہ کہہ کر شیخ بڈھنؒ واپس چلے گئے۔
شیخ بڈھن شاہؒ کا تعلق بزرگوں کے خانوادے سے تھا اور وہ ایک امیر و کبیر شخص تھے۔ شیخ بڈھن شاہؒ نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے ایک لڑکا لعل شاہ تھا۔ دوسری بیوی نے آتے ہی شوہر کے دل و دماغ پر قبضہ کرلیا تھا۔ نتیجتاً شیخ بڈھن شاہؒ نے اپنی پہلی بیوی اور لڑکے لعل شاہ کو لاوارثوں کی طرح گھر کے ایک گوشے میں ڈال دیا تھا۔ جب لعل شاہ کی ماں کو بیٹے کا حال معلوم ہوا تو اس نے حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں پیغام بھیجا۔ ’’شیخ! لعل شاہ میرا ایک ہی بیٹا ہے جس کے سہارے میں اپنی زندگی کے دن گزار رہی ہوں۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں بھی حاضر ہوکر بیٹے کے ساتھ رہوں؟‘‘
جواب میں حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’تم ایک پردہ دار خاتون ہو۔ اطمینان سے گھر کی چار دیواری میں بیٹھی رہو۔‘‘
لعل شاہ کی والدہ نے دوبارہ اپنے ملازم کی زبانی حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں عرض کیا۔ ’’جب آپ کا فیض روحانی عام ہے تو پھر مجھے اس نعمت سے کیوں محروم رکھتے ہیں؟‘‘
لعل شاہ کی والدہ کی درخواست سن کر حضرت سلطان باہوؒ نے ایک غمزدہ عورت پر توجہ کی اور ملازم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’اپنی مالکہ سے کہو کہ ان کے لیے سورئہ مزمل کا ورد کافی ہے۔ اللہ مدد کرے گا۔‘‘
حضرت شیخ اسماعیلؒ کے اہل خاندان کی روایت ہے کہ حضرت سلطان باہوؒ کے اجازت دیتے ہی لعل شاہ کی والدہ صاحب حال ہوگئیں۔ اس روز کے بعد سے ہر وقت ان کی زبان پر سورئہ مزمل کا ورد جاری رہتا تھا۔ دنیاوی کاموں سے بے نیاز ہوگئی تھیں اور دن رات جذب و استغراق کی حالت میں رہتی تھیں۔ اگر کبھی روٹی پکانی پڑ جاتی تو وہ توے پر پڑے پڑے جل جاتی۔
کچھ دن بعد حضرت سلطان باہوؒ، لعل شاہؒ کو لے کر اپنے اگلے سفر پر روانہ ہوگئے اور اپنے ایک خادم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا۔ ’’میرا کوزہ، مصلے اور مسواک لعل شاہ کے حوالے کردو۔‘‘
حضرت لعل شاہؒ تیس سال تک پیر و مرشد کی خدمت میں رہے۔ اس طویل مدت میں صرف ایک سیاہ کمبل آپ کا لباس تھا جس کا آدھا حصہ زمین پر بچھا کر اسے بستر بنا لیتے تھے اور آدھے حصے کو چادر کے طور پر اوڑھ لیتے تھے۔ حضرت لعل شاہؒ ہمیشہ ننگے سر اور ننگے پیر رہا کرتے تھے۔
پھر جب تیس سال بعد خلافت سے سرفراز ہوکر حضرت لعل شاہؒ رخصت ہونے لگے تو آپ نے پیر و مرشد سے عرض کیا۔ ’’سیّدی! مجھے کوئی تبرک عطا کیجئے۔‘‘
حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’جو لینا چاہتے ہو، لے لو۔‘‘
جواب میں حضرت لعل شاہؒ نے عرض کیا۔ ’’میں آپ کے کوزے، مصلے اور مسواک کا امین رہا ہوں۔ ان ہی میں سے کوئی چیز عنایت کردیجئے تاکہ منزل مراد میں آپ کی کوئی نشانی میرے پاس رہے۔‘‘
حضرت سلطان باہوؒ نے اپنی استعمال شدہ مسواک حضرت لعل شاہؒ کو عنایت کردی۔
حضرت سلطان باہوؒ کے پڑپوتے اور ’’مناقب سلطانی‘‘ کے مصنف حضرت شیخ سلطان حامدؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس مسواک کو دیکھا ہے۔ وہ پیلو کے درخت کی تھی۔ اس کا منہ ایسا تھا جیسے مسواک کو تازہ تازہ نچوڑا گیا ہو۔
شیخ سلطان حامدؒ نے اپنے پردادا محترم کی عطا کردہ مسواک کو تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد دیکھا تھا۔ اس قدر طویل مدت گزر جانے کے بعد بھی مسواک میں تازگی کا پایا جانا، حضرت سلطان باہوؒ کی کرامت کی روشن دلیل ہے۔ یہ مسواک آج بھی حضرت سلطان باہوؒ کے گھرانے میں بطور تبرک موجود ہے۔
٭…٭…٭
حضرت سلطان باہوؒ کے خلیفہ حضرت سلطانؒ فرماتے ہیں۔ ’’ایک بار پیر و مرشد بھکر کے مقام پر شمال کی طرف سفر کررہے تھے۔ میں بھی حضرت شیخؒ کے ہمراہ تھا۔ چلتے چلتے پیر و مرشد ’’دامن چول‘‘ میں ایک ویران ٹیلے پر پہنچے اور ایک گوشے میں بیٹھ گئے۔ ابھی حضرت شیخؒ کو بیٹھے ہوئے بمشکل چند لمحے گزرے ہوں گے کہ آپ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’سیّدی! کیا بات ہے؟‘‘ سلطان حمیدؒ نے عرض کیا۔
’’حمید! اس ٹیلے سے جلدی اترو، یہ کسی ظالم کا مکان ہے۔‘‘ حضرت سلطان باہوؒنے فرمایا اور اس ٹیلے سے اتر کر ریت کے میدان میں قیام فرمایا۔ پھر کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے سلطان حمیدؒ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر لیٹ گئے۔
جب حضرت سلطان باہوؒ ’’دامن چول‘‘ کے ریتیلے میدان میں آرام فرما رہے تھے تو سلطان حمیدؒ کو خیال گزرا۔ ’’کاش! میرے پاس بھی مال و زر ہوتا تو میں بھی اپنے مرشد اور ہادی کے لیے اطلس اور مخمل کا بستر بنواتا چونکہ میں مفلس و نادار ہوں، اس لیے میری وجہ سے حضرت شیخؒ کا جسم مبارک خاک آلود ہورہا ہے۔‘‘
ابھی سلطان حمیدؒ دل ہی دل میں اپنی غربت اور محرومی پر اظہارِ افسوس کر رہے تھے کہ حضرت سلطان باہوؒ نے اپنے مرید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’حمید! اپنی آنکھیں بند کرلو، پھر جو کچھ تمہیں نظر آئے، مجھے بتائو۔‘‘
سلطان حمیدؒ نے پیر و مرشد کے حکم کے مطابق جیسے ہی آنکھیں بند کیں، رنگ و نور کی ایک عجیب محفل نظر آئی۔ سلطان حمیدؒ بہ نفس نفیس اس محفل میں موجود تھے اور سامان آرائش کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
اچانک محفل کا صدر دروازہ کھلا اور ایک نہایت حسین و جمیل عورت نمودار ہوئی۔ وہ عورت سر سے پائوں تک جڑائو زیور سے آراستہ تھی۔ مختلف اقسام کے ہیروں کی چمک دمک نے عورت کے ظاہری حسن میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ عورت بڑے ناز و ادا کے ساتھ سلطان حمیدؒ کی طرف بڑھی اور قریب پہنچ کر والہانہ انداز میں کہنے لگی۔ ’’اس دنیا میں بے شمار مرد ہیں جو میری طلب رکھتے ہیں مگر میں تمہاری طلب رکھتی ہوں، اس لیے خود چل کر تمہارے پاس آئی ہوں۔ تم مجھ سے نکاح کرلو۔‘‘
عورت کی زبان سے دل بستگی کی باتیں سن کر سلطان حمیدؒ گھبرا گئے اور دبی زبان میں کہنے لگے۔ ’’دور ہوجا میری نظروں کے سامنے سے، دور ہوجا۔‘‘
’’میں دنیا والوں کو ٹھکراتی ہوں اور تم مجھے ٹھکرا رہے ہو؟‘‘

عورت نے بڑے تعجب سے کہا۔
’’چلی جا! یہاں سے چلی جا!‘‘ سلطان حمیدؒ بہت زیادہ پریشان نظر آنے لگے تھے۔ ’’یہ انتہائی ادب کا مقام ہے۔ میں اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوں۔ یہاں سے دور ہوجا! دور ہوجا۔‘‘
ابھی سلطان حمیدؒ کے اس خوبصورت عورت سے یہ مکالمات جاری تھے کہ حضرت سلطان باہوؒ نے اپنے مرید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’بس حمید! آنکھیں کھول دو۔‘‘
پھر جیسے ہی حضرت شیخؒ کے حکم پر سلطان حمیدؒ نے آنکھیں کھولیں، وہ دلکش محفل اور وہ ہوشربا عورت غائب تھی۔
’’حمید! ابھی تم کہاں تھے اور تم نے کیا دیکھا؟‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے اپنے مرید سے پوچھا۔
سلطان حمیدؒ نے سر جھکائے ہوئے تمام واقعہ سنا دیا۔
حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’حمید! تم کچھ دیر پہلے مال و دنیا نہ ہونے کی دل ہی دل میں شکایت کررہے تھے اور اپنی اس محرومی پر اظہارِ افسوس بھی کیا تھا۔‘‘
’’سیّدی درست فرماتے ہیں۔‘‘ سلطان حمیدؒ کی گردن کچھ اور جھک گئی۔
’’ابھی تم نے جو کچھ دیکھا، وہ دنیا ہی تو تھی جو اپنے پیروں سے چل کر تمہارے پاس آئی تھی۔‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’پھر تم نے دنیا کو قبول کیوں نہیں کیا؟ اگر قبول کرلیتے تو تمہارا گھر بھی مال و زر سے بھر جاتا۔‘‘
سلطان حمیدؒ نے عرض کیا۔ ’’سیّدی! میں اللہ تعالیٰ سے اس کی ذات کا نور چاہتا ہوں تاکہ میری روح، دل اور دماغ روشن ہوجائیں۔ میں مال و دولت کی خواہش نہیں رکھتا، اسی لیے میں نے عورت کی پیشکش قبول نہیں کی۔‘‘
’’تو پھر اللہ تعالیٰ کی بخشش وعطا پر راضی ہوجائو۔‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’فقر محمدیؐ کا اثر تمہارے خاندان سے نہیں جائے گا۔‘‘
پھر ایسا ہی ہوا۔ حضرت شیخ سلطان حمیدؒ نے اپنی پوری زندگی فقر و قناعت میں بسر کی۔ آپ کے بعد آپ کی اولاد اور نسل پر بھی فقر و قناعت ہی کا رنگ غالب رہا۔
٭…٭…٭
ایک بار حضرت سلطان باہوؒ شہر بھکر تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں ایک صاحبِ کشف بزرگ حضرت شیر شاہؒ سکونت پذیر تھے۔ حضرت شیر شاہؒ کے مرید اور خلیفہ شیخ سلطان طیبؒ تھے جو اولاد نرینہ سے محروم تھے۔ شیخ طیبؒ نے اپنے مرشد حضرت شیرشاہؒ سے بھی اس سلسلے میں کئی بار دعا کرائی تھی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا پھر جب شیخ سلطان طیبؒ نے حضرت سلطان باہوؒ کی آمد کی خبر سنی تو آپ خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر دعا کے طالب ہوئے۔
اس وقت حضرت سلطان باہوؒ کے پاس دو سیب رکھے ہوئے تھے۔ شیخ سلطان طیبؒ کی درخواست سن کر حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’یہ دونوں سیب لے جاکر اپنی بیوی کو کھانے کیلئے دے دو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دو فرزند عطا کرے گا۔ ان فرزندوں میں سے ایک تمہارے لیے ہوگا اور دوسرا ہمارے لیے۔‘‘
’’شیخ! میں ان دونوں فرزندوں میں تفریق کیسے کروں گا؟‘‘ سلطان طیبؒ نے عرض کیا۔
’’یہ تمہارا کام نہیں ہے۔‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’جو فرزند ہمارے کام کا ہوگا، وہ اپنی نشانی لے کر پیدا ہوگا۔‘‘
شیخ سلطان طیبؒ دونوں سیب لے کر خوشی خوشی چلے گئے۔ ان سیبوں میں سے ایک سیب کچھ داغدار تھا جسے کسی پرندے نے کھا لیا تھا۔
الغرض شیخ سلطان طیبؒ کے دو فرزند پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک کا نام سلطان عبد رکھا اور دوسرے کا نام سلطان سوہارا۔ سلطان عبد پیدائشی مجذوب تھے۔ حضرت سلطان باہوؒ نے اسی نشانی کی طرف اشارہ کیا تھا۔
٭…٭…٭
’’مناقب سلطانی‘‘ کی روایت کے مطابق حضرت سلطان باہوؒ ذات باری پر توکل فرماتے تھے۔ آپ نے زندگی بھر روزی کمانے کے لیے کوئی دنیاوی شغل اختیار نہیں کیا۔ مغل شہنشاہ شاہجہاں کی طرف سے آپ کے والد محترم سلطان بازیدؒ کو ایک وسیع جاگیر عطا ہوئی تھی۔ یہ جاگیر پچاس ہزار بیگھے زمین اور اینٹوں کے ایک قلعے پر مشتمل تھی جس میں کئی کنویں موجود تھے۔ ایک تو وسیع جاگیر کی موجودگی، دوسرے بچپن سے غلبہ عشق الٰہی… یہی وہ عوامل تھے جن کے باعث حضرت سلطان باہوؒ فکردنیا سے آزاد رہے۔ پھر بھی آپ کی حیات مبارکہ میں دو مواقع ایسے نظر آتے ہیں جب آپ نے کاروبارہستی میں حصہ لینے کی کوشش کی تھی

حضرت سلطان باہوؒ نے دو بار کھیتی باڑی کی غرض سے بیلوں کی جوڑی خریدی۔ پھر خود ہی زمین جوتی مگر جب فصل پکنے کے قریب آئی تو آپ بیلوں کو چھوڑ کر سیر و سیاحت کے لیے کسی طرف نکل گئے۔
جب عزیز و اقارب اور دوستوں میں سے کوئی شخص حضرت سلطان باہوؒ سے اس بے نیازی اور بے رغبتی کی وجہ دریافت کرتا تو آپ نہایت آسودگی اور سرشاری کے لہجے میں فرماتے۔ ’’فاقے کی رات فقیر کے لیے معراج کی رات ہوتی ہے۔‘‘
ایک اور موقع پر حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا؎
اندروں از طعام خالی دار
تادرآں نور معرفت بینی
’’تو اپنا شکم غذا سے خالی رکھ تاکہ اس میں معرفت کا نور دیکھ سکے۔‘‘ ترجمہ)
یہ اسی زمانے کا واقعہ ہے جب حضرت سلطان باہوؒ کھیتی باڑی میں مصروف تھے۔ پنجاب کے کسی دوردراز علاقے میں ایک خاندانی شخص رہا کرتا تھا جس کی کئی بیٹیاں تھیں جو شادی کے قابل ہوگئی تھیں۔ وہ شخص اپنے گھرانے کا بھرم رکھنے کے لیے اجلا لباس پہنتا تھا جسے دیکھ کر اہل محلہ سمجھتے تھے کہ وہ مالی طور پر آسودہ حال ہے۔ اس شخص کی اسی ظاہری حالت سے متاثر ہوکر اچھے خاندان کے لوگوں نے اس کی بیٹیوں کے لیے رشتے بھیجے تھے مگر وہ اندرونی طور پر اس قابل نہیں تھا کہ بیٹیوں کی شادی کا انتظام کرسکے۔
آخر ایک دن وہ اپنے مسائل سے پریشان ہوکر کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ’’شیخ! میرا تعلق سادات کے خاندان سے ہے۔ میں نے بہت اچھا وقت گزارہ ہے مگر اب سفید پوشی کے سوا کچھ باقی نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک مالدار شخص ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ میں اپنی زندگی تو گزار چکا مگر بیٹیوں کا بوجھ برداشت نہیں ہوتا۔ قرض خواہ ہر وقت دروازے پر کھڑے رہتے ہیں۔ اب آپ ہی میرے حق میں دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان مشکلات سے نجات دے دے۔‘‘
بزرگ کچھ دیر تک سیّد زادے کی حالت زار پر غور کرتے رہے تھے۔ پھر معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگے۔ ’’تمہیں جو بیماری لاحق ہے، اس کی دوا میرے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’میں تو دعا کے لیے درخواست کررہا ہوں۔‘‘ سیّد زادے نے اداس لہجے میں عرض کیا۔
’’اب دعا ہی تمہاری دوا ہے… اور میری دعا میں اتنی تاثیر نہیں ہے کہ وہ تمہارے سر اور گھر سے گردش وقت کو ٹال دے۔‘‘ بزرگ نے صاف صاف کہہ دیا۔
’’میں نے تو لوگوں سے آپ کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔‘‘ بزرگ کا انکار سن کر وہ کچھ اور دل شکستہ نظر آنے لگے۔
’’وہ لوگوں کا حسن ظن ہے مگر میں تمہیں حقیقت بتا رہا ہوں۔‘‘ بزرگ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’’مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ زمین اللہ کے مستجاب الدعوات بندوں سے خالی ہے۔ میں تمہیں ایک ایسے شخص کا پتا دیتا ہوں جس کی زبان میں بہت تاثیر ہے۔ وہ مردحق دریائے چناب کے کنارے قصبہ شورکوٹ میں رہتا ہے۔ اس کے آستانے پر حاضری دو، اللہ تمہاری مشکل آسان کرے گا۔‘‘
اُن کے چہرے سے کچھ دیر کے لیے رنج و الم کا غبار دھل گیا اور وہ تیز آندھیوں میں امید کا چراغ جلائے ہوئے شورکوٹ پہنچے۔
اس وقت حضرت سلطان باہوؒ بہت معمولی لباس پہنے اپنی زمین پر ہل چلا رہے تھے۔ اگر کوئی اجنبی شخص حضرت شیخؒ کو اس حالت میں دیکھتا تو یہی رائے قائم کرتا کہ ہل چلانے والا کوئی مفلس کسان ہے۔ سیّد صاحب نے بھی حضرت سلطان باہوؒ کے بارے میں یہی سوچا اور دل ہی دل میں افسوس کرنے لگے۔ ’’میرا سفر رائیگاں گیا۔ جو شخص خود اتنا پریشان حال ہو، وہ کسی دوسرے کی کیا مدد کرسکتا ہے؟‘‘ یہ خیال کرکے سیّد صاحب واپس جانے کے لیے مڑے۔
ابھی سیّد صاحب ایک ہی قدم آگے بڑھے ہوں گے کہ حضرت سلطان باہوؒ کی صدائے دل نواز سنائی دی۔ ’’سیّد! اتنا طویل سفر اختیار کیا اور موسم کی سختیاں برداشت کیں، پھر بھی ہم سے ملاقات کئے بغیر واپس جارہے ہو؟‘‘
اپنا نام سن کر سیّد صاحب حیرت زدہ رہ گئے۔ فوراً گھوڑے کی پشت سے اترے۔ بڑی عقیدت کے ساتھ حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں سلام پیش کیا اور سفر کی وجہ بیان کرنے لگے۔
حضرت سلطان باہوؒ نے بہت غور سے سیّد صاحب کی درخواست سنی۔ پھر نہایت شیریں لہجے میں فرمانے لگے۔ ’’سیّد! تم میرا کام کردو، میں تمہارا کام کئے دیتا ہوں، اس لیے کہ کام کا بدلہ کام ہے۔‘‘
سیّد صاحب نے بڑی حیرت سے حضرت سلطان باہوؒ کی طرف دیکھا۔ ’’شیخ! ایک سوالی آپ کے کیا کام آسکتا ہے؟‘‘
’’میں اپنے ایک ضروری کام سے فارغ ہوکر ابھی آتا ہوں، جب تک تم میرا ہل چلائو۔ بس یہی کام ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر حضرت سلطان باہوؒ تشریف لے گئے۔
اس دوران سیّد صاحب ہل چلاتے رہے۔ حضرت سلطان باہوؒ کی قوت کشف دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے۔
تھوڑی دیر بعد حضرت سلطان باہوؒ واپس آئے اور اپنے سامنے پڑا ہوا مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا کر زمین پر مار دیا۔ سیّد صاحب نے حضرت سلطان باہوؒ کے اس عمل کو بڑی حیرت سے دیکھا مگر دوسرے ہی لمحے ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ اردگرد کے سارے ڈھیلے سونا بن گئے تھے۔
’’سیّد! اپنی ضرورت کے مطابق سونا اٹھا لو۔‘‘ حضرت سلطان باہوؒ نے بے نیازانہ فرمایا۔
سیّد صاحب نے سونا اٹھا لیا۔ پھر حضرت سلطان باہوؒ کے دست مبارک کو بوسہ دیتے ہوئے بڑی وارفتگی کے عالم میں یہ شعر پڑھا:
نظر جنہاں دی کیمیا، سونا کردے وٹ
قوم اتے موقوف نہیں، کیا سیّد کیا جٹ
(جن لوگوں کی نگاہ کیمیا اثر ہے، وہ ایک ہی نظر سے مٹی کو سونا بنا دیتے ہیں۔ یہ ذات الٰہی کا فیض ہے جو کسی قوم پر موقوف نہیں۔ خواہ وہ سیّد ہو یا جٹ۔)
٭…٭…٭


آخر میں ہم اس واقعے کا ذکر کریں گے جس کا تعلق مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرؒ سے ہے۔ ’’مناقب سلطانی‘‘ کی روایت کے مطابق حضرت سیّد عبدالرحمن قادریؒ سے بیعت ہونے کے بعد حضرت سلطان باہوؒ نے دولت روحانی کو عام لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔
اتفاق سے اس روز جمعہ تھا۔ حضرت سلطان باہوؒ جامع مسجد دہلی میں نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہوئے تو شہنشاہ جہانگیرؒ بھی اپنے ارکان دولت کے ساتھ وہاں موجود تھا۔
جامع مسجد میں نمازیوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ کہیں بھی تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ حضرت سلطان باہوؒ سب سے آخر میں اس مقام پر کھڑے ہوگئے جہاں لوگ اپنی جوتیاں رکھتے تھے۔
نماز ختم ہوئی تو حضرت سطان باہوؒ نے حاضرین پر خصوصی توجہ کی تو مسجد میں ایک شور سا مچ گیا اور تمام نمازیوں پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی مگر تین آدمی یعنی اورنگزیب بادشاہ، قاضی شہر اور کوتوال جذبے کی تاثیر اور نگاہ کے اثر سے غیرمؤثر اور محجوب رہے۔
پھر تینوں حضرت سلطان باہوؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دست بستہ عرض کرنے لگے۔ ’’اے ولی اللہ! ہمارا کیا گناہ ہے کہ ہمیں اس نعمت سے محروم رکھا اور ہم پر توجہ نہ دی؟‘‘
شہنشاہ عالمگیرؒ کی اس درخواست کے جواب میں حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’ہم نے تو توجہ یکساں کی تھی۔ تم پر اس لیے اثر نہیں ہوا کہ تمہارے دل سخت تھے۔‘‘
ان تینوں نے پھر دست بستہ ہوکر فیض کے لیے التجا کی تو حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا۔ ’’اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تم اور تمہاری اولادیں، ہماری اولاد اور پسماندوں کے لیے دنیاوی احوال کی فکر نہ کریں اور ہمارے مکان پر نہ آئیں تاکہ تمہارے دنیاوی احوال کے سبب ہماری اولاد میں دنیاوی جھگڑے نہ پڑجائیں۔‘‘
جب شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے اقرار کیا کہ وہ ایسا کرے گا تو حضرت سلطان باہوؒ نے مغل حکمراں پر توجہ کی اور اسے خاص فیض تک پہنچایا۔ پھر جب آپؒ نے دہلی سے رخصت ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تو اورنگزیب عالمگیرؒ نے کسی یادگار کے لیے درخواست کی۔
جواب میں حضرت سلطان باہوؒ نے وہیں کھڑے کھڑے کتاب ’’اورنگزیب شاہی‘‘ تالیف فرمائی جسے شاہی محرروں نے اسی وقت لکھ لیا اور اس ارشاد نامے کو بطور یادگار رکھا۔ پھر آپؒ اسی وقت لوٹ آئے۔
(یہاں بھی کھڑے کھڑے لکھنے سے مراد وہی ہے کہ حضرت سلطان باہوؒ نے مختصر سے عرصے میں ایک ضخیم کتاب تحریر کرائی)۔
بعض محققین کا دعویٰ ہے کہ شہزادہ دارا شکوہ کے حوالے سے سلسلۂ قادریہ اورنگزیب عالمگیرؒ کے تشدد کا نشانہ بنا ہوا تھا چونکہ حضرت سلطان باہوؒ بھی سلسلۂ قادریہ سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے دارالحکومت میں آپ کی موجودگی کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
’’مناقب سلطانی‘‘ کی روایت کے مطابق ڈاکٹر لاجونتی رام کرشن لکھتی ہیں کہ اورنگزیب، حضرت سلطان باہوؒ کے بارے میں اپنے مخبروں سے اطلاعات منگواتا رہتا تھا۔
’’پنجاب کے صوفی دانشور‘‘ کے مصنف قاضی جاوید کے بقول دوسری روایتوں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔
ہماری نظر میں یہ ساری روایتیں غیر معتبر ہیں اور عالمگیرؒ جیسے بزرگ حکمراں پر کھلی تہمت ہے۔ اورنگزیب اور دارا شکوہ کے درمیان محض اقتدار کی جنگ تھی۔ عالمگیرؒ خود بھی ایک صاحب دل صوفی تھے۔
مغل فرمانروا کو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے صاحبزادے اور خلیفہ حضرت خواجہ معصومؒ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خزانۂ شاہی کو رعایا کی ملکیت سمجھنے والا، قرآن کریم لکھ کر اور ٹوپیاں سی کر روزی حاصل کرنے والا پابند شریعت اور متقی حکمراں صرف اپنے بھائی دارا شکوہ کی وجہ سے سلسلۂ قادریہ کے تمام بزرگوں پر ستم ڈھاتا، یہ محض بہتان طرازی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ عالمگیرؒ کی محرومی یہ ہے کہ انہیں صرف ہندوئوں اور انگریزوں نے ہی بدنام نہیں کیا بلکہ اپنی تنگ نظری اور دنیاداری کے سبب مسلمان مؤرخین اور دانشوروں نے بھی بے جا تنقید کا ہدف بنایا۔
’’مناقب سلطانی‘‘ کے مصنف کا یہ تحریر کرنا کہ عالمگیرؒ کا دل سخت تھا، اس لیے ان پر پہلی بار حضرت سلطان باہوؒ کی توجہ کا اثر نہیں ہوا۔ پھر جب مغل شہنشاہ نے دست بستہ درخواست کی تو حضرت سلطان باہوؒ نے انہیں فیض روحانی سے سرفراز کیا۔
ہمارے نزدیک اس روایت پر عقیدت کا شدید غلبہ ہے ورنہ تاریخی حقیقت کچھ اور ہے۔ حضرت شیخ سلطان حامدؒ نے جوش جذبات میں عالمگیرؒ کو روحانیت سے بے بہرہ ایک سنگدل انسان ثابت کردیا مگر یہ نہیں دیکھا کہ خود حضرت سلطان باہوؒ، اورنگزیب عالمگیرؒ کے بارے میں کیا تحریر کرتے ہیں۔
’’کلید التوحید‘‘ حضرت سلطان باہوؒ کی مشہور تصنیف ہے۔ اس کے آغاز میں حضرت شیخؒ فرماتے ہیں۔ ’’حمد و نعت کے بعد جاننا چاہیے کہ

باہو، ولد بازید عرف اعوان ساکن قلعہ شورکوٹ کو محی الدین، تابع علم الیقین، شرع شریف، راسخ الدین شاہ اورنگزیب بادشاہ اسلام کے زمانے میں دیگر رسالوں کے علاوہ اس رسالے کے لکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔
محی الدین، اورنگزیبؒ کا خاندانی نام تھا۔ حضرت سلطان باہوؒ نے عالمگیرؒ کو بادشاہ ہند کے بجائے ’’بادشاہ اسلام‘‘ قرار دیا۔
اسی کتاب ’’کلید التوحید‘‘ میں ایک اور مقام پر حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں:
برگزیدہ از عباد اللہ الہ
شاہ اورنگ زیب غازی بادشاہ
(اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ مقبول بندوں میں سے سلطان اورنگزیب غازی بادشاہ ہے۔ ترجمہ)
جب حضرت سلطان باہوؒ جیسے عظیم المرتبت صوفی ان الفاظ میں عالمگیرؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں تو حرص و ہوس کے اسیر اور دانشوران بے ضمیر کی تحریر کردہ روایتوں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔
63؍سال تک کار مسیحائی انجام دینے کے بعد حضرت سلطان باہوؒ 1629ء میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ کو دریائے چناب کے کنارے موضع ’’قہرگان‘‘ کے قلعے میں سپردخاک کیا گیا۔
77؍سال بعد یعنی 1180ھ میں دریائے چناب شدید طغیانی کی لپیٹ میں آگیا جس کے باعث آپ کے مزار مبارک کے غرق ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوا۔ نتیجتاً حضرت سلطان باہوؒ کے جسد مبارک کو بستی سمندری کے قریب منتقل کردیا گیا۔ اس قدر طویل مدت گزر جانے کے بعد بھی آپ کا کفن تک میلا نہیں ہوا تھا۔
پھر 157سال بعد دریائے چناب میں دوبارہ خوفناک سیلاب آیا، یہاں تک کہ پانی کی سرکش لہریں مزار مبارک کو چھونے لگی تھیں۔ ایک بار پھر آپ کے جسم مبارک کو منتقل کرکے گڑھ مہاراجہ (ضلع جھنگ) میں آسودئہ خاک کیا گیا۔ اس وقت بھی آپ کا کفن صحیح و سالم تھا۔
حضرت سلطان باہوؒ کی قبر مبارک کی منتقلی میں قدرت کی بڑی عجیب نشانیاں ہیں، اگر لوگ سمجھنے کی کوشش کریں۔
’’پنجاب کے صوفی دانشور‘‘ میں میرقاضی جاوید تحریر کرتے ہیں کہ حضرت سلطان باہوؒ کی موجودہ شہرت کا انحصار ان کی پنجابی شاعری پر ہے۔ اسی نے انہیں حیات جادواں عطا کی ہے۔ یہ ایک ادیب، مؤرخ اور تنقید نگار کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ حضرت سلطان باہوؒ کیوں زندہ ہیں اور تین سو سال گزر جانے کے بعد بھی بے شمار انسانوں کے دلوں میں کیوں دھڑکتے ہیں:
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است برجریدیۂ عالم دوام ما
(ختم شد)

Latest Posts

Related POSTS