Surat Say Ache Seerat Bhali | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2904
ہم دو بہنیں تھیں۔ میں اپنی بہن سے بہت زیادہ خوبصورت تھی۔ لوگ میرے حسن کی تعریف کرتے تو پھولے نہ سماتی۔ سچ کیوں نہ کہوں کہ لاکھوں میں ایک تھی۔ چندے آفتاب چندے ماہتاب…! مجھے فخر تھا کہ مجھ سا سارے زمانے میں کوئی اور نہیں ہے۔ اس گمان نے مجھے مغرور بنا دیا۔ بچپن میں ہم بہنیں ساتھ کھیلتی تھیں۔ ایک دوسرے سے بہت پیار تھا۔ جب ذرا عقل آئی تو اپنی ذات کا احساس ہوا لوگوں نے صورت کی تعریفیں کیں تو دماغ خراب ہوگیا۔ چھوٹی بہن کو بھی خاطر میں نہ لاتی، اسے کلو پری اور چڑیل کہہ کر مخاطب کرتی۔ اس پر عظمت دل مسوس کر رہ جاتی۔
عظمت مجھ سے بہت محبت کرتی تھی لیکن میں نے اپنی خوبصورتی کے گھمنڈ میں ہمیشہ اس کی اتنی توہین کی کہ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مجھ سے دور رہنے لگی۔ امی سمجھاتی تھیں۔ عفت! خدا کے لیے آسمان سے اترو، زمین پر رہو ورنہ ایک دن ایسی گرو گی کہ فنا ہوجائو گی۔ چھوٹی بہن تم سے پیار کرتی ہے۔ کیوں اس سے ایسا حقارت آمیز رویہ رکھتی ہو۔ کیا ہوتا جارہا ہے تمہیں۔ خود نہیں معلوم تھا مجھے کیا ہوتا جارہا ہے۔ بس اپنی ذات کے نشے میں ہمہ وقت گم رہنے لگی تھی۔ ابا بیچارے سفید پوش تھے۔ بڑی محنت سے کما کر لاتے تو ہم دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کر کھاتے تھے۔ ماں سادہ لوح اور کفایت شعار تھیں۔ انہوں نے کبھی غرور نہ کیا۔ ہماری ہمیشہ اچھی تربیت کی سعی کی لیکن جب کسی کی کم بختی آتی ہے وہ پھر کسی کے سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتا۔ میں جب اسکول جاتی، لڑکے پیچھے آتے اور کہتے وہ دیکھو حور جارہی ہے۔
ان دنوں میں آٹھویں میں تھی۔ مجھے اپنے گھر کے حالات کا بالکل احساس نہ تھا۔ امیر لڑکیاں ساتھ پڑھتیں۔ ان سے دوستی کے شوق میں ماں سے آئے دن نت نئے لباس اور جیولری کی فرمائشیں کرتی رہتی۔ والدہ مطالبات پورے نہ کرسکتیں تو لڑتی جھگڑتی اور ان کا سکون برباد کر ڈالتی۔ مجھے پڑھنے کا شوق نہ تھا لیکن نت نئے فیشن اور لباس کی بہت چاہ تھی جس سے والدہ لڑکیوں کی تعلیم سے بدظن ہوگئیں۔ ایک مشکل یہ تھی جب اسکول میں کوئی فنکشن ہوتا، مجھے ڈرامے میں مرکزی کردار دیا جاتا۔ کبھی ’’شہزادی‘‘ کا رول تو کبھی ملکہ کا… تب ویسا لباس بھی بنوانا ہوتا جبکہ امی جان کی وسعت سے باہر تھیں ایسی فضول خرچیاں۔
اس بار جب ایک فنکشن میں مجھے شہزادی کا رول ملا تو میں نے امی سے کہا کہ مجھے خوبصورت لباس بنوا کر دیں۔ وہ بولیں کہ میری شادی کے دن کی خوبصورت کامدانی ساڑھی رکھی ہے، اس کو کٹوا کر تمہاری مرضی کا لباس بنوا دیتی ہوں لیکن میں اڑ گئی کہ نہیں مجھے نیا لباس چاہئے۔ اس پر والدہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ انہوں نے سختی سے کہا کہ ڈرامے میں حصہ لینے سے انکار کردو ورنہ میں تمہیں اسکول سے نکال لیتی ہوں۔
جب ضد پر اڑ گئی تو انہوں نے والد سے میری شکایت کردی۔ انہوں نے ہم دونوں بہنوں کو ایک ساتھ اسکول سے اٹھا لیا کیونکہ وہ اکیلی عظمت کو اسکول نہیں بھیج سکتے تھے۔ اس وقت تو بالکل احساس نہ ہوا کہ میری ضد کی وجہ سے چھوٹی بہن کا بھی مستقبل تاریک ہورہا ہے۔ جب اسکول نہ گئی تو ازخود نام کٹ گیا اور ہم دونوں بہنیں گھر بیٹھ گئیں حالانکہ عظمت کو پڑھائی کا بہت شوق تھا مگر وہ میری وجہ سے تعلیم سے محروم ہوگئی۔
عظمت کو اسکول نہ جانے کا غم تھا مگر میں ویسی ہی ہشاش بشاش تھی۔ صبح تڑکے بیدار ہونا، تیار ہوکر اسکول جانا برا لگتا تھا۔ نیند ٹوٹتی تو برا حال ہوتا۔ سونا چاہتی تو ماں بار بار جھنجھوڑ کر جگاتیں تب سوچتی کیا مصیبت ہے، سونے نہیں دیتی ہیں۔ آخر کیا ملے گا پڑھ کر مجھے۔ کاش کہ امی مجھے زبردستی پڑھنے نہ بھیجا کریں۔ صبح تک سوئے رہنے کے کارن اسکول کی بلاوجہ چھٹیاں کیا کرتی اور عظمت میرے لیے پریشان ہوتی کیونکہ میں چھٹی کرتی تو اسے بھی لازماً کرنا پڑتی۔
ہم دونوں آٹھویں میں ساتھ پڑھتی تھیں۔ بڑی ہونے کے باوجود میں ایک سال پیچھے چل رہی تھی کیونکہ ایک بار فیل ہوچکی تھی۔ ایک روز پھوپی ہمارے گھر آئیں۔ جب ان کو پتا چلا کہ ہم نے پڑھائی چھوڑ دی ہے تو وہ امی پر خفا ہوئیں کہ کیوں ان کو اسکول سے اٹھا لیا۔ امی نے میرے کرتوت ان کو نہ بتائے اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ پڑھ کر انہوں نے کون سا تیر مار لینا ہے۔ اسکول گھر سے کافی دور ہے، آوارہ لڑکے پیچھے لگ جاتے ہیں تبھی تمہارے بھائی نے منع کردیا کہ یہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔
ہاں صحیح کہتی ہو۔ ہماری عفت ہے بھی اتنی خوبصورت ضرور لڑکے پیچھے لگتے ہوں گے۔ خوبصورت بچیوں کی تو کچھ زیادہ ہی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ سچ مچ زمانہ خراب ہے۔ وہ اپنی گلی کی ایک دو لڑکیوں کے قصے سنا کر چلی گئیں کہ جن کو سن کر اماں کو اور ہول اٹھنے لگے۔ انہیں لگا کہ انہوں نے ہمیں اسکول سے اٹھا کر بہت صحیح فیصلہ کیا ہے۔ سولہ سال کی تھی کہ میرے لیے رشتے آنے شروع ہوگئے۔ ہم غریب ضرور تھے لیکن حسن کی دولت بھی ایک قیمت رکھتی ہے۔ بے شک غریب کی بیٹی کے لیے اچھے گھروں سے رشتوں کا آنا محال ہوتا ہے۔ یہ میرا حسن بے مثال ہی تھا کہ اتنے اچھے رشتے آرہے تھے۔
جب عورتیں دیکھنے آتیں، امی سے اصرار کرتیں کہ عفت کا رشتہ لینا ہے۔ انکار نہ کرو جیسا کہو گی ہر شرط مانیں گے۔ تب اور زیادہ مجھے اپنی قدر و قیمت کا مان ہوتا۔ آہ! کتنی ناسمجھ تھی میں، جانتی نہ تھی کہ صورت ہی سب کچھ نہیں ہوتی اور ظاہری حسن وقتی ہوتا ہے۔ انسان کی اصل قدر اس کی دیگر خوبیوں سے ہوتی ہے۔ اب میں اور زیادہ بن سنور کر رہنے لگی۔ ہر وقت خود کو آئینے میں دیکھتی تو نشہ سا چھا جاتا۔ اس طرح میں خودپرستی کے مرض میں مبتلا ہوگئی۔ اپنی چھوٹی معصوم بہن کے احساسات کا پاس نہ رہا۔ اسے بہن نہیں نوکرانی سمجھنے لگی کہ وہ بے چاری معمولی صورت کی تھی۔
عظمت معمولی صورت کی ضرور تھی مگر سمجھدار بہت تھی۔ میں اسے ستاتی وہ خاموش رہتی۔ میرے منہ لگنے کی بجائے گھر کے کام کرتی رہتی۔ وہ ماں کی مددگار تھی۔ کوشش کرتی زیادہ سے زیادہ اماں کی دعائیں لے۔ تبھی والدہ بھی اسے ہر وقت دعا دیتی تھیں
کہ وہ ان کے سکھ کا باعث تھی۔ میں زیادہ وقت لیٹی رہتی۔ رسالے پڑھتی، اپنے سارے کام چھوٹی سے کرواتی۔ ماں کچھ کہتیں تو شور مچا دیتی۔ اس خیال سے کہ پڑوسی نہ سنیں، وہ خاموش ہوجاتیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ کر عافیت محسوس کرتیں۔
میں اپنے کپڑے عظمت سے دھلواتی اور کہتی کہ اب استری بھی کرو۔ کبھی کبھی وہ بول پڑتی کیوں کروں تمہارے سارے کام، کیا تم نواب زادی ہو، میں بڑی بہن ہونے کا رعب جھاڑتی۔ وہ حکم نہ مانتی تو اس کے نئے کپڑے کاٹ کر رکھ دیتی۔ اس کی جوتیاں گم کردیتی۔ وہ خوف زدہ ہوجاتی۔ والدہ مجھے برا بھلا کہتیں۔ کبھی صبر کے گھونٹ پی لیتیں۔ بس اتنا ہی کہتیں۔ عفت! دیکھ لینا تیرا یہ غرور تیرے سامنے آئے گا۔ کہیں یہ تجھے خاک میں نہ ملا دے۔
اب والدہ میری شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن غیروں میں نہیں۔ اسی لیے اچھے رشتے قبول نہ کئے۔ وہ کہتی تھیں تو نے نباہ کرنا نہیں ہے، اپنے پھر نباہ دیں گے۔ غیروں میں گئی تو خود بھی خانہ خراب ہوگی اور ہم کو بھی برباد کردے گی۔ وہ سچ کہتی تھیں۔ مجھ جیسی کم شعور لڑکیوں کا بالآخر انجام اچھا نہیں ہوتا۔ انہیں اندازہ تھا تبھی اپنوں سے آس لگائی ہوئی تھی۔ خاندان میں میرے جوڑ کے ایک دو رشتے تھے لیکن ان کو اندازہ ہوچکا تھا کہ لاکھ اچھی صورت سہی مگر میں کچھ زیادہ باسیرت نہیں ہوں۔
ایک دن امی کی ایک خالہ زاد بہن عارفہ ہمارے گھر آئیں۔ یہ لوگ پہلے دبئی میں رہتے تھے، کافی امیر تھے۔ جب مدت بعد خالہ پاکستان آئیں تو بیٹے کے لیے لڑکی تلاش کرنے نکلیں۔ دوچار سے تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خوبصورت بہو چاہئے تو سلیمہ کے گھر جائو، اس کی بڑی لڑکی بہت خوبصورت ہے۔ خالہ عارفہ کی ایک ہی آرزو تھی۔ ان کی بہو خوبصورت ہو، لاکھوں میں ایک ہو۔ وہ جب آئیں، میں سامنے کھڑی تھی۔ اتفاق سے اس روز نہادھو کر اپنا سب سے خوبصورت جوڑا زیب تن کر رکھا تھا کیونکہ شام کو پڑوس میں جانا تھا۔ میری سہیلی فرزانہ کی سالگرہ تھی۔
دیکھتے ہی عارفہ خالہ مجھ پر لٹو ہوگئیں اور اماں کے گھٹنے پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ آپا تیری بیٹی کا رشتہ لے کر جائوں گی۔ مجھے نہ، مت کرنا۔ بڑی آس لے کر آئی ہوں۔ سارے خاندان والوں کے منہ سے عفت بٹیا کی تعریف سنی ہے۔ میں نے اسے بچپن میں دیکھا تھا، اب تو ایسا رنگ روپ نکالا ہے کہ حوریں بھی رشک کریں۔
ہاں بہن… اللہ نصیب اچھا کرے۔ شکل و صورت کے ساتھ اچھے نصیب بھی ہوں تب ہی سکھ ملتا ہے۔ میں اس کے والد سے مشورہ کرلوں تو جواب دوں گی۔ خالہ عارفہ قسمیں دے کر ٹلیں کہ ’’ہاں‘‘ کے سوا کوئی اور جواب نہ سنوں گی۔ امی نے والد سے بات کی۔ دور کا رشتہ سہی پر ہیں تو یہ رشتے دار، لڑکا بیرون ملک تجارت کی غرض سے جاتا رہتا ہے۔ بہت مالدار ہیں لیکن اچھے لوگ ہیں۔ تمہاری کیا رائے ہے۔ تمہارے میکے والے ہیں بھئی! تم جانو… میں نہیں جانتا ان لوگوں کو، اگر تم مطمئن ہو تو ہاں کہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ امی نے کچھ سوچ بچار کے بعد جہانزیب کے لیے عارفہ خالہ کو ہاں کردی اور مٹھائی بٹ گئی۔
جہانزیب اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ یہ چاروں بھائی کما رہے تھے اور ان کے والد کی ورکشاپ دبئی میں خوب چلتی تھی۔ اتنی دولت کے باوجود یہ لوگ میرا رشتہ بڑی منت سماجت سے لے رہے تھے اور سبھی خاندان والے کہہ رہے تھے یہ عفت کی خوش قسمتی ہے۔ رشتہ طے ہوگیا لیکن میرے والدین ایک بات سے پریشان تھے کہ وہ اتنے بڑے گھر میں بیٹی کو کیسے خالی ہاتھ رخصت کریں۔ امی نے پھوپی اور چچائوں سے بات کی۔ انہوں نے کہا۔ اس کی فکر مت کرو، ہم سب مل کر مدد کریں گے۔ ان شاء اللہ تمہاری بیٹی کو کسی شے کی کمی نہ ہوگی، یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوگی۔ ہم لڑکے والوں کی حیثیت کے مطابق ان کے شایان شان جہیز دیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ ایک غریب محنت کش کی یہ بیٹی قسمت کی دھنی نکلی۔ میرے جہیز سے دولہا والوں کا گھر بھر گیا۔ ددھیال والوں کی دیکھا دیکھی ننھیال والوں نے بھی میرے جہیز کی شان بڑھانے میں کمی نہیں کی۔ میری شادی کے بعد امی نے سچ مچ سکھ کا سانس لیا۔ عظمت نے بھی شکر ادا کیا کہ میں اس پر ہر وقت ایک بھوت کی طرح سوار تھی اور میں نازاں تھی کہ قسمت نے مجھے سب کچھ دے دیا ہے۔ شوہر بھی خوبصورت اور مجھ پر سو جان سے فریفتہ…!
اس قدر غربت میں والدین نے بیٹی کو گھر بھر کے سامان دے
دیا تھا۔ شان سے غربت کی دھوپ سے نکل کر امارت کی چھائوں میں آگئی تھی۔ جہانزیب میری صورت دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ ساس صدقے واری ہوتیں اور نندیں فخر سے کہتیں دیکھو ہماری بھابی کتنی خوبصورت ہے۔
چند ماہ خوشی سے بھرپور گزر گئے۔ جس بات کی تمنا کرتی پوری ہوجاتی۔ جس شے کی آرزو کرتی حاصل ہوجاتی۔ میرے شوہر کا کاروبار ایسا تھا کہ زیادہ تر ان کو گھر سے باہر رہنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی غیر ملک بھی جاتے، ان کو ماہ دو ماہ وطن سے دور رہنا پڑتا۔ یہ دوری مجھ سے برداشت نہ ہوتی۔ جب واپس آتے تب بھی ان کے کاروباری ساتھی آجاتے۔ وہ ان میں گھرے رہتے۔ رات دیر تک ان کے پاس بیٹھے رہتے۔ مجھے بے حد الجھن ہوتی تھی۔
میں کبھی کبھی احتجاج کرتی، کبھی روٹھ جاتی۔ وہ مجھے پیار سے منا لیتے۔ کہتے دولت تمہارے لیے کماتا ہوں تاکہ تم عیش کرسکو۔ میں ایک دو دن چپ رہتی پھر الجھنے لگتی۔ جب گھر میں ایسی کھینچاتانی ہو تو گھر کا ہر فرد ڈسٹرب ہوتا ہے۔ پہلے تو ساس سمجھاتی رہیں۔ پھر وہ کچھ خفا خفا سی رہنے لگیں کہ یہ کیسی نادان بہو لے آئی ہوں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے موڈ خراب اور شوہر کو دیکھتے ہی منہ لپیٹ کر پڑ جاتی ہے۔ نندیں سارا وقت میری خوشامد میں لگی رہتیں کہ کسی طرح بھابی خوش رہے اور جب ہمارا بھائی گھر لوٹے، موڈ خراب نہ ہو، جہانزیب کا خوش دلی سے استقبال کرے۔ وہ اپنے بھائی کی ذرا سی پریشانی بھی نہ دیکھ سکتی تھیں اس لیے میری غلام بنی ہوئی تھیں۔
جب میں نہ سمجھی، جہانزیب پریشان رہنے لگے۔ وہ گھر بیٹھ جاتے تو ان کے بزنس سے متعلق لوگوں کے فون آنے لگتے۔ یار! کہاں ہو، فلاں سودا ہونا تھا، لوگ دفتر آئے بیٹھے ہیں یا پھر دروازے پر دستک دیتے اور ان کو لینے آجاتے۔ جہانزیب چلے جاتے تو میں موڈ آف رکھتی، وہ نہ جاتے تو لاکھوں کا نقصان ہونے کا اندیشہ رہتا۔
سسر دبئی سے آگئے۔ صورتحال دیکھی تو بہت خفا ہوئے۔ بیوی سے کہا تم کیسی گھر کی سربراہ ہو، تم سے گھر کے معاملات کنٹرول نہیں ہوتے۔ شکل صورت پر فریفتہ ہوکر غریب گھر سے لڑکی لے آئی ہو، میں سمجھا تھا کہ آرام و سکون کی دولت پا کر یہ لڑکی ہماری بات مانے گی۔ اس گھر کے سکون کا خیال کرے گی۔ اس نے تو میرے بیٹے کو ہی پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ اپنے گھر کی لاڈو ہوگی، یہاں اسے ہمارے طریقے سے رہنا ہوگا۔ یہ کہاں کی نواب زادی ہے کہ ہر وقت پلنگ پر پڑی رہتی ہے۔ میری بیٹیوں سے خدمت لیتی ہے اور غراتی بھی ہے۔ سیدھے سبھائو نہیں سمجھتی تو میکے بھجوا دو۔ چار روز میں عقل ٹھکانے آجائے گی۔ اب ساس کی آنکھیں کھلیں۔ مجھ سے بولیں کہ جب میری بیٹیاں نوکروں کے ہوتے کام کرتی ہیں، میں کھانا اپنے ہاتھ سے بناتی ہوں تو تم کیوں کام کو ہاتھ نہیں لگاتیں؟
میں شروع سے کام چور تھی۔ ماں کے گھر میں تنکا بھی نہ توڑتی۔ اگر کوئی کام بادل نخواستہ کرنا پڑ جاتا، وہ خراب کردیا کرتی تھی۔ جب ساس نے سسر کا پیغام دیا، بجائے ان کے حکم کا احترام کرتی، الٹا ساس سے الجھنے لگی۔ وہ زیادہ کچھ کہتیں تو رونا شروع کردیتی اور ماں کے گھر چلی جاتی۔ ماں کو بھی جاکر بڑھا چڑھا کر بتاتی کہ ساس جھگڑتی ہے۔ یہ لوگ مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔ اتنے نوکر ہیں لیکن مجھ کو کام کرنے کو کہتی ہے جبکہ سب کچھ میرے میاں کا ہے، وہ اتنا کماتے ہیں پھر میں کیوں کچن میں گھسی رہوں اور اپنے ہاتھ میلے کروں۔ امی میری طبیعت جانتی تھیں مگر میرا رونا ان سے برداشت نہ ہوتا۔ خالہ عارفہ کے پاس آکر ان کو سمجھاتیں کہ میری بچی تمہاری بچی ہے، اس پر اتنی سختی نہ کرو۔ رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ سمجھ جائے گی۔ ایک دن انہوں نے کہہ دیا۔ سلیمہ آپا! یہ سمجھنے والی چیز نہیں ہے۔ تم سے سمجھی جو اب ہم سے سمجھے گی۔ یہ بہت ضدی طبیعت کی لڑکی ہے۔ تم نے بیٹی کی صحیح پرورش نہیں کی۔ ہم شریف لوگ ہیں، اپنے ہیں۔ غیروں میں گئی ہوتی تو وہ کب کا اس کو چلتا کردیتے۔ شکل اچھی ہو اور اعمال اچھے نہ ہوں تو ایسی صورت کس کام کی؟
بات ان کی صحیح تھی مگر فتور میرے دماغ میں تھا۔ آئینے کے عکس نے مجھے اتنا گھمنڈی بنا دیا کہ اپنی اوقات بھول گئی۔ اپنے آگے کسی کو کچھ نہ سمجھتی تھی۔ امی مجھے اور میری ساس کو الگ الگ سمجھا کر تھک گئیں تو وہ کبھی مجھ سے اور کبھی میری ساس سے الجھنے لگیں۔ ایک روز تو حد ہوگئی جبکہ میں تین دن تک میاں سے روٹھی رہی تو وہ میری شکایت لے کر امی کے پاس گئے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ امی، داماد کا مان رکھتیں اور مجھے سرزنش کرتیں۔ جانے ان کے منہ سے کیوں ایسے الفاظ نکل گئے کہ میں اس روز روز کی چخ چخ سے تنگ آگئی ہوں۔ اگر میری بیٹی بھاری ہے تو واپس کردو۔ تم مرد ہو اور یہ مرد کا کام ہوتا ہے بیوی اور اپنے گھر والوں کے درمیان متوازن سلوک رکھے۔ تمہارے اندر کچھ کمی ہے جو سب کچھ پا کر بھی میری بیٹی ناخوش ہے۔ غرض امی نے داماد کو اس روز کھری کھری سنا دیں کہ وہ دم بخود رہ گئے۔ اماں کی اس طرف داری سے میں نے غلط مطلب لیا، مجھے شہ مل گئی۔ کہا کہ جہانزیب! مجھے علیحدہ گھر لے کر دیں۔ میں آپ کے کنبے کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ ذرا سا وقت اب جو کاروبار سے بچتا ہے، وہ ماں، بہنوں اور بھائیوں کے درمیان بیٹھ کر گزار دیتے ہیں اور میں کمرے میں ایک قیدی کی طرح پڑی رہتی ہوں۔
کسی طور ان لوگوں میں دو سال اکٹھے نکال دیئے۔ اولاد نہ ہوئی تو اس بات کا الزام بھی انہی لوگوں کو دینے لگی کہ ٹینشن میں رکھتے ہیں تبھی اولاد نہیں ہوتی۔ اس پر سسر نے باآواز بلند اعلان کیا۔ اب ہم اپنے بیٹے کی دوسری شادی کریں گے۔ گھر میں تنائو بڑھتا گیا۔ بے شک جہانزیب مجھے بہت کم وقت دے پاتے تھے۔ وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتے تھے لیکن یہ ان کی مجبوری تھی۔ ایک بیوی کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اس کے شوہر پر کیا ذمہ داریاں ہیں۔ دیوروں اور نندوں کی ابھی شادیاں نہ ہوئی تھیں۔ ان کے والدین سلامت تھے، بھلا وہ کیسے ان سے غافل ہوجاتے اور اپنے کنبے سے کیسے علیحدہ رہ سکتے تھے۔ ان دنوں امی کے گھر میں شوہر سے روٹھ کر آئی ہوئی تھی۔ ایک رات اچانک دل کا دورہ پڑا۔ امی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں، اللہ کو پیاری ہوگئیں۔
ان کے چالیسو یں کے بعد والد نے کچھ رشتے داروں سے کہا کہ آپ لوگ میری بیٹی کے سسرال والوں کو آمادہ کریں کہ وہ عفت کو منا کر لے جائیں۔ رشتے دار میرے حالات جان چکے تھے۔ انہوں نے کہا۔ ہمارا اس معاملے میں پڑنا مناسب نہیں، آپ خود بیٹی کو لے جاکر اس کے گھر چھوڑ دیں۔ ایک روز ابا جی نے مجھے کہا۔ بیٹی! تیرے ناز اٹھانے والی چلی گئی اور میں بیمار رہتا ہوں۔ دو لڑکیوں کو نہیں پال سکتا۔ تم ٹھیک سے اپنے گھر بسو گی تو کوئی عظمت کا رشتہ لے گا۔ تمہارا حال دیکھ کر اب رشتہ دار مجھ سے کترانے لگے ہیں۔ بیٹی! تم خود اپنے شوہر کو فون کرو، وہ آکر تمہیں لے جائے۔ ساس سے معافی مانگ لو اور ان کا ہر کہا مانو۔ اس میں تمہاری شان نہیں گھٹتی بلکہ عزت بڑھے گی۔
باپ کے سمجھانے پر میں راضی ہوگئی۔ وہ خود مجھے سسرال پہنچانے گئے اور ساس سے معافی مانگنے کو کہا مگر عارفہ خالہ سخت مزاج ہوگئی تھیں۔ بادل نخواستہ میرا واپس آنا قبول کیا اور شرط یہ رکھی کہ میں سب کے لیے دوپہر کا کھانا بنائوں گی۔
ساس نوکروں کے ہوتے ہوئے کچن خود سنبھالتی تھیں اور اپنے ہاتھ کا کھانا پسند کرتی تھیں۔ میرے لیے یہ شرط کڑی تھی جس نے کبھی ہل کر پانی نہ پیا ہو، وہ کیسے اتنے سارے لوگوں کے لیے کھانا بنا سکتی تھی۔ میں تو دو روز میں ہانپ گئی حالانکہ نندیں بھی باری باری اس کام میں میرا ہاتھ بٹاتی تھیں۔
میں نے کھانا پکانے سے انکار کردیا۔ تب ساس نے کہا۔ یہ ہمارے کسی کام کی نہیں۔ سگھڑ ہے اور نہ کوئی اور گن، اوپر سے بانجھ لگتی ہے۔ اس کو چھوڑو، ہم تمہاری دوسری شادی کرواتے ہیں، مگر جہانزیب مجھ سے محبت کرتے تھے، وہ خاموش رہے۔
گھر والوں نے مجھ سے بات چیت بند کردی۔ وہ مجھ سے کھانے کا نہ پوچھتے۔ بھوک لگتی، خود کچن میں جاکر کھانا لے لیتی۔ اب میرا دل ان لوگوں سے برا رہنے لگا۔ ایک روز جبکہ جہانزیب بیرون ملک گئے ہوئے تھے، میں نے کسی سے بات کی اور نہ بتایا کہ جارہی ہوں۔ رکشہ منگوایا اور اپنے باپ کے گھر آگئی۔ مجھے دیکھ کر والد صاحب کا رنگ زرد پڑ گیا، عظمت بھی خوف زدہ ہوگئی۔ ہاتھ جوڑ کر بولی۔ باجی خدا کے لیے تم نے خود اپنے حالات خراب کئے ہیں تو خود سلجھائو۔ اپنے گھر میں بسو، ان لوگوں کی خدمت کرو ورنہ تمہارا گھر برباد ہوجائے گا۔
کیا یہ گھر نہیں ہے؟ کیا برباد ہوجائے گا۔ میں ان لوگوں کی بہو ہوں یا نوکرانی۔ نہیں بسنا مجھے ایسے لوگوں میں جو مجھ سے گھر کا کام کرنے کو کہتے ہیں۔ ابا نے کہا۔ بیٹی! اپنا گھر جنت ہوتا ہے، اپنے گھر میں سبھی کو کام کرنا ہوتا ہے۔ اس میں غلط بات کیا ہے۔
میرے اتنے اچھے رشتے آئے تھے، جانے اماں کو اپنی ان خالہ زاد بہن میں کیا دکھا۔ مجھے اتنے بڑے کنبے میں دھکیل دیا۔ آپا۔ ابا بیمار ہیں، اماں تو چلی گئیں۔ اب لڑلڑ کر ان کی بھی جان لو گی کیا… تب میں غصے میں آپے سے باہر ہوگئی اور چھوٹی بہن پر ہاتھ اٹھا دیا۔ والد نے ہانپتے کانپتے کسی طرح سنبھالا۔ اماں کی وفات کے بعد شاید خالہ عارفہ کے دل سے ابا کا بھی لحاظ جاتا رہا تھا۔ والد نے ان کو کئی فون کئے، انہوں نے جواب نہ دیا۔ بلکہ کہلا بھیجا بہو بن کر رہنا ہے تو آجائے ورنہ آنے کی ضرورت نہیں۔
ایک روز بالآخر مجھے اپنے غرور کی سزا مل گئی بلکہ میری چھوٹی چھوٹی خطائوں کی سخت سزا ملی۔ سسر نے اپنی بھتیجی سے جہانزیب کا نکاح پڑھوا دیا۔ میں اپنی جگہ روٹھی بیٹھی تھی، ادھر میرے کمرے میں میرے جیون ساتھی کے لیے نئی سیج سجا دی گئی۔ سال بعد کسی نے بتایا کہ عفت! تمہیں معلوم ہے تیرے میاں نے دوسری شادی کرلی ہے۔ اب وہ ایک بچے کا باپ بننے والا ہے۔ یہ سن کر پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ آئینے میں اپنی صورت دیکھی، وہ اپنی نہ لگی۔ صورت پر بارہ بج رہے تھے۔
اب وہ شکل رہی اور نہ وہ غرور رہا۔ صورت رہ جاتی تو بھی کرتی کیا۔ سانپ نکل گیا تھا لاٹھی اور لکیر رہ گئی تھی۔ والد اس غم کو سہہ نہ سکے۔ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اس کے بعد ہم دونوں بہنوں کا کوئی نہ رہا۔ رشتے دار پہلے ہی بیچ میں نہ پڑتے تھے۔ اب میں سسرال کیونکر جاتی کہ سوتن آچکی تھی۔ اللہ نے جہانزیب کو بیٹا دے دیا تھا۔ وہ بھی لینے نہ آئے جیسے ان کو میری ضرورت نہ رہی ہو۔ ایک بار فون کیا تھا کہ


چاہتی ہو تو چلو، الگ گھر لے کر دے دیتا ہوں۔ الگ رہ لینا، خرچہ دیتا رہوں گا، سوتن کو قبول کرنا ہوگا۔ میں نے ان کی یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ اس میں میری نسوانیت کی توہین تھی۔
باپ کے ہوتے عظمت کا رشتہ نہ ہوسکا لیکن والد کی وفات کے بعد پھوپی نے اپنے دیور کے بیٹے سے شادی کروا دی۔ اس شخص کی بیوی وفات پا چکی تھی اور دو بچے تھے۔ عظمت نے خود کو محفوظ کرنے کے لیے اس رشتے کو قبول کرلیا۔ باپ کے گھر کی رکھوالی کے لیے میں اکیلی رہ گئی۔ سال بعد جب میرے شوہر کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو سوتن نے مجھے طلاق دلوا دی۔ انہوں نے مجھے آزاد کردیا۔
اب ہوش آیا کہ وہ پیشکش بھی اچھی تھی۔ سوتن شوہر کے ساتھ اور میں الگ گھر میں رہتی، عزت سے کسی کی بیوی کہلاتی، خرچہ ملتا، شوہر بھی آتے جاتے رہتے۔ کیا پتا اللہ اولاد دے دیتا، اس کی پرورش میں لگ جاتی۔ زندگی کا کوئی مقصد تو ہوتا۔ میری کم عقلی خاندان والوں پر کھل چکی تھی۔ کوئی مجھ سے ملنا اور بات کرنا پسند نہ کرتا۔ ایک بہن کے سوا اب وہ بھی جب اس کا شوہر چاہتا، ملانے لاتا۔
اکیلے گھر میں اکیلی تنہائی سے تنگ آگئی۔ پڑھی لکھی نہ تھی کہ نوکری کرلیتی۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا۔ پہلے چچا اور کچھ خرچہ بہن دے دیتی تھی، وہ بھی بند ہوگیا۔ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئی۔ اپنی کفالت کے لیے میرے پاس اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ کسی کے گھر ملازمہ ہوجائوں۔ ایک محلے والی نے ترس کھا کر اپنے جاننے والوں کے گھر رکھوا دیا۔ صبح سات بجے جاتی، شام کو سات بجے واپس آتی۔ سارا دن ان کے گھر کا کام سنبھالتی تب پیٹ کا دوزخ بھر پاتی۔
سوچتی ہوں کہ دوسروں کے گھروں میں کام کرنے سے اپنے گھر میں کام کرنا کیا برا تھا؟ اب وہ صورت رہی کہ حور شمائل کہلائوں اور نہ وہ پوزیشن رہی کہ معاشرہ عزت کی نگاہ سے دیکھے۔ اے کاش…! میں پہلے سوچ لیتی کہ صورت ہمیشہ نہیں رہتی اور سیرت سے ہی انسان کی زندگی بنتی ہے۔ (ع… گوجرانوالہ)