Tarzan Ne Park Ki Sair Ki

653
Tarzan Ne Park Ki Sair Ki – Kids Corner Story
پیارے بچو! آپ نے کچھ عرصہ پہلے ایک کہانی میں پڑھا تھا کہ ٹارزن اپنے دوست مینکو کے ساتھ شہر کی سیر کے لیے آیا تھا اور وہاں چند اچھی عادتوں والے بچوں کودیکھ کر خوش ہوا تھا ۔ جب جنگل میں رہتے رہتے ٹارزن کو کچھ عرصہ بیت گیا تو وہ دوبارہ شہر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اس نے ایک بڑا سا پارک دیکھا، جہاں بہت سے بچے کھیل رہے تھے ۔کیونکہ ٹارزن کو بچے اچھے لگتے تھے، اس لیے وہ پارک میں داخل ہوگیا ۔ پارک بہت خوبصورت تھا۔ ہر طرف ہریالی تھی۔ پارک کے چاروں طرف درخت اور پھولوں کے پودے لگے تھے ،جن پر رنگ برنگے پھول بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ٹارزن بھی پھولوں کی کیاری کے پاس بیٹھ گیا۔ وہاں موجود چند بچوں کی نظر ٹارزن پر پڑی تو وہ بہت خوش ہوئے اور جنگل کی باتیں کرنے لگے۔
اچانک ایک بچے نے ایک پودے پر لگا خوبصورت سا پھول توڑ لیا۔ٹارزن نے بچے سے پوچھا۔’’ پیارے سے بچے، آپ نے یہ پھول کیوں توڑا ہے ؟‘‘
بچے نے جواب دیا۔’’ مجھے یہ بہت اچھا لگا ہے اس لیے میں نے توڑا ہے، میں اسے اپنی کتاب میں رکھوں گا۔‘‘
ٹارزن بولا۔’’ لیکن یہ تو دیکھو کہ یہ اپنے پودے پر لگا ہوا کتنا پیارا لگ رہا تھا، سرسبز پتوں میں اس کا گلابی گلابی رنگ کتنا خوبصورت آتا تھا۔‘‘
’’ مگر یہ سب تو باغ میں لگے ہوئے ہیں، میرے پاس تو نہیں ہے، مجھے تو ہر وقت اپنے پاس پھول دیکھنا اچھا لگتا ہے، اس لیے میں انہیں اپنی کتابوں میں رکھ لیتا ہوں۔‘‘ بچے نے کہا۔
’’ آپ نے جو پھول توڑا ہے،وہ ایک دو دن میں مرجھا جائے گا اور کتاب میں رکھنے سے اس کی شکل بھی خراب ہوجائے گی، یہ چپٹا ہوجائے گا۔‘‘ٹارزن نے بچے کو سمجھایا۔
بچہ اب کے لاڈ سے بولا۔’’ مجھے پھول بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں ایسا کیا کروں کہ یہ ہر وقت مجھے نظر آتے رہیں۔‘‘
اب تو مِنکو(بندر) کو بچے پر پیار آگیا۔ اس نے کہا۔ ’’ اس کا تو بہت سادہ طریقہ ہے بھئی ، آپ اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے گملوں میں پھولوں کے پودے لگالو، انہیں روز پانی دیا کرو، مختلف قسم کے پھول تو ہر موسم میں کھلتے رہتے ہیں۔‘‘
’’ ہاں جی!پھر تو میرا گھر بھی خوبصورت ہوجائے گا۔‘‘ بچہ بہت خوش ہوا اور منکو کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اتنا اچھا مشورہ دیا ہے۔ پھر ٹارزن اور منکو ٹہلتے ہوئے جھولوں والی جگہ کی طرف بڑھے، وہاں بچوں کے لیے بہت سے جھولے لگے ہوئے تھے، جن پر بہت خوبصورتی سے رنگ کیا ہوا تھا۔ اس جگہ پر بچوں کا بہت رش تھا۔ ہر کوئی پہلے خود جھولا جھولنا چاہتا تھا، اسی وجہ سے وہاں بہت دھکم پیل ہورہی تھی۔ بچوں کو دھکوں سے بچانے کے لیے ان کے والدین انہیں سمجھا رہے تھے کہ ایک دوسرے کو دھکا نہ دو ،اپنی باری کا انتظار کرلو، ورنہ چوٹ لگ جائے گی۔ مگر بچے جھولوں کے شوق میں بہت پرجوش ہورہے تھے، ماں باپ کی باتوں پر دھیان ہی نہیں دے رہے تھے۔
ٹارزن بھی ایک طرف کھڑا بچوں کی نوک جھونک دلچسپی سے دیکھ رہاتھا، اچانک دھکا لگنے سے چند بچوں کا توازن بگڑ گیا اور تین، چار بچے اکٹھے گر گئے۔ نیچے زمین پر کنکر وغیرہ پڑے تھے۔ایک بچی کے گھٹنوں پر کنکر چبھنے سے خون نکل آیا، وہ گھبرا کر رونے لگی۔ ایک اور بچے کی کہنی چھیل گئی ،اسے بھی درد ہونے لگا۔ ایک دوسرے بچے کے ماتھے پرچوٹ آگئی۔ یہ دیکھ کر ان کے والدین پریشان ہوگئے، اور انہیںبہلانے لگے۔
ٹارزن ، منکو بھی آگے بڑھے اور بچوں کو پیار کیا، ان کے ہاتھوں اور گھٹنوں سے مٹی جھاڑی۔ پھر ٹارزن نے کہا۔’’ دیکھا بچو! آپ سب نے اپنے امی، ابو کی بات نہیں مانی، میں دیکھ رہا تھا آپ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے پھر خود بھی گر پڑے اور چوٹ لگوالی ۔ اگر آپ لوگ اپنے والدین کی بات مانتے اور اپنی اپنی باری کا انتظار کرلیتے تو یہ درد نہ سہنا پڑتا۔‘‘
جس بچی کے گھٹنوں پر چوٹ آئی تھی، وہ فوراً بولی۔’’ انکل ٹارزن! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ہم سے غلطی ہوگئی، ہم نے امی، ابو کی بات نہیں مانی، اسی لیے ہمیں یہ نقصان اٹھانا پڑا۔ میری توبہ، میں تو اب اپنے امی ابو کی ہر بات مانوں گی۔‘‘دوسرے بچوں نے بھی اس کی تائید میں سر ہلایا اور کہا کہ ہم بھی اپنے بڑوں کا کہنا مانیں گے۔
ٹارزن نے خوش ہوکر بچوں کے سر پر پیار کیا اور آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور تک چلا پھر ایک بینچ پر بیٹھ
گیا، منکو صاحب بھی اس کے کندھے پر چڑھ بیٹھے۔ وہاں قریب ہی چند فیملیز بیٹھی تھیں۔ وہ لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی لے کر آئے تھے۔ چپس، چاکلیٹ، نمکو اور کولڈ ڈرنک وغیرہ۔ لوگ مزے مزے سے یہ اشیاء کھاکر خالی بوتلیں اور پیکٹ وہی گھاس پر پھینک رہے تھے۔ لوگوں کی یہ لاپرواہی دیکھ کر ٹارزن حیران رہ گیا اور منکو سے کہنے لگا۔’’ یار منکو یہ لوگ اتنی خوبصورت تفریح کے پارک کو کتنا گندہ کررہے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہورہا۔‘‘
’’ ٹھیک کہہ رہے ہو دوست! یہ شہروں میں رہنے والے اب بہت بے حس ہوتے جارہے ہیں، پارکوں میں کچرا پھیلاتے ہیں، اپنے گھروں کے باہر لاپرواہی سے کچرا ڈال دیتے ہیں، ذرا نہیں سوچتے کہ یوں ان کا اپنا ماحول خراب اور بیماریاں پھیلانے والا بنتا جارہا ہے۔‘‘
دیکھتے ہی دیکھتے پارک میں جگہ جگہ خالی ریپرز اور بوتلیں پڑی نظر آنے لگی۔ ٹارزن اور منکو نے وہاں موجود لوگوں کو نصیحت کرنے کی بجائے خود اٹھ کر کچرا اکٹھا کرنااور قریب لگے ڈسٹ بن میں ڈالنا شروع کردیا، جسے دیکھ کر بھی لوگوں نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔
وہاں موجود کچھ بچے کھیل چھوڑ کر اپنے دوست ٹارزن اور منکو کوخالی بوتلیں وغیرہ اٹھاتے دیکھ کر ان کے پاس چلے آئے اور کچرا چننے میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ یہ دیکھ کر کچرا پھیلانے والے دل ہی دل میں شرمندہ ہوگئے اور اپنے پاس موجود خالی پیکٹ وغیرہ اکٹھے کرکے شاپر میں ڈالے پھر کچرے کے ڈبے میں ڈال دیے۔
’’ دیکھا منکو! مجھے بچے اسی لیے اچھے لگتے ہیں کہ وہ اچھی بات کو فوراً اپنا لیتے ہیں اور کسی کام کو کرنے میں شرم نہیں کرتے، بلکہ اپنی غلطی فوراً مان کر اسے سدھار بھی لیتے ہیں۔‘‘ٹارزن نے کہا۔
منکو نے بھی مسکرا کر کہا۔’’بچے تو بچے ہیں اگر بڑوں کو بھی ان کی غلطی کا احساس، اچھے عمل کے ذریعے دلایا جائے تو وہ بھی اپنی غلطی ٹھیک کرلیتے ہیں۔ ڈانٹ اور طنز کرنے سے دوسرے بندے میں غصہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اچھی بات پر عمل نہیں کرتا۔‘‘
’’ یہ تو تم نے بالکل ٹھیک کہا اچھی بات ہمیشہ اثر دکھاتی ہے اور اگر نصیحت اچھے طریقے سے کی جائے تو ضرور اس پر عمل ہوتا ہے۔‘‘ٹارزن نے منکو کی بات کی تعریف کی۔
بچوں اور ان کے والدین نے ٹارزن کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کہیں بھی کچرا نہیں پھیلائیں گے۔ بچوں نے بھی وعدہ کیا کہ وہ جھولوں پر بیٹھنے کے لیے دھکم پیل نہیں کریں گے۔ پارکوں میں لگے پیارے پیارے پھول نہیں توڑیں گے۔‘‘
پھر شام ہونے کوآئی توسب ایک دوسرے کو خداحافظ کہہ کر آج کے دن کی اچھی یادیں لیے اپنے اپنے گھر کو روانہ ہوگئے۔