Teefa Ke Anaya Glamours Maya

68
شوبز کے آسمان کا اصول ہے کہ یہاں وہی ستارے چمکتے ہیں جن کی روشنی سحرزدہ کردینے والی ہو۔ نوجوان اداکارہ مایا علی بھی انہی ستاروں میں سے ایک ہیںجو نا صرف پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی روشنی بکھیر رہی ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں سے بہت کم وقت میں خود کو منوا بھی چکی ہیں۔ مایا کے مداح یہ بات نہیں جانتے کہ ان کا اصل نام ’’مریم تنویر علی‘‘ ہے۔جی ہاں! مریم کو ان کے گھر میں محبت سے مایا کہہ کر پکارہ جاتا تھا اور آج انہیں پوری دنیا اسی نام سے جانتی ہے۔ مایا کا جنم 27جولائی 1989ء کو لاہو ر میںہوا۔ وہ بچن سے نٹ کھٹ اور چلبلی ہیں۔کھیلوں سے انہیں اس قدر لگاؤ رہا ہے کہ اپنے کالج میں باسکٹ بال گرلز ٹیم کی کپتانی بھی کی ہے۔کوئین میری کالج،لاہور سے شعبہ ابلاغ عامہ میں گریجویشن کے بعد مایا نے جنگ اور جیو ٹی وی میں کچھ عرصہ کام بھی کیا۔ تاہم مایا کے اندر چھپی اداکارہ اپنا ہنر دکھانے کو ہمیشہ بے تاب رہی۔ انہوں نے شوبز میں باقاعدہ قدم رکھنے کی کوششیں شروع کیں، ابتداء میں ناکامی بھی ہوئی،پھر انہیں ایک نیوز چینل کے شو میں بطور ’وی جے‘ کام کرنے کا پہلا موقع ملا۔ مایا چاہتی تھیں کہ وہ اداکاری کریں۔ بچپن سے گھر میں جب ان کی والدہ کبھی کسی کام کا کہتیں تو مایا ہمیشہ فلمی انداز میں اپنی ماں جی کو اداکاری کے جوہر دکھاتی تھیں۔ مایا کی والدہ کو ان پر بے حد پیار بھی آتا تھا لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھیں کہ ایک دن ان کی بیٹی کی دنیا دیوانی ہوگی۔
مایا علی کی من موہنی صورت اور باصلاحیت شخصیت نے انہیں 2012ء میں ان کے پہلے ڈرامہ سیریل ’’دُر شہوار‘‘میں کام دلایا۔اس ڈرامے کی مرکزی کردار ’’دُر شہوار‘‘(صنم بلوچ) کی بہن ’’ماہ نور‘‘کا معاون کردارمایا نے شاندار انداز میں نبھایا ۔ اسی ڈرامے کے ہدایتکار حسام حسین نے مایا علی کی اداکاری سے متاثر ہو کر انہیں اپنے اگلے ڈرامہ سیریل ’’ایک نئی سینڈریلا‘‘ (2012) کی ہیروئن بنانے کا فیصلہ کیا۔ اداکار عثمان خالد بٹ اور مایا علی کا بطور ہیرو اور ہیروئین یہ پہلا ڈرامہ تھا جبکہ دونوں اسٹارز کی نئی جوڑی کو ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ ڈرامے میں مایا سچ مچ کی سنڈریلا لگیں۔ ہدایتکار حسام حسین نے مایا علی اور عثمان خالد بٹ کو ’’ایک نئی سینڈریلا‘‘ کی کامیابی کے بعد دوسرے ڈرامہ سیریل ’’عون زارا‘‘ (2013) میں بھی کاسٹ کیا اور یہ ڈرامہ بھی سپر ہٹ رہا۔مایا علی کے مقبول ڈراموں میں ’’شناخت‘‘، ’’ضد‘‘، ’’میرا نام یوسف ہے ‘‘،’’دیار دل‘‘، ’’من مائل‘‘ اور ’’صنم‘‘ شامل ہیں۔ ’’من مائل‘‘ میں ’’مناہل‘‘ کے مرکزی کردار میں مایا علی کو بے حد پسند کیا گیا۔ اس ڈرامے میں مایا اور عائشہ خان کے کرداروں کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہا۔ ڈرامہ سیریل ’’صنم‘‘ میںبھی مایا کے ہیرو عثمان خالد بٹ تھے۔ عثمان اور مایا کی جوڑی کی مقبولیت کی وجہ سے ان کی شادی کی جھوٹی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں۔ تاہم دونوں اسٹارز اچھے دوست ہیں۔ صرف چھ برس کے مختصر کیریئر میں مایا علی ٹی وی ڈراموں کی پرائم ٹائم کوئین بن گئیں۔ رواں برس مایا کا کوئی ڈرامہ سامنے نہیں آیا کیوں کہ وہ گزشتہ برس سے ہی ایک بڑے مشن پر لگی ہوئی ہیں۔اپنی ہم عصر اداکاراؤں میں سے مایا علی ایسی اکلوتی خوش قسمت ہیں جنہیں ٹی وی ڈراموں میں کامیابی کے بعد اب سپر اسٹار علی ظفر کے ساتھ سلور اسکرین پر قدم رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ فلم’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کی ریلیز میں بس کچھ ہی دن باقی ہیں ۔ فلم میں ’’طیفا‘‘ یعنی علی ظفر اور ان کی ہیروئن ’’عنایہ‘‘ یعنی مایا علی نہایت منفرد کردار نبھاتی نظر آئیں گی۔ مایا علی کو یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی علی ظفر جیسے سپر اسٹار کے ساتھ فلم کریں گی۔ علی ظفر نے تو بولی وڈ سمیت دنیا بھر میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔ جس وقت علی ظفر بھارتی حسینہ کترینہ کیف کے ساتھ ’’میرے برادر کی دلہن‘‘ (2011ء) جیسی سپر ہٹ فلم میں جلوے بکھیر رہے تھے، اس وقت مایا علی اداکارہ بننے کے سپنے دیکھ رہی تھیں۔ اب جبکہ مایا علی کا سپنا سچ ہوگیا ہے تو انہوں نے پوری لگن سے ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ میں کام کیا ہے۔علی ظفر کی تو مایا علی پہلے سے ہی فین تھیں لیکن اب وہ ان کی دوست بھی بن چکی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر علی ظفر کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بہت سی خاص باتیں بھی مداحوں کو بتاتی رہتی ہیں۔ مایا خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں اپنی پہلی ہی فلم میں علی ظفر جیسے راک اسٹار کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ’’فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کے لیے اس سے بہتر موقع مجھے نہیں مل سکتا تھا۔ میں علی ظفر کا شکریہ بھی پوری طرح ادا نہیں کرسکتی۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے،میرے استاد بھی ہیں اور دوست بھی ہیں، میں ان کا ہر چیز کے لیے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ علی ظفر ایک سچا راک اسٹار ہے اور ان کی روح بہت پاک ہے۔‘‘
فلم کے ٹریلر لانچ کے موقع پر بھی مایا خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ انہوں نے فلم کا حصہ بننے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’ٹریلر سامنے آ چکا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کہاں سے اپنے جذبات کا اظہار شروع کروں۔ طیفا اِن ٹربل کا ٹریلر دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے پوری فلم کی تیاری کا سفر گھوم گیا۔ میں اپنے ہدایتکاراحسن رحیم اور ہیرو علی ظفر کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ جنہوں نے مجھ پر بھروسا کیا۔ میں ٹریلر دیکھ کر بہت زیادہ جذباتی بھی ہوگئی کیونکہ مجھے اپنی اور اپنی ٹیم کی سخت محنت یاد آئی۔ یہ تو صرف ٹریلر تھا پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!‘‘
فلم میں مایا کا کردار ایک امیر باپ کی بیٹی کا ہے جو یورپ میں رہتی ہے لیکن یہ لڑکی صرف دیکھنے کی حد تک نازک کلی جیسی ہے۔ مایا علی نے فلم میں رومانس اورڈانس کے ساتھ ایکشن بھی کیا ہے۔ فلم کے ٹریلر میں مایا علی نے ایک شخص کے سر پر کانچ کی بوتل ماری ہے جبکہ پولیس کی گاڑی میں مایا کو خطرناک اسٹنٹ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
فلم کی موسیقی بھی اپنا دھمال مچا رہی ہے۔ علی ظفر، دانیال ظفر اور شانی ارشد نے مل کر فلم کی موسیقی ترتیب دی ہے اور گانے بھی علی ظفر نے خود لکھے ہیں۔ فلم کے ٹریلر اور گانوں میں مایا علی اور علی ظفر کی کیمسٹری کمال ہے۔ ٹریلر کو ریلیز کے 13 دنوں میں یوٹیوب پر 17 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کے ہدایتکار احسن رحیم جبکہ فلم کی کہانی علی ظفر اور ان کے چھوٹے بھائی دانیال ظفر نے لکھی ہے۔ فلم کے پروڈیوسر علی ظفر اور ان کی اہلیہ عائشہ فاضلی ہیں جبکہ فلم کی تیاری پر 15 لاکھ ڈالرز یعنی کم و بیش 18 کروڑ 24 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں فیصل قریشی، ماہ نور حیدر، جاوید شیخ، صوفیہ خان، محمود اسلم، اسماء عباس، احمد بلال، نیئر اعجاز، سیمی راحیل، موئز کاظمی اور سلمان بخاری شامل ہیں۔ فلم کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس فلم کو دنیا بھر میں بولی وڈ کے معروف فلم ساز ادارے ’’یش راج فلمز‘‘ کے بینر میں ریلیز کیا جارہا ہے۔ یعنی ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ 20 جولائی کو دنیا بھر میں 1200 سے زائد سینما اسکرینز پر ریلیز کی جائے گی۔ پاکستان سینما کی تاریخ میں آج تک کسی بھی فلم کو اتنے بڑے پیمانے پر ریلیز نہیں کیا گیا ہے۔ ’’طیفا اِن ٹربل‘‘نے پاکستان کی تمام فلموں کے ریلیز کئے جانے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اپنی اس کامیابی پر علی ظفر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج مجھے
یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ ہماری فلم پروڈکشن کمپنی نے موجودہ دور کی سب سے بڑی فلم کمپنیوں میں سے ایک یش راج فلمز کے ساتھ اشتراک کر لیا ہے تا کہ طیفا اِ ن ٹربل کو دنیا بھر ریلیز کیا جاسکے۔ یعنی اب پوری دنیا میں ہماری فلم کو ایک ساتھ ریلیز کیا جائے گا۔ پاکستانی سینما کو دنیا بھر میں لے جانے کا یہ اعزاز بہت خاص ہے۔ ابھی بہت کچھ آنا باقی ہے۔‘‘
’’آئٹم نمبر نہیں کروں گی‘‘
اکثر نوجوان اداکارائیں فلم انڈسٹری میں قدم رکھتے ہوئے آئٹم نمبر کرنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ اس انکار کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ عموماََ آئٹم نمبر میں ہیروئن کا لباس کم ، گلیمر اور بولڈمناظر کی بھرمار ہوتی ہے۔تاہم ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ میں مایا علی اور علی ظفر کے پھڑکتے ہوئے سریلے ڈانس نمبر نے ’’آئٹم نمبر‘‘ کا مطلب ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس وقت ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کا سب سے زیادہ مقبول گیت ’’آئٹم نمبرنہیں کروں گی‘‘ ہے۔ یہ ’’آئٹم نمبر‘‘بھارتی اور پاکستانی فلموں کے روایتی آئٹم سانگز جیسا بالکل بھی نہیں ہے۔ اس گانے میں علی اپنی ہیروئن مایا کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح وہ آئٹم نمبر کر لیں لیکن وہ مان نہیں رہی ہیں۔ عام طور پر فلم ساز کہتے ہیں کہ بولڈ مناظر سے بھرپور آئٹم نمبر کے بغیر فلم کا سینما گھروں میں چلنا ممکن نہیں ہوتا۔تاہم علی ظفر اور مایا علی کے نئے انداز کے آئٹم سانگ کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ فلموں کو عریاں آئٹم نمبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ’’آئٹم نمبر نہیں کروں گی‘‘ میں مایا علی جس انداز میں رقص کر رہی ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے انہیں پہلے سے ہی رقص آتا ہے حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ’’آئٹم نمبرنہیں کروں گی‘‘ کی کوریوگرافی بولی وڈ کے معروف ڈانسرز فیروز خان اور صنم جوہر نے کی ہے۔ فیروز خان بولی وڈ میں’’دوستانہ‘‘ جیسی بڑی فلموں کے گانے کوریوگراف کر چکے ہیں۔ مایا علی کا اپنے انوکھے آئٹم سانگ کے بارے میں کہنا ہے کہ ’’ میں سمجھتی تھی کہ میں ڈانس کرسکتی ہوں۔ پھر میری ملاقات سیٹ پر فیروز خان اور ان کی ٹیم میں شامل صنم جوہر سے ہوئی جنہوں نے مجھے فلم کے لیے رقص سکھایا۔ مجھے پھر اندازہ ہوگیا کہ ڈانس کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا میں سمجھتی تھی۔ میں امید کرتی ہوں کہ جتنی محنت فیروز نے میرے ساتھ کی، وہ دکھائی بھی دے رہی ہو۔ جن مداحوں نے اس گانے کو پسند کیا ہے میںان سب کا بھی میں شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘‘
’’آئٹم نمبر نہیں کروں گی‘‘ اس قدر مقبول ہوا کہ ریلیز کے تین دن میں اسے آن لائن 28 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ میوزک چارٹس میں یہ گانا نمبر ون پوزیشن پر ہے اور اس کی رنگ ٹونز لوگوں نے اپنے اسمارٹ فونزمیں محفوظ کر لی ہیں۔