Toofan Ane Say Pehly | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2186
صاحبہ میری اسکول کے زمانے کی دوست تھی۔ وہ سنجیدہ اور نیک اطوار تھی۔ ماں بچپن میں فوت ہوگئی تھی اور سوتیلی ماں نے اس کو پالا تھا۔ کچھ خواتین اچھی طینت کی ہوتی ہیں جو سگے سوتیلے بچوں میں فرق نہیں رکھتیں، سب کو ایک جیسا پیار دیتی ہیں۔ لیکن صاحبہ کی سوتیلی ماں بہت زیادہ مہربان عورت نہیں تھی۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتی تھی مگر پیار بھی نہیں کرتی تھی۔ تبھی اس لڑکی کی روح پیار کی پیاسی رہ گئی اور شخصیت میں بڑوں جیسی سنجیدگی در آئی۔
مجھ کو اس کی شخصیت کا یہی پہلو پسند تھا۔ مجھے چھچھوری اور کھلنڈرے مزاج کی لڑکیاں پسند نہ تھیں۔ میں خود سنجیدہ مزاج تھی۔ اس لڑکی سے دوستی ہوئی تو لگا جیسے صاحبہ سے مل کر میری ذات مکمل ہوگئی ہو۔
صاحبہ کچھ دن لئے دیئے رہی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اعتبار آتا گیا۔ تب ایک روز اس نے بتایا کہ اس کی ماں سوتیلی ہے اور باپ بیمار ہیں۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا جو چھوٹی امی سے تھا۔ وہ بھائی سے پیار کرتی تھی لیکن بہن کی کمی محسوس کرتی تھی۔ مجھ سے ملی تو اس کی یہ کمی دور ہوگئی۔ ہم سہیلیوں سے زیادہ بہنوں جیسی تھیں۔ امی، صاحبہ کے حالات سے واقف ہوگئیں تو بیٹیوں سے بڑھ کر اس کو چاہنے لگیں۔ وہ صاحبہ کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ میرے لئے خریداری کرتیں تو اس کے لئے بھی تحفے لاتیں۔ میری اس سے چھٹی جماعت میں دوستی ہوئی تھی۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ ہم چھٹی سے دسویں میں پہنچ گئے کیونکہ اب اسکول کا وہ سنہری دور ختم ہوگیا جب ہم روز ملا کرتے تھے۔
میٹرک کے فوراً بعد میرے لئے ایک اچھا رشتہ آگیا اور ساجد سے منگنی ہوگئی۔ پھر ایک سال بعد شادی بھی ہوگئی۔ ان دنوں میری عمر سترہ برس تھی۔ ابھی شادی کے بندھن کو دل قبول نہ کرتا تھا۔ شادی کے بعد والدین اور بہن بھائیوں کی بے حد یاد ستاتی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ اُڑ کر میکے جا پہنچوں۔
ساجد مجھ سے عمر میں بارہ سال بڑے تھے۔ وہ آفیسر تھے اور زندگی کی سب آسائشیں میسر تھیں لیکن میرا دل گھر میں نہ لگتا تھا۔ روح کا رشتہ میکے سے جڑا ہوا تھا۔ ساجد کے والدین گائوں میں رہتے تھے۔ وہ شہر میں رہنا پسند نہ کرتے تھے جبکہ ساجد کو ملازمت کے باعث وہاں رہنا پڑتا تھا جہاں تعیناتی ہوتی تھی۔
نئی نئی شادی تھی۔ وہ صبح آفس چلے جاتے، میں سارا دن اکیلی بور ہوتی۔ امی اپنا گھر چھوڑ کر نہیں آسکتی تھیں، تبھی میں صاحبہ سے التجا کرتی کہ تم آجائو، اکیلے گھر میں جی گھبراتا ہے۔ اس کی امی کو فون کرکے منت سماجت کرتی کہ آنٹی صاحبہ کو میرے پاس بھیج دیں، اکیلی ہوتی ہوں۔ خاص طور پر جب ساجد کسی دوسرے علاقے کے دورے پر جاتے، تب آنٹی مہربانی کرتیں اور صاحبہ کو میرے یہاں ایک دو روز رہنے کی اجازت دے دیتیں۔ صاحبہ کا بھائی بلاول اسے میرے گھر چھوڑ جاتا۔ جب ساجد لوٹ آتے، وہ بھائی کو فون کردیتی تو وہ آکر اسے لے جاتا۔
صاحبہ جب تک ساتھ رہتی، گھر میں دل لگا رہتا۔ اس کے جاتے ہی اداس ہوجاتی۔ میرے شوہر خوبصورت، ہنس مکھ اور مہربان فطرت تھے لیکن نجانے کیوں مجھے انہیں دیکھ کر گھبراہٹ ہوتی تھی البتہ صاحبہ ہوتی تو میں ان کے ساتھ بھی خوش و خرم ہوتی اور ہنسی مذاق کرتی۔ لیکن جب ہم دونوں میاں بیوی اکیلے ہوتے تو میرا جی نہ لگتا۔ میں ان سے دور دور رہتی۔
ایسا رویہ میں کسی ردّعمل کے طور پر اختیار نہیں کرتی تھی۔ ان سے مجھے کوئی شکایت نہیں تھی۔ بس یہ کچھ نہ سمجھ میں آنے والا احساس تھا جس کو ہم صرف محسوس کرسکتے تھے۔ تبھی ساجد اکثر شام کو کبھی امی کے پاس اور کبھی صاحبہ کے گھر لے جاتے تاکہ میں اداس نہ رہوں، میرا موڈ اچھا رہے۔
شادی کے ایک سال بعد بچی کی ماں بن گئی۔ دل بہل گیا لیکن بچی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ امی اپنے گھر میں مصروف تھیں۔ وہ میرے پاس آکر نہیں رہ سکتی تھیں۔ کبھی ملازمہ ملتی، کبھی نہ ہوتی تو پریشانی بڑھ جاتی۔ ایسے میں زندگی اجیرن ہوجاتی۔
انہی دنوں ایک حادثہ ہوگیا۔ صاحبہ کے ابو کافی عرصے سے بیمار تھے۔ اسپتال میں داخل ہوگئے۔ ایک روز صاحبہ اپنے بھائی کے ساتھ موٹرسائیکل پر اسپتال اپنے والد کو دیکھنے جارہی تھی کہ سامنے سے آتی ایک گاڑی سے موٹرسائیکل ٹکرا گئی۔ بلاول کو کافی چوٹیں آئیں۔ زندگی بچ گئی مگر صاحبہ کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ بدقسمتی سے وہ ساجد کے محکمے کی گاڑی تھی۔ ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا۔ ساجد بھی ساتھ بیٹھے تھے۔ جب گاڑی سے اتر کر دیکھا تو متاثرہ افراد بلاول اور صاحبہ تھے۔ ان کو بہت افسوس ہوا کہ ان کے ڈرائیور کی غلطی سے یہ دونوں زخمی ہوئے تھے۔ فوراً اسپتال لے گئے۔ چند دنوں بعد بلاول ٹھیک ہوگیا مگر صاحبہ کی ٹانگ کا فریکچر ایسا تھا کہ وہ دو ماہ تک چلنے پھرنے سے معذور رہی۔ انہی دنوں اس کے ابو کا بھی انتقال ہوگیا۔
یہ دن صاحبہ کے لئے کسی آزمائش سے کم نہ تھے۔ اپنے والد کی وفات کے صدمے سے نڈھال تھی کہ اس حادثے نے مایوسی کے سمندر میں دھکیل دیا۔ چار ماہ بعد وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوسکی مگر ٹانگ میں لنگ پیدا ہوگیا۔ اس وجہ سے وہ بہت زیادہ افسردہ رہنے لگی۔
ان دنوں میرے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش متوقع تھی لہٰذا بہت کم اس کی عیادت کو جا پاتی۔ البتہ ساجد کو تاکید کرتی رہتی تھی۔ جب بھی ان کو موقع ملتا، وہ ضرور عیادت کرنے جاتے اور مجھے اس کے حال احوال سے آگاہ کرتے تھے۔ میرے دونوں بچے چھوٹے تھے۔ ان کی پرورش میں ایسی کھوئی کہ کسی بات کا ہوش نہ رہا۔ صاحبہ والد کی وفات کے بعد سے بہت زیادہ بجھی بجھی رہنے لگی تھی۔ اس کے غم کو مجھ سے زیادہ ساجد نے محسوس کیا۔ وہ میری پیاری دوست ہی نہیں، دکھ سکھ کی ساتھی بھی تھی جس کے گھر آنے سے ہمارے گھر میں خوشی کے لمحات بکھر جاتے تھے۔ صدمے کی بات یہ تھی کہ اس کا ایکسیڈنٹ میرے شوہر کی گاڑی سے ہوا تھا اور ٹانگ میں لنگ اسے تحفے میں مل گیا تھا۔ اس وجہ سے بھی ساجد خود کو اس کی خوشیوں کا قاتل سمجھتے تھے۔
دو کم سن بچوں کی پرورش نے مجھے ادھ موا کردیا تھا۔ کسی بات کا ہوش نہ رہا۔ یہ تک یاد نہ رہتا کہ ساجد کے لئے کھانا بنانا ہے۔ وہ جب آتے کھانا تیار نہ ملتا، تبھی انہوں نے باہر کھانا اور دیر سے گھر آنا شروع کردیا کیونکہ میری سردمہری حد سے بڑھ گئی تھی۔
وہ کہاں رہتے تھے، میں نے کبھی نہ پوچھا۔ خود کو ان کا مجرم سمجھتی تھی مگر مجبور تھی۔ بچوں نے حواس باختہ جو کردیا تھا۔ ابھی دونوں بچے چھوٹے تھے کہ تیسرے نے جنم لیا۔ رہی سہی کسر پوری ہوگئی۔ ساجد میری بے نیازی سے دلبرداشتہ ہوگئے۔ مجھ سے لاپروائی برتنے لگے۔
انہی دنوں صاحبہ کا فون آیا۔ وہ رو رہی تھی۔ اس کی ٹانگ میں معمولی سا نقص ہوگیا تھا۔ رنگت سانولی تھی، اسی سبب جو رشتہ آتا، عورتیں صاحبہ کو رد کرجاتیں۔ اس بار بھی ایک اچھا رشتہ آیا لیکن اسے لنگڑی کہہ کر ان لوگوں نے رشتہ نہ لیا۔
اس صدمے میں نڈھال اس نے مجھے فون کردیا۔ وہ بہت دکھی تھی۔ اس نے کہا۔ صنوبر، شاید میری قسمت میں شادی نہیں ہے۔ مجھ لنگڑی سے بھلا کون بیاہ کرے گا۔ اب تو امی بھی طعنے دیتی ہیں کہ تو ساری عمر میرے گلے پڑی رہے گی۔ سوچتی ہوں بھائی بھی شادی کے بعد بدل جائے گا تب میرا کیا ہوگا۔ کاش میں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی، نوکری کرکے اپنا بوجھ خود اٹھا لیتی۔
میں نے اسے تسلی دی۔ صاحبہ گھبرائو نہیں، خاطر جمع رکھو۔ میں خود تم کو ساجد کے ہمراہ شام کو آکر لے جائوں گی۔ چند دن میرے پاس رہو گی تو یہ افسردگی مٹ جائے گی۔ مستقبل کا اللہ مالک ہے اور وہی سب سے بڑا کارساز ہے۔ دیکھ لینا ایک روز تمہاری قسمت کا در ضرور کھلے گا۔ ساجد گھر آئے تو میں نے ان کو سارا حال بتایا۔ کہا کہ شام ہم نے صاحبہ کے گھر جانا ہے، اس کی امی سے اجازت لے کر ہفتہ بھر کے لئے گھر لے آئوں گی، تم اس کے لئے کسی اچھے رشتے کی تلاش میں رہو ورنہ سوتیلی ماں اس کا جینا اجیرن کردے گی۔ جو رشتہ آتا ہے، اس کی ٹانگ میں لنگ کی وجہ سے اسے ٹھکرا کر چلا جاتا ہے اور یہ تمہاری گاڑی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب ہم کو ہی اس کا کچھ حل ڈھونڈنا چاہئے۔ ساجد بے چارے کیا کرتے، میری باتیں سن کر چپ ہوجاتے تھے۔ بہرحال اسی شام ہم جاکر صاحبہ کو لے آئے۔ اس کی امی میرے ساتھ بھیجنے پر راضی ہوجاتی تھیں کیونکہ ہر بار میں ان کو تسلی دیتی تھی کہ خالہ جان! آپ فکر نہ کریں، میں بہت جلد صاحبہ کے لئے کوئی اچھا رشتہ ڈھونڈ لوں گی۔ انہی دنوں میں بیمار پڑ گئی۔ اس قدر زیادہ کہ مجھے اسپتال میں داخل ہونا پڑا اور امی کو مجبوراً میرے گھر آکر رہنا پڑا جبکہ صاحبہ میرے ساتھ اسپتال میں رہتی۔
چیک اَپ کے بعد پتا چلا کہ رسولی کا آپریشن ہوگا جس کے بعد میں ماں بننے کے قابل نہ رہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے تین بچوں سے نواز دیا تھا، اب مزید کی آرزو نہ تھی۔ ان کو پالنے میں ادھ موئی ہوچکی تھی۔ آپریشن ہوگیا، صاحبہ نے دن رات جاگ کر خدمت کی اور میں دس روز بعد صحت یاب ہوکر اسپتال سے گھر لوٹ آئی۔ امی اپنے گھر چلی گئیں مگر میں نے صاحبہ کو جانے نہ دیا۔ اس کی ماں سے مزید کچھ دن کی اجازت کے لئے استدعا کی۔ ایک روز رات کو اپنے کمرے سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں نجانے کس کام سے گئی تو وہاں اپنے شوہر کو صاحبہ کے ساتھ باتیں کرتے پایا۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ کچھ کھسیائے۔ کہا کہ ہم دونوں کو نیند نہیں آرہی تھی تبھی یہاں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
ٹھیک ہے وہ باتیں ہی کررہے تھے لیکن ایک بیوی کے لئے یہ نظارہ بھی ناگوار ہوتا ہے کہ اس کا شوہر کسی عورت سے اکیلے کمرے میں باتیں کرے۔
بچے دوسرے کمرے میں سو رہے تھے۔ سوچا اس سے قبل پانی سر سے اونچا ہو، کوئی بہتری کا حل سوچنا چاہئے۔ اس وقت تو میں جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گئی لیکن صبح ہوتے ہی ساجد سے فیصلہ کن بات کی۔ میں نے کہا۔ میرے جیون ساتھی! میں آپ کی خوشیوں کو پورا کرنے کے لائق نہیں رہی۔ صاحبہ کی عمر کافی ہوگئی ہے اور لنگڑے پن کی وجہ سے اس کا رشتہ کہیں نہیں ہوپا رہا، اگر آپ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کے ساتھ نکاح کرلیں۔
میرے منہ سے یہ بات سن کر ساجد بھونچکا رہ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ میں صاحبہ کے بارے میں ان کے جذبات سے لاعلم ہوں۔ اگر وہ دوسری شادی کا اشارتاً بھی کہتے تو گھر میں ہی نہیں، خاندان میں طوفان آجاتا جبکہ اللہ نے تین بیٹے عطا کردیئے تھے۔ بیوی بھی خوبصورت تھی لیکن کسی کو یہ علم نہ تھا کہ رسولی کے آپریشن کے بعد میں آدھی رہ گئی ہوں۔
حقائق سامنے تھے۔ میری رضامندی پر ان کا حوصلہ بندھا۔ وہ صاحبہ سے نکاح پر راضی ہوگئے اور دو چار انتہائی قریبی احباب کی موجودگی میں میرے ہی گھر میں سادگی سے نکاح ہوگیا۔
اس راز سے میرے اور ساجد کے علاوہ صاحبہ کی ماں اور اس کا بھائی واقف تھے۔ میرے والدین اور ساجد کے رشتے داروں پر ہم نے یہ راز ظاہر نہ کیا ورنہ نجانے کیسے حالات پیدا کردیئے جاتے۔
صاحبہ پہلے کبھی کبھار ہمارے گھر رہتی تھی، اب زیادہ رہنے لگی۔ صاحبہ میری احسان مند تھی اور ساجد بھی شکرگزار تھے لیکن ان دونوں سے زیادہ میں نے سکھ کا سانس لیا۔ مجھ کو گھر میں تنہائی کی وجہ سے جو وحشت شروع دن سے محسوس ہوتی تھی، اب وہ نہ رہی تھی۔ صاحبہ بچوں کو دیکھتی تو میں چند گھنٹوں کے لئے سکون کی نیند سو لیتی۔ وہ ہر کام میں میرا ہاتھ بٹاتی، اور جب رات کو بچے گہری نیند سو جاتے، میں اسے خود ساجد کے کمرے میں چھوڑ آتی۔ شکر گزار تھی کہ آپریشن سے زندگی بچ گئی تھی اور میرے بچے اپنی حقیقی ماں سے محروم نہ ہوئے تھے۔ اگر جان چلی جاتی تب بھی وہ کسی نہ کسی سوتیلی ماں کے ہاتھوں پرورش پاتے۔ ایسے میں صاحبہ کیا بری تھی جو مجھ سے محبت کرتی تھی اور میں بھی اس کی محبت کا بچپن سے اب تک دم بھرتی تھی۔
صاحبہ واقعی نیک طینت تھی۔ اس نے سوکن بن کر مجھے کوئی تکلیف نہ دی بلکہ اور زیادہ میرا خیال رکھا۔ وہ مجھ کو اپنا محسن اور میں اسے اپنا محسن سمجھتی تھی کہ اس نے میری استدعا مان کر ساجد سے نکاح کرنا قبول کیا تھا۔
اللہ کی مرضی شادی کے کئی برس بعد تک صاحبہ کے یہاں اولاد نہ ہوئی۔ دس سال بعد اس کو اولاد کی خوشی دیکھنی نصیب ہوسکی۔ اس وقت تک بچے بھی سمجھدار ہوچکے تھے اور تینوں اسکول جانے لگے تھے۔
امی جان کو بہت عرصہ بعد میں نے اصل بات سے آگاہ کیا۔ جب مجھ کو خوش باش دیکھا تو میری ماں نے بھی خاموشی اختیار کرلی کیونکہ مجھے سوکن کے ہونے کا کوئی ملال نہ تھا۔ میرے گھر میں سکون تھا۔ ایک یتیم لڑکی جو مجھ سے محبت کرتی تھی، اسے گھر کی چھت اور مستقبل کا تحفظ مل گیا تھا۔
جو لوگ مجھ سے کہتے کہ دیکھو، کتنا برا ہوا کہ تمہارے شوہر نے تم جیسی خوبصورت اور اچھی فطرت عورت پر سوکن لا بٹھائی ہے۔ میں ان کو سمجھاتی۔ یہ برا نہیں ہوا، اچھا ہوا ہے۔ اگر چند سال کے سکوت کے بعد میری زندگی میں کوئی طوفان آجاتا تب کیا ہوتا؟ اگر کوئی ایسی عورت وہ چوری چھپے اپنی زندگی میں شامل کرلیتے تب کیا ہوتا یا کسی ایسی عورت کو پسند کرلیتے جو مجھے برداشت نہ کرتی یا میرے بچوں پر قہر بن کر ٹوٹتی، تب میں بچوں کو لے کر کدھر جاتی۔ سو جو ہوا ہے، بہت بہتر ہوا ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر میں نے لنگڑی اور معمولی صورت کی یتیم لڑکی کو قبول کیا ہے۔ میں نے نیکی کی ہے اور نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
(س… بورے والا)