Monday, May 20, 2024

Tootien Hath Zamane Kay | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ہم جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گائوں میں رہا کرتے تھے۔ ہمارے پاس تھوڑی سی ذاتی زمین تھی جس کی دیکھ بھال والد کیا کرتے تھے۔ ہم امیر لوگ نہیں تھے لیکن کھانے پینے کو بہت کچھ تھا، کسی قسم کی محتاجی نہ تھی۔ اپنا مکان تھا جو کچی مٹی سے بنا ہوا تھا مگر میری ماں اس کی لپائی پتائی اپنے ہاتھوں سے کرتی رہتی تھی جس سے وہ خوشنما اور صاف ستھرا نظر آتا تھا۔ میں ان دنوں چھوٹی تھی اور چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔
اچھی طرح یاد ہے جب ایک دن وہ مہمان صاف ستھرے اجلے کپڑے پہنے سفید براق گھوڑے پر سوار ہوکر آیا تھا۔ ہم تینوں بہن، بھائی اسے دیکھ کر قطار میں کھڑے ہوگئے اور ٹکٹکی باندھے اس شخص کو دیکھ رہے تھے۔ آخر اس نے اپنی بھاری آواز سے ہمیں چونکا دیا تھا کہ جائو اپنے ابا کو بلا کر لائو۔
ابا قریب کھیتوں میں کام کررہے تھے، ہم دوڑ کر ان کو بلا لائے۔ ابا اس آدمی سے تپاک سے ملے مگر ان کے تیور سنجیدہ تھے۔ مہمان کی آمد پر جو دلی خوشی گائوں والوں کے چہرے پر چھلکنے لگتی ہے، اس کی کوئی جھلک ابا کے چہرے پر نہ تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ اس کو مجبوراً عزت دے رہے ہیں۔ خیر ابا نے اس کا گھوڑا درخت سے باندھ دیا اور ملازم سے کہا۔ اس کے دانے پانی کا انتظام کردے۔ پھر وہ مہمان کو بیٹھک میں لے گئے۔ جس قدر خاطر تواضع ہوسکتی تھی، ابا نے کی۔ رات ہوگئی تو اس کیلئے بیٹھک کے باہر کھلی ہوا میں چارپائی ڈلوا کر بستر بھی لگوا دیا۔
آدھی رات کے قریب کچھ شور سا ہوا۔ ابا کی آنکھ کھل گئی۔ ہم تینوں بچے اماں اور ابا کے ساتھ گھر کے صحن میں سو رہے تھے۔ میرے باپ نے دوڑ کر اپنی کلہاڑی اٹھا لی اور باہر نکل گیا۔ یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ اس کا معزز مہمان قتل ہوچکا تھا۔ کسی نے سوتے میں اس کو کلہاڑی سے وار کرکے ختم کردیا تھا۔
صبح کی روشنی پھوٹنے سے پہلے پولیس آگئی۔ تفتیش شروع ہوئی، پھر پولیس ابا کو تھانے لے گئی اور سارا الزام ان کے سر آگیا حالانکہ وہ اس ناگہانی حادثے کے معاملے میں بالکل بے گناہ تھے لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ ماضی کی کچھ ایسی کڑیاں مل گئیں جس کی وجہ سے ابا کی ذات پر شک کیا جاسکتا تھا۔
یہ شخص جو گھوڑے پر آیا تھا، میرے نانا کے گائوں کا ذیل دار تھا۔ امیر آدمی تھا… اس نے کسی زمانے میں نانا سے میری امی کا رشتہ مانگا تھا مگر نانا نے اس لئے انکار کردیا تھا کہ وہ ہمارے دادا کو زبان دے چکے تھے جو نانا کے چچازاد بھائی تھے۔ میرے دادا نے امی کے بچپن میں ہی یہ رشتہ نانا سے طے کرلیا تھا۔
بہرحال ذیل دار کی کوشش ناکام ہوگئی۔ اس نے دولت کا لالچ بھی دیا اور کافی زمین دینے کیلئے کہا لیکن نانا نہیں مانے۔ ذیل دار ایک شریف آدمی تھا لہٰذا اس نے پھر زیادہ نانا کو مجبور نہ کیا۔
میری اماں کا اس شخص سے کوئی تعلق نہ تھا، بس اس نے میری ماں کو کنویں سے پانی لاتے دیکھا تھا۔ وہ اس وقت گائوں کی خوبصورت لڑکیوں میں شمار ہوتی تھیں۔
ابا کو یہ ساری بات پتا تھی مگر انہوں نے ماں سے اس بارے کبھی کوئی بات نہ کی کیونکہ وہ بیوی کو قصوروار نہیں سمجھتے تھے۔ وہ خوبصورت تھیں اور گائوں کی خوبصورت لڑکیوں کے رشتے ان کی خوبصورتی کی وجہ سے اچھے گھرانوں سے آتے ہی رہتے ہیں اور اس میں بیچاری لڑکیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔
خیر جب پولیس نے تفتیش کی تو گائوں کے لوگوں نے بھی یہ قصہ کہہ سنایا جو قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ پولیس نے اس ’’وجہ‘‘ کو بھی شامل تفتیش کرلیا۔ اس کے بعد اصل تحقیق ہوئی۔ چھ سال مقدمہ چلتا رہا۔ ابا پر یہ الزام تھا کہ اس کی بیوی کی پہچان شادی سے قبل ذیل دار سے تھی جس کی وجہ سے اس نے اس رشتے کیلئے بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ رنج ذیل دار کے دل میں تھا اور یہ رقابت ابا کے دل میں بھی تھی تاہم دوبدو کبھی شکررنجی کا اظہار نہ ہوا تھا۔
وقوعے کی رات دھوکے سے ابا نے اسے اپنا مہمان بنایا اور سوتے میں قتل کردیا۔ اس مفروضے کی گواہی میں کچھ ایسے لوگ آگئے جن سے ابا کی شکررنجی تھی۔ پھر انہوں نے ذیل دار کے گائوں میں ایسے گواہ پیدا کردیئے جنہوں نے یہ جھوٹی گواہی بھی دے دی کہ ہمارے سامنے ذیل دار کو ابا کا آدمی پیغام دے گیا تھا کہ میرے گھر مہمان آنا، فلاں رات کو ضروری بات کرنی ہے۔ غرض اس طرح کے گواہوں نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ کاغذات پر قتل کے شواہد ابا ہی کو مجرم ثابت کرتے تھے۔ اس وجہ سے ابا کو پھانسی ہوگئی۔
پھانسی سے پہلے میری ماں کو کسی نے کچھ نہ کہا۔ جونہی ابا کی لاش گھر آئی، میرے چچائوں نے اماں کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا کہ اس بدبخت اور بدچلن عورت کی وجہ سے ہمارا بھائی جان سے گیا ہے حالانکہ یہ ایک جھوٹا اور غلط الزام تھا۔ اماں ایک شریف عورت تھی، اس واقعہ میں وہ بے گناہ تھی۔ انہیں یہ سزا ملی کہ تینوں بچے ان سے چھین کر تین کپڑوں میں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا گیا۔
وہ روتی ہوئی میکے چلی گئیں، پھر کبھی ان ظالموں نے ہماری ماں سے نہ ملنے دیا لیکن میرے دل میں اپنے والد کے یہ الفاظ نقش ہوگئے تھے جو انہوں نے میرے بھائیوں سے اس وقت کہے تھے جب وہ جیل میں ان سے ملنے گئے تھے۔
ابا نے کہا تھا۔ تمہاری ماں بے قصور ہے، وہ بڑی نیک اور شریف عورت ہے۔ اگر مجھے پھانسی ہوجائے تو یاد رکھنا زمانہ جو بھی اس بدنصیب کے ساتھ کرے، تم اپنی ماں کو کبھی مجرم نہ سمجھنا لیکن ہماری بدنصیبی کہ ہماری ماں اپنی اولاد کے جوان ہونے کا انتظار نہ کرسکی اور ہمارے جوان ہونے سے پہلے ہی فوت ہوگئی۔
یہ حقیقت ہے کہ ماں نے ہماری جدائی کا بہت غم کیا۔ کاش اگر آج وہ زندہ ہوتیں تو ہم ان کا غم زدہ دل اس طرح اپنے ہاتھوں میں رکھتے جیسے پتوں میں گلاب کا پھول ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا بڑا دکھ ہے کہ میں ماں کے غموں کا کوئی مداوا نہ کرسکی۔
میں تو ایک ناتواں اور مجبور لڑکی تھی لیکن بھائی خودمختار اور بااختیار تھے۔ ماں اگر زندہ رہتیں، ضرور وہ ان کو سکھ دیتے اور جس غم نے ماں کا دل دکھایا، اس دکھ کو بھی مٹانے کی کوشش کرتے۔
دنیا میں ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں جس میں قصور عورت کا نہ بھی ہو تو محض شک کی بناء پر اسے مجرم ٹھہرا کر سولی پر لٹکایا جاتا ہے۔ معاشرے میں اس کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ لوگ جہالت کی وجہ سے متعصب ہوجاتے ہیں اور بے قصور عورت کو معتوب ثابت کرتے ہیں، تبھی تو اپنے اور غیر بنِا سوچے سمجھے اس پر لعن طعن کرنے لگتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارا باپ بے قصور پھانسی چڑھ گیا مگر صدشکر کہ قدرت نے میری والدہ کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں دی ورنہ شاید آج ہم سر اٹھا کر جینے کے قابل نہ ہوتے۔ میکے میں ان کی عزت پہلے کی طرح کی جاتی تھی اور ہمارے گائوں میں بھی سوائے چند میرے والد کے بدخواہوں کے… باقی لوگ والدہ کا نام ہمیشہ عزت سے لیتے رہے۔
(ث… جام پور)

Latest Posts

Related POSTS