Train Dykh nahi Sakti | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1165
میری عمر صرف دو سال تھی کہ پھپھو ٹرین کے حادثے کی نذر ہوگئیں۔ وہ اپنی نند کی بیٹی کی شادی میں جا رہی تھیں کہ ڈہرکی کے قریب دو ٹرینوں کے ٹکرا جانے سے یہ حادثہ پیش آ گیا، جس میں سیکڑوں مسافروں کی جانیں چلی گئیں۔ انہی بدنصیبوں میں ہماری پھپھو اور ان کے شوہر بھی تھے۔ یہ حادثہ نہ تھا قیامت جیسا سانحہ تھا جس کی یاد اَب تک لوگوں کے دِلوں میں باقی ہے۔
یہ میاں بیوی دُنیا سے چلے گئے۔ اپنے دو معصوم بیٹوں کو بلکتا چھوڑ گئے،ان کا اب سوائے میرے والد کے کوئی دُوسرا سہارا نہ تھا۔ انہوں نے یتیم بھانجوں کو سہارا دیا۔ دَربدر کی ٹھوکریں کھانے سے بچا لیا۔
میرے یہ پھوپی زاد ہمارے ساتھ پرورش پانے لگے۔ گرچہ گھر کے مالی حالات اچھے نہ تھے، تاہم میرے والدین کے دِل بڑے تھے اور ہمدردی سے مالا مال تھے۔ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر انہوں نے ان بچوں کی پرورش کی۔ ان کے تعلیمی اخراجات اُٹھائے، ابو کے ساتھ امی کو بھی محنت مشقت کرنا پڑتی تھی، سارا دن وہ سلائی کرتیں، تب ان کی تعلیم کا خرچہ پورا ہوتا تھا۔
میری ماں ایک فرشتہ صفت عورت تھیں۔ انہوں نے میاں کے آگے کبھی اُف بھی نہ کی بلکہ شوہر کی بہن کے بچوں کو اتنا پیار دیا کہ وہ ماں باپ کا پیار بھول گئے۔
پھپھو کے بڑے بیٹے کا نام اکرم تھا، اس نے جب میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو میرے والدین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، وہ سوچ رہے تھے جس پودے کو سخت محنت سے پروان چڑھایا ہے اب اس کے سائے تلے بیٹھنے کا وقت آ گیا ہے۔ محنت رائیگاں نہ جائے گی۔ لیکن قدرت کو اس درخت کی چھائوں ان کے لئے منظور نہ تھی۔ اچانک ایک رات اکرم کو پیٹ میں تکلیف ہوئی جس نے اتنی شدت اختیار کی کہ اکرم نے رَستے میں ہی دم توڑ دیا۔
والد صاحب کے لئے یہ ایک بڑا صدمہ تھا۔ وہ بھانجے کی موت کے صدمے سے بیمار پڑ گئے۔ والدہ ڈھارس دیتیں مگر ان کا جی نہ سنبھلتا تھا۔ حالانکہ جانتے تھے کہ موت و حیات کا نظام اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہر بندہ اس معاملے میں بے بس ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اکرم جب کچھ بن جائے گا تو وہ میری شادی اُس کے ساتھ کر دیں گے۔ تاہم یہ اللہ کو منظور نہ تھا۔ اکرم کے نصیب میں جوانی کی بہاریں نہ تھیں، بلکہ قبر کا اندھیرا اُس کا مقدر تھا۔
اکرم کے جہانِ فانی سے رُخصت ہو جانے کے کافی عرصے بعد تک ہمارے گھر میں سوگواری کی فضا طاری رہی۔ کوئی ہنستا تھا اور نہ بولتا تھا، آنکھیں اشک بار رہتی تھیں۔ کچھ عرصہ یونہی مایوسیوں کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں بیت گیا۔
بالآخر زندگی نے پھر سے اپنی طرف بُلانا اور نت نئے رنگ دکھانا شروع کر دیئے۔ اُمید کے ٹمٹماتے چراغوں کی لو تیز ہونے لگی۔ والدہ نے ابو کو مشورہ دیا کہ اکرم اس دُنیا میں زندگی کے تھوڑے دن لے کر آیا تھا۔ وہ جنت کا مہمان تھا چلا گیا۔ اب دُوسرے کی طرف نظر کرو۔ اسلم میں بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہماری بیٹی سے ایک سال بڑا ہے، فردوس کی شادی اس سے کر دو۔
یہ خیال بھی کچھ بُرا نہ تھا، دونوں کو ایک طرح سے میرے ماں باپ نے ہی پالا تھا۔ اسلم ابو کو پیارا تھا۔ بیوی کے توجہ دلانے پر ان کا خیال بھانجے کی طرف گیا اور انہوں نے اس سے میری شادی کرنے کا ارادہ کرلیا۔
والدین کے اس ارادے کی ہم دونوں کو قطعی خبر نہ تھی۔ جوں اکرم میرے والد کی آنکھوں کا نور تھا ویسے ہی اسلم بھی ان کے دِل کا سُرور تھا۔ وہ اس کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھتے تھے جب سے اکرم نے منوں مٹی میں خود کو چھپایا تھا اسلم مزید اُن کو پیارا ہوگیا تھا۔
ان دنوں وہ نویں کا طالب علم تھا اور میں ساتویں جماعت میں تھی۔ ماں نے اسلم کی پرورش میں بھی کوئی کوتاہی روا نہ رکھی تھی، تاہم وہ مزاجاً اپنے بڑے بھائی سے مختلف تھا۔ والد صاحب نے سوچا کہ ذرا غصے کا تیز ہے اور قدرے ضدی بھی ہے لیکن کوئی بات نہیں شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا۔ بزرگوں کی صلاح سے والدین نے ہمارے معصوم دلوں میں ایک دُوسرے کی محبت کو بنا سنوار کر شادی کے خیال کو اس طرح بٹھا دیا جیسے دُلہن سیج پر بٹھا دی جاتی ہے، ہم ایک دوسرے کو چاہنے لگے۔
بچپن کا دور سمجھداری میں ڈھل رہا تھا۔ پھر بھی میں الھڑ عمر میں تھی۔ والدہ جیب خرچ کے طور پر پانچ روپے دیتیں وہ بھی میں اسلم کو دے دیا کرتی۔ اپنے لئے کوئی چیز نہ لیتی، یہ میرے پیار کی انتہا تھی، اس تھوڑی سی رقم کے علاوہ میرے پاس کیا تھا جو میں اپنے پھوپی زاد پر نچھاور کرتی۔
وقت گزرتا رہا۔ اسلم نے ایف ایس سی کرلی۔ والد صاحب کا خیال تھا جب وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد صاحبِ روزگار ہوجائے گا تو وہ میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیں گے، لیکن اُسے مجھ سے شادی کی بہت جلدی تھی۔ اس نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ گھر بسانا چاہتا ہے۔ امی نے سمجھایا، بیٹا ابھی وقت نہیں آیا۔ تم پہلے تعلیم مکمل کر لو۔ پڑھائی مکمل کرنے سے پہلے گھرداری کے جھمیلوں میں پڑ جائو گے تو ترقّی نہ کر سکو گے وہ نہ مانا، اور رُوٹھ کر ایک دوست کے پاس چلا گیا۔ والد صاحب نے محسوس کیا کہ صورت حال خطرناک ہے۔ اس طرح لڑکا ہاتھ سے نکل جائے گا۔ انہوں نے اُس کی بات مان لی اور منگنی کی رَسم ادا کر دی اور وعدہ کیا کہ اگر وہ بی ایس سی کر لے گا تو شادی فوراً کر دیں گے، چاہے برسرروزگار ہو یا نہ ہو۔
بی ایس سی کرنے کے بعد اسلم کے جی میں کیا سمائی کہ یونی ورسٹی جانے کی رَٹ لگا دی۔ والد کے مالی وسائل اس کی اجازت نہ دیتے تھے کہ اُسے کسی بڑے شہر بھیجیں اور ہاسٹل کے اخراجات برداشت کریں۔
امی سے میں نے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ مشین پر کپڑے سلائی کروں گی۔ ہم محنت کر کے اسلم کو یونی ورسٹی کا خرچہ بھیجا کریں گے۔ آپ اُس کی بات مان لیں، یوں اس کا مستقبل روشن ہو جائے گا۔
والدہ نے ابو کو رام کر لیا اور اسلم کو بڑے شہر یونی ورسٹی بھجوا دیا۔ یہ وقت بڑا کٹھن تھا۔ ہر ماہ ایک معقول رقم اس کو بھجوانی ہوتی تھی، اس چکر میں امی اور میرے زیور بھی بک گئے۔ یہاں تک کہ گھر کا اسباب بھی فروخت کرتے رہے۔ میں اپنے نازک ہاتھوں سے محلے داروں کے اُجرت پر سوئیٹر تیار کرتی تھی، یوں ایک سال بیت گیا۔ اسلم چھٹیوں میں گھر آیا۔ اس نے پھر سے شادی کا تقاضا کیا۔ والد نے کہا۔ تم پر اتنا روپیہ لگا رہے ہیں پہلے تعلیم مکمل کر لو۔ پھر شادی کر دیں گے۔ وہ ناراض ہوگیا اور واپس اسلام آباد چلا گیا۔ یہ کہہ کر کہ اب کبھی واپس نہ آئے گا۔
والد نے جانا کہ یہ ناراض ہوتا رہتا ہے۔ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، ایک سال پلک جھپکتے گزر جائے گا۔ ایم ایس سی کر لے تو شادی کر دیں گے، فی الحال شادی کے لئے رقم بھی موجود نہ تھی۔ اسلم ضدی تھا، مجھے ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو وہ ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ جائے۔ اسی فکر کی وجہ سے مجھے راتوں کو نیند نہ آتی تھی۔ اسلم کی محبت دل میں گھر کر چکی تھی۔ اس کی جدائی تڑپاتی تھی اور ناراضگی بھی ڈراتی تھی۔
دو ماہ بیت گئے۔ اسلم نے خط لکھا اور نہ وہ آیا۔ انتظار کرتے میری آنکھیں پتھرانے لگیں، ایک روز دَر پر دستک ہوئی۔ پوسٹ مین تھا۔ اسلم کی شادی کا کارڈ آیا تھا۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور منگنی کی انگوٹھی میری اُنگلی کو بچھو کی طرح ڈسنے لگی۔ بستر پر گر گئی اس نے شادی کا کارڈ جان بوجھ کر ہمیں دُکھ پہنچانے کے لئے بھجوایا تھا۔ تبھی امی کے منہ سے نکلا۔ اوہ ہم نے ندرت کے بچے نہیں پالے اسلم کے رُوپ میں آستین کا سانپ پالا تھا۔
چھ ماہ میری حالت غیر رہی۔ نیم پاگل سی ہوگئی، کسی سے بولتی تھی اور نہ ہنستی تھی۔ والدہ نے میرے لئے بہت دُعا کی۔ رفتہ رفتہ مجھے صبر آنے لگا اور میں پھر سے صحت یاب ہونے لگی۔ صدمہ جان لیوا تھا مگر میں ڈھیٹ تھی، بچ گئی یہ اور بات کہ بظاہر زندہ تھی رُوح مرجھا چکی تھی۔
وقت بڑا مرہم ہے۔ زندہ انسان کو زندگی کے ساتھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے بھی سمجھوتہ کرلیا۔ تعلیم کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا۔ کالج میں داخلہ لے لیا۔ اسلم کی بے وفائی کا زخم اتنا تنگ کرتا کہ کبھی تو سانس لینا مشکل ہو جاتا۔
انہی دنوں میرے لئے ایک اچھا رشتہ آ گیا، والدین نے بہت سمجھایا۔ والدین سے بڑی مشکل سے سمجھوتا کیا۔ رُخصتی سے دو ہفتے قبل اسلم واپس آ گیا اور میرے والد کے پیروں پڑ گیا کہ آپ نے کیوں میرا انتظار نہ کیا اور اس کا کسی اور سے نکاح کر دیا۔ میں نے تو وہ کارڈ ویسے ہی آپ لوگوں کو ڈرانے کے لئے بھیجا تھا تاکہ میری بات مان لیں، آپ میری بات نہیں مان رہے تھے، تبھی غصے میں ایسا کیا تھا۔ اب فردوس کا نکاح ختم کرائیں یہ میری منگیتر ہے اس کی میرے ساتھ شادی ہوگی۔
اسلم کی بدتمیزی پر والد صاحب کو بہت غصہ تھا اور انہوں نے غصے میں اُسے تھپڑ رسید کر کے کہا۔ نکل جائو میرے گھر سے تم نافرمان ہی نہیں نمک حرام بھی ہو۔ کیا اپنے محسنوں کے ساتھ ایسا برتائو کرتے ہیں کہ اپنی شادی کا کارڈ چھپوا کر اس وجہ سے بھجوایا کہ ہمیں دلی تکلیف ہو۔ تمہیں پتا ہے کہ شریفوں کا کیا شیوہ ہوتا ہے ان کی ایک زبان ہوتی ہے اور یہی ان کی شرافت کی نشانی ہے۔
میں بیٹی کا نکاح کر چکا ہوں، چاہتا ہوں کہ تم اب اس گھر سے چلے جائو اور رُخصتی کی تقریب میں ہمیں نظر نہ آئو۔ غرض والد صاحب نے اس دن سارا غصہ اپنے بھانجے پر نکال دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بیٹی کا نکاح کر کے طلاق لینا بُری بات ہے جبکہ اسلم کا کچھ بھروسہ نہ تھا کہ کل کیا رنگ دکھائے گا۔
میں اسلم سے محبت کرتی تھی، اس کے پیار سے مجبور تھی، اس کے لئے رو رہی تھی لیکن اپنے والدین کو اس موڑ پر دُکھ نہ پہنچانا چاہتی تھی۔ جب اسلم نے مجھے اپنے ساتھ بھاگ چلنے کا مشورہ دیا تو میں نے انکار کر دیا، اس پر وہ بولا، جانتی ہو نا کہ میں کتنا ضدی ہوں اگر تم نے میرا کہا نہ مانا، میں ٹرین تلے آ کر جان دے دوں گا۔
میں نے جواب دیا۔ جان دو یا نہ دو میں اپنے والد کی عزت پر بٹہ نہیں لگا سکتی۔ سمجھا تھا کہ وہ ویسے ہی دھمکا رہا ہے بھلا کون، کب کسی کے لئے اس طرح جان دیتا ہے۔ یوں گھر سے بھاگ جانا، جبکہ نکاح بھی ہو چکا تھا، میرے لئے انتہائی معیوب بات تھی۔ اس اقدام کی جرأت نہ کرسکی وہ ناراض ہو کر ہمارے گھر سے چلا گیا۔
دو ہفتوں بعد میری رُخصتی ہوگئی اور میں اپنے شوہر کے گھر آ گئی۔ دُلہن بنی روتی ہوئی آئی تھی یہ سوچ ہی سوہانِ رُوح تھی، اللہ جانے اسلم پر کیا گزری ہوگی۔ اُسے یقیناً میری رُخصتی سے دُکھ ہوا ہوگا، تاہم اب ملنے سے مجبور تھی کہ پرائی ہو چکی تھی، کسی اور کے بارے سوچنا بھی گناہ تھا۔
میری رُخصتی کے ایک دن بعد یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ اسلم ٹرین تلے آ گیا ہے۔ کسی نے حادثہ کہا کسی نے کچھ اور لیکن میں جانتی تھی کہ یہ حادثہ نہیں ہے، اس کی جیب سے شناختی کارڈ برآمد ہوا جس پر ہمارے گھر کا پتا درج تھا، تبھی حادثے کے بعد ابو کو اطلاع دی گئی۔ ریلوے اسٹیشن قریب تھا والد صاحب حواس باختہ وہاں پہنچے اور پھر جو اُن پر بیتی وہ لکھ نہیں سکتی۔
اسلم نے ایک تھپڑ کا بدلہ جان دے کر اپنے ماموں سے لے لیا، مگر اس حادثے کے بعد والد صاحب اپنے ہوش گنوا بیٹھے، جب تک زندہ رہے۔ دوبارہ پہلے کی طرح جی سکے اور نہ زندہ لوگوں کی طرح کھل کر سانس لے پائے۔
ہر وقت ہاتھ ملتے رہتے تھے۔ خود کو اسلم کا مجرم سمجھتے تھے۔
مجرم تو میں تھی کہ اس کی محبت کی گہرائی کو نہ سمجھ سکی اور خود کو رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پا کر نکاح کے بندھن سے نکلنے کا حوصلہ نہ کیا۔ مگر ہم کرتے بھی کیا۔
ہم سب اپنی اپنی جگہ صحیح اور مجبور تھے۔ سچ ہے بندہ مجبور ہی ہوتا ہے، لاکھ چاہے قسمت سے زور آور نہیں ہو سکتا۔ افسوس کہ میں اپنے کزن کی وفات پر والد صاحب کے گھر نہ جا سکی، ڈر تھا کہ کہیں خود پر قابو نہ رکھ سکوں اوربین کرتے کرتے ہوش نہ گنوا بیٹھوں۔ تب بھی بدنامی ہوتی اور میری نئی شادی کی خوشیوں سے میرے شوہر محروم ہو جاتے، جبکہ اس سارے معاملے میں وہ بے قصور تھے۔ ان کا کیا دوش تھا، انہوں نے مجھ سے شادی کی تھی میرا ماضی نہیں کھنگالا تھا۔ وہ آج بھی میرے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن میں جب ٹرین دیکھتی ہوں تو اندر سے سسک کر رہ جاتی ہوں۔
(ف… ملتان)